Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی چمن شاہراہ کو ایکسپریس وے میں بدلنے کا فیصلہ

    کراچی چمن شاہراہ کو ایکسپریس وے میں بدلنے کا فیصلہ

    کراچی چمن شاہراہ کو ایکسپریس وے میں بدلنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت کراچی چمن قومی شاہراہ کی تعمیر اور اپ گریڈیشن پر اہم جائزہ اجلاس ہوا، اجلاس میں 790 کلومیٹر طویل کراچی چمن شاہراہ کو بہترین معیار کی ایکسپریس وے میں بدلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے ہدایت کی کہ سڑک کی تعمیر کا معیار موٹر وے جیسا ہونا چاہیئے، کراچی چمن شاہراہ کی اپ گریڈیشن صوبہ بلوچستان کی سماجی اور معاشی ترقی و خوشحالی کے لیے انتہائی ضروری ہے، بلوچستان کی ترقی کو ترجیح بناتے ہوئے پچھلے ماہ پیٹرولیم مصنوعات میں کمی کا فائدہ عوام کو منتقل کرنے کی بجائے اس بچت کو کراچی چمن شاہراہ کی اپ گریڈیشن پر صرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا، اس فیصلے میں پاکستان کے تمام صوبوں نے تعاون کیا، جو وفاق کے اتحاد کی نشانی ہے۔

    بھارتی سائبر اٹیک کے خدشات، کابینہ ڈویژن نے ایڈوائزری جاری کر دی

    شہبازشریف نے کہا کہ کراچی تا چمن سفر کا جو کہ آج کل 18 گھنٹے میں طے ہوتا ہے، اس ایکسپریس وے کی تعمیر کے بعد 6 سے 8 گھنٹے تک محدود ہوجائے گا، کراچی چمن ایکسپریس وے سے نہ صرف مسافر مستفید ہوں گے بلکہ ٹرانسپورٹ اور تجارت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے، منصوبے کے معیار پر کوئی سمجھوتا نہیں ہوگا اور اس حوالے سے کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی۔

    وزیراعظم نے ایکسپریس وے کو 2 سال کی مدت میں ہر حال میں مکمل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کی سہولت کے لیے ایکسپریس وے پر آنے والے تمام بڑے شہروں پر بائی پاسز تعمیر کیے جائیں۔

    خواجہ آصف کے بیان کو سیاسی مخالفین اپنے فائدے کیلئے استعمال کر رہے ہیں،مولانا فضل الرحمان

    گورنر بلوچستان جعفر مندوخیل اور وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے صوبے کی تعمیر اور ترقی پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا،اجلاس میں اسحاق ڈار، گورنر بلوچستان جعفر مندوخیل، وفاقی وزار احد چیمہ اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی جبکہ وفاقی وزیر برائے مواصلات عبد العلیم خان اور وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی اجلاس میں بذریعہ وڈیو لنک شریک ہوئے۔

  • پی این ایس سی کے بھارت جانیوالے کارگو کا رخ سنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا

    پی این ایس سی کے بھارت جانیوالے کارگو کا رخ سنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا

    کراچی: پاک بھارت کشیدگی کے باعث پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن ( پی این ایس سی) کے بھارتی کارگو کا رخ بھارتی بندرگاہ کے بجائےسنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا۔

    ذرائع کے مطابق ملائیشیا کی بنٹولو پورٹ سے 3 مئی کو بھارت کی کانڈلہ پورٹ کے لیے روانہ ہونے والے پی این ایس سی کے بھارتی کارگوکا رخ بھارتی بندرگاہ کے بجائےسنگاپور کی طرف موڑ دیاگیا۔

    پاک بھارت کشیدگی: کئی بڑی ائیر لائنز کا پاکستان کی فضائی حدود سے گریز

    اس حوالے سے پی این ایس سی ذرائع کا بتانا ہے کہ کارگو جہاز میں بھارت کے لیے لکڑیاں موجود ہیں، جہاز میں موجود کارگو ایک سے دو دن میں اتارے جانےکاامکان ہے پی این ایس سی کی شپنگ اسٹیٹس رپورٹ میں کارگوکےسنگاپور میں اتارنےجانےکاذکرموجود ہے جب کہ کارگو کو کانڈلہ پورٹ سے قریب ترین کولمبو یا سوہار اتارنے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

    دوسری جانب بھارت نے پاکستان کی بین الاقوامی تجارت پر وار کرتے ہوئے پاکستانی کنٹینرز لے کر بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے والے تیسرے ملکوں کے پرچم بردار بحری جہازوں کو بھی بھارتی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے سے روک دیا پاکستانی درآمدات پر پابندی اور پرچم بردار بحری جہازوں کے بعد ٹرانزٹ کارگو والے جہازوں کو بھی لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔

    تیسرے ملک کے لیے کارگو لے جانے والی شپنگ کمپنی آئی ای ایکس کے کنٹینرز بردار بحری جہاز کو برتھ فراہم کرنے سے انکار کردیا ذرائع شپنگ انڈسٹری نے کہا کہ بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستانی کارگو لانے والے کسی جہاز کو بھارت کی بندرگاہ پر برتھ نہیں دی جائیگی۔

    ماہرین کے مطابق بھارتی اقدامات سے خطے کی لاجسٹکس کے علاؤہ بین الاقوامی شپنگ انڈسٹری بھی متاثر ہوگی، پاکستانی کارگو لے جانے والے جہازوں کو خصوصی سروس چلانا پڑے گی پاکستان کو ایسی شپنگ سروسز سے ایکسپورٹ امپورٹ کرنا ہوگی کو بھارت کی بندرگاہ استعمال نہیں کرتے۔

    ایک طرف بھارت نے پاکستان کے ساتھ تجارتی تعلقات منقطع کرنے کا واویلا مچایا ہوا ہے، تو دوسری جانب خود بھارتی ادارے اعتراف کر رہے ہیں کہ تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کی پاکستانی اشیاء خفیہ طور پر متحدہ عرب امارات، انڈونیشیا، سنگاپور اور سری لنکا جیسے ملکوں کے ذریعے بھارت میں داخل ہو رہی ہیں۔

    بھارتی خبر رساں ایجنسی کی ایک رپورٹ میں ایک اعلیٰ بھارتی عہدیدار کے حوالے سے انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان سے آنے والی اشیاء، جن میں خشک میوہ جات، کیمیکل، چمڑا، ٹیکسٹائل اور سیمنٹ شامل ہیں، ان ممالک کے ذریعے بھارت پہنچ رہی ہیں۔رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا کہ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی اشیاء کو ری لیبل اور ری پیک کیا جاتا ہے، جس کے بعد انہیں بھارتی مارکیٹ میں ”تیسرے‘ ملک کی مصنوعات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    بھارت کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ مذاکرات چاہتا ہے یا تباہی،بلاول

    رپورٹ کے مطابق سنگاپور کے راستے کیمیکل بھارت میں داخل کیے جا رہے ہیں، جبکہ انڈونیشیا کے ذریعے پاکستانی سیمنٹ اور ٹیکسٹائل را مٹیریل بھارتی صنعتوں تک پہنچ رہا ہے۔اسی طرح سری لنکا کے راستے خشک میوہ جات، نمک اور چمڑے کی اشیاء بھارت منتقل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

    بھارتی عہدیدار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اب پاکستانی اشیاء پر براہ راست ہی نہیں بلکہ بالواسطہ (indirect) تجارت پر بھی مکمل پابندی عائد کی جائے اس ”جامع پابندی“ کے ذریعے بھارت کا مقصد یہ ہے کہ پاکستانی مال کو دوسرے ملکوں کے لیبل میں بھی داخل ہونے سے روکا جا سکے۔

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

  • سندھ ہائیکورٹ،نقیب اللہ قتل کیس،راؤ انوار کی بریت کیخلاف اپیل پر سماعت ملتوی

    سندھ ہائیکورٹ،نقیب اللہ قتل کیس،راؤ انوار کی بریت کیخلاف اپیل پر سماعت ملتوی

    سندھ ہائی کورٹ،نقیب اللہ قتل کیس ،سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار ودیگر کی بریت کے خلاف اپیل پرسماعت ہوئی

    وکیل صفائی نے کہا کہ کیس کی فائل مکمل پڑھنےکےبعد ہی جواب دے سکیں گے، وکیل درخواست گزارنے کہا کہ فردجرم عائد ہونےکے بعد ثبوت خراب کئےگئے، جسٹس عمر سیال نے کہا کہ فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ استغاثہ ملزموں پر الزام ثابت کرنے میں ناکام رہی ، وکیل درخواست گزار نے کہا کہ استغاثہ اغواء اور قتل کے الزام کو بھی ثابت کرنے میں ناکام ہوا یہ لکھا ہے، کنفیوژن ہے تو کسی شخص کو بری الزمہ نہیں کیا جاسکتا ، جسٹس عمر سیال نے کہا کہ ہم لوگ جان چھڑانے والے جج نہیں ہیں ،وکیل نےکہا کہ ایک گواہ بھی موجود تھا اغواء کے واقعے کا جس کو بھی سنا نہیں گیا،عدالت کی جانب سے 19 مئی تک سماعت ملتوی کردی گئی،تمام فریقین سے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا گیا

    اپیل مقتول نقیب اللہ کے بھائی عالم شیر کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں استدعا کی گئی ہے کہ انسداد دہشت گردی کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے،عدالت نے 2023 میں عدم شواہد کی بناء پر راؤ انوار سمیت 18 ملزمان کو بری کردیا تھا

  • سندھ ہائیکورٹ،سابق ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ،ضمانت منظور

    سندھ ہائیکورٹ،سابق ایس ایچ او کیخلاف مقدمہ،ضمانت منظور

    سندھ ہائیکورٹ،سابق ایس ایچ او سچل شیخ محمد شعیب عرف شوٹر کے خلاف اغوا برائے تاوان کا مقدمہ،عدالت نے سابق ایس ایچ او سچل شیخ محمد شعیب کی ضمانت منظور کرلی

    عدالت نے ملزم کو 5,5 لاکھ کے دو ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا، دوران سماعت سرکاری وکیل نے کہا کہ پولیس افسر کے خلاف شہری کے اغوا برائے تاوان کا مقدمہ ہے،مغوی تاحال بازیاب نہیں ہوسکا ہے، وکیل مدعی نےکہا کہ مغوی محمد شریف رنگ کرنے کا کام کرتا تھا، محمد شریف کی رہائی کے عوض پانچ لاکھ روپے مانگ رہے تھے، محمد شریف کو اغواء کرکے دو دن بعد گھر بھی لائے تھے،ملزمان نے کہا عدالت میں درخواست لے لیں تو شریف کو رہا کردیں گے، درخواست واپس لینے کے باوجود شہری کو رہا نہیں کیا گیا،
    محمد شریف کو 2014 میں مبینہ ٹاؤن تھانے کی حدود سے اغواء کیا گیا تھا،

  • اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

    اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کردی

    کراچی: اسٹیٹ بینک پاکستان کی جانب سے شرح سود 12 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد کردی گئی ہے۔

    اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے شرح سود میں کمی کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہےکہ بجلی کی سرکاری قیمتوں میں کمی اور غذائی گرانی نے مہنگائی کی شرح تیزی سے کم کی ہے۔ مہنگائی کا منظر نامہ پچھلے تخمینوں کے مقابلے میں مزید بہتر ہوا ہے ہیڈلائن مہنگائی اپریل میں اعشاریہ تین فیصد رہی اور قوزی مہنگائی بھی نو فیصد سے کم ہوکر آٹھ فیصد ہوئی ہے کرنٹ اکاونٹ سرپلس ہے جبکہ معاشی نمو رواں مالی سال ڈھائی سے ساڑھے تین فیصد کے درمیان رہنےکی توقعات ہیں۔

    کمیٹی کے مطابق مالی سال کے اختتام تک زرمبادلہ ذخائر 14 ارب ڈالر ہوجائیں گے تجارتی ٹیرف سے پیدا ہوئی بے یقینی کیفیت اور بین الاقوامی سیاسی حالات معیشت کے لیے چیلنجز بن سکتے ہیں،اسٹیٹ بینک کی کوشش ہے کہ مہنگائی قابو میں رہے اور معاشی نمو پائیدار رہے، اس منظر میں ایم پی سی نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کرکے محتاط زری پالیسی مؤقف برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

  • پاکستان میں دہشتگردی کے لیے بھارت کی سہولت کاری کےشواہد سامنے آگئے

    پاکستان میں دہشتگردی کے لیے بھارت کی سہولت کاری کےشواہد سامنے آگئے

    پاکستان میں حالیہ دہشتگردی کی کارروائیوں کے پیچھے بھارت کی منظم منصوبہ بندی اور براہ راست فوجی شمولیت کے مستند شواہد سامنے آ گئے ہیں-

    ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے بھارتی فوج اور ایجنسیاں پوری طرح متحرک ہیں، جہلم سے گرفتار دہشتگرد مجید کے موبائل فون اور ڈرون فرانزک کے بعد ناقابل تردید شواہد سامنے آئےدہشتگرد مجید بھارتی فوج کے آفیسرز اور ہینڈلرز کے ساتھ رابطے میں تھا، دہشتگرد آئی ای ڈیز نصب کرنے کے بدلے بھارتی فوج سے پیسہ وصول کر رہا تھا۔

    دہشتگرد مجید اور بھارتی آرمی کے افسران کے درمیان واٹس ایپ گفتگو سے متعلق ہوشربا انکشافات بھی سامنے آئے جس میں چار بھار تی آرمی افسران کی نشاندہی ہوتی ہے ان بھارتی فوجی افسران میں میجر سندیپ ورما، صوبیدار سکھوندر، حوالدار امیت اور ایک سپاہی شامل ہےبھارتی ہینڈلرز دہشتگرد مجید کو بم بنا نے کے طریقے پر مشتمل ویڈیوز بھیجتے ہیں۔

    آڈیو کالز میں آئی ای ڈیز کی وصولی ان کو نصب کرنے کے مقامات کی بھی نشاندہی کی جاتی رہی، یہ آئی ای ڈیز بذریعہ ڈرون دہشتگرد مجید کو فراہم کی جاتی تھیں سکھوندر نے 24ستمبر کو دہشتگرد مجید کو برنالہ بھمبر میں بارودی مواد کی نشاندہی کی، جو اس نے وصول کیا دہشتگرد مجید نے ضلع باغ میں 13 اکتوبر کو فوجی گاڑی پر بم حملہ کیا جس میں فوج کے تین جوان زخمی ہوئے 13 اکتوبر کے بم حملے کے لیے دہشتگرد مجید کو بھارتی ہینڈلر نے 1 لاکھ 80 ہزار روپے دیئے۔

    22 نومبر کو سکھوندر نے ہیڈ مرالہ کے قریب جگہ کی نشاندہی کی، دہشتگرد مجید نے تباہ شدہ ڈرون اور آئی ای ڈی حاصل کی 30 نومبر کو دہشتگرد مجید نے جلالپور جٹاں میں آئی ای ڈی فوجی گاڑی پر لگائی جس سے 4 جوان زخمی ہوئے، دہشتگرد مجید نے ٹاسک مکمل ہونے پر 6 لاکھ 56 ہزار روپے حاصل کیے،دہشتگرد مجید اور بھارتی فوجی آفیسرز کے درمیان آئی ای ڈیز کی وصولی کے لیے مٹھائی کے ڈبے کا لفظ استعمال کیا جاتا رہا۔

    سکھوندر نے 22 اپریل 2025 کو ندالہ کے قریب آئی ای ڈی پہنچائی جبکہ 23 اپریل کو سکھوندر نے دہشتگرد مجید کو بس اسٹینڈ پر بم حملے کا ٹاسک دیا بھارتی فوجی افسران دہشتگرد مجید کو رش والے بس سٹینڈز پر دھماکے کا کہتے تاکہ نقصان زیادہ ہو۔

    دفاعی ماہرین کے مطابق دہشتگرد مجید اور بھارتی فوجی ہینڈلرز کے درمیان یہ آڈیو گفتگو ثبوت ہے کہ بھارت پاکستان میں دہشتگردی پھیلاتا ہے، بھارت دہشتگردی پھیلانے کیلئے دہشتگردوں کو بھاری فنڈنگ میں بھی فراہم کرتا ہے،بلوچستان اور دیگر صوبوں میں دہشتگردوں کو کارروائیوں کے لیے تربیت تک بھارت ایجنسیاں دیتی ہیں، ان شواہد کے بعد یہ ضروری ہے کہ عالمی سطح پر بھارت کا نام فیٹف میں شامل کیا جائے۔

  • بھارتی بیانیہ انتہائی خطرناک اور غیرذمہ دارانہ ہے، مراد علی شاہ

    بھارتی بیانیہ انتہائی خطرناک اور غیرذمہ دارانہ ہے، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے حالیہ پہلگام واقعے پر پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد اور جھوٹے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے شدید تنقید کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مراد علی شاہ نے شہید ذوالفقار علی بھٹو کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انہی کی بدولت پاکستان ایٹمی صلاحیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ذمے دار ملک ایٹمی جنگ جیسے تصورات کی سوچ بھی نہیں رکھتا اور ایسا بیانیہ انتہائی خطرناک اور غیر ذمے دارانہ ہے۔ پاکستان ایک پُرامن ایٹمی طاقت ہے اور علاقائی و عالمی امن کے لیے اپنے عزم پر قائم رہے گا۔

    انہوں نے کہا کہ ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود پاکستان نے ہمیشہ امن کا پرچار کیا ہے۔ پہلگام ڈرامے کے بعد پاکستان نے شفاف تحقیقات کی پیشکش کی اور اب بھارت خود اپنے جال میں پھنس چکا ہے۔ بھارت کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا اور وہ فیس سیونگ کی تلاش میں ناکام ہو چکا ہے۔ اس کا پروپیگنڈہ بری طرح ناکام ہو گیا ہے۔وزیراعلیٰ نے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو بھی سراہا اور کہا کہ ڈپٹی وزیراعظم نے بین الاقوامی برادری کے سامنے پاکستان کا مؤقف مؤثر انداز میں پیش کیا۔

    انہوں نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی بھی تعریف کی جنہوں نے بھارت کو واضح اور دوٹوک جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت ماضی میں بھی ایسی حرکتیں کرتا رہا ہے لیکن اس بار اس کی چالیں ناکام ہو گئی ہیں۔سندھ طاس معاہدے پر گفتگو کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے زور دیا کہ بھارت یکطرفہ طور پر اس معاہدے کو معطل نہیں کر سکتا۔انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے پاکستان کا پانی بند کرنے کی کوشش کی تو اسے جنگی اقدام سمجھا جائے گا۔

    وزیراعلیٰ نے بین الصوبائی آبی تنازعات کے حل میں بلاول بھٹو زرداری کے کردار کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بلاول کی کوششوں کی بدولت صوبوں کے درمیان پانی سے متعلق مسائل حل ہو چکے ہیں۔پاکستان کے مؤقف کو دہراتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم ایک پُرامن قوم ہیں لیکن ہمیں اپنے وطن کا دفاع کرنا بھی آتا ہے۔پاکستانی قوم اپنی مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔جب بھی ملک کو بحران کا سامنا ہوا عوام نے ہمیشہ ثابت قدمی دکھائی۔

    اسرائیل کا دفاعی نظام ناکام، میزائل کے مرکزی ایئر پورٹ پر جا گرا

    فضائی بندش،بھارتی ایئر لائنز کو 10 روز میں 225 کروڑ بھارتی روپے کا نقصان

    لاہور قلندرز کا 161 رنز کا ہدف، کراچی کی بیٹنگ جاری

    بلاول بھٹو کے ایکس اکائونٹ پر پابندی، شرجیل میمن کی شدید مذمت

  • بلاول بھٹو کے ایکس اکائونٹ پر پابندی، شرجیل میمن کی شدید مذمت

    بلاول بھٹو کے ایکس اکائونٹ پر پابندی، شرجیل میمن کی شدید مذمت

    بھارتی دہشتگرد حکومت کی جانب سے بلاول بھٹو کے ایکس اکائونٹ پر پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ دہشتگرد بھارتی حکومت نے اکائونٹ بلاک کر کے بزدلی کی نئی مثال قائم کی.

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر برائے اطلاعات، ٹرانسپورٹ و ماس ٹرانزٹ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کشمیری عوام کی آواز، جمہوری اقدار کے نمائندہ، اور خطے میں امن کے علمبردار ہیں.انہوں نے کہا کہ بھارتی مودی سرکار ہر اس آواز کو دبانے پر تلی ہوئی ہے جو اس کی انتہاپسند ہندوتوا سوچ کو چیلنج کرتی ہے، یہ اقدام دہشتگرد بھارتی حکومت اور دہشتگرد بی جے پی کی گھبراہٹ، عدم برداشت اور سفارتی محاذ پر مکمل ناکامی کو عیاں کرتا ہے۔ بلاول بھٹو کے اکانٹ پر پابندی محض ڈیجیٹل سنسرشپ نہیں، مودی سرکار اور بی جے پی کے اندر چھپی سچائی سے خوف کی کھلی علامت ہے۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ اوچھے ہتھکنڈوں سے نہ مظالم چھپانے جا سکتے ہیں نہ کشمیریوں کے حق میں اٹھنے والی آواز دبائی جا سکتی ہے، چیئرمین بلاول کی آواز کروڑوں دلوں میں گونجتی ہے، اور کوئی بھی ڈیجیٹل دیوار اس آواز کو روک نہیں سکتی۔

    پانی کے ذخائر میں 16 لاکھ 74 ہزار ایکڑ فٹ اضافہ ریکارڈ

    پاک بھارت کشیدگی ،وزیر اطلاعات، ڈی جی آئی ایس پی آر کی سیاسی رہنماؤں کو بریفنگ

    دفاع، عزم اور طاقت کا نشان، پاکستان

    پہلگام حملے میں افغانستان میں چھوڑا امریکی اسلحہ استعمال ہونے کا دعویٰ

  • بھارتی مصنوعات  پاکستان کی زمینی,فضائی یا سمندری راستے سے نہیں گزرسکیں گی

    بھارتی مصنوعات پاکستان کی زمینی,فضائی یا سمندری راستے سے نہیں گزرسکیں گی

    وزارت تجارت نےکہا ہے کہ بھارتی مصنوعات پاکستان کی زمینی,فضائی یا سمندری راستے سے نہیں گزرسکیں گی-

    رپورٹ کے مطابق امپورٹ ایکسپورٹ ایکٹ 1950 کے تحت ایس آر او جاری کردیا گیا قومی سلامتی اور عوامی مفاد کے پیشِ نظر بھار تی ساختہ مصنوعات کی پاکستانی حدود سے ترسیل پر پابندی عائد کردی۔

    رپورٹ کے مطابق پاکستان نے بھارت میں تیار کردہ اشیاء کی تیسرے ممالک کے ذریعے بذریعہ سمندر، زمین یا فضائی راستے پاکستان سے گزرنے والی درآمدات پر پابندی کردی جس کے تحت بھارت سے تیسرے ممالک کی بذریعہ سمندر، زمین یا فضائی راستے پاکستان سے گزرنے والی درآمدات پر پابندی ہوگی۔

    ان بھارتی درآمدات/برآمدات پر احکامات لاگو نہیں ہوں گی جن کے لیے بل آف لیڈنگ (B/L) یا لیٹر آف کریڈٹ (L/C) 4 مئی سے قبل جاری یا قائم کیا گیا ہو،پاکستان نے اپنی زمینی فضائی اور سمندری حدود کو بھارتی امپورٹ اور ایکسپورٹ کے لیے بند کردیا، کسی تیسرے ملک سے بھی بھارتی درآمدی اور برآمدی مصنوعات کی پاکستانی فضائی، سمندری یا زمینی حدود سے گزرنے پر پابندی ہوگی-

  • وفاقی وزیر مصطفی کمال کی سندھ کی وزیر صحت سے ملاقات

    وفاقی وزیر مصطفی کمال کی سندھ کی وزیر صحت سے ملاقات

    ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما و وفاقی وزیر صحت مصطفی کمال نے صوبہ سندھ کی وزیر صحت عذرا پیچوہو سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ کوشش کر رہے ہیں تمام صوبوں کو ساتھ لے کر چلیں.

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی میں ہونے والی ملاقات میں مصطفی کمال کا کہنا تھا کہ تکلیف میں مبتلا عوام کو ریلیف دے سکیں اس سلسلے میں ہم نادرہ کے جاری کردہ شناختی کارڈ نمبر کو ہی میڈیکل ریکارڈ نمبر بھی بنا رہے ہیں جس سے ناصرف مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ محفوظ ہوگا بلکہ ہمیں بھی علم ہوگا کہ کب کہاں کن ادویات یا دیگر صحت کی سہولیات کی ضرورت ہے نیز ٹیلی میڈیسن سے ہم مریضوں کی دہلیز تک دوائیں اور ڈاکٹر کو پہنچائیں گے۔

    مصطفی کمال نے یقین دلایا کہ وفاقی حکومت صحت کی سہولیات بہتر کرنے کے لیے صوبوں کی ہر ممکن مدد کرنے کے لیے بالکل تیار ہے جبکہ عذرا پیچوہو نے بھی صوبے میں جاری ترقیاتی کاموں اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی بات کی۔وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف اسلام آباد میں جیسے جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر بنا رہے ہیں ویسے ہی کراچی میں بھی جناح میڈیکل کمپلیکس اینڈ ریسرچ سینٹر سیٹلائٹ منظور کر لیا ہے۔دونوں وزرا صحت نے ملاقات میں وفاق اور صوبہ سندھ کے مابین تعاون بڑھانے اور ملک بھر کے عوام کو یکساں اور معیاری صحت کی سہولیات کی فراہمی کے لیے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا۔

    بھارت کا نیا جھوٹا بیانیہ اور من گھڑت پروپیگنڈا بے نقاب

    پاکستان میں آئی پی ایل کی اسٹریمنگ پر پابندی

    غیر قنونی مقیم افغان مہاجرین کی واپسی ، مزید 1,296 افراد روانہ