Baaghi TV

Category: کراچی

  • لاہور کے بعد کراچی میں بھی "گدھے” کا گوشت ،شہر قائد کے مکین ہو جائیں ہوشیار

    لاہور کے بعد کراچی میں بھی "گدھے” کا گوشت ،شہر قائد کے مکین ہو جائیں ہوشیار

    لاہور کے بعد کراچی میں بھی "گدھے” کا گوشت ،شہر قائد کے مکین ہو جائیں ہوشیار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق لاہور کے بعد کراچی میں گدھوں کی خبروں نے شہریوں کو پریشان کر دیا، شہری بیف کھائیں یا نہیں سمجھ نہیں آ رہی ،

    شہر قائد کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع ڈرائیونگ لائسنس برانچ کے قریب موجود کچرا کنڈی سے 3 گدھوں کے سر اور آلاشیں ملی ہیں، البتہ باقی گوشت اور کھال غائب ہے۔ نامعلوم افراد مبینہ طور پر ذبح کیے گئے گدھے کے سر اور آلاشیں پھینک گئے تھے، ان لائشوں کو بعد میں کلفٹن کنٹونمنٹ بورڈ کی صفائی والی گاڑی کچرے سمیت اٹھا کر لے گئی۔

    اطلاع پر پولیس کی جانب سے اہلِ علاقہ سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے کہ یہ کس کی کارروائی ہے اور گدھوں کا گوشت کہاں گیا ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ان گدھوں کا گوشت بیف یا مٹن بتا کر کسی ہوٹل یا گوشت کی دکان پر بیچا اور شہریوں کو کھلایا جائے گا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ برس شہر قائد کے علاقے کورنگی کے ایک گودام پر چھاپے کے دوران پولیس نے گدھے اور کتے کی 800 کھالیں برآمد کرکے دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا، ملزمان کا گروہ کراچی سمیت ملک کے مختلف شہروں میں گدھے اور کتے کا گوشت ہوٹلوں میں سپلائی کرتا ہے۔

    ملزمان میں ایک افغان باشندہ عبدالرحیم بھی شامل ہے۔ پولیس کے مطابق افغان شہری نے پاکستانی شہری کی مدد سے یہ گودام لے رکھا تھا، ان کا گروہ بین الصوبائی ہے، جو خیبر پختونخوا اور پنجاب کے مختلف شہروں سے کھالیں حاصل کرکے کراچی لاتا ہے اور یہاں سے کھالیں چین برآمد کر دی جاتی ہیں۔

    اپریل 2017 میں بھی پولیس نے کاروائی کی تھی، پولیس نے گلستان جوہر میں ایک گودام پر چھاپہ مار کر ساڑھے 4 ہزار سے زائد کھالوں کے ساتھ ایک چینی باشندے اور ایک خاتون سمیت 7 ملزمان کو گرفتار کیا تھا، گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر ایک اور گودام سے مزید 350 گدھے کی کھالیں برآمد کی گئی تھیں۔ چین میں گدھے کی کھالوں سے جیلاٹن نامی ایک جز بنایا جاتا ہے جو چین کی ہزاروں سال قبل روایتی اور مقبول ترین دوا ایجیا کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ یہ دوا چینی باشندوں میں انتہائی مقبول ہے جو نیند لانے، ٹھنڈ سے بچاؤ، طاقت اور دیگر امراض میں مفید ہے۔

    واضح رہے کہ چین اس وقت گدھوں کی خریداری کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک ہے جو دنیا بھر سے گدھوں کو زیادہ سے زیادہ قیمت پر خریدنے کو تیار ہے، جب کہ نائیجریا اور برکینا فاسو سمیت کئی ممالک چین کو گدھے فروخت کرنے پر پابندی بھی عائد کرچکے ہیں۔

  • وزیراعلیٰ سندھ سے ورلڈ بینک کے سینئر ورد مسٹر جان روم کی ملاقات

    وزیراعلیٰ سندھ سے ورلڈ بینک کے سینئر ورد مسٹر جان روم کی ملاقات

    :وزیراعلیٰ سندھ سے ورلڈ بینک کے سینئر ورد مسٹر جان روم کی ملاقات
    باغی ٹی وی :وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ سے ورلڈ بینک کے سینئر ورد مسٹر جان روم کی وزیراعلیٰ ہاؤس میں ملاقات ہوئی

    ملاقات میں چیئرمین پی اینڈ ڈی محمد وسیم، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو، سیکریٹری خزانہ حسن نقوی بھی شریک تھے .ملاقات میں شہروں میں پینے کے پانی کے منصوبوں پر تبادلہ خیال ہوا. دیہی علاقوں میں زرعی پانی کے صحیح استعمال پر بھی بات چیت کی .کراچی میں ڈیسالی نیشن پلانٹ اور پانی کے مختلف وسائل سے کراچی کو پہنچنے کے مؤثر نظام پر بھی بات چیت ہوئی. مراد علی شاہ نے کہا کہ شہری علاقوں میں صنعتی ترقی کے لیے وہ کام کررہے ہیں .دیہی علاقوں میں زراعت کی ترقی میری حکومت کی ترجیح ہے، 550 پروکیورمنٹ تربیت یافتہ افسران سندھ حکومت میں موجود ہیں، یہ ورلڈ بینک کے تعاون سے تربیت یافتہ افسران ہیں،کراچی میں ہم کچرے سے بجلی بنانے کا منصوبہ شروع کرنا چاہتے ہیں، نیبرہوڈ منصوبہ کے تحت شہر کے پرانے علاقوں کی تزئین و آرائش کی جارہی ہے، زرعی پانی کے تحفظ کیلیے منصوبوں شروع کرنے پر بھی اتفاق ہوا.

  • نقیب اللہ محسود قتل کیس، سندھ ہائیکورٹ نے سنایا بڑا فیصلہ

    نقیب اللہ محسود قتل کیس، سندھ ہائیکورٹ نے سنایا بڑا فیصلہ

    نقیب اللہ محسود قتل کیس، سندھ ہائیکورٹ نے سنایا بڑا فیصلہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے نقیب اللہ قتل کیس میں ملزمان کی ضمانت کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنا دیا، عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس میں پولیس اہلکاروں کی درخواست ضمانت مسترد کردی۔

    سندھ ہائیکورٹ نے حکم دیا کہ ٹرائل کورٹ تین ماہ میں اس مقدمے کا فیصلہ کرے، پولیس اہلکار ملزم اللہ یار، نازک، شکیل فیروز ودیگر نے درخواست دائر کی تھی۔ نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت دیگر ملزمان پر فرد جرم 25مارچ 2019 کو عائد کی گئی تھی۔

    واضح رہے کہ نقیب اللہ قتل کیس میں 13 پولیس اہلکار و افسران عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں جب کہ راؤ انوار، ڈی ایس پی قمر سمیت 5 ملزمان ضمانت پر رہا ہیں۔

    اپنے ہی شوہر کے گھر ڈاکہ ڈالنے والی خاتون مبینہ آشنا سمیت گرفتار

    لاہور میں بھی بچوں کے اغوا کا سلسلہ رک نہ سکا

    علی وزیر اور محسن داوڑمیرا بھائی ،پرویز خٹک اور میں رابطے میں تھے، شہریارآفریدی

    فارم ہاؤس میں ڈانس پارٹی میں لڑکی کی موت، دو دوست گرفتار

    واضح رہے کہ نقیب اللہ محسود کا قتل 13 جنوری 2017ء کو شہر قائد کراچی میں پولیس افسر راؤ انوار کے پولیس انکاؤنٹر کی وجہ سے ہوا،نقیب اللہ محسود پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اس کے کالعدم تنظیموں سے تعلقات ہیں،نقیب اللہ کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا تھا،نقیب اللہ کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا تھا۔ 24 جنوری 2019ء کو پاکستان کی انسداد دہشت گردی عدالت نے نقیب اللہ اور تین دوسرے افراد کو معصوم قرار دیا۔

    نقیب اللہ محسود کے والد کی وفات، آرمی چیف کا اظہار تعزیت اور کیا اہم اعلان

  • آئی جی سندھ کے تبادلے پر وزیراعلیٰ سندھ نے دیا اسمبلی میں اہم بیان، کیا کہا؟

    آئی جی سندھ کے تبادلے پر وزیراعلیٰ سندھ نے دیا اسمبلی میں اہم بیان، کیا کہا؟

    آئی جی سندھ کے تبادلے پر وزیراعلیٰ سندھ نے دیا اسمبلی میں اہم بیان، کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ انہیں کئی ماہ قبل یہ پیشگی اطلاع مل گئی تھی کہ پولیس سندھ حکومت کی شخصیات کے خلاف جھوٹے کیس بنائے گی اس معاملے کی تحقیقات ایک اچھے پولیس افسر سے کرائی گئی لیکن آئی جی سندھ نے یہ رپورٹ ہی دبالی۔ سندھ حکومت آئی جی پر عدم اعتماد کا اظہار کرچکی ہے لیکن وہ اب اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں۔

    انہوں نے یہ بات جمعرات کو سندھ اسمبلی میں پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی خرم شیر زمان کی جانب سے آئی جی سندھ کے تبادلے سے متعلق ایک توجہ دلاﺅ نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کہی۔

    وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ الزام توسب سے پہلے مجھ پر لگا کہ میں ایک دہشت گرد سے ملا ہوں۔ کچھ عرصے قبل ایک دہشت گرد کے پاس اخباری نمائندے کو رسائی بھی دی گئی جس کا مقصد مجھے بدنام کرنا تھا۔ اگر میں کسی دہشت گرد سے ملا ہوں تو کارروائی کرو۔ ہمارے قانون کے مطابق وزیراعلی اور آئی جی کی مشاورت سے ایس ایس پی لگتا ہے ہمیں بلا وجہ الزام نہ دیا جائے۔

    سید مراد علی شاہ نے کہا کہ شکارپور کے ایس ایس پی رضوان کی آئی جی نے سفارش کی تھی لیکن یہ اچھے افسر نہیں ہیں ،اس ایس ایس پی کے خلاف اسکے ایڈیشنل آئی جی نے رپورٹ دی۔ میرے پاس اکتوبر میں ایک ڈاک آئی کہ پولیس نے ہمارے خلاف من گھڑت کیس بنائے گی ،میں نے ایک اچھے افسر سے انکوائری کروائی مگر وہ انکوائری رپورٹ مجھے آج تک نہیں ملی ،کیونکہ وہ رپورٹ آئی جی پولیس نے دبا لی ہے ۔ پولیس میں کچھ کالی بھیڑیں بھی ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ امتیازشیخ نے دس دفعہ آئی جی کو شکارپور پولیس کے بارے میں بتایا لیکن ایس ایس پی چونکہ آئی جی کا چہیتا تھا اس لئے کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ ایس ایس پی نے جن آٹھ لوگوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی وہ ملک میں ہی موجود نہیں ہیں ایک نااہل پولیس افسر کو شکارپورمیں لگایاگیا۔ شکار پور میں 22غریب گاوں والوں کو اے ٹی سی دفعات پر چالان کیاگیا لیکن اب آئی جی پولیس کو تبادلہ کردیاگیاہے ۔سندھ کے عوام آئی جی کومسترد کرچکے ہیں ،سندھ کابینہ نے بھی ان پر عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے لیکن بڑے افسوس کی بات ہے کہ آئی جی پولیس اب اوچھی حرکتوں پر اترآئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ نے کہا کہ میڈیا میں رپورٹس چلیں اورڈاکٹررضوان کی طرف سے صوبائی وزراء پر سنگین الزامات لگائے گئے ۔اگر اسمبلی میں بیٹھے ہوئے لوگ غلط ہیں تو ان کو ا وراگرایس ایس ایس پی غلط ہیں تو اس کو سزادی جائے۔ ایک نالائق پولیس افسر نے منتخب رکن اسمبلی کےخلاف بھونڈی رپورٹ بنائی ہے سعید غنی پردوسال پرانی رپورٹ ڈال دی گئی ،اگر امتیازشیخ کرمنل ہے تو پولیس نے گرفتارکیوں نہیں کیا؟کیاوزیراعلی نے گرفتاری سے روکا تھا۔ آئی جی نے چیف سیکریٹری کو خط لکھا کہ مجھ سے پوچھے بغیر افسران کی خدمات واپس کی گئیں۔انہوں نے کہا کہ بڑی ہوشیاری سے آئی جی کا خط میڈیا میں لیک کیاگیا۔ پنجاب میں چار بار آئی جی تبدیل ہوگئے اور وہاں امن وامان کی صورتحال بھی خراب ہے۔ سندھ کے بارے میں یکطرفہ کام نہیں چلے گا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ وزیر اعظم سے اس معاملے پر بات ہوئی ہے جس کی تفصیل میں اپوزیشن لیڈر کو بتانے کاپابند نہیں ہوں ،وزیراعظم سے اس حوالے سے تین بار بات ہوئی ہے اوروزیراعظم نے مجھے یقین دہانی کرائی ہے۔ ہم نے آئی جی پولیس کو چلانے کی کوشش کی مگر وہ اس قابل نہیں کہ انہیں سندھ میں مزید رکھاجائے ،آئی جی کو کرسی سے چمٹے رہناکاشوق ہے ۔ آئی جی کی تبدیلی کا معاملہ وفاقی وصوبائی حکومت کے درمیان ہے ،ہم آئین قانون کےمطابق چلیں گے،ہمیں اپنی ٹیم منتخب کرنےکا حق ہے۔

    سید مراد علی شاہ نے کہا کہ کیامجھے پتہ نہیں چلتاکہ وہ افسر کس سے فون پر بات کررہاہے آئی جی پولیس اب پارٹی بن چکے ہیں ہم افسران کو سیاست میں حصہ نہیں لینے دیں گے۔ مجھے کہاگیاہے کہ وزیراعظم وطن واپس آتے ہی فیصلہ کرلیں گے اور آئی جی سندھ کو تبدیل کردیا جائے گا۔ سندھ میں کوئی ناکام افسر نہیں چل سکے گا،سناہے کہ پنجاب میں چیف سیکریٹری تبدیل ہورہاہے اس صوبے میں وہ ہی افسر چلے گا جو ہماری پالیسی پرچلے گا،

  • ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ پر سعید غنی نے دیا ردعمل ،کہا خان ہو گئے بے نقاب

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ پر سعید غنی نے دیا ردعمل ،کہا خان ہو گئے بے نقاب

    ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ پر سعید غنی نے دیا ردعمل ،کہا خان ہو گئے بے نقاب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی نے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ پر ردعمل میں کہا ہے کہ 10 سال بعد ملک کا ٹرانسپیرنسی انڈیکس تنرلی کا شکار ہوا۔ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان میں اس سال کرپشن میں اضافہ ہوا۔
    مہنگائی و بیروزگاری نے گذشتہ ایک سال میں غریب کی کمر توڑ دی۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل رپورٹ نے عمران خان کے دعووں کو بے نقاب کردیا۔

    سعید غنی نے مزید کہا کہ رپورٹ اس بات کا ثبوت ہے کہ ڈیرھ سال میں ملک ہر حوالے سے پیچھے چلا گیا۔ قانون کی حکمرانی کے حوالے سے جاری رپورٹ میں بھی پاکستان مزید تنرلی کی طرف گیا۔ ایک سال میں پاکستان جمہوری اقدار کے حوالے سے بھی پیچھے چلا گیا۔ ملک میں گذشتہ ایک سال میں عدلیہ اور میڈیا پر بھی حملے بڑھ گئے۔

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ انسانی حقوق کی پامالی کے حوالے سے بھی پاکستان کا درجہ گذشتہ ایک سال میں خراب ہوا۔ میڈیا پر آج جتنی قدغنیں ہیں پہلے کبھی دیکھنے کو نہ ملیں۔ اپوزیشن کے خلاف انتقامی کاروائیاں بھی بڑھ گئیں ہیں

     

    پاکستان میں کرپشن کے اضافے کا دعویٰ‌ حکومت نے پراپیگنڈہ پھیلانے پرٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے خلاف جوابی حکمت عملی تیار کرلی ،اطلاعات کےمطابق حکومت نے اس ادارے کی طرف سے بے بنیاد افواہوں‌کے پھیلانےکا نوٹس لیا گیا ہے اور بہت جلد اس ادارے کو کرپشن کے حوالے سے دعوے کے مطابق ثبوت پیش کرنے کے لیے نوٹسز بھی ارسال کئے جائیں گے

    ذرائع کےمطابق اس حوالے سے وزیراعظم کی وطن واپسی پرفیصلہ ہوگا ، یہ بھی معلوم ہوا ہےکہ اگرٹرانسپرنسی انٹرنیشنل اپنے دعوے کو ثابت نہ کرسکا تو اس کے خلاف نہ صرف قانونی کارروائی کی جائے گی بلکہ جن لوگوں نے یہ رپورٹ پیش کی ان کے مستقبل کا فیصلہ بھی کیا جائے گا

    واضح رہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں سال 2018 کے مقابلے 2019 کرپشن بڑھ گئی، 2018 کے انڈیکس میں پاکستان کا اسکور 33 تھا اور 2109 میں یہ 32 ہوگیا۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ 2019 میں زیادہ تر ممالک کی کرپشن کم کرنے میں کارکردگی بہتر نہیں رہی اور ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی کرپشن پرسیپشن انڈیکس کے 180 رینکس میں پاکستان کا رینک 120 ہے۔

  • سندھ میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا

    سندھ میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا

    سندھ میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق  صوبہ سندھ میں رواں برس کا پہلا پولیو کیس سامنے آگیا، سندھ کے علاقے ٹنڈو الہ یار کی7 ماہ کی بچی میں پولیو وائرس کی تصدیق ہو گئی ہے۔ گزشتہ سال سندھ بھر میں میں پولیو کیسز کی تعداد 22 رہی، ملک بھر میں پولیو کیسز کی تعداد 130 تک پہنچ گئی۔

    پولیو کے حوالے سے سال2019 بدترین رہا جب ملک بھر میں136 پولیو کیسز ریکارڈ کیے گئے، پولیو کی یہ شرح2014 ء کے بعد بلند ترین شرح ہے۔2014 میں پولیو وائرس کے306 کیسز سامنے آئے تھے اور یہ شرح پچھلے14 سال کی بلند ترین شرح تھی۔

    دوسری جانب خیبرپختون خوا میں پولیو کیسز میں اضافہ سامنے آیا ہے،لکی مروت سے 18 ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، قبل ازیں دو روز قبل بھی خیبر پختونخواہ کے اضلاع بنوں سے26ماہ کے بچے، ٹانک میں30ماہ کی بچی اور5ماہ کے بچے ،ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل پرواہ میں24ماہ کی بچی جبکہ مہمند کی تحصیل بائزئی میں6ماہ کے بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی .

    متاثر بچوں کے والدین نے اپنے بچوں کو حفاظتی ٹیکہ جات نہیں لگوائے تھے۔ ان بچوں کے فضلہ کے نمونے قومی ادارہ صحت اسلام آباد کی لیبارٹری بھجوائے گے تھے جہاں تفصیلی تجزیہ کے بعد ان بچوں میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی.

    خیبر پختونخواہ میں پولیو کے نئے کیسزسامنے آنے پر ایمر جنسی آپریشن سنٹر کے کوآرڈنیٹر عبدالباسط نے ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ انسداد پولیو مہم کو اور موثر بنائے تاکہ پولیو کا خاتمہ ممکن ہو سکے ای او سی کوآرڈنیٹرنے کہا کہ ہر بچے تک رسائی اور پولیو قطرے پلوانا ضروری ہے۔

    محکمہ صحت خیبر پختونخوانے پولیو مہم کے دوران 5نقائص کی نشاندہی کردی،خیبر پختونخوامیں پولیو مرض کےاضافے کی بڑی وجہ پولیو عملہ قراردیا گیا ہے،رپورٹ میں کہا گیا کہ عملے کی جانب سے انکارکرنے والے والدین کی جعلی مارکنگ کی گئی ،ویکسی نیشن کیلئےزبردستی اقدام،مشروط سودہ بازی اورعلاقوں تک رسائی بھی وجوہات میں شامل ہیں، خیبر پختونخوا میں 2018 کے دوران 8 اور2019 میں 75 نئے کیسزسامنےآچکے ،پولیو مرض سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقے بنوں اور لکی مروت ہیں،بنوں اور ڈی آئی خان میں 24،24، شمالی وزیرستان میں 8 اورتورغر میں 7 کیسزرپورٹ ہوئے.

    صوبہ خیبر پختونخوا میں تقریباً 79 ہزار والدین ہی انسداد پولیو مہم میں بڑی رکاوٹ بن گئے ہیں۔ محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک صوبے میں 79 پولیو کیسز سامنے آچکے ہیں جن میں اس سال کے اختتام تک مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

    خیبر پختونخواہ میں پولیو کے بڑھتے ہوئے کیسز، حکومت نے بڑا فیصلہ کر لیا

    بنوں میں پولیو کا ایک اور کیس، انسداد پولیو مہم جاری

    رواں برس صوبے میں 79 ہزار والدین نے اپنے بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے سے انکار کر دیا ،پشاور میں 42بچوں کے والدین کا انسداد پولیو کے قطرے پلانے سے انکارکیا،مردان میں8ہزار722اورکرم میں6ہزار504بچوں کے والدین نے انکار کیا،شمالی وزیرستان سے 6 ہزار 343 اورصوابی سے 3ہزار 470 بچوں کے والدین نے انکار کیا،

    خیبر پختونخواہ میں انسداد پولیو مہم میں رکاوٹ پولیو سٹاف بن گیا

    پولیو مہم کے خلاف پروپیگنڈہ، سات تعلیمی اداروں کے خلاف کاروائی

    سوشل میڈیا پر پولیو مخالف مواد، کتنے اکاونٹس بند ہوئے، حیران کن خبر

    خیبرپختونخوامیں انسدادپولیو مہم کے دوران 67 لاکھ 47 ہزاربچوں کو قطرے پلانے کا ہدف تھا،ایک لاکھ 61 ہزار بچے مختلف وجوہات کی بنا پر حفاظتی قطرے پینے سے محروم رہے،82ہزار سےزائدبچے 3روزہ انسدادپولیومہم کےدوران گھروں میں موجودنہیں تھے

     

  • ہم اب بھی حج سستا کر سکتے ہیں، سابق وفاقی وزیر نے کیا موجودہ حکومت کو چیلنج

    ہم اب بھی حج سستا کر سکتے ہیں، سابق وفاقی وزیر نے کیا موجودہ حکومت کو چیلنج

    ہم اب بھی حج سستا کر سکتے ہیں، سابق وفاقی وزیر نے کیا موجودہ حکومت کو چیلنج

    سابق وفاقی وزیر مذہبی امور اورچیئرمین صوبہ ہزارہ تحریک سردار محمد یوسف نےکہاہےکہ موجودہ حکومت کی یہی پالیسی دکھائی دیتی ہے کہ لوگ فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے نہ جاسکیں،حکومت کہتی ہے کہ صاحب استطاعت پر حج فرض ہے لیکن انتظام کو آسان بنانا اور آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےسردار محمدیوسف نے کہا کہ ہم اپنے دور میں ساڑھے تین لاکھ روپے کے حج پیکج کو ڈھائی لاکھ روپے پر لے کر آئے،غریب محنت مزدوری کرکے اور پیسہ پیسہ بچا کر حج کی سعادت کیلئے جاتاہے،حکومت پر تو فرض ہے کہ وہ حج کی ادائیگی کیلئے آسانیاں پیدا کرے،سہولیات دی جائیں اور سستا پیکج دے،جب حکومت نے 5لاکھ 40ہزار کا پیکج کیا تھا توہم نے پیشکش کی تھی کہ یہ ذمہ داری حکومت ہمیں دے تو ہم ساڑھے تین لاکھ روپے میں اس پیکج کو قابل عمل بنا کردکھائیں گے،

    سابق وفاقی وزیر کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے غریب آدمی کے منہ سے نوالہ تک چھین لیا گیا ہے،حکومت کہتی ہے کہ صاحب استطاعت پر حج فرض ہے لیکن انتظام کو آسان بنانا اور آسانیاں پیدا کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے،میں چیلنج کرتا ہوں کہ ہم اب بھی حج سستا کر سکتے ہیں۔

    سردار محمد یوسف کا مزید کہنا تھا کہ ہزارہ صوبہ کے قیام کیلئے کے پی کے اسمبلی سے صوبہ ہزارہ کی قرارداد پاس ہو چکی ہے جبکہ قومی اسمبلی میں مرتضی جاوید عباسی، سجاد اعوان نے بل پیش کر دیا ہے،حکومتی رکن علی خان جدون نے بھی بل پیش کیا ہے یہ بل گذشتہ آٹھ ماہ سے قومی اسمبلی اسٹیڈنگ کمیٹی برائے قانون کے پاس ہے اور ہمارا مطالبہ ہے کہ اس بل کو پاس کیا جائے اور ملک بھر میں جہاں جہاں صوبوں کے قیام کیلئے آواز بلند ہو ہم انکا ساتھ دیں گے۔

    حج انتظامات کی بہتری کے لئے تجاویز کابینہ میں پیش کی جائیں، وزیراعظم

    حج پالیسی، حکومت کرنے جا رہی ہے اہم تبدیلی، وزارت مذہبی امور متحرک

    حج اخراجات میں کتنا اضافہ ہونے جا رہا ہے؟ سن کر پاکستانی پریشان

    واضح رہے کہ وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی اور سعودی عرب میں آئے روز ٹیکسز کے نفاذ کی وجہ سے رواں سال حج اخراجات مزید بڑھ جائیں گے اور گزشتہ سال کے مقابلہ اس سال حج مزید مہنگا ہو گا، سعودی عرب میں ٹیکسز پر ٹیکسز کے نفاذ اور پاکستانی روپے کی قدر میں کمی کی وجہ سے حج اخراجات بڑھتے جا رہے ہیں، خواہش ہے کہ سستا حج کرا سکیں لیکن اخراجات کی وجہ سے ایسا کرنا ممکن نہیں۔ گزشتہ سال کے مقابلہ میں امسال حج مزید مہنگا ہو گا۔ حج اور کرتارپور کا موزانہ نہیں کیا جا سکتا، کرتارپور ایک راہداری ہے جو کہ صرف 4 کلو میٹر ہے اور سائیکل کی بجائے پیدل بھی لوگ آتے جاتے ہیں جبکہ حج کیلئے 4 ہزار کلومیٹر سے زائد کا طویل سفر طے کرکے وہاں 40 روز قیام و طعام کا اہتمام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے اخراجات زیادہ ہیں۔

  • پی ایس پی نہ ہوتی تو بانی ایم کیو ایم کراچی میں قتل وغارت کرواتے، مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

    پی ایس پی نہ ہوتی تو بانی ایم کیو ایم کراچی میں قتل وغارت کرواتے، مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

    پی ایس پی نہ ہوتی تو بانی ایم کیو ایم کراچی میں قتل وغارت کرواتے، مصطفیٰ کمال کا دعویٰ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ہم نے کراچی کو بنایا اور الحمداللہ پاکستان کو بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں، 24 جنوری کو لاڑکانہ میں جلسہ کرکے سندھ کے عوام کو ایک روڈ میپ دینے جارہے ہیں،وزیراعظم اپوزیشن کے خلاف زہر اگلنے کے بجائے عوام کی بہتری پر وقت لگائیں،

    پاکستان ہاؤس میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ناظم کراچی اور پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاک سرزمین پارٹی کراچی کی کسی سیاسی جماعت سے مقابلہ کرنے کے لیے نہیں بنائی گئی بلکہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں سے مقابلہ کرکہ عوام کو انکا حق دلوانے کے لیے بنائی گئی ہے،حقیقت تو یہ ہے کہ جو کراچی کی پارٹی ہے وہ گروپ بندی کا شکار ہے،میں حکومت سے کہتا ہوں کہ ایم کیوایم سے ڈرنے کی ضرورت نہیں، یہ حکومت سے کبھی بھی علیحدہ نہیں ہونگے، آپ خود حکومت چھوڑ دینگے لیکن یہ حکومت نہیں چھوڑیں گے، کیونکہ انکی کرپشن کی سانسیں حکومت کی ڈور سے بندھی ہوئی ہیں،یہ جس دن حکومت سے باہر آئیں گے اسی دن سب گرفتار ہوجائیں گے۔

    مصطفی کمال نے مزید کہا کہ پاک سرزمین پارٹی نہ ہوتی تو بانی ایم کیو ایم راء کے ایما پر کراچی میں قتل و غارت گری کروارہے ہوتے، کشمیر کو کاونٹر کرنے کے لیے کراچی کو گرم کیا جاتا، ہم نے راء کا نیٹ ورک ختم کیا ہے،سات کارکن شہید ہوئے، ہم نے خون کا نذرانہ پیش کیا ہے،آنے والا وقت عوام کا ہے،عوام میرا ساتھ دیں، ہمارے پاس وہ کردار اور فارمولا ہے جس سے ہم عوام تک حکمرانی پہنچائیں گے،گلی گلی میں حکمرانی پہنچائیں گے،اللہ کی رضا کے لیے کام کررہے ہیں، آج لاہور میں آٹے کے ٹرک کے پیچھے عوام لائن میں لگے ہوئے تھے۔

    مصطفیٰ کمال نے سوال کیا کہ کیا یہ افریقہ، افغانستان اور عراق ہے؟موجودہ حکمرانوں نے پاکستان کو کیا بنا دیا ہے؟ پاکستان میں اسوقت جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس بات کی نشانی ہے کہ اللہ ہم سے ناراض ہے کیونکہ ہم شعبدے بازی پر ووٹ کرتے ہیں، ہم جھوٹے نعروں پر ووٹ کرتے ہیں اور کردار والے لوگوں کا انتخاب نہیں کیا جارہا،کردار کے بہتر افراد کا انتخاب کریں پاک سرزمین پارٹی میں باکردار لوگ موجود ہیں ۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ایک پارٹی کے چیئرمین پانی کی موٹریں لگا کر افتتاح کررہے ہے،سندھ کی حکومت ناکام ہوگئی ہے،آج کہا جارہا ہے کہ کے فور پرانے منصوبے پر ہی کام ہوگا،تو اتنا وقت کیوں برباد کیا گیا؟ پہلے دن سے کہہ رہا ہوں پرانے منصوبے کے تحت ہی کے فور بنایا جاسکتا ہے،وفاقی حکومت کے ایک وزیر نے کراچی کی صفائی مہم کا آغاز کیا، وہ سمجھے ٹویٹر پر ہی صفائی ہوجائے گی لیکن ایسا نہیں ہوتا.

    مصطفی کمال نے مزید کہا کہ وزیر اعظم سندھ کے وزیر اعلیٰ سے بات ہی نہیں کررہے تو بہتری کیسے ہوگی؟ وفاقی حکومت کی جانب سے سندھ کے بلدیاتی نظام کو عدالت میں چیلنج کرنے کی بات کی جارہی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے ایک بار بھی سندھ حکومت سے بلدیاتی نظام پر بات نہیں کی،وزیراعظم کی باتوں میں جھوٹ ہے، وزیراعظم کی باتوں میں یوٹرن ہیں، 162 ارب روپے کراچی کو دینے کی بات کی جب تک صوبائی حکومت سے تعلقات بہتر نہیں ہیں، پیسے نہیں آسکتے.

    خالد مقبول صدیقی کی اپنی کارکردگی کیا ہے؟ فاروق ستار نے اٹھائے سوالات

    اتحادی جماعت کے رکن کا وزارت سے استعفیٰ، حکومت نے کس سے رابطہ کر لیا؟ اہم خبر

    صدر پاک سر زمین پارٹی انیس احمد قائم خانی وائس چیرمین اشفاق احمد منگی، صدر سندھ کونسل و ممبر نیشنل کونسل شبیر احمد قائم خانی، سندھ کونسل زمہ دران کے ہمراہ رات گئے جلسہ گاہ جناح باغ چوک لاڑکانہ پہنچ گئے،

    انہوں نے جلسہ گاہ کا دورہ کیا اور انتظامات کا جائزہ لیا،اس موقع پر ڈویزن صدر لاڑکانہ بشیر میرانی، ڈسٹرکٹ صدر لاڑکانہ نادر مگسی بھی موجود تھے.

    پاک سرزمین پارٹی لاڑکانہ میں 24 جنوری کو جلسہ کر رہی ہے جس سے پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال خطاب کریں گے. جلسہ کی تیاریاں عروج پر ہیں.

    پاک سر زمین پارٹی سینئر وائس چئیرمین اشفاق احمد منگی، صدر سندھ کونسل و ممبر نیشنل کونسل شبیر احمد قائم خانی نے 24 جنوری لاڑکانہ میں ہونے والے جلسے کے سلسلے میں لاڑکانہ کی مختلف شاہراہوں پر ہینڈ بل تقسیم کیے ۔ لاڑکانہ میں پاک سرزمین پارٹی نے مختلف مقامات پر کیمپ لگائے ہوئے ہیں.

    گوٹھ ملاح ابڑو میں جنرل سیکریٹری سندھ مقبول ابڑو نے گوٹھ کے معزیزین سے ملاقات کی اور 24 جنوری کے جلسے کی دعوت دی معززین نے شرکت کی یقین دہانی کرائی کہ بھرپور شرکت کریں گے

    کراچی میں کرپشن کی فائلیں تیار،ایم کیو ایم میں کیا سازش ہو رہی ؟ مصطفیٰ کمال بول پڑے

  • زرداری کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا

    زرداری کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا

    زرداری کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا

    باغی ٹی وی : جعلی بینک اکاؤنٹس کے ذریعے میگا منی لانڈرنگ کیس میں سابق صدر آصف زرداری و دیگر ملزمان کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا، مقدمے کا ایک اور ملزم سید حسین فیصل جاموٹ وعدہ معاف گواہ بن گیا۔
    احتساب عدالت اسلام آباد کے جج محمد اعظم خان نے میگا منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کی۔ فریال تالپور، عبد الغنی مجید سمیت دیگر ملزمان عدالت میں پیش ہوئے تاہم سابق صدر آصف علی زرداری اور انور مجید پیش نہ ہوئے۔

    عدالت نے آصف زرداری کی ایک دن کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرتے ہوئے استفسار کیا کہ آج فرد جرم عائد کی جانی ہے، شریک ملزم انور مجید کہاں ہیں ؟ وکیل نے بتایا کہ انور مجید کراچی کے ہسپتال میں ہیں اور ان کی میڈیکل رپورٹس موجود ہیں۔

    نیب پراسیکیوٹر نے استدعا کی کہ ہم نے ریفرنس دائر کر رکھا ہے، ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے۔ فاروق نائیک نے اعتراض کیا کہ عبوری ریفرنس پر فردِ جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اچانک پاکستان کے ہمسایہ ملک میں ، دیکھ کر سب حیران

    امریکی صدر ٹرمپ نے وزیراعظم عمران خان کوایران سے بات چیت کا مینڈیٹ دیدیا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    واضح رہے کہ آصف زرداری اور فریال تالپور دونوں نیب کی حراست میں ہیں، آصف زرداری جسمانی ریمانڈ پر نیب کی تحویل میں ہیں آصف زرداری کو اسلام آباد ہائیکورٹ سے ضمانت کی درخواست مسترد ہونے پر نیب نے بلاول ہاؤس سے گرفتار کیا تھا، بعد ازاں فریال تالپور کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا

  • آٹا بحران پر مرتضی وہاب بھی بول پڑے

    آٹا بحران پر مرتضی وہاب بھی بول پڑے

    آٹا بحران پر مرتضی وہاب بھی بول پڑے

    ترجمان سندھ حکومت مرتضٰی وہاب نے کہا ہے کہ وفاقی وزرا نے پھر بیان بازی کاسلسلہ شروع کردیا ہے،لگتا ہے وفاقی وزرا کو پیپلزپارٹی فوبیا ہوگیا ہے،ترجمان سندھ حکومت.آٹےکےبحران کا الزام بھی سندھ حکومت پر ڈال دیا گیا.آٹےکابحران پنجاب میں بھی ہےوہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے،آٹے کے بعد اب چینی کا بحران بھی شروع ہوگیا ہے،حکومت کا کام ہے عوام کو اچھی خبر دینا،کیا گندم برآمد کرنے کا فیصلہ پیپلزپارٹی نے کیا تھا.بدقسمتی سے حکومت عوام کو کوئی بھی اچھی خبر نہیں دےرہی،کل ایک وفاقی وزیر نے کہا گندم برآمد کرنے کا فیصلہ غلط تھا

    کشمیر سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے کیا جواب دیا؟ جان کر ہوں حیران

    وزیراعظم عمران خان نے ٹرمپ سے کشمیر بارے بڑا مطالبہ کر دیا

    ا
    انہوں نے کہا کہ .سندھ حکومت پشاور کے فیصلے نہیں کرتی..آٹا بحران کی ذمہ داری سندھ حکومت پر کیسے ڈالی جاسکتی ہے؟خیبرپختونخوا میں بھی کہا جارہا ہے کہ گندم بحران کی وجہ سندھ حکومت ہے..عوام کے سامنے عیاں ہورہاہے کہ صرف باتیں کون کرتا ہے .پی ٹی آئی حکومت نے 16ماہ میں صرف باتیں کیں،کام نہیں کیا،عوامی فلاح کےلیے کام کریں اور عوام کو اچھی خبردیں.