Baaghi TV

Category: کراچی

  • سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

    سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ

    عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر بڑا اضافہ ہو گیا۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 20 ڈالر کا اضافہ ہوا جس کے بعد فی اونس سونا 3 ہزار 345 ڈالر کا ہو گیاعالمی مارکیٹ میں اضافے کے بعد مقامی صرافہ مارکیٹوں میں بھی 24 قیراط کا حامل فی تولہ سونا 2 ہزار روپے مہنگا ہو گیا جس سے فی تولہ سونے کی قیمت 3 لاکھ 57 ہزار 200 روپے کی سطح پر آ گئی،اسی طرح فی دس گرام سونے کی قیمت بھی 1715 روپے کے اضافے سے 3 لاکھ ، 6 ہزار 241 روپے کی سطح پر آ گئی۔

    اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 78روپے کے اضافے سے 4ہزار 013روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی 67روپے کے اضافے سے 3ہزار 440روپے کی سطح پر آگئی۔

    واضح رہے گزشتہ دو روز میں سونے کی قیمت میں 2 ہزار 500 روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔

    عشرہ رحمۃ للعالمین قومی و صوبائی سطح پر شایان شان طریقے سے منانے کا اعلان

    سیلاب متاثرین ہمارے اپنے ہیں ان کے لیے ہر حد تک جائیں گے، علی امین گنڈاپور

    ڈیفالٹرز سے بجلی بلز کی ریکوریاں ڈسکوز کیلئے بدستور بڑا چیلنج ،480 ارب روپے کی وصولی کرنے میں ناکام

  • بارشوں میں کراچی ڈوبنے کی وجہ  چاند کی تاریخیں ہیں ،سعید غنی کاانوکھاجواز

    بارشوں میں کراچی ڈوبنے کی وجہ چاند کی تاریخیں ہیں ،سعید غنی کاانوکھاجواز

    کراچیی میں موسلا دھار بارشوں کے سبب ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر سندھ کے وزیر بلدیات سعید غنی کے حالیہ بیان نے شہریوں کو حیرانی میں مبتلا کردیا۔

    سوشل میڈیا پر زیر گردش ویڈیو میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سعید غنی کو یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ اگر چاند کی 14 تاریخ ہو تو بارش کا سارا پانی سمندر میں نہیں جاتا، جب بارش آئی گی تو آپ کیا توقع کرتے ہیں؟ میں کوئی سْپرمین تو نہیں ہوں اس پانی کو نیچے آکر روک لوں۔

    https://x.com/JavedMonis/status/1957519363168469084

    کراچی میں موسلا دھار بارشوں کے سبب ہونے والی سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر وزیر بلدیات نے کراچی کی سڑکوں پر جمع پانی سے متعلق
    بیان،میں،کہاکہ.کراچی سے بارش کا سارا پانی سمندر میں جاتا ہے، ہماری پوری کوشش ہوتی ہے کسی طرح ہم جلد سے جلد پانی کو نکالیں،لیکن اگر چاند کی 14 تاریخ ہو اور ان دنوں آپ توقع کریں کہ سمندر میں سارا پانی چلا جائے گا تو وہ نہیں جاتا ہے-

    وزیراعظم شہبازشریف کے دورہ چین کے منتظرہیں،چینی وزیرخارجہ

    سعید غنی کے اس بیان پر سوشل میڈیا صارفین نے مذاق کا نشانہ بناتے ہوئے ڑے ہاتھوں لے لیا ایک صارف نے کہا کہ سعید غنی کو کوئی بتائے کہ بھائی اب تو 25 سفر ہے 14 تو چاند کی پتہ نہیں کب کی بیت گئی لیکن پانی جو ہے نا ابھی بھی کراچی میں کھڑا ہے اب یہ کہہ دیں گے زیادہ بارش ہوتی ہے تو زیادہ پانی اتا ہے بس عوام کا مقدر جو ہے نا وہ ذلیل و خوار ہونا ہی رہ جائیں حکمرانوں کے ہاتھوں-

    ایک اور صارف نے کہا کہ،ویسے ان موصوف کو یہ معلوم نہیں کہ یہ وزیر بلدیات ہیں انکو تو پھلجھڑیاں چھوڑنے کیلئے رکھا ہوا ہے،لیکن چاند کی تاریخ بتانے پہ جلد نئی وزارت رویت ہلال کا وزیر بنائے جانے کا امکان ہے-

    اسلام آباد میں پاکستان کے پہلے ون ونڈو کاروبار سہولت مرکز کا افتتاح

  • سندھ میں کوئی دوسرا صوبہ نہیں بنایا جائے گا۔شرجیل میمن

    سندھ میں کوئی دوسرا صوبہ نہیں بنایا جائے گا۔شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر وزیر شرجیل میمن نے کراچی میں حالیہ بارشوں کے باعث پیدا ہونے والے مسائل پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بارش وقفے وقفے سے ہوتی تو اتنے سنگین مسائل پیش نہ آتے۔

    شرجیل میمن نے بتایا کہ شہر میں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی بارش ہوئی، جس کی وجہ سے شہریوں کو اربن فلڈنگ اور پانی کی نکاسی کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ اس بارش کی شدت زیادہ تھی، جس کی وجہ سے نالیاں پانی نکالنے میں دیر کر گئیں، اور اس سے گزرنا شہریوں کے لیے دشوار ہوگیا۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ، کمشنر اور میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ دن رات سڑکوں پر موجود رہے اور شہر کے مختلف علاقوں کا معائنہ کیا، تاکہ صورتحال کو بہتر بنایا جا سکے۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ شہریوں کو جو تکلیف ہوئی، اس پر سندھ حکومت نے معذرت بھی کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بلدیہ عظمیٰ نے مرکزی برساتی نالوں کی صفائی ایڈوانس میں کرائی ہوئی تھی، تاہم بارش کی غیر معمولی مقدار کے باعث پانی کو نکالنے میں دیر ہوئی۔ انڈر پاسز میں پانی کی نکاسی کے لیے مشینری بھی لگائی گئی تھی تاکہ پانی جلد از جلد نکالا جا سکے۔انہوں نے اس بات کا بھی اعتراف کیا کہ شہر میں ہونے والی اموات بجلی کے کرنٹ لگنے اور چند دیواریں گرنے سے ہوئیں، جو انتہائی افسوسناک ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ حالیہ بارشوں میں سب سے زیادہ کوتاہی کے الیکٹرک سیکٹر کی طرف سے دیکھی گئی۔ مختلف علاقوں میں 48 گھنٹوں تک بجلی کی فراہمی معطل رہی، جس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ خاص طور پر حیدرآباد میں حیسکو کی نااہلی نمایاں رہی، جس کے بارے میں ناصر حسین شاہ اس وقت رابطے میں ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں شرجیل میمن نے واضح کیا کہ سندھ میں کوئی دوسرا صوبہ نہیں بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس بنانے کا معاملہ صرف مفروضہ ہے، اور اس پر حکومت یا پارٹی کی طرف سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ جب یہ معاملہ سنجیدگی سے سامنے آئے گا تو پارٹی اس پر مشورہ کرے گی اور پھر عوام کو مکمل آگاہ کیا جائے گا۔

  • کے پی میں بارشوں اور سیلاب سے اموات پر افسوس ہے۔شرجیل میمن

    کے پی میں بارشوں اور سیلاب سے اموات پر افسوس ہے۔شرجیل میمن

    سندھ حکومت کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے ایم کیو ایم کی سیاسی حکمت عملی پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو پہلے سے معلوم تھا کہ انہیں بلدیاتی انتخابات میں ایک بھی سیٹ نہیں ملے گی، اس لیے انہوں نے الیکشن لڑنے کی ہمت ہی نہیں کی۔

    شرجیل میمن نے کہا کہ عوام نے ایک سیاسی جماعت کو مسترد کر دیا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ ایم کیو ایم نے بلدیاتی انتخابات کا بائیکاٹ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انتخابات میں حصہ نہ لینے کا مطلب عوام کی رائے کو نظرانداز کرنا ہے، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے نقصان دہ ہے۔سندھ کے سینئر وزیر نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں کلائمیٹ چینج کا موضوع اہمیت اختیار کر چکا ہے، اور موسمیاتی تبدیلی کو مدنظر رکھتے ہوئے آئندہ کی حکمت عملی مرتب کرنا ہوگی تاکہ قدرتی آفات کے نقصانات کو کم کیا جا سکے۔

    شرجیل میمن نے سندھ حکومت کی کارکردگی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کی مکمل انتظامیہ انتخابات کے دوران سڑکوں پر موجود تھی اور کسی بھی کوتاہی کو فوری دور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا اولین فرض ہے کہ عوام کی خدمت میں کسی قسم کی غفلت نہ ہو۔

    اس کے علاوہ، شرجیل میمن نے خیبرپختونخوا میں حالیہ بارشوں اور سیلاب کے باعث ہونے والی اموات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا .

  • اگلے 24 گھنٹوں میں کراچی اور سندھ میں شدید بارش کی پیشگوئی

    اگلے 24 گھنٹوں میں کراچی اور سندھ میں شدید بارش کی پیشگوئی

    کراچی اور سندھ کے بعض علاقوں میں اگلے 24 گھنٹوں کے دوران شدید بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے-

    اگلے 12 سے 24 گھنٹوں میں کراچی اور سندھ کے بعض علاقوں میں 50 سے 100 ملی میٹر یا اس سے زیادہ بارش ہو سکتی ہے، جس سے شہری سیلاب، پانی جمع ہونا اور روزمرہ زندگی میں خلل کا خدشہ ہے،سندھ کے اوپر ایک شدید سسٹم بن رہا ہے جو بدھ کی رات کے بعد کراچی اور حیدرآباد جیسے شہری مراکز کو متاثر کرے گا، یہ سسٹم صبح تک سمندر کی طرف منتقل ہونے کا امکان ہے اور نچلے سندھ میں شدید بارش کا سبب بن سکتا ہے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ترجمان نے کراچی، حیدرآباد، ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص اور سکھر سمیت خطرے والے علاقوں کے رہائشیوں سے کہا ہے کہ وہ چوکس رہیں اور ممکنہ خطرات کو کم کرنے کے لیے سرکاری اپ ڈیٹس پر گہری نظر رکھیں،کراچی، حیدرآباد، سکھر اور میرپورخاص میں مسلسل بارش اور ناقص نکاسی آب کے باعث شہری سیلاب کا خدشہ ہےٹھٹھہ، بدین، جامشورو اور دادو جیسے اضلاع میں اچانک سیلاب کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔

    اسپارکو نے ربیع الاول کے چاند کی متوقع رویت کے بارے میں پیشگوئی کر دی

    دریائے سندھ اور اس کی شاخوں میں پانی کی سطح بڑھنے سے نچلے علاقوں میں پانی بھرنے کا خدشہ ہے،اہم شاہراہیں اور مقامی سڑکیں زیر آب آ سکتی ہیں، جس سے ٹریفک اور روزمرہ کے معمولات شدید متاثر ہوں گے،بجلی اور ٹیلی کام سروسز میں بھی ممکنہ خلل کی توقع ہے-

    حکام نے سیلاب کے پیش نظر شہریوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے قیمتی سامان اور مویشی کو محفوظ جگہوں پر منتقل کریں،گھریلو افراد کو ہنگامی کٹس تیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، جن میں خوراک، پانی، ادویات اور فرسٹ ایڈ شامل ہوں، اس کے علاوہ یہ بھی ہدایت کی گئی ہے کہ برقی آلات کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتی جائے اور زیر آب سڑکوں یا بجلی کے کھمبوں سے مکمل پرہیز کیا جائے، شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مستند سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور مقامی حکام کی جانب سے جاری کردہ حفاظتی ہدایات پر عمل کریں۔

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی برقرار، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

  • اسٹاک مارکیٹ میں تیزی برقرار، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    اسٹاک مارکیٹ میں تیزی برقرار، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی کا رجحان برقرار ، انڈیکس بلند ترین سطح پر پہنچ گیا –

    کاروباری ہفتے کے چوتھے روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں استحکام دیکھا گیا ، کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 389 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس ایک لاکھ 51 ہزار 215 پوائنٹس پر پہنچ گئی، گزشتہ روز بھی ہنڈریڈ انڈیکس تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک لاکھ ، 51 ہزار کی حد عبور کر گیا تھا۔

    دوسری جانب انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 5 پیسے کمی ہو گئی ،ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق انٹربینک میں ڈالر کی قیمت 281 روپے 90 پیسے ہو گئی ہے۔

    2 منشیات فروش گرفتار،لاکھوں روپیہ کی منشیات پکڑی گئی

    گھوٹکی کا نوجوان فوجی اہلکار ڈیوٹی کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے شہید

    اوکاڑہ : سیلاب متاثرین کا انخلاء جاری، 468 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا

  • حج 2026: سرکاری اسکیم میں صرف 1640 نشستیں باقی

    حج 2026: سرکاری اسکیم میں صرف 1640 نشستیں باقی

    وزارتِ مذہبی امور نے حج 2026 کے حوالے سے تازہ اپڈیٹ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سرکاری حج اسکیم میں اب صرف 1640 نشستیں باقی رہ گئی ہیں۔

    خالی نشستوں پر درخواستیں جمع کرانے کا عمل کل (جمعرات) 21 اگست کو بھی جاری رہے گا۔بارشوں اور ہنگامی صورتحال کے باعث عازمین کو مشکلات پیش آنے پر یہ فیصلہ کیا گیا۔نشستیں مکمل ہوتے ہی نامزد بینکوں میں درخواستوں کی وصولی کا عمل فوری روک دیا جائے گا۔اب تک صرف 13 دنوں میں ایک لاکھ 14 ہزار سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں۔گزشتہ روز تقریباً ساڑھے 3 ہزار نشستیں باقی تھیں، جو گھٹ کر اب 1640 رہ گئی ہیں۔وزارت نے نامزد بینکوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ مقررہ وقت تک درخواستوں کی وصولی جاری رکھیں۔

    محمد رضوان پہلی بار کیریبئن پریمیئر لیگ کھیلیں گے

    نائجیریا: مسجد پر مسلح افراد کا حملہ، 50 سے زائد افراد شہید

    اندرون سندھ میں طوفانی بارشیں، نظام زندگی مفلوج، ایک بچہ جاں بحق

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

  • اندرون سندھ میں طوفانی بارشیں، نظام زندگی مفلوج، ایک بچہ جاں بحق

    اندرون سندھ میں طوفانی بارشیں، نظام زندگی مفلوج، ایک بچہ جاں بحق

    حیدرآباد، سجاول، جامشورو، سیہون اور ٹنڈوآدم سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں طوفانی بارشوں نے نظام زندگی درہم برہم کر دیا۔ نشیبی علاقے زیرِ آب آگئے اور کئی مقامات پر بجلی معطل ہوگئی۔

    بارش شروع ہوتے ہی حیسکو کے 223 فیڈرز ٹرپ کر گئے۔نشیبی علاقوں اور کچی آبادیوں میں پانی جمع ہونے سے گھروں، دکانوں، مارکیٹوں اور دفاتر میں پانی داخل ہوگیا۔سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے سے ٹریفک حادثات پیش آئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔بلدیاتی ادارے نکاسی آب کے انتظامات کرنے میں مکمل ناکام رہے۔

    جامشورو میں کوہستانی علاقے میں 10 سالہ لڑکا برساتی پانی میں ڈوب کر جاں بحق، لاش اسپتال منتقل، سیہون میں پہاڑی علاقوں میں ندی نالوں میں طغیانی، دو یوسیز کا زمینی رابطہ منقطع، جہانگارا روڈ: زیر آب آنے سے سینکڑوں گاڑیاں پھنس گئیں۔دادو: کاچھو اور کیرتھر پہاڑ پر تیز بارش سے ندی نالے بھر گئے، کئی دیہات کا زمینی رابطہ ٹوٹ گیا۔

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

    ٹرمپ انتظامیہ نے بین الاقوامی عدالت کے 4 اہلکاروں پر پابندیاں عائد کردیں

    بھارت کے لیے فضائی حدود کی بندش میں مزید ایک ماہ توسیع

  • کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو بھی ماموں بنایا، 36 گھنٹے بعد بھی بیشتر علاقے اندھیرے میں

    کے الیکٹرک نے نیپرا کو یقین دہانی کروائی تھی کہ شہر کے تمام فیڈرز رات ساڑھے 9 بجے تک بحال کر دیے جائیں گے، مگر ڈیڈ لائن گزرنے کے باوجود کراچی کا بیشتر حصہ بجلی سے محروم رہا۔

    ممبر نیپرا رفیق احمد شیخ نے کے الیکٹرک کو اضافی وقت بھی دیا، لیکن انتظامیہ فالٹ دور نہ کر سکی۔شہر کے کئی علاقوں میں 36 گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہو سکی۔بارش کے بعد متعدد فیڈرز دوبارہ ٹرپ کر گئے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی۔گلشن اقبال بلاک 5، ڈی ایچ اے، سرجانی ٹاؤن، نارتھ ناظم آباد، کورنگی، گلستان جوہر، ناظم آباد، شادمان ٹاؤن، ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، معین آباد، حسرت موہانی کالونی، پہاڑ گنج، بنارس اور بلدیہ سمیت کئی علاقے اندھیرے میں ڈوبے رہے۔

    صرف تھوڑی بارش کے بعد بھی 415 سے زائد فیڈرز ٹرپ کر گئے۔گزشتہ روز ریکارڈ 900 سے زائد فیڈرز بند ہوئے، جس کے باعث تقریباً آدھا شہر بجلی سے محروم رہا۔شہری بجلی بحالی کے بجائے عملے کے رویے پر بھی برہم، کے الیکٹرک کے شکایتی مراکز پر دھرنے دے بیٹھے۔ے الیکٹرک کا بوسیدہ نظام اور آپریشنل ٹیمیں فالٹ دور کرنے میں مکمل ناکام نظر آئیں، جس کے باعث کراچی کے عوام کو دوسری رات بھی اندھیرے میں گزارنی پڑی۔

    کراچی میں طوفانی بارشیں، حادثات میں 17 افراد جاں بحق

  • کراچی میں طوفانی بارشیں، حادثات میں 17 افراد جاں بحق

    کراچی میں طوفانی بارشیں، حادثات میں 17 افراد جاں بحق

    چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری کے مطابق کراچی میں کل بھی بارش کا امکان ہے اور یہ سلسلہ 23 اگست تک جاری رہ سکتا ہے۔

    شہر کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے، جس کے باعث مختلف حادثات میں گزشتہ روز سے اب تک 17 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ناردرن بائی پاس پر پانی کے جوہڑ میں نوجوان ڈوب گیا۔پی ای سی ایچ ایس میں گھر کے اندر جمع پانی سے ایک شخص کی لاش ملی۔سپر ہائی وے پر گڑھے میں گرنے سے ایک شخص جاں بحق۔گلستان جوہر میں دیوار گرنے سے 3 بچے اور 2 خواتین جاں بحق ،اورنگی ٹاؤن میں دیوار گرنے سے بچی جاں بحق،شاہ فیصل کالونی، شارع فیصل، ڈیفنس، نارتھ کراچی اور گزری میں کرنٹ لگنے سے 6 افراد جاں بحق جبکہ نیو کراچی، خمیسو گوٹھ اور گرومندر ندی و نالے سے 2 لاشیں برآمد ہوئیں۔

    پروازیں متاثر، بجلی کی فراہمی معطل

    بارش اور طوفانی ہواؤں کے باعث کراچی ایئرپورٹ پر 16 پروازیں منسوخ جبکہ 70 میں تاخیر ہوئی، ایک پرواز کو ملتان میں اتارنا پڑا۔ے الیکٹرک کے مطابق بارش کے دوران 500 سے زائد فیڈرز ٹرپ ہوئے، شہر کے 94 فیصد علاقوں میں بجلی بحال کردی گئی جبکہ 150 فیڈرز پر کام جاری ہے۔ وزیر توانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے کے الیکٹرک انتظامیہ کو فوری بحالی کی ہدایت دی۔

    تعلیمی ادارے اور امتحانات ملتوی

    مزید بارشوں کے پیش نظر محکمہ تعلیم سندھ نے آج سرکاری و نجی اسکول اور کالج بند رکھنے کا اعلان کردیا۔جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی نے بھی تمام امتحانات ملتوی کردیے جبکہ کچھ اداروں نے طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے کی ہدایت دی ہے۔

    ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن پنجاب،تحریر:ملک سلمان