Baaghi TV

Category: کراچی

  • کسٹمز کی کارروائیاں، کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ اشیا برآمد

    کسٹمز کی کارروائیاں، کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ اشیا برآمد

    سندھ رینجرزاورکسٹمز حکام نے 2 مختلف کارروائیوں کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ اشیا برآمد کرکے 9 ملزمان کوگرفتارکرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملک میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سندھ رینجرزاورکسٹمز حکام کی جانب سے آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔اسی حوالے سے خفیہ معلومات کی بنیاد پرمنگھو پیرروڈمیانوالی کالونی میں ایک مشکوک کنٹینرسے تلاشی کے دوران 16800کلو گرام نان کسٹم پیڈ چھالیہ کی141کارٹن، 3135کلو گرام راجنی کے 420کارٹن اور 38کارٹن پیپسی چھالیہ برآمد کر لی گئی جس کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔کارروائی کے دوران 2ملزمان عجب لحان اورگل بدین کو بھی گرفتار کیا گیا۔دوسری مشترکہ کارروائی پیر آباد تھانے کے علاقے پختون مارکیٹ بنارس آریانا بس اڈے پر کی گئی ، جہاں بھاری مقدار میں نان کسٹم پیڈاشیا جن میں خشک دودھ، سگریٹ،چائنا نمک، گاڑیوں کے بال بیئرنگ اور بال بیئرنگ برش شامل ہیں برآمد کر لی گئی۔برآمد اشیا کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔کارروائی کے دوران 7 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا، جنہیں بمعہ برآمد شدہ نان کسٹم اشیا مزید قانونی کارروائی کے لیے کسٹمز حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    بانی کی ہدایت نہ ماننے پر پی ٹی آئی کمیٹی کا اظہار تشویش

    بیلاروس کے صدر کا قربانیوں پرپاک فوج کو خراج تحسین

    اٹک میں پی ٹی آئی رہنماوں وکارکنان کےخلاف 7 مقدمات درج

  • فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت

    فضل الرحمان کی اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت

    سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے اسلام آباد میں پرتشدد واقعات کی مذمت کردی۔

    لاڑکانہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ اسلام آباد میں پر تشدد واقعات کی مذمت کرتے ہیں۔ کسی پارٹی کے اندرونی معاملات کو زیر بحث نہیں لانا چاہتا، آج کے حالات 8 فروری کے الیکشن کی وجہ سے ہیں، حالات میں شدت پیدا ہوئی، ہم نے ہمیشہ اعتدال پر مبنی سیاست متعارف کروائی ہے۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ کو انتخابی عمل سے لاتعلق ہونا ہوگا، تب ہی ملک میں امن ہوگا، اگر کوئی شخص گھر سے باہر نہیں نکلا تب بھی وہ گھر میں اضطراب کا شکار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کو جلسے کی اجازت ہونی چاہیے، پاکستان میں خون ریزی کی سیاست نہیں چل سکتی، حقائق پر مبنی سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے، طاقتور حلقوں نے اگر سنجیدگی کا مظاہرہ نا کیا تو ملکی حالات کنٹرول سے باہر ہوں گے۔ 26 ویں ترمیم جس پر حکمران خوش تھے کہ 9 گھنٹوں میں معاملہ ٹھیک ہوگیا، اس معاملے کو ایک ماہ تک لے گئے تب اتنا بڑا معرکہ سر ہوا جب کہ اس میں پی ٹی آئی کو بھی اعتماد میں لیا گیا۔سربراہ جے یو آئی نے بتایا کہ اگر 26 ویں ترمیم ہوسکتی ہے تو پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیاں مذاکرات میں کردار ادا کرسکتے ہیں، بلوچستان کے حالات یہ ہیں کہ وہاں کوئی حکومت ہے ہی نہیں۔ اپنے کارکنان کو تشدد سے پاک صحیح راستہ دکھانا سیاسی جماعتوں کا فرض ہے، مدارس بل پر اگر صدر مملکت نے دستخط نہیں کیے تو پھر کانفرنس بلائیں گے۔

    ایف آئی اے چھاپہ، مینیجر سمیت 2 ملزمان گرفتار

    جلا ہوا پی ٹی آئی کا کنٹینر لوگ دیکھنے پہنچ گئے

    3 دن میں اسلام آباد آنے والے 3 منٹ میں بھاگ گئے، ناصر حسین شاہ

  • ایف آئی اے  چھاپہ، مینیجر سمیت 2 ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے چھاپہ، مینیجر سمیت 2 ملزمان گرفتار

    ایف آئی اے اسٹیٹ بینک سرکل کراچی نے کارروائی کے دوران غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتارکرلیا۔

    ترجمان ایف آئی اے کے مطابق چھاپہ مار کارروائی نجی بینک کی اسٹاک ایکسچینج میں واقع برانچ کی پارکنگ میں کی گئی، گرفتار ملزمان کی شناخت محمد فیصل اور میسم رضا کے نام سے ہوئی۔ملزم محمد فیصل نجی بینک میں برانچ مینیجرہے،ملزم کو غیر ملکی کرنسی ایکسچینج کرتے ہوئے پارکنگ سے رنگے ہاتھوں گرفتار کیا گیا،چھاپے کے دوران ملزمان سے 45000 امریکی ڈالر برآمد کیے گئے،برآمد ہونے والی کرنسی کی مجموعی مالیت 1 کروڑ 25 لاکھ روپے سے زائد ہے۔ ملزمان کے خلاف کارروائی خفیہ اطلاع پرعمل میں لائی گئی،اس حوالے سے تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ ملزمان کی نشاندہی پر مزید گرفتاریاں متوقع ہیں۔

    جلا ہوا پی ٹی آئی کا کنٹینر لوگ دیکھنے پہنچ گئے

    3 دن میں اسلام آباد آنے والے 3 منٹ میں بھاگ گئے، ناصر حسین شاہ

  • پاکستان میں نئی ائیر لائن بنانے کا اعلان

    پاکستان میں نئی ائیر لائن بنانے کا اعلان

    کراچی: تاجر برادری کی جانب سے نئی ایئرلائن بنانے کا اعلان کیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی : ’ایئر کراچی‘‘ کے نام سے نئی فضائی کمپنی کراچی کی تاجر برادری کی جانب سے متعارف کرائی جا رہی ہے نئی ایئر لائن کے نام ’’ایئر کراچی‘‘ کو ایس ای سی پی نے بھی رجسٹرڈ کرلیا ہے۔

    ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدرحنیف گوہر نے بتایا کہ ایئر کراچی کے لائسنس کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست ارسال کردی گئی ہے، ایئر کراچی کے لیے پہلے مرحلے میں 3 طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے،ائیر کراچی میں سی او کے منصب پر سدرن کمانڈر ائیر وائس مارشل عمران کو مقرر کیا گیا ہے جب کہ عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، ایس ایم تنویر ، بشیر جان محمد ، خالد تواب، زبیر طفیل ،حمزہ تابانی ایئر کراچی کے شئیر ہولڈرز ہیں۔

    حنیف گوہر نے بتایا کہ نئی فضائی کمپنی کا لائسنس چند دنوں میں حاصل ہونے کے قوی امکانات ہیں، ائیر کراچی 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے شروع کی جارہی ہے، جس میں فی شیئر ہولڈرز کا حصہ 5 کروڑ روپے ہے۔

  • وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کی لاشوں والی خواہش پوری نہیں ہونے دی،شرجیل میمن

    وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کی لاشوں والی خواہش پوری نہیں ہونے دی،شرجیل میمن

    کراچی: وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن کاکہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا احتجاج 9مئی سے کم نہیں تھا، وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کی لاشوں والی خواہش پوری نہیں ہونے دی-

    باغی ٹی وی : کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر اطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا کہ پچھلے دوتین دن سے جو ہورہا ہے وہ نہایت افسوسناک عمل ہےبیلاروس کے صدر وفد سمیت پاکستان آئے، چین کا وفد بھی آیااہم موقعوں پر پی ٹی آئی کی جانب سے ملک کو ڈی ریل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے پی ٹی آئی کے اس افسوسناک اقدام نے ماضی کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے، اہم وقت میں اس قسم کی کالز دینا اچھی روایت نہیں، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے احتجاج کو لیڈ کیا، خیبرپختونخوا صوبے کی پوری مشینری استعمال کی گئی، پنجاب پولیس کو یرغمال بنایا گیا،تشدد کیا گیا، رینجرز اور ایف سی کے جوانوں کو شہید کیا گیا-

    شرجیل میمن نے کہا کہ وفاقی حکومت نے صبر اور تحمل کا مظاہرہ کیا، وزیر داخلہ کہتے آرہے ہیں کہ پی ٹی آئی چاہتی ہے ان کو لاشیں ملیں، وفاقی حکومت،وزیر داخلہ صاحب بہت متحرک نظر آئے، وزیر داخلہ نے پی ٹی آئی کی لاشوں والی خواہش پوری نہیں ہونے دی،بانی پی ٹی آئی کہتے تھے میری بیگم صاحبہ غیر سیاسی ہیں، پی ٹی آئی کی بیگم صاحبہ بہت ہی سیاسی نکلیں،وہ بانی پی ٹی آئی سے دو ہاتھ آگے نکلیں، بشریٰ بی بی ورکرز کے جذبات کو اُبھارتی رہیں۔

    صوبائی وزیر نے کہا کہ جب پولیس نے ایکشن شروع کیا تو سب سے پہلے علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی بھاگیں، ان کی اپنی اولادیں ملک سے باہر سکون والی زندگی گزار رہی ہیں، ان کی یہ کال 9مئی سے کسی صورت کم نہیں تھیں، سب کیلئے یہ آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے، بشریٰ بی بی کا کردار بہت منفی رہا، احتجاج سب کا حق ہے ،کوئی منع نہیں کرتا، لوگ منہ پر ماسک پہن کر آرہے ہوتے، ان کے مظاہرین کے ہاتھ میں آنسو گیس کے شیل ہوتے ہیں، کون سے ملک میں پولیس ،فورسز اور رینجرز پر حملہ کیا جاتا ہے؟ سرکاری املاک کو آگ لگانا کون سا احتجاج ہوتا ہے احتجاج کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اسٹیٹ کو یرغمال بنالیں، ہم بھی عدالتوں کا سامنا کررہے ہیں، آپ بھی عدالتوں کا سامنا کریں اور ریلیف لیں، یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ ہتھیار اٹھائیں اور ریاست کو چیلنج کریں، اب بھاگ کر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کہاں چلے گئے؟۔

    صوبائی وزیر نےکہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو کی سربراہی میں لانگ مارچ ہم نے بھی کیے، پورے پاکستان میں کہیں ایک جگہ بھی گملہ ٹوٹا ہوتو بتائیں؟ پنجاب میں اس وقت پی ٹی آئی کی حکومت تھی، ہم نے کسی پولیس والے کے ساتھ بدتمیزی نہیں کی، خیبرپختونخوا کے ایم این اے نے کہا ہمیں وزیراعلیٰ نے پیسے دیئے ہیں، یہ سرکار ی پیسہ تھا، ان کا یہ کردار تاریخ میں کالے حروف میں لکھا جائے گا،کسی کو گورنر راج کا مشورہ نہیں دوں گا، جو پچھلےدو تین روز میں خیبرپختونخوا حکومت کا کردار رہا ہے،سب نے دیکھا، پی ٹی آئی اس قا بل نہیں کہ ان کو حکومت کرنی چاہیے، پی ٹی آئی اپنا یہ اختیار کھوچکی ہے کہ وہ خیبرپختونخوا میں حکومت جاری رکھے۔

    دوسری جانب احتساب عدالت میں شرجیل انعام میمن کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ریفرنس کی سماعت ہوئی ، عدالت نے ریفرنس کی سماعت بغیر کارروائی 4 دسمبر تک ملتوی کردی ،آئندہ سماعت پر ریفرنس کا فیصلہ سنائے جانے کا امکان ہے ۔

  • سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 3357 پوائنٹس کا بڑا اضافہ

    سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 3357 پوائنٹس کا بڑا اضافہ

    کراچی: سٹاک مارکیٹ میں آج کاروبار کے آغاز پر زبردست تیزی دیکھنے کو مل رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : کاروباری ہفتے کے تیسرے روز کاروبار کے آغاز پر پاکستان سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 3357 پوائنٹس کا بڑا اضافہ ہوا جس کے بعد انڈیکس 98 ہزار 160 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی آغاز ہوا، سٹاک مارکیٹ کے 100 انڈیکس میں 541 پوائنٹس کی کمی ریکارڈ کی گئی جس سے انڈیکس 97 ہزار 538 کی سطح پر آ گیا،بعدازاں ایک بار پھر پاکستان سٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھنے کو ملی اور پھر 100 انڈ یکس 99 ہزار کی حد عبور کر گیا، ایک موقع پر کاروبار کے دوران پاکستان سٹاک ایکسچینج میں 100 انڈیکس 1642 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ 99 ہزار 820 پوائنٹس تک پہنچ گیا۔

    کاروباری ہفتے کے دوسرے روز پاکستان سٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے اختتام پر سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے کو ملی اور 100 انڈیکس میں 3506 پوائنٹس کی کمی ہو گئی جس کے بعد سٹاک مارکیٹ منفی زون میں 94 ہزار 181 پوائنٹس پر بند ہوئی۔

  • گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی،کے ایم سی میں کمیٹی کی ہدایت

    گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی،کے ایم سی میں کمیٹی کی ہدایت

    سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی)میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندہی کے لئے چیف سیکریٹری سندھ کو تحقیقاتی کمیٹی قائم کرنے کی ہدایت کردی ہے۔ ک

    باغی ٹی وی کے مطابق کے ایم سی کے 12 ہزار سے زائد ملازمین کی حاضری کے لئے مینویل حاضری رجسٹر کے علاوہ ملازمین کی حاضری کے لئے کوئی جدید مکینزم موجود نہ ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے۔پی اے سی نے کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین پر ماہانہ کروڑوں روپے خرچ ہونے کے خدشے کے پیش نظر کے ایم سی کے 12 ہزار سے زائد ملازمین کا ریکارڈ تمام ڈیٹا سمیت طلب کرلیا ہے۔ منگل کو سندھ اسمبلی کی پبلک اکانٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نثار احمد کھوڑو کی صدارت میں سندھ اسمبلی کی کمیٹی روم میں ہوا اجلاس میں کمیٹی کے اراکین خرم سومرو، قاسم سراج سومرو سمیت کے ایم سی کے میونسپل کمشنر افضل زیدی، ڈی جی آڈٹ لوکل گورنمنٹ سمیت دیگر افسران نے شرکت کی۔اجلاس میں کے ایم سی کی سال 2018ع سے سال 2021ع تک آڈٹ پیراز کا جائزہ لیا گیا۔ پی اے سی اجلاس میں کے ایم سی افسران کے ایم سی کے تمام ملازمین کی ڈیٹا، سروس بوک، پرسنل فائیلز کی تفصیلات اور سال 2018ع کی کے ایم سی کی اے ڈی پی کی تفصیلات فراہم نہیں کرسکے۔ اس موقعے پر پی اے سی چیئرمین نثار کھوڑو نے کے ایم سی کے میونسپل کمشنر سے استفسار کیا کے کے ایم سی کے ٹوٹل کتنے ملازمین ہیں اور کتنے ملازمین ڈیوٹی پر آتے ہیں اور ملازمین کی حاضری چیک کرنے کے لئے کیام مکینزم موجود ہی جس پر میونسپل۔
    کمشنر افضل زیدی نے بتایا کے کے ایم سی کے 12ہزار سے زائد ملازمین ہیں جن کی حاضری چیک کرنے کے لئے صرف حاضری رجسٹر موجود ہے جبکے بایومیٹرک سسٹم نصب نہیں ہے اور کے ایم سی کے ہیڈ آف ڈپارٹمنٹس اپنے اپنے شعبے کے ملازمین کی حاضری کی تصدیق کرتے ہیں اور کوئی گھوسٹ ملازم نہیں ہے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے شھر کراچی سندھ کا کیپیٹل پے اور کے ایم سی ملازمین کی حاضری صرف رجسٹر کے ذریعے مانیٹر کررہا ہے ،جدید دور میں بایو میٹرک نظام کیوں نہیں ہے۔مینوئل حاضری رجسٹر ہونے سے ملازمین ایک دن آکر ایک ہفتے اور ایک ماہ کی حاضری لگا کر چلے جاتے ہیں۔ اگر تمام ملازمین ڈیوٹی پر آتے ہیں تو پہر آج ہی تمام ملازمین کا حاضری رجسٹر پیش کریں۔کمیٹی کے رکن خرم سومرو نے کہا کے کے ایم سی کے بھت ملازمین ایسے ہیں جو دو دو محکموں میں کام کر رہے ہیں اور بھت سے تو ویزا پر ہیں اور ڈیوٹی نہیں کرتے۔کمیٹی کے ایک اور رکن قاسم سومرو نے کہا کے ہر ماہ کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین کی کروڑوں روپے تنخواہیں نکالی جارہی ہیں اور کے ایم سی پر گھوسٹ ملازمین کا الزام ہی کمیٹی رکن خرم سومرو نے کہا کے کراچی کے قبرستانوں میں بھی کے ایم سی کے گھوسٹ ملازمین گورکن بن کر فی قبر 40 ہزار روپے میں فروخت کر رہے ہیں جس کا ثبوت میرے پاس موجود ہے۔میونسپل کمشنر افضل زیدی نے پی اے سی کو بتایا کے کے ایم سی میں 300ملازمین ایسے تھے جو ڈبل تبخواہیں لے رہے تھے اور وہ کے ایم سی کے ساتھ ساتھ سندھ پولیس میں بھی کام کر رہے تھے ان کی نشاندھی کرکے ان کے خلاف کاروائی کی گئی ہے۔کمیٹی رکن خرم سومرو نے کہا کے کے ایم سی میں ملازمین کی ڈیٹا ڈجیٹل سسٹم پر منتقل کریں تاکے دو دو مقام پر سرکاری نوکری کرنے والوں کی نشاندھی ہو اور ان کے خلاف سخت کاروائی کی جائے۔چیئرمین پی اے سی نثار کھوڑو نے کہا کے کے ایم سی میں گھوسٹ ملازمین اور گھر بیٹھے تنخواہیں لینے کا عمل کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔محکموں میں ویزا سسٹم بند ہونا چاہئے۔اور کے ایم سی میں گھوسٹ ملازمین کی موجودگی ایک بڑا سوالیہ نشان ہی اس لئے کے ایم سی ملازمین کی ڈیٹا سمیت ملازمین کی انٹرنل آڈٹ کرائی جائے۔پی اے سی نے کے ایم سی کے ہر ماہ کروڑوں روپے گھوسٹ ملازمین پر خرچ ہونے کے خدشے کے پیش نظر کے ایم سی کے تمام 12 ہزار سے زائد ملازمین کا ریکارڈ تمام ڈیٹا سمیت طلب کرلیا اور پی اے سی نے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن میں گھوسٹ ملازمین کی نشاندھی کے لئے چیف سیکریٹری سندھ کو تحقیقاتی کمیٹی قائم کرکے تحقیقات کروانے کی ہدایت کردی۔پی اے سی میں کراچی کے قبرستانوں میں فی قبر 40 ہزار روپے فروخت ہونے کا انکشاف ہوا۔ اجلاس میں کمیٹی کے رکن خرم سومرو نے کے ایم سی افسران سے پوچھا کے کراچی میں کتنے قبرستان ہیں اور کراچی کے قبرستانوں میں کے ایم سی کے ملازمین گورکن بن کر فی قبر 40 ہزار روپے میں فروخت کرے رہے ہیں اور ایک گورکن نے مجھ سے رشتدار کی قبر کے لئے 40 ہزار روپے لئے۔جس پر میونسپل کمشنر افضل زیدی نے بتایا کے کراچی کے قبرستان میں فی قبر کی سرکاری فیس کی پرچی صرف 300روپے ہے۔ پی اے سی اجلاس میں کمیٹی رکن قاسم سومرو نے افسران سے پوچھا کے کراچی میں کے ایم سی کے کتنے پارکس ہیں اور کتنے پارکس پر قبضہ ہے۔میونسپل کمشنر افضل زیدی نے پی اے سی کو بتایا کے کراچی میں کے ایم سی کے پاس 46 پارکس ہیں جن میں 90 فیصد پارکس فنکشنل ہیں اور کسی پر بھی قبضہ نہیں ہے۔ پی اے سی اجلاس میں کراچی کی 202نوٹیفائیڈ کچی ابادیوں کے 91 ہزار 495 گھروں اور 15لاکھ سے زائد کمرشل یونٹس کو ریگیولر نہ ہونے سے سندھ کے خزانے کو 21ارب سے زائد کا نقصان ہونے کا انکشاف سامنے آیا ہے جس پر پی اے سی نے کچی آبادیوں کی لیز اور رکوری کے متعلق محکمے سے تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔دریں اثنا پی اے سی چیئرمین اور پیپلز پارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کے اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنان اپنے بانی کے حکم پر فسادات کر رہے ہیں جس کا عتراف علی امین گنڈا پور کرچکے ہیں اور فساد کے نتیجے میں ہونی والی شھادتوں اور نقصان کے ذمیدار بانی پی ٹی آئی عمران خان ہیں۔نثار کھوڑو نے کہا کے عمران خان کو عدالت ہی آزاد کر سکتی ہے اس لئے پی ٹی آئی بانی کی رہائی کے لئے عدالت سے رجوع کرے۔عمران خان جب احتجاج کروا رہے ہیں تو پہر مذاکرات کیوں کر رہے ہیں۔ یہ دھرا معیار نہیں چلے گا۔ اور عمران خان کو اپنی یہ حکمت لے ڈوبے گی۔ نثار کھوڑو نے کہا کے صرف اسٹبلشمنٹ کے علاوہ کسی اور سے بات نہ کرنے کی دعوی کرنے والہ عمران خان آج حکومت سے بات کر رہا ہے۔ایک طرف انتشار اور فساد تو دوسری طرف مذاکرات اس عمل سے عمران خان کی شکست ہوئی ہے۔ انہوں مے کہا کے عمران خان نے ثابت کردیا ہے کے وہ سیاسی نہیں فاشزم پر یقین رکھتے ہیں۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • کراچی کی تاجر برادری نے نئی ائرلائن بنانے کا اعلان کردیا

    کراچی کی تاجر برادری نے نئی ائرلائن بنانے کا اعلان کردیا

    شہر قائد کی تاجر برادری کی جانب سے نئی ایئرلائن بنانے کا اعلان کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ’’ایئر کراچی‘‘ کے نام سے نئی فضائی کمپنی کراچی کی تاجر برادری کی جانب سے بہت جلد متعارف کرائی جا رہی ہے۔ نئی ایئر لائن کے نام ’’ایئر کراچی‘‘ کو ایس ای سی پی نے بھی رجسٹرڈ کرلیا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدرحنیف گوہر نے صحافیوں کو بتایا کہ ایئر کراچی کے لائسنس کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست ارسال کردی گئی ہے۔ایئر کراچی کے لیے پہلے مرحلے میں 3 طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ائیر کراچی میں سی او کے منصب پر سدرن کمانڈر ائیر وائس مارشل عمران کو مقرر کیا گیا ہے جب کہ عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، ایس ایم تنویر ایئر کراچی کے شئیر ہولڈرز ہیں۔حنیف گوہر نے بتایا کہ بشیر جان محمد ، خالد تواب، زبیر طفیل ،حمزہ تابانی بھی ائیر کراچی کے شیئر ہولڈرز ہیں۔ نئی فضائی کمپنی کا لائسنس چند دنوں میں حاصل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ ائیر کراچی 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے شروع کی جارہی ہے، جس میں فی شیئر ہولڈرز کا حصہ 5 کروڑ روپے ہے۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کیلیے حب ڈیم سے 50 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی مانگ لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی سے وزیراعلی ہاس میں ملاقات کے دوروان کے فور منصوبے اور آر بی او ڈی سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیربلدیات سعید غنی، وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور کے فور منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عامر مغل نے شرکت کی۔ملاقات کے ابتدا میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کو پانی کی سپلائی بڑھانے کیلیے متوازی کینال بنا رہی ہے۔ انہوں نے کراچی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے یومیہ 50 ملین گیلن اضافی پانی مختص کرنے پر زور دیا۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی کو تجویز دی کہ وہ واٹر بورڈ سے کہیں کہ اس سلسلے میں تحریری درخواست جمع کرائے جس پر میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ تحریری درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ حب کینال کی مرمت کے سلسلے میں واٹر بورڈ پر واپڈا کے 1 ارب روپے واجب الادا ہیں، وزیراعلی نے جواب دیا کہ ان کی حکومت واپڈا کے واجبات کا معاملہ حل کرے گی۔ انہوں نے وزیر بلدیات سعید غنی کو سمری پیش کرنے کی ہدایت کی۔کراچی کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے 4 (فیز1) کے کینجھر جھیل سے کراچی میں تین اختتامی پوائنٹس ہیں جن میں پپری، نیک اور منگھوپیر شامل ہیں۔پروجیکٹ واپڈا بنا رہی ہے اور تکمیل کی تاریخ جون 2026 ہے۔واپڈا کی جانب سے جو تعمیرات کی جا رہی ہیں ان میں کینجھر جھیل پر 650 میلن گیلن یومیہ کا انٹیک اسٹرکچر، کینجھر پمپنگ کمپلیکس کو جانے والے 650 ملین گلین یومیہ گریویٹی چینل، کمپلیکس میں 130 ایم جی ڈی کی 2 پمپنگ اسٹیشنز ہوں گی۔ اس کے علاوہ 260 ایم جی ڈی کی پائپ لائن اور فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ 3 آبی ذخائر کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔دوسری جانب حکومت سندھ تقسیم اور توسیع کے نظام پر کام کر رہی ہے۔ 50 میگاواٹ پاور سپلائی کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں اور راستے میں منصوبے کے لیے درکار زمینیں حاصل کی جا رہی ہیں۔چیئرمین واپڈ نے کے 4 منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ قومی اور بین الاقوامی کنٹریکٹرز کے ذریعے 8 مختلف ٹھیکوں کی صورت میں مکمل کیا جا رہا ہی. انٹیک اسٹرکچر، پمپنگ اسٹیشنز، واٹر سپلائی کے نظام، پانی کے ذخائر اور فلٹریشن پلانٹس سمیت تمام منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
    مجموعی طور پر منصوبے پر 53 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔بات چیت میں حکومت سندھ کے حصے کے ساڑھے 8 ارب روپے کا اجرا بھی زیر بحث آیا جس پر وزیراعلی سندھ نے وزیربلدیات سعید غنی کو ہدایت کی کہ وہ سندھ حکومت کے حصے کے پیسے جاری کرنے کیلیے سمری تیار کریں۔راستے کی 5 کلومیٹر زمین اور عدالتی مقدمات کے سلسلے میں وزیراعلی سندھ نے میئر کراچی مرتضی وہاب کو ہدایت کی کہ اسٹے آرڈرز ختم کرائیں تاکہ منصوبے پر کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔اس کے علاوہ آر ڈی 78 پر ایک اور زمین کے تنازعے پر وزیراعلی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو کو ہدایت کی کہ معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ حل کیا جائے۔وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈ نے وفاقی فنڈز سے بنائے گئے آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ آر بی او ڈی 1 منصوبہ لاڑکانہ ، دادو اور جامشورو سے سیم زدہ ، زرعی نکاسی اور سیلابی پانی کو نکالنے کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ آر بی او ڈی 3 منصوبہ قمبر شہدادکوٹ اور جیکب آباد کا پانی نکالتا ہے۔لوئر انڈس رائٹ بینک اریگیشن اینڈ ڈیرینیج پروجیکٹ ( ایل آئی آر بی پی) خصوصی طور پر آر بی او ڈی 1 منصوبہ 1994 میں سیم اور سیلابی پانی کو سہون کے مقام پر انڈس لنک کینال کے راستے دریائے سندھ میں چھوڑنے کی غرض سے تعمیر کیا گیا تھا۔آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبے بالترتیب 2020 اور 2021 میں مکمل کیے گئے تھے اور محکمہ آبپاشی سندھ کے حوالے کیے جانے تھے تاہم واپڈ کی طرف سے نقصانات کی بحالی اور قرضے کے تنازعات کے باعث منصوبے حکومت سندھ کے حوالے نہیں کیے جاسکے۔وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب کے دوروان حکومت سندھ نے آر بی او ڈی کی بحالی اور مرمت پرکروڑوں روپے خرچ کیے جس پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ واپڈا یہ پیسے صوبائی حکومت کو ادا کرے۔ملاقات کے آخر میں وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈا نے محکمہ آبپاشی اور واپڈا کے اراکین پر مشتمل ماہرین کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا۔ یہ کمیٹی آر بی او ڈی 1 اور آ ربی او ڈی 3 کے ایشوز کا جائزہ لے کر منصوبے حکومت سندھ کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

  • ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    کراچی چڑیا گھر سے ہتھنی مدھوبالا کو سفاری پارک منتقل کر دیا گیا ہے،ہتھنی کو کنٹینر کے ذریعے ٹرک پر لوڈ کر کے سفاری پارک لایا گیا، منتقلی کے دوران ہتھنی نے کنٹینر میں خود کو زخمی بھی کر لیا۔

    باغی ٹی وی کو سربراہ فورپاز ڈاکٹر عامر خلیل نے اس حوالے سے بتایاکہ دیکھنا ہے کہ مدھوبالا سفاری پارک میں موجود ہتھنیوں سے کتنے وقت میں مانوس ہوتی ہے۔چڑیا گھر میں موجود ہتھنی مدھوبالا کو سفاری پارک میں منتقل کرنے کے لیے صبح کنٹینر میں سوار کیا گیا تھا، بعد ازاں اس کنٹینر کو کرین کی مدد سے ٹرک پر لوڈ کیا گیا۔ہتھنی مدوھوبالا کا ٹرک لیاری ایکسپرے وے سے سہراب گوٹھ اور پھر ابوالحسن اصفہانی روڈ سے ہوتا ہوا سفاری پارک لایا گیا۔منتقلی کے دوران سٹی وارڈنز کی بھاری نفری تعینات رہی۔سربراہ فورپاز ڈاکٹر عامر خلیل کے مطابق ہتھنی بہت کوششوں کے بعد کنٹینر میں داخل ہوئی، کنٹینر میں ڈالنے کے بعد اسے نیم بیہوشی کی دوا دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ہتھنی کے لیے سفاری پارک میں 3 گنا بڑی جگہ بنائی گئی ہے، جس میں خصوصی انکلوژر، سوئمنگ پول اور دیگر سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔انعامر خلیل نے بتایا کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ سفاری پارک میں موجود ہتھنیوں ملکہ اور سونیا سے یہ کتنے وقت میں مانوس ہوتی ہے۔ جانوروں کے حقوق کی کارکن عائشہ سحر نے کہا کہ مدھو بالا نے خود کو کنٹینر میں مارا ہے جس کے باعث وہ زخمی ہوئی ہے، خدشہ ہے کہ وہ بہت زیادہ زخمی ہو گئی ہے، پہلے ہی وہ بہت کمزور ہے، اب اس کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔

    ہوا کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ،نیدرلینڈز میں وارننگ جاری

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

    حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان