Baaghi TV

Category: کراچی

  • بھائی کے نماز جنازہ میں شرکت کیلئے میر شکیل الرحمان کراچی پہنچ گئے، کس کے حکم پر؟

    بھائی کے نماز جنازہ میں شرکت کیلئے میر شکیل الرحمان کراچی پہنچ گئے، کس کے حکم پر؟

    بھائی کے نماز جنازہ میں شرکت کیلئے میر شکیل الرحمان کراچی پہنچ گئے، کس کے حکم پر؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اراضی سیکنڈل میں گرفتار میر شکیل الرحمان اپنے بھائی کی نماز جنازہ میں شرکت کے لئے کراچی پہنچ گئے، نیب نے انہیں جانے کی اجازت دی

    نجی اخبار کے مطابق گزشتہ روز احتساب عدالت لاہور نے میر شکیل الرحمٰن کا 7 روزہ راہداری ریمانڈ منظور کیا تھا جس کے بعد میر شکیل الرحمان رات گئے کراچی پہنچ گئے تھے۔ نیب عدالت کے ایڈمن جج جوادالحسن نے ہدایت کی کہ میر شکیل الرحمٰن کو مقررہ تاریخ 7 اپریل کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ عدالت نے قرار دیا کہ میرشکیل الرحمٰن کو اپنے بھائی کی تدفین میں شرکت کی اجازت انصاف کےتقاضوں اور انسانی ہمدردی کے تحت دی جاتی ہے۔

    میر شکی الرحمان کے کراچی جانے کی اجازت پر نیب پراسیکیوٹر نے کوئی اعتراض نہیں اٹھایا جس پر انہیں کراچی جانے کی اجازت دیدی گئی۔

    جنگ گروپ کے چیئرمین اور پبلشر میر جاوید رحمان گزشتہ روز کراچی میں وفات پا گئے تھے جن کی تدفین آج کراچی میں ہو گی۔

    واضح رہے کہ میر شکیل الرحمان کو اراضی سیکنڈل کیس میں نیب نے گرفتار کر رکھا ہے،میر شکیل الرحمان جسمانی ریمانڈ پر ہیں، انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے

    نیب نے انسانی ہمدری کی بنیاد پر میر شکیل الرحمان کو کہاں جانے کی اجازت دے دی؟

  • میر شکیل الرحما ن کو بڑا صدمہ

    میر شکیل الرحما ن کو بڑا صدمہ

    میر شکیل الرحما ن کو بڑا صدمہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق میر شکیل الرحمان کے بھائی پبلشرجنگ گروپ میرجاویدرحمان رضائے الہٰی سے انتقال کرگئے

    میرجاوید رحمان کراچی کے اسپتال میں زیر علاج تھے، آج ان کی وفات ہو گئی ہے ،وہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھے اور ان کی حالت تشویشناک تھی، آج ان کی موت ہو گئی ہے

    نیب نے میرشکیل الرحمان کوانکے بھائی میرجاوید الرحمان کی عیادت کی اجازت دی تھی،نیب ترجمان کے مطابق میرشکیل الرحمان کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پرشدید علیل بھائی کی عیادت کی اجازت دی،میرشکیل الرحمان بھائی کی عیادت کرنے ایک دن کے لیے کراچی جاسکتے ہیں،لیکن بدستور نیب کی حراست میں رہیں گے، نیب نے واضح کیا ہے کہ ریمانڈ کے دوران ضمانت دینے کا اختیار صرف عدالت کو ہے

    واضح رہے کہ میر شکیل الرحمان کو اراضی سیکنڈل کیس میں نیب نے گرفتار کر رکھا ہے،میر شکیل الرحمان جسمانی ریمانڈ پر ہیں، انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں ضمانت کی درخواست بھی دائر کر رکھی ہے

  • صوبے بھر میں کرفیو کل اعلان متوقع

    صوبے بھر میں کرفیو کل اعلان متوقع

    صوبے بھر میں کرفیو کل اعلان متوقع

    باغی ٹی وی : ذررائع کے مطابق پنجاب حکومت کا یکم اپریل سے 8 اپریل تک ایک ہفتہ کےلیے صوبے بھر میں کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ ،باقاعدہ اعلان کل متوقع ہے.
    واضح‌رہے کہ سندھ حکومت کرونا کے حوالے سے اقداات لینے میں اس وقت سب سے آگے ہے اور اس حوالے سے مراد علی شاہ کی زیر قیادت سندھ حکومت کی ہر جگہ تعریفیں ہو رہی ہیں۔ یہ سندھ ہی تھا جس نے سب سے پہلے طلبہ کو چھٹیاں دیں ، اور پھر لاک ڈاون بھی سب سے پہلے کیا حتیٰ کہ وزیر اعظم ابھی اس کے حق میں نہیں تھے۔ لیکن اب ایک اور انتہائی اقدام لینے کے حوالے سے سندھ حکومت نے عندیہ دے دیا ہے۔

    سندھ حکومت کے وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ ہم نے لاک ڈاون کر دیا ہے لیکن اگر عوام اب بھی گھروں میں نہیں بیٹھیں گے تو ہم صوبے میں کرفیو نافذ کر دیں گے۔

  • کرونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تدفین کی کہاں ہو گی اجازت؟ وسیم اختر نے کی نئی گائیڈ لائن جاری

    کرونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تدفین کی کہاں ہو گی اجازت؟ وسیم اختر نے کی نئی گائیڈ لائن جاری

    کرونا وائرس سے جاں بحق افراد کی تدفین کی کہاں ہو گی اجازت؟ وسیم اختر نے کی نئی گائیڈ لائن جاری
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس سے جاں بحق ہونے والے افراد کی تدفین کے لئے میئر کراچی وسیم اختر نے اہم اعلانات کر دیئے

    میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ کورونا سے انتقال کرجانے والوں کو مخصوص قبرستانوں میں دفن کیا جائے گا، محمد شا ہ قبرستان، سرجانی ٹاؤن قبرستان ، مواچھ گوٹھ قبرستان میں تدفین کی اجازت ہو گی،کورنگی نمبر چھ قبرستان اور اورنگی ٹاؤن گلشن ضیاءقبرستان مین تدفین کی اجازت ہو گی

    وسیم اختر کا مزید کہنا تھا کہ نماز جنازہ میں 2قریبی رشتہ داروں کو شرکت کی اجازت ہوگی،قبرستان میں میت کے آخری دیدار کی اجازت نہیں ہوگی،تدفین کے لئے آنے والی میت کو حفاظتی انتظامات کے ساتھ لایا جائے گا،

    میئر کراچی وسیم اختر میٹرو پو لیٹن کمشنر ڈاکٹر سید سیف الرحمن کے ہمراہ عباسی شہید اسپتال پہنچ گئے،میئر کراچی وسیم اختر نے کو رونا وائرس سے متعلق انتظامات اور فلٹر کلینک کا دورہ کیا

    اس موقع پر وسیم اختر کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ سے گرانٹ ملتے ہی کے ایم سی ملازمین کی تنخواہیں ادا کردی جائیں گی، ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن ادا کی جا چکی ہے، کو رونا وائرس کے حوالے سے کے ایم سی کے متعلقہ محکمے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں، دیگر ضروری محکموں فائر بریگیڈ، ریسکیو یونٹ اور سٹی وارڈنز کو بھی فعال رکھا گیا ہے،

    واضح رہے کہ  کراچی میں کرونا وائرس سے مزید 2 افراد ہلاک ہو گئے ، پاکستان میں کرونا سے اموات کی تعداد 20 ہو گئی.

    شہر قائد کراچی میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے، وزارت صحت سندھ کے مطابق دونوں افراد کی عمریں 52 اور 66 سال کی تھیں، دونوں افراد کرونا کے مریض تھے اور ہسپتال میں زیر علاج تھے. جاں بحق ہونے والے افراد میں 3 روز قبل کرونا کی تصدیق ہوئی تھی سندھ میں کرونا وائرس کے 6 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد مریضوں کی تعداد 508 ہو گئی ہے۔

    ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافے کے بعد چاروں صوبے میں لاک ڈاؤن کا آج ساتواں روز ہے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے،آزاد کشمیر میں بھی 24 مارچ سے 3 ہفتوں کا لاک ڈاون شروع ہو چکا ہے

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس ہوا،وزیر اعلیٰ نے آئی جی سندھ کو لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کردی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عوام کو لاک ڈاؤن اور حکومتی فیصلوں کا احترام کرنا ہوگا مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ دکھ کے ساتھ کیا شہریوں سے اپیل ہے اپنے اور خاندان کے لئے لاک ڈاؤن پر عمل کریں لاک ڈاؤن مزید موثر کرنا ہے لوگ ابھی تک شہر میں گھوم رہے ہیں

  • کراچی میں کرونا وائرس سے مزید ہوئی 2 ہلاکتیں

    کراچی میں کرونا وائرس سے مزید ہوئی 2 ہلاکتیں

    کراچی میں کرونا وائرس سے مزید ہوئی 2 ہلاکتیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں کرونا وائرس سے مزید 2 افراد ہلاک ہو گئے ، پاکستان میں کرونا سے اموات کی تعداد 19 ہو گئی.

    شہر قائد کراچی میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے، وزارت صحت سندھ کے مطابق دونوں افراد کی عمریں 52 اور 66 سال کی تھیں، دونوں افراد کرونا کے مریض تھے اور ہسپتال میں زیر علاج تھے. جاں بحق ہونے والے افراد میں 3 روز قبل کرونا کی تصدیق ہوئی تھی سندھ میں کرونا وائرس کے 6 نئے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد مریضوں کی تعداد 508 ہو گئی ہے۔

    کورونا وائرس کے باعث اب تک پنجاب میں 6، خیبر پختونخوا میں 5، سندھ میں 5، گلگت بلتستان میں 2 اور بلوچستان میں ایک شخص جاں جان کی بازی ہار چکا ہے،

    ملک بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں اور ہلاکتوں میں اضافے کے بعد چاروں صوبے میں لاک ڈاؤن کا آج ساتواں روز ہے، لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کیا جا رہا ہے،آزاد کشمیر میں بھی 24 مارچ سے 3 ہفتوں کا لاک ڈاون شروع ہو چکا ہے

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس ہوا،وزیر اعلیٰ نے آئی جی سندھ کو لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کردی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عوام کو لاک ڈاؤن اور حکومتی فیصلوں کا احترام کرنا ہوگا مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ دکھ کے ساتھ کیا شہریوں سے اپیل ہے اپنے اور خاندان کے لئے لاک ڈاؤن پر عمل کریں لاک ڈاؤن مزید موثر کرنا ہے لوگ ابھی تک شہر میں گھوم رہے ہیں،

  • لاک ڈاون اور چاروں طرف پھیلا بھوک کا عفریت از فیصل ندیم

    میری زندگی میں اور شائد اس سے بہت پہلے تک دنیا نے ان حالات کا سامنا نہیں کیا کرونا وائرس نے گویا ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اپنی توپوں اور میزائلوں سے دنیا کے بیشمار ملکوں کو تباہ و برباد کردینے والے دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک بھی کرونا کے سامنے ڈھیر ہوچکے ہیں امریکہ جسے دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے اس کے سب جدید شہر نیویارک کے جدید ترین ہسپتالوں کے انتہائی قابل ڈاکٹر آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی کا اظہار کررہے ہیں ایسے میں پاکستان جیسا ملک بھی جو پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے کرونا کے خلاف اپنی جنگ لڑنے میں مصروف ہے بیس کروڑ لوگوں کا ملک وسائل کی کمی کے باوجود ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ اپنی عوام کو اس مہیب خطرے سے بچایا جاسکے اس مقصد کیلئے ملک کے کونے کونے میں قرنطینہ سینٹر اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن چونکہ یہ مرض افراد میں ایک سے دوسرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالہ سے مسلسل اقدامات کررہی ہیں مساجد مندر چرچ تعلیمی ادارے شاپنگ سینٹرز ہوٹل ریستوران کارخانے کاروبار پبلک ٹرانسپورٹ جہاز ٹرین سب ہی بند کیا گیا ہے یہ ٹھیک ہے سماجی فاصلہ رکھنا اس مہلک بیماری کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے ضروری ہے اور اس کیلئے یہ سب اقدامات بھی ضروری ہیں لیکن ان اقدامات سے ایک اور بہت بڑا خطرہ جنم لے رہا ہے یہ وہی خطرہ ہے جس کی جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں اور وہ ہے بھوک ۔۔۔۔

    ہر طرح کا کاروبار زندگی مفلوج ہونے سے مزدور طبقہ تو فوری طور پر بری طرح متاثر ہوگیا اور بیروزگاری کے پہلے دن سے روز کمانے اور روز کھانے والے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے لیکن زیادہ بڑا مسئلہ گزرتے دنوں کے ساتھ سفید پوش طبقہ بھی بیروزگاری کا عفریت تلے دب کر روزی روٹی کی تنگی کا شکار ہونا ہے بھوک کے اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے
    یہ پاکستان کے عوام کی مستقل بدقسمتی ہے کہ وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سیاسی قیادت کی موقع اور مفاد پرستی کے سبب درست منصوبہ بندی کے ساتھ کئے گئے دیرپا اور دور رس اقدامات سے ہمیشہ محروم رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک میں ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار و افتراق کی صورت میں نکلتا رہا ہے آج بھی کہ جب ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے ہم قومی اتفاق رائے سے محروم ہیں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی کا زبردست فقدان ہے اس مہیب خطرے سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر زور زیادہ ہے ایسے میں پاکستانی عوام پریشان ہیں کرونا وائرس اور بھوک کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کیا راستہ اختیار کریں

    پاکستان کے عوام دنیا میں فلاحی کاموں پر شائد سب سے زیادہ خرچ کرنے والی قوم ہیں اب بھی بیشمار لوگ اس حوالہ سے میدان عمل میں موجود ہیں ماسک سینیٹائزر کھانا اور خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی ہر طرف جاری ہے لیکن اس بار ضرورت شائد اتنی زیادہ ہے کہ روایتی طریقوں سے اس آفت کا مقابلہ ممکن ہی نہیں ہے
    سب سے پہلے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اتفاق رائے سے کرونا کے مقابلے کی تحریک کو آگے بڑھائیں انفرادی طور پر کی جانے والی تمام کوششوں کو مربوط کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے کہ مستحق افراد تک کم از کم خوراک ضرور پہنچائی جاسکے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے پھندوں میں پھنسے ہمارے ملک کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سارے ملک کو بٹھا کر کھلا سکے اس کار خیر میں مخیر حضرات کو شامل کرنا انتہائ ضروری ہے لیکن سیاستدانوں پر عمومی بد اعتمادی اس کار خیر کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا پاکستان میں عوامی سطح پر احترام کیا جاتا ہے انہیں آگے لاکر ان کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے اگلا کام جو اس سے بہت زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقے جو اب تک کرونا سے محفوظ ہیں انہیں پوائنٹ آؤٹ کرکے علیحدہ کیا جائے ان میں بیرونی آمد و رفت کو سوائے اجناس کی ترسیل کے نظام کے بند کیا جائے اور پھر انہیں ہر طرح کی سرگرمی کیلئے کھولا جائے تاکہ کاروبار زندگی کو چلا کر لوگوں کی روزی روٹی کا بندوبست کیا جاسکے تمام بڑے کارخانوں اور فیکٹریز کو کھولا جائے ان میں احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام شروع کیا جائے تاکہ جہاں ہم اپنے لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرکے بھوک کا مقابلہ کرسکیں وہیں دنیا سے مہنگے داموں اشیائے ضرورت خریدنے کے بجائے اپنے پاس ان کی پروڈکشن شروع کرسکیں یہ طے ہے کہ کرونا وائرس سے نجات دنوں میں ممکن نہیں ہے چین جیسے باوسائل اور جدید ملک کو بھی اس خطرے سے نمٹتے چوتھا مہینہ ہے تو ہم جیسے معاشی طور پر کمزور اور غریب ملک کو شائد اس خطرے سے نمٹنے کیلئے زیادہ وقت درکار ہوگا اس لئے یہ ممکن نہیں کہ سارے ملک کو بند رکھ کر ملک میں بھوک سے بدحال لوگوں کا جم غفیر جمع کرلیا جائے اللہ نہ کرے بھوک کے بڑھنے سے ملک افراتفری اور انتشار کی طرف بھی جاسکتا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی جان لیجئے قیادت کی اہلیت کا اصل اندازہ ہمیشہ مشکلات میں ہوتا ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ اس کڑے وقت میں ملکی اور صوبائی قیادت اپنے اوسان قابو میں رکھے اپنی عمومی سیاسی ضروریات سے قطع نظر ہوکر ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان اور اس کی عوام کا تحفظ ممکن ہو پاکستانی قوم کو بھی اس وقت میں ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ذاتی اور انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کام کرنا ہوگا اپنے اردگرد موجود اپنے ضرورت مند پاکستانی بھائیوں کی بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مدد کرنا ہوگی مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم نے کامیابی کے ساتھ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرلیا تو ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک پائے گا

    خیر اندیش
    فیصل ندیم

  • حکومت کرونا وائرس کے مریضوں‌کی درست تعداد چھپا رہی ، فیصل ایدھی کا دعوٰی

    حکومت کرونا وائرس کے مریضوں‌کی درست تعداد چھپا رہی ، فیصل ایدھی کا دعوٰی

    حکومت کرونا مریضوں‌کی درست تعداد چھپا رہی ، فیصل ایدھی کا دعوٰی

    باغی ٹی وی :پاکستان میں کرونا کے مریضوں کی صحیح تعداد چھپائی جارہی ہے. ملک میں کرونا ٹیسٹ کی اس پیمانے پر سکریننگ نہیں کی جارہی کہ ملک میں‌موجود حقیقی کرونا متاثرین کی تعداد معلوم ہو سکے، اگر سکریننگ صحیح طریقے سے ہو تو یہ تعداد بہت زیادہ ہو. دوسری بات یہ بھی ہے کہ حقیقی تعداد چھپائی بھی جارہی ہے.

    اسی طرح جو کورونا کی وجہ سے ہلاک ہو رہے ہیں ان کی تعداد بھی درست نہیں بتائی جا رہی ہے ، حکومت مرنے والوں کی تعداد چھپا رہی ہے اس کی دلیل فیصل ایدھی کے دعوے سے بھی ہوتی ہے. فیصل ایدھی نے اس سلسلے میں بتایا کہ پورے ملک میں‌کرونا مریضوں‌کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہےسندھ سمیت پورے ملک میں یہ اضافہ تیزی سے ہو رہا ہے ، اور پنجاب میں یہ تعداد بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے. ہم روزانہ چھ سے سات کرونا مریضوں‌کو دفن کر ہے ہیں.ان حالات میں یہ بات واضح‌ ہو جاتی ہے کہ حکومت کرونا کے مریضوں اور اس وجہ سے موت کا شکار ہونے والوں کی صحیح تعداد بھی چھپا رہی ہے. یوں اس سلسے میں‌ قوم اور میڈیا کو اصل حقیقت تک پہنچنے میں مشکلات حائل ہیں ،

    واضح‌ رہے کہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ملک بھر میں کرونا کے مریضوں کی تعداد 1526 تک پہنچ گئی، پنجاب میں570، سندھ 481، خیبر پختونخوا میں 188 مریض ہو گئے، بلوچستان میں‌ 138، گلگت بلتستان میں‌ 116 اور آزاد کشمیر مکے 2 مریض‌ بھی شامل ہیں. عالمی وبا سے پچیس مریض مکمل صحت یاب اور 13 جاں بحق ہو گئے۔ پاک فوج کی جانب سے ملک بھر میں 182 قرنطینہ سنٹر قائم کئے گئے ہیں، تھائی لینڈ میں پھنسے 170 سے زائد پاکستانی وطن واپس پہنچ گئے۔
    وائرس سے اب تک28 مریض مکمل صحتیاب ہو چکے ہیں، کراچی میں کرونا وائرس سے متاثرہ 14 اور لاہور میں ایک مریض صحتیاب ہوا، معاون خصوصی صحت ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ ہرکسی نے ٹیسٹ کرانا شروع کر دیا تو وہ لوگ رہ جائیں گے جن کو زیادہ ضرورت ہے۔

  • سندھ ، کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن کے مریض سامنے آنے لگے، وزیراعلیٰ نے کیا ہنگامی اجلاس طلب

    سندھ ، کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن کے مریض سامنے آنے لگے، وزیراعلیٰ نے کیا ہنگامی اجلاس طلب

    سندھ ، کرونا کے لوکل ٹرانسمیشن کے مریض سامنے آنے لگے، وزیراعلیٰ نے کیا ہنگامی اجلاس طلب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں کورونا وائرس کے مزید 17 کیسز سامنے آگئے

    محکمہ صحت کے مطابق تمام کیسز لوکل ٹرانسمیشن کے ہیں،نئے کیسز کے بعد سندھ میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 457 ہو گئی ہے جبکہ سندھ میں ایک مریض ہلاک ہو چکا ہے

    سندھ ميں 24 گھنٹوں میں 148 ٹیسٹ کيے گئے، 17 مثبت آئے ،سندھ میں آج ٹوٹل ٹیسٹ کی تعداد 4810 ہو گئی ،تناسب کے حساب سے ساڑھے 9 فیصد لوگوں کے نتائج مثبت آئے

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کورونا وائرس سےمتعلق اجلاس طلب کرلیا،اجلاس میں کورونا وائرس کے پھیلاوَ اور لوکل ٹرانسمیشن کا جائزہ لیاجائے گا،اجلاس میں لاک ڈاوَن پر عمل درآمد کا بھی جائزہ لیا جائے گا، کرونا وائرس کے مریض کراچی، سکھر، حیدرآباد ،لاڑکانہ میں زیر علاج ہیں

    سندھ میں لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سندھ میں لاک ڈاؤں کے دوران کھلی دکانوں کو شام 5 بجے بند کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے، تمام کھلی دکانیں شام 5 بجے بند کر دی جائی گی،حکومت سندھ نے شہریوں سے گھروں سے نہ نکلنے کی اپیل کی ہے

    دوسری جانب کراچی میں لاک ڈاؤن کے دوران شہریوں کی نقل وحرکت محدودرکھنےکیلئے سٹیزن مانیٹرنگ ایپ متعارف کرا دی گئی ہے۔ ڈی آئی جی آپریشنز مقصود میمن کا کہنا ہے کہ پولیس سیکیورٹی اینڈ ایمرجنسی سروس ڈویژن نے ایپ متعارف کرائی، ایپ کا مقصد شہریوں کی نقل و حرکت محدود رکھنا ہے،ایپ چیک پوائنٹس پرافسران کےموبائل میں انسٹال ہوگی، روزانہ شہریوں کی نقل وحرکت کا ڈیٹا محفوظ کرتے رہیں گے، شہری دن میں2 سےزائد مرتبہ نقل و حرکت نہیں کرسکے گا۔

    کرونا وائرس، بھارت میں 3 کروڑ سے زائد افراد کے بے روزگار ہونے کا خدشہ

    بھارتی گلوکارہ میں کرونا ،96 اراکین پارلیمنٹ خوفزدہ،کئی سیاستدانوں گھروں میں محصور

    لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی پر کتنے عرصے کیلئے جانا پڑے گا جیل؟

    کرونا وائرس، پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلانے کا مطالبہ، رکن اسمبلی کا بیٹا بھی ووہان میں پھنسا ہوا ہے، قومی اسمبلی میں انکشاف

    کرونا وائرس سے کس ملک کے فوج کے جنرل کی ہوئی موت؟

    ٹرمپ کی بتائی گئی دوائی سے کرونا کا پہلا مریض صحتیاب، ٹرمپ نے کیا بڑا اعلان

    کرونا کیخلاف منصوبہ بندی، پاکستان میں فیصلے کون کررہا ہے

    واضح رہے کہ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، آج لاڑکانہ میں بھی کچھ مریض سامنے آئے ہیں، حیدر آباد، کراچی اور سکھر میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہے،

    کرونا کے خلاف جنگ، ملک ریاض میدان میں آ گئے، کیا اعلان کیا؟

  • کرونا کا پولیس پر بھی وار،سندھ پولیس میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    کرونا کا پولیس پر بھی وار،سندھ پولیس میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آ گیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ پولیس میں کورونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آگیا

    ترجمان سندھ پولیس کے مطابق انسپکٹر یاسین گجرکا کورونا وائرس کاٹیسٹ مثبت آیا ہے،یاسین گجرانویسٹی گیشن ساوَتھ میں خدمات انجام دے رہے ہیں، کرونا کا ٹیسٹ مثبت آنے پر انہیں آئسولیشن وارڈ میں قرنطینہ کر دیا گیا ہے

    ترجمان کے مطابق انسپکٹر کوبخاراور نزلہ زکام ہونے پرانڈس اسپتال میں داخل کیاگیا،انسپکٹر کے اہلخانہ اورساتھ کام کرنے والوں کو مانیٹر کیا جارہاہے، ان کے بھی ٹیسٹ کروائے جائیں گے.آئی جی سندھ نے شعبہ ویلفیئر کومتاثرہ افسر کے  علاج کیلئے اقدامات کی ہدایت کی ہے.

    واضح رہے کہ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم سعید غنی میں بھی کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی تھی، سندھ میں کرونا وائرس کے 440 مریض ہیں، آج لاڑکانہ میں بھی کچھ مریض سامنے آئے ہیں، حیدر آباد، کراچی اور سکھر میں مریضوں کی تعداد زیادہ ہے،

    پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو رہا ہے، مریضوں کی تعداد 1315 تک پہنچ گئی ہے،پنجاب میں کورونا وائرس کے 23کیسز سامنے آگئے،ترجمان پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کیئر کے مطابق پنجاب میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 448 ہو گئی ہے

    پنجاب میں سب سے زیادہ کرونا وائرس کے مریض سامنے آ چکے ہیں، اس سے قبل سندھ میں سب سے زیادہ تھے، اب سندھ میں مریضوں کی تعداد 440 ہے،کے پئ میں 180، بلوچستان میں 131، گلگت میں 91 اور اسلام آباد میں 27 مریض ہیں جبکہ آزاد کشمیر میں کرونا وائرس کے 2 مریض ہیں.

    کرونا وائرس کے سات مریضوں کی حالت تشویشناک ہے،23 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں، کرونا وائرس کے 10 مریضوں کی ہلاکت ہو چکی ہے، جس میں سے پنجاب میں 4، کے پی میں 3، سندھ، بلوچستان، اور گلگت مین ایک ایک مریض کی ہلاکت ہوئی ہے، 23 مریض صحتیاب ہو چکے ہیں

  • سندھ میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ، لاک ڈاؤن مزید سخت کرنیکی ہدایات

    سندھ میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ، لاک ڈاؤن مزید سخت کرنیکی ہدایات

    سندھ میں کرونا کے مریضوں میں اضافہ، لاک ڈاؤن مزید سخت کرنیکی ہدایات

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ ہو گیا ہے

    سندھ میں کورونا وائرس کےمزید 11کیسز سامنے آگئے،کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد 440 ہوگئی،نئے کیسز لاڑکانہ اور حیدرآباد میں سامنے آئے،ان 440 کیسز میں 151 سکھر فیز ون، 114 سکھر فیز ٹو اور 7 لاڑکانہ میں رکھے گئے زائرین شامل ہیں

    قبل ازیں وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدارت لاک ڈاؤن کے حوالے سے اجلاس ہوا،وزیر اعلیٰ نے آئی جی سندھ کو لاک ڈاؤن کو مزید سخت کرنے کی ہدایت کردی، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عوام کو لاک ڈاؤن اور حکومتی فیصلوں کا احترام کرنا ہوگا مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ دکھ کے ساتھ کیا شہریوں سے اپیل ہے اپنے اور خاندان کے لئے لاک ڈاؤن پر عمل کریں لاک ڈاؤن مزید موثر کرنا ہے لوگ ابھی تک شہر میں گھوم رہے ہیں،

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا مزید کہنا تھا کہ ہم نے خوشی سے نہیں بلکہ تکلیف سے مساجد میں جماعت کو بہت محدود کروایا ہے، میں نے خود گھر میں جمعۃ المبارک کی نماز مسجد سے پیش امام کی آنے والی آواز سے ادا کی، یہ فیصلہ عوا کی صحت کے پیش نظر علماء کی مشاورت سے کیا، عوام کو ایک مرتبہ ان کے اپنے بچوں او ر خاندان سمیت صوبے اور ملک کے عوام کی صحت کی خاطر لاک ڈائون پر عمل کرنے کی درخواست کرتا ہوں