Baaghi TV

Category: کراچی

  • عوامی مسائل کا حل صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے، وقار مہدی

    عوامی مسائل کا حل صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے، وقار مہدی

    پاکستان پیپلز پارٹی صوبہ سندھ کے جنرل سیکریٹری سینیٹر وقار مہدی نے کہا ہے کہ 14 نومبر کو ہونے والے بلدیاتی اداروں کے ضمنی انتخابات میں سندھ بھر باالخصوص کراچی کے عوام پی پی پی کو فتح سے ہمکنار کریں گے، عوامی مسائل کا حل صرف پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ضمنی الیکشن کے حوالے سے کراچی ڈویژن کے ضلعی صدرو جنرل سیکریٹریز اور بلدیاتی امیدواروں کے منعقدہ ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔اجلاس میں شریک پیپلز پارٹی کے ضلعی صدرو نے یوسی چیئرمین، وائس چیئرمین اور وارڈ کاونسلرز کے ضمنی انتخابات کے حوالے سے سرگرمیوں پر بریفنگ دی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کراچی ڈویژن کی ہر یوسی اور وارڈ میں الیکشن سیل بنائے جائیں گے اور بھرپور ڈور ٹو ڈور الیکشن مہم چلائی جائے گی، جس کے دوران ہر یوسی میں انتخابی جلسے ہوں گے جس سے پارٹی کے رہنما خطاب کریں گے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے، وقار مہدی نے کہا کہ کراچی شہر کے دیرینہ مسائل صرف پیپلز پارٹی حل کرسکتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کے مخالفین کو کراچی کے مسائل حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے نشاندھی کرتے ہوئے کہا کہ کراچی شہر میں صوبائی حکومت کے 200 ارب سے زائد کے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں، جبکہ کے ایم سی کی جانب سے بھی ہر یوسی میں ترقیاتی کاموں کا آغاز کردیا گیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی کے ٹان چیئرمینز بھی عوام کی بھرپور خدمت کر رہے ہیں ۔وقار مہدی کا کہنا تھا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ہی عوام کے واحد حقیقی ویژنری لیڈر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کراچی بھی شہید محترمہ بینظیر بھٹو اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے شیدائیوں کا شہر ہے۔ اجلاس میں جاوید ناگوری، راجہ رزاق، سردار خان، اقبال ساند، عابد ستی، جانی میمن، حبیب جدون، تیمور سیال، امداد جوکھیو، شہزاد مجید، ریاض بلوچ، جمیل ضیا، شرجیل رضوانی اور پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار موجود تھے۔

    وزیراعلی سندھ کا ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافے کا نوٹس

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

    علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

  • وزیراعلی سندھ  کا ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافے کا نوٹس

    وزیراعلی سندھ کا ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافے کا نوٹس

    ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات میں اضافہ، وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لے لیا۔وزیراعلی سندھ سیدمراد علی شاہ نے کراچی میں ہیوی ٹرانسپورٹ کے باعث حادثات کی تعداد میں اضافے کا نوٹس لے لیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کی سڑکوں پر دن کے اوقات میں ہیوی ٹریفک جان لیوا حادثات میں اضافے کا سبب بن گئی، بدھ کو پہلا حادثہ شیر شاہ پل پر پیش آیا جہاں ٹرالر سے گرنے والے کنٹینر کی زد میں آکر دو افراد شدید زخمی ہوئے، ان میں سے ایک زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا واقعے میں ایک گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ملیر میمن گوٹھ فلک ناز ٹاور کے قریب تیز رفتار ڈمپر کی ٹکر سے 3 بچے زخمی ہوئے جن میں سے 2 کی حالت تشویشناک ہے، واقعہ ٹرک کا ٹائرپھٹ جانے کے باعث پیش آیا۔ڈمپر ڈرائیور موقع سے فرار ہوگیا جبکہ پولیس نے ڈمپر تحویل میں لے کر مالک کو طلب کرلیا ہے۔تیسرا حادثہ سائٹ سپر ہائی وے پر ہوا جہاں پولیس موبائل ڈمپر کی ٹکر سے بے قابو ہوکر کئی گاڑیوں ٹکراگئی۔وزیراعلیٰ سندھ نے بڑھتے ہوئے حادثات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ٹریفک پولیس کو موثر اقدامات کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تبدیلی: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ

    نیپرا سماعت فکسڈ میچ ہے، کے الیکٹرک کو نواز ا گیا ہے ، جماعت اسلامی

    کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

  • نیپرا سماعت فکسڈ میچ ہے، کے الیکٹرک کو نواز ا گیا ہے ، جماعت اسلامی

    نیپرا سماعت فکسڈ میچ ہے، کے الیکٹرک کو نواز ا گیا ہے ، جماعت اسلامی

    نیپرا میں کے الیکٹرک صارفین کے لئے ستمبر کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 16پیسے کمی کی درخواست پرنیپرا کے ہیڈکوارٹر اسلام آباد میں منعقدہ آن لائن سماعت میں جماعت اسلامی کے عمران شاہد نے کراچی کے شہریوں کی نمائندگی کرتے ہوئے کہا کہ کے الیکٹرک 19 سال سے مہنگی ترین بجلی بنا کر کراچی کے شہریوں کو دے رہا ہے۔

    این ٹی ڈی سی سے لی جانے والی بجلی کی قیمت 8 روپے 57 پیسے فی یونٹ تھی،کے الیکٹرک اپنے ذرائع سے 23 روپے فی یونٹ بجلی پیدا کی۔ملک بھر میں ستمبر کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں 71پیسے فی یونٹ کمی جبکہ کراچی کے لئے کے الیکٹرک کے فیول ایڈجسمنٹ میں صرف 11 پیسے کمی ہوگی۔ نیپرا کی سماعت ایک فکسڈ میچ ہے، کے الیکٹرک کو 7 سالہ ڈالر کی بنیاد پر من مانا ٹیرف دے کر نوازا گیا،نیپرا نے کراچی کے صارفین پر بجلی بم گرادیا،جبکہ کے الیکٹرک اب کراچی کے شہریوں سے ڈالر کی بنیاد پر آپریشن اور مینٹی نینس چارجز بھی وصول کرے گا ۔جماعت اسلامی کے الیکٹرک کو دیا گیا7 سالہ ڈالر کی بنیاد پر جنریشن ٹیرف مسترد کرتی ہے ۔ کے الیکٹرک کا جنریشن لائسنس کینسل کرکے کراچی کو این ٹی ڈی سی سے سستی بجلی فراہم کی جائے۔عمران شاہدنے مزید کہا کہ نیپرا نے کے الیکٹرک کے 40 سال پرانے پاوور پلانٹس بند کرنے کے بجائے اسے بجلی پیداکرنے کی اجازت دے کر فیول ایڈجسٹمنٹ کا سارا بوجھ کراچی کے صارفین پر منتقل کرنے کی اجازت دے دی ہے جبکہ کے الیکٹرک بجلی بنائے یا نہ بنائے وہ کراچی کے شہریوں سے بجلی کے بلوں میں کیپے سٹی چارجز وصول کرے گا ، ایک طرف ملک بھر میں پرانے آئی پی پیز بند اوردیگر کے معاہدوں سے Take Or Pay کی شق کو ختم کرکے Take and Pay کیا جارہا ہے یعنی جتنی بجلی بنائے صرف اس کی ادائیگی کی جائے گی جبکہ ڈالر کی بنیاد پر ٹیرف کو بھی فکسڈ یا پاکستانی کرنسی سے تبدیل کیا جارہا ہے جبکہ کے ا لیکٹرک کو نیپرا نے کے الیکٹرک کو 7 سال کے لئے ڈالر کی بنیاد پر Take or Pay کیپی سٹی چارجز اور 14 فیصد ڈالر میں منافع وصول کرنے کی اجازت دے کر منہ مانگا ٹیرف منظور کرکے کراچی کے شہریوں پر ظلم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ کراچی کے شہری وقت پر بجلی کا بل ادا کرنے کے باوجود روزانہ12 گھنٹے سے زائد بجلی کی لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ نیپرا کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے ربڑ اسٹیمپ بن چکا ہے جس کا کام صرف کے الیکٹرک کے من مانے ٹیرف اور فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کرنا ہے۔کے الیکٹرک کراچی کے صارفین کو ٹیرف معاہدے کے مطابق کلابیک کی مد میں 54 ارب روپے سے زائد رقم واپس نہیں کررہا جس پر نیپرا نے آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ کے الیکٹرک سوئی سدرن گیس سے بغیر کسی معاہدے کے گیس حاصل کررہا ہے اور سوئی سدرن گیس کی 200 ارب روپے سے زائد واجب الاد رقم بھی واپس نہیں کرتا۔

    علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

    کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

  • علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

    علی خورشیدی کا کراچی میں پانی کی قلت پر اظہار تشویش

    قائد حزب اختلاف سندھ علی خورشیدی نے کراچی میں پانی کی قلت پر تشویش کا اظہار کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جاری بیان میں علی خورشیدی کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت اور واٹر کارپوریشن نے 16 سال میں پانی کی ایک بوند کا اضافہ نہیں کیا، واٹر کارپوریشن کے نکمے اور نااہل افسران پانی کے فراہمی کے بجائے رشوت ستانی میں لگے ہوئے ہیں، عوام مہنگے داموں پانی کے ٹینکر خریدنے پر مجبور ہیں، ہائیڈرنٹس پر پانی دستیاب ہےمگر نلکوں میں نہیں آرہا، پانی کی قلت سے عوام ذہنی ازیت کا شکار ہیں،قائد حزب اختلاف نے فوری طور پر پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ پانی جیسی بنیادی ضرورت کی قلت ناقابل برداشت ہے.واضح رہے کہ کراچی کے اکثر علاقوں میں پانی کی قلت بحرانی شکل اختیار کرگئی، مہنگائی کے مارے لوگ پانی خرید کر استعمال کرنے پر مجبور ہوگئے۔کراچی واٹر کارپوریشن نے بعض تکنیکی وجوہات کی بنا پر گزشتہ ہفتے چار دن کیلئے پانی بند کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن کئی دن گزرنے کے باوجود اولڈ سٹی ایریاز، لیاری، کھارادر، لانڈھی، نارتھ ناظم آباد اور نیو کراچی سمیت مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی تاحال بند ہے۔پانی نہ ہونے کے باعث گھریلو معمولات بری طرح متاثر ہیں اورلوگ گھریلو استعمال کا پانی بھی ٹینکرز کے ذریعے خریدنے پر مجبور ہیں۔

    کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

    12سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث تیسرا ملزم بھی گرفتار

  • کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

    کراچی میں جمعے اور ہفتے کو دھند چھانے کا امکان

    شہر قائد میں گرم و خشک ہواؤں کے سبب جمعے اور ہفتے کو کراچی کی فضاؤں پر دھند چھا سکتی ہے۔

    محکمہ موسمیات ارلی وارننگ سینٹر پیش گوئی کے مطابق جمعے اور ہفتے کو شہر پر بلوچستان کی گرم و خشک ہوائیں دوبارہ اثرانداز ہوسکتی ہیں، صحرائی ہوائیں چلنے کے سبب صبح کے وقت شہر کی فضاوں پر دھند چھانے کا امکان ہے۔دھند چھانے کی وجہ سے مختصر وقت کے لیے حدنگاہ متاثر ہوسکتی ہے۔صوبے کے دیگر اضلاع میں موسم گرم و خشک رہنے کا امکان ہے۔واضح رہے کراچی کی فضائی آلودگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے۔ فضائی آلودگی کی وجہ سے اِن کی قوتِ مدافعت میں بھی نمایاں کمی ہو رہی ہے۔ کراچی کے بیشتر علاقوں میں ایسی صورتحال پیدا ہونے کی ایک وجہ ملاوٹ شدہ پٹرول کا استعمال بھی ہے جس سے بننے والا دھواں ماحول کو مزید خراب کر رہا ہے،اِسی لئے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کا تدارک ناگزیر ہے۔ دنیا کے کئی شہروں نے ماحولیاتی آلودگی پر قابو پایا ہے، اُن کے نقشِ قدم پر چل کر پاکستان بھی اِس مسئلے پر قابو پا سکتا ہے، اِس لیے ضروری ہے کہ ضلعی اور صوبائی حکومتیں وفاق کے تعاون سے فضائی آلودگی کے چیلنج سے نبرد آزما کراچی سمیت صوبے کے دیگر شہروں کو ماحول دوست بنانے کے لئے جامع منصوبہ بندی کریں اور اجتماعی کوشش کے ذریعے اِس مسئلے کو حل کریں تاکہ آنے والی نسلوں کو آلودگی سے پاک ماحول فراہم کیا جائے جو 26 آئینی ترمیم کے مطابق اب ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔

    حیدرآباد کے نجی اسپتال کا کارنامہ، مردہ قرار دی گئی بچی زندہ نکلی

    ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کا دیوالی کے موقع پر سوامی نارائن مندر کا دورہ

  • ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کا  دیوالی کے موقع پر سوامی نارائن مندر کا دورہ

    ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو کا دیوالی کے موقع پر سوامی نارائن مندر کا دورہ

    ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو نے ہندو برادری کے دیوالی کے تہوار کے موقع پر سوامی نارائن مندر کا دورہ کیا ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر ڈی آئی جی ساؤتھ ، ایس ایس پی سٹی و دیگر افسران موجود تھے۔پولیس چیف نے ہندو برادری کے تہوار دیوالی کی تقریبات کے حوالے سے سیکیورٹی انتظامات کا تفصیلی جائزہ لیا۔پولیس چیف نے مندر میں سوامی نارائن ٹرسٹ کے صدر رمیش کمار اورآنند رام ہوتانی سے ملاقات میں سیکیورٹی انتظامات پر تبادلہ خیال کیا۔ جس پر انتظامیہ نے اطمینان کا اظہار کیا اور پولیس چیف کی آمد پر شکریہ ادا کیا۔پولیس چیف نے وزیٹر بک میں اپنے ریمارکس تحریر کئے۔ اس موقع پر انتظامیہ کی جانب سے پولیس چیف کو پھولوں کا ہار اور تحائف پیش کئے۔کراچی پولیس عوام کے تحفظ کی امین ہے اور اس ضمن میں تمام میسر وسائل بروئے کار لا کر عوام کے تحفظ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ واضح رہے رواں برس دیوالی کے تہوار موقع پر حکومت سندھ نے ہندو برادری کے لیے عام تعطیل کا اعلان کیا ہے.

    12سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث تیسرا ملزم بھی گرفتار

    عزیر بلوچ پولیس اہلکاروں کے قتل اور اغوا کیس میں بھی بری

    محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا غیر ضروری انتظامی عہدے ختم کرنے پر غور

  • 12سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث تیسرا ملزم بھی گرفتار

    12سالہ بچی کے ریپ اور قتل میں ملوث تیسرا ملزم بھی گرفتار

    کراچی کے ضلع جنوبی کی پولیس نے 12 سالہ بچی کو ریپ کے بعد قتل کرنے والے تیسرے ملزم کو بھی گرفتار کر لیا جبکہ ملزم نے 2 ساتھیوں کے ساتھ مل کر ریپ کے بعد بچی کی لاش کو بوری میں بند کر کے پھینک دیا تھا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں ساؤتھ زون انویسٹی گیشن پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے گنگا کے ریپ اور قتل کے واقعے میں ملوث تیسرے انتہائی مطلوب ملزم بلاول خان کو گرفتار کرلیا۔یاد رہے اس سے قبل کراچی کے ضلع جنوبی کی پولیس واقعے میں ملوث 2 ملزمان وقار علی اور عاصم کو گرفتار کرچکی ہے۔پولیس نے کہا تھا کہ ملزمان نے ریپ کے بعد بچی کی لاش کو بوری میں بند کرکے صدر لکی اسٹار کے قریب کچرا کنڈی میں پھینک دیا تھا، واقعے کا مقدمہ بچی کی والدہ کی مدعیت میں فریئر تھانے میں درج ہے۔واضح رہے کہ اگست میں بچی کی بوری بند لاش ملی تھی اور ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں بچی سے ریپ کی تصدیق ہوگئی تھی۔بعد ازاں، گورنر سندھ کامران ٹیسوری اور وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا حکم دیا تھا۔پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ نے کہا تھا کہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق بچی سے ریپ کیا گیا ہے، ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے نمونے لے لیےگئے ہیں، موت کی وجہ ڈی این اے اور دیگر رپورٹس ملنے کے بعد معلوم ہوگی۔

    ملکی زرمبادلہ ذخائر میں نمایاں اضافہ

    محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا غیر ضروری انتظامی عہدے ختم کرنے پر غور

    یورپی یونین اور جرمنی کا سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

  • عزیر بلوچ پولیس اہلکاروں کے قتل اور اغوا کیس میں بھی  بری

    عزیر بلوچ پولیس اہلکاروں کے قتل اور اغوا کیس میں بھی بری

    کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس اہلکار سمیت 4 افراد کے اغوا اور قتل کے مقدمے میں کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ سمیت 3 ملزمان کو عدم ثبوت پر بری کردیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر عزیر بلوچ، ریاض سرور اور شیر افسر کو بری کیا۔ملزمان کے وکلا کے مطابق عزیر بلوچ و دیگر ملزمان کے خلاف استغاثہ کے پاس کوئی شواہد موجود نہیں تھے جس کی بنیاد پر عدالت نے انہیں بری کیا۔پولیس کے مطابق 2010 کو پولیس اہلکار لالا امین، شیر افضل خان، غازی خان و دیگر کا قتل ہوا تھا، مقتولین کو میوہ شاہ قبرستان کے پاس سے دیگر ملزمان نے اغوا کرکے عزیر بلوچ کے حوالے کیا تھا،عزیر بلوچ نے اپنے ساتھیوں سکندر عرف سکو، سرور بلوچ اور اکبر بلوچ کے ساتھ مل کر قتل کیا تھا۔واضح رہے کہ عزیر بلوچ اب تک 2 درجن سے زائد مقدمات میں بنیادی طور پر عدم ثبوت کی وجہ سے بری ہو چکے ہیں۔7 اگست کو کراچی کی ایک سیشن عدالت نے عزیر بلوچ اور ان کے ساتھی غفار ماما کو 15 سال پرانے پولیس مقابلے اور اقدام قتل کے کیس میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا تھا۔فیصلے میں کہا گیا تھا کہ استغاثہ عزیر بلوچ اور غفار ماما کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی۔26 جنوری 2023 کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو ہنگامہ آرائی، پولیس پر حملے اور دہشت گردی سے متعلق 11 سال پرانے ایک اور مقدمے میں عدم ثبوت کی بنیاد پر بری کیا تھا۔17 دسمبر 2022 کو کراچی کی انسداد دہشت گردی عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر کالعدم پیپلز امن کمیٹی کے سربراہ عزیر بلوچ کو مزید دو مقدمات سے بری کیا تھا۔

    محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا غیر ضروری انتظامی عہدے ختم کرنے پر غور

    یورپی یونین اور جرمنی کا سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

  • محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا غیر ضروری انتظامی عہدے ختم کرنے پر غور

    محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کا غیر ضروری انتظامی عہدے ختم کرنے پر غور

    وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن میں تعلیمی اصلاحات کو آگے بڑھاتے ہوۓ انتظامی حوالے سے کچھ تبدیلیاں زیر غور ہیں، اس ضمن میں غیر ضروری عہدوں کو ختم کر کے کلسٹر پالیسی کو مزید فعال بنایا جاۓ گا جبکہ اسکول پرنسپل، ہیڈ ماسٹر یا مسٹریس کے اختیارات میں بھی اضافہ کیا جاۓ گا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے ضلع سائوتھ میں واقع گورنمینٹ بوائز سیکنڈری اسکول قمرالسلام کیمپس کا دورے کیا۔ اس موقع پر اسکول ایڈاپٹر (اسکول کو گود لینے والے) رکن سندھ اسمبلی ریحان بندوکڑا نے اسکول آمد پر وزیر تعلیم سندھ کو خوش آمدید کہا۔ ایم پی اے ریحان بندوکڑا نے “Minister for Initiative for Adoption of School” کے تحت مزکورہ اسکول کو گود لیا ہے، یہ اسکول ضلع سائوتھ کے سندھ اسمبلی کے حلقہ 110 میں واقع ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر اسکول کراچی مرزا ارشد بیگ، چیف انجینئر ایجوکیشن ورکس کراچی حسن عسکری، ڈی ای او امتیاز بگھیو اور دیگر متعلقہ افسران بھی موجود تھے۔ اسکول ہیڈ مسٹریس فرح بلوچ نے اسکول کے متعلق آگاہی دیتے ہوۓ بتایا کہ اسکول میں 700 سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں، اسکول دو شفٹوں میں چلایا جاتا ہے، جس میں 400 کے قرب طالبات صبح کے اوقات میں تعلیم حاصل کرتی ہیں۔ اس دوران چیف انجنیئر ایجوکیشن ورکس نے بتایا کہ اسکول کی پانچ کلاسز کی تعداد کو 10 کلاسز تک بڑھا دیا گیا ہے۔ اس موقع پر صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ وہ آج اسکول ایڈاپٹر کی موجودگی میں سب افسران کے ساتھ اسکول میں موجود ہیں، اسکول کے حوالے سے جو بھی کچھ بھی سہولیات درکار ہے اسے فراہم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جاۓ گی۔ صوبائی وزیر سردار شاہ نے اسکول اساتذہ کے ساتھ کلاس روم میں بیٹھ کر گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ تعلیم میں معاملے پر سندھ بھر کے لوگ سنجیدہ ہیں، حکومت اور اپوزیشن نے مل کر کام کرنے پر اتفاق کیا ہے، انہوں نے کہا کہ جان بوجھ آمرانہ ادوار میں سندھ کی تعلیم تباہ کرنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہے، اسکولوں کو بچانا اور بچوں کو بڑھانا معاشرے کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے۔ وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ ریحان بندوکڑا نے اسکول کی نگرانی کی ذمہ داری لی ہے ہمارا ہر ممکن تعاون ان کے ساتھ رہے گا، اس موقع پر انہوں کہا کہ انتظامی امور کے حوالے سے بہت کی تبدیلیوں پر غور جاری ہے، اسکول ایجوکیشن میں غیر ضروری انتظامی عہدوں کو ختم کیا جاۓ گا، اب ضلع میں تمام اسکولز پر ایک ہی تعلیمی افسر نگرانی کرے گا، اسکول کلسٹر پالیسی کو فعال بنا کر اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کیا جاۓ گا۔ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اسکول پرنسپال، ہیڈ ماسٹر یا مسٹریس کے اختیارات میں اضافہ کا معاملہ زیر غور ہے، اسکول سطح پر بجیٹ منتقل کر کے اسکول کے مسائل حل کرنے کی کوشش کی جاۓ گی، انہوں نے کہا کہ اسکول کی صفائی، سیکیورٹی اور مینٹیننس جیسے معاملات اسکول ہیڈماسٹر کی ذمہ داری ہونگے، جو کانٹیجنٹ اسٹاف کی مدد سے پورے کیے جائیں گے، اس عمل سے محکمہ کے اخراجات میں بھی کمی آئے گی، صوبائی وزیر نے یہ بات واضح کرتے ہوۓ کہا کہ محکمہ تعلیم کا 92 فیصد بجیٹ تنخواہوں اور پینشنرز پر خرچ ہوجاتا ہے، اخراجات کم کرنے کے لیے ہمیں آئیندہ کی حکمت عملی طے کرنا ہوگی، مارکیٹ بیسڈ اسٹاف کی مدد سے محکمہ کے اخراجات میں کمی آئے گی۔بعد ازاں وزیر تعلیم نے اسکول کے کلاسز کا جائزہ لیا اور طلباء سے گفتگو بھی کی۔ رکن سندھ اسمبلی ریحان بندوکڑا کے صوبائی وزیر کے تعاون کا شکریہ ادا کیا، اور کہا کہ کوشش رہے گی تعلیم کی خدمت میں اپنا بہتر کردار ادا کر سکوں۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے اسکول ایڈاپٹر (ایم پی اے) ریحان بندوکڑا کے ہمراہ اسکول کے تعمیراتی کام کا جائزہ لیا، صوبائی وزیر نے اسکول کی ایکسٹینشن کا کام جلد مکمل کرنے اور درکاری سہولیات کی دستیابی کو جلد یقنینی بنانے کی ہدایت کی۔

    یورپی یونین اور جرمنی کا سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

    کراچی پولیس آفس میں آئیڈیاز2024 کی سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد

  • یورپی یونین اور جرمنی کا  سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    یورپی یونین اور جرمنی کا سندھ میں موسمیاتی مزاحمت بڑھانے کیلئے اشتراک

    یورپی یونین نے پاکستان میں اڈاپٹیو سوشل پروٹیکشن منصوبے کے مالی تعاون میں جرمنی کا ساتھ دیتے ہوئے باضابطہ شمولیت اختیار کر لی ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جی آئی زی پاکستا ن جرمن وزارت برائے اقتصادی تعاون و ترقی کی وساطت سے اس منصو بے کو سندھ میں نافذ کر رہا ہے۔ یورپی یونین اور جرمنی کیاشتراک سے سندھ حکومت کو ادارہ جاتی، مالی اور تکنیکی اقدامات میں مدد فراہم کی جائے گی جن سے قدرتی آفات اور موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لئے مقامی آبادی کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو سکے گا اور ساتھ ہیخواتین کی خودمختاری پر مبنی سماجی تحفظ کے نظام کو مزید بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔جی آئی زی پاکستا ن کے اڈاپٹیو سوشل پروٹیکشن منصوبے کی افتتاحی تقریب کراچی کے ہوٹل اواری میں منعقد ہوئی جس میں اعلی حکومتی عہدیداران، بین الاقوامی اداروں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی تاکہ منصوبے کے مستقبل کی سمت پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔تقریب کے دوران چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ سندھ حکومت، جناب نجم احمد شاہ نے سندھ حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ہماری کوشش ہے کہ سماجی تحفظ کو مضبوط بنایا جائے تاکہ پاکستان کے کمزور طبقات کو بحرانی حالات میں بہتر تعاون فراہم کیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ منصوبہ لڑکیوں اور خواتین کو مرکزی مقام دیتا ہے، جس سے معاشرتی مساوات میں بہتری اور دیرپا ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔پاکستان میں یورپی یونین کے نائب سربراہ جناب فلپ گراس نے کہا کہ یورپی یونین ہمیشہ سے ایسے سماجی تحفظ کے مضبوط نظام کی حمایت کرتا آیا ہے جو فوری مسائل کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل مدتی، پائیدار ترقی کو بھی فروغ دے۔
    تقریب میں دیگر اہم اسٹیک ہولڈرز، جیسے کہ کراچی میں جرمنی کے قونصل جنرل ڈاکٹر روڈیگر لوٹس، پاکستان میں یورپی یونین کے شعبہ تعاون کے سربراہ جیرون ولیمز، سندھ سوشل پروٹیکشن اتھارٹی، پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی، فارن ایڈ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ڈپارٹمنٹ اور سندھ رورل سپورٹ آرگنائزیشن کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔ مقررین نے سماجی اور ماحولیاتی مشکلات کے خلاف مزاحمتی سماجی تحفظ کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ منصوبہ پاکستان میں سماجی تحفظ کے نظام کو ایک نیا معیار فراہم کرتا ہے جس کا مقصد ایسے فعال نظام تیار کرنا ہے جو بروقت موسمی اور سماجی و اقتصادی مسائل کا حل پیش کر سکے اورجس سے مقامی اور قومی سطح پرسماجی ہم آہنگی اور ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

    کینیڈین ہائی کمشنر کی وزیراعلیٰ سندھ سے ملاقات، مختلف امور پر تبادلہ خیال

    اسسٹنٹ کمشنر ناظم آباد ہاظم بنگوار کو عہدے سے کیوں ہٹایا ،وجہ سامنے آگئی

    کراچی پولیس آفس میں آئیڈیاز2024 کی سیکیورٹی کے حوالے سے اجلاس کا انعقاد