Baaghi TV

Category: کراچی

  • ملک بھر میں سونے کی قیمت میں آج بھی اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں آج بھی اضافہ

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق فی تولہ سونا 1000 روپے مہنگا ہو گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 54 ہزار 100 روپے ہو گئی ہے۔اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت میں 857 روپے اضافہ ہوا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 3 ہزار 583 روپے ہو گئی۔

    عالمی منڈی میں بھی سونے کی قیمت میں 10 ڈالرز فی اونس کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد عالمی بھاؤ 3 ہزار 357 ڈالرز فی اونس ہو گیا ہے۔

    امارات میں میڈیا قوانین کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، پاکستانیوں کو احتیاط برتنے کی ہدایت

    مولانا فضل الرحمٰن نے امریکی دعوت کو قبول کر لیا

    عالمی برادری مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے کردار ادا کرے، بلاول بھٹو زرداری

  • لوڈشیدنگ پر سڑک بند کرنے سے کیا بجلی بحال ہوگی، شرجیل میمن

    لوڈشیدنگ پر سڑک بند کرنے سے کیا بجلی بحال ہوگی، شرجیل میمن

    شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ کے الیکٹرک کا کم بلنگ پر لوڈ شیڈنگ کرنا اجتماعی سزا دینے کے برابر ہے-

    کراچی میں سائٹ ایسوسی ایشن سے خطاب کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ سندھ میں اس گرمی میں بھی 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہےکسی ایک نے بل ادا نہیں کیا تو سزا سب کیوں بھگتے، کراچی کے مسائل بہت زیادہ ہیں، سندھ حکومت کے کراچی کے لئے کئی میگا پروجیکٹ چل رہے ہیں، آج بھی ہر صوبے کے لوگ روزگار کمانے کراچی آتے ہیں، ہمارے پاس بہترین مواقع ہیں۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سندھ میں صحت عامہ کی سہولیات ملک میں بہترین ہیں سیلاب متاثرین کے لیے ابتک ساڑھے 8 لاکھ گھر بنا چکے ہیں، سندھ حکومت کی جانب سے 21 لاکھ گھر بنائے جا رہے ہیں دو ہفتے کے بعد شاہراہ بھٹو قائد آباد تک مکمل ہو جائے گی، سندھ میں اس گرمی میں بھی 16 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، کسی ایک نے بل ادا نہیں کیا تو سزا سب کیوں بھگتے۔

    انہوں نے کہا کہ کچھ لوگ منفی پروپیگنڈا کرتے ہیں کہ پی پی کراچی میں کچھ نہیں کرتی، سیاست اور پرامن احتجاج کرنے کا حق سب کے پاس ہے، پارکس اور گراؤنڈ میں احتجاج کرنا ہے تو کر لیں احتجاج کے دوران سڑک بند کرنے کی اجازت نہیں دیں گے، لوڈشیدنگ پر سڑک بند کرنے سے کیا بجلی بحال ہوگی کے الیکٹرک کا کم بلنگ پر لوڈ شیڈنگ کرنا اجتماعی سزا دینے کے برابر ہے۔

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج  تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند

    کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج آج تاریخ کی بلند ترین سطح پر بند ہوئی۔

    پیر کے روز 100 انڈیکس 813 پوائنٹس کم ہوکر 118877 پر بند ہوا تھا تاہم آج کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے دوران مثبت رجحان دیکھا گیا،بجٹ سے قبل نئے کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست انداز میں کاروبار ہوا، آج پی ایس ایکس کا 100 انڈیکس 1573 پوائنٹس اضافے سے تاریخ کی بلند ترین سطح 120450 پر بند ہوا۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کے لیے 80 کروڑ ڈالر کی منظوری دے دی

    اٹلی میں آتش فشاں کی تباہی،ریڈ الرٹ جاری

    ملکی بقاء،سلامتی،جمہوریت کا اصل قوم کو کون بتائے گا؟ تجزیہ:شہزاد قریشی

  • فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لئے حکمت عملی بنادی گئی ہے،  آئی جی سندھ

    فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لئے حکمت عملی بنادی گئی ہے، آئی جی سندھ

    آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ ملیرجیل سے 213 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 78 کو گرفتار کرلیاگیا ہے۔

    کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے کہا کہ ملیر جیل میں ٹوٹل 6 ہزار قیدی ہیں، گزشتہ روز زلزلے کے جھٹکوں کے بعد2 سرکل کے قیدیوں کو باہر نکالا گیا جس کے بعد قیدیوں نے جیل کے مرکزی دروازے کی طرف بھاگنا شروع کردیا جبکہ دونوں سرکل میں منشیات کے مقدمات کے قیدی موجود تھے۔

    غلام نبی میمن نے کہا کہ مرکزی دروازے کے اندر جیل پولیس اور باہر ایف سی اہلکار تعینات ہوتے ہیں، قیدیوں کے ہجوم کو دیکھ کر جیل پولیس اور ایف سی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ کی،ملیر جیل سے 213 قیدی فرار ہوئے جن میں سے 78 کو گرفتار کرلیاگیا ہے جبکہ دیگر فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لئے حکمت عملی بنادی گئی ہے، جیل کے اندراور اطراف میں بھی سکیورٹی کے انتظامات کو بڑھایا گیا ہے، پولیس کی اضافی نفری جیل کے اطراف کی آبادیوں میں سرچ آپریشن کررہی ہے۔

    ٹک ٹاکر ثنا یوسف کا قاتل گرفتار

    ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری

  • ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

    ملیر جیل سے 216 قیدی فرار ہوئے، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی کی ملیر جیل سے قیدیوں کے فرار کے سنسنی خیز واقعے پر وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے سنگین غفلت قرار دیا ہے۔

    مراد علی شاہ نے پریس بریفنگ میں بتایا کہ ملیر جیل میں اس وقت 6 ہزار سے زائد قیدی موجود ہیں اور ابتدائی رپورٹ کے مطابق 216 قیدی جیل سے فرار ہوئے جن میں سے کئی کی گرفتاری کے لیے آپریشن جاری ہے انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ واقعے میں ایک قیدی کے جاں بحق ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ جیل حکام کی جانب سے قیدیوں کو بیرکس سے باہر نکالنے کا اقدام غیر ذمہ دارانہ تھا اور اس غفلت کے مرتکب اہلکاروں کو ہر صورت سزا دی جائے گی جیلوں میں سیکیورٹی کے انتظامات ازسرنو دیکھے جا رہے ہیں اور واقعے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی، زلزلے کے باعث قیدیوں میں گھبراہٹ ضرور ہوئی تھی، تاہم اس صورتحال میں قیدیوں کو بیرکس سے نکالنا سراسر غلط فیصلہ تھا جس کے سنگین نتائج سامنے آئے۔

    آج سے جمعرات تک بارشیں

    انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ اس افسوسناک واقعے کو ہرگز نظرانداز نہیں کرے گی، اور نہ ہی قیدیوں کی سیکیورٹی کو معمولی سمجھا جا سکتا ہے وزیراعلیٰ نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ فرار ہونے والے تمام قیدیوں کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف بھی سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

    سپرنٹنڈنٹ ملیر جیل ارشد شاہ نے جیل سے قیدیوں کے فرار ہونے کے واقعے پر میڈیا سے گفتگو کرتے کہا کہ زلزلے کے جھٹکوں کے بعد جیل میں خوف و ہراس پھیل گیا، جس پر قیدیوں نے شور شرابا شروع کر دیا۔ ان کے مطابق دو سے ڈھائی ہزار قیدی ایک ہی مقام پر جمع ہوگئے جس سے صورتحال بگڑ گئی۔

    ارشد شاہ نے بتایا کہ بھگدڑ کے دوران جیل کے دروازوں کے کنڈے ٹوٹ گئے اور اسی ہنگامے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 216 قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے قیدیوں کو روکنے کی کوشش پر ایف سی اہلکاروں نے فائرنگ بھی کی، جس کے نتیجے میں ایک رینجرز اہلکار زخمی ہوا۔

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری

    سپرنٹنڈنٹ جیل نے کہا کہ زلزلے کے بعد انہوں نے قیدیوں کو تسلی دینے کی کوشش کی کہ گھبرائیں نہیں، لیکن افراتفری نے حالات کو بے قابو کر دیا، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جیل حکام نے کسی قسم کی غفلت نہیں برتی اور سیکیورٹی میں کوئی واضح کمی نہیں تھی، مجھے جیسے ہی کال موصول ہوئی، میں فوراً جیل پہنچا، مگر قیدیوں نے مجھ پر بھی حملہ کردیا۔

    انہوں نے کہا کہ جیل میں سیفٹی کیمروں کی تنصیب کا عمل سندھ حکومت کے تعاون سے جاری ہے تاکہ آئندہ ایسی کسی بھی صورتحال پر قابو پایا جا سکے بھگدڑ کا واقعہ رات 11 بجے کے بعد پیش آیا جب قیدیوں نے خوف کی حالت میں قابو کھو دیا اس وقت جیل میں صرف 28 اہلکار سیکیورٹی پر مامور تھے فرار ہونے والے بیشتر قیدی منشیات کے عادی اور انڈر ٹرائل تھے جنہیں جیل کا مخصوص لباس فراہم نہیں کیا جاتا۔
    بلوچستان میں دو آپریشنز، فتنہ الہندوستان کے 7 دہشت گرد ہلاک

    کراچی میں منگل کی صبح اُس وقت ہلچل مچ گئی جب ملیر جیل سے اچانک سیکڑوں قیدی فرار ہو گئے۔ جیل میں اچانک زلزلے کے جھٹکوں کے بعد قیدیوں نے شورش برپا کی، گولیاں چل گئیں، اور قیدی دیواریں پھلانگ کر قریبی آبادیوں میں جا نکلے۔ پولیس، رینجرز اور ایف سی اہلکاروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے اب تک 80 سے زائد قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا ہے، تاہم 135 سے زائد تاحال لاپتہ ہیں۔

    واقعے کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں ایک قیدی مارا گیا جبکہ تین زخمی ہو گئے۔ ایف سی کے تین اہلکاروں سمیت پانچ سیکیورٹی اہلکار بھی شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

    ڈی آئی جی جیل خانہ جات حسن سہتو کے مطابق صورتحال پر قابو پا لیا گیا ہے اور جیل اب مکمل طور پر کنٹرول میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قیدیوں نے زلزلے کے بہانے سے بیرکس سے باہر نکلنے کا موقع بنایا، تاہم کسی بھی خطرناک مجرم کے فرار ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

    ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد: ملزمان دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

  • کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری

    کراچی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری، منگل کو زلزلے کے 19ویں زلزلے کی شدت 2.5 ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق صبح 11 بجکر 34 منٹ پرزلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جن کا مرکز شمال مشرقی ڈی ایچ اے سٹی سے 15 کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ زلزلے کی گہرائی 30 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئیاس سے قبل بھی صبح 9 بجکر 57 منٹ پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے جن کی شدت 2.8 اور گہرائی 40 کلومیٹر تھی۔ زلزلے کا مرکز اس وقت ملیر کے جنوب مشرقی علاقے کے قریب تھا۔

    چیف میٹرولوجسٹ امیر حیدر لغاری کے مطابق کراچی کے اطراف موجود فالٹ لائن متحرک ہو چکی ہے، جہاں زیر زمین توانائی جمع ہو رہی ہے جب تک یہ توانائی خارج نہیں ہو جاتی، زلزلے کے جھٹکے وقفے وقفے سے محسوس کیے جا سکتے ہیں آئندہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید جھٹکوں کا امکان موجود ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال فالٹ لائن کی مسلسل سرگرمی کی علامت ہے اور اس پر مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے۔

    ارلی سونامی وارننگ سیل کراچی کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق یکم جون سے اب تک کراچی میں مجموعی طور پر 19 زلزلے ریکارڈ کیے جا چکے ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ شدت 3.6 میگنیٹیوڈ جبکہ کم ترین شدت 2.1 میگنیٹیوڈ ریکارڈ کی گئی۔

    ارلی سونامی وارننگ سیل کراچی کے مطابق 11 جھٹکے ضلع ملیر میں محسوس کیے گئے، جبکہ دیگر جھٹکوں کا مرکز کورنگی کا جنوب مغربی حصہ اور ڈی ایچ اے کا شمال مشرقی علاقہ رہا۔

  • ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد: ملزمان دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    ڈیفنس میں نوجوان پر تشدد: ملزمان دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے

    کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس اتحاد کمرشل میں نوجوان پر بدترین تشدد کے معاملے میں گذری پولیس نے واقعے میں ملوث دونوں ملزمان کو سٹی کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی مزمل علی سومرو کی عدالت میں پیش کیا۔

    پولیس نے ملزمان کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جس پر عدالت نے دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر مقدمے کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی۔

    ملزم سلمان فاروقی اور اس کے ساتھی کو تشدد کی ویڈیو وائرل ہونے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا سماعت کے دوران عدالت نے سلمان فاروقی سے وکیل کا نام دریافت کیا تو اس نے بتایا کہ اس کے وکیل نعیم قریشی ہیں عدالت نے وکیل کو فوری طلب کیا، تاہم ان کی غیر موجودگی پر سماعت 10 منٹ کے لیے ملتوی کر دی گئی۔

    بعدازاں، سلمان فاروقی کی جانب سے ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست بھی جمع کرائی گئی ان کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ مقدمے میں شامل دفعات ضمانتی نوعیت کی ہیں، جن میں دھمکیاں دینے کی دفعہ شامل ہے۔

    پولیس نے عدالت میں واقعے کی ابتدائی رپورٹ بھی جمع کرائی رپورٹ کے مطابق مدعی محمد سلیم جو ایک موبائل کمپنی میں سیلز مینیجر ہے، اتحاد کمرشل پر ریکوری کے لیے گیا تھا جہاں اس نے دیکھا کہ ایک موٹر سائیکل کا معمولی حادثہ ایک گاڑی سے ہوا، کار سوار سلما ن فاروقی نے معمولی حادثے پر طیش میں آ کر نہ صرف موٹر سائیکل سوار کو تشدد کا نشانہ بنایا بلکہ اپنے سیکیورٹی گارڈ کے ہمراہ اسلحے کے زور پر نوجوان کو گاڑی میں محصور کر دیا –

    رپورٹ کے مطابق متاثرہ شخص کے ساتھ موجود خواتین نے ہاتھ جوڑ کر منت سماجت کی لیکن گاڑی سوار نے نہ صرف گالیاں دیں بلکہ ایک خاتون کو دھکا دے کر پیچھے دھکیل دیا، واقعے کی ویڈیو موقع پر موجود افراد نے بنا کر سوشل میڈیا پر اپلوڈ کی جس کے بعد پولیس نے کارروائی کی۔

    سماعت کے بعد پولیس ملزمان کو لے کر باہر نکلی تو وکلا نے ملزمان کے لئے ”مارو مارو“ کے نعرے لگانے شروع کردئیے، جسے سن کر پولیس اہلکاروں نے ملزمان کی دوڑیں لگوا دیں اور ملزمان کو دوڑاتے ہوئے عدالت سے باہر لے گئے-

  • کراچی: ملیر جیل سے سینکڑوں قیدی دیوار توڑ کر فرار، 30 دوبارہ گرفتار,سرچ آپریشن جاری

    کراچی: ملیر جیل سے سینکڑوں قیدی دیوار توڑ کر فرار، 30 دوبارہ گرفتار,سرچ آپریشن جاری

    ملیر جیل کی دیوار توڑ کر سینکڑوں قیدی فرار ہوگئے، زلزلے کے جھٹکوں کے باعث ملیر جیل کی دیوار کمزور ہوگئی تھی علاقے میں شدید فائرنگ کی جارہی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق مذکورہ قیدی ملیر جیل کی دیوار توڑ کر فرار ہوئے کہا یہ جا رہا ہے کہ گزشتہ روز کراچی میں آنے والے پے در پے زلزلوں کے جھٹکے کے بعد جیل کی دیوار کمزور ہوگئی تھی جسے قیدیوں نے دھکا دے کر گرا دیا۔

    واقعے کے بعد پولیس کی دوڑیں لگ گئیں، علاقے میں شدید فائرنگ کی گئی، جیل کی دیوار توڑ کر فرار ہونے والے قیدیوں کی گرفتاری کےلیے پولیس کا آپریشن جاری ہے۔

    تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس حوالے سے ڈی آئی جی جیل خانہ جات حسن سہتو نےمیڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی کہ ریکارڈ کے مطابق جیل میں اس وقت 6 ہزار کے قریب قیدی موجود ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ صبح سے زلزلے کے شدید جھٹکوں کے بعد قیدیوں میں پریشانی اور خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا قیدیوں نے تالے توڑ کر بھی باہر نکلنے کی کوشش کی تھی۔

    ڈی آئی جی جیل خانہ جات کے مطابق قیدیوں نے ایک نہیں دو سے تین مقامات کو توڑنے کی کوشش کی،جو قیدی فرار ہوئے وہ زیادہ تر نشے کے عادی بتائے جارہے ہیں۔

    دوسری جانب فرار قیدیوں کی گرفتاری کے لیے پولیس نے آپریشن کرتے ہوئے نیشنل ہائی وے پر دونوں ٹریک ٹریفک کیلئے بند کردیے گئے، پولیس نے فرار ہونے والے 30 قیدیوں کو پکڑ لیا۔

    پولیس حکام کے مطابق فرار قیدیوں کی گرفتاری کیلئے جیل اور اس کے اطراف کیے جانے آپریشن میں رینجرز بھی حصہ لے رہی ہے، منزل پمپ اور اطراف سے بھی متعدد قیدی پکڑے گئے ہیں اب تک 30 قیدیوں کو پکڑ کر واپس لایا جا چکا ہے۔

    وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے بتایا ہے کہ ابھی تصدیق نہیں ہوسکی کہ دیوار گری یا تالے توڑے گئے، اطلاعات یہی ہیں کہ کچھ قیدی یہاں سے نکل گئے ہیں، اطلاعات ہیں کہ زلزلے کے باعث قیدی بیرکوں سے باہر تھے۔

    انہوں نے بتایا کہ ملیر جیل اور اطراف میں پولیس اور رینجرز کا آپریشن جاری ہے، زلزلے کے باعث قیدیوں کو بیرکوں کے باہر بٹھایا گیا تھا، واقعہ کیسے رونما ہوا اس کے ذمہ داروں کا تعین کیا جائے گا۔

  • کراچی میں ایک مرتبہ پھر زلزلے کے جھٹکے، شدت 3 ریکارڈ

    کراچی میں ایک مرتبہ پھر زلزلے کے جھٹکے، شدت 3 ریکارڈ

    شہر قائد میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری ہے، جہاں آج صبح ایک مرتبہ پھر زمین لرز اٹھی۔

    زلزلہ پیما مرکز کے مطابق آج صبح 8 بج کر 49 منٹ پر شہر کے مختلف علاقوں میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے جن کی شدت 3.0 ریکارڈ کی گئی۔ماہرین کے مطابق زلزلے کا مرکز کراچی کے پوش علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے) کے مشرقی سمت میں تقریباً 30 کلومیٹر دور تھا، جبکہ زلزلے کی گہرائی 13 کلومیٹر زیر زمین ریکارڈ کی گئی۔

    زلزلے کے جھٹکے اتنے ہلکے تھے کہ بیشتر شہریوں کو فوری طور پر اس کا احساس نہیں ہوا، تاہم کچھ علاقوں میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ فوری طور پر کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    زلزلہ پیما مرکز کا کہنا ہے کہ کراچی میں گزشتہ روز سے اب تک مجموعی طور پر 9 بار زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے جا چکے ہیں، جس پر ماہرین ارضیات نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور غیر ضروری طور پر بلند عمارتوں یا کمزور ڈھانچوں میں قیام سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ میں بھرپور سفارتی مہم، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

    پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ میں بھرپور سفارتی مہم، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

    لاکھوں مسلمان فریضہ حج کے لیے مکہ مکرمہ پہنچ گئے، انتظامات عروج پر

    میرے سینے میں بہت کچھ ، کبھی کبھار جنرل باجوہ کے خلاف بول دیتا ہوں، خواجہ آصف

  • سندھ اسمبلی کی توانائی کمیٹی کا اجلاس ہنگامہ خیز، کے الیکٹرک پر ارکان برہم

    سندھ اسمبلی کی توانائی کمیٹی کا اجلاس ہنگامہ خیز، کے الیکٹرک پر ارکان برہم

    سندھ اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں کراچی میں جاری غیر اعلانیہ اور طویل لوڈشیڈنگ پر شدید گرما گرمی دیکھنے میں آئی، ارکان اسمبلی نے کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی پر سخت تنقید کی، نعرے بازی کے باعث اجلاس بدنظمی کا شکار ہوگیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اجلاس میں متحدہ قومی موومنٹ کے رہنما معاذ محبوب نے مونس علوی سے مخاطب ہو کر کہا کہ اگر غیرقانونی لوڈشیڈنگ کی جا رہی ہے تو کے الیکٹرک کے ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہئیں۔ سندھ بھر میں بجلی کے بحران پر غور کے لیے ہونے والے اجلاس میں کے الیکٹرک کے سی ای او مونس علوی، سیپکو اور حیسکو کے نمائندے شریک ہوئے، تاہم حیسکو چیف کی عدم حاضری پر اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی نے شدید برہمی کا اظہار کیا، جس کے بعد حیسکو افسران کو اجلاس سے باہر نکال دیا گیا۔

    معاذ محبوب نے موقف اختیار کیا کہ اگر لوڈشیڈنگ کا شیڈول جاری ہو چکا ہے تو اس کے بعد بلاجواز بجلی بند کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ پر کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔جواباً مونس علوی نے کہا کہ اگر ایف آئی آر ہونی ہے تو بجلی چوروں کے خلاف بھی ہونی چاہیے، جس پر معاذ محبوب نے کہا کہ ہم بجلی چوری کے خلاف آپ کے ساتھ ہیں، لیکن غیر اعلانیہ بجلی بندش فوری بند کی جائے۔

    انہوں نے مزید الزام لگایا کہ خود کے الیکٹرک کے لوگ کنڈے لگوانے میں ملوث ہوتے ہیں، ان کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے۔اس موقع پر اسپیکر سندھ اسمبلی اویس قادر شاہ نے ہدایت کی کہ تمام بجلی تقسیم کار ادارے لوڈشیڈنگ کا باضابطہ شیڈول جاری کریں۔

    اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے رکن اسمبلی ساجد سومرو نے کے الیکٹرک کی کارکردگی پر سخت سوالات اٹھائے، جس کے بعد ایوان میں شدید ہنگامہ آرائی ہوئی۔ ارکان اسمبلی "کے الیکٹرک کی غنڈہ گردی نامنظور” کے نعرے لگاتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر گئے۔

    پاکستانی وفد کی اقوام متحدہ میں بھرپور سفارتی مہم، بھارتی پروپیگنڈا بے نقاب

    لاکھوں مسلمان فریضہ حج کے لیے مکہ مکرمہ پہنچ گئے، انتظامات عروج پر

    میرے سینے میں بہت کچھ ، کبھی کبھار جنرل باجوہ کے خلاف بول دیتا ہوں، خواجہ آصف

    ملک بھر میں سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ 5 ہزار 900 روپے مہنگا