Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • صدر مملکت کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو  فوجی اعزازات دینے کی منظوری

    صدر مملکت کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو فوجی اعزازات دینے کی منظوری

    صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پاکستان کی مسلح افواج کے افسران اور جوانوں کو مجموعی طور پر 1,989 فوجی اعزازات دینے کی منظوری دے دی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق ان اعزازات میں 23 ہلالِ امتیاز (ملٹری)، 100 ستارۂ امتیاز (ملٹری)، 136 تمغۂ امتیاز (ملٹری)، 11 ستارۂ بسالت، 475 تمغۂ بسالت اور 130 امتیازی اسناد شامل ہیں، 175 تمغۂ خدمت (ملٹری) کلاس اول، 319 تمغۂ خدمت (ملٹری) کلاس دوم اور 620 تمغۂ خدمت (ملٹری) کلاس سوم دینے کی بھی منظوری دی گئی ہے، جبکہ 378 چیف آف آرمی اسٹاف تعریفی کارڈز بھی دیے جائیں گے۔

    صدر سیکرٹریٹ کے مطابق یہ اعزازات یومِ پاکستان کے موقع پر وزیر اعظم کی سفارش پر اور آئینِ پاکستان 1973 کے آرٹیکل 259(2) کے تحت دیے جائیں گے۔

  • شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کی واپسی ، فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شوہر سے علیحدگی کے بعد جہیز کے سامان کی واپسی سے متعلق فیملی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دے دیے۔

    جسٹس محسن اختر کیانی نے 28 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا، جس میں اسلامی قوانین، قرآنی آیات اور غیر ملکی عدالتوں کے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا گیا عدالت نے قرار دیا کہ اپیلٹ کورٹ نے غلطی کی اور درخواست گزار خاتون کے حقوق کو نظرانداز کیا، عدالت کے مطابق جہیز اور دلہن کو ملنے والے ذا تی تحائف مکمل طور پر خاتون کی ملکیت ہیں، اور اگر جہیز واپس نہ کیا جائے تو خاتون اس کی متبادل قیمت حاصل کرنے کی حقدار ہوگی۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد میں بیوی کا حق تسلیم کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اس کی شراکت داری ثابت ہوعدالت نے فیملی کورٹ کو ہدایت کی کہ کیس کا فیصلہ 2 ماہ کے اندر کیا جائے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے حکومت کو خواتین کے مالی اور ملکیتی حقوق کے تحفظ کے لیے مؤثر قانون سازی کی ہدایت بھی کی،عدالت نے کہا کہ خواتین کے آئینی اور قانونی حقوق کو عملی طور پر یقینی بنانے کے لیے پالیسی اقدامات ناگزیر ہیں نکاح نامہ میں ایسی شرط شامل کی جائے جس کے تحت شادی کے دوران حاصل ہونے والی جائیداد طلاق، وفات یا دیگر صورتوں میں بیوی کے ساتھ مساوی طور پر تقسیم ہو سکے۔

    فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کو ازدواجی حقوق کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ وہ نکاح نامہ میں اپنے حقوق کا مؤثر استعمال کر سکیں،خواتین ملک کی قریباً نصف آبادی ہیں اور ان کے حقوق کا تحفظ ایک منصفانہ اور ترقی پسند معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے۔

    دوسری جانب لاہور ہائیکورٹ نے خواتین کے حقوق اور حق مہر کی ادائیگی کے حوالے سے ایک انتہائی اہم اور وضاحتی فیصلہ جاری کیا ہے جس میں یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ بیوی اپنے شوہر سے کسی بھی وقت مہر کا مطالبہ کرنے کا قانونی حق رکھتی ہے۔

    لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس عابد حسین چھٹہ نے فاطمہ بی بی نامی خاتون کی درخواست پرتحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ کا مہر سے متعلق فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا۔

    کیس کے مطابق درخواست گزار نے شوہر کے خلاف روز مرہ اخراجات یونی نان نفقہ، جہیزکی واپسی اور پانچ تولہ سونے کے مہر کا دعویٰ دائر کیا تھاابتدائی طور پر فیملی کورٹ نے خاتون کے حق میں فیصلہ سناتے ہوئے شوہر کو پانچ ہزار روپے ماہانہ خرچ اور حق مہر ادا کرنے کا حکم دیا تھا تاہم بعد میں ٹرائل کورٹ نے مہر کا دعویٰ ختم کر دیا تھا۔

    لاہور ہائیکورٹ نے اس قانونی نکتے پر گہری نظر ڈالتے ہوئے قرار دیا ہے کہ اگر نکاح نامہ کے اندراج کے وقت مہر کی ادائیگی کا کوئی مخصوص وقت یا مدت طے نہ کی گئی ہو تو ایسی صورت میں بیوی ’جب بھی‘ مطالبہ کرے گی، شوہر پر مہر ادا کرنا لازم ہوگا عدالت نے واضح کیا گیا کہ شادی برقرار رہنے کے باوجود بیوی اپنے مہر کی مکمل حقدار رہتی ہے چنانچہ ہائیکورٹ نے فیملی کورٹ کے پرانے فیصلے کو دوبارہ بحال کر دیا ہے جبکہ نان نفقہ اور جہیز سے متعلق اپیلیٹ کورٹ کا فیصلہ درست قرار دیا گیا عدالت نے درخواست جزوی طور پر منظور کرتے ہوئے مہر سے متعلق فیملی کورٹ کا فیصلہ بحال کر دیا

    اس عدالتی فیصلے سے یہ بات واضح اور ہو گئی ہے کہ حق مہر بیوی کا وہ بنیادی حق ہے جو نکاح کے معاہدے کے تحت اسے حاصل ہوتا ہے اور شوہر اس کی ادائیگی سے انکار نہیں کر سکتا۔

  • اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے،ترجمان دفتر خارجہ

    امریکا اور ایران کے درمیان پاکستان نے ایک بار پھر سفارتکاری اور مکالمے کے ذریعے مسائل کے حل پر زور دیا ہے۔

    ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر فریقین آمادہ ہوں تو پاکستان مذاکرات کی میزبانی کے لیے ہر وقت تیار ہے پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے فروغ کے لیے مثبت کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے پاکستان نے ہمیشہ تنازعات کے حل کے لیے مسلسل بات چیت اور سفارتکاری کی وکالت کی ہے اور یہی مؤقف اب بھی برقرار ہے-

    بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رکھے گا پاکستان، ترکیہ اور مصر کی جانب سے سفارتی سطح پر کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ خطے کے اہم ممالک امریکا اور ایران کےدرمیان تناؤ کم کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں اور مذاکرات کے ذریعے حل چاہتے ہیں۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات اسی ہفتے اسلام آباد میں ہونے کا امکان ہے مذاکرات میں ایران کی نمائندگی ایران کی مجلسِ شورائے اسلامی کے اسپیکر ڈاکٹر محمد باقر قالیباف کریں گے جب کہ امریکا کی جانب سے اسٹیو وٹکوف، جیرڈ کشنر اور ممکنہ طور پر جے ڈی وینس شریک ہوں گے۔

  • پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا  پیٹرول پمپس بند کرنے کے حوالے سے اہم فیصلہ

    پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا پیٹرول پمپس بند کرنے کے حوالے سے اہم فیصلہ

    پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے 26مارچ سے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے کا فیصلہ موخر کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

    ایسوسی ایشن کے چئیرمین عبدالسمیع خان نے کہا ہے کہ ملکی حالات کے پیش نظر فی الحال پیٹرول پمپس کو بند نہیں کررہے ہیں پیٹرولیم ڈیلرز کی جنرل باڈی اجلاس میں پیٹرول پمپس بند کرنے کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔

    اس سے قبل پیٹرولیم ڈیلرز نے مارجن میں اضافے کے لیے 26مارچ سے پیٹرول پمپس بند کرنے کا اعلان کیا تھا عبدالسمیع خان کا کہنا تھا کہ پیٹرول پمپس کے لیے موجودہ مارجن پر کام کرنا انتہائی مشکل ہوگیا ہے۔

    قبل ازیں حکومت پاکستان نے اخراجات میں کمی اور کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت سرکاری گاڑیوں میں ہائی آکٹین ایندھن کے استعمال پر فوری پابندی عائد کر دی ہے،یہ فیصلہ ہائی آکٹین ایندھن پر پٹرولیم لیوی میں فی لیٹر دو سو روپے اضافے کے بعد کیا گیا۔

    وزیراعظم آفس کے مطابق کسی بھی سرکاری ادارے کو سرکاری خرچ پر ہائی آکٹین ایندھن استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہو گی، اگر کسی صورت اس ایندھن کا استعمال ناگزیر ہو تو اس کی ادائیگی متعلقہ افسر یا صارف کو ذاتی طور پر کرنا ہو گی۔

  • 
پاکستان کا مؤقف برقرار، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم: اسحاق ڈار

    
پاکستان کا مؤقف برقرار، دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم: اسحاق ڈار

    
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ملک دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور اس حوالے سے پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
    یوم پاکستان کے موقع پر اپنے پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی اور یہ اقدامات قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کیے جا رہے ہیں۔
    ‎اس سے قبل پاکستان اور افغانستان کے درمیان عیدالفطر کے موقع پر عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم حالیہ بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ کشیدگی کے بنیادی مسائل اب بھی برقرار ہیں۔
    ‎ذرائع کے مطابق سرحدی علاقوں میں حالات بدستور حساس ہیں، جبکہ پاکستان کا مؤقف ہے کہ سرحد پار سے ہونے والی سرگرمیوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔
    ‎ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کے خاتمے کے لیے سفارتی سطح پر مزید اقدامات کی ضرورت ہے تاکہ خطے میں استحکام ممکن ہو سکے۔

  • 
پنجاب اور بلوچستان میں بارشوں کا الرٹ، ژالہ باری اور سیلاب کا خدشہ

    
پنجاب اور بلوچستان میں بارشوں کا الرٹ، ژالہ باری اور سیلاب کا خدشہ

    
پی ڈی ایم اے پنجاب نے صوبے کے بیشتر اضلاع میں بارشوں کا الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
    اعلامیے کے مطابق 25 سے 26 مارچ تک پنجاب کے مختلف علاقوں میں بارش کا امکان ہے، جبکہ 28 سے 30 مارچ کے دوران تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ مزید بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ راولپنڈی، مری، گلیات، لاہور، فیصل آباد، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور دیگر کئی اضلاع متاثر ہو سکتے ہیں۔
    ‎حکام کے مطابق صوبے کے بالائی علاقوں میں ژالہ باری کا بھی خدشہ ہے، جس کے پیش نظر کسانوں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
    ‎ڈی جی پی ڈی ایم اے نے سیاحوں کو شمالی علاقوں میں سفر کے دوران احتیاط برتنے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں ہیلپ لائن 1129 پر رابطہ کرنے کا کہا ہے۔
    ‎دوسری جانب بلوچستان میں بھی محکمہ موسمیات نے 24 سے 25 اور 27 سے 29 مارچ کے دوران بارشوں کی پیشگوئی کرتے ہوئے الرٹ جاری کیا ہے۔ ساحلی علاقوں سمیت متعدد اضلاع میں بارش متوقع ہے جبکہ شدید بارشوں کے باعث 25 سے 28 مارچ کے دوران فلیش فلڈنگ کا خطرہ بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
    ‎حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کرنے اور متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے کی ہدایت کی ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔

  • 
اسکول تعطیلات پر نظرثانی کا مطالبہ، امتحانات ملتوی کرنے کی تجویز

    
اسکول تعطیلات پر نظرثانی کا مطالبہ، امتحانات ملتوی کرنے کی تجویز

    
پرائیویٹ اسکولز ایسوسی ایشن نے حکومت سے 31 مارچ تک تعطیلات کے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے تعلیمی نقصان پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
    ایسوسی ایشن کے مطابق ملک کے تقریباً 80 فیصد طلبہ بغیر ٹرانسپورٹ کے اسکول آتے ہیں، اس لیے صرف ان طلبہ کے لیے آن لائن کلاسز کا انتظام کیا جائے جو ٹرانسپورٹ استعمال کرتے ہیں۔
    ‎انہوں نے کہا کہ پنجاب میں طلبہ کو رواں تعلیمی سیشن کے دوران 124 دن سے بھی کم تدریسی وقت ملا ہے، جو عالمی معیار کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
    ‎ایسوسی ایشن نے مزید کہا کہ 28 مارچ سے شروع ہونے والے میٹرک امتحانات کو بھی مؤخر کیا جائے اور نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے تاکہ طلبہ کے تعلیمی نقصان کا ازالہ ممکن ہو سکے۔
    ‎حکام سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے ایسا لائحہ عمل ترتیب دیا جائے جو طلبہ کے مفاد میں ہو۔

  • 
اسلام آباد میں امریکا اور ایران مذاکرات، پاکستان میزبانی کرے گا

    ایک اہم سفارتی پیش رفت کے طور پر اطلاعات سامنے آئی ہیں کہ امریکا اور ایران کے اعلیٰ رہنماؤں کے درمیان اس ہفتے کے آخر میں اسلام آباد میں ملاقات متوقع ہے۔
    ذرائع کے مطابق متوقع مذاکرات میں شرکت کے لیے امریکا کے نائب صدر، خصوصی ایلچی اور ایک اعلیٰ سطحی شخصیت پاکستان پہنچ سکتے ہیں، جبکہ ایرانی جانب سے بھی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی اسلام آباد آمد کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
    اطلاعات کے مطابق ان مذاکرات میں علاقائی سیکیورٹی، سفارتی تعلقات اور باہمی امور پر گفتگو کی جا سکتی ہے، تاہم اس حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔
    ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ مذاکرات ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ثابت ہو سکتے ہیں۔

  • اسلام آباد : شوہر نے ٹک ٹاکر  کو قتل کر کے خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی

    اسلام آباد : شوہر نے ٹک ٹاکر کو قتل کر کے خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک ٹک ٹاکرکو مبینہ طور پر اس کے شوہر نے عید کے دن قتل کردیا۔

    پولیس کے مطابق ٹک ٹاکر کو تھانہ ہمک کی حدود میں ایک شاپنگ مال کے قریب قتل کیا گیاابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم نے پہلے اپنی اہلیہ کو گولیاں ماریں اور بعد ازاں خود کو بھی سر میں گولی مار کر خودکشی کر لی، جائے وقوعہ سے 9 ایم ایم پستول اور گولیوں کے 3 خول برآمد ہوئے ہیں۔-

    پولیس کے مطابق مقتولہ کی شناخت ثنا جاوید کے نام سے ہوئی ہے، جو ٹک ٹاک پر آؤٹ لوفارا کے نام سےاکاؤنٹ چلاتی تھیں اور ضلع اٹک کی رہائشی تھیں،ملزم کی شناخت محمد صادق کے نام سےہوئی ہے، جو اٹک کا رہائشی اور سابق پولیس کا نسٹیبل تھا، تاہم اسے ملازمت سے برطرف کر دیا گیا تھا۔

    ایف آئی آر کے مطابق، ایک نجی سیکیورٹی گارڈ نے بتایا کہ وہ ڈی ایچ اے فیز ٹو میں واقع مارکیٹ میں ڈیوٹی پر موجود تھا، عیدالفطر کے پہلے روز اس نے پارکنگ ایریا سے فائرنگ کی آوازیں سنیں اور دیکھا کہ سرخ لباس میں ملبوس ایک خاتون زمین پر پڑی ہے موقع پر تقریباً 24 سالہ نوجوان موجود تھا جس کے ہاتھ میں پستول تھا، جس نے بعد ازاں خود کو بھی سر میں گولی مار لی، فوری طور پر اپنے اعلیٰ حکام کو اطلاع دی، جنہوں نے پولیس کو آگاہ کیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ سال جون میں بھی اسلام آباد میں ایک 17 سالہ ٹک ٹاکر ثنا یوسف کے قتل کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں پولیس نے مرکزی ملزم کو واردات کے ایک دن بعد گرفتار کر لیا تھا، ملزم نے مبینہ طور پر دوستی سے انکار پر لڑکی کو قتل کیا تھا۔

  • سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین فیول کے استعمال پر پابندی عائد

    سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین فیول کے استعمال پر پابندی عائد

    ہائی اوکٹین فیول پر پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے فیصلے کے تسلسل میں وزیر اعظم نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے سرکاری گاڑیوں میں ہائی اوکٹین ایندھن کے استعمال پر پابندی عائد کر دی ہے جو فوری طور پر نافذالعمل ہے۔

    اس سلسلے میں جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ سرکاری خرچ پر ہائی اوکٹین کے استعمال پر سخت پابندی ہے، اگر کسی محکمے میں اس کا استعمال ناگزیر ہو تو متعلقہ افسر کو اپنے ذاتی خرچ سے یہ ایندھن اپنی گاڑی میں ڈلوانا ہوگا فیصلے کے حوالے سے تمام وفاقی محکموں، اتھارٹیز اور ذیلی اداروں کو فوری عملدرآمد کی ہدایت دی گئی ہے اس اقدام کا بنیادی مقصد ملکی قومی وسائل کے انتہائی مؤثر، شفاف اور ذمہ دارانہ استعمال کو ہر صورت یقینی بنانا ہے۔

    اس سے قبل سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں 50 فیصد کٹوتی اور 60 فیصد گاڑیوں کو گراؤنڈ کیا جا چکا ہے ان اقدامات سے حاصل بچت کو عوام کو ریلیف فراہم کرنے اور سستا تیل مہیا کرنے پر خرچ کیا جائے گا وزیر اعظم نے کہا کہ کفایت شعاری پالیسی پر سختی سے عمل اور غیر ضروری اخراجات میں کمی وقت کی اہم ضرورت ہے اس سے حکومتی اخراجات کم ہوں گے اور عوام کے ٹیکس کے پیسوں کا بہتر استعمال ممکن ہوسکے گا۔

    علازہ ازیں متعلقہ حکام کو فیصلے کی نگرانی کے لیے مؤثر نظام وضع کرنے کی ہدایت دی گئی ہے اور کسی بھی قسم کی خلاف ورزی کی صورت میں ذمہ داران کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی جس میں کوئی رعایت نہیں ہوگی-