Baaghi TV

Category: کراچی

  • کراچی کی تاجر برادری نے نئی ائرلائن بنانے کا اعلان کردیا

    کراچی کی تاجر برادری نے نئی ائرلائن بنانے کا اعلان کردیا

    شہر قائد کی تاجر برادری کی جانب سے نئی ایئرلائن بنانے کا اعلان کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ’’ایئر کراچی‘‘ کے نام سے نئی فضائی کمپنی کراچی کی تاجر برادری کی جانب سے بہت جلد متعارف کرائی جا رہی ہے۔ نئی ایئر لائن کے نام ’’ایئر کراچی‘‘ کو ایس ای سی پی نے بھی رجسٹرڈ کرلیا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدرحنیف گوہر نے صحافیوں کو بتایا کہ ایئر کراچی کے لائسنس کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست ارسال کردی گئی ہے۔ایئر کراچی کے لیے پہلے مرحلے میں 3 طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ائیر کراچی میں سی او کے منصب پر سدرن کمانڈر ائیر وائس مارشل عمران کو مقرر کیا گیا ہے جب کہ عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، ایس ایم تنویر ایئر کراچی کے شئیر ہولڈرز ہیں۔حنیف گوہر نے بتایا کہ بشیر جان محمد ، خالد تواب، زبیر طفیل ،حمزہ تابانی بھی ائیر کراچی کے شیئر ہولڈرز ہیں۔ نئی فضائی کمپنی کا لائسنس چند دنوں میں حاصل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ ائیر کراچی 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے شروع کی جارہی ہے، جس میں فی شیئر ہولڈرز کا حصہ 5 کروڑ روپے ہے۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کیلیے حب ڈیم سے 50 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی مانگ لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی سے وزیراعلی ہاس میں ملاقات کے دوروان کے فور منصوبے اور آر بی او ڈی سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیربلدیات سعید غنی، وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور کے فور منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عامر مغل نے شرکت کی۔ملاقات کے ابتدا میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کو پانی کی سپلائی بڑھانے کیلیے متوازی کینال بنا رہی ہے۔ انہوں نے کراچی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے یومیہ 50 ملین گیلن اضافی پانی مختص کرنے پر زور دیا۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی کو تجویز دی کہ وہ واٹر بورڈ سے کہیں کہ اس سلسلے میں تحریری درخواست جمع کرائے جس پر میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ تحریری درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ حب کینال کی مرمت کے سلسلے میں واٹر بورڈ پر واپڈا کے 1 ارب روپے واجب الادا ہیں، وزیراعلی نے جواب دیا کہ ان کی حکومت واپڈا کے واجبات کا معاملہ حل کرے گی۔ انہوں نے وزیر بلدیات سعید غنی کو سمری پیش کرنے کی ہدایت کی۔کراچی کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے 4 (فیز1) کے کینجھر جھیل سے کراچی میں تین اختتامی پوائنٹس ہیں جن میں پپری، نیک اور منگھوپیر شامل ہیں۔پروجیکٹ واپڈا بنا رہی ہے اور تکمیل کی تاریخ جون 2026 ہے۔واپڈا کی جانب سے جو تعمیرات کی جا رہی ہیں ان میں کینجھر جھیل پر 650 میلن گیلن یومیہ کا انٹیک اسٹرکچر، کینجھر پمپنگ کمپلیکس کو جانے والے 650 ملین گلین یومیہ گریویٹی چینل، کمپلیکس میں 130 ایم جی ڈی کی 2 پمپنگ اسٹیشنز ہوں گی۔ اس کے علاوہ 260 ایم جی ڈی کی پائپ لائن اور فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ 3 آبی ذخائر کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔دوسری جانب حکومت سندھ تقسیم اور توسیع کے نظام پر کام کر رہی ہے۔ 50 میگاواٹ پاور سپلائی کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں اور راستے میں منصوبے کے لیے درکار زمینیں حاصل کی جا رہی ہیں۔چیئرمین واپڈ نے کے 4 منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ قومی اور بین الاقوامی کنٹریکٹرز کے ذریعے 8 مختلف ٹھیکوں کی صورت میں مکمل کیا جا رہا ہی. انٹیک اسٹرکچر، پمپنگ اسٹیشنز، واٹر سپلائی کے نظام، پانی کے ذخائر اور فلٹریشن پلانٹس سمیت تمام منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
    مجموعی طور پر منصوبے پر 53 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔بات چیت میں حکومت سندھ کے حصے کے ساڑھے 8 ارب روپے کا اجرا بھی زیر بحث آیا جس پر وزیراعلی سندھ نے وزیربلدیات سعید غنی کو ہدایت کی کہ وہ سندھ حکومت کے حصے کے پیسے جاری کرنے کیلیے سمری تیار کریں۔راستے کی 5 کلومیٹر زمین اور عدالتی مقدمات کے سلسلے میں وزیراعلی سندھ نے میئر کراچی مرتضی وہاب کو ہدایت کی کہ اسٹے آرڈرز ختم کرائیں تاکہ منصوبے پر کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔اس کے علاوہ آر ڈی 78 پر ایک اور زمین کے تنازعے پر وزیراعلی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو کو ہدایت کی کہ معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ حل کیا جائے۔وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈ نے وفاقی فنڈز سے بنائے گئے آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ آر بی او ڈی 1 منصوبہ لاڑکانہ ، دادو اور جامشورو سے سیم زدہ ، زرعی نکاسی اور سیلابی پانی کو نکالنے کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ آر بی او ڈی 3 منصوبہ قمبر شہدادکوٹ اور جیکب آباد کا پانی نکالتا ہے۔لوئر انڈس رائٹ بینک اریگیشن اینڈ ڈیرینیج پروجیکٹ ( ایل آئی آر بی پی) خصوصی طور پر آر بی او ڈی 1 منصوبہ 1994 میں سیم اور سیلابی پانی کو سہون کے مقام پر انڈس لنک کینال کے راستے دریائے سندھ میں چھوڑنے کی غرض سے تعمیر کیا گیا تھا۔آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبے بالترتیب 2020 اور 2021 میں مکمل کیے گئے تھے اور محکمہ آبپاشی سندھ کے حوالے کیے جانے تھے تاہم واپڈ کی طرف سے نقصانات کی بحالی اور قرضے کے تنازعات کے باعث منصوبے حکومت سندھ کے حوالے نہیں کیے جاسکے۔وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب کے دوروان حکومت سندھ نے آر بی او ڈی کی بحالی اور مرمت پرکروڑوں روپے خرچ کیے جس پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ واپڈا یہ پیسے صوبائی حکومت کو ادا کرے۔ملاقات کے آخر میں وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈا نے محکمہ آبپاشی اور واپڈا کے اراکین پر مشتمل ماہرین کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا۔ یہ کمیٹی آر بی او ڈی 1 اور آ ربی او ڈی 3 کے ایشوز کا جائزہ لے کر منصوبے حکومت سندھ کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

  • ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    کراچی چڑیا گھر سے ہتھنی مدھوبالا کو سفاری پارک منتقل کر دیا گیا ہے،ہتھنی کو کنٹینر کے ذریعے ٹرک پر لوڈ کر کے سفاری پارک لایا گیا، منتقلی کے دوران ہتھنی نے کنٹینر میں خود کو زخمی بھی کر لیا۔

    باغی ٹی وی کو سربراہ فورپاز ڈاکٹر عامر خلیل نے اس حوالے سے بتایاکہ دیکھنا ہے کہ مدھوبالا سفاری پارک میں موجود ہتھنیوں سے کتنے وقت میں مانوس ہوتی ہے۔چڑیا گھر میں موجود ہتھنی مدھوبالا کو سفاری پارک میں منتقل کرنے کے لیے صبح کنٹینر میں سوار کیا گیا تھا، بعد ازاں اس کنٹینر کو کرین کی مدد سے ٹرک پر لوڈ کیا گیا۔ہتھنی مدوھوبالا کا ٹرک لیاری ایکسپرے وے سے سہراب گوٹھ اور پھر ابوالحسن اصفہانی روڈ سے ہوتا ہوا سفاری پارک لایا گیا۔منتقلی کے دوران سٹی وارڈنز کی بھاری نفری تعینات رہی۔سربراہ فورپاز ڈاکٹر عامر خلیل کے مطابق ہتھنی بہت کوششوں کے بعد کنٹینر میں داخل ہوئی، کنٹینر میں ڈالنے کے بعد اسے نیم بیہوشی کی دوا دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ہتھنی کے لیے سفاری پارک میں 3 گنا بڑی جگہ بنائی گئی ہے، جس میں خصوصی انکلوژر، سوئمنگ پول اور دیگر سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔انعامر خلیل نے بتایا کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ سفاری پارک میں موجود ہتھنیوں ملکہ اور سونیا سے یہ کتنے وقت میں مانوس ہوتی ہے۔ جانوروں کے حقوق کی کارکن عائشہ سحر نے کہا کہ مدھو بالا نے خود کو کنٹینر میں مارا ہے جس کے باعث وہ زخمی ہوئی ہے، خدشہ ہے کہ وہ بہت زیادہ زخمی ہو گئی ہے، پہلے ہی وہ بہت کمزور ہے، اب اس کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔

    ہوا کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ،نیدرلینڈز میں وارننگ جاری

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

    حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

  • حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

    حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے اور لوٹ مار کے دوران جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت ، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوچکے ہیں .

    باغی ٹی وی کے مطابق منعم ظفر خان نے اپنے بیان میں مزیدکہاکہ شہری ایک جانب ڈکیتی کی وارداتوں سے پریشان ہیں دوسری جانب شہر میں ایک بار پھر سے ٹارگٹ کلنگ کے وارداتیں شروع ہوچکی ہیں، پیسے اور موبائل فون چھین لینے کے باوجود لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے ، حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ،صوبائی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائمز کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے،بتایا جائے کہ آخر جرائم پیشہ عناصر ودہشت گرد وںکے نیٹ ورک کو توڑا کیوں نہیں جارہا ،کون سی طاقتیں ان کی سرپرستی کررہی ہیں ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کب شروع ہوگی رواں سال ڈکیتی کی وارداتوں میںاب تک 102 شہری اپنی جان گنوابیٹھے ،شہری مسلح ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کی دن دہاڑے اور بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث نہ صرف پریشان ہیں بلکہ شدید عدم تحفظ کا بھی شکار ہیں ، سندھ حکومت نے سیف سٹی پروجیکٹ کے نام پر اربوں روپے کا بجٹ خرچ کیا لیکن اس کا حاصل اور نتیجہ صفر ہی رہا ہے ،پولیس کے محکمے میں نہ صرف جرائم پیشہ عناصر اورڈاکوؤں کی سرپرستی کرنے والے موجود ہیں بلکہ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں اور کراچی کے مقامی باشندوں کی عدم موجودگی نے پولیس کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے محکمے میں اصلاحات کی جائیں ،جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اورکراچی کے مقامی باشندوں کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے ۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کو ایک موثر، ٹیکنالوجی سے لیس فورس میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ عوام کے تحفظ اور سندھ کے عوام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کو فروغ دیا جاسکے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس میں 51ویں خصوصی تربیتی پروگرام اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) کے 27ویں ابتدائی کمانڈ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1843 میں قائم ہونے والی سندھ پولیس برصغیر کا سب سے قدیم پولیس ادارہ ہے اور عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کےلیے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ 1 لاکھ62 ہزار اہلکاروں پر مشتمل سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی فورس ہے جو جرائم کی روکتھام، سراغ رسانی اور قیام امن کےلیے پرعزم ہے۔ ۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، سیکرٹری داخلہ اقبال میمن، پی ایس سی ایم آغا واصف، آئی جی پولیس غلام نبی میمن اور دیگر نے شرکت کی۔مراد علی شاہ نے پولیس کی کارکردگی اور صلاحیت بڑھانے کےلیے کئی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ اسمارٹ سرویلئینس سسٹم ( ایس 4 منصوبہ ) ہے جس کے تحت سندھ بھر کے 40 ٹول پلازوں پر نگراں کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد اہم داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی ، بروقت کارروائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس آپریشنز کو یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، کراچی سیف سٹی پراجیکٹ سندھ پولیس کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔جرائم کے خاتمے کی حکومتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے سندھ ہیبیچوئل آفنڈرز مانیٹرنگ ایکٹ 2022 کا ذکر کیا جس کے تحت ڈکیتی، بھتہ خوری اور گاڑیوں کی چوری میں ملوث عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی پی ایس سے منسلک کڑے اور بریسلٹس مجرموں کی بروقت نگرانی کو یقینی بنائیں گے تاکہ صوبے میں محفوظ علاقوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ محکمہ پولیس کی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ اہم شعبوں کو مضبوط کرنے کےلیے خاطرخواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کو 2 ارب 70 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اسپیشل برانچ نے 1 ارب 20 کروڑ روپے وصول کیے ہیں جبکہ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کو 60 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انویسٹی گیشن آفیسرز کےلیے بھی انعامات رکھے گئے ہیں۔ پولیس تھانوں کےلیے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ایس ایچ اوز کو ڈی ڈی او کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ سندھ پولیس کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی مدد کےلیے حکومت سندھ نے 4 ارب 96 کروڑ اور 10 لاکھ روپے مالیت کا انشورنس پروگرام متعارف کرایا ہے۔ شہدا پیکج میں اضافے پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے جس کے تحت معاوضے کی رقم ایک کروڑ سے بڑھا کر 2 کروڑ 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ شہید کے خاندان کو ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہ کی ادائیگی اور خاندان کے 2 افراد کو ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ مہارت میں اضافے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت پالیسیوں اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کےلیے پولیس افسران، وکلا اور ججز کےلیے تربیتی پروگرام پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اہلکاروں کو جدید چیلنجز اور قیام امن کے قابل بنانے کےلیے صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات جاری ہیں۔ سندھ حکومت کے جامع اقدامات سندھ پولیس کو جدید ، مستعد اور ٹیکنالوجی سے لیس فورس بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان اقدامات سے عوام کے تحفظ اور قانون پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے سندھ پولیس پاکستان کی مثالی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی بننے جا رہی ہے۔

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • سندھ پولیس میں رشوت پر بھرتی 139 کلرکس دوبارہ ٹیسٹ کے لیے طلب

    سندھ پولیس میں رشوت پر بھرتی 139 کلرکس دوبارہ ٹیسٹ کے لیے طلب

    کراچی(باغی ٹی وی،نامہ نگار) سندھ پولیس میں 2010 سے 2016 کے دوران مبینہ رشوت اور سفارش پر بھرتی کیے گئے اسکیل 11 کے 139 جونیئر کلرکس کو دوبارہ تحریری امتحان کے لیے 28 نومبر کو سی پی او کراچی طلب کر لیا گیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق، ان جونیئر کلرکس میں زیادہ تر پولیس افسران کے رشتہ دار یا سفارشی افراد شامل ہیں، جنہیں بھرتی کے وقت قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تعینات کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، اگر یہ افراد تحریری ٹیسٹ میں ناکام رہے تو انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا جائے گا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ ان سفارشی کلرکس کو سی پی او کی ٹھنڈی چھاؤں میں ٹیسٹ دینے کا موقع دیا جا رہا ہے، جبکہ غیر سفارشی کلرکس کو گھنٹوں دھوپ میں انتظار کروا کر امتحان کی اذیت سے گزارا جاتا ہے، جس نے پولیس اہلکاروں میں سخت مایوسی پیدا کر دی ہے۔

    حیدرآباد ڈویژن کے 40 سے زائد جونیئر کلرکس بھی ان افراد میں شامل ہیں، جنہیں مختلف اضلاع میں اہم پوسٹوں پر تعینات کیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ بھرتیاں سفارش اور رشوت کے ذریعے کی گئی تھیں، اور اب ان کی قابلیت پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

    واضح رہے کہ اس سے قبل بھی محکمہ پولیس میں رشوت کے ذریعے بھرتی ہونے والے متعدد اہلکاروں کو برطرف کیا جا چکا ہے۔ سابق آئی جی اے ڈی خواجہ کی جانب سے غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف کارروائی کے نتیجے میں حیدرآباد سمیت اندرون سندھ کے سینکڑوں غریب پولیس اہلکار نوکری سے فارغ کر دیے گئے تھے، لیکن ان کے لیے کسی بھی قسم کی بحالی یا شنوائی آج تک ممکن نہیں ہو سکی۔

    پولیس کے دوہرے معیار اور سفارشی کلرکس کو سہولیات دینے کی یہ روش محکمہ پولیس کے نچلے درجے کے اہلکاروں میں بددلی اور ناامیدی کا باعث بن رہی ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ آیا یہ اقدامات شفافیت لانے میں

  • کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے

    کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے

    کشتی ڈوبنے کے واقعے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے۔

    اطلاعات کے مطابق ابراہیم حیدری کے قریب کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں چھ افراد ڈوب گئے، جن میں سے ایک شخص جاں بحق جب کہ 2 کو ریسکیو کرلیا گیا اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ماہی گیروں کی تنظیم کے رہنما یونس خاصخیلی کے مطابق کشتی میں 6 افراد سوار تھے، جو حادثے کے نتیجے میں ڈوب گئے، جن میں سے 2 کو ریسکیو کرلیا گیا ہے جب کہ مقامی غوطہ خور ڈوبنے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کشتی میں سوار 6 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ حادثے میں جاں بحق اور لاپتا شخص آپس میں بھائی ہیں۔ یہ تمام لوگ کشتی پرسوار ہوکر بھنڈار میں عرس میلہ دیکھنے جارہے تھے۔واقعہ گزشتہ شب 8 بجے بھنڈار کے مقام پر پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے کشتی الٹ گئی۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

  • لاکھوں روپے مالیت کی چھالیہ کی اسمگلنگ ناکام

    لاکھوں روپے مالیت کی چھالیہ کی اسمگلنگ ناکام

    ویسٹ پولیس نے لاکھوں روپے مالیت کی 156 من سے زائد چھالیہ کی اسمگلنگ کی کوشش ناکام بناتے ہوئے اسمگلنگ میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا۔

    ڈسٹرکٹ ویسٹ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کی شناخت فرید ولد شیر محمد کے نام سے کی گئی جبکہ اس کا ساتھی موقع سے فرار ہوگیا۔ایس ایس پی ویسٹ طارق الہی مستوئی کے مطابق ملزم نوید کو ٹارگیٹڈ کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا، برآمد شدہ چھالیہ ڈمپر میں لوڈ کرکے کرش پتھر کے نیچے چھپائی گئی تھی۔چھالیہ کا مجموعی وزن 6240 کلو گرام ہے جس کی مالیت مارکیٹ میں لاکھوں روپے کی ہے۔طارق الہی مستوئی نے بتایا کہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے ڈمپر نمبری SB-2146 کو قبضہ پولیس میں لے لیا گیا ہے جبکہ گرفتار ملزم کو مزید قانونی کارروائی کے لیے کسٹم حکام کے حوالے کیا جائے گا۔واضح رہے کہ سندھ حکومت نے مشیات کے خلاف بھرپور آپریشن شروع کر رکھا ہے جس کے تحت کراچی سمیت سندھ بھر میں کاروائیاں کی جا رہی ہیں.

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    کراچی میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند ہونے لگے، خریدار پریشان

  • تمام شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے‘جماعت اسلامی سندھ

    تمام شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے‘جماعت اسلامی سندھ

    جماعت اسلامی سندھ نے مطالبہ کیا کہ صوبے کے تمام قصبوں اور شہروں کو ترقیاتی فنڈز میں برابر حصہ دیا جائے تاکہ وہاں بسنے والے شہریوں کو اپنی دہلیز پر بہتر سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق صوبائی امیر کاشف سعید شیخ نے کہا کہ سندھ کے دسرے چھوٹے اہم شہروں جیسے حیدرآباد، سکھر، لاڑکانہ، نواب شاہ اور میرپورخاص میں جدید تعلیم اور صحت کی سہولیات کا فقدان ہے اور ان شہروں کے لوگوں کو بہتر معاش تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کے لیے کراچی جانا پڑتا ہے۔ سندھ کے دوسرے چھوٹے شہروں میں شہری انفراسٹرکچر پنجاب کے انہی شہروں کے انفراسٹرکچر سے بہت پیچھے ہے۔ سندھ کے دوسرے شہروں کی تیز رفتار ترقی سے نہ صرف معیشت کو فروغ ملے گا بلکہ شہریوں میں احساس محرومی کو کم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔کاشف سعید نے کہا کہ صوبائی اور وفاقی حکومتیں سندھ کے دوسرے چھوٹے شہروں کی تیز رفتار ترقی کے لیے خصوصی فنڈز مختص کریں۔ ان کے التوا میں پڑے ترقیاتی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے سکھر حیدرآباد موٹر وے کے دیرینہ منصوبے کا خاص طور پر قابل ذکر ہے اسی طرح جامشورو سے سیہون تک دو رویہ سڑک دس سال گزرجانے کے باوجود مکمل نہیں ہوسکی ہے۔ انہوں نے سیاحوں اور آس پاس کے علاقوں کے رہائشیوں کو سہولیات دینے کے لیے سندھ کے اہم سیاحتی مرکز گورکھ ہل کو فوری طور پر ترقیاتی کام مکمل کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

    پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ترک قونصل

    خواتین کو بااختیار و محفوظ ماحول دیا جائے تو بہتر پرفارم کر سکتی ہیں،وزیر تعلیم

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

  • ذرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم

    ذرمبادلہ کی مارکیٹوں میں ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم

    ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پیر کے روز بھی ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم رہا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق دفاعی نمائش آئیڈیاز میں 26ارب ڈالر مالیت کے برآمدی معاہدوں، رواں سال اوورسیز پاکستانیوں کی ترسیلات ذر 36ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیشگوئیوں اور آنے والے مہینوں میں پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ اپ گریڈ ہونے کی توقعات کے باعث ذرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں پیر کو بھی ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم رہا۔بیلا روس کے اعلی سطحی تجارتی وفد کی پاکستان آمد اور پاکستان کے شعبہ جاتی بنیادوں پر سرمایہ کاری مواقع تلاش کرنے میں دلچسپی کی خبروں، مثبت سینٹیمنٹس کے باعث انٹربینک مارکیٹ میں کاروبار کے تمام دورانیے کے دوران ڈالر تنزلی سے دوچار رہا۔تاہم اختتامی لمحات میں طلب و رسد متوازن ہونے سے کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ بغیر کسی تبدیلی کے 277روپے 75پیسے کی سطح پر مستحکم رہے۔ اس کے برعکس اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر کی قدر صرف 2پیسے کے اضافے سے 278روپے 79پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔کرنٹ اکانٹ سرپلس ہونے، بڑھتے ہوئے ذرمبادلہ ذخائر اور روشن ڈیجیٹل اکانٹ کے انفلوز بڑھنے سے ڈالر کی نسبت روپیہ مستحکم رہا۔

    پاکستان اور ترکیہ دو ملک ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ، ترک قونصل

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند

    کراچی میں یوٹیلیٹی اسٹورز بند ہونے لگے، خریدار پریشان

    سندھ فوڈ اتھارٹی کا عوام کو کھلا تیل استعمال نہ کرنے کا مشورہ