Baaghi TV

Category: کراچی

  • ضوابط کی خلاف ورزی پر ایکسچینج کمپنی کا لائسنس منسوخ

    ضوابط کی خلاف ورزی پر ایکسچینج کمپنی کا لائسنس منسوخ

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ضوابط کی سنگین خلاف ورزیوں پر سخت کارروائی کرتے ہوئے میسرز گلیکسی ایکسچینج (پرائیویٹ) لمیٹڈ کا لائسنس فوری طور پر منسوخ کر دیا ہے،جس کے بعد کمپنی اب کسی قسم کی غیر ملکی کرنسی کی خرید و فروخت نہیں کر سکتی-

    مرکزی بینک کے اعلامیے کے مطابق لائسنس کی منسوخی کے بعد میسرز گلیکسی ایکسچینج (پرائیویٹ) لمیٹڈ، اس کے صدر دفتر اور تمام آؤٹ لیٹس اب زرِ مبادلہ سے متعلق کسی بھی قسم کی کاروباری سرگرمی انجام دینے کے مجاز نہیں رہے،اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ صارفین کے مفادات کے تحفظ اور فارن ایکسچینج مارکیٹ میں اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضوابط کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔

    ‎فاروق ستار حقیقت مسخ نہیں کر سکتے، گل پلازہ میں ان کا کردار موجود ہے، شرجیل میمن

    انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    بھارتی اداکار رہائشی عمارت پر فائرنگ کے الزام میں گرفتار

  • ‎فاروق ستار حقیقت مسخ نہیں کر سکتے، گل پلازہ میں ان کا کردار موجود ہے، شرجیل میمن

    ‎فاروق ستار حقیقت مسخ نہیں کر سکتے، گل پلازہ میں ان کا کردار موجود ہے، شرجیل میمن

    ‎وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ فاروق ستار چاہے جتنی بھی فصیح و بلیغ اردو بول لیں، وہ حقائق کو مسخ نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کی لیز اور اس سے متعلق قانون شکنی میں بطور میئر فاروق ستار کا کردار رہا، جبکہ جماعت اسلامی کے بعض ناظمین بھی اس عمل میں شامل تھے۔
    ‎شرجیل میمن نے اپنے بیان میں کہا کہ فاروق ستار اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ انہی فیصلوں نے آگے چل کر گل پلازہ جیسے سانحے کو جنم دیا۔ ان کے مطابق اس واقعے میں فاروق ستار کا براہ راست اور بالواسطہ کردار موجود ہے۔
    ‎پیپلز پارٹی کے رہنما کا کہنا تھا کہ یہ تمام غیر قانونی اقدامات اٹھارہویں ترمیم سے قبل کیے گئے تھے اور اب فاروق ستار خود کو بری الذمہ ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے ان غلط فیصلوں کی بنیاد رکھی، وہ آج ان سوالات سے فرار اختیار نہیں کر سکتے۔
    ‎شرجیل میمن نے کہا کہ آج کراچی کے عوام یہ سوال کر رہے ہیں کہ اگر ابتدا ہی غلط بنیادوں پر کی گئی تھی تو اس کے نتائج کی ذمہ داری کون قبول کرے گا۔

  • انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے،پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر یاسر حسین کا سنی دیول پر طنز

    بھارت نے ایک اور پاکستان مخالف فلم “بارڈر 2” بنائی ہے، جس میں سنی دیول مرکزی کردار میں نظر آئیں گے۔

    تفصیلات کے مطابق فلم میں 1971 کی پاک بھارت جنگ کو موضوع بنایا گیا ہے اور ٹیزر میں سنی دیول کو ایک بار پھر جنگی نعروں اور جارحانہ مکالموں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے،فلم کی پروموشن کے دوران سنی دیول نے ایک پاکستان مخالف ڈائیلاگ دیتے ہوئے کہا کہ “آواز کتنی دور تک جانی چاہیے؟ سیدھی لاہور تک!”

    ویڈیو میں سنی نے یہ ڈائیلاگ ہچکچاہٹ کے ساتھ دیا، جو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا،پاکستانی اداکار اور ہدایت کار یاسر حسین نے سنی دیول کے پاکستان مخالف ڈائیلاگ پر طنزیہ ردعمل دیا اور اس وائرل ویڈیو کو اپنی انسٹاگرام اسٹوری پر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ “انکل اپنی آواز بھی نہیں نکال سکتے”۔

    واضح رہے کہ بھارتی میڈیا کے مطابق فلم کو دنیا بھر میں 23 جنوری 2026 کو ریلیز کرنے کا شیڈول تھا، تاہم ادیتیہ دھر کی فلم ‘دھریندر’ کی طرح بارڈر 2 بھی بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں سینما ہالز میں نمائش کی اجازت حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

  • سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے اور چاندی کی قیمتوں میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے جس کے نیتجے میں قیمتیں دھاتوں کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی ہیں۔

    بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں مزید 65 ڈالر کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد سونے کی قیمت 4 ہزار 988 ڈالر کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    ملک میں 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 6 ہزار 500 روپے کے نمایاں اضافے سے 5 لاکھ 21 ہزار 162 روپے کی نئی بلند سطح پر پہنچ گئی اسی طرح فی 10 گرام سونے کی قیمت بھی 5 ہزار 573 روپے اضافے کے بعد 4 لاکھ 46 ہزار 812 روپے کی سطح پر آ گئی۔ جمعہ کو سونے کی فی تولہ قیمت 9 ہزار 100 روپے کے اضافے سے 5 لاکھ 14 ہزار 662 روپے ہوگئی تھی۔

    اسی طرح چاندی کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جہاں فی تولہ چاندی کی قیمت یکدم 526 روپے بڑھ کر 10 ہزار 801 روپے کی نئی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی اسی طرح فی 10 گرام چاندی کی قیمت 451 روپے کے اضافے سے 9 ہزار 260 روپے کی سطح پر آ گئی۔

  • فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی

    فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں،شاہد خاقان عباسی

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔

    کنوینئر عوام پاکستان پارٹی اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران آئینی ترامیم، گل پلازہ سانحے، اور عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق حالیہ قانون سازی کو ایک ہی تناظر میں جوڑتے ہوئے کہا ہے کہ اصل مسئلہ شفافیت کی کمی، عجلت میں فیصلے اور عوام کو نظر انداز کرنے کا رویہ ہے جمہوریت کا تقاضا یہ ہے کہ فیصلے عوام کے سامنے ہوں، نہ کہ بند کمروں اور رات کے اندھیرے میں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہے اٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں۔

    شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کراچی کے مسائل کو حل کرنے کے بجائے یہ کہنا کہ آئینی ترمیم کر کے شہر کو وفاق کے حوالے کر دیا جائے، کسی صورت قابلِ قبول نہیں، اگر آئین میں کسی مقصد کے تحت ترمیم درکار ہو تو اس کے لیے مکمل طریقۂ کار موجود ہے، جس میں عوام کو اعتماد میں لینا، پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث اور تمام فریقین کی رائے شامل کرنا ضروری ہےاٹھارہویں ترمیم کی تیاری میں برسوں لگے تھے، اس کے باوجود عجلت کے باعث خامیاں رہ گئیں، گل پلازہ جیسے سانحات میں حکومت کی اولین ذمہ داری متاثرین، شہدا کے لواحقین اور متاثرہ تاجروں کی بات سننا اور عملی حل تلاش کرنا ہے، بد قسمتی سے یہاں بھی سنجیدگی کے بجائے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے عوام کا اعتماد مزید مجروح ہو رہا ہے۔

    انہوں نے نے عوامی نمائندوں کے اثاثہ جات کو خفیہ رکھنے سے متعلق قانون پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس میں انہیں کوئی منطق نظر نہیں آتی، عوامی نمائندوں کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کے درمیان رہیں اور ان کی زندگی کا ہر پہلو عوام کے سامنے ہو اگر کسی نمائندے کو اپنی جان یا مال کا اتنا خوف ہے کہ وہ اثاثے ظاہر نہیں کرنا چاہتا تو اسے سیاست چھوڑ دینی چاہیے۔

    انہوں نے کہا کہ عوامی نمائندے ملک کا واحد طبقہ ہیں جن کے ٹیکس گوشوارے بھی عوامی سطح پر شائع ہوتے ہیں، لیکن اب اگلا قدم شاید یہ ہو کہ انہیں بھی خفیہ کر دیا جائےحقیقت یہ ہے کہ بہت کم ایسے ارکانِ اسمبلی ہیں جو اپنے اثاثے اور آمدن درست طور پر ظاہر کرتے ہیں، جبکہ اخراجات لاکھوں اور کروڑوں میں ہوتے ہیں اور ٹیکس چند ہزار یا چند لاکھ ادا کیا جاتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ رویہ پورے نظام کو تباہ کر رہا ہے قومی اسمبلی نے عجلت میں یہ قانون منظور کر کے اسپیکر کو اختیار دے دیا کہ وہ فیصلہ کرے کہ گوشوار ے عوام کے سامنے آئیں یا نہیں،اس قانون کو ختم ہونا چاہیے کیونکہ یہ پارلیمان کے دامن پر ایک کالا دھبہ ہے بدقسمتی سے ہم نے اتنے کالے دھبے قبول کر لیے ہیں کہ اب ہمیں اس بات کی پرواہ نہیں رہی کہ عوام کیا سوچتے ہیں، ان کے مسائل کیا ہیں اور ان کی رائے کی کیا اہمیت ہےمعاملہ گل پلازہ کے سانحے کا ہو یا آئینی ترامیم کا، مسئلہ آخرکار اسی جگہ آ کر رک جاتا ہے کہ فیصلے عوام کے بغیر اور عوام کے خلاف کیے جا رہے ہیں، جو کسی بھی جمہوری نظام کے لیے خطرناک ہے۔

  • سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل

    سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج، غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل

    کراچی: سانحہ گل پلازہ کا مقدمہ سرکار کی مدعیت میں درج کرلیا گیا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق مقدمے میں غفلت اور لاپرواہی کی دفعات شامل کی گئی ہیں، تحقیقاتی رپورٹ نہیں آئی اس لئے مقدمہ نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا،مقدے میں کہا گیا کہ بجلی بند کردی گئی تھی جس سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، گل پلازہ کے کئی دروازے بند تھے جس سے صورتحال خراب ہوئی۔

    گل پلازہ واقعے کے مقدمے تاحال کسی کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا، پولیس ذرائع کے مطابق ایف آئی آر کاٹنے کے بعد گل پلازہ سیل کر دیا گیا ہے۔

  • وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا،فاروق ستار

    متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما فاروق ستار نے کہا ہے کہ سانحہ گل پلازہ پر اٹھنے والے اہم سوالات کے واضح جواب دینے کے بجائے وزیراعلیٰ سندھ عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں-

    کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ پر سنگین نوعیت کے سوالات موجود ہیں، لیکن پوچھا کچھ اور جا رہا ہے اور جواب کچھ اور دیا جا رہا ہے ہم نے کوئی قیاس آرائی نہیں کی بلکہ صرف سوالات اٹھائے ہیں، جن کے جواب دینا حکومت کی ذمہ داری ہےحتمی تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ آگ کیسے لگی، مگر یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سانحے کے 20 سے 22 گھنٹے بعد جائے وقوعہ پر کیوں پہنچے اسی طرح میئر کراچی بھی 23 گھنٹے بعد وہاں پہنچے، اور تنقید کے بعد بتایا گیا کہ وہ اسلام آباد میں تھے۔

    فاروق ستار کا کہنا تھا کہ جب آپ تقریباً ایک دن بعد حادثے کے مقام پر پہنچے اور عوام کے ردعمل کو دیکھا تو تب جا کر واقعے کی سنگینی کا اندازہ ہوا اصل سوالات یہ ہیں کہ ان تاخیروں کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے اور ان کا جواب کون دے گا، اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ عمارت لیز پر تھی تو کیا اس لیز کو کبھی چیلنج کیا گیا؟ کیا لیز میں یہ لکھا تھا کہ آگ لگنے کی صورت میں اسے بجھایا نہیں جائے گا؟ یہ وہ بنیادی سوالات ہیں جن سے توجہ ہٹائی جا رہی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی پوچھا گیا ہے کہ شہر میں کتنے فائر ٹینڈرز درست حالت میں ہیں اور کتنے خراب ہیں، اور گزشتہ 18 برسوں میں کتنے نئے فائر اسٹیشنز قائم کیے گئے یہ سوالات ہیں اور ان کا جواب بھی انہی 18 سالوں کی حکمرانی میں دینا ہوگاجب حکومت سے سوال کیا جائے تو فوراً کہا جاتا ہے کہ سانحے پر سیاست نہ کریں، مگر یہ بھی تو پوچھا جانا چاہیے کہ وزیراعلیٰ کہاں تھے اور وزرا کی اتنی بڑی تعداد کہاں غائب تھی۔

    انہوں نے الزام عائد کیا کہ 2008 سے سندھ کے وسائل پر قابض رہنے والوں سے سوال ہے کہ مزید کتنی عمارتوں کے جلنے کا انتظار کیا جا رہا ہے، اور کب تک صرف متاثرہ عمارتوں اور پلاٹوں کا ڈیٹا اکٹھا کیا جاتا رہے گا،وہ وقت آ رہا ہے جب وزیراعلیٰ سندھ کا احتساب کیا جائے گا، کیونکہ عوام کے جان و مال کے تحفظ میں ناکامی پر مزید خاموشی ممکن نہیں۔

  • راچی میں سردی کی نئی لہر، درجہ حرارت 10 ڈگری تک گرنے کا امکان

    راچی میں سردی کی نئی لہر، درجہ حرارت 10 ڈگری تک گرنے کا امکان

    ‎کراچی میں گزشتہ روز ہونے والی بارش کے بعد موسم اچانک سرد ہو گیا ہے اور محکمہ موسمیات نے نئی پیشگوئی جاری کی ہے۔ محکمہ کے مطابق شہر میں دن کا درجہ حرارت 20 ڈگری ریکارڈ کیا گیا جبکہ صبح سویرے کم سے کم درجہ حرارت 10.5 ڈگری تھا۔ شمال مغرب سے خشک اور ٹھنڈی ہوائیں 15 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی ہیں۔
    ‎محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ سردی کی یہ لہر ایک ہفتے تک جاری رہنے کا امکان ہے اور درجہ حرارت سنگل ڈیجٹ تک گر سکتا ہے۔ آج کراچی میں مطلع ابرآلود رہے گا اور وقفے وقفے سے ہلکی سے درمیانی بارش متوقع ہے، جس کے دوران گرد آلود تیز ہوائیں چل سکتی ہیں۔
    ‎گزشتہ روز سب سے زیادہ بارش سرجانی میں 26.3 ملی میٹر، نارتھ کراچی میں 20 ملی میٹر اور گلشن معمار میں 17 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی تھی۔ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی بارش اور پہاڑوں پر برفباری کے باعث معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔

  • سندھ حکومت نے گل پلازہ کی ازسرنو تعمیر کا فیصلہ کر لیا

    سندھ حکومت نے گل پلازہ کی ازسرنو تعمیر کا فیصلہ کر لیا

    ‎سندھ حکومت نے آگ سے متاثرہ گل پلازہ کی ازسرنو تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تعمیرات کے لیے حکومت اپنے بجٹ کا استعمال کرے گی اور کثیر المنزلہ عمارت کی تعمیر ایک سال کے اندر مکمل کی جائے گی۔
    ‎تعمیر مکمل ہونے کے بعد دکانیں پہلے کے مالکان یا الاٹیز کو واپس دی جائیں گی۔ سندھ حکومت نے تعمیر کے عمل میں ماہرین تعمیرات کی مدد حاصل کر لی ہے تاکہ منصوبہ بروقت اور معیاری طریقے سے مکمل ہو۔
    ‎اس دوران متاثرین کے کاروبار کے تسلسل کے لیے حکومت نے عارضی طور پر تین جگہیں مختص کر دی ہیں تاکہ دکان دار اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔

  • سانحہ گل پلازہ،اموات 71 ہو گئیں

    سانحہ گل پلازہ،اموات 71 ہو گئیں

    کراچی سانحہ گل پلازہ،انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی عامر حسن کا کہنا ہے کہ رات کے اوقات میں مزید انسانی باقیات کو اسپتال لایا گیا ہے، مزید چار بیگ اسپتال لائے گئے ہیں،

    انچارچ شناخت ڈیسک سی پی ایل سی کا کہنا ہے کہ اسپتال لائی گئی باقیات کی جانچ کی جارہی ہے، ممکنہ طور پر یہ باقیات چار لوگوں کی ہوسکتی ہے، ممکنہ طور پر جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 71 ہوگئی،

    دوسری جانب ڈی جی ریسکیو 1122 بریگیڈیئر ریٹائرڈ صبغت اللہ نے سانحہ گل پلازہ کے سرچنگ آپریشن سے متعلق بتایا ہے کہ آج بلڈنگ کی سرچنگ مکمل کریں گے۔ 10 سے 15 فیصد حصہ وہ ہے جہاں نہیں پہنچ سکے تھے۔ آج وہاں بھی پہنچ کر سرچنگ کی جائے گی۔انہوں نے امکان ظاہر کیا ہے کہ جس مقام پر آگ لگنی شروع ہوئی تھی وہاں سے لاشیں ملیں گی۔ ڈی جی ریسکیو 1122 نےکہا کہ سانحے کو 7 روز ہوچکے ہیں۔ امید نہیں کہ زندگی یہاں کوئی موجود ہے۔ پچھلے تین دن سے جی پی ایس ریڈار بھی استعمال کیا جارہا ہے۔ ریڈار کے ذریعے دیکھا گیا کہ کوئی ذندہ موجود ہے یا نہیں۔

    دوسری جانب سانحہ گل پلازہ کے بعد انتظامی اداروں کو ہوش آگیا،شہر میں فائر سیفٹی انتظامات پر عملدرآمد کرانے کیلیے اقدامات کئے جانے لگے، گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل میں کے ایم سی کی معاوںت کیلیے ایس بی سی اے کی 4 ٹیمیں تشکیل دے دی گئیں، چار ٹیموں میں ایس بی سی اے کے 16 افسران اور ملازمین شامل ہیں،ضلع جنوبی، شرقی اور وسطی میں عمارتوں میں آتشزدگی سے حفاظتی انتظامات کے سروے کیلیے تین ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،ضلع جنوبی میں سروے اور گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل کی نگرانی کیلیے ڈائریکٹر کی نگرانی میں چھ رکنی ٹیم کو خصوصی ٹاسک دے دیا، ضلع جنوبی میں چھ رکنی ٹیم میں دو اسٹنٹ ڈائریکٹر ، ایک سنئیر بلڈنگ انسپکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع وسطی میں بھی عمارتوں کے سروے کیلیے 7 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں متعلقہ ٹیم آتشزدگی کے حوالے سے حفاظتی اقدامات یقینی بنانے کا جائزہ لے گئی ، ضلع شرقی میں بھی عمارتوں میں آتشزدگی سے واقعات سے نمٹنے کے اقدامات کے سروے کیلیے ٹیم تشکیل دی گئی، ضلع وسطی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں چار اسٹنٹ ڈائریکٹر اور تین بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ضلع شرقی میں عمارتوں کے سروے کیلیے بنائی ٹیم میں دوڈپٹی ڈائریکٹر ، دو اسٹنٹ ڈائریکٹر اور دو بلڈنگ انسپکٹر شامل ہیں، ٹیمیں عمارتوں میں سے آ گ بجھانے کے آلات , ہنگامہ راستہ فعال ہونے کا جائزہ لے گی، ٹیمیں عمارتوں میں فائر الارم سمیت آتشزدگی کے واقعات سے نمٹنے کیلیے عملہ کی تربیت کا بھی جائزہ لے گی.