Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • فیلڈ مارشل  کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا،وفاقی وزیر ریلویز

    فیلڈ مارشل کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا،وفاقی وزیر ریلویز

    وفاقی وزیر ریلویز محمد حنیف عباسی نے کہا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کی مدبرانہ قیادت میں پاکستان نے عالمی سطح پر بڑی سفارتی کامیابی حاصل کی ہے۔

    محمد حنیف عباسی نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی میں پاکستان کا کلیدی کردار قابلِ فخر ہے، جس سے خطے میں امن کے قیام کی نئی راہیں کھلی ہیں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹریٹجک رہنمائی نے خطے میں امن کے قیام کو ممکن بنایا، جبکہ ان کی بصیرت افروز قیادت پاکستان کی دفاعی اور سفارتی ہم آہنگی کی بہترین مثال ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی فعال اور متحرک سفارتی کوششوں نے جنگ بندی کے عمل کو کامیا ب بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

    انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر خطے کو ممکنہ تباہی سے بچا کر امن کا پرچم بلند کیا ہے، اور یہ کامیابی اعلیٰ قیادت کی بصیرت اور مؤثر سفارتکاری کا منہ بولتا ثبوت ہے اسلام آباد میں ہونے والی کامیاب سفارتی کاوشیں خطے میں پائیدار امن کی جانب ایک اہم سنگِ میل ہیں، جبکہ پاکستان کا کردار ہمیشہ امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے نمایاں رہا ہے، یہ تاریخی کا میابی پاکستان کے روشن اور مضبوط عالمی تشخص کی عکاس ہے ، اور دنیا پاکستان کی تعمیری اور مثبت سفارتکاری کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو چکی ہے۔

  • پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ

    پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تازہ علاقائی صورتحال اور امن کے قیام کے حوالے سے اہم سفارتی رابطہ ہوا ہے، جس میں مذاکرات اور سفارتکاری کو آگے بڑھانے پر زور دیا گیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے یورپی یونین کی اعلیٰ نمائندہ برائے خارجہ امور کایا کالاس سے ٹیلیفونک گفتگو کی،اسحاق ڈار نے خطے میں پائیدار امن کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی کاوشوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مذاکرات اور ڈائیلاگ کے ذریعے مسائل کے حل پر یقین رکھتا ہے۔

    یورپی یونین کی نمائندہ نے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے کشیدگی کم کرنے اور ابتدائی جنگ بندی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا انہوں نے اس سلسلے میں پاکستان کو یورپی یونین کی مکمل حمایت کا یقین بھی دلایا،جبکہ دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن و استحکام کے لیے رابطوں کو جاری رکھنے اور سفارتی اقدامات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔

  • مشرق وسطیٰ جنگ : کتنا جانی ومعاشی نقصان ہوا؟

    مشرق وسطیٰ جنگ : کتنا جانی ومعاشی نقصان ہوا؟

    امریکا اور اسرائیل کے ایران پر 28 فروری کے حملے کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں خطے کو اربوں ڈالر کا معاشی نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

    برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق بدھ تک سامنے آنے والے اعداد و شمار کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں، تاہم مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس اس جنگ کی شدت اور پھیلاؤ کو واضح کر رہی ہیں۔

    ایران میں انسانی حقوق کی تنظیم ’ہرانا‘ کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک 3 ہزار 636 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ انٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز نے کم از کم 1 ہزار 900 اموات کی تصدیق کی ہے لبنان میں 2 مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں 1 ہزار 530 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں 129 بچے بھی شامل ہیں، جبکہ جنوبی لبنان میں اقوام متحدہ کے تین امن اہلکار بھی مختلف واقعات میں مارے گئے۔

    عراق میں کم از کم 117 افراد ہلاک ہوئے، جبکہ اسرائیل میں ایران اور لبنان سے داغے گئے میزائل حملوں میں 23 افراد مارے گئے اسرائیلی فوج کے مطابق جنوبی لبنان میں اس کے 11 اہلکار بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

    امریکا کی سینٹرل کمانڈ کے مطابق 13 امریکی فوجی ہلاک اور 300 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں، جب کہ متحدہ عرب امارات میں 13 افراد جان سے گئے۔ قطر میں ہیلی کاپٹر حادثے میں 7 افراد، اور کویت میں بھی 7 اموات رپورٹ کی گئی ہیں دیگر علاقوں میں مغربی کنارے میں 4 فلسطینی خواتین، شام کے شہر سویدا میں 4 افراد، جبکہ بحرین، عمان اور سعودی عرب میں بھی مختلف حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے فرانس کا ایک فوجی بھی شمالی عراق میں ڈرون حملے میں مارا گیا۔

    انسانی جانوں کے ضیاع کے ساتھ ساتھ اس جنگ نے خطے کی معیشت کو بھی شدید دھچکا پہنچایا ہے سنٹر فار اسٹریٹیجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز کے مطابق امریکی آپریشن کے ابتدائی 100 گھنٹوں پر ہی تقریباً 3.7 ارب ڈالر خرچ ہوئے، جو اوسطاً 891 ملین ڈالر یومیہ بنتے ہیں۔

    ایرانی حملوں کے نتیجے میں مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو تقریباً 800 ملین ڈالر کا نقصان پہنچا، جبکہ مجموعی طور پر ایران کے خلاف جاری امریکی فوجی مہم کے اخراجات 25 سے 30 ارب ڈالر تک جا پہنچے ہیں۔

    توانائی کے شعبے میں بھی بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق خطے کے 9 ممالک میں کم از کم 40 توانائی کے اثاثے شدید متاثر ہوئے، جبکہ ایرانی جوابی حملوں سے خلیجی ممالک کی آئل ریفائننگ صلاحیت کو 30 سے 40 فیصد تک نقصان پہنچا، جس سے عالمی منڈی میں روزانہ 11 ملین بیرل تیل کی کمی واقع ہوئی ماہرین کے مطابق تباہ شدہ توانائی کے ڈھانچے کی بحالی پر کم از کم 25 ارب ڈالر لاگت آئے گی، جبکہ برینٹ کروڈ آئل کی قیمت بھی بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

    سیاحت کا شعبہ بھی شدید متاثر ہوا ہے ورلڈ ٹریول اینڈ ٹورازم کونسل کے مطابق جنگ کے پہلے 20 دنوں میں ہی سیاحت کی آمدنی میں 12 ارب ڈالر سے زائد کا نقصان ہو چکا ہے، جبکہ روزانہ کی بنیاد پر تقریباً 600 ملین ڈالر کے اخراجات متاثر ہو رہے ہیں۔

    تنازع کے ابتدائی 24 گھنٹوں میں 3 ہزار 400 سے زائد پروازیں منسوخ ہوئیں، جبکہ صرف دبئی میں پہلے ہفتے کے دوران 80 ہزار سے زائد ہوٹل بکنگز منسوخ کی گئیں، جس سے ہوٹل انڈسٹری کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ جنگ طول پکڑتی ہے تو سیاحت میں 27 فیصد کمی آ سکتی ہے، جس سے 38 ملین سیاح کم آئیں گے اور تقریباً 56 ارب ڈالر تک کا مزید نقصان ہو سکتا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق 2026 میں مشرق وسطیٰ کو سیاحت سے 200 ارب ڈالر سے زائد آمدنی کی توقع تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں یہ ہدف خطرے میں پڑ گیا ہے ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو نہ صرف جانی نقصان میں اضافہ ہوگا بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی قیمتوں اور خطے کے استحکام پر بھی گہرے اثرات مرتب ہوں گے۔

  • وزیراعظم  اور فیلڈ مارشل نے لاکھوں معصوم جانوں کو محفوظ بنایا،مریم اورنگزیب

    وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے لاکھوں معصوم جانوں کو محفوظ بنایا،مریم اورنگزیب

    لاہور: پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب نے کہا ہےکہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی پُرعزم اور دور اندیش قیادت نے ایک تباہ کن جنگ کو ٹال دیا۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم شہبازشریف اور فیلڈمارشل عاصم منیر کو اللہ تعالیٰ نےعظیم عزت سے نوازا، ان کی پُرعزم اور دوراندیش قیادت نے ایک تباہ کن جنگ کو ٹال دیا انہوں نے لاکھوں معصوم جانوں کو محفوظ بنایا اور دنیا کو تباہی کے دہانے سے واپس لائے، یہ اعلیٰ ترین قیادت کی بہترین مثال ہے، یہ پاکستان کے لیے ایک قابلِ فخر اور تاریخی لمحہ ہے اتحاد، وقار اورعزت کا ایسا لمحہ جس پرملک وبیرونِ ملک ہر پاکستانی کو ناز ہے، ٹرمپ اور ایرانی قیادت کو سراہتے ہیں کہ انہوں نے مذاکرات کے راستے کا انتخاب کیا۔

  • پاکستان کی کامیاب سفارتکاری ،تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور مارکیٹوں میں تیزی

    پاکستان کی کامیاب سفارتکاری ،تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی اور مارکیٹوں میں تیزی

    پاکستان کی مؤثر اور فعال سفارتکاری کے نتیجے میں عالمی سطح پر مثبت اثرات سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور عالمی معیشت میں استحکام کے آثار نمایاں ہو رہے ہیں۔

    سفارتی کوششوں کے نتیجے میں امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے اعلانات کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً 19 فیصد تک کمی دیکھی گئی، جبکہ برینٹ خام تیل کی قیمت کم ہو کر 90 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔ماہرین کے مطابق کشیدگی میں کمی کے باعث عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی تیزی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ مختلف عالمی ایکسچینجز میں شیئرز کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جسے کاروباری برادری نے خوش آئند قرار دیا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں ایران نے عارضی جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق ایران نے پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز قبول کر لی ہے، جس کی منظوری ایران کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے دی گئی۔

  • ملک میں تیل کے ذخائر 12 دن کیلئے کافی: ڈیزل 25 دن کے لیے کافی

    ملک میں تیل کے ذخائر 12 دن کیلئے کافی: ڈیزل 25 دن کے لیے کافی

    ‎وزارتِ خزانہ نے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی بریفنگ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اس وقت پاکستان میں خام تیل کے ذخائر تقریباً 12 دن کے لیے جبکہ ڈیزل کے ذخائر 25 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہیں۔
    ‎یہ جائزہ وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں لیا گیا جس میں پٹرولیم ڈویژن، اوگرا اور دیگر متعلقہ اداروں کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک میں ایندھن کی فراہمی، قیمتوں اور سپلائی چین کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا گیا۔
    ‎اعلامیے کے مطابق حکام نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ ملک میں پٹرول کے بھی وافر ذخائر موجود ہیں اور موجودہ طلب کو باآسانی پورا کیا جا رہا ہے۔ مزید یہ کہ آئندہ ہفتوں کے لیے تیل کی درآمد کے انتظامات بھی پہلے سے طے شدہ معاہدوں کے تحت جاری ہیں، جس سے سپلائی میں کسی رکاوٹ کا خدشہ نہیں۔
    ‎اجلاس میں ایک اہم انکشاف یہ بھی سامنے آیا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پٹرول کی قیمت میں 48.61 فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 101.18 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے، جس کے اثرات معیشت کے مختلف شعبوں پر واضح طور پر دیکھے جا رہے ہیں۔
    ‎کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ زراعت، ٹرانسپورٹ اور صنعتی شعبوں کے لیے ایندھن کی مسلسل اور بلا تعطل فراہمی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے تاکہ ملکی معیشت کا پہیہ متاثر نہ ہو۔
    ‎وزیرِ خزانہ نے اوگرا کو ہدایت کی کہ سپلائی چین میں شفافیت لانے کے لیے ڈیٹا رپورٹنگ اور ڈیجیٹل نظام کو مزید بہتر اور تیز کیا جائے۔ اس کے ساتھ ہی اسلام آباد میں پی ایس او کے پٹرول پمپس کی نگرانی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دینے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
    ‎یہ ٹیمیں ایف آئی اے، اوگرا، پٹرولیم ڈویژن اور پی ایس او کے نمائندوں پر مشتمل ہوں گی جو اسٹاک کی درست معلومات اور بروقت ڈیٹا انٹری کو یقینی بنائیں گی۔
    ‎وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ملک میں ایندھن کی بلا تعطل فراہمی اور صارفین کے حقوق کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

  • ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی

    ‎ملک بھر میں سونے کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس سے خریداروں کے لیے کچھ ریلیف پیدا ہوا ہے۔ آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونے کی قیمت میں 3 ہزار روپے کی کمی ہوئی ہے، جس کے بعد نئی قیمت 4 لاکھ 88 ہزار 462 روپے ہو گئی ہے۔
    ‎اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونا 2 ہزار 572 روپے سستا ہو کر 4 لاکھ 18 ہزار 777 روپے پر آ گیا ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق سونے کی قیمتوں میں یہ کمی عالمی مارکیٹ میں آنے والی تبدیلیوں کے باعث ہوئی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر بھی سونے کی قیمت میں کمی دیکھی گئی ہے، جہاں فی اونس سونے کی قیمت 30 ڈالر کم ہو کر 4657 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
    ‎تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ڈالر کی قدر میں اتار چڑھاؤ، شرح سود میں تبدیلیاں اور معاشی حالات سونے کی قیمتوں پر براہ راست اثر انداز ہوتے ہیں۔ جب عالمی مارکیٹ میں قیمتیں کم ہوتی ہیں تو اس کے اثرات مقامی مارکیٹ میں بھی فوری طور پر دیکھنے کو ملتے ہیں۔
    ‎جیولرز کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کمی کے بعد مارکیٹ میں خریداری کا رجحان بڑھنے کا امکان ہے، خاص طور پر وہ افراد جو پہلے مہنگائی کے باعث سونا خریدنے سے گریز کر رہے تھے، اب دوبارہ مارکیٹ کا رخ کر سکتے ہیں۔
    ‎تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سونے کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے، اس لیے سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔

  • وزیراعظم کی سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کی یقین دہانی

    وزیراعظم کی سعودی عرب سے مکمل یکجہتی کی یقین دہانی

    ‎وزیراعظم شہباز شریف نے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام ہر مشکل گھڑی میں اپنے سعودی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ یہ بات دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والے ٹیلیفونک رابطے کے دوران سامنے آئی، جس میں خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
    ‎اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے حالیہ حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی غیر متزلزل یکجہتی کا اظہار کیا اور واضح کیا کہ پاکستان ہر سطح پر سعودی عرب کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے الجبیل میں آئل فسیلٹی پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا۔
    ‎شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ ویسے ہی کھڑا رہے گا جیسے سعودی قیادت نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے سعودی قیادت کے حالیہ کشیدگی کے دوران تحمل اور دانشمندی پر مبنی رویے کو بھی سراہا اور اسے امن کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔
    ‎وزیراعظم نے اس موقع پر یہ بھی بتایا کہ پاکستان دیگر ممالک کے ساتھ مل کر خطے میں کشیدگی کم کرنے اور امن کے قیام کے لیے فعال سفارتی کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے سعودی ولی عہد کو پاکستان کی جاری سفارتی کوششوں سے بھی آگاہ کیا جن کا مقصد تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہے۔
    ‎دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔
    ‎ماہرین کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان یہ قریبی رابطہ موجودہ صورتحال میں نہایت اہم ہے، جو نہ صرف باہمی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے بلکہ خطے میں امن کی کوششوں کو بھی تقویت دیتا ہے۔

  • ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

    ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کے سعودی عرب پر حملوں کی مذمت

    ‎پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 274 ویں کور کمانڈرز کانفرنس میں ایران کی جانب سے سعودی عرب پر حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ کانفرنس کی صدارت فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی، جس میں ملکی سلامتی اور خطے کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
    ‎آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ فورم نے شہدا کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی خدمات کو ناقابل فراموش قرار دیا۔
    ‎کانفرنس میں سعودی عرب کے پیٹروکیمیکل اور صنعتی تنصیبات پر ہونے والے حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ فورم کا کہنا تھا کہ اس طرح کے حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ تنازعات کے پرامن حل کے لیے جاری مخلصانہ سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔
    ‎کور کمانڈرز نے اس بات پر زور دیا کہ سعودی عرب نے حالیہ اشتعال انگیزیوں کے باوجود تحمل اور ذمہ دارانہ رویہ اپنایا ہے، جو کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے ایک مثبت پیش رفت ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب کا یہ طرز عمل ثالثی اور سفارتی حل کے لیے سازگار ماحول پیدا کر رہا ہے۔
    ‎فورم نے واضح کیا کہ اس نوعیت کے حملے غیر ضروری کشیدگی کو جنم دیتے ہیں اور جاری امن عمل کو متاثر کرتے ہیں۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ بلاجواز جارحیت نہ صرف علاقائی استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    راولپنڈی میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی زیر صدارت 274ویں کور کمانڈرز کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ملکی سیکیورٹی، علاقائی صورتحال اور انسداد دہشتگردی کے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اجلاس کے آغاز میں مسلح افواج، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مادر وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی اور ان کی لازوال قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔
    ‎فورم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شہداء کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی کی بنیاد ہیں اور ان کے مشن کو ہر صورت جاری رکھا جائے گا۔ آرمی چیف نے مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور انٹیلی جنس بنیادوں پر جاری انسداد دہشتگردی کارروائیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
    ‎کانفرنس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ حکومت، افواج پاکستان اور عوام کے درمیان ہم آہنگی سے نہ صرف سیکیورٹی کامیابیاں حاصل ہو رہی ہیں بلکہ معاشی استحکام بھی مضبوط ہو رہا ہے۔ فورم نے واضح کیا کہ بھارت اور دیگر بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے دہشتگرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کا بلا امتیاز خاتمہ کیا جائے گا۔
    ‎شرکاء نے آپریشن “غضب لِلحق” کی رفتار برقرار رکھنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا اور افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا یقینی بنایا جائے گا۔
    ‎کور کمانڈرز کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر بھی غور کیا گیا اور سعودی عرب کی صنعتی تنصیبات پر حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔ فورم نے کہا کہ ایسے حملے خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں اور امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں، جبکہ سعودی عرب کے صبر و تحمل کو سراہا گیا۔
    ‎فورم نے بھارت کی جانب سے پھیلائے جانے والے جھوٹے بیانیے اور پروپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات عالمی سطح پر بے نقاب ہو چکے ہیں۔ ساتھ ہی مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔

  • پاکستان کی سعودی عرب پر میزائل و ڈرون حملوں کی شدید مذمت

    پاکستان کی سعودی عرب پر میزائل و ڈرون حملوں کی شدید مذمت

    ‎پاکستان نے سعودی عرب پر ہونے والے میزائل اور ڈرون حملوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان واقعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانا نہایت خطرناک اور قابل مذمت اقدام ہے۔
    ‎بیان کے مطابق ایسے حملے نہ صرف اہم انفرااسٹرکچر کو نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ بن سکتے ہیں۔ ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی اور جارحیت کے خلاف ہے اور ایسے اقدامات کی بھرپور مذمت کرتا ہے۔
    ‎دفتر خارجہ نے اس مشکل وقت میں سعودی حکومت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنے برادر ملک کے ساتھ کھڑا ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ یہ حملے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جنہیں کسی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎پاکستان نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس قسم کے حملوں کا نوٹس لے اور خطے میں امن برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ترجمان کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے۔
    ‎بیان میں پاکستان کی جانب سے سعودی عرب کی سلامتی اور دفاع کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور آئندہ بھی ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
    ‎ماہرین کے مطابق اس قسم کے حملے خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ تمام فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کریں۔