Baaghi TV

Category: کراچی

  • معمولی تلخ کلامی پر پولیس اہلکار کی فائرنگ سے شہری زخمی

    معمولی تلخ کلامی پر پولیس اہلکار کی فائرنگ سے شہری زخمی

    کراچی: معمولی تلخ کلامی پر پولیس اہلکار نے فائرنگ کرکے شہری کو زخمی کردیا۔

    باغی ٹی وی : سائٹ سپر ہائی وے چوکی انچارج نے معمولی تلخی پر فائرنگ کرکے شہری کو زخمی کردیا سائٹ سپر ہائی وے تھانے کے سب انسپکٹر اور سبزی منڈی چوکی انچارج عباس سیال نے معمولی تنازع پر فائرنگ کرکے غازی نامی شہری کو زخمی کردیا، جسے طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا ۔

    پولیس ذرائع کے مطابق سائٹ سپر ہائی وے تھانے کے چوکی انچارج عباس سیال اور ارسلان نے معمولی تنازع پر شہری کو زخمی کیا، جس کے بعد دونوں پولیس اہلکار فرار ہوگئے۔ اعلیٰ افسران نے فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیا، جس کے بعد چوکی انچارج عباس سیال کو حراست میں لے لیا گیا، تاہم ان کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا گیا نہ ہی انہیں باقاعدہ گرفتار کیا گیا ہے۔

    ایران کیلئے جاسوسی کے الزام میں اسرائیلی شہری گرفتار

    دوسری جانب پانی کے تنازع پر شہری کو چھریوں کے وار کرکے قتل کردیا گیا۔

    کیماڑی کے علاقے میں چھریوں کے وار سے شہری کو قتل کردیا گیا جب کہ اورنگی ٹاؤن میں ذاتی جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہوگئےجیکسن تھانے کی حدود میں پانی کے تنازع پر بادشاہ نامی شہری کو چھریوں کے وار سے قتل کردیا گیا ۔

    پولیس کے مطابق ملزم شہری کو چھریوں کے وار کرکے شدید زخمی کرکے فرار ہوگیا ، جس کے بعد اسے تشویش ناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔

    ایران کے پاس ایٹمی ہتھیاروں سے بھی زیادہ طاقتور ہتھیار موجود ہیں

    علاوہ ازیں اورنگی ٹاؤن میں ذاتی جھگڑے کے دوران فائرنگ سے سیف اللہ اور سجاد نامی شہری زخمی ہوگئے ۔ پولیس کے مطابق ایم پی آر کالونی میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا۔ علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ دو گروپوں میں مسلح تصادم کے نتیجے میں فائرنگ سے 2 افراد زخمی ہوئے ہیں جس کے بعد مسلح ملزمان فرار ہوگئے ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جار ہے ہیں۔

  • اسحاق ڈاربطور ڈپٹی وزیراعظم، وفاقی حکومت کا عدالت میں جواب جمع

    اسحاق ڈاربطور ڈپٹی وزیراعظم، وفاقی حکومت کا عدالت میں جواب جمع

    ن لیگی رہبنما، وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیراعظم تعیناتی پر وفاقی حکومت نے سندھ ہائیکورٹ میں جواب جمع کرادیا ہے

    چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے وزیرخارجہ اسحاق ڈار کی بطور ڈپٹی وزیر اعظم تقرری کے خلاف درخواست پر سماعت کی ،دوران سماعت سرکاری وکیل اور درخواست گزار عدالت میں پیش ہوئے، سرکاری وکیل نے وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت میں تحریری جواب جمع کرایا ،وفاقی حکومت کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے تحریری جواب میں کہا گیا کہ اسحاق ڈار کو ڈپٹی وزیراعظم کا اعزازی عہدہ دیا گیا ہے وہ ڈپٹی وزیراعظم کے اختیارات استعمال نہیں کرتے، چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے استفسار کیا کہ اسی نوعیت کا جو پہلے کیس دائر کیا گیا تھا اس پر عدالتوں کے فیصلے کیا تھے 2012 میں لاہور ہائیکورٹ نے پرویز الٰہی کی ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے پر تقرری کے خلاف کیا فیصلہ دیا تھا، سندھ ہائیکورٹ نے متعلقہ حکام کو اس کیس سے جڑا تمام جوڈیشل ریکارڈ پیش کرنے کی ہدایت کر دی، عدالت نے کیس کی مزید سماعت 2 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی،

    درخواست گزار نے سندھ ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اپنایا کہ 28 اپریل کو اسحاق ڈار کو ڈپٹی پرائم منسٹر بنانے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، آئین میں ڈپٹی پرائم منسٹر کے عہدے کا کہیں ذکر نہیں، وفاقی حکومت کا 28 اپریل کا نوٹیفکیشن غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا جائے، درخواست طارق منصور ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی ہے جس میں وفاقی کابینہ، پرائم منسٹر سیکریٹریٹ، پرنسپل سیکریٹری ایوانِ صدر اور دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کو ڈپٹی پرائم منسٹر (نائب وزیراعظم) تعینات کیا گیا،کابینہ ڈویژن کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق وزیر خارجہ کی ڈپٹی وزیراعظم کے طور پر تقرری وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے کی گئی ہے، اسحاق ڈار ملک کے دوسرے ڈپٹی وزیراعظم ہیں، اس سے قبل چوہدری پرویز الہٰی پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں ڈپٹی وزیراعظم رہ چکے ہیں۔

    معذوری کا شکار طالبات کی ملی دارالاطفال گرلز ہائی سکول راجگڑھ آمد،خصوصی تقریب

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

    وفاقی حکومت کی طرف سے پاکستان بیت المال کو سماعت وگویائی سے محروم بچوں کے لیے فنڈز نہ مل سکے ،

    سماعت سے محروم بچے چلا رہے ہیں ریسٹورینٹ، صدر مملکت بھی وہاں پہنچ گئے، کیا کہا؟

    ویلڈن پاک فوج، سماعت سے محروم افراد سننے اور بولنے لگے

    چلڈرن ہسپتال کا کوکلیئر امپلانٹ کے تمام اخراجات برداشت کرنے کافیصلہ،ڈاکٹر جاوید اکرم

  • معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

    معیشت کی بحالی کیلئے حکومت کا اسمگلنگ کیخلاف کریک ڈائون جاری

    اسمگلنگ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لئے بڑا خطرہ ہے،عوام کی سلامتی اور مستحکم معیشت کی خاطر اسمگلنگ کے خلاف کریک ڈائون جاری ہے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اکتوبر کے دوران ملک بھر سے 26680 سگریٹ کے اسٹاکس،0.138 ملین لیٹر ایرانی تیل اور 456کپڑے کے تھان برآمد ہوئے،قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سے 10980،پشاور سے 15500اور کوئٹہ سے 200 سگریٹ کے سٹاکس ضبط کیے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں نے کراچی سی372اور کوئٹہ سے 84کپڑے کے تھان ضبط کیے ، ملتان سے 0.001، کراچی سی0.009 اورکوئٹہ سے 0.128ملین لیٹر ایرانی تیل برآمد کیا۔یکم ستمبر 2023 سے اب تک ملک بھر سے 13,088.75میٹرک ٹن کھاد،8 3613.1میٹرک ٹن آٹا،35128.9 میٹرک ٹن چینی، 4,372,675 سگریٹ کے سٹاکس، 154,560کپڑے کے تھان اور 17.257ملین لیٹر ایرانی تیل برآمدکیا جاچکا ہے۔قانون نافذکرنیوالے ادارے ملک کو معاشی مشکلات سے نکالنے کے لیے اسمگلنگ کے خلاف اپنی کاروائیاں جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    عمران خان کو سزا،مجرمانہ ریکارڈ،آکسفورڈ کی چانسلرشپ سے نااہلی کی وجوہات

  • مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    مراد علی شاہ سے اطالوی سفیر کی ملاقات، سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق

    وزیرِ اعلی سندھ مراد علی شاہ سے اٹلی کی سفیر ماریلیا ارمیلن نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران این ای ڈی یونیورسٹی کے اٹلی کی یونیورسٹی کے ساتھ باہمی تعاون پر گفتگو کی گئی اور سندھ میں اطالوی زبان سکھانے پر اتفاق کیا گیا۔اٹلی کی سفیر ماریلیا ارمیلن نے کہا کہ دونوں یونیورسٹیوں کے درمیان جلد ایم او یو ہوگا۔اس کے علاوہ اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ سندھ انویسٹمنٹ ڈپارٹمنٹ اٹلی کی فرمز سے قونصل جنرل کے ذریعے بات چیت کرے گا۔مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ اور اٹلی ثقافتی اعتبار سے لاجواب ہیں۔انہوں نے کراچی میں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ لگانے کے لیے اٹلی کی کمپنیوں کو دعوت دی۔وزیرِ اعلی سندھ نے تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اٹلی نے پاکستان میں بڑے پروجیکٹ کیے ہیں، تربیلا ڈیم کی تعمیر میں بھی اٹلی نے کام کیا تھا۔ملاقات میں وزیراعلی کے سیکریٹری رحیم شیخ اور اٹلی کے کراچی میں قونصل جنرل مسٹر ڈنیلو جیورڈینیلا بھی شریک ہوئے۔

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    عمران خان کو سزا،مجرمانہ ریکارڈ،آکسفورڈ کی چانسلرشپ سے نااہلی کی وجوہات

  • جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    جامعہ کراچی میں طلبا کا مطالبات کے حق میں احتجاج جاری

    جامعہ کراچی میں طلبہ تنظیم کی جانب سے اسٹوڈنٹس کو درپیش مسائل پر چھٹے روز بھی شیخ الجامعہ کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ مظاہرہ جامعہ میں بھاری فیسیں، پوائنٹس کی کمی، اور بنیادی سہولیات کے فقدان کے باعث کیا گیا۔

    طلباوطلبات نے احتجاج کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے ساتھ وی سی آفس کے باہر دھرنا دے دیا اور شدید نعرے بازی کی، طلبہ تنظیم کے رہنماؤں نے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی سے مذاکرات کیے جو کہ جزوی طور پر قبول کیے گئے جبکہ طلبہ تنظیم نے اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے کل جامعہ میں سرکاری دفاتر کے کام بند کرنے کی دھمکی دے دی۔اسلامی جمعیت طلبہ اور طلبہ الائنس جامعہ کراچی کی جانب سے طلباوطلبات نے چھٹے روز بھی وی سی آفس کے باہر بھرپور احتجاج کیا اور شدید نعرے بازی کی، اس سے قبل طلبہ نے احتجاج کے دوران پوائنٹس روک دیے جس سے طلباوطلبات کو پریشانی کا سامنا ہوا۔مظاہرین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے واپسی کے پوائنٹس کا آپریشن روک دیا جس کی وجہ سے طلبہ اپنے طور پر گھر پہنچے، مظاہرین کا کہنا تھا اب مزید خاموش نہیں رہا جائے گا اپنے حق کے لیے آواز اٹھائیں گے، ہاتھوں میں کلاسز کی ابتر صورتحال اور بھاری فیسوں کے خلاف بینرز اٹھا کر مظاہرین نے نعرے لگائے۔

    طلبہ رہنماؤں نے اپنا چارٹر آف ڈیمانڈ وائس چانسلر کو پیش کیا مذاکرات کے بعد طلبہ تنظیم نے اپنا موقف اختیار کیا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے جزوی طور پر مطالبات منظور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے، لیٹ فیس میں پچاس فیصد اضافے والا مطالبہ ماننے سے انکار کردیا ہے ، مسئلے کا حل دینے کے بجائے حکومتی نمائندوں سے بات کرنے کی یقین دہانی کروائی ہے۔آج جامعہ کراچی کی کینٹینز بند کی ہیں کل جامعہ کراچی کی ورکنگ نہیں ہونے دیں گے، انتظامیہ ہمیں مجبور نہ کرے جب تک ہمارے مطالبات منظور نہیں ہوتے ہم سراپا احتجاج رہیں گے۔مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ لیٹ فیس میں پچاس فیصد کا اضافہ سمیت امتحانات کی فیس کو فی الفور ختم کیا جائے، ری ایڈمیشن کے نام پر طلبہ سے پانچ ہزار روپے لیے جا رہے ہیں اس عمل کو ختم کیا جائے اور خستہ حال پوائنٹس کی فل فور مرمت کے ساتھ کلاسز کی ابتر صورتحال کو بہتر کیا جائے۔

    بونیر میں پولیس وین کے قریب بم دھماکا، 4 اہلکار زخمی

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

  • ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    ڈی آئی خان،سکھر ائیرپورٹس منصوبے جلد از جلد شروع کئے جائیں، گورنر خیبرپختونخوا

    گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ڈی آئی خان اور سکھر ایئرپورٹس جیسے عوامی بھلائی کے منصوبے جلد از جلد شروع کرنے کا مطالبہ کردیا۔

    پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایئرپورٹس اتھارٹی ہیڈکوارٹرز کراچی کا دورہ کیا، ہیڈکوارٹرز پہنچنے پر گورنر خیبرپختونخوا کو ڈی جی ایئرپورٹس اتھارٹی ایئر وائس مارشل تیمور اقبال نے خوش آمدید کہا۔سی اے اے نے بتایا کہ ڈپٹی ڈی جی ورکس اینڈ ڈیویلپمنٹ سمیر سعید سمیت دیگر اعلیٰ اہلکاروں نے بھی گورنر کا استقبال کیا، گورنر خیبرپختونخوا کو ڈی جی ایئرپورٹس اتھارٹی (اے وی ایم) تیمور اقبال اور ڈپٹی ڈی جی ایئرپورٹس انجینئر صادق الرحمان نے تفصیلی بریفنگ دی۔پاکستان ایوی ایشن اتھارٹی کے مطابق گورنر خیبرپختونخوا کو بالخصوص ڈی آئی خان، سکھر اور حیدرآباد ایئرپورٹس پر بریفنگ دی گئی، جبکہ چترال، گلگت اور مونجودڑو ایئرپورٹس کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا۔گورنر فیصل کریم کنڈی نے ایئرپورٹس اتھارٹی کو ایوی ایشن منصوبوں کے حوالے سے اپنے بھرپور تعاون کا یقین دلایا، انہوں نے کہاکہ ڈی آئی خان اور سکھر ایئرپورٹس جیسے عوامی بھلائی کے منصوبے جلد از جلد شروع کیے جائیں۔

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

  • حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ کی ڈاکٹر شاہنواز قتل کی تحقیقات کیلئے ہائی کورٹ سے باضابطہ درخواست

    حکومت سندھ نے سندھ ہائی کورٹ سے باضابطہ طور پر ڈاکٹر شاہ نواز کنبھر کے متنازع قتل کی عدالتی تحقیقات کرانے کی درخواست کردی۔

    انکوائری کی درخواست وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن لنجار کی جانب سے کی گئی جس میں 18 ستمبر 2024 کو تھانہ سندھڑی، میرپور خاص کی حدود میں ہونے والے قتل کے پس پردہ محرکات کا پتا لگانے کی استدعا کی گئی۔ڈاکٹر کنبھر کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295-سی کے تحت توہین مذہب کے الزامات کا سامنا تھا اور واقعے سے ایک دن قبل ان کے خلاف مذکورہ دفعات کے تحت عمرکوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔پولیس نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر شاہنواز فائرنگ کے تبادلے میں مارے گئے اور ان کے خلاف تعزیرات پاکستان اور سندھ آرمز ایکٹ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمات درج کیے گئے تھے۔تاہم آئی جی سندھ کی جانب سے قائم کردہ کمیٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ڈاکٹر شاہنواز کو جعلی پولیس مقابلے میں مارا گیا جس سے عوام میں غم و غصہ پیدا ہوا اور انہوں نے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

    قتل کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کی لاش کو جلانے کی کوشش کی گئی اور لاش کی بے حرمتی نے عوام کو مزید مشتعل کردیا اور ان واقعات کے بعد عمرکوٹ میں تعزیرات پاکستان، انسداد دہشت گردی ایکٹ اور 2022 کے دوران حراست تشدد اور موت کی روک تھام و تحفظ کے ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔27 ستمبر 2024 کو ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کے خاندان نے مبینہ طور پر واقعے میں ملوث پولیس افسران کے خلاف قتل، اغوا اور دوران حراست تشدد کے الزامات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی اور اب بڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر محکمہ داخلہ سندھ اب ذمہ دار اہلکاروں کے احتساب اور انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے عدالتی تحقیقات پر مصر ہے۔محکمہ داخلہ نے استدعا کی کہ حقائق کا پتا لگانے اور سوگوار خاندان کو انصاف کی فراہمی کے لیے معاملے کی ہائی کورٹ کے موجودہ جج سے انکوائری کرائی جائے۔

    ڈاکٹر شاہنواز کنبھر کا جعلی پولیس مقابلے میں قتل

    واضح رہے کہ 19 ستمبر کو ڈاکٹر شاہ نواز کے خلاف عمرکوٹ پولیس نے مبینہ طور پر مذہبی جماعتوں کے احتجاج کے بعد فیس بک پر ’گستاخانہ مواد‘ پوسٹ کرنے پر تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔اس تمام واقعے سے ایک دن قبل ڈاکٹر شاہ نواز نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو بیان جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے اور وہ گستاخانہ مواد شیئر کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔اس کے بعد اطلاعات سامنے آئی تھیں ملزم کراچی فرار ہو گیا ہے لیکن عمرکوٹ پولیس نے اسے گرفتار کر کے میرپورخاص منتقل کردیا جہاں مبینہ طور پر اسے سندھڑی پولیس نے ایک ’انکاؤنٹر‘(پولیس مقابلے) میں ہلاک کر دیا تھا۔سندھڑی کے ایس ایچ او نیاز کھوسو نے ملزم کے قتل کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ ڈاکٹر نے ’ساتھیوں‘ کے ساتھ مل کر پولیس پر فائرنگ کی، انہوں نے دعویٰ کیا کہ جوابی کارروائی میں ملزم کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا جبکہ اس کا مبینہ ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔تاہم ڈاکٹر شاہنواز کے اہلخانہ نے اسے جعلی پولیس مقابلہ قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا تھا اور حکام سے انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔واقعے کے ایک ہفتے بعد وزیر داخلہ سندھ ضیاالحسن نے پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ عمر کوٹ میں ڈاکٹر شاہ نواز کو جعلی پولیس مقابلہ میں مارا گیا اور مقابلے میں ملوث اہلکاروں کو معطل کردیا گیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انکوائری میں الزام درست ثابت ہونے پر اہلکاروں کو معطل کیا گیا اور یہ ایک جعلی پولیس مقابلہ تھا جب کہ متاثرین جسے ذمہ دار قرار دیں گے اس کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائےگی۔اس کے بعد ڈاکٹر شاہنواز کے قتل کا مقدمہ درج کر کے اس میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی ، ایس ایس پی چوہدری اسد اور دیگر کو نامزد کیا گیا تھا۔

    طالبہ مبینہ زیادتی احتجاج، گجرات میں تشدد سے کالج کا گارڈ جاں بحق

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

  • کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    کراچی میں سڑکوں سے تجاوزات ختم کرنے کیلئے ٹاسک فورس قائم

    آج ہی دس سے پندرہ روڈ بتائیں، وہاں سے تجاوزات کے خاتمے کی ڈیڈلائن دیں، وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے ٹاسک فورس کو ٹاسک دے دیا۔

    اعلی سطح اجلاس کے دوران مراد علی شاہ کا کراچی کے انفرا اسٹرکچر کی خراب صورتحال پر تشویش کا اظہار، کہا کہ جاری ترقیاتی منصوبے، تباہ حال سڑکیں، نکاسی کے مسائل ، غیرقانونی پارکنگ اور بیہنگم تجاوزات شہر میں ٹریفک جام کی بڑی وجوہات ہیں۔وزیر بلدیات سعید غنی کی زیر قیادت ٹاسک فورس کو متاثرہ علاقوں میں فوری کارروائی کا حکم دے دیا۔ مراد علی شاہ نے نشاندہی کی کہ نشے کے عادی افراد پبلک انفرا اسٹرکچر کو نقصان پہنچاتے ہیں، نشئی افراد لوہا، اسٹریٹ لائٹس کے کھمبے اور دیگر سامان اکھاڑ کر لے جاتے ہیں جس سے عوامی مقامات برباد ہو رہے ہیں۔وزیراعلی سندھ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پلوں کے نیچے اور جھگیوں سے نشے کے عادی تمام افراد کو ہٹایا جائے۔

    پلوں کے لوہے اور اسٹریٹ لائٹس کی چوری سے نہ صرف وہ شہر کو بدصورت بنا رہے ہیں بلکہ ہماری ترقیاتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ایسی چوریاں روکنے کیلیے سول ادارے مستعدی کا مظاہرہ کریں ۔ اجلاس میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر رشید سولنگی نے وزیراعلی کو بتایا کہ ان کی ہدایت کے مطابق تمام معاملات کی منظوری کیلیے کیو آر کوڈ کا اجرا کردیا گیا ہے۔اس وقت 425 زیر تعمیر عمارتوں میں سے 201 کو کیو آر کوڈ کے ذریعے پرمٹ جاری کیے گئے ہیں جس سے نگرانی اور نظم کے معاملات مزید بہتر ہوں گے۔ کیو آر کوڈ کی مدد سے منظوری کی تاریخ، اشتہار کا این او سی ، منصوبے کی ابتدا اور تکمیل کی تاریخ، منزلوں کی تعداد ، بلڈر کا نام، آرکیٹیکٹ، ٹھیکیدار، فلیٹ یا دکان کے پتے سمیت اس لاگت کی تفصیلات معلوم کی جا سکتی ہیں۔ وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ ایس بی سی اے نے ضلع جنوبی میں ایسی 25 کمرشل عماتوں کا پتہ لگایا ہے جن میں کار پارکنگ کی منظوری دی گئی تھی لیکن مالکان نے وہاں غیرقانونی طور پر گودام بنا رکھے ہیں۔ کمشنر اور ایڈیشنل آئی جی پولیس کی مدد سے چھ کار پارکنگ کو بحال کیا گیا ہے۔ تین عمارتوں کو سیل کردیا گیا ہے جبکہ باقی کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔
    ایس بی سی اے سربراہ نے وزیراعلی کو یہ بھی بتایا کہ غیرقانونی تعمیرات کے خلاف 1210 چھاپے مارے گئے ہیں۔ کئی عمارتوں کو سیل کیا گیا ہے جن میں سے 16 لیاری میں ہیں۔ اس موقع پر وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ غیرقانونی طور پر کوئی عمارت تعمیر نہ ہو اور منظوری ٹھوس بنیادوں پر دی جائے۔ مراد علی شاہ نے ہدایت کی کہ زیر تعمیر عمارتوں کا ملبہ سروس روڈز پر ڈالنے کی اجازت نہ دی جائے اور احکامات کی خلاف ورزی کرنے والی عمارتوں کو سیل کردیا جائے۔ریڈلائن کے بارے میں وزیراعلی سندھ کو بتایا گیا کہ گلشن اقبال میں بی آر ٹی ریڈلائن کے ترقیاتی کام کی وجہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ ہے۔ سیکریٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن نے وزیراعلی کو بتایا کہ حسن اسکوائر سے ٹینک چوک تک بی آر ٹی ریڈ لائن کی تعمیر کا کام تیز کردیا گیا ہے۔ وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ ریڈ لائن بی آر ٹی کو اس سال دسمبر یا جنوری 2025 تک مکمل کیا جائے۔
    انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت کی کہ حسن اسکوائر سے آگے تک سروس روڈ سے تجاوزات ہٹا کر ٹریفک کی روانی کو یقینی بنایا جائے۔وزیراعلی سندھ نے تجاوزات کے خاتمے کیلیے وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی، کمشنر اور متعلقہ حکام پر مشتمل کمیٹی بنادی اور انہیں ہدایت کی کہ کل تک دس سے پندرہ روڈز شاہراہوں کی نشاندہی کریں اور پھر پیدل چلنے کے مقامات ، گرین بیلٹس ، گلیوں اور فٹ پاتھوں پر تجاوزات کے خلاف آپریشن کا آغاز کریں۔
    وزیراعلی سندھ نے بڑی شاہراہوں پر تجاوزات کے خلاف برداشت نہ کرنے کی پالیسی اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کے ایم ایم سی اور ٹانز تجاوزات کے خاتمے کے سلسلے میں رابطے کو یقینی بنائیں۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ ایک بار ہٹائی جانے والی تجاوزات کو دوبارہ لگنے نہ دیا جائے۔ وزیراعلی سندھ نے گرین بیلٹس کی بحالی پر بھی زور دیا اور کہا کہ بینکوں اور اسپتالوں کے باہر پڑے جنریٹرز کو بھی ان کی حدود میں منتقل کردیا جائے۔
    اجلاس میں وزیر بلدیات سعید غنی، میئر کراچی مرتضی وہاب، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ اور دیگر اہم حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر شہر میں ترقیاتی کاموں کی حکمت عملی اور غیرقانونی کاموں کو روکنے پر غور کیا گیا ۔ اجلاس کے دوران سڑکوں کے کٹا پر بھی سیر حاصل گفتگو کی گئی خاص طور پر لیاری کے روڈ زیر بحث آئے جن کیلیے فنڈز کی فراہمی کے باوجود سڑکوں کی مرمت اور بحالی کا کوئی کام نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں استرکاری کا کام جلد خراب ہوگیا اور سڑکیں مزید تباہ ہوگئیں۔
    یہ بھی نوٹ کیا گیا کہ حکام کے درمیان حدود کے نتازعے کے باعث بھی معاملات مزید خراب ہو رہے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے ہدایت کی کہ روڈ کٹنگ کیلیے شرائط ترتیب دی جائیں اور یہ ضابطہ بنایا جائے کہ نئی سڑک بننے کے بعد دو سال تک روڈ کٹنگ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ غیرضروری کھدائی کو روکنے کیلیے دوگنا معاوضے اور سڑک کی بحالی کے الگ اخراجات وصول کرنے کا قانون بھی متعارف کرایا جائے۔
    وزیراعلی نے یہ بھی فیصلہ کیا کہ روڈ کٹنگ کی اجازت دینے کیلیے ایک مرکزی اتھارٹی بنائی جائے جو روڈ کنٹنگ کی اجازت دینے کی فیس وصول کرے اور پھر واپس ٹان کو دے دے۔ غیرقانونی پارکنگ کے بارے میں بات کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ نے مصروف شاہراہوں پر ٹریفک کے دبا کو کم کرنے اور گاڑیوں کی روانی یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ اس بات کی نشاندہی کی گئی کہ بڑی عمارتوں میں پارکنگ کی جگہ پر قبضے کی وجہ سے باہر پارکنگ لین لگنے سے ٹریفک کی صورتحال خراب ہو رہی ہے۔
    وزیراعلی سندھ نے ہدایت کہ کہ اس بات یو یقینی بنایا جائے کہ بڑی عماتوں کی پارکنگ کی جگہ سو فیصد استعمال کی جائے۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ وہ ایس بی سی اے کی مدد سے ایسے پلازوں کی نشاندہی کریں جہاں پارکنگ ایریاز دوسرے استعمال میں لائی گئی ہیں۔ مراد علی سشاہ نے انتظامیہ اور پولیس کو ہدایت کی کہ وہ ٹریفک پولیس کے ساتھ مل کر غیرقانونی پارکنگ کا خاتمہ کریں۔
    وزیراعلی سندھ نے ہدایت کہ کہ مصروف شاہراہوں پر رش کے اوقات میں پارکنگ پر مکمل پابندی لگائی جائے۔ اس مہم سے عوام کو آگاہی دینے اور پبلک سپورٹ کیلیے میڈیا مہم شروع کی جائے۔ اجلاس کے دوران وزیراعلی سندھ نے عمارتوں کی چھتوں پر بڑے اشتہاری بورڈز سے پیدا ہونے والے سیکیورٹی معاملات پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کیلیے تھرڈ پارٹی سرٹفکیشن پر عملدرآمد کیا جائے۔
    انہوں نے اس سلسلے میں چیف سیکریٹری کو ریگولیٹری فریم ورک تشکیل دینے کی بھی ہدایت کردی۔ اجلاس میں کے ایم سی، ٹان اور ڈی سی آفسز میں ڈومیسائل، برتھ اور ڈیتھ سرٹیفکیٹس سمیت عوامی خدمات کی بہتری پر بھی غور کیا گیا۔ اس موقع پر برتھ رجسٹریشن کے عمل کو بہتر کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا اور رجسٹریشن فیس ختم کرنے کی بھی تجویز دی گئی۔ وزیراعلی سندھ مراد عی شاہ نے عوام کو رجسٹریشن کی ترغیب دینے کیلیے برتھ سرٹیفکیٹس کی فیس ختم کرنے کی ہدایت کردی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ کے ایم سی، ٹانز ، یوسیز اور ڈی سی آفسز میں ڈومیسائل اور پی آر سی جیسے کاغذات کے آسان حصول کیلیے رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنایا جائے۔

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

    ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

  • ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

    ہنی ٹریپ کرنے والی کچے کے ڈاکوؤں کی رکن خاتون پکڑی گئی

    کراچی پولیس نے مردوں کو ہنی ٹریپ کرکے کچے کے ڈاکوؤں کے حوالے کرنے والی خاتون کو گرفتار کرلیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) نے کچے کے ڈاکوؤں کی مبینہ سہولت کار خاتون ملزمہ کو شہر قائد کے علاقہ سہراب گوٹھ سے حراست میں لیا.

    اس مقصد کے لیے عمل میں لائی گئی کارروائی کے دوران سہراب گوٹھ سے شہریوں کو شادی کا جھانسہ دے کر کشمور، کندھ کوٹ، شکارپور اور گھوٹکی بھیجنے والی خاتون ملزمہ پکڑی گئی۔بتایا گیا ہے کہ کراچی سے گرفتار کی جانے والی مزکورہ خاتون ملزمہ خود کو کچے کے ڈاکوؤں کے سربراہ بڈیل خان کی بیوی بتاتی ہے، ملزمہ کی مدد سے ڈاکو شہریوں کو کچے کے علاقہ میں لے جا کر ان سے تاوان طلب کرتے تھے، ملزمہ سے ہنی ٹریپ میں استعمال ہونے والی سم بھی برآمد کرلی گئی۔سندھ کے ضلع گھوٹکی کے ایس ایس پی تنویر تنیو نے بتایا کہ کچے سے باہر کے اردگرد کے علاقوں کو پولیس نے کافی حد محفوظ بنا لیا ہے اور یہاں رہنے والے ڈاکوؤں کے لیے اب اپنے علاقے سے باہر جا کے اغوا کی واردات کرنا ذرا مشکل ہو چکا ہے لہذا اب انہوں نے کارروائیوں کے لیے ہنی ٹریپ کی تکنیک استعمال کرنا شروع کر دی ہے، یہ اغوا کار انجان نمبرز پر کال ملا کر فون اٹھانے والے بندے کو اپنے جال میں پھنساتے ہیں، ان کی باتوں میں پھنسنے والا آدمی جیسے ہی ملاقات کے لیے پہنچتا ہے تو مسلح افراد اس کو اغوا کر لیتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ تفتیش کے دوران یہ بھی سامنا آیا کہ سوشل میڈیا پر ان کے پیج بنے ہوئے ہیں جہاں وہ خوبصورت لڑکیوں کی تصاویر اپ لوڈ کرتے رہتے ہیں، ان تصاویر کے جھانسے میں آ کر بھی لوگ پھنس جاتے ہیں اور یوں اغوا ہو جاتے ہیں، سندھ میں ہنی ٹریپ کا شکار لوگ کم ہوتے ہیں، اب ان کا شکار زیادہ تر خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے لوگ بنتے ہیں، یہ لوگ لڑکی کے علاوہ لوگوں کو سستی سکیموں کا بھی جھانسہ دیتے ہیں، لوگوں کو سستے ٹریکٹر، سستی گاڑی اور دیگر مشینری کا لالچ دے کر بلایا جاتا ہے اور اغوا کر لیا جاتا ہے جہاں سے ان کو کچے کے علاقوں میں لے جاتے ہیں اور پھر بھاری تاوان کے عوض ہی ان کے چنگل سے آزاد ہوتے ہیں۔

    ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

    سندھ میں میٹرک اور انٹر میں گریڈنگ پالیسی متعارف

  • ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

    ایم کیو ایم وفد کی علی خورشیدی کی قیادت میں مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے وفد نے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کی قیادت میں لیاقت علی خان کی 73 ویں یوم شہادت کے موقع پر مزارِ لیاقت علی خان پر حاضری دی اور فاتحہ خوانی کی.

    ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے لیاقت علی خان کے تہترویں یومِ شہادت پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا اس موقع پر اپوزیشن لیڈر سندھ اسمبلی علی خورشیدی کاس کہنا تھا کہلیاقت علی خان نے جان، مال اور اسباب وطن پر قربان کرکے تاریخ میں خود کو امر کیا، لیاقت علی خان کی قربانیاں قوم کے لیے مشعلِ راہ ہیں.لیاقت علی خان کے قتل کے محرکات سامنے نہ آنا المیہ ہے، ہمیں ترقی پسند پاکستان کے لیے لیاقت علی خان کے وژن پر عمل کرنا ہوگا، لیاقت علی خان کے نظریات سے اتحاد اور ترقی کا سبق لینا ہوگا، لیاقت علی خان کی جدوجہد آج بھی ہماری رہنمائی کا ذریعہ ہے.

    واضح رہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم شہیدِ ملّت لیاقت علی خان کی 73 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔لیاقت علی خان یکم اکتوبر 1896 کو ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے تھے۔انہوں نے ابتدائی تعلیم گھر سے جبکہ 1918 میں ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کی. بعد ازاں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔1923 میں ہندوستان واپس آکر لیاقت علی خان نے سیاسی میدان میں قدم رکھنے کا فیصلہ کیا اور مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی۔وہ 1946 میں مسلم لیگ کے سیکریٹری جنرل بنے جبکہ قائد اعظم کے دست راست بھی رہے. قیام پاکستان کی جدوجہد میں بابائے قوم کا بھرپور ساتھ نبھایا۔1948 میں قائد اعظم کی وفات کے بعد وہ ملک کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر قوم کے نگہبان بنے۔16اکتوبر 1951 کو ایک جلسے کے دوران قائدِ اعظم کے معتمد اور نہایت قریبی ساتھی اور ملک کے پہلے وزیرِاعظم کو شہید کردیا گیا تھا۔

    ایس سی او اجلاس،پاکستان کا اعزاز،تجاویز منظورکی گئیں،اسحاق ڈار

    سندھ میں میٹرک اور انٹر میں گریڈنگ پالیسی متعارف