Baaghi TV

Category: کراچی

  • پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے چین کے تجربات سے استفادہ حاصل کرے گے،وزیراعظم شہباز شریف

    پاکستان کے زرعی شعبے کی ترقی کے لیے چین کے تجربات سے استفادہ حاصل کرے گے،وزیراعظم شہباز شریف

    کراچی: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ چین کی زرعی شعبے میں ترقی قابل تقلید ہے اور پاکستان اس تجربے سے سیکھ کر اپنے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کراچی میں منعقدہ ایک اہم زرعی نمائش کے دوران کیا، جہاں انہوں نے پاکستان اور چین کے درمیان مضبوط دوستی اور تعاون کے فروغ پر بھی زور دیا۔وزیراعظم نے کہا کہ چین کی زرعی ترقی اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال نے دنیا میں ایک مثال قائم کی ہے، اور پاکستان اس ماڈل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کے ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو چین میں ریفرشر کورسز کے لیے بھجوایا جا رہا ہے تاکہ وہ جدید زرعی تکنیکوں اور طریقوں سے واقف ہو سکیں اور ملک کی زرعی پیداوار میں بہتری لا سکیں۔

    شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین دوستی کے مضبوط رشتے میں بندھے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مضبوط تجارتی روابط میں تبدیل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ اس نمائش میں بڑی تعداد میں چینی سرمایہ کاروں نے شرکت کی، جو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے فروغ کی علامت ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کا دارومدار زراعت پر ہے اور یہ شعبہ ملک کی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ مالی سال میں پاکستان کی زرعی برآمدات 3 ارب ڈالر رہیں، تاہم اس میں مزید اضافے کی گنجائش موجود ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں زرعی برآمدات میں اضافے کے وسیع مواقع موجود ہیں، جنہیں بروئے کار لانے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال اور جدید زرعی طریقوں کا فروغ ناگزیر ہے۔

    وزیراعظم نے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مل کر زرعی شعبے کی ترقی پر بھرپور توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکنالوجی کی مدد سے زرعی پیداوار میں اضافہ ممکن ہے اور اس کے لیے حکومت کو تمام ممکنہ وسائل بروئے کار لانے ہوں گے۔شہباز شریف نے اپنے حالیہ دورہ چین کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وہاں شانسی صوبے میں زرعی یونیورسٹی کا دورہ کیا اور چینی زرعی ماہرین سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد پاکستانی زرعی ماہرین کو جدید زرعی تکنیکوں سے آگاہ کرنا اور انہیں چینی تجربات سے روشناس کرانا تھا تاکہ وہ وطن واپس آ کر پاکستان میں زرعی پیداوار کو بہتر بنا سکیں۔

    وزیراعظم نے زور دیا کہ پاکستان کو اپنی زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے چین کے تجربات سے سیکھنا ہوگا اور اس شعبے میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو فروغ دینا ہوگا۔ انہوں نے اس بات کا عزم کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مشترکہ طور پر زرعی شعبے کی ترقی کے لیے بھرپور کوششیں کریں گی تاکہ پاکستان کی زرعی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہو اور ملک کی معیشت کو مستحکم کیا جا سکے۔یہ نمائش پاکستان کے زرعی شعبے میں چین کے تعاون کی ایک اور مثال ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کے مطابق یہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا ایک اہم قدم ہے۔

  • وزیراعظم کی زیر صدارت انسداد پولیو سے متعلق اہم اجلاس: ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کا عزم

    وزیراعظم کی زیر صدارت انسداد پولیو سے متعلق اہم اجلاس: ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کا عزم

    وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت انسداد پولیو سے متعلق ایک اہم جائزہ اجلاس آج کراچی میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس اور صدر گلوبل ڈویلپمنٹ ڈاکٹر کرس ایلیئاس نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔ اجلاس میں چاروں صوبوں کی حکومتوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کی حکومتوں نے ملک سے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا اور انسداد پولیو کے لیے مشترکہ کوششوں پر اتفاق کیا۔اجلاس کے دوران وزیراعظم نے پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی حکومت کے آہنی عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک سے پولیو وائرس کا جڑ سے خاتمہ کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں صحت کے نظام اور خصوصاً انسداد پولیو کے لیے غیر معمولی مدد و تعاون پر گیٹس فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کیا۔
    وزیراعظم نے انسداد پولیو کے حوالے سے دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پولیو کے خاتمے کے لیے حکومت نے "ہول آف دی گورنمنٹ اپروچ” اپنائی ہے۔ وزیراعظم نے اعلان کیا کہ 2025 تک پاکستان سے پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ کیا جائے گا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کے دوران ہدایت کی کہ پولیو کے خاتمے کے لیے ریاست کے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ہر بچے کو ویکسین کی متعدد خوراکیں دی جائیں اور سیکیورٹی کے حوالے سے چیلنجز والے علاقوں میں بھی ہر بچے تک ویکسین کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔
    اجلاس کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ فرنٹ لائن ورکرز کی لگن، حکومت پاکستان کے عزم اور بین الاقوامی شراکت داروں کے تعاون سے پاکستان نے پولیو کے خلاف اہم پیش رفت کی ہے۔ تاہم، انہوں نے نئے پولیو کیسز کے سامنے آنے کو تشویشناک قرار دیا اور یقین دلایا کہ صوبائی حکومتوں اور شراکت داروں کے تعاون سے پولیو جیسی موزی بیماری کو شکست دی جائے گی۔گیٹس فاؤنڈیشن کے چیئرمین بل گیٹس نے انسداد پولیو کے لیے حکومتی اقدامات کی تعریف کرتے ہوئے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع میں پولیو ویکسین کے قطرے پینے والے بچوں کی شرح میں اضافے پر اظہار اطمینان کیا۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ حکومت پاکستان کی جانب سے 40 لاکھ بچوں کو ان-ایکٹیویٹڈ پولیو وائرس ویکسین (آئی پی وی) دینے کا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔
    اجلاس میں بریفنگ دی گئی کہ حالیہ دنوں میں ضلع قلعہ عبداللہ اور ضلع چکوال سے ایک ایک پولیو کیس رپورٹ ہوا ہے۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ کوئٹہ اور کراچی ڈویژنز پولیو وائرس کے پھیلاؤ کے بڑے مراکز ہیں۔ انسداد پولیو کے حوالے سے نگرانی کے نظام کو بہتر بنایا گیا ہے اور پولیو وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان روابط اور ہم آہنگی کو بڑھانے میں مثبت پیشرفت ہوئی ہے۔ مزید بتایا گیا کہ ستمبر، اکتوبر اور دسمبر 2024 میں پولیو ویکسین کی ملک گیر مہم کا انعقاد کیا جائے گا۔ اس مہم کے تحت ملک بھر کے تمام بچوں کو ویکسین کی خوراکیں دی جائیں گی تاکہ پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
    اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر برائے تعلیم و فنی تربیت، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر برائے نجکاری عبد العلیم خان، گورنر سندھ کامران ٹیسوری، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، وزیراعظم کے کوآرڈینیٹر برائے قومی صحت ڈاکٹر ملک مختار احمد بھرتھ، وزیراعظم کی فوکل پرسن برائے انسداد پولیو ڈاکٹر عائشہ رضا فاروق، سیکرٹری قومی صحت ڈاکٹر ندیم محبوب اور نیشنل کوآرڈینیٹر برائے انسداد پولیو محمد انوار الحق، چاروں صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکریٹریز اور انسپکٹرز جنرل پولیس، انسداد پولیو کے بین الاقوامی شراکت داروں اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

  • سندھ میں سرکاری زمینوں پر قبضے واگزار: 18 سے 19 لاکھ ایکڑ جنگلات کی اراضی بازیاب

    سندھ میں سرکاری زمینوں پر قبضے واگزار: 18 سے 19 لاکھ ایکڑ جنگلات کی اراضی بازیاب

    ڈی جی نیب سندھ نے ایک رپورٹ میں کہا کہ حکومت سندھ کے ساتھ مشترکہ آپریشن کے ذریعے، نیب نے کراچی ، ٹھٹھہ، سکھر اور بے نظیر آباد میں 1.8 ملین ایکڑ جنگلاتی اراضی کو چھڑایا ہے۔ سرکاری ملازمین کی انتظامی بے ضابطگیاں بھی سامنے آئیں۔ سندھ حکومت کو چھڑائی گئی زمین کا قبضہ دے دیا گیا ہے۔زمین کی مالیت 3 کھرب سے زائد ہے،

    نیب نے بورڈ آف ریونیو کے ساتھ ملکر زمین بازیاب کروائی،سندھ میں سرکاری زمینوں پر قبضے ختم کرنے کے لیے کی گئی کاروائیوں کے دوران مختلف اضلاع سے لاکھوں ایکڑ جنگلات کی اراضی بازیاب کرائی گئی ہے۔ اس کاروائی کا آغاز 2018 میں سپریم کورٹ اور سندھ ہائی کورٹ کے حکم پر کیا گیا تھا، جس میں محکمہ جنگلات نے بڑی کامیابیاں حاصل کیں۔ اس کاروائی کے نتیجے میں لاڑکانہ میں ایک لاکھ 11 ہزار ایکڑ جنگلات کی زمین بازیاب کی گئی۔شہید بے نظیر آباد میں ایک لاکھ 28 ہزار ایکڑ جنگلات کی زمین واگزار کرائی گئی۔ جبکہ حیدرآباد میں 7 لاکھ 29 ہزار ایکڑ زمین قبضہ مافیا سے چھڑائی گئی۔ ٹھٹھہ میں 2 لاکھ 75 ہزار ایکڑ جنگلات کی زمین بازیاب کی گئی۔ جبکہ کراچی کے علاقے ملیر اور گڈاپ میں 2 لاکھ 75 ہزار ایکڑ جنگلات کی اراضی کو واگزار کرایا گیا۔

    اس حوالے سے ڈائریکٹر جنرل نیب نے بتایا کہ مجموعی طور پر 18 سے 19 لاکھ ایکڑ زمین کو بازیاب کروا کر حکومت سندھ کے حوالے کیا گیا ہے۔ ان زمینوں کی دوبارہ سرکاری ملکیت میں شامل کرنے کے لیے تمام قانونی کارروائیاں مکمل کی گئی ہیں۔نیب کے ڈائریکٹر جنرل نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران مختلف ریلیونٹ ڈیپارٹمنٹس کے ساتھ مل کر کام کیا گیا تاکہ قانونی کاروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ نیب نے اس ضمن میں مختلف اصلاحات بھی کی ہیں، جن کے تحت کاروباری افراد اور عوامی شکایات کے لیے خصوصی دفاتر قائم کیے گئے ہیں۔ڈائریکٹر جنرل نے مزید بتایا کہ نیب کی جانب سے شہریوں کی عزت اور وقار کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔ کسی بھی شخص کو اس وقت تک ملزم نہیں کہا جائے گا جب تک اس کے خلاف کوئی ٹھوس شواہد سامنے نہ آجائیں اور کوئی ریفرنس فائل نہ ہو جائے۔

    نیب نے اس تمام کاروائی کے بعد چھڑوائی گئی زمینوں کو قانونی طور پر سندھ حکومت کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے احکامات کی روشنی میں جاری سروے کی نگرانی بھی نیب نے کی، جس کے تحت تمام ریلیونٹ اداروں کو آن بورڈ لیا گیا تاکہ باہمی تعاون سے یہ کاروائیاں مکمل کی جا سکیں۔اس کامیاب کاروائی کے نتیجے میں سندھ حکومت کو 18 سے 19 لاکھ ایکڑ زمین واپس مل گئی ہے، جو کہ سرکاری املاک کی حفاظت کے حوالے سے ایک بڑی کامیابی ہے۔ نیب کی ان اصلاحات سے عوامی شکایات کے حل میں تیزی آئے گی اور سرکاری املاک پر قبضہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی جا سکے گی۔

    معافی مانگوں گا لیکن آزادانہ تحقیقات کروائی جائیں،عمران خان

    جن کے پاس طاقت ہے ان سے ہی بات کروں گا ،عمران خان

    نومئی واقعہ، بشریٰ بی بی 12 مقدمات میں نامزد

    نومئی مقدمے، عمران خان کا پنجاب فارنزک ٹیم کو ٹیسٹ دینے سے انکار

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

    9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری

    9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد

    عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان

    اسد قیصر نے نومئی کے واقعات پر معافی مانگنے سے انکار کر دیا

    سماعت سے محروم بچوں کے لئے بڑی خوشخبری

    سماعت سے محروم بچوں کے والدین گھبرائیں مت،آپ کا بچہ یقینا سنے گا

  • پاک بحریہ کا جنگی جہاز یرموک بحرین میں میری ٹائم سیکیورٹی مشقوں میں شریک

    پاک بحریہ کا جنگی جہاز یرموک بحرین میں میری ٹائم سیکیورٹی مشقوں میں شریک

    پاک بحریہ کے جنگی جہاز پی این ایس یرموک نے ریجنل میری ٹائم سیکیورٹی پٹرول کے دوران بحرین کا دورہ کیا، جو دونوں ممالک کے درمیان سمندری تعاون اور علاقائی سیکیورٹی کے فروغ کی ایک اہم کاوش تھی۔ یہ دورہ بحرین کے بندرگاہ مینا سلمان پر پہنچنے کے ساتھ شروع ہوا، جہاں بحرین کی بحریہ اور پاکستانی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام نے جہاز کا پرتپاک استقبال کیا۔ پی این ایس یرموک کے کمانڈنگ آفیسر نے بحرین میں قیام کے دوران کمانڈر رائل بحرین نیول فورس، کمانڈر رائل بحرین کوسٹ گارڈز اور بحرین بحریہ کے دیگر اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے پیشہ وارانہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور دو طرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ کمانڈنگ آفیسر نے کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ بھی کیا، جہاں انہوں نے ڈپٹی کمانڈر کمبائنڈ میری ٹائم فورسز سے ملاقات کی۔
    دورے کے دوران، پی این ایس یرموک نے بحرین بحریہ کے جنگی جہاز المنامہ، امریکی بحری جنگی جہاز ڈینئیل انوائے، اور جاپان کے جنگی بحری جہاز جے ایس کے ساتھ دو طرفہ بحری مشقوں میں حصہ لیا۔ ان مشقوں کا مقصد مختلف بحری افواج کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنا، باہمی تعلقات کو مضبوط بنانا، اور خطے میں مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بہتر بنانا تھا۔
    اس دورے کے دوران، پاکستانی سفیر، کمانڈر میری ٹائم کولیشن فورسز، بحرین نیوی کے حکام، ممتاز کاروباری شخصیات، پاکستانی کمیونٹی اور دوست ممالک کے سفارتی حکام نے بھی پی این ایس یرموک کا دورہ کیا۔ اس موقع پر انہوں نے پاک بحریہ کی خدمات اور ان کے کردار کو سراہا، جو کہ خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے انتہائی اہم ہے۔ پاک بحریہ کے ترجمان کے مطابق، پاکستان بحریہ خطے میں سمندری تحفظ، بین الاقوامی بحری تجارتی گزرگاہوں کی حفاظت، اور بحری قزاقی و منشیات کی سمگلنگ کے خلاف آپریشنز میں سرگرم عمل ہے۔ بحر ہند کے علاقے میں پاکستان بحریہ کی مستقل موجودگی نہ صرف قومی مفادات کی حفاظت کے لیے ہے بلکہ بین الاقوامی سمندری راستوں کی نگرانی اور استحکام کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔یہ دورہ اور اس کے دوران ہونے والی ملاقاتیں و مشقیں پاکستان اور بحرین کے درمیان سمندری تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ خطے میں مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بھی بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔

  • عوام کو مفت سولر پینل کی فراہمی ،سندھ حکومت نے سنائی خوشخبری

    عوام کو مفت سولر پینل کی فراہمی ،سندھ حکومت نے سنائی خوشخبری

    وزیرتوانائی سندھ ناصر حسین شاہ نے سندھ کی عوام کو مفت سولر پینل کی فراہمی کے حوالہ سے خوشخبری سنا دی ہے

    صوبائی وزیر توانائی سید ناصرحسین شاہ کی زیر صدارت سولر پینل کے حوالے محکمہ توانائی کے اعلیٰ افسران اور این جی اوز کے ساتھ مفت سولر فراہمی منصوبہ سے متعلق اجلاس منعقد ہوا،جس میں وزیر توانائی کے علاوہ سیکریٹری انرجی مصدق احمد خان، سی ای او (SPHF) خالد شیخ،ڈائریکٹر سندھ سولر انرجی پروجیکٹ محفوظ قاضی سمیت مختلف این جی اوز کے سربراہان نے شرکت کی ،اجلاس میں ورلڈ بینک کے تعاون سے سولر پینل کی فراہمی پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔

    اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سید ناصر حسین شاہ کا کہنا تھا کہ رواں ماہ اگست میں ہی سولر پینل کی فراہمی شروع کردی جائے گی،انھوں نے سولر پینل رواں ماہ اگست میں فراہمی کے لئے اقدامات تیز کرنے کی ہدایت بھی کی اور کہا کہ بلاول بھٹو کی ہدایت پر منصوبے کی شفافیت کو یقینی بنایا جائے، جلد ہر ایک ڈویژن اور ڈسٹرکٹ میں سولر پینل تقسیم کرنے کے عمل کا سلسلہ شروع کریں گے، سندھ بھر میں توانائی کے متبادل ذرائع سے عوام کو مستفید کریں گے، عوام کو مفت بجلی کی فراہمی کے حوالے سے مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے، حکومت سندھ سستی بجلی فراہم کرکے عوام کو ریلیف دینا چاہتے ہیں، سولرائزیشن کا عمل عوام کوسستی بجلی فراہم کرنے کا ذریعہ ہے، مہنگی بجلی عوام کی قوت خرید سے باہر ہوچکی ہے اور پورے صوبے کی عوام مہنگی بجلی کی وجہ سے سخت اذیت میں مبتلا ہیں

  • چینی وفد کا گوادر کا دورہ: مستقبل کی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو

    چینی وفد کا گوادر کا دورہ: مستقبل کی سرمایہ کاری اور ترقیاتی منصوبوں پر گفتگو

    آج چینی وزارت خارجہ کے اعلیٰ سطحی وفد نے گوادر کا دورہ کیا، جس میں مستقبل میں سرمایہ کاری کے مواقع، ترقیاتی پروگراموں اور اہم منصوبوں کی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وفد کی قیادت مسٹر ونگ فوکانگ نے کی، اور ان کے ہمراہ گوادر پورٹ اتھارٹی کے حکام نے ملاقات کی۔دورے میں گوادر پورٹ اتھارٹی کے چیئرمین پاسند خان بلیدی نے چینی وفد کو پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی راہداری (CPEC) فیز 2 کے منصوبے کی اہمیت اور گوادر پورٹ کی کامیابی میں اس کے کردار پر بریفنگ دی۔ مسٹر یو بو، چیئرمین چائنہ اوورسیز پورٹ ہولڈنگ کمپنی (COPHC)، نے تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے لیے قیمتی تجاویز فراہم کیں۔

    چینی وفد نے نیو گوادر انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور پاک چین فرینڈ شپ ہسپتال سمیت موجودہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ساؤتھ فری زون اور گوادر پورٹ کا دورہ کیا اور ان کی تجارتی اور اقتصادی اہمیت کو سراہا۔وزیر خزانہ بلوچستان، ظہور بلیدی نے وفد کا خیرمقدم کیا اور گوادر کے ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔ چینی وفد نے مختلف منصوبوں پر کام کرنے والے چینی ملازمین کے حفاظتی اقدامات کو بھی تسلیم کیا اور اس بات کا اظہار کیا کہ ان کے دورے نے پاکستان کی صلاحیت میں اضافے اور مستقبل کی چیلنجز کا سامنا کرنے میں مددگار ثابت ہونے کی امید کو تقویت دی ہے۔26 رکنی چینی وفد میں چینی سفارتخانے کے نمائندے مسٹر یانگ گوانگ یوان اور مسٹر چن جنجی شامل تھے، جبکہ پاکستانی حکام میں اویس منظور سُمرا، وزارت منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات کے مسٹر ذوالفقار علی شالوانی اور وزارت سمندری امور کے جناب سیس ظفر علی شاہ بھی موجود تھے۔

  • کے الیکٹرک کا  بجلی کے بلوں کی تاریخ ادائیگی میں توسیع کا اعلان

    کے الیکٹرک کا بجلی کے بلوں کی تاریخ ادائیگی میں توسیع کا اعلان

    کراچی: کے الیکٹرک نے صارفین کی سہولت کے لیے ماہ جولائی اور اگست کے بجلی بلوں کی تاریخ ادائیگی میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ کمپنی کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق، بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی طرح، جولائی اور اگست میں واجب الادا بلوں کی آخری تاریخ میں 10 دنوں کی توسیع کی گئی ہے۔اس اعلان کے تحت، صارفین کو اپنے بجلی بلوں کی ادائیگی کے لیے اضافی وقت دیا گیا ہے، جو انہیں مالی طور پر زیادہ سہولت فراہم کرے گا۔ اس کے علاوہ، جو صارفین لیٹ پیمنٹ سر چارج کے ساتھ اپنے بلوں کی ادائیگی کریں گے، ان کے لیٹ پیمنٹ سرچارج کو اگلے ماہ کے بل میں ایڈجسٹ کر دیا جائے گا۔ اس کا مقصد صارفین کو ادائیگی میں مزید سہولت فراہم کرنا اور مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔
    وزیر اعظم پاکستان نے بھی بجلی کے بلوں کی آخری تاریخ میں 10 روز کی توسیع کا اعلان کیا تھا، جس سے صارفین کو مہنگائی کے اس دور میں مالی مشکلات کے باوجود بلوں کی ادائیگی کے لیے مزید وقت مل سکے گا۔ کے الیکٹرک نے اپنے صارفین کو یقین دلایا ہے کہ یہ اقدام ان کی سہولت کے لیے کیا جا رہا ہے، اور کمپنی صارفین کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کی خدمات کو بہتر بنانے کی کوشش کر رہی ہے۔صارفین کو یہ یاد دہانی بھی کرائی گئی ہے کہ وہ بلوں کی ادائیگی وقت پر کرنے کی کوشش کریں تاکہ انہیں اضافی چارجز سے بچنے کا موقع مل سکے۔ اس اعلان کے بعد، کے الیکٹرک کے صارفین اب مطمئن ہو سکتے ہیں کہ انہیں بجلی بلوں کی ادائیگی میں مزید وقت مل گیا ہے، جو کہ خاص طور پر مہنگائی کے اس دور میں ایک بڑی سہولت ہے۔

  • ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی اہمیت کو ختم کرنے کا جارحانہ اقدام اٹھایا ہے۔ خآلد مقبول صدیقی

    ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی اہمیت کو ختم کرنے کا جارحانہ اقدام اٹھایا ہے۔ خآلد مقبول صدیقی

    کراچی: ایم کیو ایم کے چیئرمین خالد مقبول صدیقی نے یوم استحصال کشمیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم کشمیر کی خصوصی حیثیت کی بحالی کی منتظر ہے اور جب موقع ملا تو اس کے لیے سرگرم ہوگی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پانچ اگست 2019ء کو کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کیا گیا تھا، اور ایم کیو ایم ان پانچ سالوں میں ہر پانچ اگست کو اس مسئلے پر ضرور بات کرتی ہے۔ خالد مقبول صدیقی نے زور دیا کہ ایم کیو ایم ہمیشہ مظلوم کی آواز کے ساتھ آواز ملاتی ہے اور کشمیر کے امن اور خطے کی استحکام کی کوشش میں شامل ہے۔خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ کشمیر کے دونوں جانب رہنے والوں کو کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنا ہے، اور ہندوستان نے کشمیر کی خصوصی اہمیت کو ختم کرنے کا جارحانہ اقدام اٹھایا ہے۔
    انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی اکثریت نے کبھی مذہبی جنونیت پسند شخص کو وزیراعظم منتخب نہیں کیا، جبکہ ہندوستان نے تین انتخابات میں ایسے شخص کو وزیراعظم منتخب کیا ہے۔ایم کیو ایم کے چیئرمین نے اقوام متحدہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسماعیل ہانیہ کے قتل کے بعد اقوام متحدہ نے اپنا جواز کھو دیا ہے۔ اگر اقوام متحدہ نے کشمیر کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں کیا تو کشیدگی کی ذمہ داری پاکستان پر عائد نہیں ہوگی، کیونکہ پاکستان اسلامی ممالک کے نام پر بنا تھا۔خالد مقبول صدیقی نے اپنے خطاب کے آخر میں زور دیا کہ ہمیں مذمت سے آگے بڑھ کر سفارتی میدان میں کامیابی حاصل کرنی ہوگی تاکہ کشمیر کے مسئلے کو حل کیا جا سکے۔

  • ترک بحری وفد کا کراچی کا دورہ، پاک بحریہ کے ساتھ پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت

    ترک بحری وفد کا کراچی کا دورہ، پاک بحریہ کے ساتھ پیشہ ورانہ تعاون کو فروغ دینے پر بات چیت

    کراچی: ترکیہ کی بحریہ کے چیف آف اسٹاف وائس ایڈمرل ابراہیم اوزدم کوچر کی قیادت میں ترک بحری وفد نے کراچی کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے پاک بحریہ کے فیلڈ کمانڈرز سے اہم ملاقاتیں کیں۔ اس دورے کا مقصد باہمی دلچسپی کے امور اور پیشہ ورانہ تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ترک وفد نے اپنے دورے کے دوران مزار قائد پر حاضری دی اور بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر وفد نے قائد اعظم کے مزار پر پھول بھی چڑھائے اور ان کی قربانیوں کو یاد کیا۔دورے کے اختتام پر پاکستان اور ترکیہ کی بحریہ کے جہازوں نے بحیرہ عرب میں مشترکہ پٹرولنگ اور بحری مشق میں حصہ لیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق، اس مشق کا مقصد دونوں ممالک کی بحریہ کے مابین مشترکہ آپریشنز میں تعاون کو فروغ دینا تھا۔ ترک بحریہ کے جہاز اور وفد کے دورے سے دونوں برادر ممالک کے عوام، بالخصوص بحریہ کے مابین دیرینہ تعلقات کو مزید تقویت ملے گی۔ یہ دورہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دفاعی اور پیشہ ورانہ تعلقات کے فروغ میں ایک اہم قدم ثابت ہوگا، اور مستقبل میں دونوں ممالک کی بحریہ کے درمیان مزید مشترکہ مشقوں اور آپریشنز کی توقع کی جا رہی ہے۔

  • وزیر اعلیٰ سندھ کا صوبے میں بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والی کمپنی کے قیام کا اعلان

    وزیر اعلیٰ سندھ کا صوبے میں بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والی کمپنی کے قیام کا اعلان

    کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبے میں بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والی کمپنی کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ کراچی میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، مراد علی شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ کیپیسٹی پیمنٹ کے مسئلے کو حل کیا جا سکتا ہے، مگر اس کے لیے سب کو ساتھ مل کر چلنا ہوگا۔مراد علی شاہ نے تقریب میں کہا کہ سندھ بہت جلد اپنی بجلی پیدا کرنے اور تقسیم کرنے والی کمپنی بنانے جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ سندھ پاکستان کا 70 فیصد گیس پیدا کرتا ہے، اور وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سندھ کو اس کی پیدا کردہ گیس فراہم کرے تاکہ صوبہ خود پاور پلانٹس لگا سکے۔
    انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ تھر کول پورے ملک کی بجلی کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، لیکن اس کے استعمال میں مسائل کا سامنا ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ بجلی کا ٹیرف بہت زیادہ ہے جس کی وجہ سے صنعتیں تیزی سے اپنی صلاحیت کھو رہی ہیں۔وزیر اعلیٰ نے تاجروں کے مسائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ان کے مسائل سے پوری طرح آگاہ ہے اور انہیں حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاجروں کی مشکلات کو کم کرنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے تاکہ صنعتی ترقی کو فروغ مل سکے اور معیشت میں استحکام آئے۔مراد علی شاہ کے اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ سندھ حکومت صوبے کی توانائی کی ضروریات کو خود پورا کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سے نہ صرف صوبے کی صنعتوں کو فائدہ ہوگا بلکہ عوام کو بھی کم قیمت پر بجلی فراہم کی جا سکے گی۔
    تقریب میں موجود شرکاء نے وزیر اعلیٰ کے اس اعلان کا خیرمقدم کیا اور امید ظاہر کی کہ ان اقدامات سے سندھ کی معیشت میں بہتری آئے گی۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ بجلی کی پیداوار اور تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے اس بات پر زور دیا کہ صوبے کے وسائل کو بہتر طریقے سے استعمال کرتے ہوئے توانائی کے مسائل کو حل کیا جائے گا اور سندھ کو توانائی کے شعبے میں خود کفیل بنایا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات نہ صرف سندھ بلکہ پورے ملک کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔