Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی میں کرونا وائرس سے مزید ہوئی 2 ہلاکتیں

    کراچی میں کرونا وائرس سے مزید ہوئی 2 ہلاکتیں

    کراچی میں کرونا وائرس سے مزید ہوئی 2 ہلاکتیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں کرونا وائرس سے مزید 2 افراد ہلاک ہو گئے ، پاکستان میں کرونا سے اموات کی تعداد 19 ہو گئی.

    شہر قائد کراچی میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے، وزارت صحت سندھ کے مطابق دونوں افراد کی عمریں 52 اور 66 سال کی تھیں، دونوں افراد کرونا کے مریض تھے اور ہسپتال میں زیر علاج تھے. جاں بحق ہونے والے افراد میں 3 روز قبل کرونا کی تصدیق ہوئی تھی سندھ میں کرونا وائرس کے 6 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد مریضوں کی تعداد 508 ہو گئی ہے۔

    کورونا وائرس کے باعث اب تک پنجاب میں 6، خیبر پختونخوا میں 5، سندھ میں 5، گلگت بلتستان میں 2 اور بلوچستان میں ایک شخص جاں جان کی بازی ہار چکا ہے،

    ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافے کے بعد چاروں صوبے میں لاک ڈاؤن کا آج ساتواں روز ہے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے،آزاد کشمیر میں بھی 24 مارچ سے 3 ہفتوں کا لاک ڈاون شروع ہو چکا ہے

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس ہوا،وزیر اعلیٰ نے آئی جی سندھ کو لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کردی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عوام کو لاک ڈاؤن اور حکومتی فیصلوں کا احترام کرنا ہوگا مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ دکھ کے ساتھ کیا شہریوں سے اپیل ہے اپنے اور خاندان کے لئے لاک ڈاؤن پر عمل کریں لاک ڈاؤن مزید موثر کرنا ہے لوگ ابھی تک شہر میں گھوم رہے ہیں،

  • لاک ڈاون اور چاروں طرف پھیلا بھوک کا عفریت از فیصل ندیم

    میری زندگی میں اور شائد اس سے بہت پہلے تک دنیا نے ان حالات کا سامنا نہیں کیا کرونا وائرس نے گویا ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اپنی توپوں اور میزائلوں سے دنیا کے بیشمار ملکوں کو تباہ و برباد کردینے والے دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک بھی کرونا کے سامنے ڈھیر ہوچکے ہیں امریکہ جسے دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے اس کے سب جدید شہر نیویارک کے جدید ترین ہسپتالوں کے انتہائی قابل ڈاکٹر آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی کا اظہار کررہے ہیں ایسے میں پاکستان جیسا ملک بھی جو پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے کرونا کے خلاف اپنی جنگ لڑنے میں مصروف ہے بیس کروڑ لوگوں کا ملک وسائل کی کمی کے باوجود ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ اپنی عوام کو اس مہیب خطرے سے بچایا جاسکے اس مقصد کیلئے ملک کے کونے کونے میں قرنطینہ سینٹر اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن چونکہ یہ مرض افراد میں ایک سے دوسرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالہ سے مسلسل اقدامات کررہی ہیں مساجد مندر چرچ تعلیمی ادارے شاپنگ سینٹرز ہوٹل ریستوران کارخانے کاروبار پبلک ٹرانسپورٹ جہاز ٹرین سب ہی بند کیا گیا ہے یہ ٹھیک ہے سماجی فاصلہ رکھنا اس مہلک بیماری کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے ضروری ہے اور اس کیلئے یہ سب اقدامات بھی ضروری ہیں لیکن ان اقدامات سے ایک اور بہت بڑا خطرہ جنم لے رہا ہے یہ وہی خطرہ ہے جس کی جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں اور وہ ہے بھوک ۔۔۔۔

    ہر طرح کا کاروبار زندگی مفلوج ہونے سے مزدور طبقہ تو فوری طور پر بری طرح متاثر ہوگیا اور بیروزگاری کے پہلے دن سے روز کمانے اور روز کھانے والے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے لیکن زیادہ بڑا مسئلہ گزرتے دنوں کے ساتھ سفید پوش طبقہ بھی بیروزگاری کا عفریت تلے دب کر روزی روٹی کی تنگی کا شکار ہونا ہے بھوک کے اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے
    یہ پاکستان کے عوام کی مستقل بدقسمتی ہے کہ وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سیاسی قیادت کی موقع اور مفاد پرستی کے سبب درست منصوبہ بندی کے ساتھ کئے گئے دیرپا اور دور رس اقدامات سے ہمیشہ محروم رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک میں ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار و افتراق کی صورت میں نکلتا رہا ہے آج بھی کہ جب ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے ہم قومی اتفاق رائے سے محروم ہیں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی کا زبردست فقدان ہے اس مہیب خطرے سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر زور زیادہ ہے ایسے میں پاکستانی عوام پریشان ہیں کرونا وائرس اور بھوک کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کیا راستہ اختیار کریں

    پاکستان کے عوام دنیا میں فلاحی کاموں پر شائد سب سے زیادہ خرچ کرنے والی قوم ہیں اب بھی بیشمار لوگ اس حوالہ سے میدان عمل میں موجود ہیں ماسک سینیٹائزر کھانا اور خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی ہر طرف جاری ہے لیکن اس بار ضرورت شائد اتنی زیادہ ہے کہ روایتی طریقوں سے اس آفت کا مقابلہ ممکن ہی نہیں ہے
    سب سے پہلے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اتفاق رائے سے کرونا کے مقابلے کی تحریک کو آگے بڑھائیں انفرادی طور پر کی جانے والی تمام کوششوں کو مربوط کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے کہ مستحق افراد تک کم از کم خوراک ضرور پہنچائی جاسکے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے پھندوں میں پھنسے ہمارے ملک کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سارے ملک کو بٹھا کر کھلا سکے اس کار خیر میں مخیر حضرات کو شامل کرنا انتہائ ضروری ہے لیکن سیاستدانوں پر عمومی بد اعتمادی اس کار خیر کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا پاکستان میں عوامی سطح پر احترام کیا جاتا ہے انہیں آگے لاکر ان کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے اگلا کام جو اس سے بہت زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقے جو اب تک کرونا سے محفوظ ہیں انہیں پوائنٹ آؤٹ کرکے علیحدہ کیا جائے ان میں بیرونی آمد و رفت کو سوائے اجناس کی ترسیل کے نظام کے بند کیا جائے اور پھر انہیں ہر طرح کی سرگرمی کیلئے کھولا جائے تاکہ کاروبار زندگی کو چلا کر لوگوں کی روزی روٹی کا بندوبست کیا جاسکے تمام بڑے کارخانوں اور فیکٹریز کو کھولا جائے ان میں احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام شروع کیا جائے تاکہ جہاں ہم اپنے لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرکے بھوک کا مقابلہ کرسکیں وہیں دنیا سے مہنگے داموں اشیائے ضرورت خریدنے کے بجائے اپنے پاس ان کی پروڈکشن شروع کرسکیں یہ طے ہے کہ کرونا وائرس سے نجات دنوں میں ممکن نہیں ہے چین جیسے باوسائل اور جدید ملک کو بھی اس خطرے سے نمٹتے چوتھا مہینہ ہے تو ہم جیسے معاشی طور پر کمزور اور غریب ملک کو شائد اس خطرے سے نمٹنے کیلئے زیادہ وقت درکار ہوگا اس لئے یہ ممکن نہیں کہ سارے ملک کو بند رکھ کر ملک میں بھوک سے بدحال لوگوں کا جم غفیر جمع کرلیا جائے اللہ نہ کرے بھوک کے بڑھنے سے ملک افراتفری اور انتشار کی طرف بھی جاسکتا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی جان لیجئے قیادت کی اہلیت کا اصل اندازہ ہمیشہ مشکلات میں ہوتا ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ اس کڑے وقت میں ملکی اور صوبائی قیادت اپنے اوسان قابو میں رکھے اپنی عمومی سیاسی ضروریات سے قطع نظر ہوکر ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان اور اس کی عوام کا تحفظ ممکن ہو پاکستانی قوم کو بھی اس وقت میں ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ذاتی اور انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کام کرنا ہوگا اپنے اردگرد موجود اپنے ضرورت مند پاکستانی بھائیوں کی بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مدد کرنا ہوگی مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم نے کامیابی کے ساتھ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرلیا تو ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا

    خیر اندیش
    فیصل ندیم

  • حکومت کرونا وائرس کے مریضوں‌کی درست تعداد چھپا رہی ، فیصل ایدھی کا دعوٰی

    حکومت کرونا وائرس کے مریضوں‌کی درست تعداد چھپا رہی ، فیصل ایدھی کا دعوٰی

    حکومت کرونا مریضوں‌کی درست تعداد چھپا رہی ، فیصل ایدھی کا دعوٰی

    باغی ٹی وی :پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی صحیح تعداد چھپائی جارہی ہے. ملک میں کرونا ٹیسٹ کی اس پیمانے پر سکریننگ نہیں کی جارہی کہ ملک میں‌موجود حقیقی کرونا متاثرین کی تعداد معلوم ہو سکے، اگر سکریننگ صحیح طریقے سے ہو تو یہ تعداد بہت زیادہ ہو. دوسری بات یہ بھی ہے کہ حقیقی تعداد چھپائی بھی جارہی ہے.

    اسی طرح جو کورونا کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں ان کی تعداد بھی درست نہیں بتائی جا رہی ہے ، حکومت مرنے والوں کی تعداد چھپا رہی ہے اس کی دلیل فیصل ایدھی کے دعوے سے بھی ہوتی ہے. فیصل ایدھی نے اس سلسلے میں بتایا کہ پورے ملک میں‌کرونا مریضوں‌کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہےسندھ سمیت پورے ملک میں یہ اضافہ تیزی سے ہو رہا ہے ، اور پنجاب میں یہ تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے. ہم روزانہ چھ سے سات کرونا مریضوں‌کو دفن کر ہے ہیں.ان حالات میں یہ بات واضح‌ ہو جاتی ہے کہ حکومت کرونا کے مریضوں اور اس وجہ سے موت کا شکار ہونے والوں کی صحیح تعداد بھی چھپا رہی ہے. یوں اس سلسے میں‌ قوم اور میڈیا کو اصل حقیقت تک پہنچنے میں مشکلات حائل ہیں ،

    واضح‌ رہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 1526 تک پہنچ گئی، پنجاب میں570، سندھ 481، خیبر پختونخوا میں 188 مریض ہو گئے، بلوچستان میں‌ 138، گلگت بلتستان میں‌ 116 اور آزاد کشمیر مکے 2 مریض‌ بھی شامل ہیں. عالمی وبا سے پچیس مریض مکمل صحت یاب اور 13 جاں بحق ہو گئے۔ پاک فوج کی جانب سے ملک بھر میں 182 قرنطینہ سنٹر قائم کئے گئے ہیں، تھائی لینڈ میں پھنسے 170 سے زائد پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے۔
    وائرس سے اب تک28 مریض مکمل صحتیاب ہو چکے ہیں، کراچی میں کرونا وائرس سے متاثرہ 14 اور لاہور میں ایک مریض صحتیاب ہوا، معاون خصوصی صحت ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ہرکسی نے ٹیسٹ کرانا شروع کر دیا تو وہ لوگ رہ جائیں گے جن کو زیادہ ضرورت ہے۔

  • سندھ ، کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن کے مریض سامنے آنے لگے، وزیراعلیٰ نے کیا ہنگامی اجلاس طلب

    سندھ ، کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن کے مریض سامنے آنے لگے، وزیراعلیٰ نے کیا ہنگامی اجلاس طلب

    سندھ ، کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن کے مریض سامنے آنے لگے، وزیراعلیٰ نے کیا ہنگامی اجلاس طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں کورونا وائرس کے مزید 17 کیسز سامنے آگئے

    محکمہ صحت کے مطابق تمام کیسز لوکل ٹرانسمیشن کے ہیں،نئے کیسز کے بعد سندھ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 457 ہو گئی ہے جبکہ سندھ میں ایک مریض ہلاک ہو چکا ہے

    سندھ ميں 24 گھنٹوں میں 148 ٹیسٹ کيے گئے، 17 مثبت آئے ،سندھ میں آج ٹوٹل ٹیسٹ کی تعداد 4810 ہو گئی ،تناسب کے حساب سے ساڑھے 9 فیصد لوگوں کے نتائج مثبت آئے

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس سےمتعلق اجلاس طلب کرلیا،اجلاس میں کورونا وائرس کے پھیلاوَ اور لوکل ٹرانسمیشن کا جائزہ لیاجائے گا،اجلاس میں لاک ڈاوَن پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا، کرونا وائرس کے مریض کراچی، سکھر، حیدرآباد ،لاڑکانہ میں زیر علاج ہیں

    سندھ میں لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سندھ میں لاک ڈاؤں کے دوران کھلی دکانوں کو شام 5 بجے بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، تمام کھلی دکانیں شام 5 بجے بند کر دی جائی گی،حکومت سندھ نے شہریوں سے گھروں سے نہ نکلنے کی اپیل کی ہے

    دوسری جانب کراچی میں لاک ڈاؤن کے دوران شہریوں کی نقل وحرکت محدودرکھنےکیلئے سٹیزن مانیٹرنگ ایپ متعارف کرا دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز مقصود میمن کا کہنا ہے کہ پولیس سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروس ڈویژن نے ایپ متعارف کرائی، ایپ کا مقصد شہریوں کی نقل و حرکت محدود رکھنا ہے،ایپ چیک پوائنٹس پرافسران کےموبائل میں انسٹال ہوگی، روزانہ شہریوں کی نقل وحرکت کا ڈیٹا محفوظ کرتے رہیں گے، شہری دن میں2 سےزائد مرتبہ نقل و حرکت نہیں کرسکے گا۔

    کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

    بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

    لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

    کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

    واضح رہے کہ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، آج لاڑکانہ میں بھی کچھ مریض سامنے آئے ہیں، حیدر آباد، کراچی اور سکھر میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہے،

    کرونا کے خلاف جنگ، ملک ریاض میدان میں آ گئے، کیا اعلان کیا؟

  • کرونا کا پولیس پر بھی وار،سندھ پولیس میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    کرونا کا پولیس پر بھی وار،سندھ پولیس میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا

    ترجمان سندھ پولیس کے مطابق انسپکٹر یاسین گجرکا کورونا وائرس کاٹیسٹ مثبت آیا ہے،یاسین گجرانویسٹی گیشن ساوَتھ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، کرونا کا ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں آئسولیشن وارڈ میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے

    ترجمان کے مطابق انسپکٹر کوبخاراور نزلہ زکام ہونے پرانڈس اسپتال میں داخل کیاگیا،انسپکٹر کے اہلخانہ اورساتھ کام کرنے والوں کو مانیٹر کیا جارہاہے، ان کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے.آئی جی سندھ نے شعبہ ویلفیئر کومتاثرہ افسر کے  علاج کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے.

    واضح رہے کہ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، سندھ میں کرونا وائرس کے 440 مریض ہیں، آج لاڑکانہ میں بھی کچھ مریض سامنے آئے ہیں، حیدر آباد، کراچی اور سکھر میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہے،

    پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مریضوں کی تعداد 1315 تک پہنچ گئی ہے،پنجاب میں کورونا وائرس کے 23کیسز سامنے آگئے،ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 448 ہو گئی ہے

    پنجاب میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کے مریض سامنے آ چکے ہیں، اس سے قبل سندھ میں سب سے زیادہ تھے، اب سندھ میں مریضوں کی تعداد 440 ہے،کے پئ میں 180، بلوچستان میں 131، گلگت میں 91 اور اسلام آباد میں 27 مریض ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کے 2 مریض ہیں.

    کرونا وائرس کے سات مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،23 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں، کرونا وائرس کے 10 مریضوں کی ہلاکت ہو چکی ہے، جس میں سے پنجاب میں 4، کے پی میں 3، سندھ، بلوچستان، اور گلگت مین ایک ایک مریض کی ہلاکت ہوئی ہے، 23 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں

  • سندھ میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ، لاک ڈاؤن مزید سخت کرنیکی ہدایات

    سندھ میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ، لاک ڈاؤن مزید سخت کرنیکی ہدایات

    سندھ میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ، لاک ڈاؤن مزید سخت کرنیکی ہدایات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو گیا ہے

    سندھ میں کورونا وائرس کےمزید 11کیسز سامنے آگئے،کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 440 ہوگئی،نئے کیسز لاڑکانہ اور حیدرآباد میں سامنے آئے،ان 440 کیسز میں 151 سکھر فیز ون، 114 سکھر فیز ٹو اور 7 لاڑکانہ میں رکھے گئے زائرین شامل ہیں

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس ہوا،وزیر اعلیٰ نے آئی جی سندھ کو لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کردی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عوام کو لاک ڈاؤن اور حکومتی فیصلوں کا احترام کرنا ہوگا مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ دکھ کے ساتھ کیا شہریوں سے اپیل ہے اپنے اور خاندان کے لئے لاک ڈاؤن پر عمل کریں لاک ڈاؤن مزید موثر کرنا ہے لوگ ابھی تک شہر میں گھوم رہے ہیں،

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے خوشی سے نہیں بلکہ تکلیف سے مساجد میں جماعت کو بہت محدود کروایا ہے، میں نے خود گھر میں جمعۃ المبارک کی نماز مسجد سے پیش امام کی آنے والی آواز سے ادا کی، یہ فیصلہ عوا کی صحت کے پیش نظر علماء کی مشاورت سے کیا، عوام کو ایک مرتبہ ان کے اپنے بچوں او ر خاندان سمیت صوبے اور ملک کے عوام کی صحت کی خاطر لاک ڈائون پر عمل کرنے کی درخواست کرتا ہوں

  • شاہد خاقان عباسی کی ایک بار پھر گرفتاری کا خدشہ بڑھ گیا

    شاہد خاقان عباسی کی ایک بار پھر گرفتاری کا خدشہ بڑھ گیا

    شاہد خاقان عباسی کی ایک بار پھر گرفتاری کا خدشہ بڑھ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے لئے پھر بڑی مشکل، عدالت نے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے

    کراچی کی احتساب عدالت نے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے ناقابل ضمانت وارنٹ جاری کر دیئے۔ عدالت نے سابق سیکرٹری پیٹرولیم ارشد مرزا کے وارنٹ بھی جاری کیے ہیں، نیب نے ایم ڈی پی ایس او غیر قانونی تقرری کیس میں شاہد خاقان عباسی کے خلاف احتساب عدالت کراچی میں نیا ریفرنس دائر کیا ہے.

    نیب نے سابق سیکرٹری پیٹرولیم شیخ عمران الحق اور یعقوب ستار کو بھی ریفرنس میں ملزم نامزد کیا ہے،احتساب عدالت کراچی نے تمام ملزمان کو 10 اپریل کو طلب کرلیا ہے.

    واضح رہے کہ شاہد خاقان کے خلاف ایل این جی ریفرنس اسلام آباد کی احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے، شاہد خاقان عباسی کو گزشتہ ماہ اسلام آبا دہائیکورٹ نے ضمانت پر رہا کیا تھا،انہیں نیب نے لاہور سے گرفتار کیا تھا، نیب راولپنڈی نے احتساب عدالت اسلام آباد میں ایل این جی کیس کاریفرنس دائرکیا ہوا ہے،ریفرنس شاہد خاقان عباسی اورمفتاح اسماعیل سمیت 9ملزمان کے خلاف دائر کیا گیا ہے

    ریفرنس میں کہا گیا کہ ایک کمپنی کو 21ارب روپے سے زائد کا فائدہ پہنچایا گیا،فائدہ مارچ 2015سے ستمبر 2019 تک پہنچایا گیا، فائدہ پہنچانے سے 2029 تک قومی خزانے کو 47 ارب روپے کا نقصان ہو گا،معاہدے کے باعث عوام پر گیس بل کی مد میں 68ارب روپے سے زائد کا بوجھ پڑے گا،سابق ایم ڈی شیخ عمران الحق نے معاہدے میں اہم کردار ادا کیا،

    حکومت اس مسئلے کو فوری حل کرے ورنہ…..شاہد خاقان عباسی نے کیا کہہ دیا

    پروڈکشن آرڈر والے کہاں ہیں،ان کو ایوان میں لایا جائے. ینل آف چیئر

    اگر ہتھیار استعمال کرتے تو یہ تھوڑے سے تھے، زرداری نے اسمبلی میں ایسا کیوں کہا؟

    ہمیں پروڈکشن آرڈرز کی کوئی ضرورت نہیں، آصف زرداری

    شاہد خاقان عباسی نے سپیکر قومی اسمبلی پر لگایا سنگین الزام، اسد عمر نے دیا جواب

    سابق وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل کا نام بھی ملزمان کی فہرست میں شامل ہے،نیب ریفرنس کے مطابق سابق سیکریٹری اورایم ڈی پٹرولیم اہم گواہ بن گئے، شاہدخاقان سمیت 9 ملزمان کے نام ای سی ایل میں شامل ہیں، نیب راولپنڈی قطرمعاہدے کی الگ انکوائری کررہا ہے

    واضح رہے کہ شاہد خاقان عباسی کے خلاف دائر ریفرنس کی منظوری چیئرمین نیب جسٹس ر جاوید اقبال نے دی جس کے بعد ریفرنس عدالت میں دائر کر دیا گیا ہے،

  • نماز جمعہ کے بعد سندھ میں  مساجد میں نماز پنجگانہ کے حوالہ سے بڑی پابندی عائد کر دی گئی

    نماز جمعہ کے بعد سندھ میں مساجد میں نماز پنجگانہ کے حوالہ سے بڑی پابندی عائد کر دی گئی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں مساجد میں عوام کی جانب سے نماز کی ادائیگی پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی

    سندھ کے صوبائی وزارت داخلہ نے اس حوالہ سے نوٹفکیشن جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق مساجد میں امام، مؤذن اور خادم کو صرف نماز پڑھنے کی اجازت ہو گی،عوام کو مساجد میں نہیں آ نے دیا جائے گا، مساجد میں اذان ہو گی او رامام کی قیادت میں ٹوٹل 3 افرد نماز ادا کریں گے،پیش امام اور مساجد کی دیکھ بھال کرنے والے افراد باجماعت نماز ادا کر سکیں گے

    محکمہ داخلہ سندھ کا کہنا ہے کہ تمام علما کرام اور ڈاکٹرز کی مشاورت سے پابندی کا فیصلہ کیا،وبائی امراض کے ایکٹ 2014کے تحت پابندی عائد کی گئی،خلاف ورزی پر دفعہ 188کے تحت کارروائی ہوگی،پولیس ،رینجرز اور قانون نافذ کرنے والوں کو کارروائی کا اختیار ہوگا،

    سندھ حکومت نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ گھرون میں نماز ادا کریں.

    سندھ کے صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کےلیے فیصلہ مشکل اوربڑاتھا5اپریل تک تمام مساجد میں صرف 3 سے5متعین افرادباجماعت نمازپڑھیں گے،عوام گھروں میں اجتماعی یاانفرادی سطح پرنمازاداکریں ،ہاتھ جوڑ  کرگزارش کرتاہوں کہ مشکل فیصلہ ہےعوام ہماراساتھ دیں

    سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کہا ہے کہ انسانی جان کو بچانے کے لیے سخت فیصلے کیے ہیں،لوگوں کی حفاظت کے لیے سندھ حکومت نے فیصلے کیے ہیں، حکومت یہ نہیں چاہتی تھی کہ مساجد بند ہوجائیں ،مساجدمیں نماز کیلئے جماعت 4سے5افرادپرمشتمل ہوگی ،یورپی ممالک نے شروع میں احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کیں

    سندھ حکومت کا بڑا فیصلہ، نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی

    واضح رہے کہ اس سے قبل سندھ حکومت نے نماز جمعہ کے اجتماعات پر پابندی لگا دی ہے، سندھ حکومت کی جانب سے 27 مارچ سے 5 اپریل تک مساجد میں نماز کے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ مساجد میں صرف 3 سے 5 افراد نماز ادا کر سکیں گے۔ مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات بھی نہیں ہونگے۔ سندھ حکومت نے پابندی کا فیصلہ تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کی مشاورت سے کیا۔ نماز کے اجتماعات پر پابندی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کی گئی ہے.

    نماز جمعہ پر پابندی، طاہر اشرفی نے کیا بڑا اعلان، طبی عملے کو کیا سلیوٹ

  • کراچی میں لاک ڈاؤن،بندرگاہ پر درآمدی مال کے ڈھیر،صنعتوں کو خام مال کی فراہمی متاثرہونے کا خدشہ

    کراچی میں لاک ڈاؤن،بندرگاہ پر درآمدی مال کے ڈھیر،صنعتوں کو خام مال کی فراہمی متاثرہونے کا خدشہ

    کراچی میں لاک ڈاؤن،بندرگاہ پر درآمدی مال کے ڈھیر،صنعتوں کو خام مال کی فراہمی متاثرہونے کا خدشہ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاک ڈاؤن کے باعث بندرگاہ پر درآمدی مال کے ڈھیر لگ گئے

    کمرشل امپورٹرز نے صنعتوں کو خام مال کی فراہمی متاثرہونے کا خدشہ ظاہر کردیا،پاکستان کیمیکلز اینڈ ڈائز مرچنٹس ایسوسی ایشن کے چیئرمین امین یوسف بالا گام والا کا کہنا ہے کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے کمرشل امپورٹرز پورٹ سے درآمدی مال اٹھانے سے قاصر ہیں، بندر گاہ اور کسٹم کھلا ہے لیکن کمرشل امپورٹرز لاک ڈاؤن کی وجہ سے مال نہیں اٹھا پارہے، صنعتوں باالخصوص ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل انڈسٹری اور سینی ٹائزرکے خام مال کی فراہمی تعطل کا شکار ہو سکتی ہے،

    امین یوسف بالاگام والا کا کہنا تھا کہ پورٹ پر درآمدی مال کے ڈھیر لگ گئے ہیں، مزید مال آیا تو رکھنے کی جگہ کم پڑ جائے گی، کمرشل امپورٹرز کو کسٹم،بندرگاہ تک رسائی کی اجازت دی جائے، انہوں نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ لاک ڈاؤن کے باعث پورٹ چارجز، بینک چارجز ایک سے 2ماہ کے لیے ختم کیے جائیں،درآمدی مال پریومیہ ڈیمرج اور دیگر چارجز لاگو ہورہے ہیں، موجودہ حالات میں کمرشل امپورٹرز ڈیمرج، جرمانے و دیگر چارجزادا کرنے کی سکت نہیں رکھتے، صنعتیں بند ہونے، مارکیٹوں کو تالے لگنے سے درآمدکنندگان کا سرمایہ پھنس کر رہ گیا ہے،

    امین یوسف بالاگام والا کا مزید کہنا تھا کہ خام مال کے درآمدکنندگان کو سرمائے کی شدیدقلت کا سامنا ہے، موجودہ حالات میں برآمدکنندگان اور مینوفیکچررز سے کس طرح بقاجات وصول کریں، مختلف ٹرمینل کے پی ٹی،پی آئی سی ٹی،کے آئی سی ٹی،ایس اے پی ٹی اے کے چارجز دو ماہ کے لیے ختم کیے جائیں،جی ڈی فائلنگ میں تاخیر پر چارجزسمیت لاک ڈاؤن کی مدت تک بینک چارجز بھی ختم کیے جائیں،

  • سندھ میں کرونا وائرس مریضوں سے کتنے افراد میں منتقل ہوا؟

    سندھ میں کرونا وائرس مریضوں سے کتنے افراد میں منتقل ہوا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں کوروناوائرس کے مزید کیسزسامنے آگئے

    ترجمان محکمہ صحت کے مطابق سندھ میں کرونا وائرس کی منتقلی سے 102 مریض سامنے آئے ہیں، 102 ایسے مریض ہیں جن میں کرونا وائرس کی لوکل ٹرانسمیشن ہوئی،سندھ بھر میں کورونا کے کیسز کی تعداد 421 ہوگئی ،چھ نئے کیسز کا تعلق کراچی سے ہے جن میں وائرس مقامی منتقلی سے ہوا ۔ ایک متاثرہ شخص کا تعلق حیدرآباد سے ہے جو انگلینڈ سے پہنچا

    واضح رہے کہ سندھ میں کرونا سے ایک ہلاکت ہو چکی ہے، کرونا کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باعث سندھ حکومت نے کرفیو نافذ کر رکھا ہے، سندھ میں کرفیو کا آج تیسرا روز ہے، مارکیٹیں ، ٹرانسپورٹ سب کچھ بند ہے، صوبائی وزیر سعید غنی میں بھی کرونا کی تشخیص ہوئی جس کے بعد گورنر سندھ ،وزیراعلیٰ سندھ نے بھی کرونا کا ٹیسٹ کروایا تا ہم ان کا ٹیسٹ منفی آیا.

    شہرقائد کراچی کرفیو کے باعث مکمل طور پر بند ہے، قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم شاہراوں پر ناکہ بندی سخت کر دی، پولیس حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کر دی۔ شہر بھر میں چھوٹے بڑے بازار، مارکیٹس، تعلیمی ادارے، دکانیں بند ہیں، تمام کریانہ سٹورز بھی رات 8 بجے سے صح 8 بجے تک بند ہے، ضرورت کے تحت نکلنے والے شہری سڑکوں پر نظر آئے۔ پولیس کی جانب سے یومیہ اجرت پر کام کرنیوالوں کے ساتھ نرمی برتی جا رہی ہے

    قبل ازیں وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ جو قیدی سزا پوری کر چکے ہیں اورجرمانہ دینے کے قابل نہیں ان کا جرمانہ حکومت ادا کرے گی۔ آئی جی جیل خانہ جات کو ہدایت کی گئی ہے کہ قیدی کی عمر، جرم اورجیل میں آنےکی تاریخ بھی بتائی جائے۔قانون کے حساب سے دیکھا جائے گا کہ کتنے قیدیوں کو چھوڑا جاسکتا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے جیل میں بہترین صحت کی خدمات دینے کی بھی ہدایت دےدی۔ متعلقہ حکام کو کہا گیا کہ قیدیوں کو صفائی ستھرائی سے رہنے کی ہدایت دیں۔ قیدیوں کوایک دوسرے سے کچھ فاصلے پررکھیں۔ ضامن نہ ہونے کی وجہ سے بند قیدیوں کو رعایت دی جائے اور جو قیدی سزا پوری کر چکے ہیں ان کاجرمانہ حکومت ادا کرے گی.