Baaghi TV

Category: کراچی

  • آئی جی سندھ کا تبادلہ، عدالت نے دیا سندھ حکومت کو بڑا جھٹکا

    آئی جی سندھ کا تبادلہ، عدالت نے دیا سندھ حکومت کو بڑا جھٹکا

    آئی جی سندھ کا تبادلہ، عدالت نے دیا سندھ حکومت کو بڑا جھٹکا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ کلیم امام کا تبادلہ فی الحال روک دیا،عدالت نے حکم دیا کہ جب تک اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جواب نہیں آتا کلیم امام آئی جی سندھ رہیں گے

    عدالت نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے آئی جی کی تبدیلی کے خط کا جواب نہیں ملا،صوبے اور وفاق کی مشاورت کے بعد آئی جی تبدیل ہوگا ،اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کےجواب تک کلیم امام آئی جی سندھ رہیں گے

    سندھ ہائی کورٹ نے آئی جی سندھ کا تبادلہ وفاق کی اجازت سے مشروط کر دیا.

    آئی جی سندھ کليم امام کی تبديلی کے معاملے پر وفاقی حکومت نے سندھ حکومت کے خط کا جواب دے ديا۔

    وفاق کی جانب سے سندھ حکومت جوابی خط میں کہا گیا ہے کہ سندھ حکومت کی درخواست پر غور جاری ہے، حتمی فيصلے تک کليم امام عہدے پر کام کرتے رہيں گے، فيصلے تک ايڈيشنل آئی جی کو چارج نہیں دیا جا سکتا۔

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ تنقید کا سامنا پولیس کو نہیں سیاسی حضرات کو اور حکومت وقت کو کرنا پڑتا ہے، وزیراعظم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا، 23 دسمبر کو وزیراعلیٰ وزیراعظم کی ملاقات میں باہمی رضا مندی کے بعد تبادلے کی بات ہوئی، وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو آئی جی سندھ سے متعلق تحفظات سے آگاہ کیا، کرائم بڑھا ہے اس کی روک تھام کے لئے آئی جی نے کوئی پیشرفت نہیں کی اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جو خطوط لکھے گئے تھے انکا کوئی جواب نہیں دیا گیا اسلئے آئی جی سندھ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیاسی نہیں بنانا چاہتے۔ پولیس کے کمانڈر کو سیاسی بیانات نہیں دینے چاہیں۔ وزرا کا کہنا تھا کہ جس ایس ایس پی یا پولیس افسر کو سیاست کا شوق ہے، وہ سیاست کرے

    وزیر اطلاعات سعید غنی نے کابینہ اجلاس کے بعد کہا کہ  صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر ہماری میٹنگ ہوئی جو آئی جی کلیم امام کی تبدیلی تھا۔ کابینہ نے ان کو ہٹانے کی منظوری دیدی ہے۔ آئی جی سندھ کلیم امام نے غیر ذمہ دارانہ بیانات بھی دیئے۔ آخری خط میں انھیں بتا دیا گیا تھا کہ آپ قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو اگر کوئی افسر لینا ہو یا دینا ہو تو صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ سندھ میں لا ان آرڈر کی صورتحال خراب ہو گئی ہے۔ کلیم امام کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کی جانی چاہیے۔

  • عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    عالمی یوم تعلیم امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے نام منسوب

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکی جیل میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ہمشیرہ اور عافیہ موومنٹ کی رہنما ڈاکٹر فوزیہ صدیقی نے عافیہ کے حوالہ سے چپ حکمرانوں کی ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جوزف کی رہائی میں امریکی فرمانبرداری کو شرمناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عافیہ تعلیمی شعبے میں ملک اور قوم کی خدمت کرنا چاہتی تھی، اس نے فزکس، کیمسٹری یا بایولوجی میں نہیں بلکہ تعلیم کے شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ہے۔ عافیہ کی پی ایچ ڈی کا مقالہ بچوں میں ذہنی برداشت کی قوت بڑھا کر ان کی تعلیمی قابلیت میں اضافہ کرنا تھا۔

    وہ قوم کی بیٹی ڈاکٹر عافیہ سے اظہار یکجہتی کیلئے گلشن اقبال میں واقع ان کی رہائش گاہ پر مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی آمد کے موقع پر گفتگو کررہی تھیں۔جن میں سابق ڈپٹی سیکریٹری ایجوکیشن ڈاکٹر کاشف شاہ، معروف سماجی رہنما انجینئر وسیم فاروقی، فہیم برنی، عبدالستار، شاعرہ ہما عزمی، تعلیمی شعبہ سے وابستہ پروفیسر ڈاکٹر سردار احمد نازش، پروفیسر تنویر ملک ، نفیس احمد خان ، شفیق احمد عباسی ، ڈاکٹر ضیاء الرحمان فاروقی، مہربان علی خان اور نایاب ویلفیئر آرگنائزیشن کے صدر کمال میمن اور مسز نایاب کمال شامل تھے۔

    اس موقع پر ڈاکٹر عافیہ کی والدہ عصمت صدیقی بھی موجود تھیں۔میٹنگ کے شرکاء نے ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست سے رہائی اور وطن واپسی میں تاخیر کو بلاجواز قرار دیتے ہوئے شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کہا کہ جب بھی ڈاکٹر عافیہ کی امریکی حراست سے رہائی کا معاملہ سامنے آتا ہے ، اس وقت ہمیں ریمنڈ ڈیوس اور کرنل جوزف کی رہائی میں حکمرانوں اور انتظامیہ کی امریکی فرمانبرداری شرمندہ کردیتی ہے۔

    انہوں نے تجویز پیش کی کہ 24 جنوری، 2020 ء کا ”عالمی یوم تعلیم” عافیہ سے منسوب کرکے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔ جس پر اتفاق رائے سے پروفیسر تنویر ملک، انجینئر وسیم فاروقی، کمال میمن اور فہیم برنی پر مشتمل چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو کہ تقریبات کے انعقاد کیلئے انتظامات کرے گی۔

    جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکی قید سے رہائی کے لیے قرارداد سینیٹ سیکریٹریٹ میں جمع کرا دی ہے،

    سینیٹ سیکرٹریٹ‌ میں جمع کروائی گئی قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ "یہ  ایوان  پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی امریکہ میں ناحق قید کے 16 اسال مکمل ہونے پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ یہ ایوان اس امر پر بھی افسوس کا اظہار کرتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے گزشتہ سالوں میں حکومتوں کی طرف سے کئی مواقع ضائع کیے گئے۔

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ یہ ایوان حکومت کی توجہ سینیٹ آف پاکستان کی قرارداد نمبر 399 مورخہ 15 نومبر 2018ء کی طرف مبذول کراتا ہے جوکہ متفقہ طور پر منظور کی گئی تھی اور جس میں سفارش کی گئی تھی کہ ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کے لیے حکومت ٹھوس اقدامات اٹھائے، اسی طرح یہ بھی کہا گیا کہ سینیٹ کا یہ ایوان گزشتہ سال قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی قائمہ کمیٹی میں چیئرمین نیب کی طرف سے اس بیان پر کہ ”مشرف دور میں چار ہزار افراد ڈالرز لے کر بیرونِ ملک کے حوالے کیے گئے“ کی تحقیق کا بھی مطالبہ کرتا ہے۔

    قرارداد کے متن میں کہا گیا ہے کہ چیئرمین نیب کا یہ بیان اُس خدشے کو تقویت دیتا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو بھی ڈالرز کے عوض امریکہ کے حوالے کیا گیا۔ سینیٹ آف پاکستان کا یہ ایوان یاددہانی کراتا ہے کہ مورخہ 21اگست 2008  قومی اسمبلی کے ایوان میں موجودہ وزیر خارجہ جو کہ اسوقت بھی وزیر خارجہ تھے،ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کے لیے متفقہ قرارداد منظور کروا چکے ہیں۔

    یہ ایوان وزیر اعظم پاکستان کے آئندہ طے شدہ دورہ امریکہ کے موقع پر ڈاکٹر عافیہ کی رہائی کو ترجیحِ اول کے طورپر رکھنے کا مطالبہ کرتا ہے اور اُمید کرتا ہے وزیر اعظم پاکستان قوم سے اپنے کیے گئے انتخابی وعدہ کو پورا کرتے ہوئے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس لانے کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کریں گے۔

    ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے صاحبزادے حافظ احمد نے نماز تراویح میں قرآن مکمل کر لیا

  • ہمارے کارکنوں کو تحفظ ناموس رسالت پر پہرے داری کی سزادی جارہی ہے،تحریک لبیک پاکستان

    ہمارے کارکنوں کو تحفظ ناموس رسالت پر پہرے داری کی سزادی جارہی ہے،تحریک لبیک پاکستان

    کراچی:تہمارے کارکنوں کو تحفظ ناموس رسالت پر پہرے داری کی سزادی جارہی ہے، ان خیالات کا اظہارحریک لبیک یارسول اللہ پاکستان (ٹی ایل پی) کے سندھ اسمبلی میں پارلیمانی لیڈر مفتی قاسم فخری ،یونس سومرو اور ثروت فاطمہ نے راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت سے ٹی ایل پی کے کارکنوں کو ہزاروں سال قید کی سزا پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے کارکنوں کو تحفظ ناموس رسالت پر پہرے داری کی سزادی جارہی ہے ۔

    اس طرح کی سزا کی مثال دنیا کے کسی معاشرے میں نہیں ملتی ہے ۔ہم ملکی اداروں اور عدالتوں کا احترام کرتے ہیں لیکن اس طرح کے فیصلوں سے یہ تاثر جائے گا کہ اس ملک میں طاقتور وں کے لیے الگ اور کمزوروں کے لیے الگ قانون ہے ۔ٹی ایل پی اپنے کارکنوں کو انصاف دلانے کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرے گی۔ہفتہ کو جاری مشترکہ بیان میں ٹی ایل پی کے ارکان سندھ اسمبلی نے کہا کہ امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی کے بھائی اور بھتیجے سمیت 86کارکنوں کو مجموعی طور پر 4738سال قید ایک کروڑ تیس لاکھ روپے سے زائد جرمانہ اور تمام منقولہ وغیرمنقولہ جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ انصاف کا خون ہے ۔

    انہوں نے کہا کہ ہمارے کارکن نہ کسی پر حملہ آور ہوئے تھے اور نہ ہی انہوںنے کسی کا قتل کیا ۔انہوںنے کہا کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے مجرم آج تک آزاد ہیں ، جلا ؤگھیراؤ،پی ٹی وی اور پارلیمنٹ پر حملے کا ملزم اس وقت ملک کا وزیراعظم ہے ۔ آئین توڑنے والا آمر ملک سے باہر بیٹھا ہے ۔کراچی کی سڑکوں پر خون کی ہولی کھیلنے اور وکلاء کو زندہ جلانے والے آج تک آزاد ہیں لیکن آئین پاکستان پر عملدرآمد کروانے کے لئے احتجاج کرنے پر تحریک لبیک کے امیر کے بھائی و دیگر مسلمانوں کو دہشتگردی کے ناجائز مقدمات چلا کر قید کردیا گیا ہے ۔ٹی ایل پی کے ارکان سندھ اسمبلی نے کہاکہ ملکی اداروں اور عدالتوں کا احترام ہم سے زیادہ کوئی نہیں جانتا ہے ۔ہم عدالتوں کا احترام کرتے ہیں مگر ایسے فیصلے جو غیر انسانی،غیر شرعی اور آئین کے منافی ہوں قبول نہیں کرینگے ۔

    اے ٹی سی کے فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدلیہ کے دروازے پر دستک دینا ہمارا قانونی وآئینی حق ہے،پاکستان کی تاریخ میں کسی دہشتگرد اور آئین شکنی کرنیوالوں کو کبھی ایسی سزا نہیں دی گئی،ملک کی اکثریت سمجھتی ہے کہ یہ سزاآئین وقانون کی روشنی میں نہیں منشا پر سنائی گئی ہے۔ٹی ایل پی کے رہنماؤں نے کہا کہ ملک میں اسلامی شعائر کا مذاق اڑانے کے لیے اسلام دشمن قوتیں سرگرم ہیں ۔حال ہی میں ایک”زندگی تماشہ” کے نام سے ایک فلم بنائی گئی ہے جسے رواں ماہ ہی ریلیز کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔

    اس فلم میں مذہبی شعائر کو نشانہ بناکر ایک بار پھر ملک کو نئی کشمکش میں مبتلا کرنے کی تیاری کی جارہی ہے ۔تحریک لبیک پاکستان گزشتہ تین ماہ سے حکومتی اداروں کی توجہ سے اس فلم کی جانب سے دلارہی ہے لیکن اب تک اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا ۔فلم کی ریلیز نہ روکنے کے خلاف 22جنوری کو ملک بھر تحفظ ناموس ریلیاں نکالی جائیں گی جبکہ مرکزی ریلی لاہور میں داتادربار سے پنجاب اسمبلی تک نکالی جائے گی ،جس سے امیر المجاہدین علامہ خادم حسین رضوی اور دیگر رہنما خطاب کریں گے۔

  • ایم کیو ایم پھر نہ مانی، جہانگیر ترین کو بھی ہوئی ناکامی، اگلے مذاکرات کب ہوں گے؟ اعلان کر دیا

    ایم کیو ایم پھر نہ مانی، جہانگیر ترین کو بھی ہوئی ناکامی، اگلے مذاکرات کب ہوں گے؟ اعلان کر دیا

    ایم کیو ایم پھر نہ مانی، جہانگیر ترین کو بھی ہوئی ناکامی، اگلے مذاکرات کب ہوں گے؟ اعلان کر دیا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعظم عمران خان کی بنائی گئی حکومتی کمیٹی نے ایم کیو ایم مرکز کا دورہ کیا، خالد مقبول صدیقی کو کابینہ میں واپسی کی پیشکش کی لیکن وہ نہ مانے جس کے بعد مذاکرات کے اگلے دور پر اتفاق کے بعد حکومتی کمیٹی اور اتحادی جماعت نے پریس کانفرنس کی

    ایم کیو ایم پاکستان کے عارضی مرکز بہادرآباد پر پاکستان تحریک انصاف کا اعلی سطحی وفد وفاقی وزیر دفاع پرویز خٹک کی سربراہی میں ایم کیو ایم پاکستان کے صدر دفتر میں ملاقات کی۔تحریک انصاف کے وفد میں جہانگیر ترین،وفاقی وزیر اسد عمر،ارباب شہزاد،سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیدر فردوس شمیم نقوی،اراکین سندھ اسمبلی خرم شیر زمان،حلیم عادل شیخ،جمال صدیقی،حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے رکن ارباب شہزاد اور دیگر بھی موجود تھے جبکہ ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی،سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان،ڈپٹی کنوینرزنسرین جلیل،کنور نوید جمیلو اراکین رابطہ کمیٹی ملاقات میں موجود تھے۔ایم کیو ایم پاکستان کے رکن رابطہ کمیٹی و ممبر قومی اسمبلی سید امین الحق اراکین رابطہ کمیٹی فیصل سبزواری،ابو بکر صدیقی،ارشاد ظفیر،شکیل احمد،زاہد منصوری،راشد سبزواری و دیگر نے پی ٹی آئی کے وفد کا استقبال کیا

    سہ پہر چار بجے سے شروع ہونے والی ملاقات بغیر کسی وقفے کے چھ بجے تک جاری رہی۔بعد ازاں نماز مغرب کے بعد میڈیا نمائندگان سے پی ٹی آئی کے وفد کے سربراہ پرویز خٹک اور ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مشترکہ گفتگوکی۔

    کنوینر ایم کیو ایم پاکستان ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا اہم وفد آج ایم کیو ایم کے مرکز آیا ہے جو جسے ہم نے دل سے خوش آمدید کہا وفد بہت یقین کے ساتھ آیا اور ہم نے امیدوں کے ساتھ ان کا انتظار کیا ہماری گفتگو مثبت رہی ہے اور ہم نے پی ٹی آئی کی حکومت کی حمایت کی تھی اور اس وعدے کو نبھاتے آئے ہیں ہم نے اتحاد کرتے وقت انہیں شہری سندھ کے تمام مسائل سے آگا ہ کیا تھا،ہم نے اپنا نکتہ نظر پی ٹی آئی کے سامنے رکھا تھا جس پر اتفاق ہواجو بعد میں تیرہ نکاتی معاہدوں کی شکل میں سامنے آگیا۔ہم نے کوئی بھی معاہدہ اپنی ذات کیلئے نہیں کیا بلکہ خالصتاعوام کے مفاد میں کئے گئے نکات تھے کیونکہ گیارہ سال سے سندھ کے شہری علاقوں کے ساتھ معاشی دہشت گردی کی جارہی تھی اٹھارویں ترمیم کے ذریعے دھوکہ دیا گیا اختیارات کو نچلی سطح تک منتقل کرنے کے بجائے ان پر قبضہ کر لیا گیا ہم نے باور کیا ہے کہ سندھ کے شہری علاقے نزاع کے عالم میں ہیں انہیں آئی سی یو سے نکالا جائے ہم صرف سندھ کے شہری عوام کا نہیں بلکہ پاکستان بھر کی عوام کا مقدمہ لڑ رہے ہیں۔ کراچی نے وفاق کو 65فیصد سے ذائد ٹیکس دیا ہے ہمیں اسی میں سے ہمارا جائز حصہ دے دیا جائے۔

    وفاقی وزیر دفاع اور مذاکراتی کمیٹی کے سربراہ پرویز خٹک نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان اوروفاقی حکومت کے درمیان کوئی ناراضگی نہیں ہے، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا وفاقی کابینہ سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کے بعد جو غلط فہمیاں پھیلادی گئی تھیں مختلف معاملات پر بات کرنے کے علاوہ ہم ان ابہام کو بھی دور کرنے آئے تھے ایم کیو ایم کے پیش کردہ تمام نکات پر سحر حاصل گفتگو ہوئی ہے جس پر ہم کافی نکات پر ہم میں انفاق رائے ہوگیا ہے اور جلد اسلام آباد میں دوسرا سیشن ہوگا جس کے بعد آپ خوش خبریاں سنیں گے۔

    انہوں نے کہا کہ آج کے اجلاس میں ہم نے ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی سے وفاقی کابینہ میں واپس آنے کی درخواست کی ہے اور ایم کیو ایم ہماری اتحادی ہے اور رہے گی ہم اپنا ٹرن اوور ایک ساتھ مکمل کریں گے۔ میڈیا نمائندگان کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے دونوں رہنماؤں نے باور کیا کہ جمہوریت کے استحکام اور اتحادیوں کی شکایات کو دور کرنے کیلئے رابطوں کا سلسلہ جاری رہے گا۔

    مذاکراتی کمیٹی کے رکن جہانگیر ترین نے صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ہم جھوٹے وعدے نہیں کررہے عملی کام کرکے دکھائیں گے۔

  • وزیراعظم کا "میڈیکل” کروائیں، آئی جی سندھ کونسا کام کریں؟ سعید غنی برس پڑے

    وزیراعظم کا "میڈیکل” کروائیں، آئی جی سندھ کونسا کام کریں؟ سعید غنی برس پڑے

    وزیراعظم کا "میڈیکل” کروائیں، آئی جی سندھ کونسا کام کریں؟ سعید غنی برس پڑے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سندھ کے وزیر اطلاعات و محنت سعید غنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی پہچان ہمیشہ پڑھے لکھے لوگ رہے ہیں، شہر میں تقافتی سرگرمیوں کی بحالی میں پی پی پی کے کارکنان کا خون شامل ہے۔

    ان خیالات کا اظہار پی پی پی کراچی کے صدر اور سندھ کے صوبائی وزیر سعید غنی نے کراچی آرٹس کونسل میں طلبہ کے طرف سے منعقدہ فن پاروں کی نمائش کے دورے کے بعد میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کیا۔ وہ ہفتے کی صبح آرٹس کونسل پہنچے، جہاں نمائش کے دورے سے پہلے آرٹس کونسل کی نئ زیر تعمیر عمارت و فائن آرٹس اسکول کا دورہ کیا۔

    دورے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے دعوہ کیا کہ پولیس کے چند افسران ساذشوں میں مصروف ہیں۔ گذشتہ تین دن میں جو کچھ چند پولیس افسران بشمول آئی جی کلیم امام نے کیا، اس سے عوام میں یہ ہی تاثر جارہا ہے کہ سندھ کابینہ کا آئی جی کو ہٹانے کا فیصلہ درست تھا۔ جو میرے اور امتیاز شیخ کے خلاف جھوٹی خبریں چلو رہے ہیں، ان سے اس گھناونی ساذش کا آزالہ بھی کروائیں گے، ہم جھوٹوں کو انکے گھر تک چھوڑ کر آئیں گے۔

    پی ٹی آئی کے حلیم عادل شیخ کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ میں ہر قسم کی انکوئری کا سامنا کرنے کیلئے تیار ہوں، حلیم عادل شیخ میرا اور وزیر اعظم عمران خان کا بھی منشیات استعما ل کرنے کا میڈیکل کروائیں اور میں یہ بھی کہتا ہوں کہ حلیم عادل شیخ پر آج تک جو الزامات لگتے رہے اور میرے پر جو الزام حلیم عادل شیخ لگا رہے ہیں، دونوں پر لگنے والے الزامات کی بھی عدالتی تحقیقات ہو تو میں تیار ہو ۔

    آئی جی سندھ کی مختلف میڈیا نمائندوں سے ملاقاتوں کے سوال پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کلیم امام اور چند پولیس آفسر اس طرح کے کاموں میں ملوث ہیں، بیشتر ہولیس افسران ایمانداری سے اپنا کام انجام دے رہے ہیں جبکہ چند افراد کا ٹولہ کلیم امام کی سربرائی میں ساذش میں مصروف ہے، اگر انھیں میڈیا اور سیاست کا شوق ہے تو ضرور کریں مگر پولیس کی وردی اتار کر پی ٹی آئی یا کسی جماعت میں شمولیت اختیار کرلیں ناکہ سرکاری کام انجام دیتے ہوئے سیاسی جماعت کیلئے کام کرتے رہیں۔آئی جی سندھ کے تبدیلی میں عمران خان کی رضامندی شامل ہے مگر پی ٹی آئی سندھ کے چند رہنما جن کی روزی روٹی آئی جی سندھ اور ان کے کرتا دھرتا چند آفسران کی مرہون منت ہے وہ کیلم امام کو ہٹائے جانے پر پریشان ہیں، جھوٹی اور من گھڑت خبریں چلو کر اپنے من کو تسلیاں دے رہے ہیں۔

    ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر سعید غنی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے پی پی پی سے پانچ بار اتحاد صرف پیٹرول کی قیمت بڑھنے پر ختم کیا حالانکہ اس وقت عالمی منڈی میں ہیٹرول کی قیمت لگ بھگ 140 سے 150 ڈالز فی بیرل تھی جو آج 70 ڈالر ہے اور کچھ عرصہ پہلے تک 60 ڈالر فی بیرل تک تھی۔ مگر آج پاکستان میں مہنگائی اور تیل کی قیمتیں تاریخی بلندیوں کو چھو رہی ہیں اور درجنوں بار بجلی، گیس اور تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوچکا لیکن عوامی مسائل ایم کیو ایم کی ترجیح نہیں، آج پی ٹی آئی پنجاب کے صوبائی جنرل سیکریٹری خود یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی دور میں بدعنوانی میں کئیں گناہ اضافہ ہوگیا۔ آج عمران خان کے سارے اتحادی یہ کہتے پائے جارہے ہیں کہ بدعنوانی اور مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے ہمارے دور میں کسی بھی اتحادی نے ایسے دعوے نہیں کیے جو آج کی حکومت کے اتحادی کر رہے ہیں کہ آئے روز مہنگائی بیروزگاری اور کرپشن میں اضافہ ہورہا ہے۔

  • حکومتی کمیٹی کی ایم کیو ایم مرکز میں ملاقات جاری، جہانگیر ترین نے خالد مقبول صدیقی کو کیا کہا؟

    حکومتی کمیٹی کی ایم کیو ایم مرکز میں ملاقات جاری، جہانگیر ترین نے خالد مقبول صدیقی کو کیا کہا؟

    حکومتی کمیٹی کی ایم کیو ایم مرکز میں ملاقات جاری، جہانگیر ترین نے خالد مقبول صدیقی کو کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی وفد ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد پہنچ گیا،پی ٹی آئی وفد میں جہانگیرترین ،اسدعمر اور پرویز خٹک شامل ہیں،حلیم عادل شیخ،فردوس شمیم نقوی اورخرم شیرزمان بھی ہمراہ ہیں، حکومتی وفد کی ایم کیو ایم رہنماؤں سے ملاقات جاری ہے.

    جہانگیر ترین نے خالد مقبول صدیقی کو دوبارہ وزارت لینے کی پیشکش کی جس پر خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ ملک کی خدمت کریں گے اس کے لئے وزارت کی ضرورت نہیں،کابینہ میں شامل ہونا ہمارا مسئلہ نہیں، ہمارے مسائل اہم ہیں،

    جس پر پرویز خٹک نے کہا کہ خالد بھائی مسائل واقعی اہم ہیں، ہمیں وزیراعظم نے اسی لئے بھیجا ہے،جہانگیر ترین نے کہا کہ ایم کیو ایم کے مسائل واقعی حقیقی ہیں جن کو حل کرنے میں تھوڑا وقت لگے گا،فوری مسائل حل نہیں ہو سکتے، کچھ وقت لگے گا، جہانگیر ترین نے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کروائی

    خالد مقبول صدیقی نے ایم کیو ایم کے دفتر کھولنے کا بھی کہا جس پر جہانگیر ترین نے کہا کہ آپ وزارت لیں اور آئیں ملکر ملک کی خدمت کریں. ملاقات میں ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے اراکین بھی موجود ہیں، ایم کیوایم کےعامرخان،کنورنویدجمیل ملاقات میں شریک ہیں، فیصل سبزواری،امین الحق،نسرین جلیل،محمدحسین بھی موجود ہیں ، ملاقات کے بعد میڈیا سے بھی بات چیت متوقع ہے

  • آٹے کا بحران، مولانا بخش چانڈیو بھی میدان میں آ گئے ،کیا کہا؟

    آٹے کا بحران، مولانا بخش چانڈیو بھی میدان میں آ گئے ،کیا کہا؟

    آٹے کا بحران، مولانا بخش چانڈیو بھی میدان میں آ گئے ،کیا کہا؟

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلزپارٹی کے سینیٹر مولابخش چانڈیو نے کہا ہے کہ خان صاحب نے آئی ایم ایف کی ہرشرط مان کرغریب سے نوالاچھینا،آٹے کابحران اورمہنگائی نااہل حکومت کا تحفہ ہیں،

    سینیٹر مولا بخش چانڈیو کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے ملک کوبحرانوں اورعوام کوبدحالی سے دوچارکیا،خان صاحب نے اقتدارسنبھالتے ہی بجلی،گیس اورپٹرول کی قیمت بڑھائی،وزرا عوام کے خیرخواہ ہیں اورنہ ہی وزیراعظم کے ، آئی ایم ایف کی شرط پرمہنگائی آٹے کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ بنی۔

    چین کی سلامتی کونسل میں کشمیر پر حمایت، اسد قیصر بھی میدان میں آ گئے، کیا کہا؟

    ‎15 روپے کی روٹی اور 20 روپے کے نان کے بعد آٹے کا بحران. مریم اورنگزیب نے کی کڑی تنقید

    وزیر اعظم نے آٹا مہنگا ہونے کا نوٹس لے لیا اور جہانگیر ترین اور خسرو بختیار کو آٹے کی قیمتوں کو کم کرنے کا ٹاسک دیدیا ۔ معلوم ہوا کہ پنجاب میں گندم بحران شدت اختیار کرگیا ،صوبائی دارالحکومت سمیت پنجاب کے متعدد شہروں میں آٹے کی قلت شدت اختیار کرگئی۔ بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مافیا نے پنجاب کی غلہ منڈیوں میں مصنوعی قلت پیدا کر کے گندم کی قیمت2200روپے فی من کردی ۔ گندم کی قیمتوں میں اضافے کا جواز بنا کر آٹا چکی مالکان ایسوسی ایشن نے دیسی آٹے کی قیمت میں رواں ماہ دوسری بار اضافہ کردیا۔

  • اتحادیوں کو منانے کا مشن، جہانگیر ترین کی ہوئی گورنرہاؤس سندھ میں اہم ملاقات

    اتحادیوں کو منانے کا مشن، جہانگیر ترین کی ہوئی گورنرہاؤس سندھ میں اہم ملاقات

    اتحادیوں کو منانے کا مشن، جہانگیر ترین کی ہوئی گورنرہاؤس سندھ میں اہم ملاقات
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حکومتی اتحادیوں کو منانے کا مشن، تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر ترین کراچی پہنچ گئے، ایئر پورٹ پر پی ٹی آئی رہنماؤں نے انکا استقبال کیا، جہانگیر ترین خصوصی پروٹوکول میں ایئر پورٹ سے گورنر ہاؤس پہنچے جہاں انہوں نے تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی اور پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی.

    جہانگیرترین نےآئی جی سندھ کی تبدیلی کےمعاملےپروفاقی حکومت کاپیغام پہنچایا، جہانگیر ترین کی گورنر سنھ سے بھی ملاقات ہوئی، جہانگیر ترین آج ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد جائیں گے جہاں خالد مقبول صدیقی و دیگر سے ملاقاتیں کریں گے.

    خالد مقبول صدیقی کا استعفیٰ اگرچہ ابھی تک قبول نہیں ہوا،انہیں منانے کی کوشش کی جار ہی ہے، وزیراعظم نے اتحادی جماعتوں کو منانے کے لئے کمیٹی تشکیل دی تھی جو متحرک ہے، کمیٹی کی سب اتحادی جماعتوں سے ملاقاتیں ہو چکی ہیں، ق لیگ نے بھی اپنے تحفظات کے اظہار کئے، جی ڈی اے اور مینگل پارٹی نے بھی خدشات ظاہر کئے، جن کو یقین دہانیاں کروائی گئیں کہ ان کے مطالبات پورے ہوں گے.

    اب حکومتی کمیٹی بہادرآباد جائے گی جہاں خالد مقبول صدیقی سے استعفیٰ واپس لینے کا کہے گی

    دو روز قبل ایم کیو ایم کو منانے وفاقی وزیر اسد عمر وفد کے ہمراہ ایم کیو ایم کے بہادرآباد پہنچے جہاں ایم کیو ایم کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے ان سے ملاقات کی۔ ایم کیو ایم نے حکوتی وفد کے سامنے خوب گلے شکوے کئے اور شکایتوں کے انبار لگا دیئے،

    اسد عمر نے خالد مقبول صدیقی کو منانے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانے اور اپنے استعفیٰ پر قائم رہے، خالد مقبول صدیقی نےا سدعمر سے کہا کہ جب مطالبات پورے ہوں گے پھر دیکھیں گے. ابھی تک استعفیٰ ہی رہے گا، وزارت واپس نہیں لوں گا.

    خالد مقبول صدیقی کی اپنی کارکردگی کیا ہے؟ فاروق ستار نے اٹھائے سوالات

    اتحادی جماعت کے رکن کا وزارت سے استعفیٰ، حکومت نے کس سے رابطہ کر لیا؟ اہم خبر

    حکومت کرنا آسان نہیں، جہانگیر ترین نے پنجاب کے حوالہ سے بڑے خدشے کا اظہار کر دیا

    واضح رہے کہ کنوینرایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزارت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا،

    وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ اجلاس میں کہا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات درست ہیں ،ایم کیو ایم کے جائز تحفظات دور کیےجائیں گے،تمام اتحادیوں کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں گزشتہ روزخالدمقبول صدیقی سےرابطہ کیا،خالدمقبول صدیقی کے تحفظات تفصیل سے سنے،خالد مقبول صدیقی کا کوئی مطالبہ غلط نہیں لگا،کراچی کی پوری اونر شپ لیں گے،

  • پاک بحریہ کے جہازوں کا افریقی ممالک کا دورہ، کہاں پہنچ گئے؟

    پاک بحریہ کے جہازوں کا افریقی ممالک کا دورہ، کہاں پہنچ گئے؟

    پاک بحریہ کے جہازوں کا افریقی ممالک کا دورہ، کہاں پہنچ گئے؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق خیرسگالی کا پرچم لہراتے اور افریقی ممالک میں پاکستان کا وقار بلند کرتے پاک بحریہ کے 2 جہاز دورے کے اختتامی مرحلے میں سیچلز پہنچے، سیچلز کی بندرگاہ وکٹوریہ آمد پر پاک بحریہ کے جہاز معاون اور اصلت کا میزبان حکام نے شاندار استقبال کیا۔

    پاک بحریہ کے جہازوں کی بین الاقوامی مشقوں میں شرکت

    مادر وطن کی سمندری سرحدوں اور ساحلوں کے دفاع کے لیے تیار ہیں، سربراہ پاک بحریہ

    پاک بحریہ کے سربراہ کا کریکس اور کوسٹل ایریا میں پاک بحریہ کی تنصیبات کا دورہ

    پاک بحریہ کے ترجمان کی طرف سے جاری بیان کے مطابق پاک بحریہ کے مشن کمانڈر نے سیچلز کے نائب صدر، چیف آف ڈیفنس فورسز اور دیگر اعلی حکام سے اہم ملاقاتیں کیں اور باہمی دلچسپی کے امور بشمول دوطرفہ بحری تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا۔ مشن کمانڈر نے امیرالبحر کا سیچلز کے عوام بالخصوص سیچلز کوسٹ گارڈ کیلئے خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔

    پاکستان نیوی کا بلوچستان کی عوام کے لئے شاندار کام، عوام کی دعائیں

    پاکستان نیوی کے صف اول کے جنگی جہاز کا دورہ سعودی عرب

    پاک بحریہ کا خشکی سے بحری جہاز کو نشانہ بنانے والے میزائل کا کامیاب تجربہ

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق اس موقع پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم اور اس پر پاکستانی موقف سے بھی میزبان حکام کو آگاہ کیا گیا۔میزبان حکام نے خطے میں سمندری تحفظ کے لیے پاک بحریہ کی کاوشوں کو سراہا۔ مشن کمانڈر اور کمانڈنگ آفیسرز نے وکٹوریہ میں نادار بچوں کی کفالت کے لیے قائم ادارے کا خیر سگالی دورہ کیا اور بچوں میں تحائف تقسیم کیے۔

    ترجمان پاک بحریہ کے مطابق دورے کا مقصد پاکستان کے بیانیے، مثبت تشخص کو اجاگر کرنا اور دوطرفہ تعاون کو فروغ دینا ہے۔

    پاک بحریہ کے دو جہازوں کا افریقی ممالک کا دورہ

  • سندھ حکومت کے آئی جی سندھ پر الزامات کے بعد کلیم امام بھی میدان میں آ گئے، کیا کہا؟

    سندھ حکومت کے آئی جی سندھ پر الزامات کے بعد کلیم امام بھی میدان میں آ گئے، کیا کہا؟

    سندھ حکومت کے آئی جی سندھ پر الزامات کے بعد کلیم امام بھی میدان میں آ گئے، کیا کہا؟
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آئی جی سندھ کلیم امام کی زیر صدارت کراچی میں امن امان اور کرائم کنٹرول کے حوالے سے اجلاس ہوا ، اجلاس میں تمام ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پیز نے شرکت کی، اس موقع پر تمام پولیس رینج کے ایڈیشنل آئی جیز، ڈی آئی جیز اور ایس ایس پی ویڈیو لنک پر موجود تھے۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آئی جی سندھ کلیم امام نے کہا کہ صوبے میں اسٹریٹ کرائمز میں مجموعی طور پر7فیصد کمی واقع ہوئی ہے، کرائم انڈیکس پر کراچی چھٹے سے88 ویں نمبر پر آگیا ہے، اس کے علاوہ فری ایف آئی آر پالیسی سے ایف آئی آرز کے اندراج میں23فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    آئی جی سندھ کا مزید کہنا تھا کہ لوگ اب بلاخوف و خطر تھانہ جات سے رجوع کررہے ہیں، ہم پاکستان کے آئین اور قانون پر مکمل یقین رکھتے ہیں، پرامن سندھ اور کراچی کے باعث دنیا بھر سے غیرملکی یہاں آرہے ہیں۔ اشتہاریوں کی گرفتاری54جبکہ مفروروں کی گرفتاری 41 فیصد بڑھی،اور گرفتار ملزمان کی سزاؤں کے عمل میں 44فیصد اضافہ ہوا۔

    اجلاس سے قبل کراچی میں شہید دو پولیس اہلکاروں کے لیے دعائے مغفرت کی گئی ،آئی جی سندھ نے بہترین کارکردگی پر پولیس افسران کو شاباش دی

    سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ تنقید کا سامنا پولیس کو نہیں سیاسی حضرات کو اور حکومت وقت کو کرنا پڑتا ہے، وزیراعظم نے بھی اس بات کا اعتراف کیا، 23 دسمبر کو وزیراعلیٰ وزیراعظم کی ملاقات میں باہمی رضا مندی کے بعد تبادلے کی بات ہوئی، وزیراعلیٰ نے وزیراعظم کو آئی جی سندھ سے متعلق تحفظات سے آگاہ کیا، کرائم بڑھا ہے اس کی روک تھام کے لئے آئی جی نے کوئی پیشرفت نہیں کی اور ہوم ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جو خطوط لکھے گئے تھے انکا کوئی جواب نہیں دیا گیا اسلئے آئی جی سندھ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا.

    واضح رہے کہ سندھ کابینہ آئی جی سندھ کو ہٹانے کی منظوری دے چکی تا ہم وفاق نے کہا ہے کہ کلیم امام اپنے عہدے پر کام جاری رکھیں، وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پولیس کو سیاسی نہیں بنانا چاہتے۔ پولیس کے کمانڈر کو سیاسی بیانات نہیں دینے چاہیں۔ وزرا کا کہنا تھا کہ جس ایس ایس پی یا پولیس افسر کو سیاست کا شوق ہے، وہ سیاست کرے

    وزیر اطلاعات سعید غنی نے کابینہ اجلاس کے بعد کہا کہ  صرف ایک نکاتی ایجنڈے پر ہماری میٹنگ ہوئی جو آئی جی کلیم امام کی تبدیلی تھا۔ کابینہ نے ان کو ہٹانے کی منظوری دیدی ہے۔ آئی جی سندھ کلیم امام نے غیر ذمہ دارانہ بیانات بھی دیئے۔ آخری خط میں انھیں بتا دیا گیا تھا کہ آپ قوانین کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔

    سعید غنی کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو اگر کوئی افسر لینا ہو یا دینا ہو تو صوبائی حکومت سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ سندھ میں لا ان آرڈر کی صورتحال خراب ہو گئی ہے۔ کلیم امام کے خلاف ڈسپلنری کارروائی کی جانی چاہیے۔