Baaghi TV

Category: کراچی

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ ، انڈیکس نے دو حدیں عبور کر لیں

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ ، انڈیکس نے دو حدیں عبور کر لیں

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ بن گیا ، کاروبار میں تیزی کے باعث انڈیکس نے دو حدیں عبور کر لیں۔

    مالی سال 2026 کے دوسرے ہفتے کے آغاز پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں کاروباری ہفتے کے پہلے روز زبردست تیزی دیکھنے میں آئی، کاروبار کے آغاز پر 100 انڈیکس میں 1066 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد انڈیکس ملکی تاریخ کی بلند ترین ایک لاکھ 33 ہزار 15 پوائنٹس پر پہنچ گیا۔

    گزشتہ ہفتہ کے اختتام پر کے ایس ای-100 انڈیکس 1 لاکھ 31 ہزار 949 پوائنٹس پر بند ہوا تھا، جو ہفتہ وار بنیاد پر 6.1 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے،ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں کے اعتماد، معاشی اشاریوں میں بہتری اور حکومتی مالی اصلاحات کے باعث اسٹاک مارکیٹ نئی بلندیوں کو چھو رہی ہے۔

  • یوم عاشورعقیدت و احترام سے منایا گیا، جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر

    یوم عاشورعقیدت و احترام سے منایا گیا، جلوس پُرامن طور پر اختتام پذیر

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں یوم عاشور آج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، عزاداران نے حضرت امام حسینؓ اور ان کے وفادار ساتھیوں کی کربلا میں دی گئی عظیم قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ سمیت ملک بھر کے چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں یومِ عاشور کے ماتمی جلوس روایتی راستوں سے گزرتے ہوئے پُرامن طور پر اپنے اختتام کو پہنچے۔ملک بھر میں سیکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے، جلوس کے راستوں پر رکاوٹیں لگا کر غیر متعلقہ آمد و رفت بند کی گئی، موبائل فون سروس جزوی طور پر معطل رہی، دفعہ 144 نافذ رہی اور ڈبل سواری پر بھی پابندی عائد کی گئی۔

    جلوسوں کے راستوں میں جگہ جگہ دودھ، پانی اور شربت کی سبیلیں قائم کی گئیں جبکہ نذر و نیاز اور لنگر کا وسیع انتظام بھی کیا گیا، شہریوں نے بھرپور انداز میں کربلا کے پیاسوں کی یاد تازہ کی۔ملک کے مختلف حصوں میں تعزیتی جلسے، مجالس اور دینی محافل کا انعقاد کیا گیا، جہاں علمائے کرام نے حضرت امام حسینؓ کے پیغامِ حریت اور ان کی بے مثال قربانیوں پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

    یوم عاشور کے موقع پر امن و امان کی فضا برقرار رکھنے کے لیے سیکیورٹی ادارے مکمل الرٹ رہے اور کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

    روہڑی جنکشن پر مشتعل افراد کی توڑ پھوڑ، ویڈیو وائرل، ریلوے حکام خاموش

    غزہ مٰیں مزید 80 فلسطینی شہید، مجموعی شہادتیں 57 ہزار سے تجاوز

    ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 70 کے قریب، متعدد افراد لاپتہ

    ٹیکساس میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 70 کے قریب، متعدد افراد لاپتہ

    سرفراز بگٹی کا سینٹرل پولیس آفس کا دورہ، معمولی کوتاہی پر سخت کارروائی کا اعلان

    خیبرپختونخوا میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،مزید 5 افراد جاں بحق

  • لیاری بلڈنگ حادثہ، 27 جاں بحق افراد میں 20 ہندو کمیونٹی سے تھے

    لیاری بلڈنگ حادثہ، 27 جاں بحق افراد میں 20 ہندو کمیونٹی سے تھے

    کراچی کے علاقے لیاری میں گرنے والی رہائشی عمارت کے ملبے سے نکالی گئی 27 لاشوں میں سے 20 کا تعلق ہندو کمیونٹی سے تھا، ہندو رہنما شری رامناتھ مہاراج کا بڑا انکشاف سامنے آ گیا۔

    باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے شری رامناتھ مہاراج نے کہا کہ حکومت کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کو تاحال کوئی متبادل رہائش فراہم نہیں کی گئی۔ متاثرہ افراد اس وقت اپنے رشتے داروں یا مہیشوری کمیونٹی سینٹر میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔شری رامناتھ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جاں بحق ہونے والے تمام افراد پاکستانی شہری تھے، اور ایدھی سمیت دیگر فلاحی ادارے ان کی مدد کر رہے ہیں، لیکن حکومتی سطح پر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ حکومتِ سندھ اور وزیرِ اعظم سے اپیل ہے کہ اس سنگین معاملے پر فوری نوٹس لیں۔ اگر حکومت نے مدد نہ کی تو ہندو کمیونٹی احتجاج پر مجبور ہو جائے گی۔دوسری جانب لیاری میں عمارت گرنے کے سانحے کے بعد ریسکیو آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق ملبے سے 27 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جن میں آخری لاش نوجوان زید کی تھی۔

    ریسکیو اداروں نے ہیوی مشینری کی مدد سے ملبہ ہٹانے کا عمل مکمل کیا، جبکہ 11 زخمیوں میں سے 10 کو طبی امداد کے بعد اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا، جب کہ ایک زخمی اب بھی اسپتال میں زیر علاج ہے۔ادھر اسسٹنٹ کمشنر لیاری کا کہنا ہے کہ کل سے علاقے میں تمام مخدوش عمارتوں کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کیا جائے گا۔

    ملک بھر میں شدید بارشوں اور سیلابی صورتحال کا الرٹ جاری

  • کراچی، گرنے والی عمارت کے ملبے تلے افراد کی تلاش جاری، متاثرہ خاندانوں کی امیدیں قائم

    کراچی، گرنے والی عمارت کے ملبے تلے افراد کی تلاش جاری، متاثرہ خاندانوں کی امیدیں قائم

    کراچی کے علاقے لیاری میں گرنے والی پانچ منزلہ عمارت کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش جاری ہے، لواحقین ملبے کے قریب اپنے پیاروں کے زندہ نکلنے کی امید لیے بے قرار ہیں۔

    ریسکیو ٹیموں کی جانب سے ملبے تلے زندگی کی تلاش کے لیے لائف ڈیٹیکٹرز کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق یہ حساس آلے دل کی دھڑکن کو محسوس کر کے زندہ افراد کا سراغ لگاتے ہیں، تاہم ان کے درست استعمال کے لیے مکمل خاموشی ضروری ہوتی ہے۔ گزشتہ روز جائے حادثہ پر شور کے باعث یہ آلہ مؤثر طور پر استعمال نہیں کیا جا سکا تھا۔

    واقعے میں اب تک 22 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جبکہ مزید 10 سے 12 افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈی سی ساؤتھ جاوید کھوسو کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل ہونے میں مزید 8 سے 10 گھنٹے لگ سکتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ مخدوش عمارتوں میں رہائش پذیر افراد کے لیے متبادل آبادکاری کی پالیسی تیار کی جا رہی ہے اور حکومت متاثرین کو دوبارہ بسانے میں تعاون کرے گی۔ لیاری میں موجود انتہائی خطرناک قرار دی گئی 22 عمارتوں میں سے 14 کو خالی کرا لیا گیا ہے۔

    کراچی میں بار بار عمارتیں گرنے کے واقعات نے انتظامیہ کی کارکردگی پر سنجیدہ سوالات اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں کا مطالبہ ہے کہ مخدوش عمارتوں کی فوری نشاندہی اور انخلا کو یقینی بنایا جائے تاکہ مزید قیمتی جانوں کا ضیاع نہ ہو۔

    ایبٹ آباد میں 13 سالہ ملازمہ سے مبینہ زیادتی و قتل، ملزم گرفتار

    نئے مالی سال میں متوسط طبقے کی گاڑیاں مہنگی، لگژری گاڑیاں سستی

    فضائی نگرانی کی صلاحیت ، پاکستان کا چین سے KJ-500 طیارہ خریدنے کا فیصلہ

    روسی تیل بھارت کے لیے اب سستا سودا نہیں رہا، رعایتیں کم ہونے لگیں

    مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں ہرن ذبح کرنے کا واقعہ، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

    مائیکروسافٹ پاکستان سے انخلا نہیں کر رہا، شراکت داری کی طرف منتقلی کا فیصلہ

    Ask ChatGPT

  • نئے مالی سال میں متوسط طبقے کی گاڑیاں مہنگی، لگژری گاڑیاں سستی

    نئے مالی سال میں متوسط طبقے کی گاڑیاں مہنگی، لگژری گاڑیاں سستی

    ملک میں نئے مالی سال کے آغاز پر گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں فرق دیکھنے میں آیا ہے، جہاں ایک جانب چھوٹی اور متوسط طبقے کی گاڑیاں مہنگی ہوگئی ہیں، وہیں دوسری جانب لگژری گاڑیوں کی قیمتوں میں بھاری کمی واقع ہوئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق متوسط طبقے کی گاڑی کی قیمت میں دو لاکھ روپے تک اضافہ ہوا ہے، جبکہ لگژری گاڑیوں کی قیمت میں پچیس لاکھ روپے سے لے کر تقریباً ڈھائی کروڑ روپے تک کمی ہوئی ہے۔سوشل میڈیا پر اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، صارفین کا کہنا ہے کہ درآمدی ٹیکسوں میں رد و بدل اور نئے ٹیکسوں کے نفاذ نے عام شہری کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے، جبکہ امیر طبقے کو ریلیف دیا جا رہا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومت کی جانب سے پرانی گاڑیاں سستی کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے اور ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی کو مرحلہ وار ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔پاکستان میں دستیاب گاڑیوں کی دو بڑی اقسام ہیں.مقامی طور پر اسمبل کی جانے والی گاڑیاں، جو نسبتاً سستی ہوتی ہیں ضبخۃ ڈؤصڑٰ درآمدی گاڑیاں، جن میں لگژری اور بعض چھوٹی گاڑیاں شامل ہیں۔

    تاہم واضح کمی صرف لگژری گاڑیوں میں دیکھنے میں آئی ہے، جن کی قیمتیں کروڑوں روپے میں ہوتی ہیں۔

    فضائی نگرانی کی صلاحیت ، پاکستان کا چین سے KJ-500 طیارہ خریدنے کا فیصلہ

    روسی تیل بھارت کے لیے اب سستا سودا نہیں رہا، رعایتیں کم ہونے لگیں

    مارگلہ ہلز نیشنل پارک میں ہرن ذبح کرنے کا واقعہ، ملزمان کے خلاف مقدمہ درج

    مائیکروسافٹ پاکستان سے انخلا نہیں کر رہا، شراکت داری کی طرف منتقلی کا فیصلہ

    خیبر پختونخوا سینیٹ انتخابات ، تحریک انصاف کو 3 کنفرم نشستوں سے محرومی کا خدشہ

  • کراچی میں عمارت گرنے سے 22 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری

    کراچی میں عمارت گرنے سے 22 افراد جاں بحق، ریسکیو آپریشن جاری

    کراچی کے علاقے لیاری بغدادی میں 5 منزلہ مخدوش رہائشی عمارت گرنے سے المناک سانحہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں 7 خواتین اور ایک بچے سمیت 22 افراد جاں بحق ہو گئے، جبکہ 3 خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہیں۔

    یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ صبح پیش آیا جب پرانی عمارت زمین بوس ہوگئی، ملبے تلے دبے افراد کو نکالنے کے لیے ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔ ملبے سے رات گئے تک 14 لاشیں اور آج مزید 8 لاشیں نکالی گئیں، جس کے بعد جاں بحق افراد کی تعداد 22 ہو گئی۔ریسکیو اہلکاروں نے ملبے سے 3 ماہ کی بچی کو زندہ نکال لیا، تاہم 10 سے 12 مزید افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ریسکیو ٹیمیں انتہائی احتیاط سے ملبہ ہٹانے میں مصروف ہیں۔

    سانحے سے متاثرہ خاندانوں پر کہرام برپا ہے، ملبے کے قریب موجود افراد اپنے پیاروں کی خیریت جاننے کے لیے بے چین ہیں۔ عمارت کے ساتھ واقع بلڈنگ کی سیڑھیاں بھی گر گئیں، جس سے خطرات مزید بڑھ گئے ہیں۔ لاشوں کی شناخت کا عمل تاحال جاری ہے۔

    مقبوضہ کشمیر میں شراب کی دکانوں کے خلاف 3 روزہ ہڑتال کا اعلان

    ٹیکساس میں بدترین سیلاب، 27 افراد ہلاک، 20 سے زائد لڑکیاں لاپتا

    مسجد اقصیٰ ہماری ریڈ لائن ہے، حماس کا سخت مؤقف

    برطانیہ نے فلسطین ایکشن گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا

  • وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے

    وفاقی حکومت کے قرضے ملکی تاریخ کی نئی بلند ترین سطح 76 ہزار 45 ارب کی سطح پر پہنچ گئے۔

    اسٹیٹ بینک نے مئی 2025 تک کے وفاقی حکومت کے قرضوں کے اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں جس کے مطابق حکومت کا مقامی قرضہ 53 ہزار 460 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضہ 22 ہزار 585 ارب روپے ہو گیا۔

    دستاویز کے مطابق ایک سال میں حکومتی قرضوں میں 8 ہزار 312 ارب روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ مالی سال 25-2024 کے پہلے 11 ماہ میں حکومت کا قرضہ 7 ہزار 131 ارب روپے بڑھا، مئی میں قرضے میں 1109 ارب روپے کا اضافہ ہوا،اپریل 2025 تک حکومتی قرضے 74 ہزار 936 ارب روپے جبکہ مئی 2024 تک حکومتی قرضے 67 ہزار 733 ارب روپے تھے۔

    ڈیرہ غازی خان: یوم عاشور پر 11 ہزار اہلکار تعینات، سیکیورٹی ریڈ الرٹ

    بااثر خاتون کا کلاتھنگ اسٹور کے ملازم پر تشدد ، ویڈیو وائرل

    5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

  • 5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے،بلاول

    چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ 5 جولائی 1977 پاکستان کی تاریخ کا سیاہ ترین باب ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ 5 جولائی کو آمریت نے قوم میں نفرت اور تقسیم کے بیج بوئے جن کے اثرات آج بھی سیاسی، سماجی اور قومی شعور پر واضح ہیں،5 جولائی کوعوامی منتخب حکومت پر شب خون مارا گیا جس نے ملک کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ ہم سب کو مل کر آ مریت کے اندھیروں کا خاتمہ کرنا ہو گا تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک روشن، پُرامن اور جمہوری پاکستان دے سکیں، وقت آ گیا ہے کہ نفرت، انتشار اور شخصی اقتد ار کی دلدل سے نکل کر اتحاد، برداشت اور آئین کی بالادستی کو اپنایا جائے۔

    دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 5 جولائی 1977 پاکستان کی جمہوری تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ اس دن عوام کے منتخب وزیرِاعظم شہید ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت پر مارشل لا مسلط کر کے جمہوریت کو کچلا گیا، شہید بھٹو کو اقتدار سے ہٹانے کی سازش درحقیقت عوامی رائے اور جمہوری اصولوں پر حملہ تھی، ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو شعور دیا، آمریت نے اس آواز کو طاقت کے زور پر دبانے کی کوشش کی لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے ہر دور میں آمریت کا جرأت مندی سے مقابلہ کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ آج کا دن ہمیں جمہوریت کے تحفظ، آئین کی بالادستی اور عوامی حقوق کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کی یاد دہانی کراتا ہےہم ہر قیمت پر جمہوری اقدار کا دفاع کریں گے آج بھی ملک میں جمہوریت اور سالمیت کے خلاف سازشیں جاری ہیں، ہمیں چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔وزیراعلیٰ سندھ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات اور قربانی کو بھرپور خراجِ عقیدت پیش کیا۔

  • 9 محرم الحرام کے مرکزی جلوس کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات، راستے سیل

    9 محرم الحرام کے مرکزی جلوس کے لیے سیکیورٹی کے سخت انتظامات، راستے سیل

    ملک بھر میں نو محرم الحرام کے مرکزی جلوسوں کے لیے سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے۔

    کراچی میں نو محرم الحرام کے مرکزی جلوس کی گزرگاہ پر دکانیں اور مارکیٹیں سیل، ایم اے جناح روڈ کے اطراف کنٹینر رکھ کر سڑکیں بند کر دی گئیں کراچی میں 9 محرم الحرام کا مرکزی جلوس آج نشتر پارک سے برآمد ہوکر حسینیہ ایرانیاں امام بارگاہ پر اختتام پذیر ہوگا جلوس کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے غیرمعمولی انتظامات کیے گئے ہیں-

    پولیس کے مطابق جلوس کی گزرگاہوں پر واقع تمام دکانیں اور مارکیٹیں سیل کر دی گئی ہیں جبکہ ایم اے جناح روڈ، صدر، ایمپریس مارکیٹ، پریڈی اسٹریٹ اور کھارادر سمیت مختلف علاقوں میں کنٹینر رکھ کر سڑکیں بند کر دی گئی ہیں سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر جلوس کے راستوں پر موبائل فون سروس بھی معطل رہے گی، جلوس کی سیکیورٹی پر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے، جبکہ بم ڈسپوزل اسکواڈ اور رینجرز اہلکار بھی الرٹ ہیں۔

    9 محرم الحرام کے موقع پر لاہور سمیت پنجاب بھر میں بھی سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں انسپکٹر جنرل پنجاب ڈاکٹر عثمان انور کے مطابق خطے کی مجموعی صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ ہے اور ملک دشمن عناصر پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہے۔

    ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق آج صوبے بھر میں 1689 عزاداری جلوس اور 3895 مجالس منعقد ہو رہی ہیں۔ ان کی سیکیورٹی کے لیے ایک لاکھ سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔ لاہور میں 79 جلوس اور 378 مجالس کے لیے 10 ہزار سے زائد پولیس اہلکار ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔

    آئی جی پنجاب نے کہا کہ دفعہ 144 پر مکمل عملدرآمد کرایا جا رہا ہے اور محرم الحرام کے کوڈ آف کنڈکٹ پر سختی سے عمل کروایا جا رہا ہے۔ جلوسوں اور مجالس کے اوقات، روٹس، اور لاؤڈ اسپیکر ایکٹ کی پابندی کو یقینی بنایا گیا ہےسیکیورٹی انتظامات کو مؤثر بنانے کے لیے سیف سٹیز اتھارٹی اور ضلعی انتظامیہ کے کیمروں کی مدد سے تمام سرگرمیوں کی مکمل نگرانی کی جا رہی ہے سی ٹی ڈی، اسپیشل برانچ، ڈولفن اسکواڈ، پیرو، ٹریفک پولیس اور دیگر فیلڈ فورسز کو بھی حساس مقامات پر تعینات کیا گیا ہے۔

    آئی جی پنجاب کا کہنا ہے کہ جبکہ تمام اضلاع میں کنٹرول رومز سنٹرل پولیس آفس کے مرکزی کنٹرول روم سے منسلک کر دیے گئے ہیں تاکہ ہر لمحہ صورتحال پر کڑی نظر رکھی جا سکے پنجاب پولیس کو ان سیکیورٹی اقدامات میں کمیونٹی لیڈرز، صوبائی وزراء، آرمڈ فورسز، رینجرز، دیگر سیکیورٹی اداروں اور میڈیا کا مکمل تعاون حاصل ہے۔

  • بھارت اگر تعاون کرے تو پاکستان کو افراد کی حوالگی پر اعتراض نہیں: بلاول بھٹو

    بھارت اگر تعاون کرے تو پاکستان کو افراد کی حوالگی پر اعتراض نہیں: بلاول بھٹو

    چیئرمین پیپلز پارٹی اور سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت کے درمیان جامع مذاکرات ہوں اور بھارت تعاون پر آمادگی ظاہر کرے، تو پاکستان کو حافظ سعید اور مسعود اظہر جیسے مخصوص افراد کی حوالگی پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

    قطری نشریاتی ادارے کو دیے گئے انٹرویو میں بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردی کی مالی معاونت جیسے الزامات پر ان افراد کے خلاف مقدمات چل رہے ہیں، تاہم بھارت کی جانب سے عدم تعاون کے باعث ان پر قانونی کارروائی میں رکاوٹیں پیدا ہو رہی ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ عدالتوں میں شواہد پیش کرنا اور بھارت سے گواہوں کا پاکستان آنا جیسے بنیادی تقاضے ضروری ہیں۔ اگر بھارت ان مراحل میں تعاون کرے تو پاکستان ایسے کسی بھی شخص کو حوالگی کے لیے رکاوٹ نہیں ڈالے گا۔

    بلاول بھٹو نے بھارت کے نئے بیانیے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ہر دہشت گرد حملے کو پاکستان سے جنگ کا جواز بنانا چاہتا ہے، جو نہ صرف پاکستان بلکہ بھارت کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حافظ سعید اس وقت ریاستی تحویل میں ہیں اور عدالت سے 33 سال قید کی سزا کاٹ رہے ہیں، جبکہ پاکستان کو یقین ہے کہ مسعود اظہر اس وقت افغانستان میں موجود ہیں۔

    بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر بھارت یہ ثابت کرے کہ مسعود اظہر پاکستانی سرزمین پر موجود ہیں تو پاکستان انہیں گرفتار کرنے میں خوشی محسوس کرے گا، تاہم بھارتی حکومت فی الوقت ان افراد کا کوئی ذکر نہیں کر رہی۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلگام حملے کے بعد جنگ کا آغاز ایک بے بنیاد الزام پر کیا گیا، جو خطے میں ایک خطرناک مثال قائم کرتا ہے۔ بلاول کا کہنا تھا کہ بھارت بس ’دہشت گرد‘ کا نعرہ لگا کر خودمختار مسلمان ملک پر حملہ کرنے کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

    انہوں نے زور دیا کہ خطے میں امن کے لیے مذاکرات اور اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں اور پاکستان ہر موقع پر اس کی حمایت کرتا رہا ہے۔

    وزیراعظم کی مختلف ممالک کے صدور سے ملاقاتیں، دو طرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

    غزہ میں مزید 138 فلسطینی شہید، امدادی مراکز پر شہادتوں کی تعداد 631 ہوگئی

    غزہ میں مزید 138 فلسطینی شہید، امدادی مراکز پر شہادتوں کی تعداد 631 ہوگئی

    امریکہ ،پاکستانی شہری فرخ علی پر 65 کروڑ ڈالر ہیلتھ کیئر فراڈ کا الزام

    پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان 2 ارب ڈالرز کی سرمایہ کاری کے معاہدے

    گوگل کو جی میل اشتہارات پر فرانس میں 525 ملین یوروز جرمانے کا سامنا