Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • ایرانی وفد کا مذاکرات بارے سخت مؤقف،جہازسیٹوں پر شہید بچوں‌کی تصاویر

    ایرانی وفد کا مذاکرات بارے سخت مؤقف،جہازسیٹوں پر شہید بچوں‌کی تصاویر

    اسلام آباد: ایران اور امریکا کے درمیان مجوزہ اہم مذاکرات سے قبل سفارتی سرگرمیاں عروج پر پہنچ گئی ہیں، جبکہ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے پاکستان کے لیے پرواز کے دوران ایک جذباتی تصویر سوشل میڈیا پر شیئر کر کے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں قالیباف نے لکھا کہ "طیارے میں یہ میرے احباب ہیں”۔ شیئر کی گئی تصویر میں امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں شہید ہونے والے ایرانی بچوں کی تصاویر نشستوں پر پھولوں کے ساتھ رکھی گئی تھیں، جبکہ ان کے بستے اور جوتے بھی نمایاں تھے۔ ایرانی وزارتِ تعلیم کے مطابق ان حملوں میں 277 بچے اور 67 اساتذہ شہید ہوئے۔

    ایرانی اسپیکر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ ایران خیر سگالی کے جذبے کے تحت مذاکرات کے لیے آیا ہے تاہم امریکا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے مذاکرات سے قبل لبنان میں جنگ بندی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ پہلے سے طے شدہ نکات ہیں جن پر عمل درآمد ہونا باقی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امریکا حقیقی معاہدہ پیش کرے اور ایران کے حقوق تسلیم کرے تو ایران معاہدے کے لیے تیار ہے۔دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی امریکا پر زور دیا کہ وہ اپنے وعدوں کی پاسداری کرے، خاص طور پر لبنان میں جنگ بندی سے متعلق وعدہ پورا کیا جائے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ایران کا اعلیٰ سطحی وفد اسلام آباد پہنچ چکا ہے جس کی قیادت محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جبکہ عباس عراقچی بھی وفد کے ہمراہ موجود ہیں۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وفد آج وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کرے گا۔ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی مذاکرات کے حوالے سے مثبت اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا نے اسلام آباد مذاکرات کے لیے ایک مضبوط ٹیم بھیجی ہے جس میں جے ڈی وینس، جیرڈ کشنر اور اسٹیو وٹکوف شامل ہیں۔

    ایرانی میڈیا کے مطابق اگر ایرانی وفد کی پیشگی شرائط کو امریکا قبول کر لیتا ہے تو آج دوپہر امریکی حکام کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات شروع ہو سکتے ہیں۔ ایرانی وفد تقریباً 70 افراد پر مشتمل ہے جس میں سیاسی، اقتصادی، سیکیورٹی اور قانونی کمیٹیوں کے سربراہان شامل ہیں۔ وفد میں مرکزی بینک کے سربراہ عبدالناصر ہمتی، ملٹری کمیٹی کے سربراہ ایڈمرل احمدیان اور قانونی کمیٹی کی سربراہ اسماعیل بقائی بھی شامل ہیں۔مزید برآں وفد کے ہمراہ 26 رکنی ٹیکنیکل ٹیم، میڈیا نمائندگان، مترجمین، سیکیورٹی اور پروٹوکول اسٹاف بھی موجود ہے، جو اس حساس سفارتی عمل میں معاونت فراہم کریں گے۔

  • ‎ایرانی وفد پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے قریب، انتظار ختم

    ‎ایرانی وفد پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے کے قریب، انتظار ختم

    ‎اسلام آباد: ایرانی وفد کی پاکستان آمد کا طویل انتظار اب ختم ہونے کے قریب ہے، ذرائع کے مطابق ایرانی وفد کا طیارہ پاکستانی فضائی حدود میں داخل ہونے والا ہے، جس کے بعد اہم سفارتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز متوقع ہے۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ وفد کی آمد کے ساتھ ہی اسلام آباد میں جاری سیکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ ریڈ زون میں پہلے ہی ہائی الرٹ نافذ ہے۔ حکام اس دورے کو نہایت اہم قرار دے رہے ہیں کیونکہ اس کے دوران امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مذاکرات میں پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔
    ‎عالمی سطح پر بھی اس پیش رفت پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے، کیونکہ یہ مذاکرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن اور معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اس عمل میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر رہا ہے، جسے عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق وفد کی آمد کے فوراً بعد اعلیٰ سطحی ملاقاتوں اور مشاورت کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، جبکہ سیکیورٹی ادارے کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل تیار ہیں۔
    ‎یہ پیش رفت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد ایک بار پھر عالمی سفارتکاری کا مرکز بن چکا ہے، جہاں اہم فیصلوں کی بنیاد رکھی جا رہی ہے۔

  • 
برطانوی وزیراعظم کا شہباز شریف کو فون، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا

    
برطانوی وزیراعظم کا شہباز شریف کو فون، پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا

    10 اپریل 2026 کو وزیراعظم شہباز شریف کو برطانیہ کے وزیراعظم کیئر اسٹارمر کی جانب سے ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا، جس میں دونوں رہنماؤں نے خطے کی موجودہ صورتحال اور جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
    برطانوی وزیراعظم نے امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کے مؤثر کردار کو سراہتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں ہونے والی سفارتی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کی میزبانی پر پاکستان کو مبارکباد دی اور اس عمل کی کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے عزم کو دہراتے ہوئے یورپی اور بین الاقوامی رہنماؤں کے مشترکہ بیان کا خیرمقدم کیا، جس میں پاکستان کی امن کوششوں کی حمایت کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا۔
    ‎دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری ہے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار کی جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سفارتی عمل کو مسلسل آگے بڑھایا جائے تاکہ تنازعات کا پرامن حل ممکن ہو۔
    ‎گفتگو کے دوران پاکستان اور برطانیہ کے درمیان دیرینہ دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ دونوں ممالک نے باہمی دلچسپی کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے برطانوی وزیراعظم کو پاکستان کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی، جسے دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ‎یہ ٹیلیفونک رابطہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کردار ادا کر رہا ہے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے سرگرم عمل ہے۔

  • پیٹرول 12 اور ڈیزل 135 روپے سستا

    پیٹرول 12 اور ڈیزل 135 روپے سستا

    ‎وفاقی حکومت نے عوام کو بڑا ریلیف دیتے ہوئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں واضح کمی کی گئی ہے، جس سے مہنگائی کے دباؤ میں کمی کی امید ظاہر کی جا رہی ہے۔
    ‎حکومتی اعلامیے کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 12 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 366 روپے 41 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں غیر معمولی طور پر 135 روپے فی لیٹر کی بڑی کمی کی گئی ہے، جس کے بعد اس کی نئی قیمت 385 روپے 35 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
    ‎یہ کمی حالیہ دنوں میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے تناظر میں کی گئی ہے، جس کا فائدہ براہِ راست عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیزل کی قیمت میں بڑی کمی ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔
    ‎حکام کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہو جائے گا، جس کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ العمل ہوں گی۔
    ‎عوامی حلقوں کی جانب سے اس فیصلے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر عالمی منڈی میں قیمتوں میں استحکام برقرار رہا تو آئندہ بھی مزید ریلیف دیا جا سکتا ہے۔

  • وزیراعظم کا قوم سے خطاب میں :اہم اعلان متوقع

    وزیراعظم کا قوم سے خطاب میں :اہم اعلان متوقع

    ‎وزیراعظم شہباز شریف آج قوم سے اہم خطاب کریں گے جس میں بڑے اعلان کی توقع کی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم رات 12 بجے سے پہلے قوم سے خطاب کر سکتے ہیں، اور اس دوران پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان متوقع ہے۔
    ‎حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ہونے والی کمی کے مثبت اثرات عوام تک منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسی سلسلے میں وزیراعظم نئی قیمتوں کی منظوری دیں گے جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
    ‎واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے باعث پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی توقع بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر حکومت اس کمی کا مکمل فائدہ عوام کو منتقل کرتی ہے تو مہنگائی میں کچھ حد تک کمی آ سکتی ہے۔
    ‎حکومت کے پاس پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز میں ردوبدل کا مکمل اختیار موجود ہے۔ اس وقت پیٹرول پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے، جو قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دوسری جانب ڈیزل پر گزشتہ ہفتے سے لیوی ختم کی جا چکی ہے، جس سے عوام کو مزید ریلیف کی امید ہے۔
    ‎عوامی حلقوں کی جانب سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عالمی مارکیٹ میں کمی کا پورا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے تاکہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے بوجھ کو کم کیا جا سکے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کا آج کا خطاب نہ صرف پیٹرولیم قیمتوں بلکہ مجموعی معاشی صورتحال کے حوالے سے بھی اہم ہو سکتا ہے۔

  • 
پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    
پیٹرولیم مصنوعات سستی ہونے کا امکان

    ‎وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کا حتمی فیصلہ آج متوقع ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق قیمتوں کا تعین ہفتہ وار بنیادوں پر کیا جاتا ہے اور اس بار عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کے باعث عوام کو ریلیف ملنے کی امید ہے۔
    ‎حکام کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کا براہِ راست فائدہ عوام تک منتقل کیا جائے گا۔ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف نئی قیمتوں کی منظوری دیں گے، جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔
    ‎واضح رہے کہ حکومت کو پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسز میں ردوبدل کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ اس وقت پیٹرول پر تقریباً 80 روپے فی لیٹر لیوی وصول کی جا رہی ہے، جو قیمتوں کے تعین میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
    ‎دوسری جانب ڈیزل پر گزشتہ ہفتے سے لیوی ختم کر دی گئی تھی، جس کے بعد سے عوام کو مزید ریلیف کی توقع ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہا تو پیٹرول اور ڈیزل دونوں کی قیمتوں میں نمایاں کمی ہو سکتی ہے۔
    ‎عوامی حلقوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر ہونے والی کمی کا پورا فائدہ صارفین تک پہنچایا جائے تاکہ مہنگائی کے بوجھ میں کچھ کمی آ سکے۔
    ‎یاد رہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹ، اشیائے خوردونوش اور دیگر ضروریات زندگی پر پڑتا ہے، اس لیے کسی بھی کمی کو عوام کے لیے بڑا ریلیف سمجھا جاتا ہے۔

  • 
سعودی وزیر خزانہ اسلام آباد پہنچ گئے، وزیراعظم سے اہم ملاقات متوقع

    
سعودی وزیر خزانہ اسلام آباد پہنچ گئے، وزیراعظم سے اہم ملاقات متوقع

    ‎سعودی عرب کے وزیر خزانہ محمد بن عبد اللہ الجدعان اسلام آباد پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ وزیراعظم شہباز شریف سے اہم ملاقات کریں گے۔ اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور سفارتی تعلقات کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
    ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں دوطرفہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری کے مواقع اور جاری منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان قریبی تعلقات کے پیش نظر اس دورے سے اہم فیصلوں کی توقع کی جا رہی ہے۔
    پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات متوقع ہیں اور پاکستان اس پورے عمل میں ایک کلیدی ثالثی کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی رپورٹس کے مطابق امریکی اور ایرانی وفود کی آمد اور مذاکرات کو انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جو خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔
    ‎ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے، کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال براہ راست خلیجی معیشت اور عالمی توانائی سپلائی کو متاثر کر رہی ہے۔ اسی لیے اس دورے میں علاقائی سیکیورٹی، تیل کی ترسیل اور ممکنہ سفارتی حل پر بھی گفتگو متوقع ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک اس وقت سفارتی سطح پر قریبی رابطے میں ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ بحران کو کم کیا جا سکے۔ پاکستان کی جانب سے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کی میزبانی کو ایک بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

  • 
جنگ بندی کے بعد سوشل میڈیا پر تھینک یو پاکستان ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

    
جنگ بندی کے بعد سوشل میڈیا پر تھینک یو پاکستان ٹاپ ٹرینڈ بن گیا۔

    ‎مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور کامیاب جنگ بندی کے بعد پاکستان کے حوالے سے عالمی سطح پر ایک بڑی مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق پاکستان کے مؤثر سفارتی کردار کے باعث دنیا بھر میں اس کی ساکھ میں نمایاں بہتری آئی ہے۔
    ‎آئی پی ایس او ایس کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی ثالثی اور متوازن حکمت عملی کے نتیجے میں 70 فیصد عالمی رائے عامہ اب پاکستان کے حق میں ہو چکی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ کسی بھی ملک کے لیے ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جاتی ہے، خاص طور پر ایسے حساس خطے میں جہاں کشیدگی تیزی سے بڑھ رہی تھی۔
    ‎پاکستان کی اس کامیابی کو سوشل میڈیا پر بھی بھرپور پذیرائی ملی۔ “Thank You Pakistan” کے ہیش ٹیگ نے عالمی سطح پر ٹرینڈ کیا، جہاں مختلف ممالک کے صارفین نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے اسے ممکنہ بڑے تصادم کو روکنے کا کریڈٹ دیا۔
    ‎عالمی تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان نے اپنی متوازن اور ذمہ دار خارجہ پالیسی کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ وہ نہ صرف خطے میں بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے قیام میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس پیش رفت نے پاکستان کو ایک سنجیدہ اور قابل اعتماد سفارتی طاقت کے طور پر نمایاں کیا ہے۔
    ‎رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جہاں پاکستان کو سراہا جا رہا ہے، وہیں بھارت کے بعض بیانات پر عالمی سطح پر تنقید دیکھنے میں آئی ہے۔ مبصرین کے مطابق بھارت کا مؤقف اس صورتحال میں زیادہ مؤثر ثابت نہیں ہو سکا، جبکہ عالمی میڈیا کی توجہ پاکستان کے مثبت کردار پر مرکوز رہی۔
    ‎ملک کے اندر بھی عوام نے اس کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی اور عسکری قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کو اس نازک مرحلے پر مؤثر فیصلے کرنے پر سراہا جا رہا ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس سفارتی کامیابی کے نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں، کیونکہ عالمی سطح پر مثبت تاثر کسی بھی ملک کی معیشت اور بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

  • 
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    
سونے اور چاندی کی قیمتوں میں بڑا اضافہ

    ‎پاکستان میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں آج ایک بار پھر نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کے بعد دونوں قیمتی دھاتیں مزید مہنگی ہو گئی ہیں اور نئی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
    ‎صرافہ ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے باعث پاکستان میں بھی سونے اور چاندی کے نرخوں میں اضافہ ہوا۔ بین الاقوامی سطح پر سونے کی قیمت میں 30 ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد فی اونس قیمت 4753 ڈالر تک جا پہنچی۔ اس عالمی رجحان کا براہ راست اثر مقامی مارکیٹ پر بھی پڑا۔
    ‎ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 3000 روپے کا اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 97 ہزار 662 روپے ہو گئی ہے۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 2572 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 26 ہزار 664 روپے تک پہنچ گئی۔
    ‎دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ فی تولہ چاندی 130 روپے مہنگی ہو کر 8014 روپے تک جا پہنچی، جس کے بعد یہ دوبارہ 8 ہزار روپے کی سطح عبور کر گئی ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور سرمایہ کاروں کا محفوظ سرمایہ کاری کی جانب رجحان سونے کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات ہیں۔ یہی عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عالمی سطح پر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے دنوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے، جس سے عام صارفین اور سرمایہ کار دونوں متاثر ہوں گے۔

  • 
اسلام آباد ہائی الرٹ، امریکی و ایرانی وفود کی آمد متوقع

    
اسلام آباد ہائی الرٹ، امریکی و ایرانی وفود کی آمد متوقع

    ‎اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی متوقع آمد کے پیش نظر سیکیورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے، جبکہ دارالحکومت میں غیر یقینی اور انتظار کی کیفیت برقرار ہے۔ حکام کے مطابق وفود کی آمد کسی بھی وقت متوقع ہے، تاہم ابھی تک باضابطہ طور پر کسی وفد کی آمد کی تصدیق نہیں کی گئی۔
    ‎بی بی سی کی ٹیم جب ڈی چوک کے علاقے میں، ایوانِ صدر اور پارلیمنٹ کے سامنے مرکزی چوراہے کے قریب رپورٹنگ کر رہی تھی تو پولیس نے میڈیا ٹیموں کو پیچھے ہٹنے کی ہدایت دی۔ اسلام آباد پولیس کے ترجمان نے بتایا کہ سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور وفود کی آمد کے حوالے سے حساس معلومات شیئر نہیں کی جا سکتیں۔
    ‎ریڈ زون، جہاں اہم سرکاری عمارتیں اور غیر ملکی سفارت خانے واقع ہیں، کو خاردار تار لگا کر مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ شہر بھر میں چیک پوسٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے جبکہ سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پولیس، فوج اور نیم فوجی دستے سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔
    ‎اس کے ساتھ ساتھ عالمی میڈیا کی توجہ بھی اسلام آباد پر مرکوز ہے اور متعدد بین الاقوامی صحافی شہر پہنچ چکے ہیں تاکہ ممکنہ مذاکرات کی کوریج کی جا سکے۔
    ‎دلچسپ امر یہ ہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں ایران کے سفیر کی جانب سے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں وفد کی آمد کا عندیہ دیا گیا تھا، تاہم وہ پوسٹ کچھ ہی دیر بعد حذف کر دی گئی، جس کے بعد مزید قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔
    ‎ابھی تک پاکستان کی جانب سے مذاکرات کا کوئی باضابطہ شیڈول جاری نہیں کیا گیا، تاہم وائٹ ہاؤس پہلے ہی عندیہ دے چکا ہے کہ ممکنہ بات چیت ہفتے کی صبح ہو سکتی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کے مطابق موجودہ صورتحال انتہائی حساس ہے اور اگر یہ مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔