باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں اسلام قبول کرکے پسند کی شادی کرنے والی لڑکی آرزو فاطمہ کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کردی گئی ،
سندھ ہائیکورٹ میں پسند کی شادی کرنے والی لڑکی آرزو فاطمہ کیس کی سماعت ہوئی،آرزو راجہ کی عمر کے تعین سے متعلق رپورٹ پیش کردی گئی ،5 رکنی میڈیکل بورڈ نے آرزو کی عمر 14 سے 15 سال قرار دے دی۔
عدالت نے آرزو سے پھر استفسار کیا کہ آپ پر کوئی دباﺅ تو نہیں ؟، لڑکی نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ مجھ پر کوئی دباﺅ نہیں ،مرضی سے اسلام قبول کیا اور شادی کی۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے سندھ حکومت آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔
بلاول نے کہا کہ آرزو راجہ کیس میں اگر معزز عدالت کو شبہات ہیں تو انہیں دور کیا جائے گا، سندھ حکومت اپنے دائرہ کار میں انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے شواہد بتارہے ہیں کہ آرزو راجہ کم عمر ہے، اس کی شادی اور مذہب کی تبدیلی جبری طور پر کرائی گئی ہے، یہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔
خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرے شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کے کیس میں پولیس کو آرزو فاطمہ کے شوہر علی اظہر اور اس کے اہل خانہ کی گرفتار سے روک دیا۔
درخواست گزار آرزو نے مؤقف اختیا کیا تھا کہ ‘میرا تعلق عیسائی گھرانے سے تھا مگر بعد میں اسلام قبول کرلیا اور نام آرزو فاطمہ رکھا، میں نے اپنے گھر والواں کو بھی اسلام قبول کرنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کردیا جبکہ میں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے.
آرزو نے بتایا کہ اپنی مرضی سے علی اظہر سے پسند کی شادی کی ہے، پسند کی شادی کرنے پر میرے والد نے میرے شوہر کی پوری فیملی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔
مہنگائی کے خاتمے اور غریب عوام کو رلیف دینے کے لئے جامع پالیسیاں بنائی جارہی ہیں، حلیم عادل شیخ
باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی نائب صدر حلیم عادل شیخ نے اپنے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ حکومت مضبوط ہاتھوں میں ہے ملک ترقی کر رہا ہے چور سیاستدانوں کے دن گنے جا چکے ہیں۔ 30سال تک ان لوگوں نے ملک کو لوٹا ہے نواز شریف اور زرداری خاندان نے باریاں لیکر ملک کو قرضوں کی دلدل میں ڈال دیا تھا جس کا خمیازہ آج مہنگائی کی صورت میں عوام بھگت رہی ہے۔ موجودہ حکومت عوام کوسہولیات فراہم کرنے کے لئے کوشاں ہے، مہنگائی کے خاتمے اور غریب عوام کو رلیف دینے کے لئے جامع پالیسیاں بنائی جارہی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا محب وطن سیاستدان غداروں کا ساتھ نہیں دیں گے، نواز شریف کے منہ میں بھارت کی زبان ہے۔ اپنی کرپشن بچانے کے لئے ملک کے حساس اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے میں پارٹیوں کے اپنے اختلافات سامنے آچکے ہیں۔ مولانا صاحب حکومت کے جانے کے دن میں بھی خواب دیکھنے لگے ہیں جوکبھی پورے نہیں ہوسکتے،
دسمبر تک حکومت تو کہیں نہیں جارہی البتہ پی ڈی ایم کا خاتمہ ضرور ہوسکتا ہے۔ گلگلت بلتستان میں قبل از انتخابات کے دھاندھلی کا شور مچانے والوں کو اپنی شکست نظر آچکی ہے۔ ن لیگ اور پ پ کی مسلسل کرپشن اور عوام دشمن پالیسیوں کی وجہ سے عوام ان کو مسترد کر چکی ہے۔ پاکستان کی عوام کبھی بھی ان چوروں کا ساتھ نہیں دے گی۔ گلگت بلتستان سے بھی پی ٹی آئی جیتے گی۔
کراچی میں کورونا وائرس ایس او پیز پر عمل درآمد کی نگرانی سخت کردی گئی، ضلعی انتظامیہ نے ماسک نہ پہننے والوں پر 500 روپے فی کس جرمانہ عائد کرنا شروع کردیا، اب تک 26 افراد سے 13 ہزار روپے وصول کیے جاچکے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ نے کراچی کے شہریوں کو ماسک پہننے کا پابند کرنے کیلئے 500 روپے فی شہری جرمانہ وصول کرنے کے ساتھ ساتھ ماسک مہیا بھی کیے۔
اب تک 26 افراد نے 500روپے فی کس جرمانہ ادا کیا ہے، ضلعی انتظامیہ نے 13 ہزار روپے وصول کر لیے جبکہ کمشنر کراچی کی ہدایت کے تحت کراچی کے تمام اضلاع میں ماسک نہ پہننے والے افراد کو جرمانہ کیا جائے گا۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ آج کراچی میں ریلوے سے متعلق میٹنگ تھی ،14 کلومیٹر تک کے سی آرٹریک کو کلیئر کر دیا ہے،
شیخ رشید احمد کا کہنا تھا کہ جوریلوے کی قیمتی زمینوں پربیٹھے ہیں ان سےبھی میٹنگ کی ، خواہش ہے سی پیک کے تحت ریلوے ٹریک کوجلال آباد تک لےجائیں،گلگت بلتستان میں تمام پارٹیزانتخابات میں بھرپور حصہ لے رہی ہیں، دیکھتے ہیں کہ ہارنے والے ہارکوتسلیم کریں گے یا نہیں،ایسا سیاست دان نہیں دیکھا جو ڈائیلاگ کی بجائے جوڈو کراٹے کرے،
شیخ رشید احمد کا مزید کہنا تھا کہ بلاول نے کل کہہ دیا کہ فوج کونشانے بنانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی،بلاول نےانٹرویومیں ذمہ دارانہ رویہ اختیارکیا،بلاول بھٹوکابیان حقیقت پرمبنی ہے،مریم نواز سیاست کوبند گلی کی طرف لے کرجا رہی ہے ،این آراو کےعلاوہ ہر چیز پربات ہوسکتی ہے، وزیراعظم عمران خان 5 سال پورے کریں گے،30دسمبر سے 20جنوری تک پیپلزپارٹی ن لیگ کے ساتھ نہیں چلےگی ،ہر کوئی کہتا تھا جہانگیر ترین بھاگ گیا ، جہانگیر ترین کوسراہنا چاہیے وہ واپس آگئے ہیں، جہانگیرترین حالات کے مقابلے کے لیے آئے
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں تحریک لبیک کے زیر اہتمام آج تحفظ ناموس رسالت مارچ کا انعقاد کیا جا رہا ہے
اس حوالہ سے تیاریاں و انتظامات مکمل کی گئی ہے ،کراچی میں تحفظ ناموس رسالت مارچ کے حوالہ سے جوش وخروش میں دیکھنے میں آ رہا ہے،مختلف تنظیموں کے کارکنوں کی بڑی تعداد ناموس رسالت کیلئے پیدل ،موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں پراسٹارگیٹ پہنچ گئی ہے جس نے چلنا شروع کر دیا ہے،مارچ کے شرکاء پیدل اور گاڑیوں پر سوار ہیں اور فرانس کے خلاف نعرے بازی کر رہے ہیں
شارع فیصل اور ائیرپورٹ کے اطراف رینجرز اور پولیس کی بھی سیکورٹی سخت کر دی گئی ہے ،امیرتحریک لبیک ہاکستان خادم حسین رضوی مارچ کے شرکاء سے خطاب کریں ،تحریک لبیک پاکستان ضلع شرقی کا قافلہ ہزاروں افراد کی تعداد ناموس رسالت ﷺ مارچ میں شرکت کے لئے چند لمحوں میں روانہ ہوگا۔
واضح رہے فرانس میں ایک برس قبل طنز و مزاح کے ایک میگزین میں پغمبر اسلام حضرت محمدﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کیے گئے تھے جبکہ ان کے دفاتر پر 2015 میں حملہ ہوا تھا جس میں 12 افراد مارے گئے تھے۔رواں ماہ فرانس کےدارالحکومت پیرس میں گستاخی کا مرتکب ہونے والا استاد قتل ہوا تھا جس کے بعد ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے دیواروں پر گستاخانہ خاکے آویزاں کیے گئے تھے جس پر مسلمانوں کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کراچی اور سندھ کی تباہی کے ذمے داروں کا کل یوم احتساب ہوگا، مصطفیٰ کمال
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ جو کہا کر دکھایا ہمارے کہنے اور عمل میں زیر زبر کا فرق نہیں آیا،کل کے جلسے میں پاکستان کے مستقبل کی بات ہوگی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ ہم لوگوں کوآپس میں جوڑنے کی بات کرتے ہیں ،کل کاجلسہ تاریخی ہوگا ،عوام کے نام پرسیاسی پوائنٹ اسکورنگ ہورہی ہے ،آج ملک میں ہرطرف مایوسی ہے، پاک سرزمین پارٹی عوام کی ترجمانی کررہی ہے،پاک سرزمین پارٹی کل تن تنہا بغیر سرکاری وسائل جلسہ کرے گی،
مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ آج جتنی مایوسی ہے پہلے پاکستان میں کبھی اتنی نہیں تھی، ملک کولوٹا جا رہا ہے،آج ہرطرف تباہی ہے ،حکمران حکومت بچانےاور اپوزیشن والے حکومت گرانے میں مصروف ہیں،جو جھوٹ بولتے ہیں انہیں یوٹرن لینا پڑتاہ ے،ہم نے آج تک یوٹرن نہیں لیا،کراچی اور سندھ کی تباہی کے ذمے داروں کا کل یوم احتساب ہوگا ہم نے جو لائحہ عمل دیا ہےوہ پاکستان کےفلاح وبہبودکا راستہ ہے ،کسی کو سرکاری خرچ پرنہیں لائیں گے،لوگ خود آئیں گے،مہنگائی اورتباہی سے لوگ تنگ ہیں
مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ بتائیں گے پاکستان کولوٹنے والا اوراس حال تک پہنچانے والا کون ہے کل کے جلسے میں پاکستان کے مستقبل کی بات ہوگی ،کراچی پاکستان کی معاشی اورسیاسی شہ رگ بھی ہے، کراچی میں بارش کےبعد گیارہ سو ارب کا لولی پاپ دیا گیا کل سے کراچی پاکستان کو لیڈ کرے گا،پونے تین ہزار ارب دینے والےکراچی کو پیکیج نہیں حق چاہیے ،کراچی خود پاکستان کو امداد اورپیکج دیتا ہے، کراچی ساڑھے 3 ہزارارب روپے پاکستان کو دیتا ہے
چیئرمین واپڈا کا اعلیٰ سطحی واپڈا تکنیکی ٹیم کے ہمراہ گریٹر کراچی واٹر سپلائی سکیم (کے فور) کا دورہ،چیئرمین واپڈا اور تکنیکی ٹیم کو منصوبے پر پیش رفت اور درپیش مسائل کے بارے میں بریفنگ دی گئی ،کے فور پراجیکٹ ڈیزائن، روٹ اور فعالیت کے حوالے سے سنگین تکنیکی مسائل کا شکارہے،واپڈا تکنیکی ٹیم مسائل پر تفصیلی رپورٹ بنائے گی،مسائل کے ممکنہ حل بھی تجویز کئے جائیں گے،تفصیلی رپورٹ کی روشنی میں کے فور پراجیکٹ پر عملدرآمد کا لائحہ عمل بنایا جائے گا
تفصیلات کے مطابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین (ریٹائرڈ) نے گریٹر کراچی واٹر سکیم (کے فور پراجیکٹ) کا دورہ کیا۔ واپڈا کی اعلیٰ سطحی تکنیکی ٹیم بھی اِس دورے میں اُن کے ہمراہ تھی۔ تکنیکی ٹیم واپڈا کے ماہر اور تجربہ کار انجینئر ز کے ساتھ ساتھ منصوبوں پر عملدرآمد کے ماہرین پر مشتمل تھی۔ ماہرین میں ایڈوائزر (پراجیکٹس)، جنرل منیجر(کوارڈی نیشن اینڈ مانیٹرنگ) واٹر، جنرل منیجر (سنٹرل ڈیزائن آفس)، جنرل منیجر (ہائیڈرو پلاننگ) اور جنرل منیجر(پراجیکٹس) ساؤتھ شامل تھے۔
دورے کے پہلے مرحلے میں چیئرمین واپڈا اور اعلیٰ سطحی تکنیکی ٹیم نے ضلع ٹھٹھہ میں کینجھر جھیل پر واقع کے فور پراجیکٹ کے اِن ٹیک کا معائنہ کیا۔ جہاں حکومت سندھ کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے فور نے منصوبے کی موجودہ صورتِ حال اور اِس کی تعمیر کی راہ میں حائل رکاوٹوں کے بارے میں بریفنگ دی۔ ایف ڈبلیو او کے پراجیکٹ منیجر نے منصوبے پر اب تک کی تعمیراتی پیش رفت جبکہ او سی ایل کنسلٹنٹس کے ڈائریکٹر نے منصوبے کو درپیش مسائل کے بارے میں بتایا۔
بعد ازاں چیئرمین واپڈا ا ور پراجیکٹ سے متعلق آفیسرز نے کے فور منصوبے کے روٹ کا فضائی جائزہ بھی لیا۔دورے کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کے فور پراجیکٹ ڈیزائن، روٹ اور فعالیت کے حوالے سے سنگین تکنیکی مسائل کا شکار ہے اور اِن مسائل کو حل کئے بغیر منصوبے پر پیش رفت نہیں ہوسکتی۔ واپڈا تکنیکی ٹیم اِس حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ تیار کرے گی،جس میں اِن تمام مسائل کا احاطہ کیا جائے گا اور اِن کے ممکنہ حل بھی تجویز کئے جائیں گے اور مذکورہ رپورٹ کی روشنی میں کے فور منصوبے پر عملدرآمد کے لئے
لائحہ عمل بنایا جائے گا۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ کے فور پراجیکٹ کراچی کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ قبل ازیں اِس منصوبے کی تعمیر کی ذمہ داری حکومت سندھ کے پاس تھی، تاہم سندھ حکومت کے ساتھ ایک انتظام کے تحت اب یہ منصوبہ وزیر اعظم کے کراچی پیکیج کے تحت وفاقی حکومت تعمیرکررہی ہے۔ اوراس پس منظر میں وفاقی حکومت نے کے فور منصوبے پر عملدرآمد کی ذمہ داری واپڈا کو تفویض کی ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چرس پینے کی اجازت لینے کے لیے شہری سندھ ہائیکورٹ پہنچ گیا
سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں شہری غلام اصغر سائیں کی جانب سے کہا گیا ہے کہ 10 گرام تک چرس پینے کی اجازت دی جائے،
سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس محمد علی مظہرنے درخواست پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ کیسی درخواست لے کر آئے ہیں ،کیا آپ چاہتے ہیں ملک میں سب لوگ چرس پینا شروع کردیں؟۔
عدالت نے کہا کہ بتائیں آپ پر کتنا جرمانہ عائد کیا جائے ،درخواست گزار غلام اصغر سائیں نے کہا کہ غریب آدمی ہوں مفاد عامہ کی درخواست لیکر آیا ہوں ، 10 گرام چرس رکھنے پر جرمانہ بھی ختم کیا جائے ،چرس شریف لوگ پیتے ہیں جنہیں پولیس تنگ کرتی ہے،دنیا کے بیشتر ممالک میں چرس پینے کی اجازت ہے ۔
عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کو پینی ہے تو ان ممالک میں چلے جائیں یہاں اجازت نہیں ،ایسی درخواستیں عدالت میں کیوں لے کر آتے ہیں ،
درخواست گزار نے عدالت میں کہاکہ چرس پینے کی اجازت دینے سے ملک میں کی آمدنی بڑھے گی اور ریونیو بنے گا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نہیں چاہئے ایسا ریونیو ،آمدنی بڑھانے کے اوربھی جائزطریقے ہیں ۔درخواست میں وزارت قانون، وفاق اور دیگر کو فریق بنایاگیا تھا،
عدالت نے درخواست ناقابل سماعت قرار دے کرمسترد کردی۔
کراچی میں 13 سالہ کر سچین بچی کے اسلام قبول کرنے کے بعد 44 سالہ شخص سے نکاح کرنے کئے کیس میں پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم سندھ حکومت پر برس پڑے-
باغی ٹی وی : پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم نے آرزو راجہ کیس کے حوالے سے باغی ٹی وی کے ساتھ گفگتو کرتے ہوئے کہا کہ اس کیس میں سب سے بڑی وائلیشن سندھ حکومت سے ہوئی جہاں پر کم عمر میں شادی کا ایکٹ 2103 میں منظور ہوا لیکن سب سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس ایکٹ پر 7 سال سے رولز ایمڈ ریگولیشن نہیں بن سکے –
انہوں نے کہا کہ 18 سال سے کم بچی کی شادی اور پھر اس کے بعد اہم بات یہ ہے کہ سندھ پولیس نے اس ایکٹ کے رول کو ہوا میں اڑا دیا حالانکہ وہاں 18 سال سے کم عمر کی بچی کی شادی نہیں ہو سکتی لیکن انہوں نے 13 سا ل کی بچی کی شادی کی اور پولیس نے ب فارم جوکہ نادرہ کی یہ ہماری شناخت ہے اور اگر آپ شناختی کارڈ اور ب فارم کو ریجیکٹ کرتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پاکستان کے اداروں پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہیں-
پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق نے کہا کہ سندھ کی پولیس نے یہ کیا کہ بجائے وہ ان کو تحفظ دیتے انہوں نے 13 سال کی بچی اور نکاح خوان نے اس بچی کا نکاح کیا پہلے بھی اسی نکاح خوان نے نہیا نامی بچی کا اسی طرح غلط نکاح کیا جس کی وجہ سے عدالت نے اس نکاح خان کے گرفتاری کے وارنٹ نکالے اس طرح انہوں نے دوسری مرتبہ یہ وائلیشن کی ہے-
اعجاز عالم نے کہا کہ 13 اکتوبر سے بچی کے ساتھ یہ ہوا تو سندھ حکومت کوچاہیے تھا کہ اپنا ردعمل دیتی لیکن اس واقعے کے 15 دن کے بعد ان کی پارٹی کے چئیرمین نے ٹوئٹ میں رد عمل دیا اور اس میں وہ ٹوئٹ کیا بھی اپنی ہی حکومت کے خلاف ان کی حکومت ہی نے تو یہ کام کیا ہے-
صوبائی وزیر نے کہا کہ جب پنجاب میں زیبنب کیس ہوا تھا تو مراد علی شاہ پنجاب میں آئے تھے اور کہا تھا کہ ہم وہاں پر سندھ کے ہر ڈسٹرکٹ میں پروٹیکشن شیلٹر بنائیں گے جہاں پر ایسی بچیوں اور بچوں کو رکھا جائے لیکن ویاں پر ابھی تک پچھلے 5 سال سے 10 بائے 10 کا ایک کمرہ نہیں بنا سکے-
اعجاز عالم نے مزید کہا کہ ابھی اگر گورنمنٹ نے ایک بازیابی کی ہے تو ایک شیلٹر روم میں بھیجا دارالامان میں کیا اگر اس طرح کے شیلٹر روم ہوتے تو اب اگر آرزو کو ریکور کرنے کے بعد ری ایپلیکیشن کے بھیجا جاتا ہے تو اسے بلاول ہاؤس میں تو نہیں بھیجیں گے آپ کے پاس اس طرح کے سینٹر ہوں گے تو اس کو وہاں بھیجا جائے گا-
پنجاب کے صوبائی وزیر انسانی حقوق اعجاز عالم نے عدالت کی اس کیس میں کاگردگی پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ معزز عدالت نے آج کی سنائی میں آرزو راجہ کا بیان لیا ہے اور اس کی میڈیگل ایگزامین کے لئے ڈاکٹروں کا ایک بورڈ بنا دیا ہے تو ہم ابھی تک تو مطمن ہیں معزز عدالت کورٹ کے کہ وہ کس طرح یہ کورٹ سندھ ہائی کورٹ میں چل رہا ہے تو ہم مطمن ہیں اور ہم امید کرتے ہیں کہ اس طرح یہ چھوٹی عمر میں شادی کو دیکھتے ہوئے سندھ ہائی کورٹ کی زبردست قسم کی پروٹیکشن ملے-
واضح رہے کہ عدالت نے آرزو راجہ نے عدالت میں بیان میں کہا ہے کہ اس کی عمر 18 سال ہے اور اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر کے نکاح کیا ہے اور اسے اس کے شوہر کے ساتھ رہنے دیا جائے جائے جس پر عدالت نے آرزو راجہ کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آرزو کو لیڈی پولیس کی تحویل میں طبی معائنہ کیلئے لے جایا جائے،عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ کو میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیدیا،کیس کی مزید سماعت9 نومبر تک ملتوی کردی گئی ۔عمر کے تعین تک درخواست گزار شیلٹر ہوم میں رہیں گی
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے سندھ حکومت آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔
بلاول نے کہا کہ آرزو راجہ کیس میں اگر معزز عدالت کو شبہات ہیں تو انہیں دور کیا جائے گا، سندھ حکومت اپنے دائرہ کار میں انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے شواہد بتارہے ہیں کہ آرزو راجہ کم عمر ہے، اس کی شادی اور مذہب کی تبدیلی جبری طور پر کرائی گئی ہے، یہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔
خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرے شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کے کیس میں پولیس کو آرزو فاطمہ کے شوہر علی اظہر اور اس کے اہل خانہ کی گرفتار سے روک دیا۔
درخواست گزار آرزو نے مؤقف اختیا کیا تھا کہ ‘میرا تعلق عیسائی گھرانے سے تھا مگر بعد میں اسلام قبول کرلیا اور نام آرزو فاطمہ رکھا، میں نے اپنے گھر والواں کو بھی اسلام قبول کرنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کردیا جبکہ میں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے-
آرزو نے بتایا کہ اپنی مرضی سے علی اظہر سے پسند کی شادی کی ہے، پسند کی شادی کرنے پر میرے والد نے میرے شوہر کی پوری فیملی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں اسلام قبول کرکے پسند کی شادی کرنے کے کیس کی سماعت ہوئی،
آرزو اور علی اظہر کو عدالت میں پیش کردیا گیا،آرزو راجہ نے اپنا بیان دہراتے ہوئے کہا کہ میں نے مرضی سے نکاح کیا ہے،میری عمر 18 سال ہے،عدالت نے کہا کہ دستاویزات کے مطابق آپ کی عمر 18 سال سے کم ہے ،جسٹس کے کے آغا نے کہاکہ میڈیکل بورڈ بنے گا وہ آپ کی عمر کا فیصلہ کرے گا۔
بیرسٹر صلاح الدین نے وفاقی وزیرشیریں مزاری کی طرف سے وکالت نامہ جمع کرا دیا،وکیل نے کہا کہ لڑکی کہہ چکی ہے اسے اغوا نہیں کیا گیا،عدالت نے آرزو سے استفسار کیا آپ کو کسی نے اغوا کیا ہے؟، آرزو نے کہا کہ مجھے کسی نے اغوا نہیں کیا مجھے شوہر سے دور نہ کریں ، جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ ہم سٹیپ بائی سٹیپ چلیں گے کسی جلدی میں نہیں ۔
جبران ناصر وکیل والدین نے عدالت میں کہا کہ لڑکی کی عمر کا تعین ضروری ہے،بیرسٹر صلاح الدین نے کہا کہ گزارش ہے چیمبر میں بھی لڑکی کا بیان ریکارڈ کیا جائے، عدالت نے کہا کہ ہم باریک بینی سے جائزہ لیں گے اور جانچ کرائیں گے ، ایڈووکیٹ جنرل نے کہا کہ لڑکی کا بیان ریکارڈ نہ کیا جائے، وہ کم عمر ہے ،جسٹس کے کے آغا نے کہا کہ اگر وہ 18 سال کی ہے تو اس کا حق ہے جس کے ساتھ رہے ،اس نے خود کہا ہے اسے اغوا نہیں کیا گیا۔
وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ہمارا کیس یہاں صرف ایف آئی آر ختم کرنے کا تھا جس پر عدالت نے کہا کہ اب معاملہ کچھ اور ہے ہمیں لڑکی کی عمر دیکھنی ہے
عدالت نے آرزو راجہ کی عمر کے تعین کیلئے میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آرزو کو لیڈی پولیس کی تحویل میں طبی معائنہ کیلئے لے جایا جائے،عدالت نے سیکرٹری ہیلتھ کو میڈیکل بورڈ بنانے کا حکم دیدیا،کیس کی مزید سماعت9 نومبر تک ملتوی کردی گئی ۔عمر کے تعین تک درخواست گزار شیلٹر ہوم میں رہیں گی
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے سندھ حکومت آرزو راجہ کیس کے فیصلے پر نظر ثانی کے لیے عدالت سے رجوع کرے گی۔
بلاول نے کہا کہ آرزو راجہ کیس میں اگر معزز عدالت کو شبہات ہیں تو انہیں دور کیا جائے گا، سندھ حکومت اپنے دائرہ کار میں انصاف کی فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کم عمری میں شادی سے متعلق قانون پر عمل درآمد کے لیے ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔
دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا کہنا ہے شواہد بتارہے ہیں کہ آرزو راجہ کم عمر ہے، اس کی شادی اور مذہب کی تبدیلی جبری طور پر کرائی گئی ہے، یہ ملکی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے ۔
خیال رہے کہ سندھ ہائی کورٹ نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرے شادی کرنے والی آرزو فاطمہ کے کیس میں پولیس کو آرزو فاطمہ کے شوہر علی اظہر اور اس کے اہل خانہ کی گرفتار سے روک دیا۔
درخواست گزار آرزو نے مؤقف اختیا کیا تھا کہ ‘میرا تعلق عیسائی گھرانے سے تھا مگر بعد میں اسلام قبول کرلیا اور نام آرزو فاطمہ رکھا، میں نے اپنے گھر والواں کو بھی اسلام قبول کرنے کا کہا مگر انہوں نے انکار کردیا جبکہ میں نے بغیر کسی دباؤ کے اپنی مرضی سے اسلام قبول کیا ہے.
آرزو نے بتایا کہ اپنی مرضی سے علی اظہر سے پسند کی شادی کی ہے، پسند کی شادی کرنے پر میرے والد نے میرے شوہر کی پوری فیملی کے خلاف مقدمہ درج کرادیا ہے مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس کی جانب سے ہراساں کیا جارہا ہے۔