Baaghi TV

Category: کراچی

  • سید ضامن علی نقوی کا یوم وفات

    سید ضامن علی نقوی کا یوم وفات

    لیکن کھلا یہ بھید سر طور و کربلا
    دید و شہود کے بھی مقامات ہیں جدا
    ..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گویاؔ جہان آبادی

    10 ستمبر : یوم وفات

    سید ضامن علی نقوی المعروف گویا جہان آبادی، جہاں آباد کے رہنے والے تھے۔ ان کی ایک مثنوی ” اسرار مستی” نے بڑی شہرت و مقبولیت حاصل کی تھی اس کی تعریف کرنے والوں میں علامہ اقبال بھی شامل تھے ہند و پاک کی آزادی کے بعد گویاؔ پاکستان آ گئے تھے اور یہاں کے ادبی حلقوں میں خاصے مقبول تھے کراچی میں مقیم تھے ، وہیں تقریباً 75 سال کی عمر میں 10 ستمبر 1971ء کو آخری سانس لی
    …..
    نمونہ کلام
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    انساں نے آانکھ کھولی ہے بزم شہود میں
    آدم کے قبل آیا ہے عالم وجود میں
    تسخیر ہی کو ارض و سما کے حدود میں
    دیرینہ ایک جنگ ہے بود و نمود میں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    ظلمت خلاف نور ہے وقت دراز سے
    واقف نہیں اضافی افاضی کے راز سے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    لیکن کھلا یہ بھید سر طور و کربلا
    دید و شہود کے بھی مقامات ہیں جدا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود میں خدا کی دید شہادت کا اقتضا
    نظارے کی طلب ہے تقاضا کلیم کا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    چشمِ کلیمؑ اِدھر ہے اُدھر قلب مصطفٰیﷺ
    طالب کا وہ مقم یہ مطلوب ک پتا
    ……
    چلی آتی ہیں موجیں اک جمال گل بداماں کی
    بنائیں ہر قدم پر ڈالتی سو سو گلستاں کی
    کھلا کرتی ہیں کلیاں آنکھ میں دل کے گلستاں کی
    دم نظارہ نظریں پھول برساتی ہیں انساں کی
    نہ دل سمجھا ، نہ غم سمجھے ، نہ دنیا ساز و ساماں کی
    یہ کیا سرگوشیاں تھیں چپکے چپکے اشک و مژگاں کی
    لیے بیٹھا ہوں آنسو دیر سے دامان مثگاں میں
    سرپ داستاں ہوں شبنم و برگِ گلستاں کی
    جہاں سے بزم ہستی میں ہوا ہے خاک پروانہ
    وہیں سے برق چمکی ہے کسی کے حسن پنہاں کی
    ٹھہر اے سوز نظارہ کہ لو دینے لگے آنسو
    حبابوں سے شعاعیں پھوٹ نکلیں آتش جاں کی
    پڑا ہوں سر بسجدہ پھر رہا ہے کوئی نظروں میں
    جبیں سائی میں منزل ہے نیاز دراز پنہاں کی
    فروغ شعلۂ شبنم سے حیرااں مہ و انجم
    نظر ہے قطرہء ناچیز پر ، مہر درخشاں کی
    مرے اشکوں کی فطرت ہے مسلسل جستجو گویاؔ
    ستارے منزلیں طے کر رہے ہیں کوئے جاناں کی

  • پاکستان کی پہلی  خاتون انگریزی  مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر  اور شاعرہ،بیگم زیب النساء حمید اللہ

    پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ،بیگم زیب النساء حمید اللہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    10 ستمبر 2000 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔ زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔ وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔ محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • امریکی ڈالر کی قدر میں کمی

    امریکی ڈالر کی قدر میں کمی

    کراچی: پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں کمی ہوئی ہے۔

    کرنسی ڈیلرز کے مطابق کاروباری ہفتے کے دوسرے روز انٹربینک میں ڈالر کی قدر میں 10 پیسے کمی ہوئی ہے۔ انٹر بینک میں امریکی ڈالر 278 روپے 60 پیسے کا ہوگیا، گزشتہ روز انٹربینک میں ڈالر 13 پیسے مہنگا ہو کر 278 روپے 70 پیسے پر بند ہوا،دوسری جانب ای کیپ کے مطابق اوپن مارکیٹ میں ڈالر 17 پیسے مہنگاہو کر 281 روپے 3 پیسے کا ہو گیا ہے۔

  • محکمہ موسمیات کا موسمیاتی پیش گوئیوں کیلئے جدیدریڈارخریدنےکا فیصلہ

    محکمہ موسمیات کا موسمیاتی پیش گوئیوں کیلئے جدیدریڈارخریدنےکا فیصلہ

    کراچی: محکمہ موسمیات نے موسمیاتی پیش گوئیوں کیلئے جدیدریڈارخریدنےکا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : ڈائریکٹرجنرل محکمہ موسمیات صاحبزادہ خان کے مطابق 5 فکسڈ ریڈار ملک کے مختلف حصوں میں لگائے جائیں گے جبکہ محکمہ موسمیات 3 پورٹیبل سرویلنس ریڈاربھی خریدے گاریڈارخیبرپختونخوا کےشہروں چراٹ، ڈیرہ اسماعیل خان میں نصب ہوں گے جب کہ کوئٹہ ،گوادر اورلاہور میں بھی ریڈارلگایا جائیگا،ملک کے مختلف حصوں میں 300 آٹومیٹک ویدراسٹیشنزکی تنصیب بھی کی جائےگی۔

    2 ریڈارخیبرپختونخوا کے شہروں چراٹ، ڈیرہ اسماعیل خان میں 2 بلوچستان کے شہروں کوئٹہ،گوادر جبکہ ایک ریڈار پنجاب کے شہر لاہورمیں نصب کیا جائیگا، کراچی میں پہلے ہی جدید ٹیکنالوجی کا حامل ریڈاراسٹیشن موجود ہے300 آٹومیٹک ویدر اسٹیشن میں سے سب سے زیادہ 105 بلوچستان میں لگائے جائیں گے، دیہی سندھ/ بشمول کراچی میں 85، خیبرپختونخوا میں 75 جبکہ پنجاب میں 35 آٹومیٹک ویدر اسٹشن نصب ہوں گے۔

    کراچی : ٹریفک حادثات میں خاتون سمیت 3 افراد جاں بحق

    جدید موسمیاتی آلات ورلڈ بینک کے تعاون سے نصب کیے جائیں گے، پاکستانی انجینئرز کے علاوہ غیرملکی ماہرین منصوبیکی تکمیل میں معاونت کریں گے، جدید آلات سے مزید موسمیاتی نظام کا منصوبہ 3سال میں مکمل ہوگا جس پر14ارب روپے پاکستانی (50 ملین ڈالرز)کی لاگت آئے گی۔

    ڈی جی میٹ صاحبزاد خان نے کہا کہ منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچنے اور جدید آلات کےفعال ہونے کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے جس کے دوران موسمیاتی تبدیلیوں بشمول بارش، ہواں،طوفانوں اورسمندر میں متفرق سرگرمیوں کے علاوہ ہوابازی کی صنعت سے متعلق بھی استفادہ کیا جائے گا۔

    حافظ سعد رضوی کو 4 سال، اشرف جلالی کو 14 سال کی سزا

    واضح رہے کہ اس سے قبل بادل میں بارش کی مقدار اور سمندری طوفان سے متعلق پیشگی اطلاع فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے لیس ریڈار کراچی میں 2019 میں نصب کیاگیا تھا۔

  • سیلانی ویلفیئر  آئی ٹی پروگرام کے گریجویٹس کی تقریب

    سیلانی ویلفیئر آئی ٹی پروگرام کے گریجویٹس کی تقریب

    سیلانی آئی ٹی پروگرام سے منسلک ہزاروں نوجوانوں نے عہد کیا ہے کہ وہ بیرونِ ملک سے حاصل کردہ اپنی آمدنی کو پاکستان میں ترسیلات زر کی شکل میں لائیں گے تاکہ ملک کے کروڑوں ڈالر کے قرضوں کی ادائیگی میں مدد دے سکیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق موہٹہ پیلس میں سیلانی ویلفیئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے تحت آئی ٹی تربیتی پروگرام کے گریجویٹس کے پہلے اجتماع کا انعقاد کیا گیا ،تقریب کے مہمان خصوصی محمد علی ٹبہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا اقتصادی بحران آئی ٹی پروفیشنلز کی تیاری سے ختم ہوسکتا ہے، حکومت پرائیویٹ سیکٹر اور غیر منافع بخش اداروں کے آئی ٹی پروگراموں کی بھرپور حوصلہ افزائی کرے،،بینکار یوسف حسین، تاجر عارف حبیب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، اس موقع پر مولانا بشیر فاروق قادری نے تقریب میں موجود آئی ٹی لرننگ پروگرام کے گریجویٹس کو اپنی نشستوں سے اٹھ کر عہد کرنے کی دعوت دی ۔

  • کراچی پولیس کی منشیات  فروشوں اور اسٹریٹ کرائم کے خلاف کاروائیاں

    کراچی پولیس کی منشیات فروشوں اور اسٹریٹ کرائم کے خلاف کاروائیاں

    کراچی پولیس کی منشیات فروشوں اور اسٹریٹ کرائم کے خلاف کاروائیاں جاری ہیں جس دوران متعدد ملزمان گرفتار کر لیے گئے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق قائداباد پولیس نے اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں ملوث ملزم کو گرفتار کر لیا.پولیس نے دوران گست داود چورنگی نزد ٹریفیک چوکی کے قریب سے ملزم کو گرفتار کیا.گرفتار ملزم کی شناخت زاہر خان ولد نور فروش خان کے نام سے ہوئی .ملزم کے قبضے سے ایک غیر قانونی 30 بور پسٹل بمعہ راونڈز برامد ہوئی.گرفتار ملزم تھانہ قائداباد کی حدود میں ہونے والی اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں میں بھی ملوث ہے برآمد ہونے والے اسلحہ کو فرانزک کے لئے روانہ کر دیا گیا ہے اورملزم کے خلاف سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا اغاز کر دیا گیا ہے.

    دوسری کاروائی میں ضلع ایسٹ پولیس نے دورانِ گشت گلشنِ اقبال بلاک 10 کے قریب کارروائی کرکے 02 ملزمان کو گرفتار کیا، گرفتار ملزمان کے قبضے سے 02 عدد غیر قانونی پسٹلز بمعہ ایمونیشن اور نقدی رقم برآمد کرلی گئی۔ملزمان کے زیرِ استعمال موٹرسائیکل 70 کو بھی ضابطے کے تحت قبضہ پولیس میں لے لیا گیا،گرفتار ملزمان کے خلاف ضابطے کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں مزید تفتیش جاری ہے.گرفتار ملزمان میں محمد عمیر عرف شاکا ولد محمد عمر اور نقیب اللہ عرف افغانی ولد محمد موسیٰ شامل ہیں۔

    تیسری کاروائی میں تھانہ مومن آباد پولیس نے مختلف کاروائیوں کے دوران 02 ملزمان کو گرفتار کیا۔1. ملزم علی زیدی تھانہ مومن آباد کے مقدمہ الزام نمبر 124/2024 میں مفرور و مطلوب تھا۔ 2. ملزم باقر ولد ذاکر تھانہ مومن آباد کے مقدمہ الزام نمبر 112/2024 میں مفرور و مطلوب تھا۔ ملزمان کو مزید قانونی کاروائی کے لئے تفتیشی حکام کے حوالے کردیا گیا ہے۔

  • کراچی :سلنڈر پھٹنےکے واقعات میں  5  افراد  زخمی

    کراچی :سلنڈر پھٹنےکے واقعات میں 5 افراد زخمی

    کراچی شہر میں سلینڈر پھٹنے کے مختلف واقعات میں بچوں سمیت 5 افراد زخمی ہو گئے .

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کراچی کے علاقے تھانہ سائیٹ سپر ہائی وے کی حدود سپر ہائی وے احسن آباد پاکستان کانٹا کے قریب کیمیکل فیکٹری میں سلنڈر پھٹنے سے 03 افراد زخمی ہوئے.زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کیلئے عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا، زخمی ہونے والو کی شناخت 1- ساجد ولد رحمان 22 سالہ2-، مقصود ولد کریم اللہ 52 سالہ، 3- محمد الیاس ولد خادم حسین 32 سالہ کے نام سے ہوئی ہے.

    دوسرا واقعہ گارڈن ویسٹ دھوبی گاٹھ کشتی مسجد کے قریب پیش آیا جہاں کار ریپیرنگ کی دکان میں سلینڈر دھماکہ 2 بچے شدید زخمی ہو گئے.بچوں کو طبی امداد کے لیے سول ہسپتال منتقل کردیا گیا،زخمی افراد کو مقامی افراد نےاپنی مدد آپ کے تحت زخمیوں کو ہسپتال منتقل کیا.

    واضح رہے کہ شہری آباد میں غیر قانونی فلنگ اسٹیشن دوکانوں میں چل رہے ہیں جو آئے روز حادثات کا باعث بنتے ہیں لیکن انتظامیہ کوئی ایکشن نہیں لیتی.

  • ہمیں اعلانات نہیں عملی اقدامات چاہیے، امیر جماعت اسلامی

    ہمیں اعلانات نہیں عملی اقدامات چاہیے، امیر جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ حکومت کے ساتھ معاہدے کو ایک ماہ ہوچکا ہے، وزیر داخلہ نے منصورہ آکر پیش رفت سے آگاہ کرنے کا اعلان کیا ہے،ہمیں اعلانات نہیں عملی اقدامات اورعوامی مسائل کا حل چاہیے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ادارہ نورحق کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ہم مشاورت کررہے ہیں پہلے ہم نے ملک گیر شٹر ڈاؤن ہڑ تال کی تھی، اب ہڑتال ایک نہیں بلکہ کئی ہڑتالیں ہوسکتی ہیں اورلانگ مارچ وپہیہ جام ہڑتال کے آپشنز بھی موجود ہیں،آئی پی پیز سے ہونے والے مذاکرات اور عوام دشمن و ظالمانہ معاہدوں کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں،شہر کراچی کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے،پورا شہر کچرا زدہ بنا ہوا ہے،سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں،پیپلز پارٹی نے تمام اختیارات اپنے پاس مرتکز کئے ہوئے ہیں، بلدیاتی الیکشن میں جماعت اسلامی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی تھی، لیکن پیپلز پارٹی نے الیکشن کمیشن کی ملی بھگت سے الیکشن پر قبضہ کرکے اپنا میئر بنالیا۔2015میں آخری مرتبہ پنجاب میں بلدیاتی الیکشن بھی کورٹ کے کہنے پر ہوئے تھے،کے پی،اسلام آباد، سندھ میں بھی کورٹ کے کہنے پر ہوئے تھے، ابھی اسلام آباد میں بھی حکومت نے ایکٹ کا بہانہ بناکر بلدیاتی الیکشن آگے بڑھادیے،جماعت اسلامی بلدیاتی حکومتوں کو بااختیار اور بلدیاتی انتخابات یقینی بنانے کے لیے پورے پاکستان کی بنیاد پر عدالتوں سے رجوع کرے گی۔ جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم جاری ہے،ہم مزدوروں،نوجوانوں، کسانوں کے پاس جارہے ہیں،جماعت اسلامی کو عوام کی جانب سے زبردست پذیرائی مل رہی ہے، عوامی رائے سے یہ بات سامنے آرہی ہے کہ جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی جماعت ایسی نہیں ہے جو عوامی ایشوز پر آواز بلند کرتی ہو، پاکستان کے مرد وخواتین بالخصوص نوجوان جماعت اسلامی کی ممبر سازی مہم کا حصہ بنیں۔

    حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ کشکول لے کر گھومنے والے حکمرانوں میں صلاحیت نہیں کہ وہ دنیا کے سامنے عزت ووقار کے ساتھ پاکستانیوں کا مقدمہ پیش کرسکیں، پاکستان بے شمار وسائل سے مالا مال ہے، لیکن 77سال سے قابض جاگیر داروں، وڈیروں، ڈکٹیٹروں نے پاکستان کو دلدل میں پھنسادیا ہے۔جماعت اسلامی کی حق دو عوام کو تحریک جاری رہے گی۔انہوں نے کہاکہ کے فور منصوبہ کو طویل عرصہ گزر گیا ہے کئی وفاقی حکومتیں آئیں اورچلی گئیں،کے فور منصوبہ کسی نے مکمل نہیں کیا، ٹینکرز مافیا اپنی جگہ موجود ہیں،جو پانی میسر ہے اس کی تقسیم کا نظام درست نہیں ہے، بارشوں کے بعد حب ڈیم اوور فلو ہوچکاہے، جو سو ملین گیلن پانی کراچی کو ملتا تھا وہ اب اڑتیس چالیس ملین گیلن بھی نہیں مل پارہا، آبادیوں کی آبادیاں پانی سے محروم ہیں، اس کی ذمہ داری پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم پر عائد ہوتی ہے، یہ دونوں ہر حکومت کا حصہ ہوتے ہیں۔جماعت اسلامی کی بھرپور احتجاجی تحریک کے بعد یونیورسٹی روڈتعمیر ہوئی تھی جسے ریڈ لائن منصوبے کے نام پر توڑ پھوڑ دیاگیا ہے اور مسلسل تاخیر کے بعداب اس پروجیکٹ کی لاگت بڑھتے بڑھتے ڈبل ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ 66ارب روپے سے کلک کے نام سے پروجیکٹ چل رہے ہیں،جن میں کھلی کرپشن ہورہی ہے اور ساٹھ سے 70فیصد رقم کرپشن کی نظر ہوجاتی ہے، تین چار ارب روپے سے جو استر کاری کا کام ہوا تھا وہ بارش کے ساتھ ہی بہہ گیا، گرومندر سے مزارقائد جانے والی سڑک کانام ”ایک دن کی سڑک“رکھا جارہا ہے، کیونکہ وہ ایک دن میں بہہ گئی، کوئی بھی کراچی کو اون کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، مسترد شدہ پارٹیوں کو کراچی پر مسلط کردیا گیا، ساڑھے پانچ ہزار پولنگ اسٹیشنزمیں سے ایک بھی ایم کیوایم نہیں جیتی لیکن اسے 15قومی اسمبلی کی سیٹیں دے دی گئیں، پیپلز پارٹی اختیارات نچلی سطح پر منتقل کرنے کے لیے تیار نہیں،تمام اداروں پر قبضہ کیا ہوا ہے، اگر بلدیاتی اداروں کو نام نہاد کچھ چیزیں منتقل کی بھی ہیں تو اپنا قبضہ سسٹم ٹاؤنز اور بلدیاتی حکومت کے اوپر مسلط کیا ہوا ہے، یوسیز اور ٹاؤنز کے پاس کچھ اختیارات نہیں،پیپلز پارٹی اپنی کراچی دشمن پالیسی جاری رکھے ہوئی ہے، جماعت اسلامی نے کراچی کے مسائل کو اجاگر کیا ہے اوراحتجاج بھی کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صنعتیں تباہ حال ہیں، صنعتکار کہتے ہیں کہ اتنی مہنگی بجلی کے ساتھ صنعتیں نہیں چل سکتی، کاٹیج انڈسٹری تباہ حال ہے، تاجر الگ پریشان ہیں، رہائشی علاقوں میں جو لوگ رہتے ہیں ان کے بس میں نہیں کہ بجلی کے بھاری بھاری بلز اداکرسکیں، جماعت اسلامی کے دھرنے کے باعث جب پریشر بنا تو نواز شریف نے اپنی بیٹی کو ساتھ بٹھاکر پنجاب میں دو مہینے کے لیے بجلی کے بل میں کمی کا اعلان کیا عوام کو یہ خیرات نہیں چاہیے،بلکہ پورے ملک میں بجلی کے ٹیرف میں کمی چاہیے،آئی پی پیز کو ہزاروں ارب روپے کپیسٹی پیمنٹ کے نام پر دیئے گئے،اس کا حساب کون دے گا؟ن لیگ، پیپلز پارٹی، ق لیگ اور پی ٹی آئی سب نے ان آئی پی پیز کو فیور دیا، کیونکہ آئی پی پیز مالکان کے اہم نام ان پارٹیوں میں شامل ہوتے تھے یا ان کے اسپانسر تھے، جس کے نتیجے میں ان آئی پی پیز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوسکی،اب نکلنے کا راستہ یہی ہے کہ ان کو لگا م دی جائے، جو عوام دشمن اور ظالمانہ معاہدے کئے گئے تھے،ان کے معاہدے کرنے والوں اور کروانے والوں کو سب کو بے نقاب کیا جائے، کسی آئی پی پیز میں ہمت نہیں ہے کہ وہ انٹرنیشنل کورٹ میں جاسکے کیونکہ یہ بے تحاشہ لوٹ مار کرچکی ہیں، اگر لوکل آئی پی پیز کے ساتھ چیزوں کو ایڈریس کرلیا جائے تو ہم چائنہ کے ساتھ بات کرسکتے ہیں ان کو قائل کرسکتے ہے، کیونکہ چائنہ پاکستان کا اسٹریٹیجک پارٹنر ہے وہ ضرور تعاون کرے گا۔

    پریس کانفرنس میں امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان،نائب امیر کراچی و اپوزیشن لیڈر بلدیہ عظمیٰ کراچی سیف الدین ایڈوکیٹ، سیکرٹری کراچی توفیق الدین صدیقی،جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق،ڈپٹی سکریٹری کراچی قاضی صدر الدین، سکریٹری اطلاعات زاہد عسکری، پبلک ایڈ کمیٹی کے سکریٹری نجیب ایوبی، نائب صدر عمران شاہدودیگر بھی موجود تھے۔

  • ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تاجروں کی عرفان رضوان  کی قیادت میں ملاقات

    ایڈیشنل آئی جی کراچی سے تاجروں کی عرفان رضوان کی قیادت میں ملاقات

    ایڈیشنل آئی جی کراچی جاوید عالم اوڈھو سےکراچی الیکٹرونکس ڈیلر ایسوسی ایشن کے وفد نے صدر محمد عرفان رضوان کی قیادت میں 19 رکنی وفد نے ملاقات کی۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس موقع پر سیکرٹری آصف احمد، جنرل سیکرٹری حاجی ناصر ترک، سلیم میمن و دیگر اراکین نے شرکت کی۔پولیس چیف سے ملاقات میں وفد نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے شہر میں امن و امان کے حوالے سے پولیس کے اقدامات کو سراہا۔وفد نے پولیس چیف سے شہر میں جرائم و دیگر امور کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی اور ایسوسی ایشن کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا جنہیں پولیس چیف نے ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    ملاقات کے اختتام پر وفد نے پولیس چیف کو پھولوں کا گلدستہ پیش کیا اور نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

  • نیو سبزی منڈی  کراچی میں دھماکہ، 2 افراد زخمی

    نیو سبزی منڈی کراچی میں دھماکہ، 2 افراد زخمی

    کراچی میں نئی سبزی منڈی کے قریب گیس پائپ لائن میں دھماکے سے 2 افراد زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اس حوالے سے ایس ایس پی ایسٹ کا کہنا ہے کہ ابتدائی معلومات کے مطابق دھماکا گیس لیکیج کے باعث ہوا، جس کے ہوتے ہی بھگدڑ مچ گئی۔پولیس حکام نے کہا ہے کہ سیوریج نالے میں دھماکے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، دھماکا ممکنہ طور پر گیس بھر جانے کے باعث ہوا۔ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ دھماکا سبزی منڈی میں نجی بینک کے نیچے سے گزرنے والے نالے میں ہوا۔دھماکا ہوتے ہی نالے پر بنا فرش اکھڑ گیا، موٹر سائیکل اڑ کر گاڑی کی چھت پر جا گری۔دھماکے سے بینک کے باہر تعینات سیکیورٹی گارڈ بال بال بچا۔