Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان

    گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا اعلان

    گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کر دیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق 7 جون 2026 کو گلگت بلتستان اسمبلی کے عام انتخابات کی پولنگ کا دن مقرر کیا گیا ہے،الیکشن کمیشن کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کو پاکستان گزٹ میں اشاعت کے لیے بھی بھجوا دیا گیا ہے، جس کے بعد انتخابی عمل کا باضابطہ آغاز تصور کیا جائے گا۔

    چیف الیکشن کمشنر راجا شاہ باز خان نے انتخابات کی تاریخ کا باضابطہ اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ یہ انتخابات الیکشنز ایکٹ 2017 اور جی بی آرڈر 2018 کے تحت منعقد کیے جائیں گے،تمام انتظامات متعلقہ قوانین کے مطابق مکمل کیے جائیں گے۔

  • اسلام آباد میں امن مذاکرات کا آغاز، ایران نے ریڈ لائنز بتا دیں

    اسلام آباد میں امن مذاکرات کا آغاز، ایران نے ریڈ لائنز بتا دیں

    اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے اہم امن مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندہ وفود پاکستان کے دارالحکومت میں موجود ہیں، جہاں سفارتی سطح پر رابطے تیز ہوگئے ہیں۔

    اطلاعات کے مطابق امریکی وفد کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، جبکہ ایرانی وفد کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے پاس ہے۔ دونوں وفود نے وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وفود سے الگ الگ ملاقاتوں میں خطے کی بگڑتی ہوئی صورتحال، جنگ بندی کے امکانات، بحری راستوں کی سلامتی اور سفارتی حل کے مختلف پہلوؤں پر گفتگو کی گئی۔ تاہم ابھی تک اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر کے مطابق تہران نے ثالثوں کے ذریعے اپنی تجاویز اور "سرخ لکیریں” پاکستان کے وزیراعظم تک پہنچا دی ہیں۔ ایران کے اہم مطالبات میں آبنائے ہرمز کی حیثیت، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور پورے خطے میں فوری جنگ بندی شامل ہیں۔ایرانی حکومت کی ترجمان نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن مکمل احتیاط کے ساتھ اس عمل میں شریک ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران اعتماد کے فقدان سے بخوبی آگاہ ہے، اس لیے سفارتی ٹیم انتہائی محتاط حکمت عملی کے تحت مذاکرات میں داخل ہو رہی ہے۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی آسکتی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی نئی راہیں بھی کھل سکتی ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں اس وقت اسلام آباد میں جاری ان اہم بات چیت پر مرکوز ہیں۔

  • وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی مذاکراتی وفد کی ملاقات

    وزیراعظم شہباز شریف سے ایرانی مذاکراتی وفد کی ملاقات

    اسلام آباد میں ممکنہ پاک، ایران اور امریکا سفارتی رابطوں کے دوران ایران نے اپنی تجاویز اور اہم شرائط ثالثوں کے ذریعے پہنچا دی ہیں۔

    وزیر اعظم شہباز شریف سے ایرانی وفد نے ملاقات کی ہے۔ملاقات کے دوران ایرانی وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کی جبکہ ان کے ہمراہ ایران کے وزیر خارجہ بھی موجود تھے۔وزیراعظم نے اسلام آباد مذاکرات میں ایران کی شرکت کو سراہا۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے رپورٹر کے مطابق تہران نے اپنے مؤقف سے پاکستانی وزیراعظم میاں شہباز شریف کو آگاہ کر دیا ہے۔رپورٹ کے مطابق امریکی وفد، جس کی قیادت امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، اور ایرانی وفد، جس کی سربراہی ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، نے الگ الگ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقاتیں کیں۔ وزیراعظم آفس کے مطابق دونوں وفود کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں خطے کی مجموعی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور ممکنہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تاہم تاحال اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا۔ سفارتی ذرائع کے مطابق پس پردہ رابطے جاری ہیں اور پاکستان دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

    ایرانی سرکاری ٹی وی نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران کی سرخ لکیروں میں آبنائے ہرمز سے متعلق معاملات، جنگی ہرجانے کی ادائیگی، ایران کے منجمد اثاثوں کی رہائی اور خطے بھر میں جنگ بندی شامل ہیں۔ ان نکات کو ایران کی مذاکراتی حکمت عملی کا بنیادی حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ "ہم ٹرائیگر پر انگلی رکھ کر مذاکرات کریں گے۔” ان کا کہنا تھا کہ ایران بات چیت کے لیے تیار ہے، لیکن اعتماد کے فقدان سے پوری طرح آگاہ ہے، اسی لیے ایرانی سفارتی ٹیم انتہائی احتیاط کے ساتھ اس عمل میں داخل ہو رہی ہے۔

  • مذاکرات، صحافیوں کو ایک ہی چھت تلے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،عطا تارڑ

    مذاکرات، صحافیوں کو ایک ہی چھت تلے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں،عطا تارڑ

    وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کی غیر ملکی صحافیوں کو فراہم کی گئی سہولیات کے حوالے سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ ایران اور امریکہ کے صحافیوں کے لئے ویزا آن ارائیول ہوگا،کوریج کے لئے دنیا بھر سے صحافی پاکستان پہنچ رہے ہیں،

    عطاء اللہ تارڑ کا کہنا تھا کہ صحافیوں کو ایک ہی چھت تلے تمام ضروری سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، 50 کے قریب صحافی پاکستان پہنچ چکے ہیں،چین، سعودی عرب، جاپان، جرمنی، کوریا سمیت مختلف ممالک سے صحافیوں نے ویزا کی درخواستیں دی ہیں،وزارت اطلاعات و نشریات نے جناح کنونشن سنٹر میں صحافیوں کے لئے ایک چھت تلے تمام ضروری سہولیات میسر کی ہیں، ہائی اسپیڈ انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی، پرنٹرز، کمپیوٹرز اور سکرینز نصب کی گئی ہیں،صحافتی امور انجام دینے کے لئے درکار تمام سہولیات یہاں میسر کی گئی ہیں،جناح کنونشن سنٹر سے ریڈ زون قریب ہے، صحافی یہاں سے باآسانی کوریج کر سکتے ہیں،صحافیوں کو کارڈز جاری کئے گئے ہیں، تمام سہولیات ایک ہی جگہ فراہم کرنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ صحافیوں کو کوریج میں کوئی دقت نہ پیش آئے،کوریج کے لئے آنے والے غیر ملکی صحافیوں کو خوش آمدید کہتے ہیں،

  • پاکستان میں ایران، امریکا مذاکرات، اہم نکات

    پاکستان میں ایران، امریکا مذاکرات، اہم نکات

    ایران کی بنیادی شرط ہے کہ باقاعدہ مذاکرات تبھی ہوں گے جب واشنگٹن لبنان میں جنگ بندی اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کی ضمانت دے گا، امریکا اور اسرائیل لبنان میں جنگ بندی کو مذاکرات کا حصہ نہیں مانتے

    ایران منجمند اثاثوں کی بحالی اور پابندیوں کا خاتمہ چاہتا ہے،امریکا رعایت دینے کو تیار ہے لیکن بدلے میں جوہری اور میزائل پروگرام پر بڑی رعایتیں مانگ رہا ہے،ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول اور ٹرانزٹ فیس چاہتا ہے جبکہ امریکا اسے ہر قسم کی فیس اور پابندی سے آزاد رکھنے کا مطالبہ کررہا ہے

    امریکا اور اسرائیل ایران کے میزائل پروگرام میں بڑی کٹوتی چاہتے ہیں جسے تہران نے یکسر ناقابل گفت و شنید قرار دیدیا ہے،ایران خطے سے امریکی افواج کی واپسی چاہتا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں امن معاہدہ تک فوجی موجودگی برقرار رہے گی ورنہ جنگ میں شدت لائی جائے گی

  • امن مذاکرات،پاکستان کی میزبانی اعزاز ہے، احسن اقبال

    امن مذاکرات،پاکستان کی میزبانی اعزاز ہے، احسن اقبال

    وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ اسلام آباد امن مذاکرات کی میزبانی کر رہا ہے اور جنگ میں مصروف فریقین کو میدانِ جنگ سے مذاکرات کی میز تک لانے میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ میں پاکستان، ایران اور امریکہ کی قیادت کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، اور ان تمام برادر ممالک کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں جن کی تعمیری کاوشوں نے امن کے اس موقع کو ممکن بنایا۔ ہماری کوشش ایک سادہ مگر مضبوط یقین سے رہنمائی حاصل کرتی رہی ہے کہ بداعتمادی کی جگہ مکالمہ لے، کشیدگی پر ضبط و تحمل غالب آئے، اور جنگ کے رجحان پر دانشمندی فتح حاصل کرے۔ مسلسل تنازع نہ صرف خطے بلکہ پوری عالمی برادری کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ یہ بحران اب صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں رہا۔ اس کے معاشی اثرات آسٹریلیا سے امریکہ تک، دنیا کے تمام 193 ممالک میں محسوس کیے جا رہے ہیں، جہاں مہنگائی کے دباؤ، توانائی کی فراہمی میں رکاوٹ، غیر مستحکم منڈیاں، اور بڑھتی ہوئی بے یقینی نے حالات کو متاثر کیا ہے۔ اگر یہ تنازع جاری رہا تو مزید لاکھوں افراد غربت کی طرف دھکیل دیے جائیں گے۔ ناکامی کا بوجھ صرف جنگ کرنے والے فریقین پر نہیں پڑے گا بلکہ دنیا بھر کے عام مرد، خواتین اور بچوں کو عدم تحفظ، مہنگائی اور عدم استحکام کی صورت میں اس کی قیمت چکانی پڑے گی۔لہٰذا ہم خلوصِ دل سے امید کرتے ہیں کہ یہ مذاکرات کامیاب ہوں۔ ان کی کامیابی صرف علاقائی امن کے لیے نہیں بلکہ دنیا بھر میں لاکھوں خاندانوں کے معاشی تحفظ اور بہتر مستقبل کے لیے بھی اہم ہوگی۔ آخرکار تاریخ یہ یاد نہیں رکھے گی کہ سب سے سخت لہجہ کس نے اختیار کیا، بلکہ وہ ان لوگوں کو یاد رکھے گی جنہوں نے وسیع تر جنگ کو روکنے کے لیے دانائی، بصیرت اور اعلیٰ قیادت کا مظاہرہ کیا۔

  • پاکستانی وزیر خزانہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ

    پاکستانی وزیر خزانہ ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ

    وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب ورلڈ بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بہار اجلاسوں میں شرکت کے لیے امریکہ روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ اجلاس 13 سے 18 اپریل 2026 تک واشنگٹن ڈی سی میں منعقد ہوں گے۔

    وزیر خزانہ ان اجلاسوں میں شرکت سے قبل بوسٹن کا دورہ کریں گے جہاں وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں منعقدہ پاکستان کانفرنس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خزانہ کانفرنس میں شریک ماہرین، پالیسی سازوں اور پاکستانی کمیونٹی سے ملاقاتیں کریں گے اور پاکستان کی معیشت، اصلاحاتی اقدامات اور ترقی کے امکانات پر اظہار خیال کریں گے۔
    دورے کے دوران وزیر خزانہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے اہم اجلاسوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے اور عالمی مالیاتی رہنماؤں، ترقیاتی شراکت داروں اور پالیسی سازوں سے وسیع پیمانے پر ملاقاتیں کریں گے۔اجلاسوں کے موقع پر وزیر خزانہ عالمی مالیاتی اداروں کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کریں گے، جن میں ورلڈ بینک کی منیجنگ ڈائریکٹر (آپریشنز) انا بیردے، آئی ایف سی کے منیجنگ ڈائریکٹر مختار دیوپ اور میگا کے منیجنگ ڈائریکٹر سوتومو یاماموتو شامل ہیں۔

    وزیر خزانہ آئی ایم ایف کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر ڈین کاٹز، ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک اور مشرق وسطیٰ و وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد اظہور شامل ہیں۔ ان ملاقاتوں میں پاکستان کی معاشی صورتحال، اصلاحات اور مستقبل کے تعاون پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔امریکہ کے دورے کے دوران وزیر خزانہ امریکی حکومت کے اعلیٰ حکام سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور محکمہ خزانہ کے سینئر حکام کے علاوہ امریکہ کے تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر شامل ہیں۔
    وزیر خزانہ عالمی مالیاتی اداروں اور عالمی کمپنیوں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں فرینکلن ٹیمپلٹن، روتھس چائلڈ اینڈ کمپنی، سٹی بینک اور جے پی مورگن جیسے بین الاقوامی ادارے شامل ہیں، جبکہ ٹیکنالوجی اور پالیسی کے شعبوں کے نمائندوں سے بھی ملاقاتیں ہوں گی۔

    ان مصروفیات کے ساتھ ساتھ وزیر خزانہ مختلف ممالک کے ہم منصب رہنماؤں اور اعلیٰ قیادت سے باہمی ملاقات کریں گے، جن میں چین، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور برطانیہ کے قائدین شامل ہیں۔
    وزیر خزانہ دیگر عالمی اور ترقیاتی مالیاتی اداروں کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے، جن میں آئی ایف اے ڈی، گیٹس فاؤنڈیشن، ایشیائی ترقیاتی بینک، جائیکا اور ایشین انفراسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک شامل ہیں۔

    دورے کے دوران وزیر خزانہ جی-24 اجلاس، موسمیاتی اقدام کے لیے وزرائے خزانہ کے اتحاد سمیت اہم عالمی فورمز میں شرکت کریں گے۔ وہ مختلف اعلیٰ سطحی مکالموں اور راؤنڈ ٹیبل اجلاسوں میں بھی حصہ لیں گے، جہاں عالمی معیشت، مالیاتی اصلاحات، موسمیاتی فنانس اور ترقیاتی امور پر گفتگو ہو گی۔دورے کا ایک اہم حصہ ان کی ورلڈ بینک کے زیر اہتمام ایک خصوصی اجلاس میں شرکت ہے جہاں بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے پاکستان میں سماجی تحفظ کے ڈیجیٹل نظام کے تجربات اور کامیابیاں پیش کی جائیں گی۔
    اس کے علاوہ وزیر خزانہ سرمایہ کاری فورمز اور گول میز اجلاسوں میں شرکت کریں گے، جن میں جیفریز، جے پی مورگن اور سٹی بینک کے زیر اہتمام نشستیں شامل ہیں، جہاں وہ پاکستان کے معاشی اشاریوں، اصلاحات اور سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کریں گے۔وزیر خزانہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس اور ترسیلات زر سے متعلق ایک خصوصی تقریب میں بھی شرکت کریں گے، جو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے تعاون سے واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں منعقد کی جائے گی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں جیسے فچ، موڈیز اور ایس اینڈ پی کے نمائندوں سے بھی ملاقات کریں گے اور بین الاقوامی میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے۔
    وزیر خزانہ اٹلانٹک کونسل سمیت معروف تھنک ٹینکس سے خطاب کریں گے اور پاکستان کی معیشت اور اصلاحاتی ایجنڈے پر روشنی ڈالیں گے۔اس کے علاوہ وہ یو ایس پاکستان بزنس کونسل کے ارکان اور امریکہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے ملاقات کریں گے تاکہ سرمایہ کاری کے مواقع کو فروغ دیا جا سکے اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔اپنے دورے کے دوران وزیر خزانہ 50 سے زائد اہم ملاقاتوں، اجلاسوں اور مکالموں میں شرکت کریں گے، جو عالمی اقتصادی برادری کے ساتھ پاکستان کے فعال کردار کی عکاسی کرتا ہے۔
    یہ دورہ پاکستان کے معاشی استحکام، اصلاحات اور عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا مظہر ہے.

  • اسلام آباد مذاکرات، جے ڈی وینس کا اہم کردار

    اسلام آباد مذاکرات، جے ڈی وینس کا اہم کردار

    اسلام آباد: ایک سینئر پاکستانی ذریعے نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کو جنگ کے بجائے سفارتی حل کی جانب لانے میں ان کا کردار نہایت اہم رہا ہے۔

    بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق جے ڈی وینس ان مذاکراتی کوششوں میں کلیدی شخصیت کے طور پر سامنے آئے ہیں، جن کے تحت اسلام آباد میں آئندہ چند گھنٹوں میں اہم مذاکرات شروع ہونے جا رہے ہیں۔امریکی نائب صدر وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں،ذرائع کے مطابق مذاکراتی عمل سے واقف حکام کا اندازہ ہے کہ مستقل جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے چند روز درکار ہوں گے۔ اس مقصد کے لیے پاکستانی حکام پُرامید ہیں کہ وہ امریکی نائب صدر کو مزید کچھ عرصہ پاکستان میں قیام پر آمادہ کر سکیں گے تاکہ مذاکراتی عمل کو نتیجہ خیز بنایا جا سکے۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں اسلام آباد خطے اور عالمی امن کے لیے ایک اہم سفارتی مرکز بن چکا ہے، جہاں دونوں فریقوں کو ایک میز پر لانے کی کوششیں جاری ہیں۔ حکام کے مطابق پاکستان اس حساس مرحلے پر ایک ذمہ دار اور غیر جانبدار ثالث کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اسلام آباد مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ جنوبی ایشیا اور عالمی سیاست کے لیے بھی ایک بڑی پیش رفت ثابت ہوگی۔ تمام نظریں اب پاکستان کے دارالحکومت پر مرکوز ہیں، جہاں آنے والے دنوں میں اہم فیصلے متوقع ہیں۔

  • ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈمارشل نے جے ڈی وینس کا استقبال کیا، سی این این

    ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈمارشل نے جے ڈی وینس کا استقبال کیا، سی این این

    پاکستان کے دارالحکومت میں ہفتے کے روز امریکی نائب صدر کی آمد پر اعلیٰ سطحی استقبال دیکھنے میں آیا، جہاں پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے خود ایئرپورٹ پر ان کا استقبال کیا۔ آمد کے موقع پر جاری مناظر میں دیکھا گیا کہ دونوں رہنماؤں نے گرمجوشی سے مصافحہ کیا اور مختصر گفتگو بھی کی۔

    جنرل عاصم منیر اس وقت پاکستان اور امریکا کے درمیان تعلقات میں اہم کردار ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق حالیہ مہینوں میں دونوں ممالک کے روابط میں اضافہ ہوا ہے اور دفاعی، سفارتی و علاقائی معاملات پر مشاورت کا سلسلہ بھی تیز ہوا ہے۔ذرائع کے مطابق جنرل عاصم منیر نے امریکی قیادت کے ساتھ اپنے روابط اور ایران کے ساتھ پاکستان کے دیرینہ تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے حالیہ جنگ بندی کوششوں میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اسی سفارتی سرگرمی کے تسلسل میں اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کو غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔اطلاعات ہیں کہ وہ آئندہ بات چیت میں بھی مرکزی کردار ادا کریں گے، جہاں خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن کے قیام پر غور کیا جائے گا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو پسندیدہ فیلڈ مارشل کہہ چکے ہیں،

    ایئرپورٹ پر استقبال کے دوران جنرل عاصم منیر سیاہ سوٹ اور سبز ٹائی میں ملبوس تھے، جبکہ اس سے چند گھنٹے قبل ایرانی وفد کے استقبال کے وقت وہ فوجی وردی میں نظر آئے تھے۔ اس تبدیلی کو سفارتی آداب اور مختلف مواقع کی مناسبت سے دیکھا جا رہا ہے۔سیاسی و سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت خطے میں ثالثی اور امن کوششوں کے مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے، اور عالمی طاقتوں کے اعلیٰ وفود کی آمد اس بڑھتی ہوئی اہمیت کی عکاس ہے۔

  • مذاکرات کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے،مفتی تقی عثمانی

    مذاکرات کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے،مفتی تقی عثمانی

    ممتاز عالمی دن مفتی تقی عثمانی نے کہا ہےکہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کو اللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے۔

    سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں مفتی تقی عثمانی نے کہا کہ ایران امریکا جنگ رکوانے میں پاکستانی قیادت کو اللہ تعالی نے انتہائی نازک اور متوازن کردار ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائی، اس کی وجہ سےدنیا بھر میں پاکستان کا وقار غیرمعمولی طورپر بلند ہوا،انہوں نے کہا کہ آج جو مذاکرات ہونے والے ہیں ان کی کامیابی پر عالم اسلام بلکہ پوری دنیا کا مفاد وابستہ ہے، وزیراعظم نے اس موقع پر عوام سے دعا کی اپیل کی ہے، اس لیے ہم سب کو دعا میں مصروف رہناچاہیے۔