Baaghi TV

Category: کراچی

  • فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے لیکن غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے،شرجیل میمن

    فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے لیکن غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے،شرجیل میمن

    سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ ذاتی شکوے کو سیاسی ایجنڈے میں بدلنا فاروق ستار کی پرانی روایت ہے۔

    ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار کے بیان پر شرجیل میمن نے ردعمل دیا اور کہا کہ فاروق ستار کی شکایت وزیراعظم سے ہے لیکن وہ غصہ سندھ حکومت پر نکال رہے ہیں، ذاتی شکوے کو سیاسی ایجنڈے میں بدلنا فاروق ستار کی پرانی روایت ہے، ایم کیو ایم کو نہیں بھولنا چاہیے کہ وہ طویل عرصہ تک اقتدار میں شریک رہے ہیں،بارش کو جواز بنا کر 17سال کی بدعنوانی کا الزام لگانا ایم کیو ایم کی بوکھلاہٹ کی نشانی ہے،کراچی میں بہت ہی کم وقت میں اتنی زیادہ بارش ہوئی، شہر میں کچھ جگہوں پر 145 ملی میٹر تک بارش ہوئی، شہر میں کافی مقامات سے پانی کی نکاسی کر دی گئی ہے،

  • کراچی بارش،وزیراعظم کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ

    کراچی بارش،وزیراعظم کا خالد مقبول صدیقی سے رابطہ

    وزیرِ اعظم شہباز شریف نے چیئرمین ایم کیو ایم اور وفاقی وزیر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

    کراچی سے جاری کیے گئے ایم کیو ایم کے اعلامیے کے مطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کراچی میں بارش اور اربن فلڈنگ کی صورتِ حال پر گفتگو کی ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وزیرِ اعظم شہباز شریف سے کراچی میں وفاقی اداروں کو مکمل فعال کرنے کی اپیل کی،وزیرِ اعظم نے چیئرمین این ڈی ایم اے کو کراچی میں مکمل فعال رہنے کی ہدایت دے دی۔

    دوسری جانب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے آج کراچی میں پریس کانفرنس کی اور بارش کے دوران بحالی کے کاموں پر میڈیا کو بریف کیا،مرتضیٰ وہاب کی پریس کانفرنس کے دوران تیز بارش شروع ہوگئی۔ پہلے تو مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر میڈیا والوں کو کوئی مسئلہ نہیں تو وہ بیٹھے ہیں، بارش کے دوران بھی بات کریں گے۔ تاہم اس دوران بارش کا سلسلہ تیز ہوگیا تو بالآخر انہیں پریس کانفرنس ختم کرنا پڑی،میئر کراچی نے کہا کہ کل شہر میں 12 گھنٹوں کے دوران 170 سے لے کر 235 ملی میٹر تک بارش ہوئی۔ شہر کے برساتی نالوں میں صرف 40 ملی میٹر تک بارش جھیلنے کی گنجائش ہے

    علاوہ ازیں ڈی آئی جی کراچی ایسٹ فرخ علی کا کہنا ہے کہ کورنگی کریک کی سڑک کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے، پانی کا بہاؤ بہت زیادہ ہے جس کے باعث کورنگی کریک اور کازوے بند ہے۔ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو اور ڈی آئی جی ایسٹ فرخ علی نے کراچی کے علاقے کورنگی کا دورہ کیا ہے،اس موقع پر ڈی آئی جی کراچی ایسٹ فرخ علی نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹریفک پولیس سمیت علاقہ پولیس کو تعینات کیا گیا ہے،ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 10 سے 11 ہزار کے قریب نفری نے ساری رات کام کیا ہے، مختلف جگہوں پر کھدائی کے باعث گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے، کورنگی کی مین سڑک کو کھولنا تھوڑا خطرناک ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ اس کو کھول دیں، بارش ہوئی تو کورنگی کی مین سڑک کو دوبارہ بند کر دیں گے، ایئرپورٹ روڈ کھلا ہوا ہے، کئی افراد کو ریسکیو کیا گیا ہے۔

  • سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے،فاروق ستار

    سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے،فاروق ستار

    ایم کیو ایم پاکستان کے سینیئر رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ کراچی میں 200 ملی میٹر بارش سے سندھ حکومت اور بلدیاتی اداروں کے دعوے پانی میں بہہ گئے،طوفانی بارش کے دوران میئر کراچی اور سندھ حکومت فیلڈ سے غائب رہی۔

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے متحدہ قومی موومنٹ کے سینئر رہنما فاروق ستار نے کہا کہ میئر کراچی 40 ملی میٹر بارش کی گنجائش والے نالوں کے بہانے بنا رہے ہیں، اگر شہر سے بروقت کچرا اٹھا لیا جاتا تو 40 کیا 400 ملی میٹر بارش کا پانی بھی انہی نالوں سے 2 سے 3 گھنٹوں میں نکل جاتا، کراچی کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے،،شہر قائد میں تقریباً 200 ملی میٹر بارش نے نظام زندگی مفلوج کر دیا، سڑکیں اور نشیبی علاقے زیرآب آگئے گورنر سندھ نے بارش کے دوران مختلف علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کو یقین دلایا کہ مشکل وقت میں وہ ان کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔

    فاروق ستار نے کہا کہ گزشتہ روز کی بارش سے تاجروں کو ہونے والے نقصان کون پورے کرے گا، دکانوں میں پانی داخل ہوا، اس کا ازالہ کون کرے گا، کراچی کے لیے کوئی رین ریلیف فنڈ نہیں اور نہ ہی کسی پیکج کا اعلان کیا گیا،مرتضیٰ وہاب لوگوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہے ہیں، اب تو سب کچھ آپ کا ہے، وسائل، زمینیں، ایس بی سی اے، سسٹم بھی تمھارا، وزیر اعلیٰ آپ کا ، کراچی پر قبضہ بھی آپ کا، کراچی تمھاری کالونی، اب کیا بہانہ ہے، 40 ملی میٹر کے چکر میں جان بچا کر نکل گئے۔

    مرتضیٰ سولنگی صدر مملکت کے ترجمان مقرر

    فاروق ستار نے مزید کہا کہ سندھ حکومت اپنی غلطی تسلیم کرے کہ کچرا وقت پر نہیں اٹھایا گیا اور اسی وجہ سے نالے بلاک ہوئے، ورنہ یہ پانی ندیوں کے ذریعے سمندر تک جا سکتا تھاجب وسیم اختر میئر تھے تو 50 کروڑ روپے نالوں کی صفائی پر دیے جاتے تھے، لیکن اب تو حکومت بھی پیپلز پارٹی کی ہے اور وسائل بھی اسی کے پاس ہیں، پھر بھی نالے کیوں صاف نہیں کیے گئے؟ حکمران چھپنے کے بجائے سامنے آئیں اور ایم کیو ایم و پیپلز پارٹی کے دو دو سابق میئرز ٹی وی پر مناظرہ کرلیں تاکہ عوام کو معلوم ہو سکے کہ شہر کیسے چلایا جاتا ہے؟

    انہوں نے مزید کہا کہ شہر میں 175 سگنلز ہوتے تھے، آج 69 سگنلز ہیں، 106 کہاں گے، اس میں بھی آپ کے سپاہی سائڈ پر کھڑے ہوں گے تو ٹریفک تو جام ہوگا، شہید ملت پر آج بھی پانی جمع ہےہم میئر کراچی پر تنقید نہیں بلکہ جائزہ رپورٹ پیش کر رہے ہیں، بہانے نہ کریں، کچرا وقت پر اٹھ،جائے تو 40 ملی میٹر کی گنجائش والے نالے 400 ملی میٹر بارش کا پانی بھی نکال دیں گے۔

    موجودہ موسمی حالات میں مل کر کام کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے،وزیراعظم

    ڈاکٹر فاروق ستار نےکہا کہ وزیراعلیٰ صاحب ایک سڑک سے ہو کر آگئے اور کہا کہ شہر سے پانی نکال دیا گیا، پاکستان کو بچانا ہے تو کراچی کو بچانا ہوگا، وزیراعظم شہباز کو فون کر کے وزیراعلیٰ کی اپنی زمہ داری سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے، سندھ حکومت گزشتہ 17 برسوں کے دوران ملنے والے 22 ہزار ارب روپے کا حساب دے، میئر کراچی بھی ساڑھے 6 سال کا حساب عوام کو دیں، شہر کے مسائل کے حل کے لیے سیاسی جماعتوں کو بلائیں، بیٹھ کر بات کرتے ہیں، شہر کے مسائل کا حل نکالتے ہیں،مرتضیٰ وہاب، بارش سے قبل رین ایمرجنسی سینٹر بناتے، متعلقہ افسران کے نمبرز شیئر کرتے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا، کراچی کو آپ نے سندھ سے الگ کر دیا ہے، مرتضیٰ وہاب بول نہیں سکتے ، ہمیں انداز ہ،ہے کہ ان کی کیا مشکلات ہیں۔

    فاروق ستار نے جماعت اسلامی پر بھی تنقید کی اور کہا کہ جماعت اسلامی والے کہاں ہیں، انہوں نے شہریوں کے لیے کیا اقدامات اٹھائے، جاگتے ہوئے بھی ان کے اعصابوں پر ایم کیو ایم سوار ہے، سلیبس بدل گیا کوچ بدل گیا لیکن جماعت اسلامی اسی پرانے کورس پر چل رہی ہے۔

    حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    فاروق ستار نے کہا کہ محکمہ موسمیات کی پیشگوئیاں اب درست ثابت ہو رہی ہیں۔’اللہ کرے کہ اگلا اسپیل نہ ہو، کیونکہ جتنی بارش ہوگئی ہے وہی حکومت سے نہیں سنبھالی جارہی اور پھر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگلے اسپیل کے لیے تیار ہیں۔‘

  • حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن حکومت پر تنقید کی جاتی ہے،وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ حکومت اگر کوئی فیصلہ کرتی ہے تو شہریوں کو چاہیے اس پر عمل کرے، حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن جب پانی میں پھسنتے ہیں تو حکومت پر تنقید کی جاتی ہے-

    کراچی میں میڈیا سے گفتگومیں مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں کل شدید بارش ہوئی، شہر میں 180 سے 185 ملی میٹر کے قریب بارش ہوئی جب کہ ممبئی میں کراچی سے 10 گنا زیادہ بارش ہوتی ہے اور اس وقت ممبئی مکمل ڈوبا ہوا ہے اور لاہور بھی بارش سے ڈوب گیا تھا، جب بھی اتنی بارش ہوتی ہے تو فلڈنگ ہوتی ہے لیکن کل بارش کے دوران ہی تنقید کی گئی کہ سڑکوں پر پانی ہے، میڈیا پر بھی کہا گیا کہ انتظامیہ تیار نہیں تھی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اگر نالے صاف نہیں ہوتے تو یہ پانی کہاں جارہا ہے، کیا نالے راتوں رات صاف کرلیے گئے، یہ نالے صاف تھے، تبھی پانی اس سے گزرا ہے ورنہ کل یہ جگہ ڈوبی ہوئی تھی لیکن رات کو 12 سے ساڑھے 12 کے درمیان میں نے خود دیکھا کہ روڈ کلیئر تھا اور پانی نکل چکا تھا اسی مقام پر 2020 میں بارش کے 4 سے 5 گھنٹوں بعد میں آیا تھا لیکن آگے نہیں جاسکا تھا اور اس وقت گھروں کی چھتوں تک پانی تھا، لیکن اس بار ایسا کچھ نہیں ہے، یہ ہمارا کام ہے، ہم اپنی ذمہ داری بخوبی سمجھتے ہیں، اس لیے کل بھی انتظامیہ نکلی ہوئی تھی اور میں اس وقت بھی شارع فیصل پر کھڑا ہوا ہوں۔

    آئی سی سی نے نئی ون ڈے رینکنگ جاری کر دی ،رضوان اور شاہین کی تنزلی

    انہوں نے کہا کہ ٹی وی پر بیٹھے اینکرز نے کہا کہ سڑکوں پر کوئی انتظامیہ دکھائی نہیں دے رہی جس پر شرجیل میمن نے انہیں جواب دیا ہم تو سڑکوں پر ہی لیکن آپ کے رپورٹرز دکھائی نہیں دے رہے، ابھی بھی ٹی وی چینل کل والے مناظر دکھاکربولیں کہ شہر پورا ڈوبا ہوا ہے اور وزیراعلیٰ یہاں پریس کانفرنس کررہا ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ رات کو ہمیں بریفنگ دی گئی کہ اگلے دن تیز بارش ہونے کا امکان ہے جس پر ہم نے پہلے صرف اسکولوں کی چھٹی اور پھر عام تعطیل کا اعلان کیا، لیکن آپ مجھے بتائیں کیا اس وقت شہر میں عام تعطیل ہے، عام تعطیل کے باوجود سینکڑوں کی تعداد میں گاڑیاں سڑکوں پر دکھائی دے رہی ہیں، ان سب کو گھروں میں ہونا چاہیے تھا لیکن ہمارے شہریوں کو احساس نہیں۔

    ربیع الاول کا چاند دیکھنے کیلئے رویت ہلال کمیٹی کا اجلاس 24 اگست کو طلب

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اب جیسے ہی بارش شروع ہوئی لوگ دفاتر سے بھاگنا شروع ہوگئے ہیں، اگر خدانخواستہ بارش تیز ہوگئی تو یہ لوگ سڑکوں پر پھنس جائیں گے اور پھر یہ حکومت اور اتنظامیہ کو کہیں گے، بارش کا پانی منٹوں میں تو نہیں نکلے گا، سب کو اس بات کا احساس کرنا چاہیے، حکومت اگر کوئی فیصلہ کرتی ہے تو شہریوں کو چاہیے اس پر عمل کرے، حکومتی فیصلے پر عمل نہیں ہوتا لیکن جب پانی میں پھسنتے ہیں تو حکومت پر تنقید کی جاتی ہے، یہ ہماری ذمہ داری ہے میں اس سے انکار نہیں کررہا لیکن شہریوں کو بھی احساس کرنا چاہیے۔

    وزیراعظم،فیلڈمارشل کا خیبر پختونخواہ کے سیلاب متاثرہ اضلاع کا دورہ،ریسکیوآپریشن کا جائزہ

  • کراچی،مومن آباد میں 3 منزلہ عمارت گر گئی

    کراچی،مومن آباد میں 3 منزلہ عمارت گر گئی

    کراچی کے علاقے مومن آباد میں ایک تین منزلہ عمارت اچانک گر گئی، جس سے ہلچل مچ گئی۔ ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے ملبے سے 4 افراد کو زخمی حالت میں نکالا گیا ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ان کا علاج جاری ہے۔

    حکام کا کہنا ہے کہ عمارت کے ملبے میں مزید افراد کے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، اس لیے ریسکیو ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور دیگر متاثرین کی تلاش میں مصروف ہیں۔واقعہ کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، ایس ایس پی ویسٹ طارق مستوئی نے بتایا کہ عمارت گرنے سے کچھ دیر پہلے ایک دھماکہ ہوا، جس کے فوراً بعد عمارت میں آگ بھڑک اٹھی۔ دھماکے کے باعث ایک شخص آگ سے جھلس کر زخمی ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عمارت میں ایک سیاسی جماعت کا دفتر قائم تھا، ریسکیو حکام اور پولیس واقعہ کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ دھماکے کی اصل وجوہات کا پتہ چلایا جا سکے اور متاثرین کو جلد از جلد امداد فراہم کی جا سکے۔

    موقع پر موجود ریسکیو اہلکار اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ متاثرہ شخص کی فوری مدد کی جا سکے اور علاقے میں مزید حفاظتی اقدامات کیے جا سکیں۔

  • کراچی،بارش کے بعد پروازوں کا شیڈول متاثر،مسافر پہنچے نہ عملہ

    کراچی،بارش کے بعد پروازوں کا شیڈول متاثر،مسافر پہنچے نہ عملہ

    کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی شدید بارش کے باعث ملکی اوربین الاقوامی پروازوں کا شیڈول بھی بری طرح متاثر ہوا۔

    ائیر پورٹ ذرائع کے مطابق جناح ٹرمینل سےآپریٹ ہونے والی اندرون ملک کی متعدد پروازیں منسوخ کردی گئیں، اسی طرح قومی ائیرلائن کی کراچی سے اسلام آباد اور اسلام آباد سے کراچی کی پروازیں بھی منسوخ کردی گئی ہیں،دوسری جانب کراچی سے اندرون ملک جانے والی پروازیں کئی گھنٹے تاخیر کا شکار ہیں، جناح ٹرمینل سے بین الاقوامی پروازیں بھی تاخیر سے آپریٹ ہوئیں۔

    ذرائع کا بتانا ہے کہ نجی ائیرلائن کی کراچی سے جدہ کی پرواز7 گھنٹے سے زائد تاخیر کاشکار ہے،پرواز کی تاخیر کے باعث مسافروں کی جانب سے احتجاج کیا جارہا ہے، مسافروں کی اکثریت عمرہ زائرین پرمشتمل ہے،ذرائع کے مطابق بارشوں کے باعث مسافروں کی بہت کم تعداد ائیرپورٹ پہنچ سکی، حتیٰ کہ ائیرپورٹ پرتعینات پی اے اے اور ائیرلائنز عملے کی بڑی تعداد بھی ڈیوٹی پر نہ پہنچ سکی،ذرائع کا بتانا ہے کہ فلائٹ انکوائری کے فون نمبر نہیں لگ رہے جس سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی تاریخ رقم

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج بھی بینچ مارک 100 انڈیکس ایک لاکھ 50 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کرگیا۔

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروباری ہفتے کے دوران زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، جہاں ہنڈریڈ انڈیکس 650 پوائنٹس سے زائد اضافے کے ساتھ 1 لاکھ 50 ہزار 400 پوائنٹس کی تاریخی بلند ترین سطح پر پہنچ گیامارکیٹ میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوتا دکھائی دیا، جس کی وجہ معاشی اشاریوں میں بہتری، سیاسی استحکام کی امیدیں اور ملکی مالیاتی پالیسیوں پر مثبت ردِعمل بتایا جا رہا ہے تیزی کے اس رجحان نے نہ صرف سرمایہ کاروں کو متحرک کیا بلکہ مارکیٹ میں کاروباری حجم میں بھی خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے دوسرے روز 100 انڈیکس پہلی بار 1 لاکھ 50 ہزار پوائنٹس کی حد عبور کر گیا تھا دن کے آغاز پر سرمایہ کاروں کی بھرپور خریداری کے باعث انڈیکس میں 2 ہزار 127 پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور ایک لاکھ 50 ہزار 323 کی سطح تک پہنچ گیا۔ تاہم، دن کے اختتام پر کچھ پرافٹ ٹیکنگ کے بعد انڈیکس 1 لاکھ 49 ہزار پر بند ہوا تھابازار میں 482 کمپنیوں کے 80 کروڑ سے زائد شیئرز کا 48 ارب روپے سے زائد مالیت کا کاروبار ہوا جولائی 2023 میں 100 انڈیکس 40 ہزار تھا، جو اب دو سال میں بڑھ کر 1 لاکھ 50 ہزار سے تجاوز کر چکا ہے۔ سب سے زیادہ شیئر بینکنگ سیکٹر کا رہا، جبکہ فرٹیلائزر، آئل اینڈ گیس اور سیمنٹ سیکٹر بھی نمایاں رہے۔

  • پاکستان کے مختلف شہروں میں پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ سروس متاثر

    پاکستان کے مختلف شہروں میں پی ٹی سی ایل انٹرنیٹ سروس متاثر

    پاکستان کے مختلف شہروں میں پی ٹی سی ایل کی انٹرنیٹ سروس اچانک متاثر ہوگئی، جس کے باعث صارفین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

    ویب سائٹس کی بندش اور انٹرنیٹ سروسز کی نگرانی کرنے والے عالمی پلیٹ فارم ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق ملک بھر سے صارفین نے شکایات درج کرائی ہیں۔ متاثرہ شہروں میں کراچی، لاہور، اسلام آباد، فیصل آباد، راولپنڈی اور ملتان شامل ہیں، جہاں صارفین کو سست رفتار اور مکمل ڈس کنکشن کا سامنا ہے۔انٹرنیٹ ڈاؤن ہونے پر سوشل میڈیا پر صارفین نے طنز و مزاح کے ساتھ شکایات بھی کیں۔

    کسی نے لکھا: “آج پھر پی ٹی سی ایل نیٹ بند۔۔ آج کیا تکلیف ہوئی ہے؟ ، جبکہ ایک صارف نے طنزیہ تبصرہ کیا کہ لگتا ہے پی ٹی سی ایل کیبل کے قریب شارک آگئی۔کچھ صارفین نے کمپنی کی ہیلپ لائن پر کال کرنے کے تجربات شیئر کیے اور کہا کہ جواب ملا: “ہمارا تو اپنا سائیکل چُکیا گیا ہے۔”

    مزاحیہ تبصروں میں یہ بھی کہا گیا کہ پی ٹی سی ایل نے زونگ سے ایک رات کے لیے ہاٹ اسپاٹ دینے کی درخواست کی ہے۔

    پہلا ون ڈے،جنوبی افریقا نے آسٹریلیا کو 98 رنز سے ہرا دیا

    کرکٹ میچ کے دوران اوور نہ دینے پر نوجوان کھلاڑی قتل

    اربن فلڈنگ: شہری سیلاب کے خطرات اور بچاؤ کی تدابیر

    سیلاب متاثرین کے لیے یو این ڈی پی کا امدادی سرگرمیوں اور بحالی کا اعلان

  • اربن فلڈنگ: شہری سیلاب کے خطرات اور بچاؤ کی تدابیر

    اربن فلڈنگ: شہری سیلاب کے خطرات اور بچاؤ کی تدابیر

    شہری علاقوں میں شدید بارشوں یا طوفانوں کے دوران نکاسی آب کا نظام جب ضرورت سے زیادہ پانی سنبھالنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے تو سڑکوں، گھروں اور عمارتوں میں پانی جمع ہو جاتا ہے، جسے شہری سیلاب یا اربن فلڈنگ کہا جاتا ہے۔ کنکریٹ کی سڑکیں اور عمارتیں پانی جذب نہیں کر پاتیں جس سے صورتحال مزید بگڑ جاتی ہے۔

    ابتدائی خطرات

    پھسلنے، گرنے یا تیز دھار اشیاء پر قدم رکھنے سے ہڈیوں کے ٹوٹنے اور سر یا جسم پر شدید چوٹ لگنے کا امکان۔بجلی کے ننگے تاروں کے باعث کرنٹ لگنے یا موت کا خطرہ۔سیلابی پانی میں سیوریج شامل ہونے سے زخموں میں انفیکشن، یا پانی نگلنے سے الٹی اور اسہال جیسی بیماریاں۔نمی کے باعث مولڈ پیدا ہونا جو دمہ اور پھیپھڑوں کے مریضوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

    خطرات سے بچاؤ کے لیے تجاویز

    متحرک سیلابی پانی میں داخل نہ ہوں۔گیس سے چلنے والے آلات یا جنریٹرز گھر کے اندر یا کھلی کھڑکیوں/دروازوں کے قریب استعمال نہ کریں۔سیلابی پانی سے جلد کو محفوظ رکھیں، بار بار دھوئیں اور زخموں کو صاف کر کے ڈھانپیں۔متاثرہ علاقوں میں جانے سے پہلے بجلی بند کریں اور ننگے تاروں کو ہرگز نہ چھوئیں۔صرف پانی میں استعمال کے لیے منظور شدہ آلات ہی استعمال کریں۔

    سیلاب کے بعد گھر کی ساختی سلامتی چیک کریں، کیونکہ پانی نے بنیادوں کو نقصان پہنچایا ہو سکتا ہے۔سانپوں، زہریلے کیڑوں اور جنگلی جانوروں کی موجودگی کی جانچ کریں اور مناسب اقدامات کریں۔سرد موسم میں گرم کپڑے پہنیں اور وقفے وقفے سے آرام کریں، گرمی میں ٹھنڈے مقامات پر آرام اور پانی کا استعمال زیادہ کریں۔

    حفاظتی چشمے اور دستانے پہنیں (گیلی جگہوں کے لیے ربڑ کے، خشک جگہوں کے لیے چمڑے کے دستانے)۔سخت تلووں والے جوتے یا واٹر پروف بوٹ استعمال کریں۔مناسب لباس پہنیں اور غیر ضروری طور پر پانی میں داخل ہونے سے گریز کریں۔ ان ہدایات پر عمل کر کے شہری اربن فلڈنگ کے بعد پیدا ہونے والے صحت کے مسائل اور خطرات سے خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔

    اربن فلڈنگ: شہری سیلاب کے خطرات اور بچاؤ کی تدابیر

    کرکٹ میچ کے دوران اوور نہ دینے پر نوجوان کھلاڑی قتل

    سیلاب متاثرین کے لیے یو این ڈی پی کا امدادی سرگرمیوں اور بحالی کا اعلان

    ہاکی ایشیاء کپ کا نیا شیڈول جاری، پاکستان ایونٹ سے باہر

  • کراچی میں بارش کے بعد انٹرنیٹ، موبائل اور بجلی کی سروس متاثر

    کراچی میں بارش کے بعد انٹرنیٹ، موبائل اور بجلی کی سروس متاثر

    شدید بارش کے بعد شہر میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس متاثر ہوگئی، جبکہ کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی معطل ہے۔

    ذرائع کے مطابق گلشن اقبال بلاک 2، 3 اور 5 سمیت مختلف بلاکس میں کئی گھنٹوں سے بجلی غائب ہے جس سے شہری مشکلات کا شکار ہیں۔ جناح اسپتال کے میڈیکل وارڈ 5 میں بھی کئی گھنٹے بجلی معطل رہی جبکہ اسکیم 33 اسکاؤٹ کالونی میں صبح 12 بجے سے بجلی کی فراہمی بند ہے۔شہر کے متعدد علاقوں میں بارش کی پہلی بوند پڑتے ہی بجلی کی بندش کے واقعات سامنے آئے ہیں۔

    کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن نظام مستحکم ہے، تاہم بارش کے بعد مختلف علاقوں میں بجلی کی سپلائی کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ کراچی کو 2100 میں سے 1330 سے زائد فیڈرز سے بجلی فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ بجلی چوری والے علاقوں میں حفاظتی طور پر بجلی عارضی طور پر منقطع کی گئی ہے۔کے الیکٹرک کے مطابق بارش کے پانی کے باعث بحالی کے کاموں میں دشواری کا سامنا ہے، اور جیسے ہی پانی کم ہوگا اور سیفٹی کلیئرنس ملے گی، بحالی کا عمل تیز کیا جائے گا۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ نے کراچی میں کل عام تعطیل کا اعلان کر دیا۔

    وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنی زیرِ صدارت کراچی کی صورتِ حال پر ہنگامی اجلاس میں یہ اعلان کرتے ہوئے عوام کو گھروں میں رہنے کا مشورہ دیا اور کہا کہ مزید بارش کا امکان ہے، عام تعطیل کی ہے تاکہ عوام کو تکلیف نہ ہو۔اجلاس میں وزیرِ اعلیٰ سندھ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ کراچی میں آج 12 گھنٹے کے دوران سب سے زیادہ 245 ملی میٹر بارش ہوئی، بارش کی صورتِ حال کے باعث ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوا۔

    بریفنگ میں وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو بتایا گیا کہ اس وقت اہم شاہراہیں کسی حد تک کلیئر کر دی گئی ہیں، نالوں کے ذریعے بارش کا پانی نکال رہے ہیں، صورتِ حال بہتری کی جانب گامزن ہے۔

    یوکرین کو نیٹو میں شامل نہیں ہونا چاہیے،پیوٹن اچھے ثابت ہوں گے، امریکی صدر

    وزیراعظم کی سندھ کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی

    تیل و گیس سیکٹر میں امریکی سرمایہ کاری، پاک امریکا مذاکرات

    اگلے 3 روز اہم، 114 نئے رافیل، چین نے ہندوستان کو ٹھینگا دکھا دیا