Baaghi TV

Category: کراچی

  • ساحل پر پھنسنے والے جہاز ہینگ ٹانگ کو نکالنے کے حوالے سے اہم پیشرفت

    ساحل پر پھنسنے والے جہاز ہینگ ٹانگ کو نکالنے کے حوالے سے اہم پیشرفت

    ساحل پر پھنسنے والے جہاز ہینگ ٹانگ 77کو نکالنے کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آگئی۔ ڈائریکٹرجنرل پورٹ اینڈ شپنگ نے سیلویج پلان کے حوالے سے کمیٹی تشکیل دیدی۔کمیٹی جہاز کے مالک کے جانب سے مقرر کردہ سی میک کمپنی کے پلان کا جائزہ لے گی ۔
    کمیٹی جہاز کو نکالنے کے آپریشن کی تکنیکی،حفاظتی اور موسمیاتی جانچ کرکے پلان کی اجازت دیگی۔

    کمیٹی میں ڈپٹی کنسرویٹر کیپٹن محمد الطاف، پرنسپل آفیسر ایم ایم ڈی سلمان رضا اور چیف انجینئر وامق ابرار صدیقی شامل ہیں۔ کیپٹن عاصم شپنگ ایجنٹ کا کہنا تھا کمیٹی کی اجازت کے بعد ہی جہاز کونکالنے کا عمل شروع ہوسکے گا۔ جہاز کو ہائی ٹائیڈ میں ہی نکالا جاسکتا ہے 9 سے 12اگست میں ہائی ٹائیڈ ہوگی۔

  • کراچی ایئرپورٹ پر دبئی جانے والے مسافروں کو سفر کرنے سے روک دیا گیا

    کراچی ایئرپورٹ پر دبئی جانے والے مسافروں کو سفر کرنے سے روک دیا گیا

    جناح انٹر نیشنل ایئرپورٹ پردبئی جانے والے 70 سے زائد مسافروں کو بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کیے گئے۔تفصیلات کے مطابق کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پردبئی جانے والے مسافروں کو سفر کرنے سے روک دیا گیا، اور 70 سے زائد مسافروں کو بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مسافروں کے پاس ریپڈ انٹیجنٹ کی رپورٹ موجود نہیں تھی۔
    ذرائع کے مطابق مسافر ایمریٹس ایئر کی پرواز ای کے 601 کے ذریعے دبئی جانا چاہتے تھے، جب کہ غیر ملکی ایئر لائن (ایمریٹس ایئر) کی جانب سے مسافروں کیلئے نئی شرط لاگو کی گئی ہے، مسافروں کو پی سی آر ٹیسٹ کے ساتھ پرواز سے 4 گھنٹے قبل ریپڈ انٹیجنٹ ٹیسٹ کی شرط لاگو ہے، مسافروں کو ایئرپورٹ آمد سے 4 گھنٹے قبل ریپڈ انٹیجنٹ کے بغیر بورڈنگ کارڈ جاری نہیں کیے جارہے۔
    مسافروں کا کراچی ایئرپورٹ پر لاونج میں رش لگ گیا ہے اور مسافر احتجاج کر رہے ہیں، جب کہ ایئر پورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرانزٹ مسافروں کو پی سی آر ٹیسٹ پر جانے کی اجازت ہے، صرف دبئی جانے والے مسافر جن کے ریپڈ انٹیجنٹ ٹیسٹ کی رپورٹ نہیں ہے وہ سفر نہیں کرسکتے، وہ مسافر جو دبئی سے ویکسین لگوا کر آئے ہیں انھیں سفر کی اجازت ہے، سی اے اے اور محکمہ صحت کی جانب سے ریپڈ ٹیسٹ کی سہولت صرف بیرون ملک سے کراچی آنے والے مسافروں کو فراہم کی جاتی ہے۔

  • سول اسپتال کراچی کے ایم ایل او ڈاکٹر نثار علی شاہ کا کورونا سے انتقال

    سول اسپتال کراچی کے ایم ایل او ڈاکٹر نثار علی شاہ کا کورونا سے انتقال

    ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایک اور ڈاکٹر کی کورونا وائرس نے جان لے لی۔سول اسپتال کراچی کے ایم ایل او ڈاکٹر نثار علی شاہ کورونا وائرس کا شکار ہونے کے باعث انتقال کر گئے۔

    پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم ای)کے مطابق سول اسپتال کے ایم ایل او ڈاکٹر نثار علی شاہ گزشتہ 1 ہفتے سے وینٹی لیٹر پر تھے۔پی ایم اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایم ایل او سول اسپتال ڈاکٹر نثار علی شاہ کے انتقال کے بعد سندھ بھر میں کورونا وائرس سے انتقال کرنے والے ڈاکٹروں کی تعداد 72 ہو گئی ہے۔

  • ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب کراچی کے لئے بہترین انتخاب ہیں ،سیدہ تحسین عابدی

    ایڈمنسٹریٹر مرتضی وہاب کراچی کے لئے بہترین انتخاب ہیں ،سیدہ تحسین عابدی

    پاکستان پیپلزپارٹی کی رہنما تحسین عابدی نے کہا ہے کہ یڈمنسٹریٹر کراچی مرتضی وہاب کو کراچی کے لئے بہترین انتخاب ہیں ایڈمنسٹریٹر کراچی کا چارج سنبھالنے پر ر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ کراچی اب نظر انداز نہیں ہوگا۔ سیدہ تحسین عابدی نے کہا کہ مرتضی وہاب کراچی کی تکالیف سے واقف ہیں پل کا کردار ادا کرکے عوام کو تمام مسائل سئے نجات دلائیں گے۔
    تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ دینا چاہئے۔ کراچی منی پاکستان ہے اسکا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے۔ سندھ حکومت سارے وسائل استعمال کریگی ۔ وفاق بھی کراچی دوستی کا ثبوت دے۔پی پی پی اور اسکے فیصلے کراچی کی ترقی کے لئے ہیں ۔ کراچی کے عوام اب صرف ترقی چاہتے ہیں ۔ کراچی کی اہم شخصیات پی پی پی میں شامل ہو رہی ہیں ۔
    سیدہ تحسین عابدی نے مذید کہا کہ کے ایم سی , کے ڈی اے اور تباہ حال اداروں کو دوبارہ منظم کرنے کے لئے سندھ حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ کے ایم سی میں بھی ادارے کی ساکھ اور وسائل کو درست استعمال کرکے ادارے کی ساکھ بحال کرنے کے لئے مرتضی وہاب جیسے ذہیں اور ایماندار ایڈمنسٹریٹر کی تعیناتی کراچی کے لئے اچھی اور تعمیری کاوشوں کا آغاز ہے ۔ بلاول بھٹو کراچی پر توجہ دے رہے ہیں جس سے مخالفین خوفزدہ ہیں ۔ کیونکہ پیپکزپارٹی اب شہری علاقوں کی بھی مقبول جماعت بن چکی ہے ۔

  • بیرسٹر مرتضی وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی کی حیثیت سے خوش آمدید کہتے ہیں،محمد رضوان خان

    بیرسٹر مرتضی وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی کی حیثیت سے خوش آمدید کہتے ہیں،محمد رضوان خان

    کراچی ّآفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے صدر محمد رضوان خان نے کہا ہے کہ ہم بیرسٹر مرتضی وہاب کو ایڈمنسٹریٹر کراچی کی حیثیت سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ افسران میں انکی تعیناتی سے خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ محمد رضوان خان نے کہا کہ پنشنرز ، ریٹائرڈ ملازمین اور سیاست کا شکار افراد اب اچھے کی توقع رکھتے ہیں ۔
    ایڈمنسٹریٹر کراچی ان25افسران کی سالہا سال سے انتقامی اور پسند ناپسند اور فرمائشی پروگرام پورے نہ کرنے پر سب سے پہلے نوٹس لیں ۔سیاسی بنایدوں پر نشانہ بننے والوں کو انصاف دیا جائے۔ او پی ایس، ڈبل چارج ، چیف سیکریٹری اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم کے باوجود تعیناتی سے محروم افسران کی داد رسی کی جائے۔ کراچی آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن انکے شانہ بشانہ ہوگی۔
    ہمیں توقع ہے کہ وہ کراچی کے عوام اور کے ایم سی کے لئے مسیحا ثابت ہوں گے۔ جنرل سیکریٹری کووا ایاز محمد خان نے کہا کہ کراچی کی ترقی کا ایندھن فرض شناس افراد ہیں اور مرتضی وہاب ان میں سے ایک ہیں۔ کے ایم سی کو مرتضی وہاب ہی پائوں پر کھڑا کرسکتے ہیں ۔ کراچی کی ترقی ادارے کی بہتری کے لئے مکمل تعاون کریں گے۔ نائن صدر منظر وارثی نے کہا کہ ایک سال تک کے ایم سی کو تختہ مشق بنایا گیا۔
    انہیں اسکی بھی گہرائی میں جا کر دیکھنا ہوگا۔ نائب صدر عدنان محمد خان نے کہا کہ ریونیو ڈپارٹمنٹ کوئی کارکردگی نہیں دکھا سکے ۔ جسکی وجہ سے کے ایم سی کی ابتر حالت ہے اس لئے جو کام کرے اسے تعیناتی دی جائے۔ سیکریٹری اطلاعات محمد فرحان خان نے کہا کہ ریکوری بڑھانے کے لئے ہم 50تجاویز پیش کریں گے جو ادارے کو مستحکم کرینگیں ۔ محمد فرحان خان ، مرتضی وہاب کی چھی شہرت کراچی میں اداروں اور اسٹیک ہولڈرز کو کتوجہ کریگی۔
    کراچی کی قسمت بدلے گی۔ جمال ناصر، عمرانہ اشفاق، واراکین مرکزی مجلس عاملہ نے کہا ہے کہ وہ کالی بھیڑوں سے بچیں اور خود واچ کرکے کسی کے پروپیگنڈے میں آئے بغیر کام کریں ۔ کے ایم سی میںگریڈ انیس کے سینئر تجربہ کار افسر رشوت نہ دینے یا سیاسی فرمائشی پروگرام پر ہٹادیئے گئے ہیں جو ادارے کو چار چاند لگاتے۔ سابق ایڈمنسٹریٹر نے میونسپل کمشنر کو عضو معطل بنا کر ادارے کو نقصان پہنچایا۔

  • گلشن معمار سے ڈکیتی کی واردات کے بعد فرار ہونے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار

    گلشن معمار سے ڈکیتی کی واردات کے بعد فرار ہونے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار

    گلشن معمار سے ڈکیتی کی واردات کے بعد فرار ہونے والا ملزم رنگے ہاتھوں گرفتار۔

    ملزمان نے شہری جاوید علی سے اسلحہ کے زور پر موبائل فون، نقدی چھینی اور فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی۔

    ایس ایچ او گلشن معمار کی ٹیم نے ملزمان کا تعاقب کرتے ہوئے B-52 بس اسٹاپ کے قریب کاروائی کر کے ملزم محمد حسین ولد شرافت خان کو گرفتار کیا۔گرفتار ملزم سے غیر قانونی اسلحہ بمعہ لوڈ میگزین اور شہری جاوید علی سے چھینی گئی نقدی اور موبائل فون بھی برآمد کر لیا۔گرفتار ملزم کیخلاف شہری کی مدعیت میں ڈکیتی سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمات درج کر لیا ہے۔

    ملزم اپنے ساتھی کے ہمراہ گلشن معمار اور سائیٹ سپرہائی وے اور اطراف کے علاقوں میں وارداتیں کرتا تھا۔ملزم کو مزید وارداتوں میں شناخت و تفتیش کے لئے تفتیشی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔

    گرفتار ملزم کے خلاف پہلے سے درج مقدمات کی تفصیلات حاصل کی جارہی ہیں۔گرفتار ملزم کے فرار ساتھی کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔

  • نوجوان لڑکے کے ساتھ زیادتی کی کوشش کے دوران ملزم ہلاک

    نوجوان لڑکے کے ساتھ زیادتی کی کوشش کے دوران ملزم ہلاک

    نوجوان لڑکے کے ساتھ زیادتی کی کوشش کے دوران ملزم ہلاک

    کراچی کے علاقے جھنجھار گوٹھ میں متاثرہ نوجوان نےزیادتی کی کوشش کرنے والے 55 سالہ ملزم کو چاقو کے وار سے ہلاک کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق واقعہ گزشتہ ماہ گلشن معمار سے ملحقہ کچی آبادی میں پیش آیا تھا۔ واقعہ کی اطلاع ملنے پر امدادی ٹیم موقع پر پہنچی اور لاش کو ضروری کارروائی کیلئے عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا۔

    اسپتال انتظامیہ کے مطابق ہلاک شخص کے جسم کے مختلف حصوں پر 17 بار وار کیا گیا تھا۔ پوسٹمارٹم کے بعد لاش لواحقین کے سپرد کردی گئی تھی۔ بظاہر دیکھنے میں یہ ایک عام سی قتل کی واردات لگ رہی تھی، تاہم اس کیس میں اہم موڑ اس وقت سامنے آیا، جب مقتول کا بیٹا باپ کے قتل کی ایف آئی ار درج کرانے پولیس اسٹیشن پہنچا۔ واقعہ کی تحقیقات شروع ہوئی اور پھر تہہ در تہہ کیس میں سنسنی خیز انکشافات کا سلسلہ سامنے آتا رہا۔

    پولیس کے مطابق مقتول کی شناخت محمد ہاشم کے نام سے کی گئی، جو سپر ہائی وے پر قائم پھل اور سبزی منڈی میں چائے کی فروخت کا کام کرتا تھا۔ مقتول خیبر پختونخوا کے علاقے باجوڑ کا رہائشی تھا، جو کراچی میں روزگار کیلئے آیا تھا۔ مقتول شخص نے کام کیلئے بہادر گوٹھ جو اسکیم 33 کی کچی آبادی کا ملحقہ حصہ ہے، رہائش اختیار کی۔

    لواحقین کے مطابق ان کے والد کی کسی سے کوئی دشمنی نہ تھا، جس کے بعد قتل کی واردات گھر والوں کیلئے معمہ بنی ہوئی تھی۔ تاہم 2 اگست کو قتل کے چار روز بعد جب مقتول کا بیٹا محمد اشرف سائٹ سپر ہائی وے پولیس اسٹیشن پہنچا اور مقدمہ درج کرنے کا کہا تو پولیس کو معاملے کی تفتیش کا آغاز کرنا پڑا۔

    مقدمے میں مقتول کے بیٹے نے محمد شاہ نامی شخص کو نامزد کیا، جو بیٹے کے خیال میں اس کے والد کا قاتل تھا۔ اپنے ابتدائی بیان میں محمد اشرف نے پولیس کو بتایا کہ میرے والد کی خادم حسین نامی شخص سے دوستی تھی، جو جھنجھار گوٹھ میں رہتا تھا۔ خادم حسین کے گھر محمد شاہ کا بھی کافی آنا جانا تھا، جو خود بھی اسی علاقے میں چائے فروخت کرنے کا کام کرتا تھا۔ اس طرح میرے والد کی محمد شاہ سے بھی دوستی ہوگئی تھی۔

    بیٹے نے الزام عائد کرتے ہوئے پولیس کو بتایا کہ محمد شاہ اور اس کے ساتھیوں نے ملکر اس کے والد کو نا معلوم وجوہات کی بنا پر قتل کیا ہے۔
    پولیس کی جانب سے پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ1090/21 سیکشن 302 اور 34 کے تحت محمد شاہ ور نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور بعد ازاں پھل اور سبزی منڈی میں چھاپے کے دوران محمد شاہ کو گرفتار کیا۔ سہراب گوٹھ کے ڈیویژنل سپریٹنڈنٹ پولیس سہیل فیض نے بتایا کہ گرفتاری کے بعد ملزم نے اپنے جرم کا اعتراف کیا اور بتایا کہ اس نے محمد ہاشم کا قتل کیوں کیا تھا۔

    واقعہ بیان کرتے ہوئے نوجوان محمد شاہ نے بتایا کہ وقوعہ کے روز وہ خادم حسین سے ملنے اس کے گھر گیا تھا۔ جہاں محمد ہاشم اکیلا موجود تھا۔ اس دوران محمد ہاشم نے اسے اکیلا پا کر اسے کے کپڑے اتارنا چاہیئے، جس پر اس نے ریپ کرنے کی کوشش کے دوران ملزم کو روکنے کیلئے ہاتھ پاؤں چلائے۔ اس دوران محمد ہاشم گھر میں رکھی چھری لے آیا، اور اس سے اس کے کپڑے پھاڑنے لگا، جس سے اس کا ٹراؤزر پھٹ گیا۔

    محمد شاہ نے اپنے بیان میں مزید بتایا کہ مزاحمت کے دوران اس نے محمد ہاشم کے ہاتھ سے چاقو چھین لیا اور ملزم پر اس وقت تک وار کرتا رہا جب تک وہ مر نہ گیا۔

    محمد شاہ کے بیان کی تصدیق کیلئے پولیس کی جانب سے محمد شاہ کا میڈیکل ٹیسٹ کرایا گیا، جس پر اس بات کی تصدیق ہوئی کہ محمد شاہ کے پیٹ اور ٹانگوں کے نیچے متعدد زخم موجود ہیں، جب کہ جسم کے دیگر حصوں پر بھی خراش کے نشانات ہیں۔
    ڈی ایس پی کے مطابق نوجوان کی عمر 15 سال ہے، جس کی نشاندہی پر آلہ قتل بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔

  • ارشد جمال کو یونائٹڈ بزنس گروپ کا نائب صدر بننے پر مبارکباد

    ارشد جمال کو یونائٹڈ بزنس گروپ کا نائب صدر بننے پر مبارکباد

    کاٹی کے سابق چیئرمین، کے بی جی کے صدر فرحان الرحمن اور سابق سینئر نائب صدر کاٹی، چیف ترجمان کے بی جی فراز الرحمن نے ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر ارشد جمال کو یونائٹڈ بزنس گروپ کا نائب صدر بننے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے اسے منیر بھائی جان اور یو بی جی قیادت کا بہترین فیصلہ قرار دیاہے۔
    ایک بیان میں فرحان الرحمن اور فراز الرحمن نے کہا کہ ارشد جمال کی پاکستان کی بزنس کمیونٹی کے لیے خدمات قابل قدر ہیں اور انکی بطور نائب صدر تعیناتی سے یوبی جی مزید مستحکم ہو گی، ان کا کہنا تھا کہ ارشد جمال فیڈریشن اور ایسوسی ایشنز کے معاملات میں ماہر ہیں وہ ایف پی سی سی آئی کے سابق نائب صدر رہ چکے ہیں، کراچی کسٹم ایجنٹس ایسوسی ایشن اور پاکستان ایجنٹس ایسوسی ایشن کے بھی بانیوں میں سے ہیں وہ بزنس کمیونٹی کے مسائل پر گہری نظر بھی رکھتے ہیں۔

  • ایف پی سی سی آئی اور عمان چیمبر کا معاشی اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر غور

    ایف پی سی سی آئی اور عمان چیمبر کا معاشی اور تجارتی تعلقات بڑھانے پر غور

    امجد رفیع کنوینر انٹرنیشنل فورمز ایف پی سی سی آئی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سلطنت عمان اسٹریٹجک اتحادی ہیں اور دوستانہ پڑوسی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں برادر ممالک نے ہمیشہ گرمجوشی اور خوشگوار تعلقات کا لطف اٹھایا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے نائب صدر حنیف لاکھانی نے کہا کہ دو طرفہ تعاون کے لیے زرعی شعبے، ٹیکسٹائل اور خوراک کے شعبے کی صلاحیت بہت زیادہ ہے۔
    انہوں نے کہاکہ تجارتی وفود کی ریگولر بات چیت اور وفود کے تبادلے، تجارتی نمائشوں، دو طرفہ کاروباری کونسلوں کو ایکٹو کرنے، معلومات کے تبادلے کی تجویز دی۔ حنیف لاکھانی نے مزید کہا کہ پاکستانی کمیونٹی عمان کی ترقی میں اہم شراکت دار ہے۔ انہوں نے کہاکہ بینکاری، صحت، تعلیم، پٹرولیم اور خوراک کے شعبوں میں پاکستانی مزدوروں کے لیے روزگار کے زیادہ مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
    اعدادوشمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دو طرفہ تجارت کا حجم 764 ملین امریکی ڈالر ہے اور یہ حقیقی پوٹینشل سے کافی کم ہے ۔ انہوں نے حکومت عمان سے درخواست کی کہ وہ پاکستانی کاروباری برادری کے لیے ویزا جاری کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانے کے لیے اقدامات کرے۔انجینئر ریدھا بن جمعہ الصالح، چیئرمین عمان چیمبر( او سی سی آئی) نے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون اور تجربات کے اشتراک کی ضرورت پر زور دیا۔
    انہوں نے عمان کے اقتصادی زونز میں غیر ملکی سرمایہ کاری، کیمیکلز، پلاسٹک، دھاتیں، معدنیات، برقی آلات وغیرہ میں تعاون کی ضرورت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے سرمایہ کاروں کے لیے طویل مدتی ویزا کی دستیابی اور ٹیکس مراعات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ K.K Ahsan Wagan ،عمان میں پاکستان کے سفیر نے کوویڈ 19 کے اثرات کے باوجود پاکستان کی برآمدی کارکردگی کو سراہا۔
    انہوں نے کہا کہ گوادر بندرگاہ اور سلالہ بندرگاہ کے ذریعے دونوں ممالک کے رابطے کے لیے موثر مواصلاتی خدمات دستیاب ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ دونوں بندرگاہوں پر انفراسٹرکچر اور دیگر سہولیات دستیاب ہیں۔ انہوں نے گوشت کی برآمدات کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی اور پاکستانی برآمد کنندگان کا عمان کی البشر میٹ کمپنی کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔
    پاکستان میں عمان کے سفیر Al Sheikh Mohammed Omer Ahmed Al Marhoon نے گوادر اور سلالہ بندرگاہوں کے ذریعے پاکستان اور عمان کے درمیان تجارتی مواقع اور عمان، مشرق وسطی، افریقی ممالک اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے لیے پاکستان کو دستیاب مارکیٹ رسائی کے بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کے دوران پاکستان اور عمان دونوں نے اپنے اپنے ممالک میں سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع پیش پر معلومات فراہم کیں۔
    پاکستانی طرف سے پریزنٹیشن امجد رفیع کنوینر انٹرنیشنل فورمز ایف پی سی سی آئی نے دی۔ انہوں نے زراعت کے شعبے، چاول، سی فوڈ، گوشت، سبزیوں، پھلوں، دودھ کی مصنوعات، دواسازی، ٹیکسٹائل، سوتی دھاگے، تعمیرات اور پیٹروکیمیکل کی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے عمانی سرمایہ کاروں کو دعوت دی کہ وہ سی پیک سے متعلقہ خصوصی اقتصادی زونوں کا بھرپور استعمال کریں ۔

  • پاکستان میں بھی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس آن لائن کی جائے، محمد ارشد جمال

    پاکستان میں بھی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس آن لائن کی جائے، محمد ارشد جمال

    بین الاقوامی سطح پر تمام کارگو آپریشن 24گھنٹے کی بنیاد پر چلتے ہیں اورکنسائنمنٹ کی کلیئر نس اور ڈیوٹی و ٹیکسز کی ادائیگیاں آن لائن کے ذریعے کی جاتی ہیں لیکن پاکستان میںکنسائنمنٹس کی کلیئرنس آن لائن نہیں کی جارہی جس سے کنسائنمنٹس کی کلیئرنس تاخیر کا شکار ہورہی ہے جبکہ بین الاقوامی طور پر کنسائنمنٹس کی کلیئرسن 48 گھنٹے میں ہونی چاہئے ۔
    ان خیالات کا اظہار آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسو سی ایشن کے رہنما محمد ارشد جمال نے ا یم سی سی پریونیٹو ایئر فریٹ یونٹ کراچی کے تاجروں کے ساتھ مشترکہ میٹنگ میں کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت سنگل ونڈوآپریشن کے تصورکی وکالت کررہی ہے اور کلیئرنس اِن دی اسکائی نے نام سے کلیئرنس سسٹم بھی متعارف کروارہی ہے جبکہ دوسری جانب تاجروں کو اپنے قیمتی سامان کی کلیئرنس کے لیے بھاری ٹیکس کی ادائیگیاں بھی کرنی پڑرہی ہیںجس سے کاروباری لاگت میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے اورسروس سیکٹر ایک دوسرے پر الزامات عائد کررہے ہیں لیکن حکومتی حکام خاموش ہیںاور تجارتی سہولت میں بے حسی کا مظاہرہ ہورہا ہے ۔
    حمد ارشد جمال نے کہا کہ کچھ اہم مسائل کو اجاگر کیا جنہیں فوری بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے اور متعلقہ حکام کو ہدایات کی ضرورت ہے جوایئر فریٹ یونٹ کراچی میں کلیئرنس کا وقت کم از کم 3 دن ہے لیکن ایک طویل عرصہ سے اسٹاف کی کمی کے باعث کنسائنمنٹ کی ایگزامینیشن تاخیر کا شکار ہورہی ہے جس کی وجہ سے ایئر فریٹ یونٹ پر سہولیات کا فقدان ہے۔
    انہوں نے کہا کہ کنسائنمنٹ کی ڈیلیوری رات 10 بجے تک ممکن بنائی جائے اور کم سے کم وقت میںکنسائنمنٹ کی کلیئرنس کی جائے تاکہ کاروباری لاگت میں کمی لائی جاسکے اس کے علاوہ جیری ڈناتا میں چار ایگزامن افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ کنسائنمنٹ کی جانچ پڑتا ل کا سلسلہ تیزی سے ہوسکے ۔اس موقع پر آل پاکستان کسٹمز ایجنٹس ایسوسی ایشن کے وائس چیئرمین قمر الاسلام نے ٹرمینلزچارجزکی ادائیگی میں تاخیر سے متعلق مسائل پر روشنی ڈالی۔
    انہوں نے کہا کہ دستاویزات جمع کرنے اور ادائیگی کے واچر جاری کرنے کے لیے ٹرمینل پر ان کا صرف ایک کانٹرہے جبکہ کم از کم4 کانٹرز درکار ہونے چاہئے تاکہ تاجروں کا وقت ضائع نہ ہو۔اس موقع پر ایڈیشنل کلکٹرایئر فریٹ یونٹ ڈاکٹر عامر نواز نے ایسوسی ایشن کے نقطہ نظر کو سنا اور کہا کہ آپ کے مشاہدات بہت درست ہیںاور کسٹمز بھی محفوظ کاروباری ماحول میںتجارتی سہولیات کا جائزہ لے رہا ہے انہوں نے کہا کہ کلیئرنس ان دی اسکائی سسٹم اور پی ایس ڈبلیو بڑے منصو بے ہیں جس سے ٹریڈ کو سہولیات اورکنسائنمنٹ کی کلیئرنس کا عمل ہوگا ۔