Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • وزیراعظم کی ترکمانستان کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، عیدالفطر کی مبارکباد

    وزیراعظم کی ترکمانستان کے صدر سے ٹیلیفونک رابطہ، عیدالفطر کی مبارکباد

    وزیراعظم شہباز شریف نے ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور انہیں اور ان کے عوام کو عیدالفطر کی دلی مبارکباد پیش کی۔

    ترکمانستان کے صدر نے بھی پاکستانی عوام کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا،گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان بڑھتے ہوئے دوطرفہ تعلقات پر اطمینان ظاہر کیا اور مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔

    رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ تجارت، توانائی، علاقائی روابط اور ترقیاتی منصوبوں میں اشتراک کو وسعت دینا وقت کی اہم ضرورت ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان شراکت داری مزید مستحکم ہو سکتی ہے،دونوں جانب سے باہمی تعاون کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور خطے میں ترقی و خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا-

    شام میں فوجی تنصیبات پر اسرائیلی حملہ،سعودی عرب کی شدید مذمت

    بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر دھماکے، شہریوں کو محفوظ مقامات پر جانے کی ہدایت

    امریکا نے ایرانی تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت کی اجازت دے دی

  • 
تنخواہوں میں کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری، افسران کی 2 روز کی تنخواہ کم

    
تنخواہوں میں کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری، افسران کی 2 روز کی تنخواہ کم

    
پنجاب میں محکمہ خزانہ نے سرکاری افسران اور سیاسی شخصیات کی تنخواہوں میں کٹوتی کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے، جس کے تحت گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران کی دو روز کی تنخواہ کاٹی جائے گی۔
    ‎حکام کے مطابق یہ رقم وفاقی حکومت کے ایمرجنسی فنڈ میں جمع کرائی جائے گی تاکہ موجودہ مالی حالات سے نمٹا جا سکے۔
    ‎نوٹیفکیشن کے تحت وزیراعلیٰ پنجاب، صوبائی وزراء، معاونین خصوصی اور پارلیمانی سیکرٹریز کی دو ماہ کی مکمل تنخواہ جبکہ اراکینِ اسمبلی کی تنخواہوں میں دو ماہ کے لیے 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔
    ‎مزید برآں سلیب کے مطابق بھی تنخواہوں میں کٹوتی کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس میں 3 سے 10 لاکھ روپے تنخواہ پر 5 فیصد، 10 سے 20 لاکھ پر 15 فیصد، 20 سے 30 لاکھ پر 25 فیصد جبکہ 30 لاکھ سے زائد تنخواہ لینے والوں پر 30 فیصد کٹوتی ہوگی۔
    ‎اس کے علاوہ سرکاری و نجی کمپنیوں کے بورڈز میں شامل حکومتی ارکان کی فیس میں 100 فیصد کٹوتی کی جائے گی، اور یہ تمام رقم وزیر اعظم آسٹیریٹی فنڈ 2026 میں جمع کرائی جائے گی۔
    ‎یہ اقدامات کفایت شعاری پالیسی کے تحت کیے جا رہے ہیں تاکہ حکومتی اخراجات میں کمی لائی جا سکے اور وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔

  • الیکشن کمیشن ، تحریکِ انصاف نظریاتی کے انٹرا پارٹی الیکشن تسلیم

    الیکشن کمیشن ، تحریکِ انصاف نظریاتی کے انٹرا پارٹی الیکشن تسلیم

    الیکشن کمیشن نے تحریکِ انصاف نظریاتی کے انٹرا پارٹی انتخابات کو باضابطہ طور پر تسلیم کرتے ہوئے سرٹیفیکیٹ جاری کر دیا ہے۔

    جاری اعلامیے کے مطابق پارٹی کے انٹرا پارٹی انتخابات کا سرٹیفیکیٹ شائع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت اختر اقبال ڈار بلا مقابلہ تحریکِ انصاف نظریاتی کے چیئرمین منتخب قرار پائے ہیں۔

    اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ انتخابات 7 جنوری کو منعقد ہوئے تھے، جن میں پارٹی کارکنان اور سابقہ عہدیداران نے بھرپور شرکت کی۔سیاسی مبصرین کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کی توثیق کے بعد پارٹی کی تنظیمی حیثیت مزید مستحکم ہو گئی ہے اور آئندہ سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آنے کا امکان ہے۔

  • کراچی وائرل ویڈیو،اعزاز سید بھی ریٹنگ کے چکر میں،پروپیگنڈے،جھوٹ کی ترویج میں شامل

    کراچی وائرل ویڈیو،اعزاز سید بھی ریٹنگ کے چکر میں،پروپیگنڈے،جھوٹ کی ترویج میں شامل

    کچھ نام نہاد اعزاز سید جیسے”تحقیقی صحافی” درحقیقت صحافی نہیں ، نہ تحقیق، نہ تصدیق، نہ زمینی حقائق کی پڑتال، بس ایک جذباتی ویڈیو دیکھی، اس پر جھوٹ، پروپیگنڈا اور ڈرامہ چڑھایا، اور ریٹنگ و ویوز کے لالچ میں سوشل میڈیا پر کچرا پھینک دیا۔ کوئی ٹحقیق بھی فرما لیتے۔

    “واقعہ ایک پرائیویٹ ھاؤسنگ سوسائیٹی کی بلڈنگ کے گراؤنڈ فلور پر موجود دو کیفے مالکان (خاتون اور مرد) کے درمیان پلازہ کے سامنے والے خالی پلاٹ پر قبضہ کرنے اور میزیں لگانے کے معاملے پر پیش آیا۔ سیکیورٹی عملے نے موقع پر پہنچ کر دونوں پر واضح کیا کہ سامنے پلاٹ کسی کی ملکیت نہیں ہے، لہٰذا اس کا تجارتی استعمال ممنوع ہے۔لہذاٰ پلاٹ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    یہ لوگ خبر نہیں بناتے، ب خبر کو سنسنی خیزی کا لبادہ پہناتے ہیں۔ انہیں نہ سچ سے دلچسپی ہے، نہ متاثرہ فریق سے، نہ قانون سے، نہ حقائق سے۔ ان کی پوری صحافت کا خلاصہ یہ ہے “پہلے پوسٹ کرو، بعد میں سوچو، یا بالکل نہ سوچو۔” افسوس یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ اتنے سادہ لوح، نااہل اور غیر پیشہ ور لوگ خود کو تحقیقاتی صحافی کہتے ہیں، حالانکہ ان کی “تحقیق” صرف اتنی ہوتی ہے کہ وائرل ویڈیو دیکھی، جذباتی کیپشن لگایا، دو لوگوں کو ٹیگ کیا اور جھوٹا بیانیہ بیچنا شروع کر دیا۔

    یہ صحافت نہیں، یہ سستی شہرت کا گھناؤنا کاروبار ہے۔
    نہ ریکارڈ چیک کیا، نہ متعلقہ ادارے سے مؤقف لیا، نہ زمین کی اصل قانونی حیثیت دیکھی ، بس ویوز کے نشے میں جو سامنے آیا، وہی پوسٹ کر دیا۔ ایسے لوگ دراصل سچ کے نہیں، سنسنی پھیلانے کے دلاّل ہیں۔ عقل وفہم سے عاری۔ ان کا مقصد حقائق سامنے لانا نہیں بلکہ عوام کے جذبات بھڑکا کر اپنی دکان چمکانا ہے۔ یہ رویہ صرف غیر ذمہ داری نہیں بلکہ صحافتی بددیانتی کی بدترین شکل ہے۔ جب صحافی تحقیق چھوڑ کر افواہ فروشی پر اتر آئے تو وہ معاشرے کی رہنمائی نہیں کرتا بلکہ گمراہی، اشتعال اور بے اعتمادی پھیلاتا ہے۔جو شخص تحقیق کے بغیر الزام اچھالے، وہ صحافی نہیں، فیکٹری میڈ پروپیگنڈسٹ ہے۔

    آج کل اعزاز سید جیسے صحافیوں کو سچ سے زیادہ اپنے ویوز عزیز ہیں، حقائق سے زیادہ اپنی ریچ پیاری ہے، اور پیشہ ورانہ دیانت سے زیادہ اپنی ریٹنگ کی فکر ہے۔ اسی لیے یہ لوگ ہر جذباتی ویڈیو کو “انویسٹی گیشن” اور ہر جھوٹے الزام کو “بریکنگ” بنا دیتے ہیں۔ اعزاز سید جیسے صحافی نہیں، ویوز کے بھوکے افواہ فروش ہیں۔ تحقیق ان کے بس کی بات نہیں، ڈرامہ بیچنا ان کا اصل ہنر ہے۔ ایک جھوٹ سے بھر پور جذباتی وائرل کلپ ملا اور یہ “تحقیقی صحافت” کے نام پر جھوٹ کی دکان کھول کر بیٹھ گئے۔ سچ کی تلاش نہیں، ریٹنگ کی تلاش ان کا اصل ایجنڈا ہے۔ ایسے نام نہاد صحافی خبر نہیں دیتے، فساد کو فیڈ کرتے ہیں۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عمار سولنگی کہتے ہیں کہ بدقسمتی سے اس پوسٹ کی طرف سےاعزاز سید
    ہماری صحافت کی حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ وہ ایک تحقیقاتی صحافی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے لیکن وہ صرف اس لیے حرکت میں آیا کیونکہ اس نے سوشل میڈیا پر ایک سنسنی خیز ویڈیو دیکھی ہے۔ اور نام نہاد صحافی نے صدر پاکستان کے علاوہ کسی اور کو ٹیگ نہیں کیا اور اس میں کسی اور کو نہیں بلکہ صدر پاکستان کی بیٹی کو شامل کیا ہے۔اور یہ سب حقائق کو جانچے بغیر۔یہ کچھ حقائق ہیں جو مجھے سندھ کے صحافی ہونے کے ناطے چند منٹوں میں معلوم ہو گئے۔

    کیس کا تعلق زمین کے قبضہ یا اس کے پلاٹ یا اس سے متعلق کسی دھوکہ دہی سے نہیں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ کراچی کی ایک ہاؤسنگ سوسائٹی میں کمرشل پلازہ کے گراؤنڈ فلور پر ایک دکان کی مالک ہے۔ وہ اور اس کے پڑوسی دکان کے مالک، دونوں نئے قائم کردہ / تجدید شدہ کیفے ٹیریا کے مالک ہیں۔ دونوں باہر بیٹھنے کے لیے سامنے کا لان/سبز جگہ استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان ایک ہی سبز جگہ کے استعمال پر جھگڑا ہوا اور اسی وجہ سے خاتون کو پڑوسی کیفے کے مالک کے خلاف وضاحتیں/الزامات لگاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ہاؤسنگ سوسائٹی کی انتظامیہ پہلے ہی مداخلت کر چکی ہے اور دونوں فریقوں کو بتا چکی ہے کہ کسی کو بھی اس سبز جگہ کے استعمال کی اجازت نہیں ہے۔

  • 
نجی اسکولز کا مطالبہ: تعلیمی ادارے 24 مارچ سے کھولے جائیں

    
نجی اسکولز کا مطالبہ: تعلیمی ادارے 24 مارچ سے کھولے جائیں

    
پاکستان پرائیویٹ اسکولز مینجمنٹ ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ تعلیمی ادارے 24 مارچ سے دوبارہ کھولے جائیں اور 31 مارچ تک تعطیلات کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے۔
    ایسوسی ایشن کے رہنما ابرار احمد خان کے مطابق پنجاب میں تدریسی دنوں کی تعداد صرف 124 ہے، جو عالمی اوسط 186 دنوں کے مقابلے میں بہت کم ہے، جس سے طلبہ کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے باوجود جنوبی ایشیا کے دیگر ممالک جیسے سری لنکا، بھارت اور بنگلادیش میں تعلیمی ادارے بند نہیں کیے گئے، اس لیے پنجاب میں بھی اس فیصلے پر نظرثانی ضروری ہے۔
    ‎واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صوبے بھر کے سرکاری و نجی اسکولوں کو 10 مارچ سے 31 مارچ تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔
    ‎محکمہ تعلیم نے نجی اسکولوں کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کی تجاویز پر غور کیا جائے گا تاکہ تعلیمی معیار کو بہتر بنایا جا سکے اور نصاب کی بروقت تکمیل یقینی بنائی جا سکے۔
    ‎تعلیمی حلقوں کی جانب سے یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ آئندہ تعلیمی سال میں ہفتہ وار چھٹیوں میں کمی کی جائے، جبکہ موسم گرما اور سرما کی تعطیلات کو محدود کر کے تعلیمی دنوں کی تعداد کم از کم 180 تک بڑھائی جائے۔ ساتھ ہی طلبہ کے لیے سمر کیمپس متعارف کرانے کی سفارش بھی کی گئی ہے تاکہ تعلیمی نقصان کا ازالہ ہو سکے۔

  • 
پاکستان میں فائیو جی کا آغاز، تین ٹیلی کام کمپنیوں کو اسپیکٹرم لائسنس جاری

    
پاکستان میں فائیو جی کا آغاز، تین ٹیلی کام کمپنیوں کو اسپیکٹرم لائسنس جاری

    
پاکستان میں فائیو جی ٹیکنالوجی کے آغاز کی جانب اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تین ٹیلی کام آپریٹرز کو فائیو جی اسپیکٹرم کے لائسنس جاری کر دیے گئے ہیں۔
    وزیر اعظم شہباز شریف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو جدید دور کا ایک بڑا سنگ میل قرار دیا اور کہا کہ فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی شفاف طریقے سے مکمل کی گئی ہے۔
    ‎انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کا فروغ صنعت، زراعت اور آئی ٹی کے شعبوں میں ترقی کے نئے دروازے کھولے گا، جبکہ حکومت کا ہدف ہے کہ ملک کے دور دراز علاقوں، دیہاتوں اور شہروں تک جدید سہولیات پہنچائی جائیں۔
    ‎وزیر اعظم نے مزید کہا کہ فائیو جی کے حوالے سے درپیش قانونی چیلنجز کو کامیابی سے حل کیا گیا اور اس میں متعلقہ اداروں نے اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے اس حوالے سے ٹیم کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اس منصوبے کو قانونی رکاوٹوں کا سامنا تھا، جسے اب مؤثر انداز میں دور کر لیا گیا ہے۔

  • ایندھن بچاؤ پالیسی پر اہم اجلاس، حکومت کا کفایت شعاری پر زور

    ایندھن بچاؤ پالیسی پر اہم اجلاس، حکومت کا کفایت شعاری پر زور

    
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری اقدامات پر اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملکی ذخائر، کھپت اور پیٹرولیم کارگوز سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
    اجلاس کو بتایا گیا کہ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کا مناسب ذخیرہ موجود ہے اور آئندہ ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مزید انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں۔ بریفنگ میں کہا گیا کہ وزیراعظم کی بروقت ہدایات کے باعث ایندھن کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں مدد ملی ہے۔
    ‎شرکاء کو آگاہ کیا گیا کہ مشرق وسطیٰ میں غیر مستحکم صورتحال کے باعث ایندھن کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے، جس سے نمٹنے کے لیے مزید بچت اقدامات ناگزیر ہیں۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ صوبوں کے ساتھ مل کر ایک جامع لائحہ عمل تیار کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔
    ‎اجلاس میں کفایت شعاری اقدامات پر عملدرآمد کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا گیا، جبکہ وزیراعظم نے کہا کہ ان پالیسیوں کے ذریعے عوام کو ریلیف فراہم کرنا ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے اشرافیہ پر زور دیا کہ وہ مثال قائم کرتے ہوئے بچت کو فروغ دیں۔
    ‎حکومت نے عوام سے اپیل کی کہ پیٹرول اور ڈیزل کے استعمال میں احتیاط برتیں، غیر ضروری سفر سے گریز کریں اور کار پولنگ کو فروغ دیں تاکہ ممکنہ قلت سے بچا جا سکے۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ تمام متعلقہ ادارے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہیں اور پیٹرولیم مصنوعات کی نگرانی کا عمل جاری رکھا جائے۔
    ‎اجلاس میں اعلیٰ سول و عسکری قیادت اور وفاقی وزرا نے شرکت کی اور بدلتی صورتحال کے مطابق حکمت عملی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔

  • 
پاکستان کا دوٹوک مؤقف: میزائل پروگرام پر امریکی بیان مسترد

    
پاکستان کا دوٹوک مؤقف: میزائل پروگرام پر امریکی بیان مسترد

    
ترجمان دفتر خارجہ نے پاکستان کے میزائل پروگرام سے متعلق امریکی ڈائریکٹر نیشنل انٹیلیجنس کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے اسے بے بنیاد قرار دیا ہے۔
    ترجمان کے مطابق پاکستان کی اسٹریٹجک صلاحیتیں مکمل طور پر دفاعی نوعیت کی حامل ہیں اور ان کا مقصد صرف قومی خودمختاری کا تحفظ اور خطے میں امن و استحکام کو برقرار رکھنا ہے۔
    ‎بیان میں کہا گیا کہ پاکستان ذمہ دار ریاست کے طور پر اپنے دفاع کو یقینی بنانے کا حق رکھتا ہے اور اس حوالے سے کسی بھی قسم کے غیر مصدقہ الزامات کو قبول نہیں کیا جا سکتا۔
    ‎دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان اپنی دفاعی پالیسی میں توازن برقرار رکھتے ہوئے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پرعزم ہے۔

  • 
پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عیدالفطر 21 مارچ کو ہوگی

    
پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا، عیدالفطر 21 مارچ کو ہوگی

    
پاکستان میں شوال کا چاند نظر نہیں آیا جس کے بعد مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ عیدالفطر 21 مارچ کو منائی جائے گی۔
    ‎ملک بھر سے چاند نظر آنے کی کوئی مستند شہادت موصول نہیں ہوئی، جس کے باعث رمضان المبارک کے 30 روزے مکمل کیے جائیں گے۔
    ‎رویت ہلال کمیٹی کے مطابق مختلف شہروں سے موصول ہونے والی اطلاعات اور سائنسی ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔
    ‎اعلان کے بعد ملک بھر میں عیدالفطر کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں اور شہری 21 مارچ کو عید منانے کے لیے پرجوش ہیں۔

  • 
شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری

    
شوال کا چاند دیکھنے کیلئے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری

    
اسلام آباد میں شوال کا چاند دیکھنے کے لیے مرکزی رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس جاری ہے، جس کی صدارت چیئرمین مولانا عبدالخبیر آزاد کر رہے ہیں۔
    اجلاس میں کمیٹی کے اراکین کے ساتھ ساتھ محکمہ موسمیات اور سپارکو کے نمائندے بھی شریک ہیں، جو مختلف علاقوں سے موصول ہونے والی معلومات اور سائنسی ڈیٹا کا جائزہ لے رہے ہیں۔
    ‎مرکزی رویت ہلال کمیٹی ملک بھر سے چاند نظر آنے یا نہ آنے سے متعلق شواہد جمع کرے گی، جس کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا کہ عیدالفطر کب منائی جائے گی۔
    ‎ذرائع کے مطابق رویت ہلال کمیٹی کا اعلان ہی عید کے تعین کے لیے حتمی سمجھا جائے گا، اور عوام اسی اعلان کے مطابق عیدالفطر کی تیاری کریں گے۔