Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق تبصرے بے بنیاد ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق تبصرے بے بنیاد ہیں،ترجمان دفتر خارجہ

    ترجمان دفتر خارجہ نے متحدہ عرب امارات کے مالی ذخائر سے متعلق گمراہ کن تبصروں کو مسترد کر دیا ہے۔

    ترجمان کے مطابق یو اے ای کے مالی ذخائر سے متعلق حالیہ تبصرے بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں اسٹیٹ بینک میں رکھے گئے یہ ذخائر دوطرفہ تجارتی معاہدوں کا حصہ تھے اور یہ پاکستان کے معاشی استحکام کے لیے مضبوط حمایت کا مظہر ہیں،حکومت پاکستان طے شدہ شرائط کے مطابق مدت پوری ہونے پر ذخائر واپس کررہی ہے اور یہ ایک معمول کی مالیاتی کارروائی ہے جسے غلط رنگ دینا گمراہ کن ہے۔

    پاکستان کامتحدہ عرب امارات کو 2 ارب ڈالر کے ڈپازٹس سودسمیت واپس کرنے کا فیصلہ

    دفترِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان اور یو اے ای کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات قائم ہیں اور تجارت، سرمایہ کاری اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں اسٹریٹجک تعاون جاری ہے،پاکستانی عوام پاک امارات دوستی کے قیام میں شیخ زاید بن سلطان النہیان کے کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور پاکستان، یو اے ای کے ساتھ مضبوط تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم پر قائم ہے۔

    مضبوط بحری قوت قومی خودمختاری کے تحفظ کا اہم ستون ہے،صدر مملکت

  • مضبوط بحری قوت قومی خودمختاری کے تحفظ کا اہم ستون ہے،صدر مملکت

    مضبوط بحری قوت قومی خودمختاری کے تحفظ کا اہم ستون ہے،صدر مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاک بحریہ میں پی این ایس خیبر کی شمولیت پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

    اپنے بیان میں صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پی این ایس خیبر کی شمولیت پاک بحریہ کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور تیاری میں مسلسل بہتری کا مظہر ہے پاک بحریہ نے ہر موقع پر بالخصوص معرکہ حق کے دوران قومی سلامتی کے تقاضوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے نبھائی ہیں بدلتے ہوئے علاقائی تناظر میں مضبوط بحری قوت قومی خودمختاری کے تحفظ کا اہم ستون ہے،صدر مملکت نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اپنی سمندری سرحدوں کے دفاع اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے مکمل طور پر پُرعزم ہے۔

    جدید جنگی جہاز ’پی این ایس خیبر‘ پاک بحریہ کے بیڑے میں شامل

    معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر قیامت ٹوٹ پڑے گی،ٹرمپ کا 48 گھنٹے کا ایک اور الٹی میٹم

  • اسحاق ڈار کا  بحرین کے وزیر خارجہ سے رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

    اسحاق ڈار کا بحرین کے وزیر خارجہ سے رابطہ،خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال

    نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف بن راشید الزیانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا-

    دفتر خارجہ کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بحرین کے وزیر خارجہ عبدالطیف بن راشید الزیانی سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق رابطے میں خطے کی تازہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اسحاق ڈار نے کشیدگی میں فوری کمی کی ضرورت پر زور دیادونوں وزرائے خارجہ نے مذاکرات اور سفارتکاری کی اہمیت کو اجاگر کیا جبکہ مشرقِ وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان-چین پانچ نکاتی امن اقدام پر بھی روشنی ڈالی۔

    بحرین کے وزیر خارجہ نے خطے میں امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور ڈائیلاگ کے فروغ میں اسلام آباد کے کردار کو اہم قرار دیا،دونوں رہنماؤں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت کثیرالجہتی فورمز پر جاری کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا اور باہمی رابطے برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

  • اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم

    اسحاق ڈار کا ایرانی وزیر خارجہ کے بیان کا خیر مقدم

    اسلام آباد: نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار نے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی کے حالیہ بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وہ اپنے "بھائی” عباس عراقچی کی جانب سے پاکستان سے متعلق وضاحت کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے اس بیان کو دونوں ممالک کے درمیان اعتماد اور سفارتی تعاون کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔

    اس سے قبل ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے بیان میں واضح کیا تھا کہ ایران نے کبھی بھی مذاکرات کے لیے اسلام آباد جانے سے انکار نہیں کیا۔ انہوں نے جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے اس پر شکریہ بھی ادا کیا۔عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ایران اس بات پر زور دیتا ہے کہ جنگ کا خاتمہ جامع اور مستقل بنیادوں پر ہونا چاہیے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ امریکی میڈیا ایران کے مؤقف کو غلط انداز میں پیش کر رہا ہے، جس سے حقائق مسخ ہو رہے ہیں۔

  • سپریم کورٹ کی رائے ہے کہ بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا ، صدرمملکت

    سپریم کورٹ کی رائے ہے کہ بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا ، صدرمملکت

    صدرِ مملکت آصف علی زرداری نےشہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی 47ویں برسی آج منائی جا رہی ہے،سپریم کورٹ کی رائے ہے کہ بھٹو کو منصفانہ ٹرائل نہیں ملا ،

    صدر مملکت آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے مطابق بھٹو کیس میں قانونی تقاضے نظر انداز کیے گئے، عدالتی مشاہدہ ہے کہ بھٹو کیس میں اپیل کا حق متاثر کیا گیا، 1973 کا آئین بھٹو دور کی بڑی کامیابی ہے، انصاف اور قانون کی بالادستی ناگزیر ہے، جنرل ضیاء کے مارشل لا کے بعد کیس دوبارہ کھولا گیا، انصاف کی عدم فراہمی کے اثرات عوام پر پڑتے ہیں، محترمہ بینظیر بھٹو کی جمہوری جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، اداروں کو قانون اور انصاف کی پاسداری کرنا ہوگی، عالمی رہنماؤں نے بھی بھٹو ٹرائل پر تشویش ظاہر کی تھی، جمہوریت کی مضبوطی انصاف سے مشروط ہے

  • پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے دھچکا بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے دھچکا بھارتی دفاعی تجزیہ کار

    نامور برطانوی جریدے فنانشل ٹائمز کے مطابق مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی قیام امن کی کوششیں بھارت کے لیے دھچکا ہیں۔

    فنانشل ٹائمز میں بھارتی دفاعی تجزیہ کار سوشانت سنگھ کی جانب سے لکھے گئے مضمون میں کہا گیا ہے کہ حالیہ جنگ کے دوران پاکستان امریکا اور ایران کے درمیان اہم ثالث کے طور پر سامنے آیا جبکہ بھارت مشرق وسطیٰ مذاکرات سے خارج اور امریکا میں اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔انہوں نے لکھا کہ پاکستان، ترکیے، مصر اور سعودی عرب پر مشتمل بلاک علاقا ئی اثر و رسوخ میں تبدیلی کا اشارہ ہے جو بھارت کواپنی خارجہ پالیسی پرنظرثانی کرنے پر مجبورکر رہا ہے۔بھارتی دفاعی تجزیہ کار نے اپنے مضمون میں کہا کہ پاکستان نے چین کے ساتھ بھی تعلقات برقرار رکھے ہیں اور صدرٹرمپ پاکستان کے فیلڈ مارشل کو ثالث کے طور پر ترجیح دیتے ہیں جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو سفارتی ہزیمت کا سامنا ہے۔

  • وزیراعظم کا پیٹرول کی قیمت 80 روپے کم کر کے 378 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان

    وزیراعظم کا پیٹرول کی قیمت 80 روپے کم کر کے 378 روپے فی لیٹر کرنے کا اعلان

    
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ حکومت نے قومی وسائل سے 129 ارب روپے خرچ کر کے مہنگائی کے طوفان کو عوام تک پہنچنے سے روکا اور گزشتہ تین ہفتوں کے دوران تیل کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عوام پر منتقل نہیں کیا۔
    اپنے خطاب میں وزیراعظم نے بتایا کہ فیلڈ مارشل، وفاقی وزرا اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی موجودگی میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں، اور حکومت اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی جب تک معاشی مشکلات میں کمی نہیں آتی۔
    ‎انہوں نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے جس کے اثرات پاکستان سمیت دنیا بھر میں محسوس کیے جا رہے ہیں۔ ان کے مطابق اس صورتحال میں عام آدمی، کسان اور کم آمدنی والے طبقات شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
    ‎وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت نے محدود وسائل کے باوجود عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی اور اسی مقصد کے تحت پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کو وقتی طور پر برداشت کیا گیا۔
    ‎انہوں نے اعلان کیا کہ موٹرسائیکل سواروں کے لیے فی لیٹر 100 روپے سبسڈی دی جائے گی جبکہ ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے لیے بھی خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ مہنگائی کے اثرات کم کیے جا سکیں۔
    ‎شہباز شریف نے یہ بھی بتایا کہ پیٹرول پر لیوی میں 80 روپے فی لیٹر کمی کی گئی ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت کم ہو کر 378 روپے فی لیٹر ہو جائے گی۔
    ‎وزیراعظم نے کہا کہ حکومت عوام کو ریلیف دینے اور خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔

  • 
اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں 6.2شدت کا زلزلہ

    
اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں میں 6.2شدت کا زلزلہ

    
پاکستان سمیت خطے میں زلزلے کے شدید جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت 6.2 ریکارڈ کی گئی ہے، جبکہ اس کا مرکز افغانستان کے ہندوکش کا علاقہ تھا۔
    محکمہ موسمیات کے مطابق زلزلہ 3 اپریل 2026 کو رات 9 بج کر 13 منٹ پر آیا، جس کی گہرائی 190 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ زلزلے کے محل وقوع کے مطابق اس کا مرکز 36.48 شمالی عرض بلد اور 70.84 مشرقی طول بلد پر واقع تھا۔
    زلزلے کے جھٹکے اسلام آباد، پشاور، چترال، سوات، شانگلہ اور دیگر علاقوں میں محسوس کیے گئے، جس کے باعث شہری خوفزدہ ہو کر گھروں اور عمارتوں سے باہر نکل آئے۔
    عینی شاہدین کے مطابق زلزلہ چند سیکنڈ تک جاری رہا تاہم اس کی شدت کافی محسوس کی گئی جس نے لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر دیا۔
    ابتدائی اطلاعات کے مطابق کسی بڑے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم حکام صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
    ماہرین کے مطابق زلزلے کی گہرائی زیادہ ہونے کے باعث اس کے جھٹکے وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔

  • پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹرز کا سخت ردعمل

    پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کے بعد کرایوں میں اضافہ، ٹرانسپورٹرز کا سخت ردعمل

    اسلام آباد: پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے بعد ملک بھر میں ٹرانسپورٹ کرایوں میں اضافے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جہاں پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے کرایوں میں نمایاں اضافہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

    صدر پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس ملک شہزاد کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ناقابل قبول ہے اور اس کے نتیجے میں ملک میں مہنگائی کا شدید طوفان آئے گا۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ غلط فیصلوں کے باعث لاکھوں افراد بیروزگار ہو رہے ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر فوری طور پر پالیسیوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو ملک میں ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو سکتا ہے۔

    دوسری جانب پاکستان پبلک ٹرانسپورٹ اونر ایسوسی ایشن نے بھی ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے آج ہنگامی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے مطابق ڈیزل کی قیمتوں میں اس قدر اضافہ ہونے کے باوجود موجودہ تناسب سے کرایوں میں اضافہ ممکن نہیں، اور اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ٹرانسپورٹرز کو کاروبار بند کرنے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

    واضح رہے کہ حکومت نے گزشتہ رات پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کیا ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر خزانہ نے مشترکہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 24 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 41 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ اسی طرح ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے۔

  • 
پیٹرول 137 روپے مہنگا، قیمت 458 روپے فی لیٹر ہوگئی

    
پیٹرول 137 روپے مہنگا، قیمت 458 روپے فی لیٹر ہوگئی

    
حکومت نے رات گئے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا، جس کے بعد عوام پر مہنگائی کا ایک اور بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔
    وزیرِ پیٹرولیم علی پرویز ملک نے وزیر خزانہ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا کہ پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔
    ‎اسی طرح ڈیزل کی قیمت بھی بڑھا دی گئی ہے اور اس کی نئی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    ‎وزیرِ پیٹرولیم کا کہنا تھا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے باعث توانائی کی عالمی منڈی میں شدید اتار چڑھاؤ آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان سمیت دیگر ممالک پر بھی پڑ رہے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ خام تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے جس کے باعث حکومت کو یہ مشکل مگر ضروری فیصلہ کرنا پڑا۔
    ‎علی پرویز ملک نے بتایا کہ حکومت نے اس فیصلے سے قبل مختلف آپشنز پر غور کیا اور اتحادی جماعتوں، وزرائے اعلیٰ اور دیگر متعلقہ حکام سے مشاورت کی گئی۔
    ‎ان کا کہنا تھا کہ حکومت حالات کے پیش نظر ذمہ دارانہ فیصلے کر رہی ہے تاکہ معیشت کو سنبھالا جا سکے، تاہم اس کے اثرات سے عوام کو بھی گزرنا پڑے گا۔
    ‎اس بڑے اضافے کے بعد ملک بھر میں مہنگائی میں مزید اضافے اور عوامی ردعمل کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔