Baaghi TV

Category: کراچی

  • حیدرآباد میں لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز،کیسز میں 15 فیصد تک اضافہ

    حیدرآباد میں لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز،کیسز میں 15 فیصد تک اضافہ

    حیدرآباد سندھ میں کورونا وائرس کے کیسز مزید 176 کیسز سامنے آگئے جس کے بعد شہر میں فعال کورونا کیسز کی تعداد 1100 سے تجاوز کر گئی جبکہ کیسز میں اضافے کی شرح 15 فیصد رہی۔

    ڈپٹی کمشنر حیدرآباد فواد سومرو نے بتایا کہ حیدرآباد میں کورونا وائرس کی نئی قسم برطانیہ سے آئی ہے، یہ کورونا وائرس کی نئی قسم ہے اس کے لیے لمس کے پروفیسر ڈاکٹر اکرام اجن سے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے آگاہ کریں۔دوسری جانب ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر لالہ جعفر پھٹان کا کہنا ہے کہ حیدرآباد میں کورونا کیسز میں اضافہ تشویشناک ہے، ڈپٹی کمشنر حیدرآباد کو بھی لاک ڈاؤن لگانے کی تجویز دی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جس طرح شہری ایس او پیز پر عمل نہیں کر رہے، کیسز میں مزید اضافے کا امکان ہے، لیاقت یونیورسٹی کے وارڈ کورونا وائرس کے مریضوں سے بھر گئے ہیں۔

  • ڈاکٹر صغیر احمد کی بھابھی انتقال کر گئیں

    ڈاکٹر صغیر احمد کی بھابھی انتقال کر گئیں

    کراچی :پاک سرزمین پارٹی کے اہم رکن ڈاکٹرصغیر احمد کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر شیراز احمد کی اہلیہ ڈاکٹر مونا صدف کا رضائے الہی سے انتقال کر گئیں ہیں –

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈاکٹرصغیر احمد کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر شیراز احمد کی اہلیہ ڈاکٹر مونا صدف کا رضائے الہی سے انتقال کر گئیں ہیں ان کی نماز جنازہ آج 11 رمضان المبارک بروزہفتہ 24 اپریل بعد نماز ظہر بیت المکرم مسجد گلشن اقبال میں ادا کی جائے گی۔

    جنازہ ڈاکٹر صغیر احمد کی رہائش گاہ سے اٹھایا جائےگا جبکہ تدفین بل مقابل آرامش بینگلوز کنٹومنٹ بورڈگلستان جوہربلاک 19 کے قبرستان میں ہوگی-

    نوٹ : بیت المکرم مسجد میں ظہر کی نماز 1.15 پہ ادا ہوتی ہے-

    واضح رہے کہ ڈاکٹر صغیر احمد ایک سیاسی شخصیت ہیں اور وہ سیاسی جماعت ایم کیو ایم (متحدہ قومی موومنٹ) کے رکن رہے۔ ایم کیو ایم کے ٹکٹ پر ، وہ تین بار صوبائی اسمبلی کے لئے منتخب ہوئے۔ مصطفی کمال کی پاکستان واپسی کے بعد صغیر نے ان میں شمولیت اختیار کی اور ایم کیو ایم کے ساتھ اپنی طویل المدتی رفاقت ختم کردی۔

  • کراچی کے ہوٹلوں نے کورونا ضوابط کی دھجیاں اڑادیں

    کراچی کے ہوٹلوں نے کورونا ضوابط کی دھجیاں اڑادیں

    کہاں ہے ماسک؟ کیسا فاصلہ اور کیس احتیاط؟ کراچی کے ہوٹلوں نے کورونا ضوابط کی دھجیاں اڑا دیں۔کراچی کے ریسٹورنٹس کے باہر ہجوم نے کورونا ضوابط (ایس او پیز) کو قرنطینہ میں بھیج دیا ہے۔حکومت اور انتظامیہ کس ادارے سے ایس او پیز پر عمل کرائے گی؟ کیسے انسانی زندگیوں کو بچایا جائے گا؟کراچی کی 3 فوڈ اسٹریٹ پر کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا، ان فوڈ اسٹریٹ پر بھی ہر روز کھانا کھانے کے لیے آنے والوں کا رش لگا ہوا ہے۔حسین آباد فوڈ اسٹریٹ پر رش ہے، کہیں بھی ماسک کا استعمال نظر نہیں آیا اور نہ ہی سماجی فاصلے کا کوئی خیال رکھا جارہا ہے۔کراچی کی مشہور فوڈ اسٹریٹ برنس روڈ پر کورونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے، یہاں نہ تو لوگوں نے ماسک لگایا اور نہ ہی فاصلے کا خیال رکھا ہوا ہے۔بوٹ بیس پر بھی کھانا کھانے کے لیے آنے والے لوگ ایس او پیز کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ہورہے ہیں، یہاں موجود کچھ لوگوں نے تو کورونا کی حقیقت سے ہی انکار کر دیا۔

  • لاڑکانہ کے اسپتال میں آپریشن کے دوران مریضہ سے زیادتی کا انکشاف

    لاڑکانہ کے اسپتال میں آپریشن کے دوران مریضہ سے زیادتی کا انکشاف

    سندھ کے ضلع لاڑکانہ کے نجی اسپتال میں درندہ صفت ملزمان نے آپریشن کے دوران مریضہ کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا۔ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں رکن اسمبلی رعنا انصار نے لاڑکانہ کے نجی اسپتال میں پیش آنے والے واقعے سے متعلق انکشاف کیا۔اسمبلی میں توجہ دلاؤ نوٹس پیش کرنے کے بعد انہوں نے بتایا کہ ’لاڑکانہ کے نجی اسپتال میں دورانِ آپریشن مریضہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا ہے‘۔انہوں نے بتایا کہ ’خاتون کوسرجری کیلئے آپریشن تھیٹرمیں لے جاکر بے ہوش کیا گیا اور پھر انہیں تین ملازمین نے زیادتی کا نشانہ بنایا‘۔توجہ دلاؤ نوٹس پر پیش ہونے کے بعد صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں شہلا رضا نے اس واقعے سے متعلق مزید تفصیلات ایوان میں پیش کیں۔انہوں نے بتایا کہ ’مذکورہ واقعہ 12مارچ کو پیش آیا، جس کا مقدمہ درج کرنے کے بعد اسپتال کے تین ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا‘۔ صوبائی وزیر نے بتایا کہ ’زیادتی کے بعد مریضہ کا میڈیکل بھی کیا گیا، مگر ڈاکٹر کا ڈی این اے میچ نہیں ہوا‘صوبائی وزیر نے بتایا کہ وہ اس معاملے کو از خود دیکھ رہی ہیں، واقعے میں ملوث افراد کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی بلکہ اُن کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

  • 6 سال بعد نائن زیرو آپریشن کے 54 سے زائد مقدمات کا فیصلہ سنا دیا گیا

    6 سال بعد نائن زیرو آپریشن کے 54 سے زائد مقدمات کا فیصلہ سنا دیا گیا

    پکراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت خیل کمپلکس نے 6 سال بعد نائن زیرو آپریشن کے 54 سے زائد مقدمات کا فیصلہ سنا دیا۔ تفصیلات کے مطابق انسداد دہشتگردی عدالت خیل کمپلیکس کے فیصلے میں کہا گیا کہ فیصل موٹا، عبید کے ٹو، نادر شاہ، عامر سرپھٹا سمیت دیگر کے خلاف دھماکہ خیز مواد رکھنے کا جرم ثابت نہیں ہو سکا ہے، جس پر عدالت نے ہائی پروفائل ٹارگٹ کلرز کو دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزام سے بری کر دیا ہے جبکہ دیگر ملزمان میں امتیاز، عبدالقادر، کاظم رضا، محمد عامر، شکیل عرف بنارسی، محمود حسن شامل ہیں۔
    عدالت کا کہنا تھا کہ فیضان علی اور ساجد علی سمیت 2 ملزموں کے خلاف دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ ایکٹ کے الزامات بھی ثابت نہ ہو سکے۔
    عدالت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں فیصل موٹا کو دس سال قید کا حکم دیا جبکہ فرحان شبیر کو غئر قانونی اسلحہ رکھنے کے جٴْرم میں آٹھ سال سزا سنائی گئی ہے۔ یاد رہے رواں ماہ انسداد دہشتگردی عدالت میں ایم کیو ایم مرکز نائن زیرو پر آپریشن سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ 11مارچ 2015ئ کو رینجرز نے نائن زیرو سے 26 ملزمان کو گرفتار کیا تھا ، ملزمان کے خلاف دھماکہ خیز مواد اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات تھے جبکہ آپریشن کے دوران 250 سے زائد مختلف نوعیت کا اسلحہ برآمد ہوا تھا۔ نائن زیرو سے گرفتار ملزمان فیصل عرف موٹا،عبید کے ٹو،عامر سر پھٹا،عامر تیلی سمیت دیگر ملزمان شامل ہیں۔ تاہم آج چھ سال کے بعد انسداد دہشتگردی کی عدالت نے نائن زیرو آپریشن کے 54 سے زائد مقدمات کا محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا

  • میری جان کو خطرہ ہے : غوث علی شاہ

    میری جان کو خطرہ ہے : غوث علی شاہ

    سابق وزیر اعلی سندھ اور سینئر سیاستدان سید غوث علی شاہ نے کہاہے کہ ان کی جان کو خطرہ ہے ۔
    کراچی میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے میرے دو بیٹے اور 3 پوتوں نے مجھے قتل کرنے کا پروگرام بنایا تھا، میری ایک بیٹی بھی ان کے ساتھ ہے، میں اپنے بیٹوں کو اپنی جائیداد سے عاق کردیاہے۔سید غوث علی شاہ نے کہا کہ میں نے ساری زندگی انھیں بنانے کی کوشش کی، میرے متعلق افواہ پھیلائی جارہی ہے کہ جن کے ساتھ تنازع تھا ان سے صلح ہو گئی، یہ غلط بات ہے، میری اور میرے دوسرے بچوں کی جان خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ کی سیکیورٹی سے مطمئن ہوں۔۔۔۔

  • بجلی صارفین پر ایک ہزار ارب کا مذید بوجھ ڈالنے کی تیاری : میاں زاہد حسین

    بجلی صارفین پر ایک ہزار ارب کا مذید بوجھ ڈالنے کی تیاری : میاں زاہد حسین

    ایف پی سی سی آئی کے نیشنل بزنس گروپ کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولز فور م وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر اور سابق صوبائی وزیر میاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ بجلی کے صارفین پر ایک ہزار ارب روپے کا اضافی بوجھ ڈالنے کی تیاری کی جا رہی ہے جس سے مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور عوام کی کمر ٹوٹ جائے گی۔
    کرونا وائرس کی وجہ سے عوام پہلے ہی شدید دباؤ کا شکارہیں اور ان پر مذید بوجھ لادنا انکی مالی مشکلات بڑھانے کے مترادف ہے ۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ نیپرا نے بجلی کی قیمت بڑھانے کے لئے عوامی سماعت کا سلسلہ شروع کر دیا ہے جس دوران فیصل آباد، لاہور اور اسلام آباد کی الیکٹرک سپلائی کمپنیوں نے 676.9 ارب روپے کی ایڈجسٹمنٹ کا مطالبہ کر دیا ہے جبکہ سات دیگر ڈسکوز کی جانب سے نرخ بڑھانے کی درخواستوں پر سماعت جلد مکمل کر لی جائے گی جس کے بعد بجلی کا ٹیرف بڑھایا جائے گا جس سے سرکاری اور نجی شعبہ میں جاری منصوبوں کی لاگت میں زبردست اضافہ ہو جائے گا، صنعتی و زرعی پیداوار اور برآمدات متاثر ہونگی جبکہ عوام کا معیار زندگی مذید گر جائے گا۔
    میاں زاہد حسین نے مذید کہا کہ نیپرا ایکٹ میں ترمیم کے بعد حکومت بجلی کی قیمت میں اضافہ کے اعلامیہ کو نہ تو روک سکتی ہے اور نہ ہی اس میں تاخیر کر سکتی ہے تاہم حکومت اس شعبہ میں سرمایہ کاری اور اصلاحات کے زریعے لائن لاسز اور بجلی چوری کو کم کر کے چار سو ارب روپے سالانہ بچا سکتی ہے۔حکومت فوری طور پر پرانے بجلی گھروں کو بند کرنے،تمام آئی پی پی کو بجلی کی قیمت کم کرنے، ریکوری اوربجلی کی تقسیم کا نظام بہتر بنانے، چوری کے خاتمے اور چینی سرمایہ کاروں کو قرضے کی واپسی میں رعایت دینے پر راغب کر سکتی ہے جس سے بجلی کے نرخ میں بار بار اضافہ کی ضرورت نہیں پڑے گی جبکہ ان معاملات کو نظر انداز کرنے سے اگلے دو سال میں گردشی قرضہ 4.6 کھرب روپے تک بڑھ جائے گا جس کے نتیجہ میں بجلی کی قیمت کوناقابل یقین حد تک بڑھانا ضروری ہو جائے گاجو ملکی معیشت کو ڈبو دے گا۔

  • کراچی میں حلقہ این اے 249 ضمنی الیکشن کیلئے بیلٹ پیپر کی چھپائی مکمل کرلی گئی

    کراچی میں حلقہ این اے 249 ضمنی الیکشن کیلئے بیلٹ پیپر کی چھپائی مکمل کرلی گئی

    کراچی میں حلقہ این اے 249ضمنی الیکشن کیلئے بیلٹ پیپر کی چھپائی مکمل کرلی گئی ہے۔بیلٹ پیپر پر تحریک لبیک پاکستان کا انتخابی نشان کرین موجود ہے۔کر، ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افیسر ندیم حیدر نے بتایا بیلٹ پیپر 24 اپریل کو الیکشن کمیشن حکام کے حوالے کردئیے جائیں گے۔
    تحریک لبیک کا امیدوار بطور سیاسی جماعت انتخابی دنگل میں موجود ہے۔ ندیم حیدر نے بتایا کہ بیلٹ پیپر پر تحریک لبیک پاکستان کا انتخابی نشان کرین ہے کالعدم ٹی ایل پی کے امیدوار اپنے انتخابی نشان کرین پر انتخاب میں حصہ لیں گے۔ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افیسر ندیم حیدر نے بتایا کہ قومی اسمبلی کے حلقے کیلئے بیلٹ پیپر گرین رنگ کا ہوگا،، ضمنی الیکشن کے لئے ساڑھے تین لاکھ بیلٹ پیپر چھاپے گئے ہیں۔یاد رہے کہ حلقہ این اے 249 کی نشست تحریک انصاف کے فیصل واوڈا کے استعفے کے بعد خالی ہوئی تھی جس پر 29 اپریل کو ضمنی الیکشن ہونا ہے۔

  • نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے چئیرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف انکواٸری کرنے کی منظوری دی۔

    نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے چئیرمین سندھ پبلک سروس کمیشن کے خلاف انکواٸری کرنے کی منظوری دی۔

    نیب کے ایگزیکٹو بورڈ نے چئیرمین سندھ پبلک سروس کمیشن نور محمد جادمانی کے خلاف انکواٸری کرنے کی منظوری دے دی۔
    باغی ٹیوی کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ روزنیب کے ایگزیکٹو بورڈ نےچئیرمین سندھ پبلک سروس کمیشن نور محمد جادمانی اور رکن سندھ پبلک سروس کمیشن اعجاز علی درانی و دیگر کے خلاف انکواٸری کرنے کی منظوری دی۔
    رپورٹ کے مطابق امریکا میں موجود شوکت زرداری کی جامعہ تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق سندھ پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین نورمحمد جادمانی کی بیٹی کے نام پر امریکی ریاست کیلیفورنیا میں 785000 ڈالر میں جائیداد کی خرید سامنے آگئی ہے۔ مارچ کے وسط میں امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر کینن کنٹری میں 2568 اسکوائر فٹ کا گھر سمرین جادمانی اور شاٹ اسٹیون کے نام پر خریدا گیا۔ شواہد سےمعلوم ہوتا ہے کہ چیئرمین سندھ پبلک سروس کمیشن نے اس گھر کی خرید کے لیے بیٹی کو ہزاروں/لاکھوں ڈالر کی رقم بطور تحفہ بھیجی۔ ذرائع کے مطابق یہ رقم سی سی ای 2019 کے انٹرویوز ختم ہونے کے بعد بھیجی گئی۔ سندھ پبلک سروس کمیشن حال ہی میں اعلانیہ سی سی ای 2019 کے نتائج کے بعد خبروں کی زینت بنا ہوا ہے اور غیر کامیاب قرار پانے والے نوجوان کمیشن پر میرٹ بیچنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ سندھ پبلک سروس کمیشن کے کنٹرولر ہادی بخش کلہوڑو نے بھی کمیشن میں مقرر ہونے کے بعد اپنے خاندان اور دوستوں کے قریبی دو سو سے زائد لوگ آٹھ سال میں پاس کروائے۔ انٹرویو لینے والی کمیٹی میں پبلک سروس کمیشن کے چیئرمین نور محمد جادمانی، غلام شبیر شیخ ، اعجاز علی خان، عبدالعلیم جعفری شامل تھے۔ ان میں سے کمیشن کے رکن شبیر شیخ پر نیب نے قومی خزانے کو 500 ملین روپے نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا تھا۔ دوسری جانب سپریم کورٹ کا واضح حکم تھا کہ کرپشن کے الزام کا سامنا کرنے والا کوئی شخص کمیشن کا رکن نہیں ہوسکتا۔ انٹرویو میں شامل شبیر شیخ کے قریبی دوست کا بیٹا محسن کامیاب قرار دیا گیا ہے۔ اسی طرح سیکریٹری پبلک سروس کمیشن احمد علی قریشی کا بیٹا کاشف علی کو بھی کامیاب قرار دیا گیا ہے بڑی تعداد میں نہ صرف سندھ حکومت کی اہم شخصیات اور بیورو کریٹس کے بچے اور رشتےدار کامیاب ہوئے ہیں بلکہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے ذمہ داروں کے رشتہ دار بھی کامیاب قرار پائے ہیں۔ ان میں چیف انجینئر بلڈنگز اختر ڈاؤچ کا بیٹا ولید ڈاؤچ، سیپکو چیف سعید ڈاؤچ کی بیٹی کنزہ ڈاؤچ،ڈپٹی کمشنر ٹنڈو الہ یار رشید زرداری کا بیٹا حماد زرداری، سندھ پبلک سروس کمیشن کےڈپٹی ڈائریکٹر ریکروٹمنٹ اخلاق کلہوڑ کابھائی وقار کلہوڑ، سندھ پبلک سروس کمیشن کے رکن شبیر شیخ کا قریبی رشتہ دار ماجد حمید شیخ، سابق ڈی آئی جی اکبر پنگوار کا بیٹا حازم پنگوار کامیاب ہوئے،اسی طرح ریٹائرڈ بیورو کریٹ آغا فخر درانی کے ایک برادر نسبتی عبدالمنان سندھ پبلک سروس کمیشن کے گزشتہ امتحان میں کامیاب ہوئے جبکہ دوسرے برادر نسبتی عبدالحنان رواں سال امتحان میں کامیاب قرار دیئے گئے، دوسری جانب سندھ پبلک سروس کمیش کے عہدیداروں کے رشتہ دار بھی اس امتحان میں کامیاب قرار پائے، جن میں کنٹرولر امتحانات ہادی بخش کلہوڑ کا بھتیجا فراز احمد کلہوڑ اور انہی کے ایک اور رشتہ دار عبیدالرحمن کلہوڑ بھی شامل ہیں۔ان کے علاوہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے ممبر آفتاب انور بلوچ کا بیٹا فہد انور بلوچ اور سائیں دادسولنگی کی بیٹی عمامہ سولنگی بھی کامیاب قرار پائی، اس کے ساتھ ساتھ ایسے امیدواروں کیبھی کامیابی کا انکشاف ہوا ہے، جن کے ڈومیسائل اس امتحان میں شریک کرانے کے لئے خصوصی طور پر بنائے گئے تھے، اس ضمن میں اردو سپیکنگ کوٹے میں کئی امیدواروں کی سیٹیں ڈومیسائل کی تبدیلی سے غیر اردو سپیکنگ کو دیکر حق تلفی کی گئی۔ نادرا ریکارڈ کے مطابق سندھ اربن کے کوٹے پر منتخب ہونے والے امیدواروں کے شناختی کارڈ پر پتہ شہری سندھ کا ہے۔اسی طرح سندھ پبلک سروس کمیشن میں عہدیداروں کے اثرورسوخ کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ سندھ پبلک سروس کمیشن کے موجودہ کنٹرولر امتحانات ہادی بخش کلہوڑ کی اس عہدے پر تقرری جون 2013 میں کی گئی تھی، 23 اگست 2019 کو ان کا تبادلہ کردیا گیا تھا تاہم احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے وہ اس عہدے پر فائز رہے، بعدازاں 30 اگست 2019 کو سیکرٹری سروسز نے ہادی بخش کلہوڑ سے احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر وضاحت مانگی، جس کا جواب نہیں دیا گیا۔البتہ 25 ستمبر 2019 کو چیف سیکرٹری سندھ کی جانب سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن میں ہادی بخش کلہوڑ کے ٹرانسفر آرڈر واپس لئے گئے ہیں، اس حوالے سے ان پر الزام ہے کہ اپنے اثر و رسوخ کی بدولت وہ اس عہدے پر قابض ہیں۔

  • تھانہ پی آٸی بی کالونی میں پولیس کی زبردست کاروائی اسٹریٹ کرمنل گرفتار

    تھانہ پی آٸی بی کالونی میں پولیس کی زبردست کاروائی اسٹریٹ کرمنل گرفتار

    کراچی تھانہ پی آٸی بی کالونی پولیس کی زبردست کاروائی اسٹریٹ کرمنل / لفٹر گرفتار۔
    ملزم نے دو ساتھیوں کے ساتھ مل کر کراچی شہر میں شہری کے گھر کے باہر گیٹ پر فاٸرنگ کی تھی۔ملزمان کو فوٹیج میں فائرنگ کرتے ہوٸے دیکھا جا سکتا ہے۔ابتداٸی تفتیش میں ملزم نے اعتراف کیا کے دیگر دو ساتھیوں سے مل کر علاقہ بہادر آباد سے لیڈیر اور مرد سے چھیننے کی واردات بھی کی ہے۔ملزم نے مزید اعتراف کیا کے چوری کی موٹر ساٸیکلوں کو واردات میں استعمال کر کے پھینک کر فرار ہوجاتے تھے۔ملزم نے مزید اعتراف کیا کے پہلے لڑکی کے اغوا کیس میں بند ہوکر جیل جاچکا ہے۔ملزم ضلع ایسٹ علاقہ حدود و دیگر کراچی شہر میں ڈکیتی کی وارداتوں میں ملوث ہے۔ملزم کی شناخت بنام حمزہ ولد ابراہیم سے ہوٸی ہے۔ملزم کے قبضے سے ایک غیرقانونی پسٹل بمع راؤنڈ برآمد ہوئی ۔ملزم نے اپنے فرار ساتھیوں کے نام حبیب پٹھان اور شاہزیب عرف چنگچی بتاٸے ہیں.ملزم کے خلاف حسب ضابطہ کاروٸی عمل میں لاٸی گٸی.ملزم کا سابقہ رکارڈ معلوم کیا جا رہا ہے۔مزید تفتیش جاری۔فرار ملزمان کی تلاش شروع ہے.