Baaghi TV

Category: کراچی

  • عمر کوٹ کے ڈاکٹر شاہ نواز  قتل: ڈی آئی جی جاوید جسکانی اور دیگر افسران کے خلاف مقدمہ درج

    عمر کوٹ کے ڈاکٹر شاہ نواز قتل: ڈی آئی جی جاوید جسکانی اور دیگر افسران کے خلاف مقدمہ درج

    عمر کوٹ سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر شاہ نواز کنبھار کے جعلی پولیس مقابلے میں قتل کا مقدمہ ڈی آئی جی جاوید جسکانی، ایس ایس پی چودھری اسد، ایس ایس پی آصف رضا بلوچ، اور مولوی عمر جان سرہندی سمیت دیگر پولیس اہلکاروں کے خلاف درج کرلیا گیا ہے۔ سندھڑی، ضلع میرپور خاص کے پولیس اسٹیشن میں یہ مقدمہ سرکاری مدعیت میں درج کیا گیا، جس نے سندھ بھر میں ایک اہم قانونی اور انسانی حقوق کے بحران کو مزید اجاگر کیا۔اس مقدمے کا پس منظر سندھ کے وزیر داخلہ ضیاء الحسن لنجار کی پریس کانفرنس سے جڑا ہے، جس میں انہوں نے انکشاف کیا کہ ڈاکٹر شاہ نواز کو عمر کوٹ میں توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے کے بعد جعلی پولیس مقابلے میں قتل کیا گیا تھا۔ کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے واضح کیا کہ پولیس اہلکاروں پر جعلی مقابلے میں ملوث ہونے کا الزام تھا، اور اس الزام کی تصدیق ہونے پر اہلکاروں کو معطل کردیا گیا۔

    وزیر داخلہ کے مطابق، وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر ڈاکٹر شاہ نواز کے قتل کی تحقیقات کے لیے ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے واقعے کی تفصیلات کا جائزہ لیا۔ تحقیقات کے دوران سی سی ٹی وی فوٹیج کا بھی جائزہ لیا گیا، اور مکمل تحقیقات کے بعد وزیرِاعلیٰ کو 31 صفحات پر مشتمل رپورٹ پیش کی گئی۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ڈاکٹر شاہ نواز کو پہلے کراچی سے گرفتار کرکے میرپور خاص پولیس کے حوالے کیا گیا تھا، جہاں پولیس نے انہیں حراست میں قتل کیا اور بعد ازاں اسے جعلی مقابلے کا رنگ دینے کی کوشش کی۔اس واقعے کے بعد، سندھڑی تھانے میں پریس کانفرنس کے دوران ڈاکٹر شاہ نواز کے وکلا کی دس رکنی ٹیم نے مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع کرائی تھی۔ اس موقع پر بیرسٹر اسداللہ شاہ راشدی کی قیادت میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے وکلا موجود تھے، جنہوں نے پولیس پر الزام لگایا کہ ڈاکٹر شاہ نواز کو تحویل میں لے کر قتل کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2022 میں ایک قانون منظور ہوا تھا جس کے تحت جوڈیشل کسٹڈی میں ہونے والے قتل کی انکوائری ایف آئی اے کرتی ہے۔

    وکلا کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست میں ڈی آئی جی جاوید جسکانی، ایس ایس پی چودھری اسد، ایس ایس پی آصف رضا بلوچ، مولوی عمر جان سرہندی، ڈی آئی بی انچارج دانش بھٹی، سب انسپکٹر ہدایت اللہ ناریج اور دیگر پولیس اہلکاروں کو نامزد کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیس کی مکمل حقیقت قبر کشائی کے بعد ہی سامنے آسکے گی۔
    یہ واقعہ ماورائے عدالت ہلاکتوں کے سلسلے کا ایک اور افسوسناک باب ہے، جس نے انسانی حقوق کے گروپوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یہ ہلاکت 20 ستمبر 2024 کو سندھ کے علاقے عمر کوٹ میں ہوئی، جہاں پولیس نے دعویٰ کیا کہ توہین مذہب کے الزام کا سامنا کرنے والے ڈاکٹر شاہ نواز کو مبینہ پولیس مقابلے میں مار دیا گیا۔ یہ ایک ہفتے میں پیش آنے والا دوسرا واقعہ تھا جسے پولیس مقابلے کا نام دیا گیا۔

    مقامی پولیس کے سربراہ نیاز کھوسو کے مطابق، پولیس نے بدھ کی رات موٹر سائیکل پر سوار دو افراد کو رکنے کا اشارہ کیا تھا، تاہم وہ نہ رکے اور پولیس پر فائرنگ شروع کردی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ڈاکٹر شاہ نواز موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ دوسرا شخص فرار ہوگیا۔ نیاز کھوسو نے دعویٰ کیا تھا کہ فائرنگ کے تبادلے کے بعد ہی معلوم ہوا کہ مقتول وہی ڈاکٹر تھا جسے توہین مذہب کے الزام میں ڈھونڈا جارہا تھا۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں مقامی علما کو پولیس افسران پر گلاب کی پتیاں نچھاور کرتے اور ڈاکٹر شاہ نواز کی ہلاکت پر ان کی تعریف کرتے دیکھا گیا، جس سے اس معاملے کی حساسیت اور تنازع میں اضافہ ہوا۔

    مقامی افراد نے نہ صرف مقتول کی تدفین میں رکاوٹ ڈالی، بلکہ ان کی لاش کو آگ لگادی گئی
    ۔ بعدازاں اہل خانہ نے مجبوری کے تحت بیابان میں ان کی تدفین کی۔ اس واقعے کے بعد وزیر داخلہ ضیاء لنجار نے کہا کہ انکوائری میں یہ ثابت ہوگیا کہ یہ پولیس مقابلہ نہیں تھا، بلکہ ایک منصوبہ بند قتل تھا۔ ضیاء لنجار نے مزید کہا کہ ایس ایس پی میرپور خاص کو معطل کردیا گیا ہے، اور سپریم کورٹ کی ججمنٹ کے مطابق ایک واقعے کا ایک ہی مقدمہ ہوگا، جس میں ڈی آئی جی سمیت دیگر اہلکار ملوث پائے گئے ہیں۔ انکوائری رپورٹ کے مطابق، ڈاکٹر شاہ نواز کو جان بوجھ کر قتل کیا گیا تھا اور بعد میں اسے پولیس مقابلے کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی گئی۔ یہ مقدمہ سندھ میں پولیس کے نظام پر بڑے سوالات کھڑے کرتا ہے، جس میں جعلی مقابلوں اور ماورائے عدالت ہلاکتوں کا مسئلہ ایک سنگین صورت اختیار کرگیا ہے۔

  • وزیراعلیٰ سندھ کی ملیر ایکسپریس وے فیز 1  آئندہ ماہ کھولنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ کی ملیر ایکسپریس وے فیز 1 آئندہ ماہ کھولنے کی ہدایت

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات کو ملیر ایکسپریس وے پر کام مکمل کرنے کی ہدایت کردی تاکہ پہلے مرحلے کو آئندہ ماہ تک ٹریفک کےلیے کھول دیا جائے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے یہ احکامات وزیراعلیٰ ہاؤس میں جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران جاری کیے۔ اجلاس میں وزیر مںصوبہ بندی و ترقیات ناصر حسین شاہ، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ ، سیکریٹری توانائی مصدق خان، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات نجم شاہ، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی ، وزیراعلیٰ کے سیکریٹری رحیم شیخ اور پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ یونٹ کے سی ای او اسد ضامن نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ پاکستان بھر کے شہری ملازمت کی تلاش، کاروباری مواقع اور رہائش کی غرض سے کراچی کا رخ کرتے ہیں اس لیے شہری کی آبادی میں بڑے پیمانے پر اضافہ ہوگیا ہے۔ آبادی میں بےپناہ اضافے کے باعث ٹریفک کا دباؤ بڑھ گیا ہے اور شہر کی بڑی شاہراہوں پر ٹریفک جام کے واقعات عام ہوگئےہیں۔ شہریوں کو وقت اور پٹرول کے ضیاع جیسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شور اور دھویں کے باعث ماحولیاتی آلودگی اور حادثات بھی بڑھ رہے ہیں۔

    70ارب روپے سے شہر میں نیا انفرا اسٹرکچر بنایا جائے گا: مئیر کراچی

    مراد علی شاہ نے کہا کہ کراچی میں دو بندرگاہیں ہیں جہاں سے بڑی گاڑیوں میں تیل اور دیگر برآمدی اشیا باقی ملک کو سپلائی کی جاتی ہیں جس کے باعث سپر ہائی وے اور نیشنل ہائی وے سے پہلے شہر کی سڑکوں پر ہیوی ٹریفک کا دباؤ الگ آتا ہے۔ اس صورتحال کو مدںظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ نے مختصر متبادل راستے کے ذریعے شہر کو موٹروے سے جوڑنے کا فیصلہ کیا۔ جانچ پڑتال کے بعد حکومت نے فیصلہ کیا کہ ملیر ندی کے دائیں کنارے پر پچاس کلومیٹر طویل چھ رویہ ایکسپریس وے قائم کیا جائے جو قیوم آباد کے قریب کے پی ٹی انٹرچینج سے شروع ہو کر کاٹھوڑ کے مقام پر ایم 9 موٹروے سے ملے۔ جام صادق پل سے شروع ہونے والے ملیر ایکسپریس وے پر تین پل اور ایک انڈرپاس ہوگا۔

    وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ جام صادق پل سے قائد آباد تک 15 کلومیٹر کا پہلا حصہ 85 فیصد مکمل کرلیا گیا ہے۔ قائدآباد سے کاٹھوڑ تک 38 کلومیٹر پر مشتمل دوسرے حصے پر 35 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے وزیر منصوبہ بندی و ترقیات ناصر حسین شاہ کو ہدایت کی کہ وہ ملیر ایکسپریس وے پر قائدآباد پل، شاہ فیصل انٹرچینج اور ای بی ایم انٹرچینج پر کام کی خود نگرانی کریں تاکہ ملیر ایکسپریس وے کا پہلا حصہ آئندہ ماہ کے آخر تک ٹریفک کےلیے کھول دیا جائے۔ وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا گیا کہ ملیر ایکسپریس وے کے کناروں اور سلوپ کے کام کو باقاعدہ اچھے طریقے سے سرانجام دیا گیا ہے۔

  • سید ذوالفقارعلی شاہ کی بطور چیئرمین انٹربورڈ کراچی تعیناتی غیرقانونی قرار

    سید ذوالفقارعلی شاہ کی بطور چیئرمین انٹربورڈ کراچی تعیناتی غیرقانونی قرار

    سندھ ہائیکورٹ نے چیئرمین اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی سید ذوالفقار علی شاہ کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ سندھ حکومت اور متعلقہ اتھارٹی کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں تھا، جس کے تحت مدعا علیہ کو سروسز ڈپارٹمنٹ کی ریکوزیشن کے تحت اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں تعینات کیا گیا۔عدالت عالیہ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ سید ذوالفقار علی شاہ کی تعیناتی بذریعہ ڈیپوٹیشن غیر قانونی ہے۔ عدالت عالیہ نے چیئرمین اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی و میر پور خاص سید ذوالفقار علی شاہ کی تعیناتی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سروسز ڈپارٹمنٹ کے ریکوزیشن آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا۔عدالت عالیہ نے سید ذوالفقار علی شاہ کو ان کے اصل محکمے میں واپس بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آگئی

    ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ کنٹرولنگ اتھارٹی کے پاس قانون کے تحت سرچ کمیٹی کی سفارشات جو مسابقتی طریقہ کار کے تحت کی گئی ہو چیئرمین، سیکریٹری اور کنٹرولر کو تعینات کرنے کا اختیار ہے، جبکہ 1972 کے آرڈیننس میں یہ نہیں کہا گیا کہ کنٹرولنگ اتھارٹی کے پاس وفاقی حکومت کے افسر کو براہ راست ریکوزیشن کے تحت تبادلہ کروا سکے۔واضح رہے کہ ذوالفقار علی شاہ بیک وقت چیئرمین انٹربورڈ کراچی اور میرپور خاص میں تعینات تھے۔

  • آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کراچی کا دورہ: آئی ٹی پارک کا افتتاح، معاشی ترقی پر زور

    آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کا کراچی کا دورہ: آئی ٹی پارک کا افتتاح، معاشی ترقی پر زور

    کراچی : آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کراچی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک فوج کی آپریشنل تیاریوں اور تربیتی امور پر بریفنگ لی۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف کو فوج کی موجودہ آپریشنل تیاریوں، دفاعی حکمت عملی اور تربیتی منصوبوں کے بارے میں جامع بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر مختلف اعلیٰ فوجی افسران بھی موجود تھے۔آرمی چیف کے دورے کا ایک اہم پہلو انووسٹا انڈس آئی ٹی پارک کا افتتاح تھا۔ اس تقریب میں وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سمیت دیگر اعلیٰ سرکاری اور فوجی شخصیات نے شرکت کی۔ آئی ٹی پارک کا افتتاح کراچی کی نوجوان نسل کو جدید ٹیکنالوجی کے میدان میں معیاری تربیت فراہم کرنے کی ایک اہم کوشش ہے، جو مستقبل میں ملک کی معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایسے منصوبے پاکستان کی آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کرتے ہیں، جو ملک کی اقتصادی ترقی میں مددگار ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرے میں مایوسی پیدا کرنے کی کوششوں کو اجتماعی محنت اور کوششوں کے ذریعے شکست دی جا چکی ہے، اور ایسے اقدامات ملک میں مثبت معاشی تبدیلیوں کے اشاریے ہیں۔

    اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانے اور معاشی ترقی کے لیے آئی ٹی کے شعبے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آئی ٹی پارک نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے ایک نیا سنگ میل ثابت ہوگا، اور یہ نوجوانوں کو مستقبل کی ڈیجیٹل معیشت میں بہتر مواقع فراہم کرے گا۔
    آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے کراچی کی تاجر برادری کے ساتھ ملاقات بھی کی، جس میں ملک کی اقتصادی ترقی میں کاروباری برادری کے کردار پر بات چیت ہوئی۔ جنرل عاصم منیر نے تاجروں کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ کاروباری طبقہ ملک کی معیشت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے اور حکومت کی جانب سے تمام تر سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ معاشی اشاریے مزید بہتر ہوں۔ آرمی چیف نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی جانب سے معاشی ترقی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کیے گئے اقدامات کی تعریف کی اور زور دیا کہ ایسی مشترکہ کوششیں ہی ملک کی معاشی ترقی کو آگے بڑھا سکتی ہیں۔

    شرکاء نے تقریب میں اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے کردار کی تعریف کی، جس کا مقصد ملکی معیشت کو بہتر کرنا اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو فروغ دینا ہے۔ آرمی چیف نے اس موقع پر وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ معاشی ترقی کے لیے مشترکہ اقدامات ناگزیر ہیں۔یہ دورہ ملک میں آئی ٹی انڈسٹری کے فروغ اور معاشی استحکام کے لیے پاک فوج کے عزم کی عکاسی کرتا ہے، جو نہ صرف دفاعی معاملات میں بلکہ ملک کی اقتصادی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔

  • 70ارب روپے سے شہر میں نیا انفرا اسٹرکچر بنایا جائے گا: مئیر کراچی

    70ارب روپے سے شہر میں نیا انفرا اسٹرکچر بنایا جائے گا: مئیر کراچی

    کراچی کے میئر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ ہم روزگار دینا چاہتے ہیں نوکریوں کا اعلان کیا ہے، 70 ارب روپے کی لاگت سے شہر میں نیا انفرااسٹرکچر بنایا جائے گا.

    باغی ٹی وی کراچی کی رپورٹ کے مطابق میئر کراچی مرتضی وہاب کراچی واٹر کارپوریشن آفس پہنچے، جہاں انہوں نے سینٹر آف ریفارم ریسرچ اینڈ انوویشن کا سنگِ بنیاد رکھا۔اس موقع پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ پارٹی چیئرمین نے وعدہ کیا تھا کہ پانی و سیوریج کے مسائل حل کریں گے، ناصرف پائپ ڈالے جائیں گے بلکہ سڑکیں بھی تعمیر کریں گے، حب ڈیم سے نئی کنال پر 13 ارب روپے کی لاگت سے کام شروع کر دیا ہے، 12 ماہ میں حب ڈیم سے دو سو ملین گیلن پانی آئے گا۔آئین کو تبدیل کرنے کا حق پارلیمان کا ہے، مجھے لگ رہا ہے کہ معاملے کو سیاسی بنایا جا رہا ہے، امید کرتا ہوں کہ پارلیمان قانون سازی کرتی رہے گی، ایم کیو ایم عدالت گئی، جسے عدالت نے اسٹے دے دیا، مولانا فضل الرحمن بھی آئینی عدالت پر اتفاق کرتے ہیں، مولانا صاحب کے ساتھ خدوخال پر بات چل رہی ہے۔

    بلوچستان سےہزاروں کلو چھالیہ کراچی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    مرتضی وہاب نے کہا کہ کراچی واٹر اینڈ سیوریج ایمپرومنٹ پروجیکٹ میں سنگِ میل عبور کیے ہیں، یہ کراچی کے پانی اور سیوریج کو بہتر کرنے کا پہلا منصوبہ ہو گا، ریسرچ سینٹر سے ادارے کو بہتری لانے کا مزید موقع ملے گا۔انہوں نے کہا کہ کراچی میں 29 کلورینیشن سینٹر ہیں،31 دسمبر تک یہ سینٹر کام کرتے دکھائی دیں گے، شہر میں پانی کی کمی ہے، لائنوں میں لیکیج تھی، پمپنگ اسٹیشنز پر بجلی کی لوڈ شیڈنگ بھی کی جا رہی ہے۔ دھابیجی اور پپری میں کام چل رہا ہے، مارچ 2025 تک ہو جائے گا، پہلے فیز میں 4333 رہائشی اور کمرشل کسٹمرز کے لیے میٹرز نصب کریں گے، کے فور اوگمینٹیشن کا لیٹر جاری ہو گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ضلع غربی، وسطی، اورنگی اور کیماڑی کے عوام مستفید ہوں گے، ساڑھے 2 کروڑ گیلن سیوریج کو صاف کر کے سمندر برد کر رہے ہیں، سیوریج کے مسائل کو حل کرنے کے لیے سڑکوں کی بھی مرمت ہو رہی ہے، شہر کی 106 شاہراہوں کا ذمے دار ہوں اور ان پر کام ہو رہا ہے۔

    میئر کراچی نے کہا کہ وزیرِ اعلی سندھ کو بتایا ہے کہ ٹائون کو کام کرنے کی ضرورت ہے، ملیر مرغی خانے کے پل کی وسعت اور مرمت ہو گی، دو ارب کی لاگت سے ایک نیا پل بنے گا اور پرانے پل کی بھی مرمت ہو گی، پارلیمانی سیاسی جماعتوں کے مابین بات چل رہی ہے۔مرتضی وہاب نے کہا کہ آئین کو تبدیل کرنے کا حق پارلیمان کا ہے، مجھے لگ رہا ہے کہ معاملے کو سیاسی بنایا جا رہا ہے، امید کرتا ہوں کہ پارلیمان قانون سازی کرتی رہے گی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایم کیو ایم عدالت گئی، جسے عدالت نے اسٹے دے دیا، مولانا فضل الرحمن بھی آئینی عدالت پر اتفاق کرتے ہیں، مولانا صاحب کے ساتھ خدوخال پر بات چل رہی ہے۔

  • بلوچستان سےہزاروں کلو چھالیہ کراچی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    بلوچستان سےہزاروں کلو چھالیہ کراچی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام

    بلوچستان سے 4 ہزار کلو چھالیہ کراچی اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ کراچی کی انسداد اسمگلنگ مہم کے تحت یومیہ بنیادوں پر کارروائیاں جاری ہیں، اسی سلسلے میں خفیہ اطلاع ملنے پر بھوسے سے لدے ٹرک سے اسمگل شدہ 4ہزار کلو گرام چھالیہ برآمد کرلی گئی۔کلکٹر کسٹمز باسط عباسی کے مطابق 40لاکھ روپے مالیت کی اسمگل شدہ چھالیہ بلوچستان سے کراچی منتقل کی جارہی تھی۔ ہمدرد چیک پوسٹ کے عملے نے ٹرک رجسٹریشن نمبر TKC012 کی تلاشی لی، جس میں سے چھالیہ برآمد ہوئی۔اسمگلنگ میں استعمال ہونے والے ٹرک کو ضبط کرکے مقدمہ درج کرلیا گیا ہے اور بشمول چھالیہ اے ایس او گودام منتقل کرکے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔’

    پاکستان کو آئی ایم ایف سے 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج کی پہلی قسط موصول

  • انصاف کی عدم فراہمی اور آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت ہے، ناصر حسین شاہ

    انصاف کی عدم فراہمی اور آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت ہے، ناصر حسین شاہ

    صوبائی وزیر توانائی ناصر حسین شاہ نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اہم قومی اور آئینی معاملات پر اپنی تشویش اور تجاویز کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو غلط سزا سنانے والوں کے خلاف آج تک کوئی ایکشن نہیں لیا گیا، جو انصاف کے نظام پر ایک سوالیہ نشان ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں مظلوم لوگ برسوں انصاف کے انتظار میں رہتے ہیں، لیکن انہیں مکمل انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، اور بھٹو کیس اس کی ایک واضح مثال ہے۔ 40 سال گزرنے کے باوجود بھٹو خاندان اور ان کے حامیوں کو آج تک انصاف نہیں ملا۔ناصر حسین شاہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ شہید بھٹو کے مقدمے میں جو غلط سزا دی گئی تھی، اس کے ذمے داروں کے خلاف آج تک کوئی کارروائی نہ ہونے سے انصاف کی عدم فراہمی کا تاثر ابھرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک قومی المیہ ہے کہ ایسے تاریخی فیصلوں پر بھی نظر ثانی نہیں کی گئی اور انصاف کا تقاضا پورا نہیں کیا گیا۔
    انہوں نے مزید کہا کہ آئینی عدالت کا قیام وقت کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے دنیا کے مختلف ممالک کی مثالیں دیں، جہاں آئینی عدالتیں موجود ہیں جو اہم قومی اور آئینی معاملات پر فیصلے کرتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ادارہ ایسا نہیں ہو سکتا جو حکومت کو جوابدہ نہ ہو، ہر ادارے کو آئین اور قانون کے تحت کام کرنا چاہیے۔وزیر توانائی نے اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ ملک اور آئینی اداروں کے بہتر مستقبل کے لئے جو بھی بات ہوگی، اس کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے اس توقع کا بھی اظہار کیا کہ مولانا فضل الرحمان ملک کے مفاد میں جو بھی بہتر ہوگا، اس میں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔
    ناصر حسین شاہ نے سنی اتحاد کونسل کی جانب سے مخصوص نشستوں کے لیے عدالت میں جانے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی درخواست کے باوجود یہ نشستیں تحریک انصاف کو دی گئیں۔ اس بات پر انہوں نے تحفظات کا اظہار کیا۔توانائی کے مسائل پر بات کرتے ہوئے، وزیر توانائی نے کہا کہ اوور بلنگ اور لوڈشیڈنگ کے مسائل پر کام جاری ہے، اور حکومت کی جانب سے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے مختلف منصوبے بنائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 100 سے 200 یونٹ والے صارفین کے لئے ایک خاص سولر اسکیم تیار کی گئی ہے، جس کے ذریعے انہیں سستی اور مستقل بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ ناصر حسین شاہ نے اس بات کا بھی انکشاف کیا کہ "سولر ہوم” کا دوسرا پروگرام جلد شروع کیا جائے گا، جس سے مزید لوگ فائدہ اٹھا سکیں گے اور توانائی کے بحران میں کمی آئے گی۔اپنے خطاب کے آخر میں انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ حکومت توانائی کے مسائل کے حل کے لئے تمام ممکنہ اقدامات کر رہی ہے، اور جلد ہی ملک میں بجلی کی فراہمی میں بہتری دیکھنے کو ملے گی۔

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی

    سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی

    کراچی: ملک بھر میں آج سونے کی فی تولہ قیمت میں معمولی کمی آئی ہے۔

    باغی ٹی وی : آل پاکستان جیمز اینڈ جیولر ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں سونے کی قیمت میں 300 روپے کی معمولی کمی آئی ہے جس کے بعد فی تولہ سونا 2 لاکھ 76 ہزار 700 روپے کا ہوگیا ہے اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 256 روپے کم ہونے کے بعد 2 لاکھ 37 ہزار 226 روپے میں فروخت ہو رہا ہے،دوسری جانب بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں دو ڈالرز کی کمی ہونے سے فی اونس قیمت 2663 ڈالرز ہو گئی ہے۔

    علاوہ ازیں قیمتی پتھروں اور زیورات کی برآمدات میں جاری مالی سال کے پہلے دوماہ میں سالانہ بنیادوں پر اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

    اسٹیٹ بینک اور پاکستان بیورو برائے شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمارکے مطابق مالی سال کے پہلے دوماہ (جولائی تااگست) میں قیمتی پتھروں کی برآمدات سے ملک کو 1.479 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا،یہ زرمبادلہ گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 137 فیصد زیادہ ہے، مالی سال 2024 کی اسی مدت میں قیمتی پتھروں کی برآمدات سے ملک کو 0.625 ملین ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا تھا۔

    اگست میں قیمتی پتھروں کی برآمدات کا حجم 0.464 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو جولائی میں 1.016 ملین ڈالر اور گزشتہ سال اگست میں 0.122 ملین ڈالر تھا،اعداد و شمار کے مطابق مالی سال کے پہلے دوماہ میں جیولری کی برآمدات کا حجم 2.362 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوگزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلہ میں 73 فیصد زیادہ ہے۔

    مالی سال 2024کی اسی مدت میں جیولری کی برآمدات سے ملک کو 1.367 ملین ڈالرزرمبادلہ حاصل ہواتھا، اگست میں جیولری کی برآمدات کا حجم 0.690 ملین ڈالر ریکارڈ کیا گیا جوجولائی میں 1.672 ملین ڈالر اور گزشتہ سال اگست میں 0.907 ملین ڈالر تھا۔

  • جے یوآئی سندھ کے انٹرا پارٹی الیکشن، مولانا ہالیجوی امیر منتخب

    جے یوآئی سندھ کے انٹرا پارٹی الیکشن، مولانا ہالیجوی امیر منتخب

    جمعیت علمائے اسلام صوبہ سندھ کے انٹرا پارٹی الیکشن کیلئے صوبائی جنرل کونسل کا اجلاس یہاں جامعہ حمادیہ منزل گاہ سکھر میں مرکزی ناظم انتخابات مولانا عطاء الحق درویش کی نگرانی میں منقعد ہوا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اجلاس میں اتفاق رائے سے اگلے پانچ سال کیلئے مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی امیر اور علامہ راشد محمود سومرو دوبارہ جنرل سیکریٹری منتخب ہوگئے۔جے یوآئی کے مرکزی ڈیجیٹل میڈیا سیل کے رکن مولانا سمیع الحق سواتی کے مطابق انٹرا پارٹی الیکشن انتہائی پرسکون ماحول میں منعقد ہوا اجلاس کا کورم مکمل تھا ، قبل ازیں سندھ کے تیس اضلاع میں ریکارڈ ممبر سازی ہوئی ، سندھ بھر میں چھ لاکھ ساٹھ ہزار مرد وخواتین نے جے یوآئی کے رکنیت فارم حاصل کئے ،سمیع سواتی کے مطابق صوبائی جنرل کونسل کے مجموعی ممبران کی تعداد 1100 تھی جن میں سے 965 اراکین جنرل کونسل نے اجلاس میں شرکت کی۔

    کراچی پولیس چیف کی صنعتکاروں کو سیکورٹی بہتر بنانے کی یقین دہانی

    علاوہ ازیں جے یوآئی کے اراکین نے الیکشن ہال میں پارٹی الیکشن عملے کے سامنے اتفاق رائے سے امیر و جنرل سیکریٹری کیلئے ووٹنگ کے عمل میں حصہ لیا اور مولانا عبدالقیوم ہالیجوی ، اور علامہ راشد محمود سومرو کو اگلے پانچ سال کیلئے اتفاق رائے سے امیر و جنرل سیکریٹری منتخب کرلیا۔ واضح رہے کے دونوں امیدواروں کے مقابلے میں ایوان سے کوئی نام پیش نہیں کیا گیا۔جس کے بعد مرکزی چیف الیکشن کمشنر مولانا عطاء الحق درویش نے اپنے معاونین محمد اسلم غوری، مولانا ناصر محمود ہزاروی ، مولانا ناصر محمود سومرو اور مولانا محمد صالح اندھڑ کے مشورے سے دونوں امیدواروں کی کامیاب کا اعلان کردیا۔

    بعد ازاں اراکین جنرل کونسل کا شکریہ ادا کرتے ہوئے نومنتخب امیر مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی اور علامہ راشد محمود سومرو کا اپنے خطاب میں کہنا تھا پارٹی کو دستور کے مطابق فعال کیا جائے گا اور تمام اضلاع کے دورے کرکے ازسرنو پارٹی کو منظم کریں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ سندھ کو باب الاسلام بناکر رہیں گے ، لبرل ، سیکولر اور لادین قوتوں کو سندھ میں سذاشی عناصر کی آلہ کار بننے نہیں دیں گے۔

  • کراچی پولیس چیف کی صنعتکاروں کو سیکورٹی بہتر بنانے کی یقین دہانی

    کراچی پولیس چیف کی صنعتکاروں کو سیکورٹی بہتر بنانے کی یقین دہانی

    ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس کراچی جاوید عالم اوڈھو نے نارتھ کراچی صنعتی ایریا میں سیکورٹی صورتحال کو بہتر بنانے اور صنعتکاروں کو اپنے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا ہے کہ صنعتکار برادری کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ صنعتکار برادری کو پُرامن ماحول فراہم کیا جاسکے۔

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے نارتھ کراچی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری ( نکاٹی) کے صدر فیصل معیز خان، چیف سی پی ایل سی زبیر حبیب، سینئر نائب صدر نکاٹی شبیر اسماعیل، نائب صدر نعیم حیدر، ڈپٹی چیف سی ایم سی نکاٹی سید یاسر علی اور اسسٹنٹ چیف سی ایم سی شہزاد الہیٰ پر مشتمل وفد سے ملاقات کے موقع پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے کیا۔نکاٹی کے صدر فیصل معیز خان نے ایڈیشنل آئی جی کو نارتھ کراچی صنعتی ایریا سیکورٹی کی غیر تسلی بخش صورتحال سے آگاہ کیا اور دیرپا امن وامان کے قیام کے حوالے سے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا۔

    26 ماہ بعد زرمبادلہ کے ذخائر 9.5 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئے

    انہوں نے کرائم مانیٹرنگ سیل کو اضافی نفری فراہم کرنے پر ایڈیشنل آئی جی کراچی کو صنعتکار برادری کی جانب سے تعاون پیش کرتے ہوئے کہاکہ صنعتیں ترقی کریں گی تو ملک ترقی کرے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ صنعتکار برادری کو سازگار ماحول فراہم کرنے سے یقینی طور پر پیداواری سرگرمیاں بڑھیں گی اور برآمدات کو فروغ ملے گا جس سے ملک کو سنگین معاشی بحران اور خسارے سے نکالنے میں مدد ملے گی۔

    سونے کی قیمت میں مسلسل اضافہ، بلند ترین سطح پر پہنچ گئی