Baaghi TV

Category: کراچی

  • سی ٹی ڈی افسر راجہ عمر خطاب پر دہشت گرد حملے کا خطرہ، الرٹ جاری

    سی ٹی ڈی افسر راجہ عمر خطاب پر دہشت گرد حملے کا خطرہ، الرٹ جاری

    محکمہ انسداد دہشت گردی(سی ٹی ڈی) کے افسر راجہ عمر خطاب پر دہشت گرد حملے کا خطرہ سامنے آیا ہے، متعلقہ ادارے نے الرٹ جاری کردیا۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں بدامنی پھیلانے کے لیے ملک دشمن عناصر پھر جال بننے لگے لیکن دہشت گردوں کے ناپاک عزائم ہمیشہ کی طرح خاک ہوں گے۔ سی ٹی ڈی افسر راجہ عمر خطاب پر دہشت گرد حملے کے خطرے کے پیش نظر متعلقہ ادارے کی جانب سے الرٹ جاری کردیا گیا۔

    آئی جی سندھ آفس سے ایڈیشنل آئی جی کراچی کو خط لکھا گیا ہے جس پر ایڈیشنل آئی جی نے کاونٹرٹیرارزم ڈپارٹمنٹ کو بھی خط لکھ دیا۔

    خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں چھپے شاکر اللہ نے2گروپس تشکیل دیے ہیں، ٹارگٹ کلنگ ٹیم کو بدامنی پھیلانے کے احکامات ملے ہیں، عاصم کیپری کے بھائی عمیرکیپری کو مذہبی رہنماؤں کو ٹارگٹ کاٹاسک ملا ہے۔

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شاہد تھیلےوالا اور محسن کا گروپ سی ٹی ڈی افسرعمر خطاب کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے حفاظتی اقدامات کو مؤثر بنایا جائے

  • کریڈٹ کارڈ فراڈ میں ملوث بینک ملازمین ودیگر پرمشتمل گروہ بے نقاب

    کریڈٹ کارڈ فراڈ میں ملوث بینک ملازمین ودیگر پرمشتمل گروہ بے نقاب

    فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) نے کریڈٹ کارڈ فراڈ میں ملوث بینک ملازمین ودیگر پرمشتمل گروہ بے نقاب کردیا، اب تک 60 سے زائد متاثرہ شہریوں سامنے آ چکےہیں۔

    تفصیلات کے مطابق کراچی میں ایف آئی اے کمرشل بینکنگ سرکل نے کارروائی کی اور نجی بینک کے3ملازمین کو گرفتار کرلیا، ملزمان کریڈٹ کارڈفراڈ کے ذریعے شہریوں سے رقم بٹورتے تھے۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ اب تک 60 سے زائد متاثرہ شہریوں سامنے آ چکےہیں، گرفتار ملزمان کا گروہ انتہائی ہوشیاری سے جعلسازی کیاکرتا تھا.

    فراڈ میں نجی بینک ملازمین سمیت گروہ میں کوریئرکمپنی کا ڈلیوری بوائے اور ایجنٹ بھی شامل ہیں۔

    حکام کے مطابق گروہ 2 سال سے فراڈ کی وارداتیں کررہاتھا، گروہ کے کارندے کریڈٹ کارڈ شہریوں کے قومی شناختی کارڈ پر بنواتے اور کورئیر کمپنی کا ملازم کریڈٹ کا خود ہی رکھ کر گروہ کے حوالےکرتا تھا.

    جبکہ نجی بینک ملازم جعلی دستخط کرتا اور خفیہ معلومات شیئرکرتاتھا۔گروہ میں نجی بینک کے کریڈٹ کارڈ ڈیپارٹمنٹ کا سیلز سیکشن کا افسربھی شامل تھا.

    اب تک متاثرہ شہریوں کی ایک کروڑسےزائد رقم نکالی جاچکی ہے، نجی بینک افسرکی ذمہ داری جعلی دستاویزات کی تصدیق کرنا ہوتی تھی، کوریئرکمپنی کا ملازم شناختی کارڈ کی تصدیق اور دستاویزات حاصل کرتاتھا۔

    ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ ہر کریڈٹ کارڈ کی زیادہ سے زیادہ لمٹ پر یہ رقم نکالا کرتے تھے ،کیس سے جڑے 3 ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور مزیدکی گرفتاری کی کوششیں کی جارہی ہے۔

  • آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا کل ملک بھر میں تیل کی ترسیل بند کر کے ہڑتال کا اعلان

    آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا کل ملک بھر میں تیل کی ترسیل بند کر کے ہڑتال کا اعلان

    آئل ٹینکرز ایسوسی ایشن کا 24جون سے ملک بھر میں تیل کی ترسیل بند کرکے ہڑتال کرنے کا اعلان کردیا ہے۔آئل ٹینکرزکنٹریکٹرز ایسوسی ایشن کے صدر عابداللہ آفریدی نے اپنے آفس میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اوگرا کی جانب سے کمرشل اورغیر قانونی لوڈنگ پر پابندی ہے اسکے باوجود انہیں روکا نہیں جارہا ہے۔
    انہوں نے کہا کہ24جون سے ملک بھر میں تیل کی ترسیل بند کرکے ہڑتال کررہے ہیں 18جولائی 2020 ء میں سابق وزیر پیٹرولیم کی سربراہی میں میٹنگ میں ان تمام معاملات کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ لیکن مسائل حل نہیں ہوسکے۔اٴْن کا کہنا تھا کہ جس بھی کمپنی کا ٹینکر ہواپنے نزدیکی ڈپو سے قانونی طورپر فلنگ کرنے کا اختیار رکھتاہے۔
    ہمارے کنٹریکٹر کے فلنگ کے معاہدے ہیں لیکن ہمارا کرایہ پرائیوٹ ٹینکرز لے رہے ہیں۔

    جنرل سیکریٹری آئل ٹینکرز کنٹریکٹر شعیب اشرف کا کہنا تھا کہ وائٹ آئل پائپ لائن منصوبے میں آئل ٹینکرز کو روڈ شئیر فراہم کیا جائے نئے جدید آئل ٹینکرز کی تیاری کرکے کروڑوں کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔جس بھی کمپنی کا ٹینکر ہواپنے نزدیکی ڈپو سے قانونی طورپر فلنگ کرنے کا اختیار رکھتاہے لیکن پرائیوٹ ٹینکرز کراچی سے ٹینک لاری فلنگ کرکے پورے پاکستان لے جارہے ہیں۔ہمارے کنٹریکٹر کے فلنگ کے معاہدے ہیں لیکن ہمارا کرایہ پرائیوٹ ٹینکرز لے رہے ہیں.

  • پیپلز پارٹی کی کرپٹ اور نااہل حکومت کی وجہ سے سندھ میں کسی کی جان مال عزت آبرو محفوظ نہیں رہی : سید مصطفی کمال

    پیپلز پارٹی کی کرپٹ اور نااہل حکومت کی وجہ سے سندھ میں کسی کی جان مال عزت آبرو محفوظ نہیں رہی : سید مصطفی کمال

    پاک سر زمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن پاکستان میں انتخابی اصلاحات کے تاریخی موقع کو سیاسی مفادات اور سیاسی زاویے کا شکار نا ہونے دیں، انتخابی اصلاحات کے نادر موقع کو پاکستان میں جمہوریت کی مضبوطی، عوام الناس کا جمہوریت پر اعتماد اور اعتبار کی بحالی کے لیے استعمال کیا جائے بصورتِ دیگر ہماری کئی نسلیں ناقابلِ تلافی نقصان بھگتیں گی۔
    حکومت وقت پارلیمنٹ کے اندر اور باہر کی تمام سیاسی جماعتوں کی متفقہ فیصلے سے انتخابی اصلاحات عمل میں لائے۔ پیپلز پارٹی 13 سالوں سے سندھ میں برسر اقتدار ہے، پچھلے 10 سال میں این ایف سی کی مد میں 8 ہزار 342 ارب روپے ملنے کے باوجود سندھ تباہ و برباد ہے، حد تو یہ ہے کہ سندھ میں ویکسین نا ملنے کی وجہ سے بچے کتے کے کاٹنے سے مر رہے ہیں۔
    پیپلز پارٹی کی کرپٹ اور نااہل حکومت کی وجہ سے سندھ میں کسی کی جان مال عزت آبرو محفوظ نہیں رہی۔

    عوامی فلاح کے کوئی کام نظر نہیں آتا۔ پیپلز پارٹی نے صوبے کو 91 فیصد ریونیو دینے والے سندھ کے دارالخلافہ کراچی کو بدترین تعصب کا نشانہ بنایا ہوا ہے جبکہ دوسری جانب میاں نواز شریف اپنے لیے تو احتجاج کرتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا گیا لیکن پنجاب بھر کے 56 ہزار بلدیاتی نمائندوں کو مدت ختم ہونے سے پہلے یک جنبشِ قلم فارغ کرنے پر ایک بار بھی آواز نہیں نکالی۔
    انہوں نے کہا کہ پاک سرزمین پارٹی عوامی مسائل کے حل کے لیے اصلاحات اور موثر قانون سازی کے عمل پر یقین رکھتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ڈسٹرکٹ سینٹرل میں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔پاک سر زمین پارٹی حکومت وقت سے مطالبہ کرتی ہے کہ انتخابی اصلاحات کے حصول کے لیے فی الفور آل پارٹیز کانفرنس طلب کی جائے جس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر موجود تمام سیاسی جماعتوں کی متفقہ رائے کیساتھ انتخابی اصلاحات کے لیے قانون سازی کی جائے۔انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ اور سابق وزراء اعظم، وزراء اعلیٰ، وزراء اور مشیران کی سیاسی جماعتیں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جبکہ پاک سر زمین پارٹی قوم کی واحد امید بن کر ابھر رہی ہے ۔

  • رینجرز اور پولیس نے بحریہ ٹاؤن میں توڑپھوڑ میں ملوث 11 ملزمان گرفتار کر لیے

    رینجرز اور پولیس نے بحریہ ٹاؤن میں توڑپھوڑ میں ملوث 11 ملزمان گرفتار کر لیے

    رینجرز اور پولیس نے بحریہ ٹاؤن میں لوٹ مار،جلاؤگھیراؤ ،توڑپھوڑ اور خوف وہراس پھیلانے میں ملوث اب تک 11 ملزمان گرفتارکرلیے۔
    ترجمان رینجرز سندھ کے مطابق پاکستان رینجرز سندھ اور پولیس نے خفیہ اطلاع پر بحریہ ٹاؤن کراچی میں حالیہ دہشت گردی کے دوران لوٹ مار،جلاؤ گھیراؤ،توڑ پھوڑاور خوف وہراس پھیلانے میں ملوث گیارہ ملزمان گرفتارکرلیے،6 ملزمان پرویزاحمد بگھیو،عبدالرؤف کاٹھیو،حبیب الرحمن گولو گنواس ،علی حسن پلیجو،صنعان قریشی اور صدرالدین تھیم کو پہلے ہی پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے ،جبکہ ابھی گرفتارکیے گئے 5ملزمان امیر احمد عباسی ،معشوق علی ،شفقت علی عرف کامریڈ عرف دیشی،پرویز علی اریجواور حیدر عباس ہیں،ترجمان کے مطابق ملزمان نے منصوبہ بندی کے تحت اپنے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ بحریہ ٹاؤن میں داخل ہوئے،ملزمان کے پاس لوہے کے پائپ،ڈنڈے اور آگ لگانے کا مواد بھی موجود تھا،ملزمان نے اے ٹی ایم مشین سمیت سامنے آنے والی ہرچیز کوتوڑپھوڑ کا نشانہ بنایا،ملزمان نے برگرکنگ (فاسٹ فوڈ) کو لوٹنے کے بعد نظر آتش کیا اور سوزوکی شورم کو بھی آگ لگائی جس کے نتیجے میں متعدد گاڑیاں اور موٹرسائیکلیں جل کر خاکستر ہوگئیں،واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج میں ملزمان کو واضح طور پردیکھا جاسکتاہے،ملزمان کی تصاویر اور سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کے بعد رینجرز اور ایس ایس پی ملیر نے تحقیقات کیلئے خصوصی ٹیم تشکیل دی جس نے واقعے کے محرکات کا جائزہ لیتے ہوئے تکنیکی ثبوت اور انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کاروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتارکرلیا،گرفتارملزمان کی نشاندہی پر ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں،گرفتارملزمان کو مزید قانونی کارروائی کیلئے پولیس کے حوالے کردیا گیا ہے ۔

  • جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کل کراچی پہنچیں گے

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کل کراچی پہنچیں گے

    جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کل (بدھ) تین روزہ دورے پر کراچی پہنچیں گے۔
    ترجمان جے یو آئی اسلم غوری کے مطابق مولانا فضل الرحمان 24 جون کو کراچی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کریں گے ۔کراچی پریس کلب کی خصوصی دعوت پر میٹ دی پریس پروگرام میں شرکت کریں گے۔ مولانا فضل الرحمان مختلف سیاسی شخصیات سے ملاقاتیں کریں گے ۔

  • ملک کے معروف اردو ادیب ،دانشور، نقاد اور شاعر جاذب قریشی کو عزیز آباد قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا

    ملک کے معروف اردو ادیب ،دانشور، نقاد اور شاعر جاذب قریشی کو عزیز آباد قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا

    ملک کے معروف اردو ادیب ،دانشور، نقاد اور شاعر جاذب قریشی کو عزیز آباد قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا، ان کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر مسجد عائشہ گلشن کنیز فاظمہ میں پڑھائی گئی جس میں مرحوم کے عزیز و اقارب، رفیع الدین راز، راشد نور، قادربخش سومرو، اختر سعیدی، جاوید صبا، اکرم کنجاہی، اویس ادیب انصاری، رونق حیات، ڈاکٹر نثار احمد نثار، محمود رانا، یاسر سعید صدیقی، فہیم برنی ہم عصر دیگر شاعروں، ادیبوں، صحافیوں اور اہل محلہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
    جاذب قریشی طویل علالت کے بعد پیر کو کراچی میں وفات پا گئے تھے، ان کی عمر 81 برس تھی۔ مرحوم نے پس ماندگان میں دو بیٹے اور چار بیٹیاں سوگوار چھوڑی ہیں۔
    جاذب قریشی ایک سال سے مثانے کی بیماری میں مبتلا ہو کر گھر پر صاحب فراش تھے اور ایک ہفتے قبل ان کے گردے کا بھی آپریشن ہوا تھا جس کے بعد ان کی طبیعت سنبھل نہ پائی اور پیر 21 جون 2021 کی رات انہوں نے اپنی جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔

    جاذب قریشی 3 اگست 1940 کو بھارت کے شہر لکھنو میں پیدا ہوئے تھے جہاں انہوں نے اپنا بچپن گزارا تھا۔ جب وہ چھ سال کے تھے تو ان کے والد کی وفات ہوگئی جس کے نتیجے میں وہ مالی مشکلات کے سبب مزید تعلیم حاصل نہیں کر سکے اور اپنی زندگی گزارنے اور خاندان کی کفالت کے لئے سخت محنت کی۔ وہ اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے 1950 میں لاہور آ گئے جہاں انہوں نے ایک پرنٹنگ پریس میں ملازمت اختیا کرلی۔
    بر سر روزگار ہونے کے بعد وہ ایک بار حصول تعلیم کی طرف متوجہ ہوئے اور شعربھی لکھنا شروع کر دیئے جو ان کے بچپن کا شوق تھا۔ لاہور میں وہ باقاعدہ ادبی محفلوں میں شرکت کرنے لگے اور مشاعروں میں اپنی شاعری بھی پڑھنا شروع کر دی۔ انہیں پہلی بار شاہی قلعہ میں منعقدہ اس مشاعرے میں اپنا کلام سنانے کا موقع ملا جس کی صدارت شہرہ آفاق اردو شاعر حضرت احسان دانش کر رہے تھے۔
    وہ معروف شاعر شاکر دہلوی کے شاگرد تھے جو داغ دہلوی کے مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے تھے۔ جاذب قریشی 1962 میں مستقلا کراچی چلے آئے جہاں انہوں نے مختلف رسائل اور اخبارات میں کام کیا، وہ دس برس تک روزنامہ جنگ کے ادبی صفحے کے انچارج بھی رہے۔ کراچی آ کر انہوں نے اپنی تعلیم بھی مکمل کی اور جامعہ کراچی سے ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد درس وتدریس کے شعبے سے وابستہ ہو گئے۔
    انہوں نے ایک فیچر فلم پتھر کے صنمبھی بنائی جو عوامی توجہ حاصل نہ کر پائی اور ناکامی سے دو چار ہوئی ، فلم سازی میں انہیں شدید مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔ جاذب قریشی نے بہت سی نثری اور شعری کتابیں لکھی ہیں جن میں پہچان تخلیقی آواز، آنکھ اور چراغ، شاعری اور تہذیب،دوسرے کنارے تک کلیات شناسائی، شیشے کا درخت، نیند کا ریشم، آشوب جاں، اجلی آوازیں، شکستہ عکس، جھرنے، عقیدتیں، مجھے یاد ہے، نعت کے جدید رنگ، میری شاعری، میری مصوری قابل ذکر ہیں۔
    اپنے ساٹھ سال فنی سفر میں جاذب قریشی نے دنیا کے کئی ممالک جا کر عالمی مشاعروں میں شرکت کرکے اردو زبان اور پاکستان کا نام روشن کیا۔ یوں تو ان کے شعر زبان زد عام ہوئے لیکن ان کا یہ شعر کیوں مانگ رہے ہو کسی بارش کی دعائیں، تم اپنے شکستہ در و دیوار تو دیکھو اور صحرا میں کوئی سایہ دیوار تو دیکھو، اے ہم سفرو دھوپ کے اس پار تو دیکھو لوگوں کو آج بھی ازبر ہیں۔

  • موجودہ جیلوں کی بحالی اور مرمت کے لئے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں

    موجودہ جیلوں کی بحالی اور مرمت کے لئے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں

    جیل اصلاحات کے حوالے سے چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ اور وفاقی محتسب سید طاہر شہباز کی مشترکہ سربراہی میں اہم اجلاس۔

    چیف سیکریٹری سندھ سید ممتاز علی شاہ نے کہا کہ پرزن انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم سے جیلوں کی مانیٹرنگ اور انتظامی امور میں بہتری آئے گی۔جیل اصلاحات کے تحت اوور سائیٹ کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں۔سندھ صوبے کے تمام جیلوں میں اصلاحات لائے جا رہے ہیں۔اصلاحات کیلئے محکمہ تعلیم، صحت، سوشل ویلفیئر اور سول سوسائٹی کام کر رہی ہیں۔

    اجلاس میں چیف سیکریٹری سندھ نے مزید کہا کہ اوور سائیٹ کمیٹیوں میں عدلیہ ،سول سوسائٹی، تعلیم و صحت کے ماہرین اور مخیر حضرات شامل ہیں۔ صوبے کے 23 جیلوں میں پرزن انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم جولائی میں شروع کیا جائے گا۔

    اجلاس میں بتایا گیا کہ صوبے کے قیدیوں کی ویکسینیشن شروع کی گئی ہے۔ اب تک 4350 قیدی اور 1222 جیل عملے کی ویکسینیشن مکمل کی گئی ہے۔نئیں آنے والے قیدیوں کی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں۔ٹھٹہ میں ہائی سیکیورٹی پرزن بنائی جائے گی۔ چیف سیکریٹری سندھ کی وفاقی محتسب کو اس بارے میں بھی آگہی دی گئی کہ لینڈ یوٹیلائیزیشن محکمہ کو 4 نئیں جیلوں کے لئے زمین کے لئے لکھا گیا ہے۔

    موجودہ جیلوں کی بحالی اور مرمت کے لئے 1 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ وفاقی محتسب نے حکومت سندھ کے جیل رفارمز کو سراہا۔حکومت سندھ نے جیل اصلاحات میں بہت اچھا کام کیا، انھوں نے مزید کہا کہ ہم اصلاحات کو رپورٹ کا حصہ بنا کر سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔

  • کراچی میں اہم سڑکوں کی مستقل بندش کے خلاف  درخواست پرسماعت

    کراچی میں اہم سڑکوں کی مستقل بندش کے خلاف درخواست پرسماعت

    سندھ ہائیکورٹ میں کراچی میں اہم سڑکوں کی مستقل بندش کے خلاف درخواست پرسماعت

    عدالت نے ڈی آئی جی ٹریفک، سندھ حکومت اور دیگر سے جواب طلب کرلیا

    اس موقع پرعرفان عزیز وکیل درخواست گزار نے بتایا کہ ٹاورفاطمہ جناح روڈکوبند کرکے پرائیویٹ ٹھیکیدارکو پارکنگ کیلئے ٹھیکے پر دیدیا ہے۔ٹریفک پولیس نے چار لاکھ روپے پر روڈ پارکنگ کے لیے ٹھیکے پر دے دیا ہے۔
    اسکے علاوہ ٹریفک پولیس نے پنوراما روڈ بھی تین لاکھ روپے میں پارکنگ مافیا کو ٹھیکے پر دے دیا ہے۔

    ایس ایم لاء کالج روڈ، ایمپریس مارکیٹ کے سامنے والا روڈ بھی بند کردیا گیا ہے،
    سندھ اسمبلی روڈ اور کمال اتاترک روڈ بھی بند کردیا گیا ہے، سڑکوں کی بندش سے عوام کےحقوق متاثر ہورہے ہیں، اہم سڑکوں کی بندش کے سبب کراچی تجارتی مراکز کے اطراف پورا پورا دن ٹریفک جام رہتا ہے.اس سلسلے میں حکام بالا نوٹس لیں۔

  • کراچی میں 556 عمارتیں خطرناک قرار

    کراچی میں 556 عمارتیں خطرناک قرار

    ایس بی سی اے نے کراچی سمیت سندھ بھرمیں689 عمارتوں کومخدوش قرار دے دیا ، جس میں صرف کراچی میں سب سے زیادہ 556 عمارتیں خطرناک ہیں۔

    ایس بی سی اے ایک بار پھر مون سون بارشون سے قبل مخدوش عمارتوں کی فہرست جاری کرکے بری الذمہ ہوگئی اور پہلی بار کراچی کے علاوہ سکھر ، حیدر آباد، لاڑکانہ اور میرپور خاص کی بھی مخدوش عمارتوں کی فہرست جاری کردی ہے۔

    فہرست میں کراچی سمیت سندھ بھر میں چھ سو نواسی عمارتوں کو مخدوش قرار دیا گیا ہے ، ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ کراچی میں زیادہ 556عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہے۔

    ایس بی سی اے کے مطابق میرپور خاص میں 42عمارتیں اور مکان مخدوش ہیں جبکہ حیدر آباد میں 40عمارتیں خطرناک قرار دی گئی ہے۔

    فہرست میں ضلع جنوبی میں سب سے زیادہ ایک سو دو عمارتیں خطرناک ہیں جبکہ آرام باغ کے علاقے میں اکتالیس عمارتیں ، کلفٹن میں نو ، سول لائن میں تین رنچھوڑ لائن میں بیالیس ، کورنگی میں انیس ، شاہ فیصل میں نو ، آرٹلری میدان میں گیارہ جبکہ ضلع غربی میں ایک عمارت مخدوش قرار دی گئی ہے۔

    ایس بی سی اے کا کہنا ہے کہ خطرناک عمارتوں کی فہرست میں بائیس سے زائد ہیری ٹیج عمارتیں شامل ہیں تاہم مخدوش عمارتوں کے مکینوں کو فوری رہائش خالی کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔