Baaghi TV

Category: کراچی

  • حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

    حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے اور لوٹ مار کے دوران جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت ، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوچکے ہیں .

    باغی ٹی وی کے مطابق منعم ظفر خان نے اپنے بیان میں مزیدکہاکہ شہری ایک جانب ڈکیتی کی وارداتوں سے پریشان ہیں دوسری جانب شہر میں ایک بار پھر سے ٹارگٹ کلنگ کے وارداتیں شروع ہوچکی ہیں، پیسے اور موبائل فون چھین لینے کے باوجود لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے ، حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ،صوبائی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائمز کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے،بتایا جائے کہ آخر جرائم پیشہ عناصر ودہشت گرد وںکے نیٹ ورک کو توڑا کیوں نہیں جارہا ،کون سی طاقتیں ان کی سرپرستی کررہی ہیں ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کب شروع ہوگی رواں سال ڈکیتی کی وارداتوں میںاب تک 102 شہری اپنی جان گنوابیٹھے ،شہری مسلح ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کی دن دہاڑے اور بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث نہ صرف پریشان ہیں بلکہ شدید عدم تحفظ کا بھی شکار ہیں ، سندھ حکومت نے سیف سٹی پروجیکٹ کے نام پر اربوں روپے کا بجٹ خرچ کیا لیکن اس کا حاصل اور نتیجہ صفر ہی رہا ہے ،پولیس کے محکمے میں نہ صرف جرائم پیشہ عناصر اورڈاکوؤں کی سرپرستی کرنے والے موجود ہیں بلکہ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں اور کراچی کے مقامی باشندوں کی عدم موجودگی نے پولیس کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے محکمے میں اصلاحات کی جائیں ،جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اورکراچی کے مقامی باشندوں کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے ۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کو ایک موثر، ٹیکنالوجی سے لیس فورس میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ عوام کے تحفظ اور سندھ کے عوام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کو فروغ دیا جاسکے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس میں 51ویں خصوصی تربیتی پروگرام اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) کے 27ویں ابتدائی کمانڈ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1843 میں قائم ہونے والی سندھ پولیس برصغیر کا سب سے قدیم پولیس ادارہ ہے اور عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کےلیے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ 1 لاکھ62 ہزار اہلکاروں پر مشتمل سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی فورس ہے جو جرائم کی روکتھام، سراغ رسانی اور قیام امن کےلیے پرعزم ہے۔ ۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، سیکرٹری داخلہ اقبال میمن، پی ایس سی ایم آغا واصف، آئی جی پولیس غلام نبی میمن اور دیگر نے شرکت کی۔مراد علی شاہ نے پولیس کی کارکردگی اور صلاحیت بڑھانے کےلیے کئی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ اسمارٹ سرویلئینس سسٹم ( ایس 4 منصوبہ ) ہے جس کے تحت سندھ بھر کے 40 ٹول پلازوں پر نگراں کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد اہم داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی ، بروقت کارروائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس آپریشنز کو یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، کراچی سیف سٹی پراجیکٹ سندھ پولیس کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔جرائم کے خاتمے کی حکومتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے سندھ ہیبیچوئل آفنڈرز مانیٹرنگ ایکٹ 2022 کا ذکر کیا جس کے تحت ڈکیتی، بھتہ خوری اور گاڑیوں کی چوری میں ملوث عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی پی ایس سے منسلک کڑے اور بریسلٹس مجرموں کی بروقت نگرانی کو یقینی بنائیں گے تاکہ صوبے میں محفوظ علاقوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ محکمہ پولیس کی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ اہم شعبوں کو مضبوط کرنے کےلیے خاطرخواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کو 2 ارب 70 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اسپیشل برانچ نے 1 ارب 20 کروڑ روپے وصول کیے ہیں جبکہ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کو 60 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انویسٹی گیشن آفیسرز کےلیے بھی انعامات رکھے گئے ہیں۔ پولیس تھانوں کےلیے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ایس ایچ اوز کو ڈی ڈی او کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ سندھ پولیس کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی مدد کےلیے حکومت سندھ نے 4 ارب 96 کروڑ اور 10 لاکھ روپے مالیت کا انشورنس پروگرام متعارف کرایا ہے۔ شہدا پیکج میں اضافے پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے جس کے تحت معاوضے کی رقم ایک کروڑ سے بڑھا کر 2 کروڑ 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ شہید کے خاندان کو ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہ کی ادائیگی اور خاندان کے 2 افراد کو ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ مہارت میں اضافے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت پالیسیوں اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کےلیے پولیس افسران، وکلا اور ججز کےلیے تربیتی پروگرام پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اہلکاروں کو جدید چیلنجز اور قیام امن کے قابل بنانے کےلیے صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات جاری ہیں۔ سندھ حکومت کے جامع اقدامات سندھ پولیس کو جدید ، مستعد اور ٹیکنالوجی سے لیس فورس بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان اقدامات سے عوام کے تحفظ اور قانون پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے سندھ پولیس پاکستان کی مثالی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی بننے جا رہی ہے۔

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • سندھ پولیس میں رشوت پر بھرتی 139 کلرکس دوبارہ ٹیسٹ کے لیے طلب

    سندھ پولیس میں رشوت پر بھرتی 139 کلرکس دوبارہ ٹیسٹ کے لیے طلب

    کراچی(باغی ٹی وی،نامہ نگار) سندھ پولیس میں 2010 سے 2016 کے دوران مبینہ رشوت اور سفارش پر بھرتی کیے گئے اسکیل 11 کے 139 جونیئر کلرکس کو دوبارہ تحریری امتحان کے لیے 28 نومبر کو سی پی او کراچی طلب کر لیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، ان جونیئر کلرکس میں زیادہ تر پولیس افسران کے رشتہ دار یا سفارشی افراد شامل ہیں، جنہیں بھرتی کے وقت قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعینات کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ افراد تحریری ٹیسٹ میں ناکام رہے تو انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سفارشی کلرکس کو سی پی او کی ٹھنڈی چھاؤں میں ٹیسٹ دینے کا موقع دیا جا رہا ہے، جبکہ غیر سفارشی کلرکس کو گھنٹوں دھوپ میں انتظار کروا کر امتحان کی اذیت سے گزارا جاتا ہے، جس نے پولیس اہلکاروں میں سخت مایوسی پیدا کر دی ہے۔

    حیدرآباد ڈویژن کے 40 سے زائد جونیئر کلرکس بھی ان افراد میں شامل ہیں، جنہیں مختلف اضلاع میں اہم پوسٹوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بھرتیاں سفارش اور رشوت کے ذریعے کی گئی تھیں، اور اب ان کی قابلیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی محکمہ پولیس میں رشوت کے ذریعے بھرتی ہونے والے متعدد اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ سابق آئی جی اے ڈی خواجہ کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں حیدرآباد سمیت اندرون سندھ کے سینکڑوں غریب پولیس اہلکار نوکری سے فارغ کر دیے گئے تھے، لیکن ان کے لیے کسی بھی قسم کی بحالی یا شنوائی آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔

    پولیس کے دوہرے معیار اور سفارشی کلرکس کو سہولیات دینے کی یہ روش محکمہ پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں میں بددلی اور ناامیدی کا باعث بن رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدامات شفافیت لانے میں

  • کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے

    کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے

    کشتی ڈوبنے کے واقعے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے۔

    اطلاعات کے مطابق ابراہیم حیدری کے قریب کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں چھ افراد ڈوب گئے، جن میں سے ایک شخص جاں بحق جب کہ 2 کو ریسکیو کرلیا گیا اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ماہی گیروں کی تنظیم کے رہنما یونس خاصخیلی کے مطابق کشتی میں 6 افراد سوار تھے، جو حادثے کے نتیجے میں ڈوب گئے، جن میں سے 2 کو ریسکیو کرلیا گیا ہے جب کہ مقامی غوطہ خور ڈوبنے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کشتی میں سوار 6 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ حادثے میں جاں بحق اور لاپتا شخص آپس میں بھائی ہیں۔ یہ تمام لوگ کشتی پرسوار ہوکر بھنڈار میں عرس میلہ دیکھنے جارہے تھے۔واقعہ گزشتہ شب 8 بجے بھنڈار کے مقام پر پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے کشتی الٹ گئی۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

  • لاکھوں روپے مالیت کی چھالیہ کی اسمگلنگ ناکام

    لاکھوں روپے مالیت کی چھالیہ کی اسمگلنگ ناکام

    ویسٹ پولیس نے لاکھوں روپے مالیت کی 156 من سے زائد چھالیہ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اسمگلنگ میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت فرید ولد شیر محمد کے نام سے کی گئی جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہوگیا۔ایس ایس پی ویسٹ طارق الہی مستوئی کے مطابق ملزم نوید کو ٹارگیٹڈ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا، برآمد شدہ چھالیہ ڈمپر میں لوڈ کرکے کرش پتھر کے نیچے چھپائی گئی تھی۔چھالیہ کا مجموعی وزن 6240 کلو گرام ہے جس کی مالیت مارکیٹ میں لاکھوں روپے کی ہے۔طارق الہی مستوئی نے بتایا کہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے ڈمپر نمبری SB-2146 کو قبضہ پولیس میں لے لیا گیا ہے جبکہ گرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے کسٹم حکام کے حوالے کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سندھ حکومت نے مشیات کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کے تحت کراچی سمیت سندھ بھر میں کاروائیاں کی جا رہی ہیں.

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    کراچی میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند ہونے لگے، خریدار پریشان

  • تمام شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے‘جماعت اسلامی سندھ

    تمام شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے‘جماعت اسلامی سندھ

    جماعت اسلامی سندھ نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے تمام قصبوں اور شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے تاکہ وہاں بسنے والے شہریوں کو اپنی دہلیز پر بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی امیر کاشف سعید شیخ نے کہا کہ سندھ کے دسرے چھوٹے اہم شہروں جیسے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ اور میرپورخاص میں جدید تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے اور ان شہروں کے لوگوں کو بہتر معاش تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے کراچی جانا پڑتا ہے۔ سندھ کے دوسرے چھوٹے شہروں میں شہری انفراسٹرکچر پنجاب کے انہی شہروں کے انفراسٹرکچر سے بہت پیچھے ہے۔ سندھ کے دوسرے شہروں کی تیز رفتار ترقی سے نہ صرف معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ شہریوں میں احساس محرومی کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔کاشف سعید نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں سندھ کے دوسرے چھوٹے شہروں کی تیز رفتار ترقی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کریں۔ ان کے التوا میں پڑے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سکھر حیدرآباد موٹر وے کے دیرینہ منصوبے کا خاص طور پر قابل ذکر ہے اسی طرح جامشورو سے سیہون تک دو رویہ سڑک دس سال گزرجانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے سیاحوں اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں کو سہولیات دینے کے لیے سندھ کے اہم سیاحتی مرکز گورکھ ہل کو فوری طور پر ترقیاتی کام مکمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

    پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ترک قونصل

    خواتین کو بااختیار و محفوظ ماحول دیا جائے تو بہتر پرفارم کر سکتی ہیں،وزیر تعلیم

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

  • ذرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم

    ذرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم

    ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پیر کے روز بھی ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم رہا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق دفاعی نمائش آئیڈیاز میں 26ارب ڈالر مالیت کے برآمدی معاہدوں، رواں سال اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات ذر 36ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئیوں اور آنے والے مہینوں میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ ہونے کی توقعات کے باعث ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پیر کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم رہا۔بیلا روس کے اعلی سطحی تجارتی وفد کی پاکستان آمد اور پاکستان کے شعبہ جاتی بنیادوں پر سرمایہ کاری مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی کی خبروں، مثبت سینٹیمنٹس کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے کے دوران ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔تاہم اختتامی لمحات میں طلب و رسد متوازن ہونے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 277روپے 75پیسے کی سطح پر مستحکم رہے۔ اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر صرف 2پیسے کے اضافے سے 278روپے 79پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔کرنٹ اکانٹ سرپلس ہونے، بڑھتے ہوئے ذرمبادلہ ذخائر اور روشن ڈیجیٹل اکانٹ کے انفلوز بڑھنے سے ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم رہا۔

    پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ترک قونصل

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

    کراچی میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند ہونے لگے، خریدار پریشان

    سندھ فوڈ اتھارٹی کا عوام کو کھلا تیل استعمال نہ کرنے کا مشورہ

  • پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ترک قونصل

    پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ترک قونصل

    ترکیہ کے کراچی میں قونصل جنرل جمال سانگو نے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ہماری محبت لفظوں کی محتاج نہیں ہے ،پاکستان کی ہر خوشی ہماری خوشی اور ہر غم ہمارا غم ہے اس کا اظہار لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا ۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نیگلستان اسکاوٹس ٹریننگ سینٹر میں ٹیکا ریسکیو ٹریننگ فیز تھری اور اربن ریسکیو ٹریننگ فیز ون کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر سندھ بوائے اسکاوٹس ایسوسی ایشن کیچیف پیٹرن محمد صدیق میمن نے کہا کہ میں سندھ بوائے اسکاوٹس ایسوسی ایشن اور حکومت سندھ کی جانب سے اپنے برادر ملک ترکیہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہو ں نے اربن ریسکیو ٹریننگ فیز ون کیلئے پاکستان میں سندھ اسکاوٹس کو منتخب کیا اور اس طرح ترکیہ کے ادارے آئی ایچ ایچ انہیں عالمی معیار کی ریسکیو کی تربیت فراہم کررہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ یہ سلسلہ مسقتبل میں بھی جاری رہے گا ۔ترکیہ کے ادارے ٹیکا کے پاکستان میں سربراہ خلیل ابراہیم بصران کا کہنا تھا کہ انسانی جانوں کو بچانے کے اس راستے پر سندھ بوائے اسکاوٹس ایسوسی ایشن اور ٹیکا کا سفر ایک ساتھ ہمیشہ جاری رہے گا ۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تیسرے فیز کی ریسکیو ٹریننگ میں اسکاوٹس کی بھر پور دلچسپی دیکھ کر اندازہ ہوگیا کہ اسکاوٹس خدمت انسانیت کے جذبے سے سرشار ہیں ۔صوبائی اسکاوٹس سیکریٹری سید اختر میر نے کلمات استقبالیہ اداکرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں ریسکیو سروسز کے حوالے سے آئی ایچ ایچ ایک معروف ادارہ ہے جس کے ٹرینر ز سندھ کے اسکاوٹس کو عالمی معیار کی تربیت فراہم کررہے ہیں جس پر میں ترکیہ کے کراچی میں قونصل جنرل جمال سانگو ، پاکستان میں ٹیکا کے سربراہ خلیل ابراہیم ، صوبائی اسکاوٹ کمشنر سید ممتاز علی شاہ، چیف پیٹرن محمد صدیق میمن ،حکومت سندھ ،کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن اور قانون نافذ کرنیو الے اداروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں،تقریب میں سینئر ڈائریکٹر میونسپل سروسزذوالفقار ابڑو، ریڈکریسنٹ سوسائٹی کے سیکریٹری کنور وسیم ، فائر آفیسر کراچی ہمایوں خان ،پیپسی لمیٹیڈ کے اخلاق احمد ، کمیونٹی پولیس کے چیف مراد سوہنی اور دیگر مہمان بھی شریک تھے،صوبائی خازن محمد حسین مرزا نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا ۔تقریب میں ترکیہ سے آئے ہوئے آئی ایچ ایچ کے ماسٹر ٹرینر جہاد بے جبکہ شرکا کورس کی جانب سے ذیشان پطرس اور نورالعین نیکورس کے حوالے سے تاثرات کا اظہار کیا۔ تقریب میں مہمانان گرامی میں سووئیرز شیلڈز جبکہ شرکاٹریننگ کو شیلڈز اور اسناد پیش کی گئیں ۔ تقریب کی نظامت کے فرائض لیڈر ٹرینر سید حبیب الدین نے انجام دیئے۔

    خواتین کو بااختیار و محفوظ ماحول دیا جائے تو بہتر پرفارم کر سکتی ہیں،وزیر تعلیم

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

    پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 3 دن کی توسیع کردی

    سندھ فوڈ اتھارٹی کا عوام کو کھلا تیل استعمال نہ کرنے کا مشورہ

  • یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    یو این ویمن پاکستان نے 16 دنوں پر مشتمل مہم ’’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘‘ کا افتتاح کراچی یونیورسٹی میں کیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق اس سال کی مہم کا موضوع "بیجنگ ڈیکلریشن اور ایکشن پلان کے 30 سال: خواتین اور لڑکیوں کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے متحد ہوں”ہے، جیسے جیسے اس اہم اعلامیہ کی 30 ویں سالگرہ قریب آرہی ہے، اس سال کی مہم میں خواتین کے خلاف تشدد کے عزم کو تازہ کرنے، سٹیک ہولڈرز کو جوابدہ بنانے اور اجتماعی اقدامات کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔افتتاحی تقریب میں رولنگ ریزسٹنس: تھیٹر آن وہیلز کا آغاز کیا گیا جو ایک خاص طور پر تیار کردہ موبائل تھیٹر ٹرک ہے جس کے ذریعے براہ راست پرفارمنس کے ذریعے خواتین کے خلاف تشدد پر مکالمہ اور شعور اجاگر کیا جائے گا۔یہ تقریب کراچی یونیورسٹی میں منعقد ہوئی جہاں مختلف تعلیمی، حکومتی اور سماجی رہنماؤں نے شرکت کی۔ یو این ویمن پاکستان کی کنٹری ریپریزنٹیٹو لوئس نیلن نے افتتاحی خطاب میں مہم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ رولنگ ریزسٹنس جیسے تخلیقی پلیٹ فارمز کے ذریعے ہمارا مقصد مکالمہ شروع کرنا، ہمدردی پیدا کرنا اور کمیونٹیز کو تشدد کو مسترد کرنے کی ترغیب دینا ہے۔خواتین پر تشدد صرف خواتین کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ انسانی حقوق کا بحران ہے جو معاشرے کے ہر پہلو کو متاثر کرتا ہے۔ عالمی سطح پر ہر تین میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں تشدد کا شکار ہوتی ہے۔ ڈین آف سوشل سائنسز کراچی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شائستہ تبسم نے مہم کی میزبانی پر یو این ویمن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ کراچی یونیورسٹی نوجوان اذہان کو پروان چڑھانے کے لئے وقف ہے، اس مہم کی میزبانی پر فخر محسوس کرتی ہے، خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے صرف پالیسیوں کی ضرورت نہیں بلکہ ایک ثقافتی تبدیلی بھی ضروری ہے جسے اس طرح کی سرگرمیاں فروغ دے سکتی ہیں۔وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے تعلیمی اداروں کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ جامعات صرف تعلیم کے مراکز نہیں بلکہ ترقی پسند سوچ کی پرورش گاہ بھی ہیں، اس مہم کی میزبانی کے ذریعے کراچی یونیورسٹی معاشرتی ناانصافیوں کو ختم کرنے اور ایک محفوظ، مساوی معاشرے کی تعمیر کے عزم کا اعادہ کرتی ہے۔وزیر برائے ویمن ڈویلپمنٹ حکومت سندھ شاہینہ شیر علی نے اس مہم کو آگے لے جانے کے لئے معاشرتی طور پر یکجا ہو کر کام کرنے کی اہمیت کو اجاگرکیا۔رولنگ ریزسٹنس اپنے پیغام کو عام کرنے کے لئے موبائل پرفارمنسز کے ذریعے لاہور، پشاور، مردان، کوہاٹ سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا۔ یہ عالمی 16 دنوں کی مہم ہر سال 25 نومبر (خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کا عالمی دن) سے 10 دسمبر (انسانی حقوق کا دن) تک منائی جاتی ہے جو خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے کے لئے فوری کارروائی کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

    پنجاب میں دفعہ 144 کے نفاذ میں 3 دن کی توسیع کردی

    کراچی میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند ہونے لگے، خریدار پریشان

  • ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

    ایدھی فائونڈیشن کی ایمرجنسی ہلپ لائن گزشتہ 36 گھنٹوں سے بند ہے، جس کے باعث کراچی کی سب سے بڑی ایمبولینس سروس کا رابطہ عوام سے منقطع ہو گیا ہے۔

    ایدھی حکام کے مطابق ہلپ لائن کی تار کٹنے کے باعث سروس معطل ہے، اور پی ٹی سی ایل محکمہ کو باقاعدہ فون اور تحریری شکایات کے باوجود اب تک سروس بحال نہیں ہو سکی۔ایدھی حکام نے بتایا کہ اس دوران روڈ ٹریفک حادثات یا دیگر ایمرجنسی حالات میں عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے، کیونکہ ایدھی فانڈیشن کا عوام سے رابطہ گزشتہ 36 گھنٹوں سے منقطع ہے۔ایدھی فائونڈیشن کی جانب سے پی ٹی سی ایل کو بار بار درخواست کرنے کے باوجود رابطہ بحال نہیں ہو سکا، جس کی وجہ سے مریضوں کو منتقل کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ایدھی فائونڈیشن کی ایمرجنسی سروس کراچی کے شہریوں کے لیے انتہائی اہم ہے، اور حکام نے پی ٹی سی ایل سے فوری طور پر سروس بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

    سندھ فوڈ اتھارٹی کا عوام کو کھلا تیل استعمال نہ کرنے کا مشورہ

    کراچی میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند ہونے لگے، خریدار پریشان

    اسرائیلی وزیر اعظم نے حزب اللہ کے ساتھ جنگ ​​بندی کے معاہدے کی منظوری دیدی

    آئی جی سندھ کی صدارت ،مانیٹرنگ ایکٹ 2022جائزہ اجلاس