Baaghi TV

Category: کراچی

  • علاج کے نام پر پاکستان آنیوالی افغان خاتون امریکا روانگی کے وقت گرفتار

    علاج کے نام پر پاکستان آنیوالی افغان خاتون امریکا روانگی کے وقت گرفتار

    علاج کے نام پر پاکستان آنے والی افغان خاتون امریکا روانگی کے وقت گرفتار کرلی گئی۔

    وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ترجمان کے مطابق ایف آئی اے امیگریشن کی جانب سے جناح انٹرنیشنل ائرپورٹ پر ایک کارروائی کی گئی، جس میں امریکا جانے والی خاتون مسافر کو گرفتار کرلیا گیا۔ثنا خواجہ نامی افغان خاتون مسافر نے پاکستانی ویزا جعل سازی کے ذریعے حاصل کیا تھا۔ملزمہ 13 نومبر کو چمن بارڈر کے ذریعے علاج کے نام پر پاکستان آئی تھی اور یہاں علاج کے حوالے سے کسی قسم کے ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہی۔ابتدائی تفتیش کے مطابق ملزمہ علاج کا بہانہ کر کے امریکی ویزا اپلائی کرنے پاکستان آئی تھی۔ ملزمہ کے کزن نے پاکستان جانے کے لیے میڈیکل ویزا اپلائی کرنے کا مشورہ دیا تھا ۔ملزمہ ثنا خواجہ نے پاکستان پہنچنے کے بعد امریکی سفارتخانے سے ویزا حاصل کیا جب کہ پاکستانی ویزا اپلائی کرنے کے لیے جعلی دستاویزات استعمال کیں۔ترجمان کے مطابق گرفتار ملزمہ ثنا خواجہ کو مزید قانونی کارروائی کے لیے انسداد انسانی اسمگلنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں اس کیس کے سلسلے میں مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔

    برازیل میں ٹریفک حادثہ، 32 افراد ہلاک

    خوارج کی چیک پوسٹ پر حملے کی کوشش ناکام، 16 جوان شہید

    نادرا میں جدت، چہرہ شناخت کی ٹیکنالوجی متعارف

    مذاکرات ہی مسائل کا حل ہیں، چیئرمین پی ٹی آئی

  • غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط

    غیر قانونی ماہی گیری میں ملوث 10ٹرالرز ضبط

    پاکستان کوسٹ گارڈز نے نومبر اور دسمبر میں غیر قانونی ماہی گیری کے خلاف آپریشن کے دوران 10 ٹرالرز کو ضبط کرلیا۔

    ترجمان پاکستان کوسٹ گارڈز کے مطابق پاکستان کوسٹ گارڈزر سمندر میں غیرقانونی ماہی گیری(ٹرالنگ)اور اسمگلنگ کے خلاف بر سرپیکار ہے، کوسٹ گارڈز کی کارروائیوں کا مقامی ماہی گیروں کی طرف سے خیر مقدم کیا گیا۔پاکستان کوسٹ گارڈز اپنے فرائض منصبی کو احسن طریقے سے انجام دیتے ہوئے پختہ عزم کے ساتھ باور کراتی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے دبائو میں آئے بغیر اپنے فرائض منصبی ساحلی پٹی اور سمندری علاقے میں بخوبی انجام دے گی اور ہر طرح کی اسمگلنگ اور غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کرکے ملکی معیشت کو مستحکم کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔واضح رہے کہ ٹرالنگ ایک ممنوع ماہی گیری کا طریقہ کار ہے جو نہ صرف سمندری ماحولیات کو شدید نقصان پہنچاتا ہے بلکہ ماہی گیروں کے روزگار کو بھی متاثر کرتا ہے، ٹرالنگ والی کشتیاں دیگر غیر قانونی سرگرمیوں، ہتھیاروں اور منشیات کی اسمگلنگ میں بھی ملوث ہوتی ہیں۔

    فواد چوہدری سمیت بھگوڑوں کا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں،عمران خان

  • پولیو ورکرز پر حملہ  کیس میں تمام ملزمان کی ضمانت منظور

    پولیو ورکرز پر حملہ کیس میں تمام ملزمان کی ضمانت منظور

    جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کراچی کی عدالت نے پولیو ورکرز کی ٹیم پر حملے کے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے تمام ملزمان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔ عدالت نے ملزمان کو 10، 10 ہزار روپے کے عوض ضمانت فراہم کی، جبکہ پولیس کی جسمانی ریمانڈ کی استدعا کو مسترد کر دیا۔

    عدالت میں سماعت کے دوران پولیس نے 4 خواتین سمیت 6 ملزمان کو پیش کیا۔ ملزمان کے خلاف انسدادِ پولیو ٹیم پر حملے کی پاداش میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ملزمان کے خلاف درج مقدمے کی دفعات قابلِ ضمانت ہیں، اس لیے ضمانت دی جاتی ہے۔پولیس حکام نے عدالت کو بتایا کہ ملزمان نے پولیو ٹیم کو بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے سے منع کیا تھا، جس پر خواتین نے غصے میں آ کر پولیو ورکرز پر حملہ کر دیا۔ پولیس کے مطابق، حملے کے دوران ملزمان نے پولیس اہلکاروں کی وردیاں بھی پھاڑ دیں۔

    پولیس حکام نے مزید بتایا کہ واقعہ 19 دسمبر 2024 کو کراچی کے علاقے کورنگی میں پیش آیا، جب انسدادِ پولیو کی ٹیم بچوں کو پولیو کے قطرے پلانے کے لیے پہنچی۔ وہاں موجود فیملی نے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کیا اور پولیو ٹیم پر حملہ کر دیا۔ ملزمان نے بیلچوں سے پولیو ٹیم کو مارا، جس کے نتیجے میں انسدادِ پولیو ٹیم کے 2 ورکرز اور 2 پولیس اہلکار زخمی ہو گئے۔پولیس نے اس واقعے میں ملوث 6 افراد کو گرفتار کیا، جن میں 4 خواتین شامل ہیں، جن کے نام ثمینہ، ماہ جبین، آمنہ، اقراء، عمران اور سفیان ہیں۔ پولیس نے اس حوالے سے کورنگی تھانے میں مقدمہ درج کیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔

    عدالت نے تفتیشی افسر سے 14 دنوں کے اندر کیس کا چالان پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ ملزمان کی ضمانت منظور ہونے کے باوجود کیس کی تحقیقات مکمل کرنے کا عمل جاری رہے گا۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل، پولیو ورکرز اور ٹیموں پر مختلف علاقوں میں حملے ہو چکے ہیں، جس کی وجہ سے انسدادِ پولیو مہم میں مشکلات کا سامنا ہے۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے پولیو ورکرز کی حفاظت کے لیے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ اس اہم مہم کو کامیابی سے مکمل کیا جا سکے۔

    ڈیرہ غازی خان:پولیو فری پاکستان کے لیے حکومت، عوام اور میڈیا متحد ہیں: عظمیٰ کاردار

    کراچی میں انسداد پولیو ٹیم پر حملہ،پولیس اہلکاروں کے کپڑے پھاڑ دیئے،چھ گرفتار

    سیالکوٹ:انسداد پولیو مہم میں 7 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو کے قطرے پلائے گئے

  • 24 دسمبر کو مہاجرکلچر ڈے،ایم کیو ایم کی عوام کو شرکت کی دعوت

    24 دسمبر کو مہاجرکلچر ڈے،ایم کیو ایم کی عوام کو شرکت کی دعوت

    کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے کنوینر خالد مقبول صدیقی نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران 24 دسمبر کو گورنر ہاؤس میں مہاجر کلچر ڈے منانے کا اعلان کیا اور اس دن کی تقریبات میں شریک ہونے کے لیے تمام شہریوں کو دعوت دی۔

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ کراچی میں آ کر مختلف قومیتوں کے افراد کو ایک دوسرے کے قریب آنے اور مل جل کر رہنے کا موقع ملا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "کراچی شہر نے کبھی کسی زبان یا قوم کے خلاف بات نہیں کی۔ ایم کیو ایم کا آغاز ہی اس پیغام کے ساتھ ہوا تھا کہ ہم آپ کو اور آپ ہمیں تسلیم کریں۔” 24 دسمبر کو گورنر ہاؤس میں مہاجر کلچر ڈے منایا جائے گا اور ایم کیو ایم پاکستان کے کارکنان، عوام اور تمام شہریوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جاتی ہے۔ یہ دن مہاجر کمیونٹی کی ثقافت، تاریخ اور قربانیوں کو اجاگر کرنے کا دن ہو گا۔آپ ہمیں تسلیم کریں، ہم آپ کو تسلیم کریں گے، 24 دسمبر کو گورنر ہاؤس میں مہاجر کلچر ڈے پر سب کو شرکت کی دعوت دیتے ہیں۔ پہلی بار گورنر سندھ کوخیال آیا کہ مہاجر کلچر ڈے بھی منانا چاہیے، اگر گورنر سندھ نے اس بار احسن اقدام اٹھایا ہے تو ہم خیرمقدم کرتے ہیں۔

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما ڈاکٹر فاروق ستار نے بھی خالد مقبول صدیقی کے اعلان کی حمایت کی۔ انہوں نے اس بات کا ذکر کیا کہ گزشتہ تین سالوں سے گورنر ہاؤس میں سندھی کلچر ڈے منایا جا رہا ہے، لیکن یہ پہلا موقع ہے کہ گورنر سندھ نے مہاجر کلچر ڈے منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ فاروق ستار نے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا، "اگر گورنر سندھ نے اس بار یہ احسن قدم اٹھایا ہے تو ہم اس کا خیرمقدم کرتے ہیں۔”فاروق ستار نے کہا کہ "مہاجر کلچر بانیان پاکستان کی ثقافت کا حصہ ہے، جنہوں نے اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اہم کردار ادا کیا اور جانوں کی قربانیاں دیں۔” انہوں نے کراچی کو مختلف ثقافتوں کا مرکز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک دن ایسا آئے گا جب کراچی کی ثقافت مختلف ثقافتوں کا امتزاج ہو گی۔ "ہمیں کشادہ دلی کا مظاہرہ کرنا ہے اور ایک دوسرے کی ثقافت کا احترام کرنا ہے۔”

    خالد مقبول صدیقی اور فاروق ستار نے واضح کیا کہ 24 دسمبر کو ہونے والے مہاجر کلچر ڈے کا مقصد مہاجر کمیونٹی کی ثقافتی وراثت، قربانیوں اور ان کے ملک کے لیے کردار کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ دن کراچی اور پاکستان کے تمام شہریوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش ہے تاکہ مختلف قومیتوں کے درمیان ہم آہنگی اور محبت کا ماحول پیدا کیا جا سکے۔اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے عوام کو دعوت دی کہ وہ اس دن کی تقریبات میں شرکت کریں اور مہاجر کلچر کے حوالے سے اپنی سوچ کو وسیع کریں۔

    سانحہ9 مئی،سزایافتہ مجرمان کے اعترافی بیانات سامنے آگئے

    آخر کار ڈیڑھ سال بعد ریاست کو انصاف ملنے کی امید جاگی،جاوید لطیف

  • شہریار منور اور ماہین صدیقی کی قوالی نائٹ میں راحت فتح علی خان کی شاندار پرفارمنس

    شہریار منور اور ماہین صدیقی کی قوالی نائٹ میں راحت فتح علی خان کی شاندار پرفارمنس

    کراچی: پاکستانی اداکار شہریار منور اور ابھرتی ہوئی اداکارہ ماحین صدیقی کی شادی کی تقریبات کئی روز سے جاری ہیں-

    باغی ٹی وی : حال ہی میں منعقد ہونے والی قوالی نائٹ کی تصاویر و ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں،ڈھولکی کے بعد قوالی نائٹ میں بھی شوبز انڈسٹری کے فنکاروں ہمایوں سعید، احد رضا میر، سونیا خان، اریبہ حبیب سمیت دیگر نے شرکت کی،جن میں یہ جوڑا دلکش شادی کے ملبوسات میں خوشی اور دلکشی بکھیرتا نظر آیا۔

    تصاویر میں دلہن ماحین صدیقی ایک شاندار نیلے لباس میں بےحد خوبصورت لگ رہی ہیں، جس میں نفیس کڑھائی والا نیلا شرٹ اور چوڑے لہنگے کا امتزاج تھا جبکہ دولہا شہریار منور سنہرے شلوار قمیص میں ملبوس نظر آئے، جسے چمکدار واسکٹ، نیلی شال اور براؤن جوتوں کے ساتھ خوبصورتی سے مزین کیا گیا تھا۔

    عالمی شہرت یافتہ پاکستانی گلوکار راحت فتح علی خان نے اس محفل میں پرفارم کر کے سماں باندھ دیا شہریار صدیقی نے سوشل میڈیا پر قوالی نائٹ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے جہاں شاندار پرفارمنس پر راحت فتح علی خان کا شکریہ ادا کیا ہے تو وہیں ڈیزائنر محسن نوید رانجھا کے ملبوسات کی بھی تعریف کی ہے۔

    واضح رہے کہ شہریار منور نے گزشتہ ماہ ہی تصدیق کی تھی کہ وہ دسمبر کے اختتام تک شادی کے بندھن میں بندھ جائیں گے، ماہین صدیقی اور شہریار منور کے درمیان تعلقات کی اس وقت سے چہ مگوئیاں تھیں جب شہریار منور نے اپنی سالگرہ کے موقع پر اداکارہ ماہین صدیقی کے لیے ’جان‘ کا لفظ استعمال کیا تھا جس کے بعد اداکار کا نام اداکارہ کے ساتھ جوڑا جانے لگا تھا۔

  • بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    بحریہ ٹاؤن کراچی میں دھوکہ،ملک ریاض کے بیٹے علی ریاض کے وارنٹ جاری

    کراچی: بحریہ ٹاؤن کراچی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر علی ریاض ملک کے عدالت نے گرفتاری کے وارنٹ جاری کر دیے ہیں۔

    یہ وارنٹس اُس کیس کے سلسلے میں جاری کیے گئے ہیں جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ بحریہ ٹاؤن اپنے ایک پراجیکٹ میں دکانوں کا قبضہ دینے میں ناکام ہوئی،اکرام اللہ خان، جنہوں نے اپنے وکیل کے ذریعے براہ راست شکایت درج کروائی، نے عدالتی مجسٹریٹ ملیر کی عدالت میں کہا کہ ان کے موکل نے بحریہ ہائٹس ٹاور I میں تین دکانیں کل 20.9 ملین روپے کی قیمت پر بک کروائی تھیں۔وکیل کا کہنا تھا کہ یہ رقم قسطوں میں ادا کی جانی تھی اور دونوں فریقوں کے درمیان یہ طے پایا تھا کہ جب مکمل رقم ادا ہو جائے گی تو دکانوں کا قبضہ شکایت کنندہ کو دیا جائے گا۔تاہم، وکیل نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن نے 2019 سے اب تک اس معاہدے پر عمل درآمد نہیں کیا۔ اس کے بعد ان کے موکل کو یہ پتا چلا کہ بحریہ ٹاؤن کے سی ای او علی ریاض ملک نے اس پورے پراجیکٹ کو شاہ نواز ایاز درانی کو فروخت کر دیا، جسے پراپرٹی کی بے جا استعمال اور مجرمانہ اعتماد شکنی کے طور پر بیان کیا گیا۔

    عدالت نے شکایت اور گڈاپ پولیس اسٹیشن کی رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد بحریہ ٹاؤن کے سی ای او علی ریاض ملک اور شاہ نواز ایاز د رانی کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے۔ عدالت نے انہیں مقدمے کی سماعت میں شامل ہونے کی ہدایت دی اور دونوں کو 50,000 روپے کی ضمانت دینے کا حکم دیا ،عدالت نے ریمارکس دیے، "موجودہ حالات اور پیش کردہ شواہد کے پیش نظر، شکایت میں بیان کردہ دھوکہ دہی اور فراڈ کے الزامات کو سنجیدگی سے لینے کے لیے کافی وجوہات ہیں۔”

    اس کے علاوہ، عدالت نے کہا کہ جو انکوائری رپورٹ پیش کی گئی ہے، اس میں فریقین کے درمیان ایک سول مقدمہ چلنے کا انکشاف ہوا ہے۔ "بحریہ ٹاؤن کے آپریشنز کے مینیجر نے اس سول مقدمے کے ہونے کا اعتراف کیا ہے لیکن دکانوں کی حیثیت یا شکایت کنندہ کی ملکیت کے بارے میں کوئی حتمی جواب نہیں دیا۔”
    عدالت نے سماعت 6 جنوری 2024 تک ملتوی کر دی اور ملزمان کو آئندہ تاریخ پر عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔

    عمران،بشریٰ نے ملک ریاض سے غیر قانونی مالی فوائد حاصل کئے

    بحریہ ٹاؤن کراچی،ملک ریاض نے ملازمین کو نکال دیا،احتجاج کرنے پر گرفتار

    190 ملین پاؤنڈز کیس،اصل الزام ملک ریاض فیملی کی حد تک وہ اشتہاری ہیں ،سلمان اکرم راجہ

    جتنا مرضی ظلم کرو، میں ظالم کے سامنے سر نہیں جھکاؤں گا۔ملک ریاض

    ملک ریاض کیلئے ایک اور مشکل،بحریہ ٹاؤن 76 کروڑ کا ڈیفالٹر،بجلی کٹ گئی

    ملک ریاض اور انکے بیٹے علی ریاض ملک کے اثاثے اور بنک اکاؤنٹس منجمد

  • پیپلز پارٹی کا حکومتی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار

    پیپلز پارٹی کا حکومتی پیش رفت پر عدم اطمینان کا اظہار

    وفاق میں حکومت کی اہم اتحادی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے مرکزی حکومت کی جانب سے تحفظات دور کرنے کی یقین دہانیوں کی پیش رفت کے حوالے سے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو کی زیر صدارت کراچی میں پارٹی کا اہم اجلاس ہوا جس میں وزرائے اعلیٰ بلوچستان اور سندھ سرفراز بگٹی، مراد علی شاہ، خیبرپختونخوا اور پنجاب کے گورنرز فیصل کریم کنڈی اور سردار سلیم حیدر نے شرکت کی۔اجلاس میں پارٹی کے سینئر رہنما سید نوید قمر بھی موجود تھے، اجلاس کے دوران ملک کی مجموعی سیاسی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا، اجلاس میں حکومت کے ساتھ مذاکرات کی روشنی میں اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا گیا۔اجلاس کے شرکا نے چیئرمین پیپلز پارٹی کو آئندہ دنوں میں حکومت کی جانب سے کی جانے والی مجوزہ قانون سازی کے حوالے سے بریفنگ دی۔اجلاس میں شرکا نے وفاقی حکومت کی یقین دہانیوں کی پیش رفت پر عدم اعتماد کا اظہار کیا اس پر بلاول بھٹو نے ہدایت کی کہ حکومت کے ساتھ اپنے رابطوں کو مزید تیز کیا جائے، تاکہ جب پاکستان پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی (سی ای سی) کا اجلاس ہو تو اس میں ان رابطوں کا مثبت نتیجہ سامنے رکھا جاسکے۔واضح رہے کہ گزشتہ ماہ بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ مسلم لیگ (ن) پنجاب اور خیبرپختونخوا میں پیپلزپارٹی کو نظرانداز کر رہی ہے، طے تھا کہ خیبرپختونخوا اور پنجاب کے انتظامی معاملات میں حصے دار ہوں گے، (ن) لیگ ہمارے گورنرز سے مشاورت نہیں کر رہی ہے۔16 نومبر کو بلاول ہاؤس کراچی میں گفتگو کے دوران چیئرمین پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ (ن) پر 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد وعدوں سے انحراف کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ حکومت کے ساتھ ناراضی کا سوال ہی نہیں ہے، ناراض ہونے پر سیاست نہیں کی جاتی، سیاست تو عزت کے لیے کی جاتی ہے، معذرت کے ساتھ اس وقت وفاق میں نہ عزت کی جاتی ہے، نہ سیاست کی جا رہی ہے۔بلاول بھٹو نے کہا تھا کہ دنیا میں جہاں اقلیتی حکومت ہو اور ان کا اتحاد ہے کسی جماعت کے ساتھ تو اس معاہدے پر عمل درا?مد ہوتا ہے، ہم اخلاقی حمایت فراہم کرنے کے لیے حکومتی بینچ پر بیٹھے ہیں، ہم ضرور چاہیں گے کہ طے شدہ معاہدے پر عمل کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ جوڈیشل کمیشن پاکستان سے احتجاجاً علیحدہ ہوئے، آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی۔انہوں نے آئندہ ماہ پیپلز پارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مرکز میں حکومتی اتحاد پر ممکنہ نظر ثانی کا بھی اشارہ دیا تھا۔لاول بھٹو نے وفاقی حکومت اور وزیر اعظم سے مذاکرات کے لیے کمیٹی تشکیل دی، چیئرمین پیپلزپارٹی کا کہنا تھا کہ ووٹرز اور صوبائی حکومتوں کی مسلم لیگ (ن) سے شکایات ہیں۔اس بیان کے بعد 17 نومبر کو وزیراعظم شہباز شریف نے چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کے تحفظات دور کرنے کی ذمہ داری نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار کو سونپ دی تھی۔وزیر اعظم نے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی جس کے اراکین میں نائب وزیراعظم اسحٰق ڈار، وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام، مشیر وزیراعظم رانا ثنا اللہ، اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان، سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب شامل تھے۔اس کے علاوہ سینئر رہنما خواجہ سعد رفیق، گورنر بلو چستان جعفر خان مندوخیل اور بشیر احمد میمن بھی کمیٹی کے اراکین میں شامل ہیں۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    مبینہ نفرت پھیلانے پرلطیف کھوسہ کیخلاف مقدمہ درج

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

  • کے الیکٹرک کا 6 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کا اعلان

    کے الیکٹرک کا 6 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کا اعلان

    کے الیکٹرک نے شہر میں 6 سے 10 گھنٹے لوڈ شیڈنگ کرنے کا اعلان کر دیا۔

    ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ جاری رکھنے کا فیصلہ لائن لاسز اور بل ریکوری کا سہ ماہی جائزہ لینے کے بعد کیا گیا۔ مجموعی طور پر 70 فیصد حصہ بدستور لوڈ شیڈنگ سے مستثنٰی ہے۔انہوں نے کہا کہ 30 فیصد نیٹ ورک میں بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی کی بنیاد پر لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 6 سے 10 گھنٹے ہے۔ لوڈشیڈنگ کرنے کا فیصلہ اور دورانیے کا انحصار چوری اور عدم ادائیگی کی شرح پر ہوتا ہے۔سال کے آغاز سے اب تک بجلی چوری کو روکنے کیلئے21ہزار سے زائد کارروائیاں کی گئیں۔ کارروائیوں کے دوران 2 لاکھ 20 ہزار کلو غیر قانونی تاریں ضبط کی گئیں۔واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کے ملٹی ائیر ٹیرف تجویز کی سخت مخالفت کی ہے اور اسے کراچی کے بجلی صارفین پر غیر ضروری، بے بنیاد بوجھ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ لاگت کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جارہا ہے۔حکومت نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو سفارش کی ہے کہ کے الیکٹرک کے مجوزہ ملٹی ائیر بیس ٹیرف کو 44.69 روپے فی یونٹ سے کم کر کے 34.87 روپے فی یونٹ کیا جائے جس کے لیے متعدد ہدفی لاگت ایڈجسٹمنٹس کی تجویز دی گئی ہے۔پاور ڈویژن نے نیپرا کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک نے اپنے اخراجات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا ہے، غیر حقیقی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا ہے اور پرانے مالیاتی مفروضوں پر اپنی حساب کتاب کی بنیاد رکھی ہے۔دستاویزات کے مطابق کے ای کی درخواست کو اس کی آپریشنل صلاحیت کو متاثر کیے بغیر کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    مبینہ نفرت پھیلانے پرلطیف کھوسہ کیخلاف مقدمہ درج

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    بیشتر علاقوں میں موسم سرد اور خشک رہنے کا امکان

  • وزیراعلیٰ سندھ سے سابق آئی جیز کی ملاقات، پولیس اصلاحات پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ سے سابق آئی جیز کی ملاقات، پولیس اصلاحات پر تبادلہ خیال

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بجٹ کی فراہمی، جدید آلات اور خصوصی تربیت کے ذریعے پولیس کو مستحکم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سابق آئی جیز کی تنظیم اے ایف آئی جی پی کے وفد سے خطاب کر رہے تھے۔ وفد کی قیادت تنظیم کے سربراہ افضل شگری کر رہے تھے۔ ملاقات میں وزیرداخلہ ضیاالحسن لنجار، پرنسپل سیکریٹری آغا واصف اور آئی جی سندھ غلام نبی میمن نے شرکت کی۔ مجموعی طور پر ملاقات خوشگوار رہی، انتظامی بہتری، احتساب اور محکمے کے اندر اتنظامی خودمختاری پر بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بجٹ میں اضافے، جدید آلات کی فراہمی اور خصوصی ٹریننگ پروگرامز کے ذریعے پولیس کو مستحکم کرنے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے احتساب اور دائرہ اختیار میں رہتے ہوئے عوام کے اعتماد کی بحالی پر زور دیا، پولیس کے اندرونی تنازعات سے بچنے کےلیے انتظامی خود مختاری پر زور دیا۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ 2002 کے بعد پولیس اور سول سروس کے درمیان طاقت کا توازن تبدیل ہوگیا ہے اس لیے تمام سروسز کے درمیان بہتر تعاون کی ضرورت ہے۔ سابق آئی جیز نے کانسٹیبلز کو تعلیمی قابلیت، لکھنے کی صلاحیت اور آئی ٹی اسکلز کے ذریعے بااختیار بنانے اور تحقیقات کا آغاز کانسٹیبل لیول سے کرنے کی تجویز دی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ انہوں نے مالیاتی اختیارات تھانے کی سطح تک منتقل کردیے ہیں لیکن کانسٹیبل کو بااختیار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ سابق آئی جیز نے وزیراعلیٰ سندھ سے اپیل کی کہ شکایات کے اندراج اور نگرانی کےلیے سیںٹرلائزڈ ریسورس منجمنٹ سسٹم ( آر ایم ایس) قائم کیا جائے۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ آر ایم ایس کمپلیمنٹ سیل بنانے کی ضرورت ہے جہاں شکایات درج کرنے کےلیے پولیس کے علاوہ لوگ تعینات کیے جائیں۔ اس موقع پر اسکاٹ لینڈ یارڈ کی طرز پر اربن پولیسنگ کا ماڈل اختیار کرنے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ جرائم کی کھوج لگانے اور متاثرین کے تحفظ کے نظام پر بھی بات کی گئی۔ وزیراعلیٰ نے سابق آئی جیز سے کہا کہ اس سلسلے میں وہ اپنی تجاویز ارسال کریں۔ ملاقات میں پولیس کو 1972 میں حیدرآباد میں الاٹ کی گئی 150 ایکڑ زمین کے جاری تنازعے پر بھی تبادلہ خیال گیا۔ اس موقع پر کراچی میں ٹریفک کے انتظام میں بہتری اور سی پی ایل سی کو دیگر شہروں تک پھیلانے پر بھی بات کی گئی۔ سابق آئی جیز نے پولیس افسران اور ان کی فیملیز کےلیے حکومت سندھ کے حال میں میں متعارف کرائے گئے میڈیکل انشورنس کی تعریف کی اور اس کو پورے ملک کےلیے ایک مڈال اقدام قرار دیا۔ ملاقات کا اختتام اصلاحات کےلیے تعاون بڑھانے کے عزم پر کیا گیا۔ افضل شگری نے دعوت دینے پر وزیراعلیٰ سندھ کا شکریہ ادا کیا۔ تعاون کی یہ سوچ پبلک سیفٹی میں اضافے اور سندھ پولیس میں اعتماد کی بحالی کی جانب اہم قدم ہے۔

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    نیب اور ایف آئی اے نےپانامہ کیسز دوبارہ کھول دئیے گئے

    بھارتی پارلیمنٹ کا ہنگامہ خیز سیشن ختم

    چیٹ جی پی ٹی بھی واٹس ایپ پر آگیا، نمبر جاری

  • ججز تقرریوں میں سیاسی مداخلت کیخلاف درخواست، عدالت نے سوالات اٹھا دیے

    ججز تقرریوں میں سیاسی مداخلت کیخلاف درخواست، عدالت نے سوالات اٹھا دیے

    سندھ ہائیکورٹ کے ججز کی تقرریوں میں سیاسی مداخلت روکنے سے متعلق درخواست کی سماعت کے دوران عدالت نے بینچ کے دائرہ اختیار سے متعلق دلائل طلب کرلیے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں دوران سماعت جسٹس جنید غفار نے کہا کہ یہ درخواست ہمارے پاس کیوں آئی ہی آئینی بینچ میں جانی چاہیے، درخواست میں کیا استدعا کی گئی ہی ۔درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن کا جاری کردہ نوٹیفکیشن غیر آئینی قرار دیا جائے۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں کے 2 الگ وکیل کیوں ہیں ہم ایک درخواست میں ایک ہی وکیل کو سنیں گے، پہلے عدالت کو مطمئن کریں یہ درخواست ریگولر بینچ میں کیوں ہے آئینی بینچ میں کیوں نہیں ۔بعدازاں عدالت نے درخواست کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔درخواست میں کہا گیا ہے کہ جوڈیشل کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کے پیش کردہ ناموں کو غیر آئینی قرار دیا جائے، جوڈیشل کمیشن میں سیاسی جماعتوں کے ارکان کی تعداد زیادہ ہے۔درخواست کے مطابق سیاسی جماعتیں ججز کی تقرری میں عدلیہ پر اثر انداز ہوسکتی ہیں، ججز تقرری کے لیے صرف عدلیہ سے تعلق رکھنے والے ارکان کے پیش کردہ نام زیرِ غور لائے جائیں۔

    مرحوم ملازمین کی اولاد کیلئے ملازمت کا کوٹہ ختم

    وزیر اعلیٰ سندھ سے پنجاب و خیبر پختونخواہ گورنرز کی ملاقات

    لیبیا کشتی حادثے میں ملوث زمانہ اشتہاری ملزم گرفتار