Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • 
پیٹرول 137 روپے مہنگا، قیمت 458 روپے فی لیٹر ہوگئی

    
پیٹرول 137 روپے مہنگا، قیمت 458 روپے فی لیٹر ہوگئی

    
حکومت نے رات گئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
    وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر خزانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
    ‎اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے اور اس کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎وزیرِ پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث حکومت کو یہ مشکل مگر ضروری فیصلہ کرنا پڑا۔
    ‎علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے اس فیصلے سے قبل مختلف آپشنز پر غور کیا اور اتحادی جماعتوں، وزرائے اعلیٰ اور دیگر متعلقہ حکام سے مشاورت کی گئی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ حکومت حالات کے پیش نظر ذمہ دارانہ فیصلے کر رہی ہے تاکہ معیشت کو سنبھالا جا سکے، تاہم اس کے اثرات سے عوام کو بھی گزرنا پڑے گا۔
    ‎اس بڑے اضافے کے بعد ملک بھر میں مہنگائی میں مزید اضافے اور عوامی ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

  • 
پاکستان کے ثالثی کردار پر تنقید، جواب سامنے آ گیا

    
پاکستان کے ثالثی کردار پر تنقید، جواب سامنے آ گیا

    
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں پاکستان کے ثالثی کردار پر بعض عرب مبصرین کی جانب سے تنقید سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے مؤقف بھی سامنے آ گیا ہے۔
    ‎تفصیلات کے مطابق کچھ عرب صحافیوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جو ملک کسی فریق کا اتحادی ہو وہ ثالث کا کردار ادا نہیں کر سکتا، اور پاکستان کو غیر جانبدار رہنے کے بجائے ایک فریق کا ساتھ دینا چاہیے۔
    ‎جوابی مؤقف میں کہا گیا ہے کہ یہ سوچ ایک پیچیدہ صورتحال کو سادہ انداز میں پیش کرنے کے مترادف ہے، جہاں معاملات کو ’ہمارے ساتھ یا ہمارے خلاف‘ جیسے بیانیے تک محدود کیا جا رہا ہے۔
    ‎ذرائع کے مطابق کچھ عرب ممالک جنگ کے فوری خاتمے کے حق میں نہیں بلکہ ممکنہ طور پر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ مل کر اس میں شامل ہونے پر غور کر رہے ہیں، جبکہ پاکستان کا مؤقف اس کے برعکس ہے۔
    ‎پاکستان کا کہنا ہے کہ جنگ کا حل مزید لڑائی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی راستے میں ہے، کیونکہ کسی بھی جنگ کا اختتام اور اس کے بعد کا منظرنامہ سب سے اہم ہوتا ہے۔
    ‎مؤقف میں کہا گیا ہے کہ اگر خطے کے ممالک جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے نفرت اور دشمنی میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ آخرکار خطے کے تمام ممالک کو ایک ساتھ رہنا ہی ہے۔
    ‎پاکستان نے اس بات پر زور دیا ہے کہ اس کے پاس جنگی اور سفارتی تجربہ موجود ہے اور وہ ایک ایسا حل چاہتا ہے جو دیرپا امن اور استحکام کو یقینی بنائے۔
    ‎بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ کسی بھی شکست خوردہ فریق کو ذلیل کرنا تاریخ میں ہمیشہ منفی نتائج کا باعث بنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ایک ایسا حل تلاش کیا جائے جو تمام فریقین کے لیے قابل قبول ہو۔

  • 
نجی طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ اور سستا انٹرنیٹ دینے کی تجویز

    
نجی طلبہ کیلئے لیپ ٹاپ اور سستا انٹرنیٹ دینے کی تجویز

    
پنجاب میں نجی اسکولوں کے طلبہ کو بھی سرکاری اسکولوں کی طرز پر لیپ ٹاپ اسکیم اور سستا انٹرنیٹ فراہم کرنے کی تجویز سامنے آ گئی ہے۔
    یہ تجویز وزیرِ قانون پنجاب رانا محمد اقبال سے پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن کے ایک اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات کے دوران پیش کی گئی۔ ملاقات میں نجی تعلیمی اداروں کو درپیش مالی و انتظامی مسائل اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لیے مختلف امور پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
    ‎وفد کی قیادت ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر کاشف ادیب کر رہے تھے، جنہوں نے حکومت کے سامنے متعدد مطالبات رکھے۔ وفد نے مؤقف اختیار کیا کہ کم فیس لینے والے نجی اسکولوں کے لیے کمرشلائزیشن فیس ختم کی جائے اور بجلی کے کمرشل ٹیرف کی جگہ تعلیمی ٹیرف نافذ کیا جائے تاکہ اخراجات کم ہو سکیں۔
    ‎ملاقات میں تعلیمی معیار کی بہتری کے لیے سالانہ 220 تدریسی دن مقرر کرنے کی سفارش بھی کی گئی، جبکہ نجی اسکولوں کے اساتذہ کے لیے خصوصی سہولتیں اور آسان قرضہ اسکیمیں متعارف کرانے کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔
    ‎وفد نے اس بات پر زور دیا کہ نجی اسکولوں کے طلبہ کو بھی سرکاری اسکولوں کی طرح جدید سہولیات فراہم کی جائیں، جن میں لیپ ٹاپ اسکیم اور سستے انٹرنیٹ کی فراہمی شامل ہے، تاکہ طلبہ کو یکساں تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
    ‎وزیرِ قانون پنجاب رانا محمد اقبال نے وفد کے مطالبات غور سے سنے اور یقین دہانی کرائی کہ حکومت ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت تعلیم کے فروغ کے لیے اقدامات کر رہی ہے اور نجی شعبے کے مسائل کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
    ‎انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی کہ تمام تجاویز کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے تاکہ ضروری قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جا سکیں۔

  • 
مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    
مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    
پاکستان میں مارچ 2026 کے دوران مہنگائی انیس ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کے باعث شہریوں کو شدید مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
    وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مارچ میں مہنگائی کی سالانہ شرح 7.30 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو اگست 2024 کے بعد سب سے زیادہ ہے۔ فروری کے مقابلے میں صرف ایک ماہ کے دوران مہنگائی میں 1.18 فیصد اضافہ ہوا۔
    ‎رپورٹ کے مطابق مہنگائی کا اثر شہری علاقوں میں زیادہ رہا، جہاں قیمتوں میں 1.34 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ دیہی علاقوں میں یہ اضافہ 0.96 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔
    ‎اعداد و شمار کے مطابق اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا، شہروں میں چکن 13 فیصد، پھل 11.25 فیصد اور سبزیاں 5 فیصد مہنگی ہوئیں، جبکہ دال ماش، گوشت اور خشک میوہ جات کی قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔
    ‎دوسری جانب کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ریکارڈ کی گئی، جن میں ٹماٹر 29 فیصد، انڈے 18 فیصد، آلو 12 فیصد اور گندم 5.48 فیصد سستی ہوئی۔
    ‎رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے باعث ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں بھی اضافہ ہوا، شہری علاقوں میں ٹرانسپورٹ 9.15 فیصد مہنگی ہوئی جبکہ موٹر فیول کی قیمتوں میں 18.01 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
    ‎اسی طرح بجلی کی قیمتوں میں 5.08 فیصد اضافہ ہوا جبکہ ہاؤسنگ، گیس اور پانی کے اخراجات سالانہ بنیادوں پر 11.50 فیصد تک بڑھ گئے۔
    ‎تعلیم، صحت اور دیگر شعبے بھی مہنگائی سے متاثر ہوئے، جہاں تعلیمی اخراجات میں 9 فیصد سے زائد اور صحت کے اخراجات میں 7.36 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ہوٹل اور ریسٹورنٹس کے چارجز میں بھی اضافہ دیکھا گیا۔

  • 
پاکستانی سرکاری ادارے سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار

    
پاکستانی سرکاری ادارے سائبر حملوں کے خطرے سے دوچار

    
پاکستان کے سرکاری اداروں کو ممکنہ سائبر حملوں کے خطرے کے پیش نظر قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے اہم سیکیورٹی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔
    ایڈوائزری کے مطابق سائیڈ ونڈر گروپ کی جانب سے پاکستان کے مختلف سرکاری اداروں کو نشانہ بنانے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جہاں فشنگ مہم کے ذریعے حساس معلومات حاصل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق ہیکرز جعلی ویب سائٹس اور لنکس کے ذریعے سرکاری ملازمین کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ وزارتِ دفاع، وزارتِ خزانہ، نیپرا اور نیشنل سرٹ کے نام سے جعلی ویب سائٹس اور لنکس گردش میں ہونے کا انکشاف بھی ہوا ہے۔
    ‎ایڈوائزری میں بتایا گیا ہے کہ ای میل کے ذریعے خطرناک فائلیں بھیجی جا رہی ہیں، جبکہ جعلی ای میلز میں اکاؤنٹس بند ہونے کے جھوٹے پیغامات بھی پھیلائے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کو لنکس پر کلک کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔
    ‎قومی سائبر ایمرجنسی رسپانس ٹیم نے خبردار کیا ہے کہ ان سائبر حملوں سے ملک کے اہم انفراسٹرکچر کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے، اس لیے فوری حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔
    ‎اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ مشکوک ڈومینز کو فوری بلاک کیا جائے، فائر والز اور ای میل سرورز کی سیکیورٹی سخت کی جائے اور حساس نظاموں پر ملٹی فیکٹر آتھنٹیکیشن کو لازمی قرار دیا جائے۔
    ‎مزید کہا گیا ہے کہ ای ڈی آر ٹولز کے استعمال سے سائبر خطرات کی بروقت نشاندہی ممکن بنائی جا سکتی ہے جبکہ متاثرہ صارفین کو فوری طور پر اپنے پاس ورڈز تبدیل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
    ‎نیشنل سرٹ نے عوام اور سرکاری ملازمین کو خبردار کیا ہے کہ وہ فشنگ حملوں سے ہوشیار رہیں اور کسی بھی مشکوک لنک یا ای میل پر کلک کرنے سے گریز کریں۔

  • 
پاکستان کی جنگ بندی کی کوششیں جاری، وزیراعظم

    
پاکستان کی جنگ بندی کی کوششیں جاری، وزیراعظم

    
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے اور جنگ بندی کے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں۔
    موجودہ علاقائی صورتحال پر ہونے والے ایک اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ ایران جنگ کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ رہے ہیں اور ملک کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔
    ‎وزیراعظم نے بتایا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کر رہے ہیں اور پاکستان نے ہر سطح پر امن کے قیام کے لیے کردار ادا کیا ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پاکستان نے جنگ کے شعلے ٹھنڈے کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے ہیں اور اس وقت تک جنگ بندی کی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔
    ‎شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز میں موجود پاکستان کے دو جہازوں کو بھی کامیابی سے نکالا گیا ہے، جو اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل کی کوششوں کا نتیجہ ہے۔
    ‎وزیراعظم نے مزید کہا کہ جنگی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے صوبوں نے بھی تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اور تمام وزرائے اعلیٰ اس حوالے سے وفاق کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے بتایا کہ تین ہفتوں کے دوران وفاقی حکومت نے پی ایس ڈی پی میں 100 ارب روپے کی کٹوتی کی ہے جبکہ پارلیمنٹرینز نے بھی تیل کی بچت کو یقینی بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔

  • ‎پیٹرولیم قیمتوں میں 100 روپے سے زائد اضافے کا امکان

    ‎پیٹرولیم قیمتوں میں 100 روپے سے زائد اضافے کا امکان

    
حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی منڈی کے مطابق ایڈجسٹ کی جائیں گی، جس کے بعد آئندہ ہفتے سے فی لیٹر 100 روپے سے زائد اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ذرائع کے مطابق حکومت نے گزشتہ ہفتے قیمتوں میں اضافہ روکنے کے لیے آئل کمپنیوں کو ترقیاتی بجٹ سے سبسڈی فراہم کی تھی، حالانکہ اس سے قبل پیٹرول کی قیمت میں 95 روپے فی لیٹر اور ڈیزل کی قیمت میں 203 روپے فی لیٹر اضافے کی تجاویز زیر غور تھیں۔
    ‎رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نے ان تجاویز کو منظور نہیں کیا تھا جس کے بعد وقتی طور پر قیمتیں برقرار رکھی گئیں، تاہم اب عالمی مالیاتی ادارے کے ساتھ معاہدوں کے تحت قیمتوں میں ردوبدل ناگزیر ہو گیا ہے۔
    ‎حکومتی حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ قیمتوں کا تعین صوبوں سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا تاکہ اس کے اثرات کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔
    ‎یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر ترقیاتی پروگرام کے فنڈز دوبارہ استعمال کیے گئے تو ممکنہ اضافے کو جزوی طور پر کم کیا جا سکتا ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ ابھی باقی ہے۔
    ‎دوسری جانب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں اس وقت 106 سے 108 ڈالر فی بیرل کے درمیان ہیں، جس کے باعث مقامی سطح پر قیمتوں میں اضافے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔
    ‎حکام کے مطابق آئندہ دنوں میں پیٹرولیم قیمتوں میں ردوبدل سے متعلق حتمی اعلان متوقع ہے۔

  • بینظیر انکم سپورٹ پروگرام  کی رقم میں 5000 روپے کا اضافے کا فیصلہ

    بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی رقم میں 5000 روپے کا اضافے کا فیصلہ

    حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کی رقم جنوری 2027 سے 14,500 روپے سے بڑھا کر 19,500 روپے کر دی جائے گی۔

    ذرائع کے مطابق وزارت خزانہ نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے اختتام تک مزید 2 لاکھ خاندان پروگرام میں شامل ہوں گے، جس سے مجموعی طور پر مستفید گھرانوں کی تعداد 1 کروڑ 2 لاکھ تک پہنچ جائے گی آئی ایم ایف کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا، جس پر حکومت نے اپنی مالی پوزیشن کے مطابق صوبوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنے بجٹ سے پسماندہ طبقے کے لیے ٹارگٹڈ سبسڈی فراہم کریں۔

    ذرائع نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں عالمی مارکیٹ کے مطابق ہوں گی، جبکہ گزشتہ ماہ تقریباً ساڑھے 3 ارب روپے اضافی لیوی اکٹھی کی گئی ملک بھر میں پٹرول کی کھپت تقریباً 24 فیصد بڑھ گئی کسانوں کو تحفظ دینے کے لیے فیصلہ کیا گیا کہ آئندہ مالی سال کھاد پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) نہیں لگائی جائے گی۔

    بی آئی ایس پی کے حوالے سے ذرائع نے بتایا کہ جنوری 2027 سے پروگرام کے تحت ہر خاندان کو 19,500 روپے دیے جائیں گے، جبکہ مالی سال 2026 کے اختتام تک مزید 2 لاکھ خاندان شامل کیے جائیں گے حکومت نے آئی ایم ایف کو تحریری طور پر یقین دہانی بھی کرائی ہے کہ پروگرام کے تحت مستفید ہونے والے گھرانوں کی تعداد بڑھتی رہے گی یہ اقدام پسماندہ طبقے کی مالی مدد اور سماجی تحفظ کے نظام کو مضبوط بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

  • اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی مذمت

    اسرائیل کا فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کی مذمت

    پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں سزائے موت سے متعلق قانون سازی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں پاکستان، ترکیہ، مصر، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی اقدام کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون فلسطینیوں کے خلاف امتیازی اور خطرناک اقدام ہے،وزرائے خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی اقدامات تیزی سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کا باعث بن رہے ہیں اور یہ پالیسی خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

    مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی قیدیوں کے حالات پر شدید تشویش ہے اور قابل اعتماد رپورٹس کے مطابق ان کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد، غیر انسانی سلوک، بھوک اور بنیادی حقوق سے محرومی جیسے سنگین سلوک کے شواہد موجود ہیں، یہ اقدامات فلسطینی عوام کے خلاف وسیع تر خلاف ورزیوں کی عکاسی کرتے ہیں اور ان سے خطے میں صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کی امتیازی، جابرانہ اور جارحانہ پالیسیوں کی مخالفت جاری رکھی جائے گی اور عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین میں صورتحال کے بگاڑ کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے، خطے میں کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کیا جائے اور احتساب کے نظام کو مضبوط بنایا جائے تاکہ امن و استحکام کو یقینی بنایا جا سکے۔

  • اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیشرفت ثابت ہوا،ترجمان دفتر خارجہ

    اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیشرفت ثابت ہوا،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسن اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیشرفت ثابت ہوا، خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے فوری اور مستقل حل تلاش کرنا ضروری ہے، جبکہ پاکستان نے سفارتکاری اور مذاکرات کو ہی مسائل کا واحد مؤثر راستہ قرار دیا ہے۔

    بریفنگ کے دوران ترجمان نے بتایا کہ حالیہ 4 ملکی مشاورت میں مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، جس میں خطے میں جنگ کے جلد اور مستقل خاتمے کے امکانات پر غور کیا گیا انہوں نے کہا کہ اس تنازعے کے باعث نہ صرف خطے بلکہ دنیا بھر میں انسانی جانوں اور معاشی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے، جس پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق ان مشکل حالات میں مسلم اُمہ کا اتحاد انتہائی اہم ہے پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے آنے والے وفود کو ممکنہ امریکا اور ایران مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا، جن کے انعقاد کے لیے اسلام آباد کو ممکنہ مقام کے طور پر زیر غور لایا جا رہا ہے اس اقدام کو شریک ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

    وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ کشیدگی کو کم کرنے، فوجی تصادم کے خطرے کو روکنے اور مذاکرات کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جائیں اس موقع پر بات چیت اور سفارتکاری کو ہی تنازعات کے حل کا واحد راستہ قرار دیا گیا، تمام ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے اصولوں کے احترام کی ضرورت پر بھی زور دیا اس کے علاوہ چاروں برادر ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر بھی غور کیا گیا۔

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کا حالیہ دورۂ چین انتہائی اہم پیشرفت ثابت ہوا، جس میں علاقائی امن اور دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بات چیت کے ساتھ پانچ نکاتی امن منصوبہ بھی پیش کیا گیا، یہ دورہ چین کے وزیر خارجہ وانگ یی کی دعوت پر کیا گیا، جس میں دونوں ممالک کے درمیان علاقائی، عالمی اور باہمی دلچسپی کے امور پر گہرے مذاکرات ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم نے طبی مشورے کے باوجود اس دورے میں شرکت کی، جو پاکستان کی جانب سے چین کے ساتھ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

    بریفنگ میں بتایا گیا کہ اس دورے کے دوران افغانستان سمیت دیگر علاقائی معاملات بھی زیر بحث آئے ایک اہم پیشرفت کے طور پر چین اور پاکستان نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مشترکہ 5 نکاتی منصوبہ پیش کیا اس منصوبے میں فوری جنگ بندی، تنازع کے پھیلاؤ کو روکنے اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی پر زور دیا گیا۔

    پاکستان اور چین کے مشترکہ 5 نکاتی امن منصوبے میں آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ کو بھی خاص اہمیت دی گئی ہے، جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے عالمی رہنماؤں سے رابطے کر کے خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں 5 نکاتی منصوبے میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں، عملے اور تجارتی سرگرمیوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے، شہریوں اور تجارتی جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کو ممکن بنایا جائے اور اس اہم سمندری راستے کو جلد از جلد معمول کے مطابق کھولا جائے۔

    وزیراعظم محمد شہباز شریف نے مختلف عالمی رہنماؤں سے اہم ٹیلیفونک رابطے بھی کیے 27 مارچ کو کویت کے ولی عہد نے وزیراعظم سے رابطہ کر کے حملوں کی شدید مذمت کی اور پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا کویتی قیادت نے ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کے لیے پاکستان کے کردار کی مکمل حمایت کا اظہار بھی کیا۔

    اگلے روز وزیراعظم نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بھی ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں انہیں پاکستان کے امن اقدام کی حمایت سے آگاہ کیا گیا اور امید ظاہر کی گئی کہ مشترکہ کوششوں سے کشیدگی کے خاتمے کا راستہ نکالا جا سکتا ہے پاکستان مسلسل سفارتی سطح پر متحرک ہے اور خطے میں امن، استحکام اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اہم عالمی رہنماؤں سے رابطے کیے-

    پاکستان خطے میں امن کے قیام کے لیے سفارتی سطح پر بھرپور کردار ادا کر رہا ہے اور عالمی برادری کے ساتھ مل کر کشیدگی کم کرنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے،اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے بھی رابطہ کیا، جس میں عالمی امن و سلامتی پر جاری کشیدگی کے اثرات پر بات چیت ہوئی ،اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کے حل کے لیے اقوامِ متحدہ کا کردار نہایت اہم ہے اور پاکستان پائیدار امن کے لیے سفارتکا ری اور مذاکرات کو ہی واحد راستہ سمجھتا ہے سیکریٹری جنرل نے پاکستان کی امن کوششوں کو سراہتے ہوئے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

    یران نے پاکستانی پرچم والے مزید 20 جہازوں کو بحر ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی ہے، جسے پاکستان نے خوش آئند اقدام اور خطے میں استحکام کے لیے مثبت قدم قرار دیا ہے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے 2 جہاز روزانہ بحر ہرمز سے گزر سکیں گے، جو خطے میں اعتماد کی فضا قائم کرنے اور امن کے فروغ کے لیے حوصلہ افزا اقدام ہے۔ یہ پیشرفت خطے میں بات چیت اور سفارتی اقدامات کے ذریعے استحکام لانے کی کوششوں میں ایک مثبت سنگ میل ہے۔

    منگل کو پاکستان، مصر، اردن، متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان جاری کیا، جس میں اسرائیل کی جانب سے یروشلم میں مسلمانوں اور عیسائیوں کی عبادت میں رکاوٹیں ڈالنے کو سختی سے مسترد کیا گیا وزرائے خارجہ نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ یروشلم کے مقدس مقامات کے قانونی اور تاریخی درجہ کو تبدیل نہ کرے اور عبادت گزاروں کی رسائی پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے۔

    ترجمان نے کہا کہ تمام ممالک نے عالمی برادری سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل کے جاری قوانین اور غیر قانونی اقدامات کے خلاف مضبوط موقف اختیار کرے تاکہ یروشلم کے مقدس مقامات کی حرمت بحال رہے اور مذہبی رسائی میں رکاوٹیں ختم ہوں یہ اقدامات خطے میں امن، قانونی حیثیت کی حفاظت اور مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے انتہائی اہم قرار دیے گئے ہیں۔