Baaghi TV

Category: کراچی

  • پنجاب نے اگر یہ کام کیا تو سندھ حکومت کیوں نہیں کر رہی؟ عدالت نے جواب طلب کر لیا

    پنجاب نے اگر یہ کام کیا تو سندھ حکومت کیوں نہیں کر رہی؟ عدالت نے جواب طلب کر لیا

    پنجاب نے اگر یہ کام کیا تو سندھ حکومت کیوں نہیں کر رہی؟ عدالت نے جواب طلب کر لیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں لاک ڈاؤن کے دوران وکلا کی امداد سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے ایڈیشنل سیکریٹری قانون سندھ اور ایڈیشنل سیکریٹری خزانہ کو طلب کرلیا،عدالت نے وفاقی اور صوبائی حکومت سے بھی 19 مئی کو جواب طلب کرلیا

    عدالت نے کہا کہ بتایا جائے سندھ حکومت وکلا کی امداد کے لیے کیا اقدامات کررہی ہے؟ کیاپنجاب میں بھی لاک ڈاؤن کے دوران وکلا کی امداد کے لیے فنڈز جاری کیے گئے ؟ عامر ایڈوکیٹ نے عدالت میں بتایا کہ پنجاب حکومت نے فنڈز جاری کردیئے ہیں لیکن سندھ حکومت وکلا کی امداد نہیں کررہی،

    حریم شاہ باز نہ آئی، وفاقی وزیر کی ویڈیو لیک کرکے شرمناک الزامات عائد کر دیئے

    شیخ رشید کی ویڈیو لیک، حریم شاہ پھر میدان میں آ گئی؟ کیا کہا؟

    عمران خان کی ویڈیو لیک کر دوں گی، حریم شاہ کی نئی ٹویٹ کے بعد کھلبلی مچ گئی

    میرا پیچھا چھوڑ دیں، حریم شاہ کس کی منتیں کرنے لگ گئی؟ سب حیران رہ گئے

    دوسروں کی ویڈیو لیک کرنیوالی حریم شاہ کی ایسی "حقیقت” سامنے آئی کہ سب حیران رہ گئے

    دوسروں کی ویڈیو لیک کرتے کرتے حریم شاہ کی اپنی ویڈیو لیک، تہلکہ مچ گیا

    مبشر صاحب ،گند میں نہ پڑیں، ایس ایچ او نے حریم شاہ کے خلاف مقدمہ کی درخواست پر ایسا کیوں کہا؟

    حریم شاہ مبشر لقمان کے جہاز تک کیسے پہنچی؟ حقائق مبشر لقمان سامنے لے آئے

    حریم شاہ کے خلاف کھرا سچ کی تحقیقات میں کس کا نام بار بار سامنے آیا؟ مبشر لقمان کو فیاض الحسن چوہان نے اپروچ کر کے کیا کہا؟

    حریم شاہ..اب میرا ٹائم شروع،کروں گا سب سازشیوں کو بے نقاب، مبشر لقمان نے کیا دبنگ اعلان

    جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ سندھ حکومت بھی بتائے وکلا کے لیے کیا ہوسکتا ہے؟ ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ محکمہ قانون اور خزانہ کی منظوری سے ہی امداد ہوسکتی ہے

    عدالت نے حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی

  • صوبے سندھ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر پولیس کا بڑا آپریشن

    صوبے سندھ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر پولیس کا بڑا آپریشن

    صوبے سندھ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر پولیس کا بڑا آپریشن

    باغی ٹی وی :صوبے میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر پولیس کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے، صوبے میں مزید 127 افراد گرفتار کرلئے گئے. لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر اڑتالیسویں روز 33 مقدمات درج ہوئے

    پولیس سے ملنے والے اعدادوشمار کے مطابق گرفتار ملزمان کی تعداد 11 ہزار 261 ہوگئی، صوبے میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر درج ہونے والے مقدمات کی تعداد 3 ہزار 520 تک جا پہنچی گئی.: لاک ڈاؤن کے اڑتالیسویں روز کراچی سے 63 افراد کو گرفتار کیا گیا

    کراچی میں گرفتار ملزمان کے خلاف 19 مقدمات درج ہوئے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر حیدر آباد میں 3 افراد گرفتار اور ان پر 1 مقدمہ قائم کیا گیا، میرپور خاص میں 3 افراد گرفتار اور ان کے خلاف 3 مقدمات درج کئے گئے. شہید بے نظیر آباد میں تین روز بعد 30 افراد کو گرفتار کیا گیا. شہید بے نظیر آباد میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر گرفتار ملزمان کے خلاف 4 مقدمات بنائے گئے.:سکھر میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 2 افراد گرفتار اور ان پر 1 مقدمہ قائم ہوا. لاڑکانہ میں لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر 26 افراد کو گرفتار کیا گیا. لاڑکانہ سے گرفتار 26 افراد کے خلاف 5 مقدمات درج کئے گئے،

  • مولانا کے دباؤ میں آ کر سندھ سرکار نے لیا بڑا یوٹرن

    مولانا کے دباؤ میں آ کر سندھ سرکار نے لیا بڑا یوٹرن

    مولانا کے دباؤ میں آ کر سندھ سرکار نے لیا بڑا یوٹرن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی سندھ سرکار مولانا فضل الرحمان کی جماعت جمعیت علماء اسلام کے کراچی کے رہنما کے دباؤ میں آ‌گئی ہے اور بڑا یوٹرن لے لیا ہے

    صوبائی وزیر تعلیم و محنت سعید غنی نے کہاکہ یوسی 4 منگھو پیر میں قرنطینہ سینٹر نہیں بنایا جائے گا۔قاری محمد عثمان اور یوسی چیئرمینوں کی نشاندہی پر منگھوپیر اجتماع گاہ میں قرنطینہ سینٹر بنانے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے۔پیپلزپارٹی عوامی امنگوں کے مطابق عوامی مفاد کو ہر چیز پر مقدم رکھتی ہے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعیت علماء اسلام کے رہنماء قاری محمد عثمان کی قیادت میں تین رکنی وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔وفد میں یوسی 6 منگھوپیر کے چیئرمین اور پی ایس 121 کے امیر مفتی محمد خالد،یوتھ کونسلر عبداللہ صدیقی شامل تھے۔

    سعید غنی نے کہاکہ کرونا وائرس ایک مہلک وبا ہے۔ ذرا سی غفلت اور بے احتیاطی بڑے نقصان کی باعث بن جاتی ہے۔ صوبائی حکومت نے اپنے محدود وسائل میں رہ کر بروقت آگاہی مہم شروع کی تھی مگر بے احتیاطی سے کرونا وائرس بڑھ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشی بدحالی اور عوامی مشکلات سے بخوبی آگاہ ہیں،یہی وجہ ہے کہ صوبائی حکومت ان تمام چیلنجز اور مسائل کے باوجود انسانیت کی خاطر سخت فیصلے کررہی ہے۔ خاص طور پر علماء کرام سمیت تمام سیاسی مذہبی جماعتوں اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کا بے پناہ تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

    قاری محمد عثمان نے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ، انکی پوری ٹیم اور صوبائی وزیر سعید غنی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ منگھوپیر کا علاقہ جہاں گنجان اور پسماندہ ہے وہاں کچی آبادی، سڑکیں نہ ہونے کے برابر ہیں،ایسے علاقہ میں قرنطینہ سینٹر یقینا کسی بڑے نقصان کا باعث تھا۔دوسری طرف کراچی اجتماع گاہ جہاں لاکھوں فرزندان اسلام کا عالمی اجتماع ہوتا ہے قرنطینہ سینٹر بنانے سے منفی اثرات کے علاوہ ایک بہت بڑی اکثریت کی دل آزاری ہورہی تھی۔

    امریکہ. سپر پاور نہیں رہے گا.؟ مبشر لقمان کی زبانی سنیں اہم انکشافات

    مفتی عبدالقوی کا نیا چیلنج، دیکھیے خصوصی انٹرویو مبشر لقمان کے ہمراہ

    دعا کریں،پنجاب حکومت کو عقل آجائے، بزدار سرکار پر مبشر لقمان پھٹ پڑے

    سعودی عرب میں سخت ترین کرفیو،وجہ کرونا نہیں کچھ اور،مبشر لقمان نے کئے اہم انکشافات

    جنات کے 11 گروہ کون سے ہیں؟ حیرت انگیز اور دلچسپ معلومات سنیے مبشر لقمان کی زبانی

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے عوامی مطالبہ کے سامنے سر تسلیم خم کر نا عوام دوستی اور اعلی ظرفی کا عملی مظاہرہ ہے۔ انہوں نے یوسی 4 /5 اور 6 منگھوپیر کے عوام اور چیئرمینوں حاجی علی نواز بروہی، مفتی محمد خالد، علی اکبر کاچھیلو کے مکمل تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے احتیاطی تدابیر اور مسنون دعاؤں کا اہتمام کرتے ہوئے رجوع الی اللہ، توبہ استغفار اور درود شریف کے ورد کو معمول بنالیا جائے۔

    دینی مراکز اور اجتماع گاہ کو قرنطینہ سینٹر نہیں بنانے دیں گے،مولانا فضل الرحمان کے قریبی ساتھی کا اعلان

  • بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

    بھارتی خفیہ ایجنسی "را” کیلیے کام کرنیوالا گریڈ 17 کا سرکاری ملازم کراچی سے گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے نیٹ ورک کے خلاف پاکستانی اداروں کی کامیاب کاروائیاں جاری ہیں،

    کراچی میں ایف آئی اے انسداد دہشتگردی ونگ نے اہم کارروائی کے دوران بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سلیپر سیل کے اہم رکن آصف صدیقی کو گرفتار کرلیا ہے۔ ایف آئی اے حکام کے مطابق گرفتار ملزم آصف صدیقی 17 گریڈ کا سرکاری ملازم تھا،

    ملزم بھارتی خفیہ ادارے کے لئے کام کرتا تھا اور پاکستانی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بارے میں اہم معلومات بھارت بھجواتا تھا، اس حوالہ سے ملزم نے کئی ای میلز کی ہیں، ملزم نے حساس مقامات کی تصاویر اور تفصیلات بذریعہ ای میل بھارت بھیجی ہیں.

    ملزم آصف صدیقی اسلحے کی ترسیل میں بھی ملوث ہے، ملزم کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے، ملزم کیخلاف قانونی کارروائی شروع کر دی گئی ہے، ملزم سے مزید تحقیقات کی جا رہی ہے،

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ماہ بیس اپریل کو بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اے ایس آئی گرفتارکر لیا گیا تھا،پولیس کے مطابق ایس آئی یو پولیس اور اداروں نے گلستان جوہر میں کاروائی کی،اے ایس آئی شہزاد پرویز شاہراہ فیصل تھانے میں تعینات تھا۔ ملزم شہزاد پرویز کو محمود صدیقی گروپ کی جانب سے بھاری رقم فراہم کی جارہی تھی ،گرفتار پولیس اہلکار دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہے

    پولیس کے مطابق پولیس اہلکار ٹارگٹ کلرز کی ٹیم کا اہم رکن بتایا جاتا ہے ،ملزم اہلکار ایم کیوایم لندن سے وابستہ ہے،اے ایس آئی شہزاد پرویز گلستان جوہر کا رہائشی ہے،گرفتار اہلکار کے قبضے سے 2 دستی بم برآمد کئے گئے تھے

    قبل ازیں  یکم اپریل کو بھی شہر قائد کراچی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را کے گرفتار ملزمان کی جانب سے انکشاف کے بعد کراچی یونیورسٹی کے ایک دفتر پر اداروں نے چھاپہ مارا اور ایک مشین گن، دو پستول اور گولیاں برآمد کر لی

    اداروں نے چھاپے کے دوران لیپ ٹاپ اور کمپیوٹر بھی برآمد کر لیا،ملک کے خلاف ذہن سازی کا لٹریچر بھی برآمد کیا گیا،ملزم ماجد نے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر میں اپنا آفس بنا رکھا تھا،گروہ کے سرغنہ شاہد متحدہ کی ہدایت پر آفس بنایا گیا تھا

    کاروائی جے آئی ٹی میں انکشافات کے بعد کی گئی،ایف آئی اے نے ملزمان کے زیراستعمال آئی پی کی جانچ پڑتال کر لی ،ملزمان کو بھارت سے تخریب کاری کے لیے ہدایات ملتی تھی ،ای میل ریکارڈ اور ڈیٹا بھی تحویل میں لے لیا گیا ،ملزمان شاہد متحدہ عادل انصاری اور ماجد کے گھروں پر بھی چھاپے مارے گئے اور تلاشی لی گئی،

    چھاپوں کے دوران ملک کی اہم تنصیبات کی تصاویر نقشے اور چیک بکس برآمد ہوئیں،ایس آئی یو پولیس اور ایف آئی اے نے کارروائیاں تیز کر دیں ،اورتحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا

     

    بھارتی خفیہ ایجنسی را کیلئے کام کرنے والا کراچی پولیس کا اہلکار گرفتار

  • شہلا رضا نے تحریک انصاف کے سینیٹر کو مار ڈالا

    شہلا رضا نے تحریک انصاف کے سینیٹر کو مار ڈالا

    شہلا رضا نے تحریک انصاف کے سینیٹر کو مار ڈالا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کی رہنما شہلا رضا نے تحریک انصاف کے رہنما فیصل جاوید کو مار ڈالا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے شہلا رضا کا کہنا تھا کہ یہ خبر انتہائی دکھ کے ساتھ سنی کہ سینیٹر فیصل جاوید کا انتقال ہو گیا،اللہ انہیں جنت میں بلند درجات دے اور لواحقین کو صبر جمیل دے

    ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ روز فیصل جاوید کی والدہ کی وفات ہوئی تھی تا ہم شہلا رضا نے فیصل جاوید کی والدہ کی وفات کو فیصل جاوید کی ہی موت بنا کر تعزیت کر ڈالی، فیصل جاوید نے جب شہلا رضا کی یہ ٹویٹ دیکھی تو انہوں نے جواب دیا کہ میں ابھی زندہ ہوں ہٹا کٹا ہوں محترمہ کتنی بار آپکو سمجھایا ہے کپی مت پیا کریں اور اگر پیتی بھی ہیں تو پی کر ٹویٹ مت کیا کریں

    بعد ازاں شہلا رضا نے فیصل جاوید کے حوالہ سے تعزیت کے لئے کی گئی ٹویٹ ڈیلیٹ کر دی اور نئی ٹویٹ کی.جس میں انہون نے کہا کہ اللہ تعالی سینیٹر فیصل جاوید کو والدہ کے انتقال پر صبر جمیل عطا فرمائے آمین

    تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید کو بڑا صدمہ

  • پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان کی زیر صدارت اراکین اسمبلی اور تنظیمی رہنماؤں کا اہم اجلاس.

    پی ٹی آئی کراچی کے صدر خرم شیر زمان کی زیر صدارت اراکین اسمبلی اور تنظیمی رہنماؤں کا اہم اجلاس.

    اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں جاکر مارکیٹ ایسوسی ایشن سے رابطے اور ملاقاتیں کریں. دنیا بھر میں کاروبار کھولے جارہے ہیں اٹلی میں سب سے زیادہ اموات ہوئی وہاں پر بھی سوشل ڈسٹینس کے بعد کاروباری سرگرمیاں بحال کی جارہی ہے. سندھ حکومت کے پاس لاک ڈاؤن کی کوئی پالیسی نہیں عوام کو لاک ڈاؤن کے متعلق کچھ نہیں بتایا جارہا ہے، لاک ڈاؤن کی کوئی پلاننگ نہیں عوام روڈوں پر ہے صرف معاشی سرگرمیاں جان بوجھ کر بند کی گئی ہیں اور سندھ حکومت کا لاک ڈاؤن بھی ان کے راشن تقسیم کرنے جیسا ہے. وزیر اطلاعات اور وزیر تعلیم دونوں وزیر صحت کا کام کررہے ہیں. سندھ حکومت نے ہر کام وفاق کی ضد میں کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، صوبے میں لاک ڈاؤن کسی سیاسی جماعت کا نہیں پر صوبے کی عوام کا ہے. سندھ حکومت تعصب اور لسانیت پر اتر آئی ہے، ہم سندھ کے تمام دکاندار تاجدار برادری اور مارکیٹ ایسوسی ایشنز کے ساتھ کھڑے ہیں. تاجر برادری جو فیصلہ کرے گی ہم ان کے ساتھ ہیں، خرم شیرزمان

  • کسی سے دشمنی نہیں، زندگیاں بچانا زیادہ اہم ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    کسی سے دشمنی نہیں، زندگیاں بچانا زیادہ اہم ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    کسی سے دشمنی نہیں، زندگیاں بچانا زیادہ اہم ہے، وزیراعلیٰ سندھ
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ماسک اورگلوز اب زندگی کا اہم حصہ ہے،بزرگ شہری گھروں سے باہر نہ نکلیں ،سمجھتے تھے بات ختم ہوگئی لیکن ایسا نہیں ہے

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ آج ہم نے 5ہزار532ٹیسٹ کیے کل تک 76 ہزار 78ٹیسٹ کیے ہیں،ہم سب کی زندگیاں تبدیل ہوچکی ہیں،شوگر،امراض قلب کےمریض کوشش کریں گھروں سےنہ نکلیں،ہماری ٹیسٹ کی صلاحیت 5600 ہے،کورونا کے سب سے زیادہ 1681کیسز ضلع جنوبی میں ہیں،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ چوبیس گھنٹوں میں 541 افراد کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا ہے،کورونا سے چوبیس گھنٹوں میں 5 لوگوں کی اموات ہوئیں،10 ہزار سے زائد لوگ بیرون ملک سے واپس آئے ،کراچی میں کورونا وائرس کےنئے کیسز کی تعداد 413 ہے،حیدرآباد 40،بینظیر آباد 20 اور شکارپور میں 11کیسز ظاہر ہوئے،لاڑکانہ 10، سکھر اور مٹیاری 9نوقمبر اورشہدادکوٹ میں 8مزید کیسز سامنے آئے،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ 26فروری کو پہلا کیس سامنے آیا تو لاک ڈاؤن مرحلہ وار شروع کیا ،یکم مارچ کو 14دن کے لیے اسکول بند کردیئے،مارچ کو کابینہ نے فیصلہ کیا کہ اسکول 31مئی تک بند ہونگے،وفاق کے فیصلوں پر سندھ نے 100 فیصدعمل کیا،جو فیصلے ہم نے کئے دو یا تین دن بعد باقی سب نے بھی وہی کیا،13مارچ کو وزیراعظم کے ساتھ ملاقات ہوئی تو کہا لاک ڈاؤن کریں،14اپریل کو اعلان کیا گیا کہ تعمیراتی صنعت کھول دی جائیگی مگر لاک ڈاؤن رہے گا،کچھ چیزیں وفاق کوہماری پسند نہیں اور کچھ ہمیں وفاق کی لیکن فیصلے متفقہ ہوتے ہیں،

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ایران کے کیسز 19،20 فروری سے شروع ہوئے انہوں نے لاک ڈاؤن 14 مارچ کو لگایا اسوقت لاک ڈاؤن میں تقریبا 1000 کیس ہو چکے تھے، جب 3 ہزار سے زیادہ کیسز دن میں تھے اور گراف نیچے جانا شروع ہوا تو انہوں نے لاک ڈاؤن کھولا، جب لاک ڈاؤن ہوا تو مریض بڑھ رہے تھے اور جب لاک ڈاؤن ختم کیا تو مریضوں کی تعداد کم ہو رہی تھی، جرمنی کا بھی ذکر ہوا کہ وہاں تباہی ہوئی اور اب لاک ڈاؤن ختم ہوا، جب وہاں لاک ڈاؤں ہوا 22 مارچ کو اسوقت ساڑھے تین ہزار کیس تھے، جرمنی میں اب مریضوں کی شرح کم ہو رہی ہے، ہر جگہ یہی صورتحال ہے، اٹلی میں بھی ایسا ہی ہوا، یہ سب باتیں میں نے قومی رابطہ کمیٹی کے اجلاس بتائیں

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ کی بات بھی ہوئی ، جب امریکہ میں انہوں نے لاک ڈاؤن کیا تو مریض بڑھ رہے تھے، وہاں کی سٹیٹ کے گورنرز نے لاک ڈاؤن کیا، جب روزانہ کے کیسز 17 ہزار کے قریب ہو گئے تھے تب جا کر لاک ڈاؤن کیا، لاک ڈاؤن دیرسے کرنا انکی غلطی تھی، لاک ڈاؤن کھولنے کی وجہ سے وبا دوبارہ آ سکتی ہے.

    پاکستان میں 26 فروری کو پہلا کیس سامنے آیا، اور لاک ڈاؤن ہوا،لاک ڈاؤن نہ ہوتا تو مریض زیادہ ہوتے،میں نے کہا ہم نے جوفیصلے کرنے ہیں و ہ جذبات میں آکر نہیں زمینی حقائق دیکھ کرکرنے ہیں،میں جب مغرب کی مثال دیتا ہوں تو تنقید ہوتی ہے ،ہم نے جب لاک ڈاؤن کیا تو باقی سب نے ہمیں فالو کیا، اس میں میڈیا نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا، لاک ‌ڈاؤن کی وجہ سے مریض کم بڑھے لیکن اب بڑھ رہے ہیں،کسی سے دشمنی نہیں، کاروبار بند نہیں کرنا چاہتے لیکن انسانی زندگیاں بچانا زیادہ اہم ہے.

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ پہلی موت ہمارے پاس مارچ میں ہوئی اور دوسری گلگت میں ہوئی، ایک غلطی ہم سے ہوئی اور وفاقی حکومت سے بھی ہوئی، غلطیاں ہم سب کریں گے، کل کی میٹنگ میں اٹارنی جنرل بھی آئے تھے جس میں انہوں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ دیا کہ وفاق صوبوں سے مشاورت کے بعد متقفقہ فیصلے کرے

  • سندھ حکومت نے مزید صنعتوں کو کام کرنے کی دی اجازت

    سندھ حکومت نے مزید صنعتوں کو کام کرنے کی دی اجازت

    سندھ حکومت نے مزید صنعتوں کو کام کرنے کی دی اجازت

    باغی ٹی وی :لاک ڈاؤن کی جزوی غیر موثر ہونے کے اثرات جاری سندھ حکومت نے مزید 81 صنعتوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی، صوبہ سندھ میں کھلنے والی فیکٹریوں کی کُل تعداد 711 تک پہنچ گئی۔

    خراب معاشی صورتحال اور اس کے نتیجے میں بڑھنے والی بے روزگاری کو کم کرنے کی خاطر سندھ حکومت نے مزید 81 صنعتوں کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے، ان صنعتوں میں ٹیکسٹائل، گارمںٹس، اپیرل، ڈینم، نٹ ویئر، انجیینرنگ اور سٹیل کی فیکٹریاں شامل ہیں۔

    وزارت داخلہ سندھ کے جاری اعلامیے کے مطابق 7 صنعتی علاقوں سے فیکٹریوں کے مالکان نے برآمدی یونٹس چلانے کی اجازت طلب کی تھی، ٹی ڈی اے پی سے برآمدی آرڈرز کی تصدیق کے بعد اجازت دی گئی ہے۔

    تمام فیکٹریز سندھ حکومت کے جاری کردہ ایس او پیز پر عمل کرنے کی پابند ہونگی، جس میں ملازمین کا درجہ حرارت چیک کرنے سمیت، سماجی فاصلے، ماسک اور سیناٹائزر فراہم کیا جائے ÷
    واضح رہے کہ اقتصادی ربطہ کمیٹی کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعطم عمران خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے خوف تھا کہ ہمارا بہت بڑا طبقہ دیہاڑی دار اور چھابڑی والے ہیں، اس کی اکثریت 80 فیصد ہے، خوف تھا جب سب بند کر دیا تو جو لوگ روز کماتے ہیں ان کیا بنے گا۔

    ان کا کہنا تھا فخر ہے ہمارے ملک میں کورونا کی اس طرح پیک نہیں آئی جس طرح یورپ کے حالات ہیں، اللہ کا کرم ہے پاکستان پر ایسا پریشر نہ پڑا جیسا یورپ میں تھا، ہم سوچتے رہے کہ کونسا وقت ہو کہ ہم لاک ڈائون کو کم کریں۔

  • پاک بحریہ اور اینٹی نارکوٹکس فورس کا پسنی میں مشترکہ انسداد منشیات آپریشن

    پاک بحریہ اور اینٹی نارکوٹکس فورس کا پسنی میں مشترکہ انسداد منشیات آپریشن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک بحریہ نے اینٹی نارکوٹکس فورس کے ہمراہ خفیہ معلومات کی بنیاد پر بلوچستان کے علاقے پسنی میں مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے 100 کلوگرام کرسٹل (ڈرگ)ضبط کر لی۔

    پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق پکڑی گئی منشیات کی قیمت تقریبا تین ارب روپے ہے ۔ ضبط کی گئی منشیات کو بحیرہ عرب کے راستے نا معلوم مقام پر منتقل کیا جانا تھا۔ قبضے میں لی گئی منشیا ت کو مزید قانونی کاروائی کے لیے اینٹی نارکوٹکس فورس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    کرونا وائرس کے باعث ملک میں وبائی صورتحال کے باوجود بھی جرائم پیشہ عناصر مذموم کاروائیوں میں سرگرم ہیں جبکہ منشیات اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ آپریشن کی کامیابی اس امر کا مظہر ہے کہ پاک بحریہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے لیے مستعد ہے۔پاک بحریہ ملکی ساحلی پٹی اور سمندری راستوں کا غیر قانونی مقاصد میں استعمال روکنے کے لیے پر عزم ہے۔

  • ایم کیو ایم میں مائنس الطاف کے بعد مائنس فاروق ہو گیا، مصطفیٰ کمال زیرو،وزیراعظم نااہل،فاروق ستار نے کیں کھری کھری باتیں

    ایم کیو ایم میں مائنس الطاف کے بعد مائنس فاروق ہو گیا، مصطفیٰ کمال زیرو،وزیراعظم نااہل،فاروق ستار نے کیں کھری کھری باتیں

    ایم کیو ایم میں مائنس الطاف کے بعد مائنس فاروق ہو گیا، مصطفیٰ کمال زیرو،وزیراعظم نااہل،فاروق ستار نے کیں کھری کھری باتیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم کے رہنما فاروق ستار نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کا شکر ہے جیسا دنیا کا حال ہے ویسا ہی میرا اور آپ کا حال ہے، سیاست خدمت کے لئے کرنی ہو تو پھر میں سمجھتا ہوں کی سیاست عبادت ہے،میں تو سیاست کو عبادت سمجھ کر کرتا ہوں، جو ہماری چار سے چھ سیٹیں چھینی گئیں میں کھل کر کہتا ہوں‌کہ اتنی سیٹیں دے دی گئیں کہ چھوٹے مارجن سے حکومت بنا لیں، کراچی کی چھ سیٹیں اس لئے دی گئی تھیں کہ نواز شریف اور مریم نواز الیکشن سے پہلے واپس آ گئے تھے اور لاہور ،گوجرانوالہ کی جن چھ سیٹوں پر نظر تھی وہ نہیں ملیں پھر کراچی سے اس کمی کو پورا کیا گیا

    فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ نااہل، نالائق وزیراعظم ہے عمران خان، میں نے تحریک انصاف سے اتحاد کرنے سے منع کیا تھا،عامر خان کا طوطی بولتا تھا اس کے پا س حقیقی سے لائے گئے 500 کارکنا ن تھے، میں نے ان پر اعتماد کیا تھا میں نے ان کو نمبر ٹو بنایا تھا،اس طرح کس نے ان کی مدد کی ،غیبی ہاتھ آگے آئے اور پھر الیکشن کمیشن، ہائیکورٹ میں ان کی مدد کی گئی اور پھر مائنس الطاف کے بعد مائنس فاروق ستار ہوا،اور آج خالد مقبول بھائی کو دال آٹے کا بھاؤ پتہ چل رہا ہے کہ وہ ڈمی سربراہ ہیں، اصل سربراہ عامر خان، کنور نوید، وسیم اختر ہیں

    فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ کچھ چھوٹے سربراہ بھی ہیں، یہ بہانہ کیا جا رہا ہے کہ وہ تنظیمی کام کریں گے، خالد مقبول صدیقی کو کچھ بھی معلوم نہیں ہے، اگر ایک گھر میں زیادہ ابو ہوں گے تو کام نہیں چلے گا، ایم کیو ایم بہادرآباد میں یہی ہو رہا ہے

    فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ ایم کیو ایم پاکستان کسی کے کہنے پر نہیں بنائی گئی، 23 اگست کی شام کو جو بات کہی تھی وہی بات میں نے 22 اگست کی شام کو کرنی تھی اور میں پریس کلب چلا گیا تھا لیکن ٹھاکر نے مجھے بات نہیں کرنے دی حالانکہ میں نے اسکی بڑی منت کی،یہ بھی مجھے معلوم ہے کہ ایک پنڈی سے فون آیا تھا، ایک اسلام آباد سے فون آیا تھا،اس لئے مجھے چھوڑا گیا تھا کہ یہ دیکھنے کے لئے کہ میں‌ کرتا کیا ہوں

    فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ ان کو معلوم تھا کہ یہ پریس کانفرنس کسی دن ہو گی، اب ان کے پاس کوئی نجومی تھا جس نے انہیں بتا دیا تھا، عامر خان اس ویو پر سوار ہو کر آ رہے تھے کراچی، ایئر پورٹ پر انکا استقبال کرتے،بہادر آباد لاتے اور ہم سب سر پکڑ کر بیٹھے ہوتے، یہ نعرے لگتے یہ مصطفیٰ کمال،فاروق ستار گٹھ جوڑ نامنظور، ایم کیو ایم ، پی ایس پی اتحاد نا منظور، فاروق ستار استعفیٰ دو اور عامر خان کو رابطہ کمیتی کا کنوینئر بنا دیا جائے یہ منصوبہ تھا

    فاروق ستار کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کسی بات پر غرور اور تکبر نہیں کرنا چاہئے اور عقل کل بھی نہیں سمجھنا چاہئے، مجھے کہا جاتا تھا کہ پی ایس پی میں شامل ہو جاؤں، فروغ نسیم کہتے تھے، میں نے سب کی چال ڈھال دیکھی، مصطفیٰ کمال اچھے ایڈمنسٹریٹر لیکن سیاسی طور پر زیرو ہیں، مائنس خالد مقبول صدیقی تب ہو گا جب وہ میری طرح ہمت کرے اور بتا دے کہ اس ٹولے نے ایم کیو ایم پر قبضہ کیا ہوا ہے، پھر کارکنان میرے اور خالد مقبول کے ساتھ ہوں‌ گے،ایم کیو ایم ہم ہوں گے، خالد مقبول میں یہ جراثیم ہیں، وہ بے ایمان نہیں لیکن اللہ انکو حوصلہ دے

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ہیلو کی آواز کراچی والے سنیں گے یا نہیں، ہیلو بولنے والے نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی،وہ خاموش رہتے اس غلطی کے بعد کوئی دوبارہ غلطی نہ کرتے لیکن انہوں نے دوبارہ غلطی کی اور خود دروازے بند کر دیئے،اگر اسی پتنگ کے ساتھ ایم کیو ایم پاکستان الیکشن میں گئ تو 2020 میں بلدیاتی الیکشن جو ہونا تھے لیکن کرونا کی وجہ سے نہیں ہوئے اب اگلے سال ہوں گے اس میں انہوں نے میئر کا سمجھ لیں سودا کرلیا ہے.