Baaghi TV

Category: کراچی

  • حکمران ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اقدامات کریں،ثروت اعجاز قادری

    حکمران ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اقدامات کریں،ثروت اعجاز قادری

    سنی تحریک کے مرکزی صدر محمد ثروت اعجاز قادری کا کہنا ہے کہ حکمران ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے اقدامات کریں۔ملک کے حالات بس سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔

    مرکز اہلسنت پاکستان سنی تحریک سے جاری بیان میں محمد ثروت اعجاز قادری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں انڈسٹریاں بند ہو رہی ہیں فصلیں بارش اور سیلاب سے تباہ ہو گئی ہیں۔قوم حکمرانوں کی طرف پر امید نظروں سے دیکھ رہی ہے کے آئی ایم ایف سے ملنے والا فنڈ قوم کے فلاؤ بہبود پر ہی خرچ ہوگا۔ملک کی معیشت حکمرانوں کی باتوں اور تقریروں سے نہیں چل سکتی عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔معاشی حالات اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ سرمایہ دار طبقہ ہو یا ملازمت پیشہ ہر کسی کے سر پر خطرے کی گھنٹی بج رہی ہے۔ثروت اعجاز قادری نے اپنے جاری بیان میں مزید کہا کہ آئی ایم سے ملنے والے فنڈ سے حکومت عوام کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرے جب ملک میں چھوٹی چھوٹی انڈسٹریاں لگیں گی تو عوام کو روزگار کے مواقع بھی ملیں گے اور افراط زر کی کمی بھی پوری ہوگی۔

    معاہدے پر عمل نہ کرکے حکومت نے وعدہ خلافی کی، محمد حسین محنتی

    انکا کہنا تھا کہ بیرونی سرمایہ کاروں کو مدعو کیا جائے تاکہ ملک کے حالات میں بہتری آئے۔ملک دشمن عناصر قوم کو افواؤں کے ذریعے پریشان کیے ہوئے ہیں آج یہ حکومت جائے گی تو کل وہ حکومت آئے گی۔ملک کے اندرونی حالات کو بہتر کرنے کے لیے اس طرح کی افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف بھرپور ایکشن ہونا چاہیے۔پاکستان کو اس وقت بیرونی طاقتوں سے کم ملک کے اندر سازشیں کرنے والوں سے زیادہ خطرات لاحق ہیں۔تمام سیاسی و مذہبی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر اپنے مفادات کو بالائے طاقت رکھ کر ملک اور قوم کے مفادات کے لیے کام کرنا ہوگا۔#

  • معاہدے پر عمل نہ کرکے حکومت نے وعدہ خلافی کی، محمد حسین محنتی

    معاہدے پر عمل نہ کرکے حکومت نے وعدہ خلافی کی، محمد حسین محنتی

    جماعت اسلامی سندھ کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا ہے کہ مہنگی بجلی وظالمانہ ٹیکسز کے خلاف دھرنے کے معاہدے پر عمل نہ کرکے حکومت نے وعدہ خلافی کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قباء آڈیٹوریم میں ملاقات کرنے والے وفود سے بات چیت کرتے ہوئے محمد حسین محنتی ن کا کہنا تھا کہ حکومت کی آمرانہ وعام دشمن فیصلوں کی وجہ سے ملک میں مہنگائی کاطوفان،کاروبارتباہ،بجلی وگیس کے بلوں میں ظالمانہ ٹیکسز نے عوام کی کمرتوڑ کررکھ دی ہے۔جماعت اسلامی انارکی نہیں چاہتی اسی لیے عوام کو منظم کرکے پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کیا ہے۔حکومت کے ظالمانہ اقدامات اورعوام کے جائز حقوق کی خاطرپرامن وآئینی جدوجہد جاری رہے گی۔

    ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا، وزیر داخلہ سندھ

    صوبائی امیرنے عوام سے اپیل کی کہ وہ 29ستمبر کو حکومت کے عوام دشمن اقدامات کے خلاف ہونے والے احتجاج میں بھرپورشرکت کرکے بیداری کا ثبوت دیں.امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم کی اپیل پر29ستمبر کو سندھ میں بھی کراچی تاء کشمور احتجاج ہوگا۔ضلعی ہیڈکوارٹرز اورشاہراہوں پراحتجاجی دھرنے دیئے جائیں گے۔جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان کی قیادت میں پچیس کروڑ عوام کا مقدمہ لڑرہی ہے۔

  • ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا، وزیر داخلہ سندھ

    ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا، وزیر داخلہ سندھ

    وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن نے کہا ہے کہ عمر کوٹ میں ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلہ میں مارا گیا، مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عمر کوٹ میں ہونے والے واقعے کی انکوائری کے لیے سی سی ٹی وی سے مدد لی گئی، متاثرین جسے ذمہ دار قرار دیں گے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائیگی۔ان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں الزام درست ثابت ہونے پر اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور یہ ایک جعلی پولیس مقابلہ تھا۔انہوں نے کہا کہ عمرکوٹ میں پولیس اہلکاروں پر جعلی پولیس مقابلے کا الزام تھا، وزیراعلیٰ سندھ کی ہدایت پر انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی۔صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ ان کے اہلخانہ کو آزادی حاصل ہے کہ وہ ذمہ داروں کے خلاف فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) درج کراسکتے ہیں، ذمہ داران کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائی گی۔

    جب تک منافقت ختم نہیں کریں گے نظام اور حالات بہتر نہیں ہونگے،مصطفیٰ کمال

    ان کا کہنا تھا کہ انکوائری کمیٹی نے میرپور خاص پولیس اور سی آئی اے میرپور خاص کو واقعے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے اور سب کے خلاف ایف آئی آر کا اندارج کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اگر مقتول کے اہلخانہ نے ایف آئی آر نہ کٹوائی تو ریاست مقدمہ درج کروائے گی، تحقیقات کے مطابق پولیس نے عمرکوٹ میں جعلی پولیس مقابلہ کیا تھا، عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے، درج ہونے والی 6 ایف آئی آرز کی تحقیقات کی جائیں گی۔ضیاالحسن لنجار نے کہا کہ میر پور خاص کے نئے ڈی آئی جی بطور چیئرمین کمیٹی ان ایف آئی آرز کی تحقیقات کریں گے۔انہوں نے کہا کہ یہ بات ابھی زیر تحقیق ہے کہ ڈاکٹر شاہ نواز ملزم تھے یا مجرم اور اس کا فیصلہ ان کے موبائل فون کے پنجاب سے فارنزک کے بعد کیا جائے گا۔یاد رہے کہ عمرکوٹ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہ نواز کنبھر کا میرپورخاص میں پولیس نے گولی مار کر مبینہ طور پر ماورائے عدالت قتل کردیا تھا۔

  • جب تک منافقت ختم نہیں کریں گے نظام اور حالات بہتر نہیں ہونگے،مصطفیٰ کمال

    جب تک منافقت ختم نہیں کریں گے نظام اور حالات بہتر نہیں ہونگے،مصطفیٰ کمال

    ایم کیو ایم پاکستان کے سینئر رہنما مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ جب تک منافقت ختم نہیں کریں گے نظام اور حالات بہتر نہیں ہونگے.

    باغی ٹی وی کراچی کی رپورٹ کےمطابق جامعہ کراچی میں آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام "جشنِ اُردو” کے سلسلے میں منقعدہ مشاعرے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا کہنا تھا کہ پاکستان میں بے تحاشہ مواقع ہیں جنہیں ہم ضائع کر رہے ہیں، یہ ہماری بدنظمی کی نظر ہو رہے ہیں، ہم نے سب کچھ تباہ و برباد کر دیا ہے، ہمیں اس کی زمہ داری لینی ہوگی۔ ہمارے حالات بدلنے کیلئے آسمان سے فرشتے نہیں آئیں گے۔ طلباء وطالبات کو دیکھ کر امید بڑھتی ہے کہ ہمارا مستقبل روشن ہے لیکن آج ہر طرف اور ہر شعبے میں خرابی عیاں ہے جس سے پاکستان کی معیشت بھی متاثر ہے۔ ہم کئی ہزار ارب کے قرض دار ہیں۔ اربوں روپے کے قرض پر صرف اس سال جو ہم سود دے رہے ہیں وہ تقریبا ساڑھے نو ہزار ارب روپے ہے جو کہ ہمارے پورے بجٹ کا 52 فیصد بنتا ہے۔ ڈرائیونگ سیٹ آئے گی تو اس شہر سمیت ملک کو ٹھیک کردیں گے، انکا کہنا تھا کہ وہ سینیٹر بنے، وزیر رہے، میئر کراچی منتخب ہوئے لیکن ایک روپیہ کبھی حرام نہیں کمایا۔

    اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کو جھٹکا

    مشاعرے میں مصطفیٰ کمال، فاروق ستار اور امین الحق، انچارج اے پی ایم ایس او حافظ شہریار سمیت ایم کیو ایم پاکستان کے دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ اس موقع پر شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے مصطفیٰ کمال کا مزید کہنا تھا کہ آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے زیر اہتمام یہ جشن اردو ایک سوشل گیدرنگ ہے، یہاں ماحول اچھا ہے لیکن جب یہاں سے جائیں گے تو لوڈ شیڈنگ ملے گی، پینے کا پانی، گیس نہیں ہوگی، جس سڑک سے جائیں گے وہ سلامت نہیں ہوگی۔ لوگ کہتے ہیں صرف اس نے چوری نہیں کی جسے موقع نہیں ملا لیکن ہمیں ڈکیتی کا موقع ملا اور ہم مے ایک روپیہ حرام نہیں کمایا۔ ایماندار اور باکردار لیڈرز ہی تمام مسائل کا حل ہیں۔

  • حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت جماعت اسلامی کا ہنگامی اجلاس،اہم فیصلے

    حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت جماعت اسلامی کا ہنگامی اجلاس،اہم فیصلے

    جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن کی زیر صدارت ہونے والے ہنگامی اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے، جس میں مرکزی، صوبائی اور بڑے شہروں کی قیادت نے بھرپور شرکت کی۔ اس اجلاس میں جماعت اسلامی کی قیادت نے آن لائن بھی شرکت کی، جس سے ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں حافظ نعیم الرحمن نے حکومتی معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے پر لائحہ عمل کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی تحریک ‘حق دو عوام کو’ کے اگلے مرحلے پر مشاورت کی گئی، اور فیصلہ کیا گیا کہ حکومت نے راولپنڈی معاہدہ پر عمل درآمد نہیں کیا، جس کے نتیجے میں تحریک میں مزید تیزی لانے کا ارادہ ہے۔
    اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا گیا کہ 29 ستمبر کو پورے ملک کی شاہراؤں پر دھرنوں کی تیاری کا جائزہ لیا جائے گا۔ مزید برآں، 7 اکتوبر کو غزہ پر اسرائیلی جارحیت کا ایک سال مکمل ہونے پر ملک بھر میں خصوصی پروگرامات منعقد کیے جائیں گے، جبکہ ملک بھر میں ہفتہ یکجہتی فلسطین و لبنان بھی منایا جائے گا۔ اس سلسلے میں اسلام آباد اور کراچی میں غزہ ملین مارچ کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔اجلاس میں جماعت اسلامی نے بجلی کے بلوں کے بائیکاٹ پر ریفرنڈم کرانے کا فیصلہ کیا۔ یہ ریفرنڈم 23 سے 27 اکتوبر تک جاری رہے گا، اور اس دوران جماعت اسلامی عوامی رائے جاننے کے لیے پورے ملک میں مہم چلائے گی۔ ریفرنڈم کے نتائج کی روشنی میں جماعت اسلامی بڑا اعلان کرے گی۔ اس کے بعد تاجروں اور صنعت کاروں سے مشاورت کے بعد پہیہ جام کا اعلان بھی کیا جا سکتا ہے۔
    اجلاس میں یہ بات بھی زیر غور آئی کہ ملک بھر سے لانگ مارچز کا آغاز کیا جائے گا اور ایک بڑے قافلے کی صورت میں اسلام آباد جانے کی حکمت عملی تیار کی جائے گی۔ جماعت اسلامی نے اس بات پر زور دیا کہ یہ اقدامات عوام کی بھلائی اور حقوق کی بحالی کے لیے ہیں، اور جماعت اسلامی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔ اجلاس کی اس تفصیل سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جماعت اسلامی موجودہ حکومت کے خلاف ایک منظم تحریک کی تیاری کر رہی ہے، جو کہ ملک کی سیاسی صورتحال میں ایک نئی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔

  • سندھ حکومت کا پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی انڈیکس رپورٹ پر تحفظات کا اظہار

    سندھ حکومت کا پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی انڈیکس رپورٹ پر تحفظات کا اظہار

    وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ اور وزیر یونیورسٹیز اینڈ بورڈ سندھ محمد علی ملکانی نے پلاننگ کمیشن آف پاکستان کی ڈسٹرکٹ ایجوکیشن پروگرام انڈیکس رپورٹ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوۓ کہا ہے کہ اسلام آباد کے ادارے زمینی حقائق جانے بنا “ڈیسک انالسٹ” کا کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ حقیقت جانے بنا سندھ کے تعلیم معیار کو نیچا دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔

    صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پلاننگ کمیشن نے یکطرفہ رپورٹ جاری کی ہے کہ سندھ میں اسکول خستہ حال ہیں، ہم یہ بات خود پہلے سے کہہ رہے ہیں کہ سندھ میں شدید برساتوں اور سیلاب کی وجہ سے 20 ہزار اسکولز متاثر ہو چکے ہیں، قدرتی آفات کی وجہ سے ہمارا تعلیمی انفراسٹرکچر متاثر ہوا ہے، سیلاب صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اقوام متحدہ کے جنرل سیکریٹری نے بھی دورہ کیا، انفرا اسٹرکچر کے سیلاب سے متاثر ہونے کے معاملے کو کارکردگی ہیں شامل کرنا بے بنیاد ہے، انہوں نے کہا کہ پلاننگ کمیشن والوں کو پتا ہی نہیں ہے، سندھ پاکستان کا واحد صوبہ ہے کہ جس کے نصاب کے بارے میں یونیسیف کے غیر جانبدار تجزیہ میں کہا گیا ہے کہ سندھ کا نصاب پورے ملک کے نصاب سے بہتر اور جامع ہے، ہم نے اپنے نصاب میں ثقافتی پہلو کو شامل کیا جبکہ بچوں کو مادری زبان میں تعلیم کے حوالے سے اقدامات کیے، سندھ میں تمام مذاہب کے بچوں کو ان کے مذہب کی تعلیم دینے نصاب تشکیل دیا، سندھ میں ٹرانس جینڈر ایجوکیشن پالیسی بنانے والا پہلا صوبہ ہے، صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ میں میرٹ پر 60 ہزار اساتذہ بھرتی کرنے کے عمل میں مکمل شفافیت کے پہلو نظر انداز ہونے نہیں دیا، پنجاب کے اسکولز میں اساتذہ کی کمی ہے، خیبرپختونخواہ کے اسکولز خالی ہیں اس پر کوئی واضح بات نہیں کی گئی۔ ابھی کچھ دن پہلے یونیسکو کی جانب سے پچاس ممالک کے اساتذہ کے ٹیسٹ کا انعقاد کیا، ان میں پاکستان کے آٹھ اساتذہ کامیاب ہوئے ان میں پہلے نمبر پر سندھ کے ضلع سجاول کی ٹیچر پہلے نمبر پر آئیں، جبکہ ٹاپ ٹین میں 2 دیگر اساتذہ کا تعلق بھی سندھ سے ہے، سندھ میں اساتذہ بھرتی ہونے کے بعد معیار بھتر ہوا ہے اور داخلا کا تناسب بھی بڑھا ہے.

    اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کو جھٹکا

    پلاننگ کمیشن کے شمولیت کے انڈیکس کے پہلو ٹیکنالوجی کے حوالے سے بات کرتے ہوۓ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ نے کہا کہ سندھ میں ایک لاکھ اسکوائر کلومیٹر ایراضی پر ریگستان، کوہستان، کوسٹل ایریا اور پہاڑ ہیں جہاں نیٹ ورک کا مسئلہ ہے، ظاہر ہے نیٹ ورک مہیا کرنے کا کام محکمہ تعلیم تو نہیں کر سکتا، ٹیکنالاجی کا معاملہ براہ راست ہم پر لاگو نہیں ہوتا، ہمارے سسٹم کی جائز خامیاں ہم نے کبھی بھی چھپائی نہیں ہیں۔ سید سردار علی شاہ نے کہا کہ اساتذہ بھرتی کے بعد ان کی پروفیشنسی ڈولپمینٹ کو آگے بڑھاتے ہوۓ سندھ میں پہل کرتے ہوۓ ٹیچرز لاسنس پالیسی متعارف کروائی گئی، انتظامات کو مزید بہتر کرنے کے لئے ایجوکیشن مینجمینٹ کیڈر متعارف کروا رہے ہیں۔

    صوبائی وزیر تعلیم سندھ نے کہا کہ پلاننگ کمیشن کی اپنی رپورٹ یہ کہتی ہے کہ سندھ کے نوشہروفیروز ضلع نے پنجاب کے نصف سے زائد اضلاع اور خیبرپختونخواہ کے تمام اضلاع کو پیچھے چھوڑ کر بھی کاکردگی کے لحاظ سے 69 نمبر حاصل کیا ہے، نوشہروفیروز پنجاب کے 70 فیصد اضلاع سے لرننگ آئوٹ کم میں آگے ہے۔ صوبائی وزیر نے کہا کہ ہم نے اپنی خامیوں کو کبھی چھپایا نہیں، لیکن وفاقی ادارے رپورٹ بنانے سے پہلے ہم سے بھی پوچھنے کی اگر زحمت کریں کے تو یہ سوئیمنگ اسٹیٹمینٹ سے بچ سکتے ہیں، ڈیٹا سائنس کا دور ہے درست اعداد و شمار بتانے سے ہی مسائل حل کرنے میں مدد مل سکے گی۔ ایک سوال پر صوبائی وزیر سید سردار شاہ نے کہا کہ رپورٹ میں بتایا جاتا ہے کہ سندھ میں بوڈرز کو او ایم آر مشینیں نہیں دی گئیں، حالانکہ محکمہ تعلیم نے او ایم آر مشینیں بورڈ کے حوالے کردی تھیں۔ اس موقع پر وزیر جامعات محمد علی ملکانی نے کہا کہ اس سال کے پیپرز پرانے مبنوئل طریقے سے ہی چیک کیے گئے ہیں, ہماری کوشش ہوگی کہ آئندہ امتحانات مارچ یا اپریل میں منعقد کراوئے جائیں اور اگلے سال ہم تین یار چار پیپرز میں ای مارکنگ اور او ایم آر شیٹس لاگو کرینگے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بورڈز چیئرمین کے کیسز کورٹ میں چل رہے ہیں اور آج بھی سیکریٹری عباس بلوچ کورٹ میں تھے, ان کو دس اکتوبر کی تاریخ ملی ہے امید ہے کہ کورٹ کیسز جلد ہی ختم ہوجائینگے۔

  • اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کو جھٹکا

    اسٹاک ایکسچینج میں نیا ریکارڈ، روپے کے مقابلے میں ڈالر کو جھٹکا

    پاکستانی روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر مزید گرگئی، انٹربینک میں ڈالر مزید 34 پیسے سستا ہوگیا۔

    باغی ٹی کی رپورٹ کے مطابق کاروباری ہفتے کے چوتھے روز انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 34 پیسے کمی ہوئی ہے، جس کے بعد ڈالر کا بھاؤ 277 روپے 50 پیسے ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ روز بدھ کو انٹربینک میں ڈالر 5 پیسے مہنگا ہوا تھا، جس کے بعد انٹربینک میں ڈالر 277 روپے 85 پیسے پر بند ہوا تھا۔عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی جانب سے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی کا رجحان ہے۔کاروباری ہفتے کے چوتھے روز کاروبار کے آغاز پر پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں آج بھی مثبت رجحان دیکھا جا رہا ہے۔اسٹاک ایکسچینج میں 600 پوائنٹس کا اضافہ ہوا جس کے ساتھ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں 100 انڈیکس 82 ہزار 800 پوائنٹس کی سطح پر ٹریڈ کر رہا ہے۔

    پشاور میں بجلی کا بحران: دلہ ذاک گرڈ اسٹیشن پر مظاہرین کا حملہ

    واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ روز پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کاروبار کا اختتام مثبت زون میں ہوا جس کے باعث 100 انڈیکس 764 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 82 ہزار 247 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا تھا۔

  • افتخار چودھری اور ثاقب نثار کی تمام مراعات واپس لی جائیں،شرجیل میمن

    افتخار چودھری اور ثاقب نثار کی تمام مراعات واپس لی جائیں،شرجیل میمن

    سندھ کے سینئر صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ میثاق جمہوریت کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کا مطالبہ تھا کہ آئینی عدالتیں بنائیں جس سے لوگوں کو انصاف مل سکے۔

    کراچی میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ جس شخص نے ملک کو آئین دیا اس کا عدالتی قتل ہوا،پیپلز پارٹی کسی شخص کے خلاف نہیں ہے کوئی بھی چیف جسٹس آ جائے ہمیں فرق نہیں پڑتا،جس شخص نے اس ملک کو آئین دیا، ایٹمی طاقت دی اس شخص کے کیس کا فیصلہ ان کی زندگی میں نہیں ہو سکا۔عمران خان نے جیل سے بیٹھ کر ایک جج صاحب کی حمایت کا اعلان کیا؟ کیا یہ سازش نہیں؟کیا کسی سیاستدان یا عام شخص کو بولنا چاہئے کہ میں فلاں جج کی حمایت کرتا ہوں، کیا ایسا ہونا چاہئے؟ عدالتی لوگوں کی حمایت کا اعلان سوالیہ نشان ہے، پیپلز پارٹی کسی بھی شخص کے حق میں یا خلاف نہیں ہے، آئینی عدالتیں پیپلز پارٹی کا دیرینہ مطالبہ تھا، میثاق جمہوریت میں یہ طے ہو گیا تھا کہ آئینی عدالتیں بنائی جائیں تا کہ لوگوں کوجلد انصاف مل سکے، 25 تیس سال لوگوں کو عدالتوں کے چکر نہ لگانا پڑیں،بھٹو کا عدالتی قتل پاکستان کے مستقبل کا قتل تھا، اگر وہ زندہ ہوتے تو آج جو صورتحال ہے وہ نہ ہوتی، اس وقت کے ججز نے زیادتی کی، افتخار چودھری اور ثاقب نثار کی تمام مراعات واپس لی جائیں اور انکو سابق چیف جسٹس بھی نہ کہا جائے ان جیسے لوگ، اس ملک کے قانونی تاریخ میں ایک کالا داغ کے طور پر جانے جائیں گے، ہمیں 45 برس لگے بھٹو شہید کو انصاف دلوانےمیں

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ کل لاہور ہائیکورٹ پنڈی بینچ میں بینظیر کی شہادت کا مقدمہ لگا ہوا تھا، 16 سال ہو گئے اس مقدمے کو،کل عدالت نے سماعت کی اور غیر معینہ مدت کے لئے پھر ملتوی کر دیا، قومی ہیروز کے کیسز کے لئے مخصوص مائینڈ سیٹ والی عدلیہ کے پاس وقت ہی نہیں ہے،کیا یہ شرم کا مقام نہیں ہے کہ اس ملک کی خاتون وزیراعظم کے کیس کو کیوں بار بار ملتوی کیا جا رہا، فیصلہ کیوں نہیں سنایا جا رہا،کسی کو ہیرو بنانا ہو ، بنی گالہ کے غیر قانونی محلات کو قانونی بنانا ہو تو ٹائم ہے لیکن ہیروز کے کیس کے لئے ٹائم نہیں ہے، ہمارے لئے قاضی فائز عیسیٰ سمیت تمام جج محترم ہیں، پیپلز پارٹی نے جوڈیشل ایکٹوازم کا نقصان اٹھایا لیکن کبھی عدلیہ سے لڑائی نہیں کی، عدلیہ کو برا بھلا نہیں کہا، ججز پر حملے نہیں کئے، 12 12 برس تک آصف زرداری بغیر کسی جرم کے جیل میں رہے،کبھی انہوں نے عدلیہ کے خلاف کوئی بات نہیں کی، تاریخ اٹھا دیکھ لیں باقی سب جماعتیں عدلیہ کے ساتھ محاذ آرائی کر چکی ہیں، عدالتوں پر ججوں پر حملے کئے گئے دھمکیاں دی گئیں،دھرنے میں پی ٹی آئی نے کیا کیا تھا نکالیں ویڈیو،

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    پی آئی اےکی نجکاری کیلئے 6کمپنیوں نے پری کوالیفائی کرلیا

    پی آئی اے کا خسارہ 830 ارب روپے ہے، نجکاری ہی واحد راستہ ہے، علیم خان

    پیشکشوں میں توسیع کا وقت ختم، نجکاری کمیشن پری کو آلیفیکیشن کریگا:عبدالعلیم خان

    پی آئی اے سمیت24اداروں کی نجکاری، شفافیت کیلئے ٹی وی پر دکھائینگے:وفاقی وزیر عبد العلیم

     پی آئی اے کی نجکاری کے حوالہ سے اہم پیشرف 

    پی آئی اے کسے اور کیوں بیچا جارہا،نجکاری پر بریفنگ دی جائے، خورشید شاہ

  • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس نئی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا

    پاکستان سٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، 100 انڈیکس نئی تاریخی بلندی پر پہنچ گیا

    کراچی: عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) ے معاہدے کے اثرات پاکستان اسٹاک ایکسچینج پر بھی دیکھے جا رہے ہیں اور آج کاروبار کے آغاز سے ہی 100 انڈیکس میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔

    باغی ٹی وی : کاروبار کے دوران ایک موقع 100 انڈیکس 658 پوائنٹس اضافے سے 82905 کی نئی ریکارڈ بلندی پر ٹریڈ کرتا دیکھا گیا، واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا مثبت دن رہا تھا اور 100 انڈیکس 764 پوائنٹس اضافے سے 82247 پر بند ہوا تھا، مارکیٹ میں 42 کروڑ شیئرز کے سودے 18.38 ارب روپے میں طے ہوئے تھے جب کہ مارکیٹ کیپٹلائزیشن 99 ارب رو پے بڑھ کر 10784 ارب روپے رہی تھی۔

    واضح رہے کہ گزشتہ روز آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی اصلاحات کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان کے لیے 7 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کا اعلان کیا تھا، اس حوالے سے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹا لینا جارجیوا کا کہنا تھا پاکستانی حکومت اور عوام کو مبارک ہو، پاکستان نے اصلاحات کی ہیں جس سے معیشت بہتر ہوئی، پاکستان کی معیشت درست سمت میں جارہی ہے، معیشت کی گروتھ اور مہنگائی میں کمی ہورہی ہے۔

  • پی آئی اے کی پرواز کا انوکھا واقعہ: دو مسافروں کو کراچی میں ہی چھوڑ دیا گیا

    پی آئی اے کی پرواز کا انوکھا واقعہ: دو مسافروں کو کراچی میں ہی چھوڑ دیا گیا

    کراچی: پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی پرواز پی کے 536 کا ایک انوکھا واقعہ سامنے آیا ہے، جس میں دو مسافروں کو کراچی ہی چھوڑ دیا گیا، حالانکہ وہ سکھر جانے کے لیے ٹکٹ رکھتے تھے۔ یہ واقعہ جے یو آئی کے انٹرپارٹی چیف الیکشن کمشنر مولانا عطاء الحق درویش اور معاون الیکشن کمشنر مفتی ناصر محمود کے ساتھ پیش آیا، جو کہ کراچی سے سکھر کے لیے روانہ ہو رہے تھے۔مولانا عطاء الحق درویش نے بتایا کہ وہ اور مفتی ناصر محمود بروقت کراچی ایئرپورٹ پہنچے اور ان کے پاس کنفرم ٹکٹ بھی موجود تھا۔ تاہم، پی آئی اے حکام نے انہیں بتایا کہ جہاز میں مسافروں کی گنجائش کم ہے اور اوورلوڈ کی وجہ سے انہیں سکھر نہیں لے جایا جا سکتا۔ مولانا درویش نے مزید کہا، "ہمیں کہا گیا کہ آپ کو کٹ کی قیمت واپس کر دی جائے گی، لیکن یہ بات ہمارے لیے ناقابل قبول ہے۔
    مولانا عطاء الحق درویش نے پی آئی اے پر الزام عائد کیا کہ ان کا ٹکٹ چانس والے مسافروں کو دگنی قیمت پر بلیک میں فروخت کیا گیا۔ انہوں نے اس صورتحال پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے واقعات ایئرلائن کی ساکھ کو متاثر کرتے ہیں اور مسافروں کے ساتھ ناانصافی ہے۔مولانا درویش نے اس واقعے کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا، "ہمیں اپنی حق تلفی کے خلاف آواز اٹھانی ہوگی اور ہم قانونی چارہ جوئی کریں گے۔یہ واقعہ پی آئی اے کی سروسز کی بہتری کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ ایئرلائن کو اپنے مسافروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ اس قسم کی ناخوشگوار صورتحال دوبارہ پیش نہ آئے۔ یہ واقعہ ایک بار پھر پاکستانی ایئرلائنز کی سروسز کی کمی کو اجاگر کرتا ہے، جو کہ مسافروں کے حقوق کی حفاظت کرنے میں ناکام ہیں۔ پی آئی اے کو اس قسم کی صورت حال سے بچنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ مسافروں کا اعتماد بحال ہو سکے اور وہ بلا خوف و خطر اپنی پروازیں کر سکیں۔