Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات  اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں،امریکی میڈیا

    امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں جاری ایران امریکا مذاکرات اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں۔

    امریکہ اور ایران کے درمیان جاری اہم مذاکراتی عمل میں پیش رفت کے اشارے مل رہے ہیں، جہاں متعدد نشستیں خوشگوار اور نسبتاً مثبت ماحول میں منعقد ہو چکی ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے وفود کے درمیان نہ صرف باضابطہ مذاکرات ہوئے بلکہ غیر رسمی سطح پر بھی روابط جاری رہے، حتیٰ کہ وفود نے ایک ساتھ عشائیہ بھی کیا، جس کے بعد اب باہمی نکات اور تجاویز کے تبادلے کا عمل جاری ہے۔

    سی این این کے مطابق پاکستانی ذرائع نے بتایا ہےکہ ایران امریکا مذاکرات آج یعنی اتوار کو بھی جاری رہ سکتے ہیں مذاکرات میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے۔

    دوسری جانب الجزیرہ کے مطابق ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت وفود کی سطح پر مذاکرات جاری ہیں اور دونوں فریق ممکنہ راستے تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ بات چیت کو آگے بڑھایا جا سکے ان کا مؤقف ہے کہ اگرچہ ابھی کسی حتمی نتیجے تک نہیں پہنچا جا سکا، لیکن رابطوں کا تسلسل برقرار ہے اور مختلف آپشنز پر غور ہو رہا ہے۔

    پاکستان کی جانب سے بھرپور کوشش کی جا رہی ہے کہ مذاکراتی عمل کو مزید وقت دیا جائے پاکستانی حکام چاہتے ہیں کہ کم از کم ایک اور دن، ایک اور مرحلہ یا مزید توسیع دی جائے تاکہ فریقین کسی ٹھوس اور نتیجہ خیز معاہدے تک پہنچ سکیں تاہم اب تک اس حوالے سے کوئی حتمی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

    پاکستانی سفارتی ذرائع اب بھی پرامید دکھائی دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ مسلسل دونوں فریقین، یعنی امریکہ اور ایران، کو مزید لچک دکھانے پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں مذاکرات کی کامیابی کا دارومدار بالآخر دونوں ممالک کی قیادت پر ہوگا، جو یہ طے کرے گی کہ بات چیت کو کس انداز میں آگے بڑھانا ہے اور آئندہ کا طریقہ کار کیا ہوگامچونکہ دونوں فریق اب آمنے سامنے ملاقاتوں کا آغاز کر چکے ہیں، اس لیے یہ ایک اہم پیش رفت ہے، اور اگر یہ سلسلہ برقرار رہتا ہے تو مستقبل میں مذاکرات کے تسلسل اور ممکنہ کامیابی کے امکانات بھی بڑھ سکتے ہیں۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح کے مذاکرات آج اسلام آباد میں جاری ہیں، جنہیں عالمی سطح پر خاصی اہمیت دی جا رہی ہے،اس حوالے سے ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ پاکستان پہنچنے والا اعلیٰ سطح کا ایرانی وفد ایران کے مفادات کا محافظ ہے،ایرانی وفد بہادری کے ساتھ مذاکرات کرے گا،عوام کیلیے ہماری خدمات ایک لمحہ بھی نہیں رکیں گی۔

    دوسری جانب امریکی صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز جلد کھلنے جا رہی ہے،امریکی تیل لینے کیلئے خالی ٹینکرز کی بڑی تعداد آ رہی ہے،امریکی میڈیا پر صرف منفی خبریں دکھائی جا رہی ہیں۔

  • اسلام آباد مذاکرات، صحافیوں کے لیے خصوصی انتظامات،مہمان نوازی

    اسلام آباد مذاکرات، صحافیوں کے لیے خصوصی انتظامات،مہمان نوازی

    اسلام آباد: امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات پانچ گھنٹے سے زائد وقت گزرنے کے باوجود جاری ہیں، جبکہ پاکستانی دارالحکومت اسلام آبادمیں موجود ملکی و غیر ملکی صحافی مسلسل صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ مذاکرات کی اصل سرگرمیاں ایک جانب جاری ہیں، تو دوسری طرف میڈیا نمائندوں کے لیے الگ سے خصوصی سہولیات فراہم کی گئی ہیں تاکہ وہ طویل انتظار کے دوران اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں جاری رکھ سکیں۔

    پاکستان میں مذاکرتی عمل کی کوریج کےلیے غیرملکی میڈیا کے نمائندوں میں مردوں سے زیادہ خواتین صحافیوں کی بڑی تعداد آئی ہے جوکہ خوش آئند بات ہے۔خواتین صحافی اسلام آباد کی خوبصورتی سے بھی متاثر ہورہی ہیں۔
    اسلام آباد کا مشہور جناح کنونشن سینٹر، جہاں عام طور پر ایوارڈ تقریبات، سرکاری تقریبات اور بڑے قومی پروگرام منعقد ہوتے ہیں، اس بار عالمی سفارتی سرگرمیوں کے تناظر میں میڈیا مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہاں دنیا بھر سے آئے رپورٹرز، اینکرز، پروڈیوسرز اور کیمرہ ٹیمیں موجود ہیں جو مذاکرات کی ہر پیش رفت پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
    اصل مذاکراتی نشستیں سڑک کے دوسری جانب واقع فائیو اسٹار سرینا ہوٹل میں جاری ہیں، تاہم صحافیوں کے لیے جناح کنونشن سینٹر کو مرکزی میڈیا حب بنایا گیا ہے۔طویل مذاکرات کے پیش نظر میڈیا نمائندوں کے لیے کھانے پینے کے بہترین انتظامات کیے گئے ہیں۔ صحافیوں کو مفت کافی مسلسل فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ دوپہر اور رات کے کھانے میں مختلف اقسام کے کھانوں پر مشتمل بوفے بھی موجود ہے۔بوفے میں روایتی سالن، باربی کیو، چاول، سلاد اور دیگر اشیاء شامل ہیں، جس سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے اس اہم موقع پر مہمان نوازی کا خاص اہتمام کیا ہے۔

    پاکستان کی وزارتِ اطلاعات کا عملہ بھی جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہے، جو صحافیوں کو تکنیکی اور انتظامی معاونت فراہم کر رہا ہے۔ ان سہولیات میں انٹرنیٹ، نشریاتی انتظامات، رہنمائی اور دیگر میڈیا ضروریات شامل ہیں تاکہ کوریج کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔اس اہم سفارتی عمل کو نمایاں کرنے کے لیے مقام پر خصوصی سفارتی سجاوٹ بھی کی گئی ہے۔ مرکزی ہال میں بڑے بڑے بینرز آویزاں ہیں جن پر “Islamabad Talks” درج ہے، جبکہ امریکہ، پاکستان اور ایران کے جھنڈے ایک ساتھ نمایاں انداز میں رکھے گئے ہیں۔سوشل میڈیا پر توجہ کے لیے کنونشن سینٹر کے فرش پر #IslamabadTalks کا بڑا سائن بھی نصب کیا گیا ہے، جس کے سامنے آرام دہ صوفے رکھے گئے ہیں تاکہ صحافی انتظار کے دوران آرام بھی کر سکیں اور براہِ راست اپ ڈیٹس بھی دیتے رہیں۔

    مبصرین کے مطابق پاکستان نے نہ صرف حساس مذاکرات کی میزبانی کی ہے بلکہ میڈیا مینجمنٹ، سفارتی ماحول اور عالمی صحافیوں کی سہولت کے حوالے سے بھی مثبت تاثر دیا ہے۔ ایک طرف بند کمرے میں مذاکرات جاری ہیں، تو دوسری طرف میڈیا کو منظم اور باوقار انداز میں سہولیات فراہم کرنا پاکستان کی سفارتی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔امریکہ اور ایران کے درمیان جاری ان مذاکرات کو خطے اور دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اسی وجہ سے عالمی میڈیا کی نظریں اسلام آباد پر جمی ہوئی ہیں، جبکہ ہر نئی پیش رفت کا بے چینی سے انتظار کیا جا رہا ہے۔مذاکرات کے نتائج سامنے آنے تک جناح کنونشن سینٹر میں صحافیوں کی سرگرمیاں، تجزیے اور لائیو اپ ڈیٹس کا سلسلہ جاری رہنے کا امکان ہے۔

  • سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر کی پاکستان کیلئے 5 ارب ڈالر کے مالی تعاون کی یقین دہانی

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کا مالی تعاون فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    ترک خبر رساں ادارے کے مطابق سعودی عرب اور قطر کی جانب سے فراہم کی اس مالی تعاون سے اسلام آباد کو اپنے کمزور زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیوں میں سہولت ملے گی یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان کو متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض بھی واپس کرنا ہے-

    سعودی عرب کے وزیر خزانہ محدم بن عبداللہ نے اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی تھی جس میں اقتصادی تعاون اور علاقائی صورتحال پر تفصیلی بات چیت ہوئی،اس اہم ملاقات میں فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈرا بھی موجود تھے اگرچہ اس ملاقات کے بعد کوئی باضابطہ معاہدہ سامنے نہیں آیا لیکن دونوں ممالک کے درمیان مالی معاونت سے متعلق بات چیت شروع ہو چکی ہے۔

    ملاقات میں پاکستان نے سعودی عرب سے مزید مالی امداد کی درخواست کی جس میں موجودہ نقد ڈپازٹس میں اضافہ اور تیل کی سہولت (Oil Financing Facility) کی مدت میں توسیع شامل ہے جو رواں ماہ کے آخر میں ختم ہونے والی ہے،ملاقات کا محور اقتصادی تعاون اور سعودی عرب و متحدہ عرب امارات کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں علاقائی صورتحال رہی۔

    سعودی عرب اور قطر نے پاکستان کو 5 ارب ڈالر کی مالی معاونت کی یقین دہانی کرائی ہے جس سے پاکستان کو کمزور زرِ مبادلہ ذخائر پر دباؤ کم کرنے اور بیرونی ادائیگیاں کرنے میں مدد ملے گی ایک سینیئر پاکستانی اہلکار کے مطابق پاکستان اپریل کے اختتام تک متحدہ عرب امارات کو 3.5 ارب ڈالر کا قرض واپس کرے گا کیونکہ ابوظبی نے فوری ادائیگی کی درخواست کی ہے۔

    واضح رہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر اس وقت تقریباً 16.4 ارب ڈالر ہیں تاہم بڑھتے ہوئے درآمدی اخراجات اور بیرونی ادائیگیوں کے باعث دباؤ برقرار ہے پاکستان مختلف بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مالی تعاون اور آئندہ اہم مالی اجلاسوں کے لیے بھی رابطے میں ہے۔

  • اسلام آباد امن مذاکرات، پاکستان نے سفارت کاری کو میڈیا سرکس بننے سے بچا لیا

    اسلام آباد امن مذاکرات، پاکستان نے سفارت کاری کو میڈیا سرکس بننے سے بچا لیا

    اسلام آباد میں جاری اہم امن مذاکرات کے دوران پاکستان نے ایک نہایت محتاط، منظم اور مؤثر حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مذاکراتی عمل کو میڈیا سرکس بننے سے محفوظ رکھا۔ اگرچہ بین الاقوامی میڈیا، ملکی صحافیوں اور سوشل میڈیا کی غیر معمولی دلچسپی موجود تھی، تاہم حکام نے اطلاعاتی ماحول کو اس انداز میں سنبھالا کہ تمام توجہ صرف مذاکرات کے اصل مقصد یعنی امن، استحکام اور انسانی جانوں کے تحفظ پر مرکوز رہی۔

    ذرائع کے مطابق پاکستان نے مذاکراتی ٹیموں کو مکمل سکون اور رازداری فراہم کی تاکہ حساس اور اہم معاملات پر سنجیدہ انداز میں گفتگو ممکن ہو سکے۔ حکومتی حکمت عملی کا بنیادی مقصد یہی تھا کہ کسی قسم کی غیر ضروری میڈیا ہلچل یا قیاس آرائی مذاکراتی عمل پر اثر انداز نہ ہو۔اسلام آباد میں قائم میڈیا سینٹر میں ملکی و غیر ملکی صحافیوں کے لیے آرام دہ اور بہترین سہولیات فراہم کی گئیں، جہاں دنیا بھر سے آئے نمائندے موجود رہے۔ اس مرکز نے نہ صرف صحافیوں کے لیے رابطے اور معلومات کے تبادلے کا ماحول فراہم کیا بلکہ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کے لیے بھی مناسب سہولتیں مہیا کیں۔اطلاعات کی فراہمی صرف سرکاری ذرائع اور باضابطہ چینلز کے ذریعے کی گئی، جبکہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں، جھوٹی خبروں اور بے بنیاد اطلاعات کی فوری تردید اور روک تھام کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ حساس مذاکرات میں غیر مصدقہ اطلاعات نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں، اس لیے معلومات کے اجرا میں نظم و ضبط ضروری تھا۔سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات شہ سرخیوں کے لیے نہیں بلکہ امن کے لیے ہیں۔ ایسے مواقع پر خاموش اور سنجیدہ سفارت کاری ہی کامیابی کی بنیاد بنتی ہے۔ماہرین نے پاکستان کے کردار کو ذمہ دارانہ اور بالغ نظر سفارت کاری قرار دیتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے ثابت کیا ہے کہ امن مذاکرات کی کامیابی کے لیے رازداری، تدبر اور بروقت معلوماتی نظم و نسق ناگزیر عناصر ہیں

  • اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کی اہم ملاقات

    اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر کی اہم ملاقات

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار سے ایرانی مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی کی اسلام آباد میں امن مذاکرات کے دوران ملاقات ہوئی ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک کے درمیان مستقل مکالمے کا تسلسل وقت کی اہم ضرورت ہے،نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور ڈاکٹر عبدالناصر ہمتی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام ہی وہ بنیاد ہے جس پر معاشی تعاون اور مشترکہ ترقی کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔

    دونوں رہنماؤں کا کہنا تھا کہ علاقائی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے پرامن ماحول ناگزیر ہے ملاقات میں اسلام آباد میں جاری سفارتی کوششوں اور ‘اسلام آباد ٹاکس’ کی اہمیت کو سراہا گیا، جو خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے سفارتی اثر و رسوخ کی عکاسی کرتی ہیں-

  • اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    اسلام آباد مذاکرات:ایرانی قونصلیٹ اور صحافیوں کی درمیان دلچسپ نوک جھونک

    پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی سے متعلق نہایت اہم اور حساس مذاکرات جاری ہیں، اسی دوران ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے دلچسپ بیان سوشل میڈیا پر سامنے آیا –

    ممبئی میں واقع ایرانی قونصلیٹ جنرل نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی ایک ویڈیو پوسٹ میں ایران کے صحافیوں پر طنز کرتے ہوئے لکھا کہ ایرانی صحافی اسلام آباد میں ایران-امریکا جنگ بندی مذاکرات کے لیے موجود ہیں اور ہمیں ہوٹل کی ویڈیوز ایسے بھیج رہے ہیں جیسے یہ کوئی ٹریول ولاگ ہو،آیا یہ رپورٹنگ ہے یا چھٹیوں کی ویڈیوز؟

    کچھ ہی دیر بعد ایرانی قونصلیٹ جنرل کی جانب سے ایکس پر ایک اور ویڈیو پوسٹ کی گئی جس میں ایرانی صحافی نے رپورٹنگ سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم بھی رپورٹنگ کرتے ہیں، صرف ریلز نہیں بناتے-

    ایرانی قونصلیٹ جنرل ممبئی کے ایکس ہینڈل پر شئیر کی گئی ویڈیو میں اسلام آباد میں قائم جناح کنونشن سینٹر دکھایا گیا تھا جہاں دنیا بھر سے صحافی، تکنیکی عملہ اور دیگر حکام اسلام آباد ٹاک کی کوریج کے لیے موجود ہیں –

    واضح رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے تاریخی مذاکرات جاری ہیں، ان امن مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وفد کے ہمراہ آج صبح اسلام آباد پہنچے جبکہ ایرانی وفد رات کو ہی اسلام آباد پہنچ گیا تھا۔

  • اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا آغاز

    پاکستان کی ثالثی میں امریکا اور ایران ایک دہائی بعد آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں۔

    امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے مستقل خاتمے کے لیے براہِ راست مذاکرات اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں جاری ہیں،جہاں دونوں ممالک آمنے سامنے بیٹھ کر بات چیت کر رہے ہیں ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے بعد ابتدائی طور پر مذاکرات کی نوعیت کے بارے میں ابہام پایا جارہا تھا کہ یہ بات چیت ثالثوں کے ذریعے ہوگی یا فریقین آمنے سامنے بیٹھیں گے۔

    پاکستان کے سرکاری ٹیلی ویژن ’پی ٹی وی‘ کے علاوہ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی (آئی آر این اے) نے بھی امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست مذاکرات کی تصدیق کی ہے اسلام آباد میں ہونے والے ان مذاکرات میں ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں جب کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں۔

    ایرانی نیم سرکاری نیوز ایجنسی تسنیم کے مطابق مذاکرات کا عمل اب ’ایکسپرٹ فیز‘ میں داخل ہو چکا ہے، اور ایرانی وفد کی تکنیکی کمیٹیوں کے متعدد ارکان بھی مذاکرات کے مقام پر موجود ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی موجود تھے یہ مذاکرات تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہے، جس کے بعد دونوں وفود نے وقفہ لیا ہے۔

    اب تک دو بار رسمی بات چیت ہو چکی ہے پہلی بار کے دوران، امریکی اور ایرانی وفود نے الگ الگ ملاقاتیں کیں تاہم، دوسرے مرحلے میں، امریکی اور ایرانی وفود نے ایف ایم کی موجودگی میں براہ راست بات چیت کی،فی الحال، ایک ورکنگ ڈنر جاری ہے عشائیہ کے بعد، تیسرا تیسرا ٹیک مباحثہ شروع ہونے والا ہے، جس میں دوسرے درجے کے وفود بہتر طریقوں پر غور و خوض کریں گے،اب تک، بات چیت کا مجموعی لہجہ اور نتیجہ مثبت رہا ہے،تاہم، آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک تعطل برقرار ہے، کیونکہ ایرانی فریق اپنے موقف پر ثابت قدم ہے، اس نے اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کے مشترکہ کنٹرول کے لیے کسی بھی طرح کا سمجھوتہ کرنے یا اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

    امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں جاری مذاکرات کی کوریج کے لیے کئی ملکوں کے صحافی اور مندوبین جناح کنونشن سینٹر میں موجود ہیں اس اہم ترین معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے وفاقی وزارتِ اطلاعات صحافیوں کو براہِ راست رسائی دینے کے بجائے مذاکرات کی پیش رفت سے وقتاً فوقتاً آگاہ کر رہا ہے۔

    واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان میں مذاکرات جاری ہیں دنیا بھر کی توجہ اس وقت اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات پر مرکوز ہے، کیوں کہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے براہِ راست اثرات دنیا بھر کی مارکیٹوں خصوصاً تیل کی عالمی منڈی پر مرتب ہوئے ہیں۔

    امریکا کی جانب سے پیش کیے گئے نکات میں سب سے اہم نکتہ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز پر جہازوں کی آمد و رفت پر عائد پابندی ختم کروانا ہے، جو صرف امریکا کا ہی نہیں بلکہ یورپ سمیت مختلف ممالک کا سب سے اہم مطالبہ ہے-

    اسلام آباد مذاکرات سے قبل عمان کی ثالثی میں بھی ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوئے تھے۔ پہلا دور اپریل 2025 میں مسقط میں ہوا، جس میں امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف جب کہ ایران کی جانب سے عباس عراقچی شریک ہوئے فروری 2026 کے وسط میں بھی عمان کی ثالثی میں جنیوا میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے جہاں فریقین نے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی اصولوں پر کسی حد تک اتفاق کیا۔ تاہم 28 فروری کو جنیوا مذاکرا ت کی ناکامی کے بعد امریکا اور اسرائیل نے مشترکہ طور پر ایران پر حملہ کردیا پاکستان کی سفارتی کوششوں سے پہلے فریقین جنگ بندی پر آمادہ ہوئے اور اب 11 سال بعد دونوں ملکوں کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا انعقاد ممکن ہوا ہے اور فریقین ایک میز پر بیٹھنے پر آمادہ ہوئے ہیں۔

  • بھارت حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے،احسن اقبال

    بھارت حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے،احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کہا ہے کہ اس وقت عالمی برادری کی تمام تر توجہ کا مرکز پاکستان ہے-

    اپنے ایک بیان میں وفاقی وزیر نے کہاکہ حالیہ جنگی صورتحال نے عالمی معیشت کو شدید بحران سے دوچار کر دیا تھا، تاہم اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو وہ اعزاز بخشا کہ وہ اس جنگ کو ختم کروانے کا ذریعہ بنا آج امن کی خاطر امریکی اور ایرانی وفود کا اسلام آباد میں موجود ہونا پاکستان کی سفارتی کامیابی اور عزت کی دلیل ہے۔

    احسن اقبال نے کہاکہ ملک کو یہ عالمی وقار وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی انتھک کوششوں کی بدولت حاصل ہوا ہے اگر سرحد کے دو سری طرف دیکھا جائے تو وہاں سے اٹھتا ہوا دھواں واضح ہے، اور ہمارے پڑوسی اس کامیابی پر کوئلے کی طرح جل کر راکھ ہو رہے ہیں، بھارت کو چاہیے کہ وہ حسد کی آگ میں جلنے کے بجائے پاکستان کا احسان مانے، کیونکہ پاکستان نے بھارت سمیت پوری دنیا کو ایک بڑی تباہی سے محفوظ رکھا ہے، ان کے بقول، پہلے میدانِ جنگ میں حق کا معرکہ اور اب امن کی کو ششوں نے عالمی سطح پر پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔

  • امید ہے عارضی جنگ بندی مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو جائے گی،بلاول بھٹو

    امید ہے عارضی جنگ بندی مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو جائے گی،بلاول بھٹو

    پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کو خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔

    الجزیرہ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں بلاول بھٹو نے اس سوال پر کہ آیا پاکستان ان مذاکرات سے کوئی واضح اور ٹھوس نتیجہ حاصل کر سکے گا؟ پر کہا کہ اسلام آباد میں جاری امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں اب تک کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ فریقین کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے، ایران اور خطے کے بیشتر حصوں میں بمباری رک گئی ہے اور دونوں بڑی طاقتیں اب مذاکرات کی میز پر موجود ہیں، امید ہے یہ عارضی جنگ بندی آگے چل کر ایک مستقل امن معاہدے میں تبدیل ہو جائے گی۔

    بلاول بھٹو کے مطابق پاکستان سمیت پوری دنیا ان مذاکرات کو احتیاط کے ساتھ امید کی نظر سے دیکھ رہی ہے، گزشتہ 6 ہفتوں میں جنگ نے نہ صرف انسا نی جانوں بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے جس کے اثرات پوری دنیا میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اس سفارتی عمل میں پاکستان کے علاوہ کئی دیگر ممالک نے بھی کردار ادا کیا ہے جن میں چین، سعودی عرب، ترکیہ، مصر،قطر اور دیگر خلیجی ممالک شامل ہیں، گزشتہ چند ہفتوں کے تجربے سے واضح ہو گیا ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، اگر اس تنازعے کا کوئی مستقل اور متوازن حل نہ نکالا گیا تو اس کے اثرات مزید سنگین ہوں گے،ہ اس وقت تمام توجہ موجودہ بحران کے حل پر ہے اور پائیدار امن ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے-

  • پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے تجارت کا آغاز

    پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے تجارت کا آغاز

    پاکستان اور ایران کے درمیان زمینی راستے سے تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کے تحت تجارتی سرگرمیوں کا آغاز کردیا گیا اور اس کوریڈورسے پاکستان سے پہلا برآمدی کنسائمنٹ بھی بھیج دیا گیا ہے ،ڈائریکٹو ر یٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز ثناءاللہ ابڑو نے نجی خبررساں ادارے کو بتایا کہ پہلی برآمدی کھیپ ریفریجریٹڈ ٹرکوں کے ذریعے ازبکستان تاشقند کے لیے منجمد گوشت بھیجا گیا ہے،پاکستان سے ٹرانزٹ کوریڈور کے ذریعے اشیا کے کنسائمنٹس گوادر، ایران کے راستے وسط ایشیائی ریاستوں تک پہنچایا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ اس کوریڈور کے فعال ہونے سے پاکستان کی ناصرف معیشت کی نمو کی رفتار تیز ہوجائے گی بلکہ پاکستانی بندرگاہوں پر رش بھی بڑھ جائے گا، پاک ایران ٹرانزٹ کوریڈور کا عملی آغاز ٹی آئی آر کے تحت کیا گیا ہے اس ضمن میں ڈائریکٹوریٹ ٹرانزٹ ٹریڈ کسٹمز نے ٹی آئی آر کے طریقہ کار کو موثر بنا تے ہوئے ٹی آئی آر ٹرانزٹ کے لیے تافتان، رمدان، سوست، گوادر ودیگر اہم بارڈر کراسنگ پوائنٹس کو فعال کیا ہے۔