Baaghi TV

Category: کراچی

  • پولیس نے بابر خانزادہ کو تشدد کرکے قتل کیا، حلیم عادل شیخ

    پولیس نے بابر خانزادہ کو تشدد کرکے قتل کیا، حلیم عادل شیخ

    پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حلیم عادل شیخ کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر دیکھا جس میں ایک نوجوان کی لاش تھانے کے سامنے لٹکی ہوئی تھی ۔ ایک غریب کو پولیس والوں نے تھانے میں بے دردی سے مارا ہے۔ بابر خانزادہ کے قاتلوں کے خلاف دھرنے کے باوجود پولیس نے اپنے پیٹی بھائیوں کہ خلاف کیس داخل نہیں کیا۔
    حیدرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی ٹی آئی رہنما حلیم عادل شیخ نے کہا کہ سندھ حکومت اور پولیس سندھ کے لوگوں کے حقوق کھاررہی ہے ۔سندھ میں جنگل کا قانون ہے سندھ حکومت پولیس سے بھتہ لیتی ہے۔بابر خانزادہ نامی نوجوان کو پولیس نے گھر سے اٹھایا اور رہائی کے لیے گھر والوں سے پیسے طلب کیے تاہم پیسے نہ ملنے پر پوری رات نوجوان کو بد ترین تشدد کا نشانہ بنایا گیا ۔حلیم عادل نے کہا کہ بابر خانزادہ پولیس کے تشدد سے جان کی بازی ہار گیا ۔ دوسرے روز پولیس اسٹیشن تھانے میں کپڑے سے لٹکی ہوئی لاش ملی۔گزشتہ سال بھی اسی نوجوان کو پولیس نے اغوا کیا تھا اور رشوت لے کر کر چھوڑدیا تھا ۔ سندھ پولیس سندھ حکومت کے کنٹرول میں جاچکی ہے ۔ پولیس منشیات فروشی میں ملوث ہے ۔حلیم عادل شیخ کا کہنا تھا کہ ابھی تک ڈی آئی جی نے نوٹس نہیں لیا نہ ہی پولیس اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر داخل ہوئی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے ایم این اے اور وزرا نے بابر کے گھر جاکر تعزیت کرنے کی زحمت نہیں کی ۔ ہر ضلع سے پیپلزپارٹی کے وزرا کو بھتے ملتے ہیں جس وجہ سے پولیس کے خلاف کیس نہیں بنتا ہے ۔پی ٹی آئی کے رہنما نے مزید کہا کہ سندھ حکومت آج بیواہوں کے حصے میں سے بھی مال کھاتی ہے ۔احساس پروگرام کے مراکز پر پولیس کی بھتاخوری کی وڈیو بنانے پر بھی ایک نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔افسران کی کرپشن اور ناہلی کی وجہ سے پولیس کنٹرول سے باہر ہوچکی ہے۔

  • سرکاری مشینری کودوبارہ کارآمد حالت میں لایاجائے،صدر میونسپل ورکرسید ذوالفقار شاہ

    سرکاری مشینری کودوبارہ کارآمد حالت میں لایاجائے،صدر میونسپل ورکرسید ذوالفقار شاہ

    میونسپل ورکرز ٹریڈ یونینز الائنس کے صدر سید ذوالفقار شاہ، جنرل سیکریٹری ملک نواز نے کہا ہے کہ میونسپل ورکرز ٹریڈ یونینز الائنس سرکاری مشینری، سرکاری ورکشاپس اور دفاتر کی حفاظت کی ذمہ داری کا فرض انجام دے رہی ہے۔ سولڈ ویسٹ کے حوالے کردہ سرکاری مشینری کو دوبارہ کارآمد حالت میں ڈی ایم سیز کے حوالے کرکے ان سے نالہ صفائی، انکروچمنٹ کے خاتمے اور مٹی ملبہ اور تعمیراتی مٹیریل کو ٹھکانے لگانے کیلئے استعمال میں لائی جائے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گلشن اقبال زون بلدیہ شرقی کے ملازمین سے گلشن اقبال زون ورکشان میں بات چیت کے دوران کیا۔ انہوں نے ملازمین کے مسائل کے سلسلے میں سندھ سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے ڈسٹرکٹ ایسٹ کے ڈپٹی ڈائریکٹر مشیر احمد سے ملاقات کرکے مسائل سے آگاہ کیا۔ اس موقع پر یونین رہنما وارث گلناز، محمد اکرم، رانا اور بنارس جدون اور دیگر بھی ہمراہ تھے۔

  • ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون پروفیسر بیٹے کے سر پر سہرا سجا نہ دیکھ سکیں

    ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون پروفیسر بیٹے کے سر پر سہرا سجا نہ دیکھ سکیں

    ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والی خاتون پروفیسر بیٹے کے سر پر سہرا سجا نہ دیکھ سکیں۔
    کراچی ضلع وسطی میں ڈاکوؤں نے ریٹائرڈ خاتون پروفیسر نسرین نگہت کو قتل کر دیا جس سے نشرین نگہت کے گھر میں بیٹے کی شادی کی خوشی ماتم میں بدل گئی واردات21 اپریل شام ساڑھے چار بجے کے قریب ضلع وسطی کے علاقے غریب آباد انڈر پاس کے قریب پیش آئی۔ گلستان جوہر بلاک 8کی رہائشی 60سالہ ریٹائرڈ پروفیسر نسرین نگہت اپنے شوہر اور دو بیٹیوں کے ہمراہ اپنےاکلوتے بیٹے کی شادی کی تیاریوں کے لیے خریدرای کرنے بازار کے لئے نکلی تھیں اور غریب آباد انڈر پاس کے قریب گاڑی میں بیٹھے مارکیٹ سے بیٹے کی واپسی کے منتظر تھے کہ ڈاکوؤں نے گھیر لیا اور چھینا جھپٹی کی کوشش کی اور گولی چلادی گولی لگنے سے خاتون پروفیسر اور ان کے شوہر عرفان احمد دونوں ہی لہولہان ہوگئے، جنھیں فوری نجی اسپتال منتقل کیا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے خاتون پروفیسر نسرین نگہت دم توڑ گئیں جبکہ انکے شوہر کو طبی امداد دے کر فوری جان بچالی گئی جن کی حالت اب خطرے سے باہر ہےتفصیلات کے مطابق 25 مئی کو شادی میں شرکت کے لیے آنے والے مہمان تعزیت کرنے والوں کاحصہ بن گئے ، نسرین نگہت کی ڈاکوؤں کے ہاتھوں موت نے خوشیوں سے بھرے گھر کو ماتم کدہ میں تبدیل کر دیا۔
    نسرین نگہت نے اپنے بیٹے کی دلہن کی لیے شادی کا لہنگا بھی خرید رکھا تھا جو اب الماری کی زینت بن کر رہ گیا جبکہ 25 مئی کو ہونے والی بیٹے کی شادی بھی ملتوی کردی گئی ہے۔ریٹائرڈ پروفیسر نسرین نگہت کے شوہر عرفان احمد خان نے میڈیا اور زرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میری بیوی دنیا سے چلی گئی میرے پاس غم بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ہیں۔ جبکہ نسرین نگہت کے بیٹے محمد حسان خان کا کہنا تھا کہ سوچا نہیں تھا کہ عید پر ہماری ماں ہمارے ساتھ نہیں ہوں گی، میری شادی کی تیاریوں میں بہت خوش اور مصروف تھیں، دلہن کے لیے جوڑا اور میری شیروانی بھی خرید لی تھی کچھ خریداری باقی تھی لیکن ایسے موقع پر یہ واقعہ پورے خاندان کو سوگوار کرگیا ہے

  • کورونا کی خطرناک صورتحال،سندھ میں یہی حال رہا تو مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا

    کورونا کی خطرناک صورتحال،سندھ میں یہی حال رہا تو مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا

    وزیراطلاعات سندھ ناصر حسین شاہ نے خبردار کیا ہے کہ کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں، یہی صورت حال رہی تو مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنا پڑے گا۔تفصیلات کے مطابق اپنے تازہ بیان میں ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ ٹاسک فورس کی میٹنگ میں کورونا صورتحال پر اظہار تشویش کیا گیا، کیسز بڑھ رہے ہیں یہی صورت حال رہی تو مکمل لاک ڈاؤن نافذ کرنا پڑے گا، ویکسی نیشن کے لیے لوگوں کو بلایا جارہا ہے لیکن نہیں آرہے۔انہوں نے کہا کہ پوری کوشش کررہے ہیں کہ ویکسین سب کے لیے میسر ہو، البتہ سندھ میں دیگر صوبوں سے صورت حال بہتر ہے، وزیراعظم بھی محسوس کررہے ہیں کہ مل کر کام کرنا چاہیے۔صوبائی وزیراطلاعات کا کہنا ہے کہ بہت سارے معاملات ہیں وفاقی حکومت تعاون نہیں کرتی، وزیراعظم نے کہا 3اسپتال سندھ کو دے رہے ہیں پھر بھی بورڈ بنایا جارہا ہے، زرعی ملک ہوتے ہوئے چیزیں باہر سے منگوانی پڑتی ہیں، پی ڈی ایم اجلاس میں شرکت کی دعوت نہیں ملی، اپوزیشن کو ایک ہونا پڑے گا، ہم آئیڈیل پوزیشن میں نہیں ہیں۔ناصر حسین شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت بڑی برائی ہے ہم نے چھوٹی برائیوں کو ساتھ لیا، ضمنی انتخاب سے بھاگ نہیں رہے رمضان اور کورونا صورت حال پر خط لکھا تھا، پیپلزپارٹی بھاری اکثریت سے جیتے گی، اپوزیشن کو اسٹینڈنگ کمیٹیوں میں نمائندگی دینے کی بات چیت چل رہی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کو پی اے سی کی چیئرمین شپ نہیں دے رہے، نبی ﷺکی حرمت پر قومی اسمبلی میں قرارداد کی حمایت کریں گے

  • 6 سال بعد نائن زیرو آپریشن کے 54 سے زائد مقدمات کا فیصلہ سنا دیا گیا

    6 سال بعد نائن زیرو آپریشن کے 54 سے زائد مقدمات کا فیصلہ سنا دیا گیا

    انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 6 سال بعد نائن زیرو آپریشن کے 54 سے زائد مقدمات کا فیصلہ سناتے ہوئے ہائی پروفائل ٹارگٹ کلرز کو دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزام سے بری کر دیا۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں انسداد دہشت گردی عدالت خیل کمپلکس نے 6 سال بعد نائن زیرو آپریشن کے 54 سے زائد مقدمات کا فیصلہ سنا دیا۔فیصلے میں کہا گیا کہ فیصل موٹا، عبید کے ٹو، نادر شاہ، عامر سرپھٹا سمیت دیگر کے خلاف دھماکہ خیز مواد رکھنے کا جرم ثابت نہیں ہو سکا ہے، جس پر عدالت نے ہائی پروفائل ٹارگٹ کلرز کو دھماکہ خیز مواد رکھنے کے الزام سے بری کر دیا ہے، دیگر میں امتیاز، عبدالقادر، کاظم رضا، محمد عامر، شکیل عرف بنارسی، محمود حسن شامل ہیں۔عدالت کا کہنا تھا کہ فیضان علی اور ساجد علی سمیت 2 ملزموں کے خلاف دھماکہ خیز مواد اور اسلحہ ایکٹ کے الزامات بھی ثابت نہ ہو سکے۔عدالت نے غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں فیصل موٹا کو دس سال قید کا حکم دیا جبکہ فرحان شبیر کو غئر قانونی اسلحہ رکھنے کے جرم میں آٹھ سال سزا سنائی گئی ہے۔یاد رہے رواں ماہ انسداد دہشتگردی عدالت میں ایم کیو ایم مرکز نائن زیرو پر آپریشن سے متعلق مقدمات کی سماعت کے دوران فریقین کے دلائل مکمل ہونے پر کیس کا فیصلہ محفوظ کیا گیا تھا۔واضح رہے کہ 11مارچ 2015 کو رینجرز نے نائن زیرو سے 26 ملزمان کو گرفتار کیا تھا ، ملزمان کے خلاف دھماکہ خیز مواد اور غیر قانونی اسلحہ رکھنے کے الزامات ہیں جبکہ آپریشن کے دوران 250 سے زائد مختلف نوعیت کا اسلحہ برآمد ہوا تھا ۔نائن زیرو سے گرفتار ملزمان فیصل عرف موٹا،عبید کے ٹو،عامر سر پھٹا،عامر تیلی سمیت دیگر ملزمان شامل ہیں۔

  • شہر قائد میں کوروناکیسز کی شرح 8.9 فیصد تک پہنچ گئی

    شہر قائد میں کوروناکیسز کی شرح 8.9 فیصد تک پہنچ گئی

    شہر قائد میں کوروناکیسز کی شرح 8.9 فیصد تک پہنچ گئی ، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا ہے کہ کراچی اور حیدرآباد میں کیسز بڑھنا پریشان کن ہے، جب تک لوگ خود احتیاط نہیں کرینگے کیسز بڑھتے جائیں گے۔تفصیلات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی زیرصدارت کورونا ٹاسک فورس کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر صحت عذراپیچوہو نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کراچی میں کوروناکیسز8.9 فیصد تک پہنچ گئے ہیں جبکہ حیدرآباد 16.64 دیگر اضلاع میں 2.72 فیصد کیسزرپورٹ ہورہے ہیں۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ سندھ میں کوویڈ سےجنوری میں 431 مریض انتقال کر گئے جبکہ فروری 2021 میں 339 اورمارچ میں 151 اموات ہوئی ہیں اور اپریل میں تاحال72 مریض انتقال کرچکےہیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کراچی اور حیدرآباد میں کیسز بڑھنا پریشان کن ہے، جب تک لوگ خود احتیاط نہیں کرینگے کیسز بڑھتے جائیں گے۔اجلاس میں بتایا گیا کہ کراچی میں 52 مریض وینٹی لیٹرز پر ہیں اور 531 وینٹی لیٹرز کی سہولت مختلف اسپتالوں میں موجود ہے تاہم سندھ کو تاحال5لاکھ 62 ہزار ویکسین فراہم کی گئی ہیں۔مراد علی شاہ نے کہا ہم نے سندھ میں اسپتالوں میں آلات اورسہولتوں میں اضافہ کیا ہے، مزید 70 وینٹی لیٹرز کا کراچی میں اضافہ کیا جارہا ہے.

  • نابینا افراد کے لیے سرکاری یونی ورسٹی کے طلبہ کی اہم ایجاد

    نابینا افراد کے لیے سرکاری یونی ورسٹی کے طلبہ کی اہم ایجاد

    بے نظیر بھٹو شہید یونی ورسٹی لیاری کراچی، انفارمیشن ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ کے طلبہ نے نابینا افراد کے لیے جدید ترین موبائل ایپلی کیشن چھڑی ایجاد کی ہے، جس سے انھیں راہ چلتے بڑی سہولت میسر آ سکتی ہے۔انھوں نے بتایا کہ انھوں نے نابینا افراد کے لیے چھڑی سے جڑی ایسی موبائل ایپلی کیشن بنائی ہے جو آواز کے ذریعے انھیں راستے میں آنے والی رکاوٹوں سے متعلق آگاہ کرتی ہے۔دل چسپ امر یہ ہے کہ اس موبائل ایپلی کیشن میں مختلف زبانوں کا آپشن موجود ہے، جو نابینا افراد کو عوامی مقامات میں چلنے پھرنے میں مدد دے گی۔ یہ ایجاد بے نظیر شہید یونی ورسٹی کے 3 طلبہ شہزاد اول، شہزاد دوم، اور محمد حمزہ علی نے مل کر کی ہے۔شہزاد اول نے بتایا کہ یہ ایک اسمارٹ سسٹم ہے، جس میں ہم نے آئی او ٹی (انٹرنیٹ آف تھنگز) اور ایپ کے ذریعے کنیکٹنگ کرائی ہے، اس میں ہم مائیکرو کنٹرولر کو آٹومیٹ کرتے ہیں، اسے کسی چیز پر لگا کر انٹرنیٹ سے جوڑا جاتا ہے، اس میں ہم نے الٹرا سانک سنسر لگائے ہیں جو فاصلے کو ناپ کر بتاتے ہیں کہ آگے کوئی رکاوٹ ہے یا نہیں، اگر کوئی رکاوٹ ہوتی ہے تو آواز کی لہر واپس آتی ہے اور بتاتی ہے کہ کتنے فاصلے پر کوئی چیز ہے۔اس ڈیوائس میں مختلف قسم کے سنسر لگے ہوئے ہیں، جیسا کہ ایک سنسر گڑھے کو تلاش کرنے کا کام کرتا ہے، جب یہ سامنے کوئی گڑھا پاتا ہے تو یہ سنسر ایپ کو اس کا فاصلہ بھیجتا ہے، اور اسی حساب سے ایپ آواز کے ذریعے نابینا افراد کو اس کے بارے میں مطلع کر دیتا ہے، یہ ایپ اردو میں بتاتا ہے کہ آگے گڑھا ہے، ایپ میں موجود خاتون کی یہ آواز ہمارے کلاس میٹ کی ہے جسے ریکارڈ کیا گیا ہے۔شہزاد دوم نے بتایا کہ انھوں نے اس پروجیکٹ میں آئی او ٹی پر ہارڈ ویئر کو ڈویلپ کیا ہے، مائیکرو کنٹرولر سنسر، لوکیشن شیئرنگ، یہ سب میں نے ڈیولپ کی ہیں۔حمزہ علی کا کہنا تھا کہ اس سارے ڈیوائس کا انفرا اسٹرکچر انھوں نے ڈیزائن کیا کہ اس نے کیسے کام کرنا ہے، حمزہ نے بتایا کہ پروجیکٹ کا آئیڈیا بھی میرا تھا۔اس چھڑی پر مدربورڈ، مائیکرو کنٹرولر، جی ایس ایم اور سنسر لگا ہوا ہے، طلبہ نے بتایا کہ اسٹک پر مائیکرو کنٹرولر لگایا گیا ہے، لیکن کرونا وبا کی وجہ سے جی ایس ایم دستیاب نہیں تھا تو ہم نے ایپلی کیشن موبائل کے ذریعے اسے کال کروائی تو وی شیئر ہوئی۔انھوں نے کہا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس کو صنعتی سطح پر تیار کریں، ہم نے اس کے لیے لیزر سنسر بھی منگوائے ہیں کیوں کہ جو ماڈل ہم نے تیار کیا ہے اس میں پرانے ماڈل کے سنسر لگے ہیں، لیزر سنسر مکمل طور پر درست فاصلہ ناپتا ہے۔طلبہ کا کہنا تھا اس پروڈکٹ کی تیاری پر تقریباً 3 ہزار روپے کا خرچہ آیا، زیادہ پیمانے پر اس کی تیاری پر لاگت مزید کم ہو جائے گی، اگر حکومت اس پروجیکٹ کو اون کرے تو بڑے پیمانے پر اس کی پروڈکشن ہو سکتی ہے۔

  • سندھ کی عوام تو بس جانیں دے دے کر بھٹو صاحب کا قرض اتار رہی ہے،خرم شیر زمان۔

    سندھ کی عوام تو بس جانیں دے دے کر بھٹو صاحب کا قرض اتار رہی ہے،خرم شیر زمان۔

    پی ٹی آئی رہنما خرم شیر زمان نے اپنے بیان میں سندھ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کرائے پر لیے گئے لوگ ہمیشہ بڑی بڑی چھوڑتے ہیں، سندھ حکومت کو صحت کارڈ نہیں بس اے ٹی ایم کارڈز چاہیے۔سندھ کی اسپتالیں این جی اوز کے حوالے کر دیئے گئے ہیں۔سندھ کی اسپتالوں میں کورونا ویکسین کے پیکیج کا اعلان کیا گیا ہے۔
    لاشوں کے لیے جہاں ایمبولینس تک موجود نہ ہو، کورونا میں جو حکومت اب تک تین دفعہ کاروبار کے اوقات بدل چکی ہو.اسے عوام کی صحت سے کیا لینا دینا.انھوں نے مزید کہا کہ سندھ حکومت صرف اسی کام پر توجہ دیتی ہے جہاں سے انہیں کمیشن مل رہا ہوتا ہے.سندھ کی عوام تو بس جانیں دے دے کر بھٹو صاحب کا قرض اتار رہی ہے۔

  • کراچی میں رمضان کے دوران اسٹریٹ کرائم میں 100فیصد اضافہ

    کراچی میں رمضان کے دوران اسٹریٹ کرائم میں 100فیصد اضافہ

    کراچی میں رمضان آتے ہی لوٹ مار کی وارداتوں میں اضافہ ہوگیا اور سال کے ابتدائی چار مہینوں کا جائزہ لیا جائے تو بعض وارداتوں میں تقریباً 100 فیصد اضافہ ہوا۔ تفصیلات کے مطابق رواں برس کے ابتدائی 4 ماہ کے جاری اعداد وشمار کے مطابق اس سال موبائل فون چھیننے کی وارداتوں میں 15 فیصد سے زائد اضافہ ہوا، جنوری سے اب تک 5846 موبائل فونز چھینے جاچکے ہیں جب کہ گزشتہ سال یہ تعداد5074 تھی۔ موبائل فون چوری کی وارداتوں کی تعداد بھی زیادہ ہے لیکن پولیس کی جانب سے اس کا ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا۔اعداد و شمار کے مطابق گاڑیاں چھیننے کی وارداتوں میں 15 فیصد سے زائد کمی واقع ہوئی ہے، گزشتہ سال 51 گاڑیاں چھینی گئیں جب کہ اس سال 43 چھینی جاچکی ہیں اور ساتھ ہی 415 گاڑیاں چوری بھی ہوئیں۔پولیس کے مطابق رواں برس موٹرسائیکل چھیننے کی وارداتوں میں بھی تقریبا دگنا اضافہ دیکھنے میں آیا، اس سال اب تک 997 موٹرسائیکل چھینی جاچکی ہیں جب کہ گزشتہ سال اس عرصے میں صرف 539 موٹرسائیکلیں چھینی گئی تھیں۔اعداد وشمار کے مطابق اس برس موٹرسائیکلیں چوری کرنے کے واقعات بھی تقریباً 35 فیصد بڑھ گئے ہیں، اب تک 10207 موٹر سائیکلیں چوری کر لی گئی ہیں جب کہ گزشتہ سال چوری کی گئی موٹرسائیکلوں کی تعداد 7591 تھی۔

  • کراچی سٹی کورٹ میں لگی آگ بجھا دی گئی

    کراچی سٹی کورٹ میں لگی آگ بجھا دی گئی

    کراچی سٹی کورٹ کے بار کمیٹی روم میں اچانک آگ بھڑک اٹھی جس پر ایک گھنٹے کی جدوجہد کے بعد قابو پالیا گیا۔سٹی کورٹ میں کراچی بار کے کمیٹی روم میں آگ لگنے کے بعد تمام وکلاء کو باحفاظت باہر نکال لیا گیا تھا۔ایک گھنٹے کی جدوجہد کےبعد ایک فائر ٹینڈر کی مدد سے آگ پر قابوپالیا گیا۔فائر بریگیڑ حکام کے مطابق آگ لگنے کی وجوہات تاحال معلوم نہیں ہوسکی ہیں.