Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • وزیر اعظم سے آرمی چیف کی ملاقات،سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    وزیر اعظم سے آرمی چیف کی ملاقات،سیکورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال

    وزیراعظم پاکستان عمران خان سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان سے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات کی ہے، وزیر اعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات کے دوران پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال سے متعلقہ تبادلہ خیال کیا گیا،. ملاقات میں پاک فوج کے پیشہ ورانہ امور اور امن و امان کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا.

  • امریکی دھمکی ، ایران کے وزیر خارجہ کل پاکستان پہنچ رہے ہیں

    امریکی دھمکی ، ایران کے وزیر خارجہ کل پاکستان پہنچ رہے ہیں

    ایران کے وزیرخارجہ 23 مئی کو پاکستان کے دورے پر اسلام آباد پہنچیں گے جو اپنے پاکستانی ہم منصب سمیت پاکستانی قیادت سے ملاقات کریں گے.

    ایران امریکا جنگ کا خطرہ، ایران اور چین کا دشمن ایک،خطے میں کیا ہونیوالا ہے، 

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کل رات کو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد پہنچیں گے.وہ پرسوں وزیر اعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور وزیر خارجہ ملاقاتیں کریں گے۔ پاک ایران وزرائے خارجہ کے درمیان باضابطہ دوطرفہ مذاکرات بھی ہوں گے۔ ایرانی وزیر خارجہ کے دورے میں دو طرفہ مسائل کے حل بالخصوص سرحدی سیکیورٹی کے امور زیر غور آئیں گے۔ ایران پر امریکی پابندیاں، گیس پائپ لائن منصوبے سمیت دیگر امور پر بھی بات چیت ہوگی

    واضح رہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے ایران کا دورہ کیا تھا اس کے بعد وزیر خارجہ پاکستان آ رہے ہیں، اس وقت امریکہ اورایران کے مابین لفظی جنگ چھڑ چکی ہے. امریکہ نے ایران پر حملے کی دھمکی دی تو ایران نے بھی جواب دیا ،ایسے موقع پر ایرانی وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان انتہائی اہمیت کا حامل ہے.

  • بے نظیر قتل کی تحقیقات دوبارہ کرنے کا فیصلہ ،زرداری کیلئے ایک اور مشکل

    بے نظیر قتل کی تحقیقات دوبارہ کرنے کا فیصلہ ،زرداری کیلئے ایک اور مشکل

    بے نظیر قتل کیس میں مزید تحقیقات کی تجویز،جے آئی ٹی تشکیل دینے کا اصولی فیصلہ کر لیا گیا

    باغی ٹی وی کو باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ تحقیقاتی اداروں کی جانب سے اعلیٰ حکومتی شخصیات کو مشورہ دیا گیا ہے کہ سابق وزیر اعظم پیپلز پارٹی کی سربراہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی وسیع پیمانے پر تحقیقات کے لئے ایک بااختیار جے آئی ٹی تشکیل دی جائے.

    اگر حکومت بے نظیر قتل کیس میں جے آئی ٹی بناتی ہے تو و پیپلزپارٹی کے شریک چئیرپرسن سابق صدر آصف علی زرداری کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔ آصف زرداری ان دنوں نیب کی پیشیوں کی وجہ سے پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ اور انہوں نے آٹھ کیسز میں عدالت سے ضمانت کروا رکھی ہے. محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کے حوالے سابق صدر پرویز مشرف آصف زرداری پر سنگین الزامات لگا چکے ہیں۔ ان کے بقول محترمہ کے قتل سب سے زیادہ فائدہ آصف علی زرداری کو ہوا ہے۔ اس کے ساتھ وہ زرداری کی جانب سے پیش کی جانے والی وصیت پر بھی سوال اٹھاتے رہے ہیں۔ اعلیٰ حکومتی شخصیات کو دی گئی تجویز مان لی جاتی ہے تو قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی سکیورٹی کی ذمہ دار پارٹی کے دیگر سینئر لیڈران کو بھی شامل تفتیش کیے جانے کا امکان ہے۔

    واضح رہے کہ بے نطیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں جنہیں 27 دسمر 2007 کو لیاقت باغ میں جلسے کے بعد جلسہ گاہ سے باہرنکلتے ہوئے بم دھماکے میں شہید کر دیا گیا تھا .بے نظیر کی شہادت کے بعد ہونیوالے الیکشن میں پیپلزپارٹی کی حکومت بنی تھی اور آصف زرداری صدر پاکستان بنے تھے. پیپلزپارٹی نے حکومت بنانے کے بعد بے نظیر قتل کی تحقیقات اپنے پرانے مطالبے کے مطابق اقوام متحدہ سے کروانے کے لیے درخواست دی جو اس نے قبول کر لی تھی۔ آصف علی زرداری نے بے نظیر کے قتل کی پہلی برسی پر دعویٰ کیا تھا کہ انھیں معلوم ہے کہ قاتل کون ہیں۔ لیکن صدر مملکت بن جانے کے بعد قتل کی دوسری برسی پر اپنی تقریر میں اس حوالہ سے کچھ نہیں کہا .

    انسداد دہشتگردی کی خصوصی عدالت نے 9 سال8ماہ بعد بے نظیر قتل کیس کا فیصلہ سنایا تھا .عدالت کے جج اصغر خان نے فیصلہ سناتے ہوئے پولیس افسران ، سابق سی پی او راولپنڈی سعود عزیز اور سابق ایس پی سٹی خرم شہزاد کو مجموعی طور پر17، 17سال قید ، پرویز مشرف کو اشتہاری قرار دیتے ہوئے5 ملزمان بری کردیے تھے .

  • نئے ٹی وی چینلز کے لائسنس کا معاملہ، عدالت نے ایک بار پھر روک دیا

    نئے ٹی وی چینلز کے لائسنس کا معاملہ، عدالت نے ایک بار پھر روک دیا

    عدالت نے پیمرا کو نئے ٹی وی چینلز کے لائسنس کا اجرا روکنے کے حکم میں توسیع کر دی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی، پی بی اے نے عدالت میں درخواست دائر کر رکھی ہے، پیمرا کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ پیمرا کے سامنے زیرالتوا درخواست کا فیصلہ تین مئی کو کردیا گیا ہے۔ نئے ٹی وی لائسنس کے لئے 181 کمپنیوں نے بولی میں شرکت کی، 52 بلین روپے کے لائسنس دئیت گئے، عدالتی حکم کی وجہ سے 42 کمپنیاں ابتدائی رقم 15 فیصد بھی ادا نہیں کر رہیں. اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پیمرا پہلے موجود چینلز کو ریگولیٹ کرنے کی بجائے مزید لائسنس کیوں دینا چاہتا ہے۔ جو کچھ روزانہ چینلز پر ہو رہا ہے کیا پیمرا اپنی ذمہ داری پوری کررہا ہے۔یہ اہم معاملہ ہے عدالت مختلف پہلو دیکھ سکتی ہے۔ دیکھا جائے گا کہ پیمرا کے اس اقدام سے انفارمیشن کے حوالے سے بنیادی انسانی حقوق متاثر تو نہیں ہو رہے۔ وکیل پی بی اے فیصل صدیقی نے عدالت میں کہا کہ پیمرا پیسے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا ہے .عدالت نے لائسنس اجراء کے حوالے سے پیمرا کا حتمی فیصلہ عدالتی حکم سے مشروط کرتے ہوئے سماعت تیس مئی تک ملتوی کردی اور فریقین سے حتمی دلائل طلب کر لئے.

    واضح رہے کہ پیمرا نے کچھ ٹی وی چینلز کے لائسنس جاری کرنے کے لئے بولی لگائی تھی، بولی کے بعد معاملہ عدالت میں چلا گیا.

  • فرشتہ مہمند قتل کیس، شیری رحمان نے میڈیا سے اہم مطالبہ کر دیا

    فرشتہ مہمند قتل کیس، شیری رحمان نے میڈیا سے اہم مطالبہ کر دیا

    پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ کمسن فرشتہ زیادتی و قتل کیس میں پولیس اہلکاروں کی معطلی کافی نہیں، انہیں جیل بھیجا جائے، فرشتہ قوم کی بیٹی تھی بلاول بھٹو نے بھی اس واقعے کے خلاف آواز اٹھائی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان نے شہزاد ٹاون میں کمسن فرشتہ کے گھر کا دورہ کیا اور لواحقین کے ساتھ اظہار یکجہتی اور واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا، اس موقع پر شیری رحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معصوم بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا. میرے خاندان میں کچھ ہو توہم دربدر نہیں پھرتے، سب ہمارے بھائی بہن ہیں. انہوں نے کہا کہ معصوم بچی کا پوسٹ مارٹم نہیں کیا جا رہا تھا، ہم آج اس گھر میں آئے ہیں یہاں ایک ظلم نہیں ہوا، ایک پھول جیسی بچی کے ساتھ ظلم ہوا ہے،انہوں نے میڈیا سے اپیل کی کہ اس کی باڈی کی تصاویر شائع نہ کی جائیں ان کی فیملی کی ویڈیوز بھی نہ دی جائیں ان کی فیملی کا حوصلہ ہے کہ وہ کھڑے ہیں، انہوں نے انصاف کے علاوہ کیا مانگا ہے،شیری رحمان نے مزید کہا کہ ریاست مدینہ میں ایسا نہیں ہو سکتا، اب آسمان گرے گا اور زمین پھٹے گی، واقعہ میں پولیس اہلکاروں کو معطل کرنا کافی نہیں، غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو جیل بھیجا جائے. فرشتہ پوری قوم کی بیٹی تھی ، پولیس نے ایف آئی آر کیوں درج نہیں کی.

    اسلام آباد میں دس سالہ بچی فرشتہ کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ہے، بچی کی گمشدگی کی اطلاع جب پولیس کو دی گئی تو پولیس نے ٹال مٹول سے کام لیا ،بچی کی لاش ملنے کے بعد ورثاء کے احتجاج کے بعد ایس ایچ شہزاد ٹاؤن و دیگراہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے. ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اہلخانہ نے بچی کو ڈھونڈنے اور ایف آئی آر کےاندراج کیلیے تھانے کے کئی چکر لگائے، ایس ایچ او نے بچی کو ڈھونڈنے کے بجائے کہا کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی ،ایف آئی آر کے بجائے پولیس اہلکارتھانے کی صفائیاں کرواتے رہے ،ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ملوث اہلکاروں اور ایس ایچ او کیخلاف مجرمانہ غفلت برتنے پر کارروائی کی جائے .

    ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن کو معطل کر دیا ہے اور انکوائری ایس پی رورل عمر خان کے سپرد کرتے ہوئے فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد سے 15 مئی کو کمسن فرشتہ لاپتہ ہوئی تھی جسے قتل کر کے جنگل میں پھینک دیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ نعش کو جنگل سے برآمد کر کے پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے جس میں کمسن فرشتہ کے ساتھ زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی ہے. پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر نے کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں.فرشتہ کا تعلق خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقے ضلع مہمند سے تعلق تھا.مقتولہ بچی مقامی سکول میں دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ علی پورفراش کے علاقے میں رہائش پذیر مقتولہ (ف) کے والد نے مقامی پولیس تھانے شہزاد ٹاون میں پانچ روز قبل بچی کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی تھی۔ فرشتہ کے والد نے کمسن بیٹی کی لاش کو دھوپ میں رکھ کر احتجاج کیا ، وفاقی دارالحکومت ہونے کے باوجود کیس بھی حکومتی نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا.

    واضح رہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں ایک کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بارہ کہو کے علاقے میں ایک دو سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    کمسن فرشتہ کی زیادتی کے بعد سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر #JusticeForFarishta ٹاپ ٹرینڈ رہا. شہریوں نے فرشتہ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے.

  • روپے کی قدر میں استحکام کیسے آئے گا، چیئرمین ایف بی آر نے بتا دیا

    روپے کی قدر میں استحکام کیسے آئے گا، چیئرمین ایف بی آر نے بتا دیا

    چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں سیلز ٹیکس کی رجسٹریشن صرف 38 ہزار ہے،صنعتی اداروں کوسیلزٹیکس میں رجسٹرڈہونا چاہیے.ہمیں کاروبار کےلیے ماحول پیدا کرنا ہے،شرح سود بڑھنے سے روپےکی قدر میں استحکام آئے گا،

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شبر زیدی نے کہا کہ اکاؤنٹس منجمد کرنے کے حوالے سے قانون میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی میں نے ہدایت کی ہے کہ جس کا اکاؤنٹ منجمد کیا جائےاس کو24 گھنٹے پہلےآگاہ کیاجائے،انہوں نے کہا کہ ہم اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنے کے لیے تیارہیں ،شبر زیدی نے مزید کہا کہ ملک بھر میں 7 ہزار گیس کےصنعتی کنکشن دیے گئے ہیں، بجلی کے 3 لاکھ 41 ہزار صنعتی کنکشنز دیے گئے ہیں، شبر زیدی کا مزید کہنا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم میں سیلز ٹیکس کو 2 فیصد پر کلیئر کرایا جا سکتا ہے،ایمنسٹی اسکیم میں سیلزٹیکس کے واجبات کلیئرکروائےجا سکتےہیں،ایمنسٹی اسکیم میں سیلزٹیکس نادہندگان کوبھی موقع دیا گیا ہے، انہوں نے کہا کہ غیررجسٹرڈ ادارے 2فیصد سیلز ٹیکس دے کررجسٹرہوسکتے ہیں،یکم جنوری کے بعد ایسے اداروں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی،بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ ٹیکس فائلرز بہت کم ہیں

  • مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی بجائے اسلام کی طرف توجہ دیں، فردوس عاشق اعوان

    مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی بجائے اسلام کی طرف توجہ دیں، فردوس عاشق اعوان

    وزیر اعظم عمران خان کی مشیر برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان اسلام آباد کی بجائے اسلام کی طرف توجہ دیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق فردوس عاشق اعوان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ مولانا فضل الرحمن صاحب سے گزارش ہے کہ اسلام کو نگاہ میں رکھیں اسلام آباد کو نہیں۔قوم کے معصوم بچوں کو کرپٹ مافیا کے دفاع کیلئے سیاسی قوت بنانا نہ اسلام ہے اور نہ ہی جمہوریت ۔آپ عمران خان کی عداوت میں مبتلا ہیں۔عالم دین ہونے کی حیثیت سے آپ امن و اخوت کو فروغ دیں عداوت کو نہیں۔

    واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان نے اسلام آبادکی جناب مارچ کی دھمکی دی ہے اور کہا ہے کہ عید کے بعد اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے جس میں تمام جماعتون کو شرکت کی دعوت دی جاتی ہے.

  • اسلام آباد کی جانب مارچ کب ہو گا، مولانا فضل الرحمان نے سب کو دعوت دے دی

    اسلام آباد کی جانب مارچ کب ہو گا، مولانا فضل الرحمان نے سب کو دعوت دے دی

    جمعیت علماء اسلام کےامیر مولانا فضل الرحمان نے اعلان کیا ہے کہ عید کے بعد اسلام آباد کی جانب مارچ کریں گے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ رمضان کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے فیصلہ کے مطابق آل پارٹیز کانفرنس ہو تی ،جس میں آئندہ کے لئے لائحہ عمل طے کیا جائے گا، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اے پی سی کے علاوہ قومی سطح کا مارچ ہماری جماعت کرے گی جس میں دیگر تمام پارٹیوں کو خوش آمدید کہا جائے گا. مولانا فضل الرحمان نے مزید کہا کہ پاکستان کی نظریاتی شناخت، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ،مہنگائی کے طوفان کے خلاف ماضی میں کئے گئے ملک گیر ملین مارچ کاسلسلہ جاری رہے گا .

    واضح رہے کہ اسلام آباد میں بلاول زرداری نے اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کو افطار پارٹی دی تھی جس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ اسلام آباد میں عید کے بعد اپوزیشن جماعتوں کی اے پی سی مولانا کی زیر صدارت ہو گی. اس سے قبل مولانا فضل الرحمان ملک بھر میں ملین مارچ کر رہے ہیں، کراچی، سکھر لاہور سمیت مختلف شہروں میں ان کے پروگرام منعقد ہو چکے ہیں. واضح رہے کہ مولانا فضل الرحمان پندرہ برس بعد کشمیر کمیٹی کے چیئرمین سے ہٹائے گئے کیونکہ وہ 2018 کا الیکشن ہار گئے تھے. الیکشن ہارنے کے بعد مولانا نے تحریک انصاف کی حکومت کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کی دھمکی دی تھی جو ابھی تک جاری ہے.

  • زینب کے واقعہ کے بعد کمسن بچوں سے زیادتی کے دو ہزار واقعات، افسوسناک خبر

    امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق نے دعویٰ کیا ہے کہ قصور میں زینب سے زیادتی کے واقعہ کے بعد سے اب تک کمسن بچوں سے دو ہزار زیادتی کے واقعات ہو چکے ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے اسلام آباد میں دس سالہ فرشتہ قتل کیس میں اس کے گھر کا دورہ کیا اورلواحقین سے ملاقات کی . سراج الحق نے کمسن فرشتہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے دعویٰ کیا کہ زینب کے واقعہ کے بعد دو ہزار واقعات ہو چکے ہیں مگر عزت کی وجہ سے کوئی بولتا نہیں، افسوس کی بات ہے کہ ایف آئی آر کے لئے بھی دھرنوں کی ضرورت ہوتی ہے .

    اسلام آباد میں دس سالہ بچی فرشتہ کو زیادتی کے بعد قتل کر دیا گیا ہے، بچی کی گمشدگی کی اطلاع جب پولیس کو دی گئی تو پولیس نے ٹال مٹول سے کام لیا ،بچی کی لاش ملنے کے بعد ورثاء کے احتجاج کے بعد ایس ایچ شہزاد ٹاؤن و دیگراہلکاروں کیخلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے. ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اہلخانہ نے بچی کو ڈھونڈنے اور ایف آئی آر کےاندراج کیلیے تھانے کے کئی چکر لگائے، ایس ایچ او نے بچی کو ڈھونڈنے کے بجائے کہا کسی کے ساتھ بھاگ گئی ہوگی ،ایف آئی آر کے بجائے پولیس اہلکارتھانے کی صفائیاں کرواتے رہے ،ایف آئی آر کے متن میں مزید کہا گیا ہے کہ ملوث اہلکاروں اور ایس ایچ او کیخلاف مجرمانہ غفلت برتنے پر کارروائی کی جائے .

    ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے ایس ایچ او تھانہ شہزاد ٹاؤن کو معطل کر دیا ہے اور انکوائری ایس پی رورل عمر خان کے سپرد کرتے ہوئے فوری رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔

    واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد سے 15 مئی کو کمسن فرشتہ لاپتہ ہوئی تھی جسے قتل کر کے جنگل میں پھینک دیا گیا، پولیس کا کہنا ہے کہ نعش کو جنگل سے برآمد کر کے پوسٹ مارٹم کروایا گیا ہے جس میں کمسن فرشتہ کے ساتھ زیادتی کی بھی تصدیق ہوئی ہے. پولیس نے ملزمان کو گرفتار کر نے کے لئے ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں.فرشتہ کا تعلق خیبر پختونخواہ کے قبائلی علاقے ضلع مہمند سے تعلق تھا.مقتولہ بچی مقامی سکول میں دوسری جماعت کی طالبہ تھی۔ علی پورفراش کے علاقے میں رہائش پذیر مقتولہ (ف) کے والد نے مقامی پولیس تھانے شہزاد ٹاون میں پانچ روز قبل بچی کی گمشدگی کی شکایت درج کروائی تھی۔ فرشتہ کے والد نے کمسن بیٹی کی لاش کو دھوپ میں رکھ کر احتجاج کیا ، وفاقی دارالحکومت ہونے کے باوجود کیس بھی حکومتی نمائندے نے ان سے رابطہ نہیں کیا.

    واضح رہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ دوسرا واقعہ ہے جس میں ایک کمسن بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے پہلے بارہ کہو کے علاقے میں ایک دو سالہ بچی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

    کمسن فرشتہ کی زیادتی کے بعد سماجی رابطےکی ویب سائٹ ٹویٹر پر #JusticeForFarishta ٹاپ ٹرینڈ رہا. شہریوں نے فرشتہ کے قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے.

  • فرشتہ قتل کیس، قاتلوں کو گرفتار کر کے چوک میں سزا دی جائے، سراج الحق

    فرشتہ قتل کیس، قاتلوں کو گرفتار کر کے چوک میں سزا دی جائے، سراج الحق

    جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ فرشتہ قتل کیس میں قاتلوں کو گرفتار کر کے چوک میں ایسی سزا دی جائے تا کہ کل کوئی درندہ ایسا کرنے کا نہ سوچے ، اتنا بڑا واقعہ ہوا لیکن افسوس یہاں کوئی نہیں آیا، اسمبلی اراکین کو ،حکومتی نمائندوں کو یہاں‌ ہونا چاہئے تھا.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر سینٹر سراج الحق نے اسلام آباد میں دس سالہ فرشتہ قتل کیس میں اس کے گھر کا دورہ کیا اورلواحقین سے ملاقات کی . سراج الحق نے کمسن فرشتہ کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ پر افسوس کا اظہار کیا، اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ آج میں یہاں اس لئے آٰیا ہوں کہ پوری قوم کی طرف سے گل نبی سے معافی مانگنے آیا ہوں ،تعزیت کرنے آیا ہوں، انہوں نے کہا کہ انسا ن نے ترقی تو کی ہے لیکن ہمارے ہاں انسانیت مظلوم ہے. میں حکومت سے پوچھنا چاپتا ہوں کہ تمہارے دعوے کہاں ہیں کہ پولیس کو بہتر بنائیں گے. جس طرح بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پوری پاکستانی قوم جاگ رہی تھی، ملک میں ایمرجنسی تھی، تمام ادارے حرکت میں تھے. ایک انسانیت کا قتل انسانیت کا قتل ہے اس پر مشنری کو حرکت میں آنا چاہئے، یہ ریاست پر حملہ ہے اور اسلام آباد کی عزت کا مسئلہ ہے. انہوں نے کہا کہ ہر گھر میں معصوم بچیاں ہیں، والدین خوف کا شکار ہو چکے ہیں کہ ان کے بچے بھی سکول جاتے ہیں. انہوں نے کہا کہ زینب کے واقعہ کے بعد دو ہزار واقعات ہو چکے ہیں مگر عزت کی وجہ سے کوئی بولتا نہیں، افسوس کی بات ہے کہ ایف آئی آر کے لئے بھی دھرنوں کی ضرورت ہوتی ہے،.والدین نے پوسٹمارٹم کا کہا تو اس پر بھی انتظامیہ نے دیر کی،انہوں نے کہا کہ یہ وزیرستان یا کراچی کا مسئلہ نہیں، چند قدم پر وزیر اعظم ہاوس ہے، ایوان صدر ہے، پوری حکومت موجود ہے، کاش ملک کے حکمران اس بچی کو اپنی بچی سمجھتے اور یہاں آ کر بیٹھتے، انہوں نے کہا کہ یہاں کراچی، لاہور، پشاور سے لوگ پہنچے ہیں لیکن اندھے گونگے بہرے حکمران نہیں پہنچے.