Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی کے دروازے ہر سیاسی جماعت کے لیے کھلے ہیں۔مرتضیٰ وہاب

    کراچی کے دروازے ہر سیاسی جماعت کے لیے کھلے ہیں۔مرتضیٰ وہاب

    میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ وہ فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اگر یہ رہنما کراچی کی ترقی کے لیے کام کرنے کی خواہش رکھتے ہیں تو وہ ہر وقت ان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

    یہ بات انہوں نے پاکستان یوتھ پارلیمنٹ کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ پاکستان میں لیڈرشپ کی کوئی خاص کمی نہیں ہے، بلکہ جو بھی شخص اچھے فیصلے کرتا ہے وہ لیڈر بن سکتا ہے۔ انہوں نے پارٹی کے قائد بلاول بھٹو زرداری کی جوان قیادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی ایک اچھے لیڈر ہیں۔انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ہمارے معاشرے میں بے یقینی اور مایوسی بہت بڑھ چکی ہے، لیکن پاکستان کے عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ وہ اپنے ملک کو چھوڑ کر کہیں نہیں جا سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ قیادت اور نوجوانوں کے درمیان تعلق مضبوط ہو تاکہ مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

    کراچی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کراچی کا سب سے بڑا مسئلہ پینے کے پانی کی کمی ہے۔ انہوں نے لاہور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لاہور میں زیرِ زمین میٹھا پانی موجود ہے، مگر کراچی میں یہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق، پانی کے مسئلے پر لاہور کی مثال کراچی میں نہیں دی جا سکتی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ شہریوں کو اپنے فرائض کا احساس کرنا چاہیے، تب ہی مسائل حل ہو سکتے ہیں۔میئر کراچی نے کہا کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔ فاروق ستار، مصطفیٰ کمال اور خالد مقبول کو دعوت دی کہ وہ کراچی کی بہتری کے لیے متحد ہو کر کام کریں۔ "باتیں اور پریس کانفرنسیں کرنے سے خدمت نہیں ہوتی،” انہوں نے کہا، "ہمیں عملی طور پر کام کرنا ہوگا۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کے دروازے ہر سیاسی جماعت کے لیے کھلے ہیں۔

    مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں بیٹھے افراد کراچی کے لیے اپنا دل بڑا کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت ملک بھر میں موٹر وے کی تعمیر کر رہی ہے، لیکن کراچی میں سکھر حیدرآباد موٹر وے کیوں نہیں بنائی جا رہی؟ "وزیراعظم سے درخواست کرتا ہوں کہ کراچی کے لیے خزانے کھولیں، کراچی کو 15 ارب نہیں بلکہ 1500 ارب روپے ملنے چاہئیں۔”انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی کی ترقی میں وفاقی حکومت کا کردار بہت اہم ہے، اور ایم کیو ایم پاکستان والوں سے درخواست کی کہ وہ آئیں اور مل کر کراچی کی بہتری کے لیے کام کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ لڑائی کرنے سے مسائل حل نہیں ہوں گے، اس کے بجائے ہمیں آپس میں تعاون کرنا ہوگا۔مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کو وزیراعظم سے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ وفاق کراچی کی مدد کرے تاکہ شہر کے مسائل حل ہو سکیں اور کراچی کی ترقی کی راہ ہموار ہو سکے۔

    برازیلی بحریہ کی دوسری جنگ عظیم کے جہاز کے غرق ہونے کی جگہ کی تصدیق

    جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے لیے 10 ایڈیشنل ججز کی منظوری دے دی

  • وسیم اکرم کے بیٹے نے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیا

    وسیم اکرم کے بیٹے نے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیا

    کراچی: پاکستان قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کے بیٹے اکبر اکرم نے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیا۔

    باغی ٹی وی : سابق قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان وسیم اکرم تو اشتہارات میں ماڈلنگ کرتے دکھائی دیتے ہیں اب ان کے بیٹے اکبر نے بھی ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھ دیا ہے،وسیم اکرم جہاں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد اب کمنٹری اور ٹی وی پر تجزیے کرتے دکھائی دیتے ہیں وہیں وہ مختلف اشتہارات میں ماڈلنگ کرتے بھی نظر آتے ہیں۔

    سابق کرکٹر وسیم اکرم نے سوشل میڈیا پر بیٹے اکبر اکرم کے ساتھ متعدد تصویروں پر مبنی پوسٹ شیئر کی ہےان تصاویر میں باپ اور بیٹے کو ماڈلز کی طرح پوز دیتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔

    مری میں برف باری کا سلسلہ جاری ،محکمہ موسمیات کی نئی پیشگوئی جاری

    وسیم اکرم نے اس سے قبل کی گئی ایک پوسٹ کے کیپشن میں اعلان کیا کہ میرے بیٹے، جس شاندار انسان میں تم تبدیل ہوئے ہو اور جس سمت میں تم آگے بڑھ رہے ہو مجھے تم پر بے حد فخر ہے، 24 ویں سالگرہ کے موقع پر میں اپنے بیٹے کی پہلی ماڈلنگ جاب کی ایک تصویر چپکے سے شیئر کر رہا ہوں۔

    سویڈن: قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے ملعون کا قتل، 5 گرفتار افراد کو رہا کرنے کا حکم

    واضح رہے کہ وسیم اکرم کے اپنی پہلی اہلیہ ہما وسیم سے دو بیٹے تیمور وسیم اور اکبر وسیم ہیں، ہما وسیم کے 2009 میں انتقال کے بعد سا بق فاسٹ بولر نے آسٹریلوی شہری شنیرا سے شادی کی تھی، جن سے ان کی ایک بیٹی آیلا ہے۔

  • وفاق کی پیٹرولیم کمپنیوں میں سندھ حکومت کی نمائندگی چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وفاق کی پیٹرولیم کمپنیوں میں سندھ حکومت کی نمائندگی چاہتے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرصدارت سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی (ایس ای ایچ سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے میں گیس کی پیداوار اور اس کی فراہمی سے متعلق مختلف مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے صوبے کی گیس پیداوار کی اہمیت اور اس کی درست فراہمی کے حوالے سے اہم نکات اٹھائے۔

    وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ نے اس موقع پر کہا کہ سندھ گیس پیداوار میں ایک اہم اسٹیک ہولڈر ہے اور اس حوالے سے سندھ حکومت کا موقف مضبوط ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ تمام وفاقی پیٹرولیم کمپنیوں میں سندھ حکومت کی مناسب نمائندگی ہو تاکہ صوبے کے مفادات کو بہتر طریقے سے پیش کیا جا سکے۔انہوں نے وفاقی حکومت سے درخواست کی کہ تیل اور گیس کی دریافت اور پیداواری کمپنیوں کی جانب سے نجی فریقین کو 35 فیصد فروخت کے فریم ورک میں سندھ کی رائے کو شامل کیا جائے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف صوبے کے حقوق کی حفاظت کرے گا بلکہ عوام کے لیے بہتر نتائج بھی فراہم کرے گا۔

    سید مراد علی شاہ نے گیس کی فراہمی میں کٹوتی کے حوالے سے بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ سندھ میں واقع گیس فیلڈز سے پیدا ہونے والی گیس کی صوبے کو فراہمی میں جو کٹوتی کی جاتی ہے، اس کے اعدادوشمار بروقت شیئر کیے جائیں تاکہ معاملہ صاف اور شفاف ہو۔وزیراعلیٰ سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ مقامی گیس چونکہ سستی ہے، اس لیے اس کی فراہمی میں کسی بھی قسم کی کٹوتی کر کے صوبے کے عوام کو محروم نہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سندھ کے عوام کا حق ہے کہ وہ اپنے وسائل سے بھرپور استفادہ کریں اور ان کے مفادات کا تحفظ کیا جائے۔اس اجلاس میں سندھ انرجی ہولڈنگ کمپنی کے افسران اور متعلقہ حکام نے بھی اپنی رپورٹیں پیش کیں اور وزیراعلیٰ کی ہدایات کے مطابق اقدامات پر غور کیا گیا۔

    جوڈیشل کمیشن نے پشاور ہائیکورٹ کے لیے 10 ایڈیشنل ججز کی منظوری دے دی

    برہنہ ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکر امشا رحمان نے خاموشی توڑ دی

  • شادی کیلئے کراچی آئی امریکی خاتون  علاج کیلئے ہسپتال منتقل

    شادی کیلئے کراچی آئی امریکی خاتون علاج کیلئے ہسپتال منتقل

    کراچی: امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن کو جناح اسپتال کراچی کے شعبہ نفسیات میں منتقل کر دیا گیا ہے جہاں ماہر نفسیات ان کا تفصیلی معائنہ کریں گے۔

    اطلاعات کے مطابق، خاتون کے ہاتھ پاؤں سوجے ہوئے ہیں اور وہ بہکی بہکی باتیں کر رہی ہیں، جس کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا ہے جہاں ڈاکٹر ان کا طبی معائنہ کریں گے، خاتون کے بیٹے نے کہا تھا کہ ان کی والدہ ذہنی مریضہ ہے، اسی وجہ سے خاتون کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے، قبل ازیں خاتون نے کراچی کے گارڈن تھانے میں پہنچ کر اپنی شکایت درج کرائی تھی کہ چھیپا ویلفیئر سینٹر میں بدبو آ رہی تھی، تاہم تھانے میں ان کا کہنا تھا کہ وہاں کوئی بدبو نہیں ہے۔ ان کی حالت کے پیش نظر، ایس ایچ او نے خاتون کو اپنی کمرہ میں آرام کرنے کی اجازت دے دی۔

    اسی دوران، سندھ کے شہر نواب شاہ سے تعلق رکھنے والے نوجوان علی رضا نے پاکستانی میڈیا کے ذریعے امریکی خاتون اونیجا اینڈریو رابنسن سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ "میں سچا پاکستانی ہوں اور میں نہیں چاہتا کہ پاکستان کی بدنامی ہو۔ اونیجا کو دھوکہ دیا گیا، اور میں یہ گوارا نہیں کرتا۔”علی رضا نے مزید کہا کہ "میڈیا کے ذریعے میں ان سے شادی کی پیشکش کرنا چاہتا ہوں، ان کے جو بھی مسائل ہیں، میں ان کو حل کروں گا۔ میرے گھر والے بھی میرے فیصلے کے ساتھ ہیں۔” انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ امریکی خاتون کی پریشانی کا کوئی تعلق ذہنی بیماری سے نہیں، بلکہ وہ صرف پریشان ہیں۔علی رضا نے کہا کہ وہ اونیجا کی عمر سے متعلق کچھ نہیں جانتے، لیکن ان کے ساتھ شادی کے بعد نواب شاہ یا امریکا میں رہنے کا فیصلہ ان کے اہل خانہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ "میرے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہو گی کہ میں ایک عیسائی خاتون کو مسلمان کر دوں۔”علی رضا نے یہ بھی کہا کہ ان کے پاس اچھی نوکری اور تنخواہ ہے، اور وہ پاکستان کی خدمت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔

    کراچی کی بزرگ خاتون نے امریکا سے آئی خاتون کو بہو قراردیدیا

    کراچی،امریکی خاتون کی برگر کھانے کی فرمائش چھیپا نے پوری کر دی

    کراچی کے نوجوان سے شادی کی دعویدار امریکی خاتون بارے بیٹے کا انکشاف

  • کراچی: کچرا کنڈی سے 6 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملنے کا  انکشاف

    کراچی: کچرا کنڈی سے 6 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملنے کا انکشاف

    گزشتہ ماہ کراچی شہر کے مختلف علاقوں میں کچرا کنڈی اور سڑک کنارے سے مجموعی طور پر 6 نوزائیدہ بچوں کی لاشیں ملیں .

    ایدھی فاؤنڈیشن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق گزشتہ ماہ 4 جنوری کو بلدیہ سیکٹر 4 سے نوزائیدہ بچے کی لاش ملی ، 19 جنوری کو لیاری عمر لائن کی کچرا کنڈی سے نوزائیدہ بچے کی لاش ملی ، 20 جنوری کو اختر کالونی میں کچرا کنڈی سے نوزائیدہ بچے کی لاش ملی۔ایدھی فاؤنڈیشن کے مطابق 30 جنوری کو محمود آباد میں سڑک جبکہ 31 جنوری کو ایک لاش گلستان جوہر کی کچرا کنڈی جبکہ دوسری نوزائیدہ بچے کی لاش گلشن اقبال میں کچرا کنڈی سے ملی۔نوزائیدہ بچوں کے حوالے سے شہر میں ریسکیو اداروں کی جانب سے اپنے دفاتر اور دیگر مقامات پر جھولے بھی لگائے گئے ہیں اور اس حوالے سے اپیل بھی کی گئی ہے کہ نوزائیدہ بچوں کو جھولوں میں ڈال دیا جائے تاکہ ان بچوں کی بہتر طور پر پرورش اور کفالت کی جا سکے۔

    کراچی آئی امریکی خاتون کے بیٹے نے ساری حقیقت بیان کردی

    غیر قانونی امیگریشن، برطانیہ میں انتہائی سخت قوانین متعارف

    پیکا ترمیمی ایکٹ ،صحافی برادری سڑکوں پر،تحریر: جان محمد رمضان

    ڈائریکٹر کی بےہودہ گفتگو سن کر فلم سے انکار کیا تھا ، پریانکا چوپڑا کا انکشاف

    اسرائیلی کمپنی کی اہم افراد کے واٹس ایپ اکاؤنٹ ہیک کرنے کی کوشش

  • ْجماعت اسلامی کےبجلی کی قیمتوں کے خلاف کراچی تا کشمور احتجاجی مظاہرے

    ْجماعت اسلامی کےبجلی کی قیمتوں کے خلاف کراچی تا کشمور احتجاجی مظاہرے

    بجلی کی قیمتیں کم نہ کرنے،آئی پی پیز کے ظالمانہ معاہدوں اور بدترین لوڈ شیڈنگ کے خلاف ملک بھر کی طرح سندھ میں بھی جماعت اسلامی کے تحت کراچی تا کشمور احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔

    صوبائی ترجمان مجاہدچنا کے مطابق حیدرآباد، کراچی،جیکب آباد،لاڑکانہ،شکارپور،ٹنڈوالہیار،میرپورخاص،جامشورو،ٹھٹھہ،بدین،کندھکوٹ،شکارپور،ٹنڈوآدم ،سانگھڑ اوردادوسمیت دیگرمقامات پرہونے والے مظاہروں میں شرکاء نے سخت نعرے بازی کے ساتھ آئی پی پیز سے ظالمانہ معاہدے ختم، بدترین لوڈ شیڈنگ کرکے معیشت کا پھیہ جام کرنا بندکرو، سرکاری افسران و ملازمین کو مفت بجلی بند کرو، عوام کو جینے کا حق دو جیسے دیگر نعروں و مطالبات پر مبنی پلے کارڈز ہاتھوں میں اٹھا رکھے تھے، جن سے جماعت اسلامی کے صوبائی،ضلعی اور مقامی قائدین نے خطاب کیا۔

    جماعت اسلامی سندھ کے امیر کاشف سعید شیخ نے ٹنڈوالہ یار میں پریس کلب پر احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آئی پی پیز مافیا، بجلی کمپنیوں اور کرپٹ افسران کی ملی بھگت سے بجلی بلوں میں ہوشربا اضافہ کرکے عوام کو ذہنی مریض جبکہ صنعت و معیشت کا پھیہ جام کردیا گیا ہے جس سے مہنگائی کا طوفان، محنت کش طبقہ فاقوں پر مجبور اور ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔اس ظالمانہ و دہرے معیار پر مبنی سسٹم میں جہاں ایک غریب اور عام آدمی اپنا پیٹ کاٹ کر اور گھر کا قیمتی سامانِ بیچ کر بجلی گیس کے بھاری بھرکم بل اور بے شمار ٹیکس ادا کرتا ہے وہاں یہی سب کچھ وزراء ججز جرنیلوں اور بیوروکریٹ سمیت سرکاری ملازمین کو مفت میں دیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بجلی چوری اور لائن لاسز کے اخراجات بھی بجلی کا بل ادا کرنے والوں پر ڈالے جاتے ہیں جو کہ سراسر ظلم و نا انصافی کی انتہا ہے۔

    وزیر توانائی کابجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں میں ہر ملازم 6 ہزار روپے کی مفت بجلی حاصل کرنے کاانکشاف اور مفت بجلی فراہمی بند نہ کرنے کی بے بسی کا بیان تشویش ناک ہے۔ان کا حکم اور ظلم صرف غریبوں اور بے بسوں پر ہی چلتا ہے۔ کروڑوں کی بجلی مفت اور چوری کرنے والے طاقتورں کو کچھ نہیں کہا جاتا۔ عوام کو فائدہ پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ آئی پی پیز نظرثانی شدہ معاہدوں سے 1100ارب روپے کی بچت سے بجلی بلوں میں کمی کرکے عوام کو ریلیف دیا جائے۔

    صوبائی امیر نے مطالبہ کیا کہ بجلی کے بل کم کرنے کے ساتھ ناجائز ٹیکسز ختم کیے جائیں، پیٹرول کی لیوی کم کی جائے۔ اربوں روپے کی سرکاری مراعات ختم کی جائیں، تنخواہ دار طبقے کو ریلیف فراہم کر کے جاگیردار طبقے پر ٹیکس عائد کیا جائے۔حکومت کہتی ہے کہ آئی پی پیز سے ڈیل ہوگئی جس کے نتیجے میں اربوں روپے کا فائدہ قومی خزانے کو ہورہا ہے تواس کا فائدہ عوام، انڈسٹری وکاٹیج انڈسٹری کو کیوں نہیں مل رہا ۔
    مظاہرے میں نائب قیم سہیل شارق،امیرضلع آصف یاسین ودیگر بھی موجود تھے۔کراچی میں بجلی کی قیمتیں کم نہ کرنے کے خلاف شہر کے 13 مقامات پر دھرنے دیئے گئے جن سے امیر حلقہ کراچی منعم ظفر و دیگر قائدین نے خطاب کیا۔ائی پی پیز نظر شدہ معاہدوں سے گیارہ سو ارب روپے کی بچت کا فائدہ عوام کو پہنچانے، بجلی قیمتیں کم اور اہل کراچی کو کے الیکٹرک مافیا سے نجات دلانے کا مطالبہ کیا گیا۔

    سانگھڑ پریس پراحتجاجی مظاہرے سے سندھ کے نائب امیر محمد افضال، ظہیرجتوئی،راجہ وسیم ، بدین میں پریس کلب پراحتجاجی مظاہرے سے امیرضلع سید علی مردن شاہ ،اللہ بچایوہالیپوتہ،عبدالکریم بلیدی ،جیکب آباد میں قائد اعظم روڈ سے پریس کلب تک مظاہرے سے حاجی دیدارلاشاری، صادق ملغانی ہدایت اللہ رند، لاڑکانہ میں جناح باغ سے پریس کلب تک مظاہرے سے امیرضلع ایڈووکیٹ نادر علی کھوسہ رمیزراجہ شیخ، کندھکوٹ پریس کلب پرامیرضلع غلام مصطفیٰ میرانی،اسداللہ چنا،حیدرآباد میں فقیرکاپڑچوک پرحافظ طاہرمجید،عبدالقیوم ، دادوپریس کلب پرضلعی جنرل سیکرٹری محمد موسیٰ ببر، کوٹری میں ضلعی امیر مولانا محمد عمر،میرپورخاص میں سبزی منڈی چوک پرامیرشہر شکیل احمد فہیم عاصم شیخ،ٹھٹھہ پریس کلب پرمظاہرے سے ضلعی امیرمجید سموں ،جنرل سیکرعبداللہ آدمگندرو،ٹنڈوآدم پریس کلب پرمقامی امیرعریف اللہ خان،عبدالغفور،عبدالستارانصاری نے جبکہ کنڈیارو میں امیرضلع نعیم احمد کمبوہ نے مظاہرے سے خطاب کیا۔

  • صارم زیادتی قتل کیس، پولیس کی فلیٹس میں دوبارہ تلاشی

    صارم زیادتی قتل کیس، پولیس کی فلیٹس میں دوبارہ تلاشی

    کراچی کےعلاقےنارتھ کراچی میں7 سالہ صارم کےاغوا، زیادتی اور قتل کیس کی تحقیقات جاری ہے، تفتیشی ٹیم نے ایک مرتبہ پھربلڈنگ میں فلیٹس کی تلاشی لی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ کراچی میں 7 سالہ صارم کے مبینہ اغوا اور قتل کیس میں مزید تفتیش کےلئے پولیس کی بھاری نفری نارتھ کراچی میں اس کے فلیٹ میں پہنچی۔پولیس نےکچھ فلیٹوں کی تلاشی لی، سرچنگ کا عمل مکمل کرنےکے بعد پولیس واپس چلےگئی۔پولیس کا کہناتھا کہ معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں، جلد اصل ملزمان تک پہنچ کرانہیں گرفتارکرلیں گے۔اس سے قبل صارم کے کیس میں تفتیش کےدوران پولیس نے 9 افراد پرشک کا اظہارکیا تھا۔ت

    تفتیشی حکام کا کہنا تھا کہ کیس کی تفتیش کے دوران 200 سے زائد گھروں کو چیک کیا گیا، مشتبہ افراد کے ڈی این اے ہو چکے ہیں، کسی کا بھی نتیجہ نہیں آیا، ڈی این اے کے رزلٹ آنے میں مزید ایک ہفتہ لگ سکتا ہے۔حکام کا کہنا تھا کہ 9 افراد ایسے ہیں جن پر زیادہ شک ہے، صارم قتل کیس پر4 ٹیمیں کام کررہی ہیں، اے وی سی سی، سی پی ایل سی، ٹیم تفتیش کر رہی ہے۔

    واضح رہے کہ نارتھ کراچی سے لاپتہ ہونے والے 7 سال کے بچے صارم کی لاش 11 روز بعد 18 جنوری کو اس کے فلیٹ میں پانی کے ٹینک سے ملی تھی۔دوسری جانب گارڈن سے کمسن عالیان اورعلی رضا کو لاپتہ ہوئے اٹھارہ روز گزرگئے، غمزدہ اہل خانہ نے سندھ اسمبلی کے باہر احتجاج کیا اورسڑک بلاک رکھی۔

    کالج سپریٹنڈنٹ فیس کے لاکھوں روپے لیکر فرار، طالبات پریشان

    مریم نواز سےمتعلق ہتک آمیز مواد شیئر کرنے والا ملزم گرفتار

    سندھ کے بعد پنجاب دوسرا صوبہ جس نے ای وی بس شروع کی، شرجیل میمن

    گوگل میں پھوٹ پر گئی، ملازمین کمپنی عہدے داران کے خلاف

    ایس آئی ایف سی اچھا کام کر رہی ۔ متنازعہ منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ سید ناصر حسین شاہ

  • کالج سپریٹنڈنٹ فیس کے لاکھوں روپے لیکر فرار، طالبات پریشان

    کالج سپریٹنڈنٹ فیس کے لاکھوں روپے لیکر فرار، طالبات پریشان

    گورنمنٹ کالج فار وومن ناظم آباد کا سپرنٹنڈنٹ طالبات کی فیس کی مد میں وصول کی جانے والی نقد رقم 9 لاکھ 10 ہزار 2 سو روپے لے کر فرار ہو گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کالج پرنسپل کی درخواست پر سپرنٹنڈنٹ کے خلاف رضویہ سوسائٹی تھانے میں مقدمہ درج کرلیا گیا۔ مدعیہ مقدمہ شہلا بشیر کے مطابق وہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ میں 20 گریڈ کی پروفیسر ہیں اور بحیثیت گورنمنٹ کالج فار وومن ناظم آباد میں پرنسپل تعینات ہیں۔ تین روز قبل کالج کے اسٹاف سے انہیں معلوم ہوا کہ کالج کی طالبات ایڈمٹ کارڈز وصول کرنے آ رہی ہیں، مگر طالبات کے ایڈمٹ کارڈ جاری نہیں ہوئے ہیں۔ایڈمٹ کارڈز کالج کے سپرنٹنڈنٹ محمد نفیس، جو کہ 17 گریڈ میں ہیں، نے جاری کرنے تھے۔ اب انہیں معلوم ہوا کہ سپرنٹنڈنٹ محمد نفیس بد دیانتی سے کالج کی تقریباً 81 طالبات سے امتحانی فیس کی مد میں نقد رقم 9 لاکھ 10 ہزار 2 سو روپے وصول کر چکا ہے، مگر یہ رقم بینک میں جمع کرانے کے بجائے خود رکھ لی۔

    اکتوبر 2024 میں طلبہ و والدین کے لیے کالج کی دیوار پر نوٹس بھی لگایا گیا تھا کہ وہ کالج کے کسی بھی اسٹاف ممبر کو کسی بھی مد میں نقد رقم نہ دیں اور بینک واؤچر حاصل کریں۔مدعیہ نے بتایا کہ مزید طالبات کی شکایات موصول ہو رہی ہیں کہ سپرنٹنڈنٹ محمد نفیس آخری مرتبہ 25 جنوری کو آیا تھا اور اس کے بعد وہ کالج نہیں آیا۔ میرا دعویٰ ہے کہ محمد نفیس ولد اشرف الدین نے ناجائز طور پر امتحانی فیس کی مد میں طالبات سے نقد رقم وصول کر کے خرد برد کی ہے، لہٰذا قانونی کارروائی کی جائے۔پولیس نے مقدمے کے اندراج کے بعد کالج کے سپرنٹنڈنٹ کی تلاش میں چھاپہ مار کارروائیاں شروع کر دی ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کالج کے سپرنٹنڈنٹ کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

    مریم نواز سےمتعلق ہتک آمیز مواد شیئر کرنے والا ملزم گرفتار

    سندھ کے بعد پنجاب دوسرا صوبہ جس نے ای وی بس شروع کی، شرجیل میمن

    گوگل میں پھوٹ پر گئی، ملازمین کمپنی عہدے داران کے خلاف

    ایس آئی ایف سی اچھا کام کر رہی ۔ متنازعہ منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ سید ناصر حسین شاہ

    نیا سال کراچی والوں پر بھاری، پہلے مہینے میں 45 افراد قتل

  • سندھ کے بعد پنجاب دوسرا صوبہ  جس نے ای وی بس شروع کی، شرجیل میمن

    سندھ کے بعد پنجاب دوسرا صوبہ جس نے ای وی بس شروع کی، شرجیل میمن

    کراچی/لاہور (سعد فاروق ) پاکستان میں ماحولیاتی تبدیلی اور شہری نقل و حمل کے مسائل کو کم کرنے کے لیے سندھ اور پنجاب حکومتوں نے الیکٹرک بسیں (ای وی بسز) متعارف کرائی ہیں۔ دونوں صوبوں کے اقدامات نے عوامی نقل و حمل کے شعبے میں ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ تاہم پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے آج لاہور میں ای وی بس کا افتتاح کیا اور دعویٰ کیا کہ پاکستان کی پہلی وی بس سروس لاہور میں لانچ کی گئی جس پر سندھ کے سینئر وزیر، وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی پوسٹ کو ٹیگ کرتے کہا کہ یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ سندھ کے بعد پنجاب نے بھی ای وی بسوں کا آغاز کر دیا ہے، لیکن ریکارڈ کی درستگی کے لیے ضروری ہے کہ یہ بتایا جائے کہ ای وی بسوں کا آغاز سب سے پہلے سندھ حکومت نے جنوری 2023 میں کیا تھا۔ سندھ حکومت نے ماحول کی بہتری اور فضائی آلودگی کو کم کرنے کے لیے اس منصوبے کو شروع کیا تھا، اور اب پنجاب نے اس قدم کی تقلید کی ہے۔ سندھ کے عوام کو بہتر ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرنے کے لیے یہ ایک اہم اقدام تھا، اور اب دوسرے صوبوں کو بھی اس طرح کے منصوبے شروع کرنے چاہئیں تاکہ ملک بھر میں پائیدار اور صاف ستھری ٹرانسپورٹ سروسز فراہم کی جا سکیں۔

    وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کا مزید کہنا تھا کہ سندھ حکومت کا یہ قدم نہ صرف ماحولیات کے لیے فائدہ مند ہے، بلکہ یہ ٹرانسپورٹ کے نظام میں بھی جدیدیت لانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ کی حکومت نے ہمیشہ عوامی مفاد میں جدید اور صاف ستھری ٹیکنالوجی اپنائی ہے اور مستقبل میں بھی اس طرح کے منصوبوں پر کام جاری رہے گا.

    https://x.com/sharjeelinam/status/1885355712030691687

    یاد رہے کہ سندھ حکومت نے جنوری 2023 میں کراچی میں ای وی بسوں کا آغاز کیا تھا، جس کا مقصد نہ صرف ٹرانسپورٹ کے نظام کو بہتر بنانا تھا، بلکہ اس کے ذریعے فضا میں کاربن کے اخراج کو کم کرنا بھی تھا۔اب پنجاب نے بھی اس منصوبے کی پیروی کی ہے اور صوبے میں ای وی بسوں کا آغاز کر دیا ہے، جسے ماحولیات کے حوالے سے ایک مثبت قدم کے طور پر سراہا جا رہا ہے۔

    سندھ حکومت نے جنوری 2023 میں شہر قائد میں ای وی بس کا آغاز کیا تھا، کراچی میں الیکٹرک بس کا روٹ
    ملیر سے براستہ شاہراہ فیصل، ڈیفنس اور سی ویو تک ہے اور اس بر پر یکطرفہ کرایہ پچاس روپے رکھا گیا تھا،پاکستان میں پہلی بار سندھ حکومت نے بجلی سے چلنے والی یہ بسیں منگوائی تھیں،کراچی میں چلنے والی ای وی بسیں مکمل طور پر ائیر کنڈیشنڈ ہیں، اس میں70 سے زائد مسافروں کے سفر کرنے کی گنجائش موجود ہے،ان بسوں میں پانچ سو کلو واٹ کی بیٹری لگی ہے جسے ایک بار چارج کرنے پر 2 سو کلومیٹر سے زائد کا سفر کیا جاسکتا ہے ۔ یہ بیٹری 40 منٹ میں دوبارہ چارج ہوسکتی ہے ، شرجیل انعام میمن نے ایکس پر سندھ میں الیکٹرک بسوں کے افتتاح کی خبریں اور تصاویر بھی شیئر کیں اوروزیراعلیٰ پنجاب کے دعوے کہ پنجاب ای وی بس لانچ کرنے والا پہلا صوبہ کو غلط ثابت کر دیا،

    سندھ حکومت کا اقدام
    سندھ حکومت کی جانب سے شہر قائد کراچی میں ای وی بس لانچ کرنے کے منصوبے کا مقصد شہر میں فضائی آلودگی کو کم کرنا اور عوامی نقل و حمل کے نظام کو بہتر بنانا تھا۔ کراچی کے لیے یہ پہلی بار تھا کہ ای وی بسیں متعارف کرائی گئیں۔ یہ بسیں چائنا سے درآمد کی گئی تھیں اور انہیں کراچی کے مصروف ترین روٹس پر چلانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ سندھ حکومت کے ترجمان کے مطابق، اس اقدام سے نہ صرف ماحول دوست ٹیکنالوجی کو فروغ ملا، بلکہ شہریوں کو جدید اور آرام دہ نقل و حمل کی سہولت بھی فراہم ہوئی۔

    پنجاب حکومت کا اقدام
    پنجاب حکومت نے لاہور میں الیکٹرک بسیں آج 31 جنوری کو لانچ کیں اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے باقاعدہ افتتاح کیا۔ لاہور میں فضائی آلودگی کے بڑھتے ہوئے مسائل کو دیکھتے ہوئے، پنجاب حکومت نے یہ قدم اٹھایا۔ پنجاب حکومت کے مطابق، اس منصوبے کا مقصد 2030 تک سبز اور پائیدار نقل و حمل کے نظام کو یقینی بنانا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ اقدام شہریوں کو سستی اور ماحول دوست نقل و حمل کی سہولت فراہم کرنے کی طرف ایک اہم قدم ہے۔

    عوامی ردعمل
    دونوں صوبوں میں الیکٹرک بسیں متعارف کرانے کے فیصلے کو عوام کی طرف سے مثبت ردعمل ملا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ بسیں نہ صرف ماحول کے لیے بہتر ہیں، بلکہ یہ ڈیزل اور پیٹرول سے چلنے والی بسیں کے مقابلے میں کم شور اور زیادہ آرام دہ ہیں۔

    مستقبل کے منصوبے
    سندھ اور پنجاب حکومتیں مستقبل میں الیکٹرک بسیں کے نئے روٹس متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ چارجنگ اسٹیشنز کے نیٹ ورک کو بھی بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ، دیگر شہروں میں بھی ای وی بسیں متعارف کرانے پر غور کیا جا رہا ہے۔ الیکٹرک بسیں کا آغاز پاکستان میں ماحولیاتی تحفظ اور جدید نقل و حمل کے نظام کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ دونوں صوبوں کے اقدامات سے امید ہے کہ دیگر صوبے بھی اس سمت میں کام کریں گے

    گوگل میں پھوٹ پر گئی، ملازمین کمپنی عہدے داران کے خلاف

    نیا سال کراچی والوں پر بھاری، پہلے مہینے میں 45 افراد قتل

    پاک بحریہ کا بحیرہ عرب میں ریسکیو آپریشن، 8ماہی گیروں کو بچا لیا

  • ایس آئی ایف سی اچھا کام کر رہی ۔   متنازعہ منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ سید ناصر حسین شاہ

    ایس آئی ایف سی اچھا کام کر رہی ۔ متنازعہ منصوبوں پر نظرثانی کرے۔ سید ناصر حسین شاہ

    سندھ کے صوبائی وزیر سید ناصر حسین شاہ نے نجی ٹی وی چینل 365 نیوز کے پروگرام "کھرا سچ” میں سینئر صحافی اور اینکر پرسن مبشر لقمان کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ میں پانی کی کمی کا مسئلہ سنگین ہے اور اس کے حل کے لیے حکومت پانی کو بچانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کو بھی پانی کی کمی کا سامنا ہے اور کینال کے پانی پر پنجاب کا بھی حق ہے۔ انہوں نے اس بات کا اقرار کیا کہ پہلے ڈیم بھر جاتے تھے اور پھر نہروں سے فصلوں کو پانی دیا جاتا تھا، مگر اب اس میں کمی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

    ناصر حسین شاہ نے مزید کہا کہ جب سندھ میں سیلاب آیا تو ہمارا ایریگیشن نظام کامیابی سے کام کرتا رہا، سندھ کے دیہی علاقوں کو فصلوں کے لیے پانی فراہم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ محکمہ پی اینڈ ڈی پنجاب نے نہریں نکالنے کی مخالفت کی تھی۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاق کے سامنے کھل کر اپنا موقف پیش کیا اور وزیراعظم سے بھی اس بارے میں بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سندھ کا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ کوئی بھی ایسا منصوبہ جو سندھ اور ملک کے لیے نقصان دہ ہو، اسے قبول نہیں کیا جائے گا۔

    کالا باغ ڈیم پر بات کرتے ہوئے وزیر سندھ سید ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کے لیے کالا باغ ڈیم پر ہمیشہ اعتراض رہا ہے اور یہ اعتراض برقرار رہے گا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر پیسے موجود ہیں تو دوسرے ڈیم کیوں نہیں بنائے جا رہے؟ انہوں نے کہا کہ کالا باغ ڈیم 16 روہے میں بننا تھا کیا کہ دوسرے ڈیم فنڈز کی کمی کا بہانہ کر کے نہیں بنائے جا رہے۔ پاکستان میں اس وقت ایس آئی ایف سی اچھے کام کر رہی ہے جن کی وجہ سے انویسٹمنٹ آئی اور معاہدے ہوئے، ہم اس کے کام کو سراہتے ہیں زیادہ فصلیں اگانے کے لیے اگر سندھ کی زمین درکار ہے تو ہم دینے کو تیار ہیں

    سید ناصر حسین شاہ نے واضح کیا کہ سندھ میں پانی بچانے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی کہ سندھ کے دیہی علاقوں میں فصلوں کے لیے پانی فراہم کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں اگر دریائے سندھ پر کوئی نئی کینال بنائی جاتی ہے، تو اس پر ان کا اعتراض رہے گا کیونکہ اس سے سندھ کے بچوں کا مستقبل متاثر ہو سکتا ہے۔

    وزیر سندھ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سندھ میں پانی کے مسائل کو حل کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی مدد ضروری ہے، تاکہ تمام صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم میں توازن قائم ہو سکے اور کوئی بھی منصوبہ سندھ کی معیشت یا ماحولیات کے لیے نقصان دہ نہ ہو۔

    سید ناصر حسین شاہ کا مزید کہنا تھا کہ کھالوں کو پکا کرنے کا سب سے زیادہ کام سندھ میں ہوا بھارت نے ہمارے پانیوں پر قبضہ کیا بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی جائے۔ پانی کی کمی کچھ سالوں میں ہو جائے گی بین الاقوامی عدالت یا اقوام متحدہ میں آواز اٹھانا ہو گی۔ بھارت کو بین الاقوامی قوانین پر عمل کرنا یو گا ۔ غلط کام کرنے والے کو سزا ہونی چاہیے ہماری زمینیں بہت زیادہ غیر آباد ہیں کالا باغ ڈیم کے حوالہ سے جھوٹی کہانیاں گھڑی گئیں دو بڑے سیلاب 2010 اور 2022 میں آئے ۔ ہم چاہتے ہیں انتشار نہ ہو ملک آگے بڑھ رہا ہے۔ ایس آئی ایف سی کا جو کردار ہے اسکو سپورٹ کرتے ہیں لیکن اگر ایک آدھ منصوبے سے اس طرح کا ماحول بنتا یے تو اسے دوسری طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے جیسے میں نے کہا کہ ہماری زمینیں حاضر ہیں۔ چولستان بھی آباد ہونا چاہیے۔ ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ زمین آباد کرنی یے اور دارومدار پانی پر ہے تو پھر وہ علاقہ جہاں زمین ہو جیسے ہمارے پاس تھر ہے ہم دینے کو تیار ہیں اگر اس پر بات نہیں کی گئی تو کی جائے گی ۔ جب ہم مل کر بیٹھتے ہیں تو مسائل ہو سکتے ہیں۔ ایس آئی ایف سی کو ہم سپورٹ کرتے ہیں متنازعہ منصوبوں کو ریویو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کوئی حل نکلے ۔ انڈس سے پانی نکلنے پر ہمیں اعتراض ہو گا ۔ کیونکہ پانی کم ہو گا پینے کے پانی کا بھی اسی پر انحصار ہوتا ہے ۔ حقائق پر مبنی ایشو ہیں ہم پاکستان کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں