Baaghi TV

Category: اسلام آباد

  • ‎رمضان المبارک میں پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن: 100 سے زائد بھکاری گرفتار

    ‎رمضان المبارک میں پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن: 100 سے زائد بھکاری گرفتار

    رمضان المبارک کے دوران آئریشن میں 100 سے زائد پیشہ ور بھکاریوں کو گرفتار کر کے حوالات منتقل کر دیا گیا ہے۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق رمضان المبارک میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں پیشہ ور بھکاریوں کے خلاف انتظامیہ کا سخت کریک ڈاؤن جاری ہے اور ڈی سی اسلام آباد نے تمام اے سیز کو خصوصی ٹاسک دیے ہوئے ہیں۔

    ڈی سی اسلام آباد عرفان میمن کے مطابق یکم رمضان سے اب تک 100 سے زائد بھکاریوں کو گرفتار کر کے حوالات منتقل کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی نے بتایا کہ تمام پیشہ ور گداگروں کا ڈیٹا مرتب کر کے ان کے دوبارہ اسلام آباد میں داخلے کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ رمضان میں فعال ہونے والے گداگری نیٹ ورکس کو ہر صورت روکا جائے گا، تاہم پیشہ ور گداگروں کے خلاف کاروائیاں شہریوں کے تعاون کے بغیر ممکن نہیں۔ ڈی سی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ جہاں بھی پیشہ ور گداگر دیکھیں اس کی فوری طور پر ضلع انتظامیہ کو اطلاع دیں۔

  • رمضان المبارک میں مہنگائی کے ستائے شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری

    رمضان المبارک میں مہنگائی کے ستائے شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری

    رمضان المبارک کے ماہ مقدس میں آسمان سے باتیں کرتی مہنگائی سے ستائے شہریوں کے لیے بڑی خوشخبری آ گئی ہے۔ پاکستان میں یوں تو غربت اور مہنگائی کا تناسب ہمیشہ ہی بڑھا رہتا ہے۔ تاہم رمضان کا مقدس مہینہ آتے ہی تو لگتا ہے کہ مہنگائی کا جن بوتل سے باہر آ گیا ہے۔
    کمشنر کراچی سید حسن نقوی نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ مہنگائی کی شکایت 1299 پر کریں، متعلقہ حکام فوری کارروائی کریں گے۔ دریں اثنا رمضان کے تیسرے روز بھی گراں فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 255 دکانداروں کے خلاف کارروائی کی گئی اور 26 لاکھ 27 ہزار روپے سے زائد جرمانہ عائد کیا گیا۔

  • پیٹرولیم مصنوعات میں سستا کیمیکل ملا کر مہنگے داموں بیچنے کا انکشاف

    پیٹرولیم مصنوعات میں سستا کیمیکل ملا کر مہنگے داموں بیچنے کا انکشاف

    ‎پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے پیٹرولیم مصنوعات میں سستے کیمیکلز کو ملا کر مہنگے داموں فروخت کرنے کے واقعے کا انکشاف کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے وزیرِ پیٹرولیم اور چیئرمین اوگرا کو خط لکھ کر اس ناجائز عمل کو روکنے کی اپیل کی ہے۔
    ‎خط میں بتایا گیا کہ سالونٹ آئل کو مخصوص صنعتی استعمال کے لیے تیار کیا جاتا ہے، مگر اسے پیٹرول اور ڈیزل میں ملا کر بیچا جا رہا ہے، جس سے غیر قانونی منافع کمایا جا رہا ہے۔ یہ کیمیکل گاڑیوں کے انجنوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے اور صحت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے، یہاں تک کہ کینسر کا باعث بن سکتا ہے۔
    ‎ایسوسی ایشن نے مطالبہ کیا ہے کہ سالونٹ آئل کی پیداوار اور درآمد کا فوری آڈٹ کیا جائے، جبکہ اس کی ترسیل، ذخیرہ اور فروخت پر سخت نگرانی، انسپیکشن اور لیبارٹری ٹیسٹنگ کو مؤثر بنایا جائے۔ ان اقدامات سے نہ صرف قانونی پیٹرول پمپ مالکان کو مالی نقصان سے بچایا جا سکے گا بلکہ حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں ہونے والے بھاری نقصان کو بھی روکا جا سکے گا۔

  • صومالیہ کی پاکستان سے جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کیلئے مذاکرات میں اہم پیشرفت

    صومالیہ کی پاکستان سے جے ایف 17 طیاروں کی خریداری کیلئے مذاکرات میں اہم پیشرفت

    صومالیہ اور پاکستان کے درمیان 24 جدید لڑاکا طیاروں کی خریداری کے حوالے سے مذاکرات میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔

    صومالیہ پاکستان سے جدید لڑاکا طیارے حاصل کرنے کیلئے اعلیٰ سطح مذاکرات میں تیزی لا رہا ہے اور مجوزہ معاہدے کے تحت 24 تک جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی خریداری پر غور جاری ہے، جو 1991 میں ریاستی انہدام کے بعد پہلی مرتبہ ملکی فضائی جنگی صلاحیت کی بحالی کی اہم کوشش قرار دی جا رہی ہے۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی پیکج تقریباً 2 کھرب 51 ارب روپے (900 ملین ڈالر) مالیت کا بتایا جا رہا ہے مذاکرات میں خاص طور پر جے ایف 17 کے جدید بلاک تھری ورژن پر توجہ دی جا رہی ہے دفاعی پیکج میں طیاروں کی فراہمی کے ساتھ پائلٹس کی تربیت، ہتھیاروں کا انضمام اور لاجسٹک سپورٹ بھی شامل ہو سکتی ہے۔

    اطلاعات کے مطابق سعودی عربیہ اور ترکیہ ممکنہ طور پر اس معاہدے کی مالی معاونت کر سکتے ہیں پاکستان اس سے قبل میانمار، نائجیریا اور آذربائیجان کو بھی جے ایف 17 طیارے فراہم کر چکا ہے، جبکہ بنگلادیش اور عراق نے بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق اگر یہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو یہ افریقہ کے خطے میں سیکیورٹی توازن پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

  • افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری،تجزیہ: شہزاد قریشی

    افغان سرزمین، ہمسائیگی کا حق اور اہلِ اقتدار کی ذمہ داری

    زمانہ گواہ ہے کہ جو خطہ آتش میں جلتا ہے، اُس کی تپش سرحدوں کی لکیر نہیں دیکھتی افغانستان آج پھر عالمی نگاہوں کا مرکز ہے؛ سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں، سفارتی مسکراہٹیں ہیں، اور مستقبل کے خواب بھی۔ مگر پسِ پردہ ایک سوال آہنی دروازے پر دستک دے رہا ہے: اگر افغان خاک کسی ہمسایہ کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو عالمی طاقتوں کی خاموشی کس مصلحت کا نام ہے؟-

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور خونچکاں سفر طے کیا ہے اس راہ میں بے شمار جانیں نذر ہوئیں، شہر سوگوار ہوئے، اور معیشت نے زخم سہے ایسے میں اگر سرحد پار سے شرپسند عناصر دوبارہ سر اُٹھائیں تو یہ صرف ایک ملک کا نہیں، پورے خطے کے وقار اور اطمینان کا مسئلہ ہے۔

    تحریک طالبان پاکستان کے بارے میں پاکستان کا موقف واضح ہے کہ اُن کی پناہ گاہیں سرحد پار موجود ہیں اگرچہ کابل اس الزام کی نفی کرتا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ امن محض بیان سے نہیں، اقدام سے آتا ہے جو ریاست اپنی سرزمین کو دوسروں کے خلاف استعمال ہونے سے نہ روک سکے، وہ خود بھی عدمِ استحکام کی گرد میں گھر جاتی ہے۔

    عالمی طاقتیں افغانستان میں معدنیات، راہداریوں اور سفارتی اثر و رسوخ کی بازی کھیل رہی ہیں مگر کیا استحکام کے بغیر سرمایہ کاری کی فصل بارآور ہو سکتی ہے؟ اگر پاکستان جیسے ہمسایہ میں اضطراب بڑھے گا تو اُس کی بازگشت کابل کی گلیوں تک ضرور پہنچے گی۔

    افغان عبوری حکومت کو سوچنا ہوگا کہ ہمسائیگی محض جغرافیہ نہیں، ایک اخلاقی عہد بھی ہے اسلام نے ہمسائے کے حق کو عبادت کے درجے تک بلند کیا ہے ایک اسلامی ریاست سے یہ توقع بجا ہے کہ وہ اپنی سرزمین کو کسی برادر ملک کے امن کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یہی حکمت ہے، یہی دین کا تقاضا بھی۔

    پاکستان اور افغانستان کی داستان صدیوں پر محیط ہے؛ مہاجرین کی میزبانی، ثقافتی رشتہ داری، اور مشترکہ دکھ سکھ اس تعلق کو محض سیاسی نہیں رہنے دیتے۔ آج ضرورت الزام کی نہیں، بصیرت کی ہے۔ مشترکہ بارڈر نظم، انٹیلی جنس کا تبادلہ، اور کھلا سفارتی مکالمہ ہی وہ چراغ ہیں جو اس اندھیرے کو کم کر سکتے ہیں۔
    وقت کا تقاضا ہے کہ عالمی برادری معاشی مفاد کے ساتھ سکیورٹی ذمہ داری کو بھی لازم و ملزوم سمجھے ورنہ تاریخ یہ سوال ضرور کرے گی کہ جب خطہ سلگ رہا تھا تو اہلِ اختیار خاموش کیوں تھے؟-

  • اسکاؤٹنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے،صدر مملکت

    اسکاؤٹنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے،صدر مملکت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے پانچ لاکھ سے زائد اسکاؤٹس کو مبارکباد دی۔

    تفصیلات کے مطابق صدر مملکت نے کہا کہ اسکاؤٹنگ نوجوانوں کی جسمانی، ذہنی اور روحانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتی ہے نوجوان کردار سازی پر توجہ دیں اسکاؤٹس کو گرین اور موسمیاتی لحاظ سے محفوظ پاکستان کیلئے متحرک ہونا چاہئیے منشیات سے پاک اور ڈیجیٹل طور پر بااختیار قوم کی تشکیل اہم ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہنگامی حالات اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ میں اسکاٶٹس کا کردار ناگزیر ہے پاکستان سے پولیو کے خاتمے میں اسکاؤٹس کی فعال شمولیت ضروری ہے، قائد اعظم نے اسکاؤ ٹنگ کو نوجوانوں کی کردار سازی کیلئے اہم قرار دیا تھا پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن عالمی سطح پر مزید مؤثر کردار ادا کرے گی،اسکاؤٹس قوم کی تعمیر میں مؤثر محرک ثابت ہوں گے۔

  • افغانستان میں کارروائی صرف  آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    افغانستان میں کارروائی صرف آپریشن نہیں ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو محفوظ پاکستان چاہتا ہے، طارق فضل چوہدری

    وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے خلاف سازشوں کا جال بُننے والوں کو ایک بار پھر واضح پیغام مل چکا ہے کہ یہ سرزمین کمزور نہیں بلکہ شہدا کے لہو سے مضبوط ہوئی ہے۔

    ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارتی سرپرستی میں پلنے والے فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں پر پاک فضائیہ کی بروقت اور مؤثر کاررو ا ئی اُن معصوم جانوں کا بدلہ ہے جو دہشتگردی کی آگ میں جھونک دی گئیں، یہ صرف ایک آپریشن نہیں بلکہ ہر اُس ماں کے آنسوؤں کا جواب ہے جس نے اپنے بیٹے کو وطن پر قربان کیا اور ہر اُس بچے کے خوابوں کا دفاع ہے جو ایک محفوظ پاکستان چاہتا ہے۔

    طارق فضل چوہدری نے کہا کہ جو بھی پاکستان کو کمزور سمجھنے کی غلطی کرے گا اسے یاد رکھنا چاہیے کہ ہم امن کے خواہاں ضرور ہیں، مگر اپنی سرزمین، اپنے عوام اور اپنے وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرتے انہوں نے خبردار کیا کہ جو میلی آنکھ سے دیکھے گا وہ نیست و نابود کر دیا جائے گا یہ وطن ہماری پہچان، ہماری غیرت اور ہمارا ایمان ہے انہوں نے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان پہلے بھی تھا، پاکستان آج بھی ہے اور پاکستان ہمیشہ رہے گا۔

    واضح رہے کہ آج شب پاکستان نے رات گئے افغانستان کے اندر قریباً 7 اہداف کو نشانہ بنایا ہے جن میں پاکستان کے خلاف برسرپیکار فتنہ الخوارج اور داعش خراسان کے دہشتگرد عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے کیمپس اور کمین گاہیں شامل ہیں۔

  • 3 کروڑ سے زائد نئی پیدائشوں کا تاحال نادرا میں اندراج نہ ہوسکا،  رپورٹ میں انکشاف

    3 کروڑ سے زائد نئی پیدائشوں کا تاحال نادرا میں اندراج نہ ہوسکا، رپورٹ میں انکشاف

    ملک بھر میں سال 2025 کے دوران یونین کونسل سطح پر رجسٹر ہونے والی 3 کروڑ 19 لاکھ پیدائشوں کا ریکارڈ تاحال نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے مرکزی ڈیٹا بیس میں اپ لوڈ نہیں کیا جا سکا۔

    یہ انکشاف نادرا کی تازہ کارکردگی رپورٹ میں کیا گیا ہے جو حال ہی میں وزارتِ داخلہ کو پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق نادرا کے مرکزی رجسٹر میں اس وقت 22 کروڑ 70 لاکھ افراد کا اندراج موجود ہے، جو ملک کی تقریباً 97 فیصد آبادی کا احاطہ کرتا ہے رجسٹرڈ افراد میں 52 فیصد مرد اور 48 فیصد خواتین شامل ہیں،نادرا کے بائیومیٹرک ذخیرے میں 17 کروڑ افراد کے چہرے کا ڈیٹا، 70 لاکھ کے آئرس اسکین اور ایک ارب 68 کروڑ سے زائد فنگر پرنٹس محفوظ ہیں صرف 2025 کے دوران 44 کروڑ 50 لاکھ بائیومیٹرک تصدیقات کی گئیں۔

    رپورٹ میں بتایا گیا کہ مجموعی قومی رجسٹریشن میں 4 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا، 18 سال سے کم عمر بچوں کی رجسٹریشن میں 11 فیصد، میعاد ختم ہونے والے شناختی کارڈز کی تجدید میں 24 فیصد جبکہ اموات کے بعد منسوخیوں میں 900 فیصد اضافہ ہوا خواتین کی رجسٹریشن میں بھی 8 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    سال کے اختتام تک ملک بھر میں 938 رجسٹریشن مراکز فعال تھے 75 نئے مراکز اور 138 نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے جبکہ موجودہ دفاتر میں 126 اضافی کاؤنٹرز کا اضافہ کیا گیا بیرونِ ملک پاکستانیوں کے لیے بھی 6 نئے کاؤنٹرز قائم کیے گئے ڈیجیٹل سہولت کے طور پر ’پاک آئیڈینٹیٹی‘ موبائل ایپ نے مجموعی کام کا 15 فیصد سنبھالا، جسے ایک کروڑ 20 لاکھ سے زائد بار ڈاؤن لوڈ کیا گیا رپورٹ میں اعتراف کیا گیا کہ بعض علاقوں میں خواتین اور کم عمر بچوں کی رجسٹریشن میں اب بھی خلا موجود ہے۔

  • پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ، طالبان کمانڈر سمیت متعدد ہلاک

    پاکستان کے افغانستان میں فضائی حملے، دہشت گردوں کے 7 ٹھکانے تباہ، طالبان کمانڈر سمیت متعدد ہلاک

    پاکستان نے سرحد پار دہشت گردی کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر افغانستان کے مشرقی علاقوں میں بڑا انٹیلیجنس بیسڈ فضائی آپریشن کرتے ہوئے شدت پسندوں کے سات اہم ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں طالبان کمانڈر اختر محمد سمیت متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے۔

    ذرائع کے مطابق صوبہ پکتیکا کے ضلع برمل میں جیٹ طیاروں نے دہشت گردوں کی پناہ گاہوں پر درست نشانہ لگایا، جہاں زوردار دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں، کارروائی کے دوران شدت پسندوں کے استعمال میں آنے والی تنصیبات کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

    افغان میڈیا رپورٹس کے مطابق پکتیکا کے بعد ننگرہار کے ضلع خوگیانی میں بھی فضائی کارروائی کی گئی، جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور مبینہ تربیتی مراکز کو نشانہ بنایا گیاافغانستان کے مرغہ علاقے میں واقع بنوسی مدرسہ میں دھماکے سے 10 سے زائد افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں یہ علاقہ کمانڈر خارجی اختر محمد مرکز سے منسلک ہے ننگرہار جلال آباد کے ضلع کامی میں بھی دو اہداف جیٹ طیاروں سے کامیابی کے ساتھ نشانہ بنا لیے گئے ہیں جبکہ شاہینوں کی پروازیں بد ستور جاری ہیں۔

    افغانستان کے صوبہ پکتیکا کے علاقے بر مل میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر دھماکوں کے نتیجے میں کئی دہشت گروں کے مارے جانے کی اطلاع ہے۔ ذرائع کے مطابق طالبان کمانڈر اختر محمد پکتیا میں مارا گیا افغانستان کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر بمباری کی گئی جس میں دہشت گردوں کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہوگیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات پاکستان کے مطابق جنگی طیاروں نے دہشت گرد ی کےجوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارج اور اس کے منسلک گروہوں، نیز سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔ اور فتنہ الخوارج کے ٹھکانوں کو تباہ کردیا۔

    وزارت اطلاعات و نشریات سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرےاور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

    پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں پاکستان میں حالیہ خودکش دھماکوں کے بعد، جن میں اسلام آباد میں ایک امام بارگاہ پر حملہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک واقعہ، اور ماہِ مقدس رمضان کے دوران بنوں میں پیش آنے والا ایک اور واقعہ شامل ہے۔

    وزارت اطلاعات کے مطابق پاکستان کے پاس اس بات کے ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ یہ دہشت گردی کے اقدامات خارجی عناصر نے اپنی افغانستان میں موجود قیادت اور ہینڈلرز کی ایما پر انجام دیے۔

    ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں موجود پاکستان طالبان، فتنہ الخوارج اور اس سے منسلک گروہوں، نیز اسلامک اسٹیٹ خراسان صوبہ نے بھی قبول کی۔

    پاکستان کی جانب سے افغان طالبان حکومت پر بارہا زور دیا گیا کہ وہ قابلِ تصدیق اقدامات کے ذریعے افغان سرزمین کو دہشت گرد گروہوں اور غیر ملکی پراکسیز کے استعمال سے روکے، تاہم افغان طالبان حکومت ان عناصر کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

    پاکستان ہمیشہ خطے میں امن و استحکام کے لیے کوشاں رہا ہے، لیکن اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہےاسی تناظر میں پاکستان نے جوابی اقدام کے طور پر پاکستان-افغان سرحدی علاقے میں خارجی دہشت گردوں، فتنہ الخوارجاور اس کے منسلک گروہوں، نیز سے وابستہ سات دہشت گرد کیمپوں اور ٹھکانوں کو انٹیلی جنس بنیادوں پر نہایت درستگی اور احتیاط کے ساتھ نشانہ بنایا۔

    پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع اور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرےاور اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف خارجیوں اور دہشت گردوں کے استعمال سے روکے، کیونکہ پاکستان کے عوام کی سلامتی اور تحفظ سب سے مقدم ہے۔

    پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع رکھتا ہے کہ وہ مثبت اور تعمیری کردار ادا کرتے ہوئے طالبان حکومت کو دوحہ معاہدے کے تحت اپنی ذمہ داریوں کی پاسداری پر آمادہ کرے،تاکہ کسی بھی ملک کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو روکا جا سکے جو علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔

  • پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

    پاکستان نے افغانستان میں دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی

    وزارت اطلاعات و نشریات کی پریس ریلیز کے مطابق، پاکستان نے باضابطہ طور پر افغان سرزمین کے اندر درست فضائی حملے کرنے، تحریک طالبان پاکستان (TTP)، القاعدہ کے عناصر، اور ISIS-Khorasan Province (ISKP) سے منسلک عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنانے کا باضابطہ اعتراف کیا ہے۔

    پاکستان میں حالیہ خودکش بم دھماکوں کے واقعات، بشمول اسلام آباد کی امام بارگاہ، باجوڑ اور بنوں میں ایک ایک اور آج بنوں میں رمضان کے مقدس مہینے کے دوران ایک اور واقعے کے بعد،پاکستان کے پاس اس بات کے حتمی شواہد موجود ہیں کہ دہشت گردی کی یہ کارروائیاں خوارج نے اپنی افغانستان میں مقیم قیادت اور ہینڈلرز کی ایماء پر کیں۔

    ان حملوں کی ذمہ داری افغانستان میں مقیم پاکستانی طالبان جن کا تعلق فتنہ الخوارج (ایف اے کے) اور ان سے وابستہ تنظیموں اور دولت اسلامیہ خرا سا ن صوبہ (آئی ایس کے پی) نے بھی قبول کیا تھا۔

    دہشتگردوں کیخلاف ان کی موجودگی کے مقام سے قطع نظر بلارعایت کارروائیاں کریں گے،آئی ایس پی آر

    پاکستان کی طرف سے افغان طالبان کی حکومت پر دہشت گرد گروپوں اور غیر ملکی پراکسیوں کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو انجام دینے کے لیے افغان سرزمین کے استعمال کو روکنے کے لیے قابل تصدیق اقدامات کرنے پر زور دینے کی بار بار کوششوں کے باوجود، افغان طالبان حکومت ان کے خلاف کوئی ٹھوس کارروائی کرنے میں ناکام رہی۔

    پاکستان نے ہمیشہ خطے میں امن واستحکام برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی حفاظت اور سلامتی ہماری اولین ترجیح ہے اس پس پردہ ردعمل میں، پاکستان نے جوابی کارروائی میں، پاکستانی طالبان کے FAK اور اس سے وابستہ تنظیموں اور ISKP کے سات دہشت گردوں کے کیمپوں اور ٹھکانوں کو درست اور درستگی کے ساتھ پاک افغان سرحد کے سرحدی علاقے میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر منتخب کیا ہے۔

    پاکستان، سعودی عرب سمیت اسلامی ممالک کی اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر کے بیان کی شدید مذمت

    پاکستان عبوری افغان حکومت سے توقع کرتا ہے اور اس کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گا اور خوارج اور دہشت گردوں کی جانب سے پا کستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال سے انکار کرے گا کیونکہ پاکستان کے لوگوں کی حفاظت سب سے پہلے ہے پاکستان بین الاقوامی برادری سے بھی توقع کرتا ہے کہ وہ طالبان حکومت پر زور دے کر مثبت اور تعمیری کردار ادا کرے گا کہ وہ دوحہ معاہدے کے حصے کے طور پر اپنی سرزمین کو دوسرے مما لک کے خلاف استعمال کرنے سے روکنے کے لیے اپنے وعدوں پر قائم رہے، علاقائی اور عالمی امن اور سلامتی کے لیے ایک اہم اقدام۔