Baaghi TV

Category: کراچی

  • جب فیصل قریشی کی بیٹی جنید جمشید کو دیکھ کر رو پڑی

    جب فیصل قریشی کی بیٹی جنید جمشید کو دیکھ کر رو پڑی

    کراچی: پاکستان شوبز انڈسٹری کے معروف میزبان و اداکار فیصل قریشی نے بتایا کہ ان کی بیٹی کی گلوکار و نعت خواں جنید جمشید سے ملاقات کے دوران رو پڑی تھیں-

    باغی ٹی وی : فیصل قریشی نے رمضان ٹرانسمیشن میں مہمان گلوکار ہارون شاہد کے ساتھ جنید جمشید کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب میری بیٹی آیت تقریباً 3 سال کی تھی اور وہ اپنے اسکول میں ہونے والی کسی تقریب کے لیے ملی نغمہ’دل دل پاکستان‘ کی ریہرسل کر رہی تھی، اسی وقت مجھے جنید بھائی کی کال آئی تو میں نے اپنی بیگم کو بتایا کہ میں جنید بھائی کے ساتھ جا رہا ہوں تو وہ کہنے لگیں کہ آیت ابھی اُنہی کے گائے ہوئے ملی نغمے کی ریہرسل کر رہی ہے۔

    اداکار نے بتایا کہ میں گھر سے نکل کر جنید بھائی کے ساتھ چلا گیا اور جب ہم نماز پڑھ کر آپس میں باتیں کرنے لگے تو میں نے اُنہیں بتایا کہ میری بیٹی ابھی گھر پر اپنے اسکول کی کسی تقریب کے لیے آپ کے مشہور ملی نغمے ’دل دل پاکستان‘ کی ریہرسل کر رہی ہے تو جنید بھائی نے فوراً کہا کہ چلو پھر ہم تمہاری بیٹی سے ملنے چلتے ہیں۔

    خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ نے "دھوکے” سے بلایا، عدالت میں بیان

    فیصل قریشی نے بتایا کہ میں نے اپنی بیوی کو فون کر کے بتایا کہ جنید بھائی گھر پر آیت سے ملنے آ رہے ہیں تو یہ سن کر آیت بہت خوش ہوئی اور فوراً تیار ہو کر بیٹھ گئی لیکن جیسے ہی اس نے جنید بھائی کو دیکھا تو رونے لگ گئی،جب میں نے آیت سے رونے کی وجہ پوچھی تو کہنے لگی کہ آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا یہ تو جنید جمشید نہیں کوئی اور ہیں۔

    بھٹو کی برسی ،سندھ میں عام تعطیل کا اعلان

    اداکار نے بتایا کہ آیت نے جنید جمشید کو صرف پرانی ویڈیوز میں دیکھا تھا اس لیے وہ جنید جمشید کو داڑھی کے ساتھ نئے روپ میں پہچان نہیں سکی پھر جنید بھائی نے آیت سے کہا کہ چلو میں آپ کے سامنے ’دل دل پاکستان‘ گا کر سناتا ہوں، جنید بھائی نے آیت کو یقین دلانے کے لیے اس کے سامنے بیٹھ کر پورا ملی نغمہ گایا اور میں حیرت سے اُنہیں دیکھتا رہا۔

    سوشل میڈیا پر اداروں کیخلاف مواد شیئر کرنے والے کی ضمانت منظور

  • بھٹو کی برسی ،سندھ میں عام تعطیل کا اعلان

    بھٹو کی برسی ،سندھ میں عام تعطیل کا اعلان

    سندھ حکومت نے سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر 4 اپریل کو صوبے بھر میں عام تعطیل کا اعلان کردیا ہے۔

    سندھ حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ جمعہ 4 اپریل کو صوبے بھر میں ذوالفقار علی بھٹو کی برسی کے موقع پر تمام سرکاری دفاتر، اسکولز، کالجز اور دیگر حکومتی ادارے بند رہیں گے۔ یہ تعطیل سابق وزیراعظم کی خدمات اور ان کی سیاسی وراثت کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے دی گئی ہے۔ذوالفقار علی بھٹو، جنہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی، 4 اپریل 1979 کو پھانسی کی سزا پائی تھی۔ ان کی قیادت نے پاکستان کی سیاست اور عالمی تعلقات میں اہم کردار ادا کیا، جس کی وجہ سے ان کی برسی ہر سال مختلف سیاسی و سماجی حلقوں میں یاد کی جاتی ہے۔سندھ حکومت کا یہ اقدام بھٹو کے نظریات اور ان کی جدوجہد کو یاد کرنے کی ایک کوشش ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکنان اس دن کو خصوصی طور پر مناتے ہیں اور اس موقع پر مختلف تقاریب کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔

  • صحافی فرحان ملک کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست ،نوٹس جاری

    صحافی فرحان ملک کی مقدمہ خارج کرنے کی درخواست ،نوٹس جاری

    کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے صحافی فرحان ملک کی درخواست پر فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔ فرحان ملک، جو کہ ایف آئی اے کی حراست میں ہیں، نے جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں مقدمہ خارج کرنے کی درخواست دائر کی تھی۔ درخواست میں سندھ حکومت، ایس ایس پی ایسٹ، ڈائریکٹر ایف آئی اے اور دیگر حکام کو فریق بنایا گیا ہے۔

    صحافی فرحان ملک کو ایف آئی اے نے 20 مارچ کو پیکا آرڈیننس کے تحت گرفتار کیا تھا۔ ان کے خلاف گزشتہ تین ماہ سے انکوائری جاری تھی اور 20 مارچ کو انہیں ایف آئی اے سائبر کرائم کراچی میں بیان دینے کے لیے طلب کیا گیا تھا۔ بعد ازاں، ڈائریکٹر سائبر کرائم کے احکامات پر سب انسپکٹر ذیشان نے مقدمہ نمبر 25/25 درج کر کے فرحان ملک کو باضابطہ طور پر گرفتار کر لیا۔21 مارچ کو، عدالت نے ایف آئی اے کی درخواست پر صحافی فرحان ملک کا 4 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا تھا۔ اس دوران، صحافی نے عدالت سے مقدمہ خارج کرنے کی درخواست کی تھی، جس پر سندھ ہائی کورٹ نے فریقین کو نوٹس جاری کر دیے ہیں۔

    سندھ ہائی کورٹ نے اس درخواست پر سماعت کے لیے عید کی تعطیلات کے بعد کی تاریخ مقرر کی ہے۔ عدالت نے اس مقدمے کی مزید سماعت عید کے بعد تک ملتوی کر دی ہے۔فرحان ملک کے وکلا کا موقف ہے کہ ان کے موکل کو بلاجواز گرفتار کیا گیا اور ان کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد نہیں ہیں۔ دوسری طرف، ایف آئی اے کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران پیکا آرڈیننس کی خلاف ورزی کے شواہد ملے ہیں، جس پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔

  • کراچی ، چرس کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام ، 1 کروڑ 42 لاکھ روپے  کی چرس برآمد

    کراچی ، چرس کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام ، 1 کروڑ 42 لاکھ روپے کی چرس برآمد

    کراچی: کلکٹریٹ آف کسٹمز انفورسمنٹ، کراچی کے انسداد اسمگلنگ آرگنائزیشن (ASO) نے ایک اہم کامیابی حاصل کرتے ہوئے کراچی میں چرس کی اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔ اس کارروائی کے دوران 1 کروڑ 42 لاکھ روپے مالیت کی چرس برآمد ہوئی۔

    کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کراچی، جناب معین الدین وانی کو خفیہ اطلاع ملی تھی کہ بلوچستان سے کراچی کی طرف ایک گاڑی میں چرس اسمگل کی جانے والی ہے۔ اس اطلاع کے ملتے ہی، کلکٹر نے ایڈیشنل کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ، جناب باسط حسین کو اس ممکنہ اسمگلنگ کے تدارک کے لئے فوری احکامات جاری کیے۔ایڈیشنل کلکٹر باسط حسین نے ڈپٹی کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ، ASO سید محمد رضا نقوی کی قیادت میں ایک خصوصی ٹیم تشکیل دی تاکہ چرس کی اسمگلنگ کی کوشش کو ناکام بنایا جا سکے۔ اس ٹیم نے RCD ہائی وے، ناردرن بائی پاس اور سپر ہائی وے پر تعینات عملہ اور پٹرولنگ اسٹاف کو مشکوک گاڑیوں کی تلاشی کے احکامات دیے۔چند ہی دنوں میں، کسٹمز ASO کی خصوصی پٹرولنگ اسکواڈ نے ناردرن بائی پاس کے کچے علاقے میں ایک مشکوک ٹویوٹا کرولا گاڑی کو روکا، جس نے فوراً اپنی رفتار بڑھا دی اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ تاہم، ASO کی موبائل اسکواڈ نے ڈپٹی کلکٹر سید محمد رضا نقوی کو اطلاع دی، جنہوں نے فوری طور پر سپر ہائی وے چیک پوسٹ پر تعینات عملہ کو مدد کے لئے بھیجا۔

    اس دوران گاڑی کو تعاقب کرتے ہوئے سپر ہائی وے کے کچے علاقے میں اس گاڑی کو روک لیا گیا اور اس کی تلاشی لی گئی۔ گاڑی کی ڈگی میں 4 پلاسٹک بیگز سے 84.5 کلوگرام چرس برآمد ہوئی، جس کی مالیت 1 کروڑ 42 لاکھ روپے بنتی ہے۔ گاڑی اور چرس کو کسٹمز عملہ نے ضبط کر لیا۔ اس گاڑی کی مالیت 50 لاکھ روپے تھی، جس کے ساتھ ضبط شدہ چرس کی کل مالیت 1 کروڑ 92 لاکھ روپے ہےکسٹمز کے حکام نے گاڑی کے مالک کے خلاف کسٹمز و نارکوٹکس ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور فرار ملزم کی گرفتاری کے لیے کارروائی جاری ہے۔

    کلکٹر کسٹمز انفورسمنٹ کراچی، جناب معین الدین وانی نے اس کامیاب کارروائی پر عملہ کی کارکردگی کو سراہا اور ملک کو منشیات سے پاک کرنے اور اسمگلنگ کے تدارک کے لیے مزید اقدامات کرنے کی ہدایت کی۔

  • مصطفیٰ عامر قتل کیس،ملزم ارمغان پر ایک اور مقدمہ درج

    مصطفیٰ عامر قتل کیس،ملزم ارمغان پر ایک اور مقدمہ درج

    کراچی: مصطفیٰ عامر کے قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے نے ملزم ارمغان کو حوالہ ہنڈی اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکومت کی مدعیت میں ملزم کے خلاف اینٹی منی لانڈرنگ سرکل میں مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

    ایف آئی اے کے مطابق، ملزم ارمغان حوالہ ہنڈی اور ڈیجیٹل کرنسی سمیت مختلف غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ ایف آئی آر کی تفصیلات کے مطابق، ملزم جعلسازی سے ہر ماہ تقریباً تین سے چار لاکھ ڈالر کماتا تھا، جنہیں وہ ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کرتا تھا۔ اس کے پاس موجود گاڑیاں بھی ان ڈیجیٹل کرنسی کی رقم سے خریدی گئی تھیں۔مقدمے میں انکشاف کیا گیا کہ ملزم ارمغان نے اپنے دو ملازمین کے نام پر بینک اکاؤنٹس کھلوائے تھے اور اپنے کال سینٹر سے امریکی شہریوں سے اہم معلومات حاصل کرتا تھا۔ ان معلومات کی بنیاد پر فراڈ کے ذریعے امریکی شہریوں سے پیسہ بٹورا جاتا تھا۔ فراڈ کی یہ رقم ملزم ارمغان تک پہنچتی تھی، جو اس کے غیر قانونی کاروبار کا حصہ تھی۔

    ایف آئی آر کے مطابق، ملزم ارمغان نے 2018 میں اپنے غیر قانونی کال سینٹر کا آغاز کیا تھا۔ اس کال سینٹر سے روزانہ 5 افراد کے ساتھ جعلسازی کی جاتی تھی اور اس کا نیٹ ورک منظم انداز میں چلایا جا رہا تھا۔ ملزم کے پاس کروڑوں روپے مالیت کی تین گاڑیاں تھیں، جن میں سے پانچ گاڑیاں وہ فروخت کر چکا تھا۔ ارمغان نے اپنے والد کے ساتھ مل کر امریکا میں ایک کمپنی بھی قائم کی تھی، جو حوالہ ہنڈی کے کاروبار کے لیے استعمال ہوتی تھی۔

    یاد رہے کہ مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو اغوا کیا گیا تھا اور ایک ماہ بعد 8 فروری کو پولیس نے کراچی کے علاقے ڈیفنس خیابان مومن میں ایک بنگلے پر چھاپہ مارا تھا۔ چھاپے کے دوران پولیس پر فائرنگ کی گئی تھی، جس میں ڈی ایس پی سمیت تین پولیس اہلکار زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس نے ملزم ارمغان کو حراست میں لیا تھا، جس نے دوران تفتیش انکشاف کیا کہ اس نے اپنے ساتھی شیراز کے ساتھ مل کر مصطفیٰ عامر کو اغوا کیا اور پھر اسی کی گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب لے جا کر جلا دیا تھا۔یہ کیس ابھی تحقیقات کے مراحل میں ہے اور مزید معلومات سامنے آ سکتی ہیں۔

  • سندھ  میں اراضی ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ

    سندھ میں اراضی ریکارڈ کو جدید ڈیجیٹلائز کرنے کا فیصلہ

    وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ کے اراضی ریکارڈ کو جدید بنانے کے لیے ایک اہم اقدام کرتے ہوئے سندھ حکومت نے ایک جدید ڈیجیٹلائزیشن اقدام شروع کیا ہے جس کا مقصد جائیداد کے انتظام میں درستگی، تحفظ اور کارکردگی کو یقینی بنانا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلی ہائوس میں ہونے والے اجلاس میں چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو (ایس ایم بی آر)بقا اللہ انڑ، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، آئی بی اے سکھر کے وائس چانسلر آصف شیخ، سیکریٹری آئی ٹی نور احمد سموں، اسپیشل سیکریٹری جنرل ایڈمنسٹریشن زمان ناریجو اور دیگر نے شرکت کی۔شروع میں وزیراعلی مراد شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ زمین کی منتقلی کے پچھلے 12 اقدامات کے عمل کو سنگل سٹیپ ڈیجیٹل میکانزم میں ہموار کیا جانا چاہیے جس سے رسائی میں آسانی کو یقینی بنایا جائے اور بیوروکریٹک تاخیر کو ختم کیا جائے۔

    انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ سندھ کا ڈیجیٹل لینڈ ریکارڈ سسٹم جدید، ٹیکنالوجی سے چلنے والی گورننس، بدعنوانی کو کم کرنے، حق ملکیت کو یقینی بنانے اور جائیداد کے لین دین کو تیز کرنے کے لیے ایک مثال قائم کرے گا۔ چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ نے وزیر اعلی کو ای سسٹم کے بارے میں بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام کے ایک حصے کے طور پر زمینی ریکارڈ کو دوبارہ لکھا جا رہا ہے اور اس کی تصدیق کی جا رہی ہے، ایک ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر بنایا جا رہا ہے اور بلاک چین ٹیکنالوجی کو مربوط کیا جا رہا ہے تاکہ چھیڑ چھاڑ سے محفوظ ریکارڈ کو یقینی بنایا جا سکے۔

    انھوں نے وزیراعلی کو بتایا کہ اس کے علاوہ ویب پر مبنی ای-ٹرانسفر سسٹم سرکاری دفاتر کے دوروں کی ضرورت کے بغیر ،بغیر کسی رکاوٹ کے جائیداد کے لین دین کی سہولت فراہم کرے گا۔نظر ثانی اور تصدیق: درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے حکومت ولیج کے فارم-VII-A اور ولیج فارم-II کے ریکارڈ کو دستی طور پر دوبارہ لکھ رہی ہے جو کہ زمین کی ملکیت کے ڈیٹا کی بنیاد کے طور پر کام کرتے ہیں، چیف سیکرٹری نے وزیراعلی کو بتایا کہ ایک کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) لنکیج سسٹم کو شامل کیا جا رہا ہے تاکہ مالکیت کی تصدیق اور دستاویزات کی غلطیوں کی تصدیق کی جا سکے۔

    ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر کی تشکیل: چیف سیکرٹری نے وزیر اعلی کو بتایا کہ ایک جامع ڈیجیٹل لینڈ رجسٹر تیار کیا جا رہا ہے تاکہ پورے دیہوں(دیہات)کے سروے نمبر وار رقبہ کی تفصیلات درج کی جا سکیں۔ آصف حیدر شاہ نے وزیر اعلی کو بتایا کہ یہ سسٹم ناقابل منتقلی زمین کے زمرے کا ڈیٹا بھی رکھے گا، بشمول جنگل کی زمین، گاں کی زمین، قبرستان، اور بھاڈا زمین (لیز پر دی گئی زمین)، اس بات کو یقینی بنائے گی کہ یہ جائیدادیں محفوظ رہیں اور غیر مجاز لین دین سے بالاتر ہوں۔

    چیف سیکرٹری نے وزیر اعلی مراد شاہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام میں سب سے اہم پیش رفت بلاک چین ٹیکنالوجی کا استعمال ہے۔انہوں نے کہا کہ دوبارہ تحریری اور تصدیق شدہ ریکارڈ (V.F.VII-A&V.F.II) کو مکمل طور پر ڈیجیٹائز کیا جائے گا اور بلاک چین پر مبنی ڈیٹا بیس میں محفوظ کیا جائے گا، جس سے وہ ناقابل تغیر اور چھیڑ چھاڑ سے محفوظ رہیں گے۔اور مزید کہا کہ یہ انفراسٹرکچر CNIC سے منسلک ملکیت کی تصدیق کو بھی قابل بنائے گا، ایک محفوظ اور شفاف لینڈ رجسٹری سسٹم تشکیل دے گا۔

    زمین کے عنوانات کی ویب پر مبنی ای ٹرانسفر:وزیراعلی مراد علی شاہ نے کہا کہ نیا نظام بغیر کاغذ کے، بغیر چہرے کے اور بغیر کسی رکاوٹ کے زمین کے ٹائٹل کی منتقلی کا طریقہ کار متعارف کرائے گا، جس سے ریونیو دفاتر کے چکر لگانے کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس کے بجائے، عوامی خدمت کے مراکز پر بائیو میٹرک تصدیق ہی واحد ضرورت ہوگی، جس سے اس عمل کو زیادہ محفوظ اور موثر بنایا جائے گا،اور مزید کہا کہ سسٹم کو نادرا، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر)، بینکوں اور دیگر سرکاری اداروں کے ساتھ ریئل ٹائم ڈیٹا کی تصدیق کے لیے مربوط کیا جائے گا۔
    پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری:وزیراعلی مراد شاہ نے چیف سیکریٹری کی سفارش پر اس ڈیجیٹل فریم ورک کی تاثیر کو جانچنے کے لیے سندھ حکومت نے دیہہ مٹیاری اور پلیجانی (ضلع اور تعلقہ مٹیاری)اور دیہہ باگرجی (تعلقہ اور ضلع سکھر)میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کی منظوری دی ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ ان علاقوں کا انتخاب آئی بی اے سکھر کے تعاون سے زمینی ریکارڈ کی دوبارہ تحریر اور ڈیجیٹلائزیشن کے لیے کیا گیا ہے جو اس تبدیلی کے لیے تکنیکی فریم ورک تیار کر رہا ہے۔

    مراد علی شاہ نے کہا کہ بلاک چین ٹیکنالوجی، بائیو میٹرک تصدیق، اور ویب پر مبنی جائیداد کی منتقلی کے انضمام کے ساتھ، سندھ مستقبل کے زمینی انتظام کے نظام کی طرف بڑھ رہا ہے جو زیادہ کارکردگی، تحفظ اور عوامی اعتماد کا وعدہ کرتا ہے۔ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا کہ پائلٹ پراجیکٹ کی کامیابی صوبے بھر میں عملدرآمد کی راہ ہموار کرے گی، سندھ میں زمین کی ملکیت اور جائیداد کے لین دین میں انقلاب برپا کرے گی۔

    دبئی میں گداگروں کے خلاف کارروائیاں، 127 گرفتار

    دبئی میں گداگروں کے خلاف کارروائیاں، 127 گرفتار

    گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی،لوڈشیڈنگ کا خدشہ

  • اربوں روپٔے مالیت کی نشہ آور ٹیبلٹس کی اسمگلنگ ناکام

    اربوں روپٔے مالیت کی نشہ آور ٹیبلٹس کی اسمگلنگ ناکام

    کراچی کی پورٹ قاسم سے 2.8 ارب مالیت کی نشہ آور ٹیبلٹ ٹراماڈول افریقا بھیجنے کی کوشش ناکام بنادی گئی۔

    ترجمان کسٹم کے مطابق 2.8 ارب روپے مالیت کی 56 لاکھ ٹراماڈول ٹیبلیٹس سیریلون افریقا اسمگل کی جارہی تھیں، گڈزڈیکلریشن میں ٹراماڈول ٹیبلیٹس کو ٹاولز کا برآمدی کنسائمنٹ ظاہر کیا گیا تھا، احمد ٹریڈنگ کا یہ برآمدی کنسائمنٹ این ایل سی ٹرمینل کے رسک منیجمنٹ سسٹم سے کلئیر ہوچکا تھا۔کلیئر ہونے والا یہ کنسائمنٹ QICT سے بحری جہاز میں لوڈ ہونے کے لیے تیار تھا، حکام کی رسک پروفائلنگ کی بنیاد پر کنسائمنٹ کی نشاندہی پر مزید تفصیلی جانچ پڑتال کی گئی، جانچ پڑتال میں کنٹرول شدہ نفسیاتی ادویات کی بڑی مقدار اسمگل ہونے کی نشاندہی ہوئی جس پر کسٹمز حکام نے مقدمہ درج کرکے کنسائمنٹ ضبط کرلی۔

    ٹراماڈول ڈریپ کے تحت ایک کنٹرول شدہ نفسیاتی دوا ہے، ٹراماڈول میں نشہ آور مرکبات شامل ہیں اس لیے کئی ممالک میں اس پر پابندی عائد ہے، پاکستان سے نشہ آور ادویہ اسمگل کرنے کی یہ دوسری کارروائی ہے جسے حکام نے ناکام بنایا ہے۔یاد رہے کہ فروری 2025ء میں بھی 10ارب روپے مالیت کی ٹراماڈول ٹیبلیٹس اسمگل کرنے کی کوشش کو ناکام بنایا گیا تھا۔

    گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    تربیلا ڈیم میں پانی کی کمی،لوڈشیڈنگ کا خدشہ

    کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

    حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

  • گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    گزشتہ کئی ماہ سے درآمدات میں نمایاں اضافہ ہو گیا

    مالی سال25-2024 کے پہلے 8 ماہ میں ملک میں گاڑیوں، مشینری، خوراک، پیٹرولیم مصنوعات سمیت متعدد اشیا کی درآمدات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا جہاں درآمدی بل اضافے کے ساتھ 37 ارب 87 کروڑ ڈالر سے تجاوز کرگیا ہے۔

    وفاقی ادارہ شماریات کے اعدادوشمار کے مطابق موبائل فون کی درآمد میں 13 فیصد کمی کے باوجود حجم ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔مشینری کی درآمدات کا حجم 15 فیصد سے زائد اضافے کے ساتھ 5 ارب 82 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا، پاور، ٹیکسٹائل، آفس، تعمیراتی اور الیکٹریکل میشنری کی درآمد میں اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد 1.20 فیصد اضافے سے 10 ارب 70 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی، زرعی آلات، کیمیکلز کی درآمد میں 2.52 فیصد اضافہ ہوا اور 5 ارب 87 کروڑ ڈالر زرمبادلہ خرچ کیا گیا۔

    ادارہ شماریارت نے بتایا کہ ٹرانسپورٹ کی درآمدات 24.33 فیصد اضافے سے ایک ارب 38 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی، گاڑیوں اور پرزہ جات کی درآمد میں 23 فیصد تک اضافہ ہوا اور جولائی تا فروری 75 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کی کاریں اور پرزے درآمد کیے گئے۔اسی طرح مالی سال کے پہلے 8 ماہ میں غذائی اشیا کی درآمد میں 1.47 فیصد کمی کے باوجود پاکستان نے 5 ارب 38 کروڑ ڈالر کی خوراک بیرون ملک سے منگوائی، اس میں گندم، خشک میوے، چائے، مصالحہ جات، پام آئل، سویا بین آئل، چینی اور دالیں شامل ہیں اور ٹیکسٹائل درآمدات کا حجم 59 فیصد اضافے سے دو ارب 71 کروڑ ڈالر رہا ہے۔

    کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

    حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

  • کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

    کراچی شہر میں منکی پاکس کا پہلا کیس رپورٹ

    کراچی میں منکی پاکس کا ایک اور کیس سامنے آگیا ہے جس کے بعد مشتبہ مریض کو آئسولیشن وارڈ منتقل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق محکمہ صحت سندھ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ کراچی کے علاقے ملیر کے رہائشی میں منکی پاکس وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔یہ سندھ میں اس وائرس کا پہلا کیس ہے۔ متاثرہ مریض کا خون کا نمونہ جانچنے پر منکی پاکس وائرس کی موجودگی پائی گئی۔مریض کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور انہیں آئسیولیشن وارڈ میں داخل کر دیا گیا ہے تاکہ وائرس کے پھیلا ئوکو روکا جا سکے۔

    محکمہ صحت سندھ نے مزید کہا ہے کہ متاثرہ مریض کی کوئی ٹریول ہسٹری نہیں ہے، اس لیے یہ کیس مقامی سطح پر پھیلا ئوکا نشان ہو سکتا ہے۔اس دوران، محکمہ صحت نے عوام سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور صحت کی دیگر ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ اس وائرس کے مزید پھیلا کو روکا جا سکے۔

    دوسری جانب کراچی شہر کے شاہ لطیف ٹائون سے تعلق رکھنے والا متاثرہ شخص جناح اسپتال میں داخل ہے جہاں خون کے نمونے لے لیبارٹری بھیج دیے گئے ہیں۔جناح اسپتال کی انتظامیہ کے مطابق ٹیسٹ رزلٹ آنے تک مریض کو آئسولیشن وارڈ میں رکھا جائے گا۔
    مریض کی علامات میں بخار اور جسم پر دھبے شامل ہیں۔

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

    حسینہ واجد کو بنگلا دیشی عبوری حکومت سےبڑا ریلیف مل گیا

  • سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

    سندھ حکومت نے ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردیں

    سندھ حکومت نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے عید الفطر کے موقع پر ٹرانسپورٹ افسران کی چھٹیاں منسوخ کردی ہیں۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ایک بیان میں سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا کہ عید کے دوران اضافی کرایہ وصول کرنے کی شکایات عام ہوتی ہیں، کوئی بھی شہری اضافی کرایہ ادا نہ کرے، عوام کی سہولت کے لیے پورے صوبے میں ٹرانسپورٹ افسران اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے .انہوں نے کہا کہ ٹرانسپورٹ اتھارٹی سندھ اور آر ٹی اے / ڈی آر ٹی ایز کے تمام افسران اور اہلکار عید کی تعطیلات کے دوران عوامی شکایات کے ازالے کے لیے موجود رہیں گے، حکومت سندھ نے زائد کرایے وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف سخت کارروائی کی کی خصوصی ہدایات جاری کی ہیں۔

    شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اضافی کرایوں کی وصولی کے خلاف مہم کے سلسلے میں محکمہ ٹرانسپورٹ اینڈ ماس ٹرانزٹ کے تمام افسران اور عملے کی عید کی چھٹیاں منسوخ کر دی گئی ہیں، حکومت سندھ کی کوشش ہے کہ عوام کو عیدالفطر کے موقع پر سفری سہولیات میں کسی قسم کی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور اضافی کرایوں کی وصولی کے خلاف فوری کارروائی کی جا سکے۔

    سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ عوام اضافی کرایہ ادا کرنے کے بجائے فوری طور پر شکایت درج کروائیں تاکہ حکومت فوری ایکشن لے سکے، سندھ حکومت عوامی مسائل کے حل کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھا رہی ہے اور کسی کو بھی ناجائز منافع خوری کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    اخوت فاؤنڈیشن کے بانی ڈاکٹر امجد ثاقب .تحریر: راحین راجپوت

    خوشحال اور ترقی پسند پاکستان کی تعمیر جاری رکھیں گے۔وزیراعظم