Baaghi TV

Category: کراچی

  • ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    ملک میں سونے کی قیمت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی

    کراچی: ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت 2200 روپے اضافے کے بعد تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔

    باغی ٹی وی : آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت 2200 روپے اضافے کے بعد 2 لاکھ 77 ہزار 200 روپے ہوگئی ہے ملک میں 10گرام سونے کی قیمت 1886 روپے اضافے سے 237654 روپے ہوگئی ہے عالمی صرافہ میں سونے کی قیمت 22 ڈالر اضافے سے 2675 ڈالر فی اونس ہے جبکہ گزشتہ روز ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 700 روپے کی کمی آئی تھی۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ قیمتیں ملک کی معیشت اور سرمایہ کاری کے ماحول پر اثر انداز ہو سکتی ہیں، اور سونے کے بڑھتے ہوئے بھاؤ نے خریداروں اور سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا کر دی ہے سونے کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ممکنہ طور پر مہنگائی اور دیگر اقتصادی عوامل کا نتیجہ ہیں، جس نے عوام کی قوت خرید پر اثر ڈالا ہے۔

    30 دن میں غزہ میں انسانی امداد کی رسائی میں اضافہ کیا جائے …

    دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے جاری سربراہ اجلاس کے دوران سرمایہ کار پرامید نظر آئے جس کے نتیجے میں خریداری کا رجحان بڑھ گیا، کاروبار کے ابتدائی سیشن کے دوران بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس میں 600 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

    آٹوموبائل اسمبلرز، سیمنٹ، کیمیکل، کمرشل بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور او ایم سیز سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ او جی ڈی سی، پی پی ایل، پی ایس او، حبکو اور ایچ بی ایل سمیت انڈیکس ہیوی اسٹاک میں گرین ٹریڈنگ ہوئی۔

    جبکہ گزشتہ روز منگل کو کے ایس ای 100 انڈیکس 578.96 پوائنٹس یا 0.68 فیصد اضافے سے 85,840.34 پر بند ہوا تھا۔

    دو ماہ سے زائد عرصے تک سمندر میں لاپتا رہنے والے شخص کو زندہ تلاش …

  • شرجیل میمن نے الیکٹرک موٹر سائیکل کا افتتاح کر دیا

    شرجیل میمن نے الیکٹرک موٹر سائیکل کا افتتاح کر دیا

    صوبائی وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے الیکٹرک موٹر سائیکل کا افتتاح کیا ہے

    اس موقع پر شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ الیکٹرک موٹر سائیکل مقامی سطح پر تیار کی جا رہی ہیں، میں ای ٹربو کمپنی کو ای بائیک لائونچ کرنے پر مبارکباد دیتا ہوں ،ہمیں اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے ای وی بسز لانچ کی، ہمارا ٹارگٹ ہے کہ جلد سے جلد ای وی ٹیکسیز لانچ کریں ،ہم نے چائنہ کی سب سے بڑی ٹرانسپورٹ کمپنی کو درخواست کی ہے کہ وہ ہمارے ملک اور شہر میں ای وی بسز بنائیں، حیدرآباد میں بھی ای وی بائیکس بن رہی ہیں، اس وقت ایندھن کا مسئلہ ہے ، قوم کی حیثیت میں چیزوں کو مئنیج کرنا پڑے گا، سب اپنا اپنا رول پلے کریں گے، الیکٹرک چیزیں ملک اور ماحول کے لیے بہتر ہے،پئٹرول اور ڈیزل کی کاسٹ سے بچنے کے ساتھ ساتھ ماحول بھی بچے گا، گرین انرجی کے لیے ہم سب کو رول پلے کرنا پڑے گا، اچھی بات ہے کہ ہمارے ملک سے ای وی بائیکس ایکسپورٹ ہوں گے،موجودہ مہنگائی کے دور میں ہمیں گرین انرجی کو فروغ دینا ہوگا،

  • دبئی میں بھی پاکستانی مرد خواتین کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں،نادیہ حسین

    دبئی میں بھی پاکستانی مرد خواتین کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں،نادیہ حسین

    کراچی: پاکستانی اداکارہ و ماڈل نادیہ حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں تو مرد باحجاب اور باپردہ خواتین کو چھیڑنے اور ان کے ساتھ نامناسب حرکت کرنے سے باز نہیں آتے، جبکہ دبئی میں بھی پاکستانی مرد خواتین کو بری نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

    باغی ٹی وی : ایک پوڈکاسٹ میں میزبان سے گفتگو کرتے ہوئے نادیہ حسین نے پاکستان میں بچیوں، لڑکیوں اور خواتین کے ساتھ بڑھتی زیادتی کے افسوسناک واقعات پر بات چیت کی اور کہا کہ حال ہی میں وہ دبئی کے جمیرا بیچ گئی جہاں انہوں نے دیکھا کہ ہمارے نچلے طبقے کے مرد حضرات شلوار قمیض اور جوگرز پہن کر وہاں آئے ہوتے ہیں اس کے علاوہ کاندھے پر ان کا بستہ ہوتا ہے اور درخت کے برابر میں بیٹھ کر خواتین کو گھور رہے ہوتے ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ مجھے نہیں پتا گھور رہے ہوتے ہیں یا کیا لیکن دیکھ ضرور رہے ہوتے ہیں، خواتین وہاں ٹو پیس پہنے آئی ہوتی ہیں اور مجھے پتا تھا یہ سب پاکستانی مرد ہیں جو اس طرح سے انہیں دیکھ رہے ہیں،چاہے ان کے اطراف میں کچھ بھی ہوجائے ان مرد حضرات کو کوئی فرق نہیں پڑتا، انہیں صرف خواتین کو دیکھنے سے مطلب ہے لیکن ان کی حد وہاں صرف یہ ہے کہ وہ دیکھ ہی سکتے ہیں، ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ اگر یہاں کوئی مرد کسی عورت کو دیکھے تو پھر ان میں مزید کوئی حرکت کرنے کی ہمت بھی آجاتی ہے،ایسے مردوں کو سر عام پھانسی دی جانی چاہیے ، دبئی میں ان کے پاس صرف دیکھنے تک کا اوزار ہے، اس سے آگے وہ کچھ نہیں کرسکتے۔

    پنجاب میں چاول کے جعلی بیج کے باعث کسانوں کو بھاری نقصان ہوا،حنا پرویز بٹ

    اداکارہ کا کہنا تھا کہ جرم کا غریب یا امیر سے کوئی تعلق نہیں، مجرم کو مجرم کے طور پر دیکھا جانا چاہیے اور مجرمان کو سزا ملنی چاہیے، بات امیر غریب کے بجائے صحیح اور غلط کی ہونی چاہیےاسلام آباد میں اہلیہ کو قتل کرنے والے ظاہر جعفر سے لے کر کراچی میں گاڑی سے بیٹی اور والد کو قتل کرنے والی نتاشا اقبال تک ہر مجرم کو سزا دی جانی چاہیے،کسی ملزم کو مثالی بنا کر اسے سر عام سزا دی جانی چاہیے اور یہ ضروری بن چکا ہے، ورنہ جرائم کم نہیں ہوں گے۔

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

  • ثنا خوانِ رسولﷺ، پنجابی و اردو زبان کے شاعر، نعت گو اور مشہور صاحبِ دیوان ،ادیب رائے پوری

    ثنا خوانِ رسولﷺ، پنجابی و اردو زبان کے شاعر، نعت گو اور مشہور صاحبِ دیوان ،ادیب رائے پوری

    یا محمدﷺ، نور مجسم یا حبیبی یا مولاٸی
    تصویر کمال محبت تنویر جمال خداٸی

    ادیب رائے پوری

    16؍اکتوبر 2004 : یوم وفات

    ثنا خوانِ رسولﷺ، پنجابی و اردو زبان کے شاعر، نعت گو اور مشہور صاحبِ دیوان

    ادیب رائے پوری 1928ء کو بھارت کے ایک گاؤں رائے پور میں پیدا ہوئے تھے۔ والد کا نام حکیم سیّد یعقوب علی تھا۔ ادیبؔ رائے پوری پاکستان کے معروف نعت خواں، ایک اچھے شاعر بھی تھے اور ان کے نعتیہ مجموعے شائع ہوئے۔ ایم اے اُردو کیا تھا، فدا خالدی سے تلمیذ حاصل کئے۔ اور بانی پاکستان نعت کونسل و بانی نعت اکیڈمی تھے۔
    ان کی تصانیف یہ ہیں :👇
    غوثِ اعظمؒ ( نعتیہ شاعری اور تنقیدی اشارے) مشکوۃالنعت ( پاکستان نعت اکیڈمی، 1989ء، 672 ص)، (انتخاب) مدارج النعت ( کراچی،مشہور آفسٹ پریس ،فروری 1986ء، 400 ص تصویر کمال محبت،1979ء، ص)، (نعتیں) مقصودِ کائنات، ،1996ء، ص (نعتیں) مرتب شہزاد احمد، اس قدم کے نشاں،، 1977ء، ص (نعتیں)، نعتیہ ادب میں تنقید اور مشکلات۔
    ادیبؔ رائے پوری 16؍اکتوبر 2004ء کو کراچی پاکستان میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ادیبؔ رائے پوری کا مشہور زمانہ نعتیہ کلام

    یا محمدﷺ نورِ مجسم یا حبیبی یا مولائی​
    تصویرِ کمال محبت تنویرِ جمالِ خدائی​

    تیرا وصف بیاں ہو کس سے تیری کون کرے گا بڑائی​
    اس گردِ سفر میں گم ہے جبریلِ امیں کی رسائی​

    اے مظہرِ شانِ جمالی اے خواجہ وبندہ ءِ عالی​
    مجھے حشر میں کام آجائے میرا ذوقِ سخن آرائی​

    مااجملک تیری صورت مااحسنک تیری سیرت​
    مااکملک تیری عظمت تیری ذات میں گم ہے خدائی​

    یہ رنگِ بہارِ گلشن یہ گل اور گل کا جوبن​
    تیرے نورِقدم کا دھوون اس دھوون کی رعنائی​

    تیری ایک نظر کے طالب تیرے ایک سخن پر قرباں​
    یہ سب تیرے دیوانے یہ سب تیرے شیدائی​

    تو رئیسِ روز شفاعت تو امیرِ لطف و عنایت​
    ہے ادیبؔ کو تجھ سے نسبت یہ غلام ہے تو آقائی​

    ✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀✿❀

    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    جنّ و ملائک تیرے غلام
    سب سے سوا ہے تیرا مقام
    یٰسین و طہٰ تیرے ہی نام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام​

    سب کو میسّر ہو یہ مقام
    پہنچیں مدینے بن کر غلام
    پڑھتے درود اور پڑھتے سلام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    عرشِ بریں تک چرچا تیرا
    شمس و قمر ہیں صدقہ تیرا
    اے ماہِ کامل حُسنِ تمام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    زلفوں کی خوشبو ہر سانس میں
    جنّت بداماں احساس میں
    آنکھوں میں آنسو ہونٹوں میں نام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    جود و سخا کا پرچم توہی
    زخمِ جہاں کا مرہم تو ہی
    مشکل کشائی تیرا ہی نام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    اے جانِ جاناں جانِ جہاں
    شاداں کہ تم ہو شاہِ شہاں
    نازاں کہ ہم ہیں ادنٰی غلام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    رب کی خوشی ہے منشا تیرا
    منشائے رب ہے تیری رضا
    تیرا سخن ہے رب کا کلام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    روزِ ازل جو چمکا تھا نور
    محشر میں ہوگا اس کا ظہور
    اول سے آخر ان کا ہی نام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    تیری ضیا سے شمس و قمر
    تیرا تصور نورِ بصر
    رخشاں درخشاں ہر صبح و شام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    تیری ثناء ہے میرا نصیب
    قربان تجھ پر جانِ ادیؔب
    تجھ پر تصدق عالم تمام
    خیر البشر پر لاکھوں سلام
    لاکھوں درود اور لاکھوں سلام

    منقول

  • 26ویں آئینی ترمیم کسی کو دیوار سے لگانے کے لیے نہیں ،  شازیہ مری

    26ویں آئینی ترمیم کسی کو دیوار سے لگانے کے لیے نہیں ، شازیہ مری

    کراچی: پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما شازیہ مری نے کہا ہے کہ 26ویں آئینی ترمیم کسی کو دیوار سے لگانے کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ ایک اہم آئینی ضرورت ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار بلاول ہاؤس کراچی کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔شازیہ مری نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ججز کی ریٹائرمنٹ کی مدت کا تعین اور آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری مسلسل آئینی ترمیم کے حوالے سے بات کر رہے ہیں اور انہوں نے ہر فورم پر آئینی ترامیم کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ شازیہ مری نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کا دیرینہ مطالبہ آئینی عدالت کا قیام ہے، اور یہ بات قائداعظم محمد علی جناح نے بھی مانی تھی۔ آئندہ آئینی ترمیم میں آئینی عدالت کی شق شامل کرنے کی کوشش کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی ہمیشہ سندھ کے عوام کے دکھ درد کو سمجھتی ہے۔ کراچی میں حالیہ افسوسناک واقعات کا ذکر کرتے ہوئے شازیہ مری نے کہا کہ سندھ صوفیوں کی دھرتی ہے اور ہمیشہ امن دشمنوں نے اس کی شناخت کو متاثر کرنے کی کوشش کی ہے۔ کراچی میں دفعہ 144 نافذ کی گئی تھی، لیکن اس کے باوجود عوام نے رواداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے حقوق کے لیے باہر نکلنے کا حق استعمال کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وزیرداخلہ نے اس حوالے سے فوری ایکشن لیا ہے۔شازیہ مری کے اس بیان کے بعد 26ویں آئینی ترمیم کی حمایت میں مزید شدت آنے کا امکان ہے، خاص طور پر آئینی عدالت کے قیام کے حوالے سے بحث مزید گرم ہو گئی ہے۔

  • مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کی ملاقات: آئینی ترمیم اور خطے کے استحکام پر تبادلہ خیال

    مولانا فضل الرحمان اور بلاول بھٹو کی ملاقات: آئینی ترمیم اور خطے کے استحکام پر تبادلہ خیال

    کراچی: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے بلاول ہاؤس میں اہم ملاقات کی، جس میں مجوزہ آئینی ترمیم پر گفتگو کی گئی۔ یہ ملاقات دونوں رہنماؤں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی کے لیے ایک نیا باب کھولنے کی غمازی کرتی ہے۔ملاقات کے دوران، مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق رائے کے قریب پہنچ چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ترمیم نہ صرف سیاسی استحکام کے لیے اہم ہے بلکہ ملک کی آئینی ضروریات کو بھی پورا کرے گی۔ بلاول بھٹو نے اس موقع پر اس بات کا ذکر کیا کہ ان کی پارٹی آئینی اصلاحات کے عمل میں مکمل تعاون فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
    دونوں رہنماؤں نے شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس کے پاکستان میں انعقاد پر خوشی کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس اجلاس کو خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ایسے اجلاس بین الاقوامی تعلقات کو مضبوط بنانے اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ملاقات میں پیپلز پارٹی کے وفد میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی صدر فریال تالپور، نثار کھوڑو، شازیہ مری، سید نوید قمر اور مرتضیٰ وہاب شامل تھے۔ اس کے مقابلے میں، جمعیت علمائے اسلام کے وفد میں سابق وفاقی وزیر مولانا اسعد محمود، مولانا ضیاالرحمان، راشد محمود سومرو، ناصر محمود سومرو، کامران مرتضیٰ، مفتی ابرار، مولانا اسجد، مولانا عبیدالرحمان اور عثمان بادینی شامل تھے۔
    اس ملاقات کا مقصد سیاسی اتحاد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا، جس کے تحت دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سمجھنے کی کوشش کی۔ اس موقع پر گفتگو کے دوران، دونوں جماعتوں نے ملک کی ترقی کے لیے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔یہ ملاقات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر آئینی اور سیاسی مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے کوشاں ہیں، جس کی ضرورت اس وقت بڑھ گئی ہے جب ملک مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سیاسی رہنماؤں کے اس مشترکہ اقدام کو عوامی سطح پر بھی خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے، اور یہ امید کی جا رہی ہے کہ اس کے نتیجے میں ملک کی سیاسی صورتحال میں مثبت تبدیلیاں آئیں گی۔ ملاقات میں پاکستان پیپلزپارٹی کے وفد میں شازیہ مری، سید نوید قمر اور مرتضی وہاب بھی شامل تھے جمعیت علمائے اسلام کے وفد میں مولانا اسعد محمود، مولانا ضیاالرحمان، راشد محمود سومرو اور ناصر محمود سومرو ، کامران مرتضی، مفتی ابرار، مولانا اسجد محمود، مولانا عبیدالرحمان اور عثمان بادینی بھی شامل تھے،

  • حکومت جو وعدہ کرتی ہے اس سے مکر جاتی ہے، شاہد خاقان عباسی

    حکومت جو وعدہ کرتی ہے اس سے مکر جاتی ہے، شاہد خاقان عباسی

    کراچی: عوام پاکستان پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے ایک تقریب میں کہا ہے کہ انفرادی بجلی پیدا کرنے والے ادارے (آئی پی پیز) کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ ملک کی معیشت کو تباہ کریں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ معیشت خود آئی پی پیز کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے حکومت پاکستان کی جانب سے کئے گئے وعدوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "حکومت جو وعدہ کرتی ہے اس پر کھڑی نہیں رہتی۔ آپ کیسے ملک چلا سکتے ہیں؟” انہوں نے کہا کہ "آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ 411 ارب روپے کی بچت ہوئی، لیکن اس کے عوض آپ کو 4 ہزار ارب روپے ادا کرنا پڑتے ہیں۔سابق وزیراعظم نے اس بات پر زور دیا کہ 2014 میں ملک میں 16 گھنٹے تک بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوتی تھی، لیکن آج پاکستان کی کل بجلی کی پیداوار صرف 18 ہزار میگاواٹ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ "پاکستان آج صرف 18 ہزار میگاواٹ بجلی پر کھڑا ہے۔”

    خاقان عباسی نے مزید کہا کہ "مجھے پلانٹس کے نام زبانی یاد ہیں، کیپسٹی چارجز تقریباً 18 روپے فی یونٹ بنتے ہیں۔ اگر آج ڈالر کی قیمت 100 روپے ہوتی تو یہ 18 روپے 6 روپے ہوتے۔” انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان سالانہ 90 ارب یونٹس بجلی پیدا کرتا ہے، اور یہ کہ بجلی کی کھپت بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم نے اپنی معیشت کو تباہ کر دیا ہے۔ اگر ڈالر 100 روپے کا ہوتا تو معیشت ترقی کر رہی ہوتی، آج ہر یونٹ 3 روپے کا ہوتا۔ سارا پاکستان ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا ہوا ہے کہ آئی پی پیز پاکستان کو کھا گئے۔خآقان عباسی نے اس پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمیں سمجھ نہیں ہے کہ دنیا اور ملک کیسے چلتے ہیں، اور ہمیں مارکیٹ بیسڈ اکانومی کی حقیقی تعریف بھی نہیں معلوم۔ انہوں نے کہا کہ "آج بھی ہمارے ریگولیٹرز انتہائی کمزور ہیں۔سابق وزیراعظم نے واپڈا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ "کسی زمانے میں واپڈا ایک بہترین ادارہ تھا، لیکن آج ہمیں موجودہ مسائل کو سمجھنے اور ان کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔عباسی کی یہ تقریر اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان بجلی کی قلت اور معیشت کی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے، جس نے عوامی زندگی کو متاثر کیا ہے اور حکومت کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔

  • ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر 16 اکتوبر کو سندھ میں یوم سیاہ کا اعلان

    ڈاکٹر شاہنواز کے قتل پر 16 اکتوبر کو سندھ میں یوم سیاہ کا اعلان

    سندھ کی قوم پرست تنظیموں اور جسٹس فار ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کمیٹی کی جانب سے کراچی میں رواداری مارچ پر ہونے والے تشدد، بچیوں کی تذلیل،گرفتاریوں، قومی رہنماؤں کے گھروں پر چھاپے اور انصاف کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاجی مظاہرہ ، ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل پر 16 اکتوبر کو پورے سندھ میں یوم سیاہ منانے کا اعلان اس حوالے سے قوم پرست رہنمائوں ریاض چانڈیو اور ڈاکٹر نیاز کالانی نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

    ریاض چانڈیو نے بتایا کہ جسٹس فار ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کمیٹی کا اجلاس سخی ستار دیو چولیانی ہاؤس حیدرآباد میں ہوا۔ اجلاس میں قوم پرست رہنمائوں ڈاکٹر نیاز کالانی، عبدالفتاح چنا، ڈاکٹر بدر چنا، قمر زمان راجپر، نواز شاہ بھدائی، غفار میرجت، ڈاکٹر خوشحال کالانی، پنہل جمالی، ایاز سولنگی، غفار مہر اور دیگر نے شرکت کی۔اجلاس میں کہا گیا کہ ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے قتل کی عدالتی تحقیقات کے لیے کراچی میںرواداری مارچ کیا گیا جس پر ریاست اور حکمرانوں نے وحشیانہ حملہ کیا اور سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور عام شہریوں پر وحشیانہ تشدد کیا۔بلاول زرداری حکومت کی نازی ازم کی شدید مذمت کرتے ہیں جس نے قانون، اخلاقیات اور جمہوریت کی بنیادیں تباہ کر دی ہیں۔ ریاض چانڈیو نے کہا کہ کراچی میں جہاں ایک طرف ظلم ہوا وہیں سندھ کی بیٹیوں روماسہ جامی، عالیہ بخشل، سندھو نواز گھانگھرا، سورتھ سندھی اور سندھ کے اہل قلم جامی چانڈیو، بخشل تھلہو، راگی سمیت سمجھوکو لے جا کر وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔دوسری جانب انہیں اور باڈی کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی کو حیدرآباد سے گرفتار کیا گیا، ان کے گھروں کا گھیراؤ کیا گیا، . انہوں نے کہا کہ یہ سندھ کی جمہوریت کی توہین اور پیپلز پارٹی کی طرف سے انصاف پر حملے کی بھیانک شکل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس سارے عمل کا ذمہ دار بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعلیٰ سید مراد علی شاہ کو قرار دیتے ہیں، جن کے حکم پر سندھ پر یہ آمریت مسلط کی گئی، دنیا نے ان کا اصل چہرہ دیکھ لیا انہوںنے کہاکہ رواداری مارچ کے بعد بخشل تھلہو، پنہل ساریو اور دیگر کے خلاف درج ایف آئی آر کی مذمت کی۔
    جسقم کے رہنما ڈاکٹر نیاز کالانی نے کہا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت سندھ نواز اور محب وطن جماعتوں کے احتجاج میں رکاوٹ نہ ڈالے، پیپلز پارٹی کے جلسے کو متاثر کرنے کے لیے ہم سڑکوں پر دھرنے بھی دے سکتے ہیں۔ سندھ اور سڑکیں بلاک کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ رواداری ریلی میں شریک لوگوں کے خلاف ایف آئی آر ختم کی جائے۔ ڈاکٹر بدرچنا نے کہا کہ ہمارا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک آئینی جوڈیشل کمیشن بنایا جائے اور حاضر سروس جج اس واقعے کی شفاف تحقیقات کریں اور ملزمان کو قانون کے مطابق سزا دی جائے جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوگا احتجاج جاری رہے گا۔

    سندھ میں ملیریا وبائی شکل اختیار کرنے لگا

    سندھ حکومت کا ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کا حکم

    جمعیت فلسطینی مسلمانوں کا مقدمہ ہر فورم پر لڑ رہی ہے، حماس رہنماء

  • سندھ میں ملیریا وبائی شکل اختیار کرنے لگا

    سندھ میں ملیریا وبائی شکل اختیار کرنے لگا

    گزشتہ ہفتے سندھ میں ایک لاکھ 6684 ملیریا کے کیسز سامنے آئے، شہروں میں کراچی ، لاڑکانہ ، خیرپور میرپور خاص اور دیگر شامل ہیں۔

    تفصیلات کے مطابق سندھ میں ملیریا وبائی شکل اختیار کرنے لگا ہے، ذرائع این آئی ایچ نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے سندھ میں ایک لاکھ 6684 کیس رپورٹ ہوئے۔گزشتہ ہفتے رپورٹ ہونے والے ملیریا کیسز میں لاڑکانہ میں 11588، خیرپور میں 10681 ، قمبر میں 7998، میرپور خاص 7230 کیس سامنے آئے۔اس کے علاوہ اس دوران دادو میں 6045، بدین 5984 ، سانگھڑ میں 5703، تھرپارکر 5126 ، ٹنڈو اللہ یار 4809، سکھر 4673 ، نوشہرو فیروز 4590، شکارپور 3970، عمر کوٹ 3546 کیس رپورٹ ہوئے۔گذشتہ ہفتے کراچی ملیر سے 779 ، کراچی ویسٹ 155، وسطی 135، شرقی 124 ، کورنگی 82، ساوتھ 52، کیماڑی 6 کیسز سامنے آئے۔

    سندھ حکومت کا ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کا حکم

    اطالوی ایئر کرافٹ کیریئر کی کراچی بندر گاہ آمد، پاک بحریہ حکام اور سفیر نے استقبال کیا

    سندھ باب الاسلام اور جمعیت علماءاسلام کی دھرتی ہے، مولانا فضل الرحمان

  • سندھ حکومت کا ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کا حکم

    سندھ حکومت کا ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کا حکم

    سندھ حکومت نے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ مقررہ وقت سے پہلے مکمل کرنے کا حکم دے دیا۔

    سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے ایک بار پھر ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبہ ٹائم لائن سے پہلے مکمل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ منصوبہ کراچی کیلئے گیم چینجر ہے۔ ہمیں ہر حال میں اس کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانا ہوگا۔ریڈ لائن بی آر ٹی سندھ حکومت کیلئے اولین ترجیح ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پر شب و روز کام جاری ہے، اس کے باوجود کام میں مزید تیزی لائی جائے اور عوامی منصوبہ ٹائم لائن سے پہلے مکمل کیا جائے۔ ریڈ لائن بی آر ٹی کا مقصد ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنا اور کراچی کے لاکھوں شہریوں کیلئے ایک پائیدار، قابل اعتماد ٹرانسپورٹ کا حل فراہم کرنا ہے۔

    انہوں نے ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر محکمہ ٹرانسپورٹ اور اسٹیک ہولڈرز کی موجودگی میں اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کی، جس میں ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے کے لاٹ 1 اور لاٹ 2 پر جاری ترقیاتی کام کی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز تعمیراتی کام کو تیز کرنے کیلئے ٹھوس کوششیں کریں اور تمام دستیاب وسائل کو بروئے کار لائیں۔
    ائرپورٹ کے علاقے میں جاری ترقیاتی کاموں کی تکمیل کو تیز کرنے کے لیے ہوائی اڈے کے حکام کے ساتھ بات چیت کو تیز کیا جائے اور مزید تاخیر سے بچنے کے لیے درپیش تمام مسائل کو ایک ہفتے کے اندر حل کیا جانا چاہیے۔اجلاس میں ٹرانس کراچی کے حکام، کنٹریکٹرز اور کنسلٹنٹس نے جاری کام کے بارے میں بریفنگ دی۔ اس موقع پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن، سی او ٹرانس کراچی شمائلہ محسن، بین الاقوامی کنسلٹنٹس، کنٹریکٹرز اور دیگر نے شرکت کی۔

    اطالوی ایئر کرافٹ کیریئر کی کراچی بندر گاہ آمد، پاک بحریہ حکام اور سفیر نے استقبال کیا

    جمعیت فلسطینی مسلمانوں کا مقدمہ ہر فورم پر لڑ رہی ہے، حماس رہنماء

    سندھ باب الاسلام اور جمعیت علماءاسلام کی دھرتی ہے، مولانا فضل الرحمان