سندھ حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔ صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ آخری بار اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے گاڑیاں 2010 میں خریدی گئی تھیں۔ اس کے بعد سے ان گاڑیوں کی حالت کافی بگڑ چکی ہے اور یہ اب ناقابل استعمال ہو چکی ہیں کیونکہ ان گاڑیوں نے 8 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرلیا ہے۔سندھ حکومت کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ موجودہ گاڑیاں مرمت کے لیے بہت زیادہ خرچ طلب ہیں اور افسران کو اپنی ذاتی یا کرائے کی گاڑیاں استعمال کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ نئی گاڑیوں کی خریداری سے مرمت کے اخراجات میں کمی آئے گی اور اس کے ساتھ ساتھ افسران کی کارکردگی میں بھی بہتری آئے گی۔
صوبائی حکومت نے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے دو ارب روپے کی لاگت سے 138 گاڑیوں کی خریداری کی تیاری کرلی ہے۔ ان گاڑیوں کو لگژری نہیں بلکہ آپریشنل گاڑیوں کے طور پر خریدا جائے گا۔ پرانی اور ناقابل مرمت گاڑیوں کو نیلام کیا جائے گا، اور غیر قانونی قبضے میں لی گئی گاڑیوں کو واپس لینے کی کارروائی جاری ہے۔
سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ دیگر صوبوں نے بھی اپنے اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے ڈبل کیبن گاڑیاں خریدی ہیں۔ اس فیصلے کو شاہانہ انداز میں پیش کرنا گمراہی ہے، کیونکہ صوبائی حکومت کے مطابق، فیلڈ افسران کے لیے گاڑیوں کی خریداری ایک ضروری اور عملی قدم ہے۔سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ گاڑیوں کی خریداری کا فیصلہ ضروری ہے اور اس سے افسران کی کارکردگی اور آپریشنل سہولت میں بہتری آئے گی۔ اس فیصلے کو شاہانہ یا غیر ضروری طور پر پیش کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ عمل صوبائی انتظامیہ کی کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
Category: کراچی
-

سندھ حکومت کا اسسٹنٹ کمشنرز کے لیے نئی گاڑیوں کی خریداری پر موقف
-

بلاول بھٹو زرداری اور ناصر حسین شاہ کی ملاقات: وفاقی فنڈز اور سیلاب متاثرین پر گفتگو
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری سے صوبائی وزیر توانائی سید ناصر حسین شاہ نے حال ہی میں اہم ملاقات کی۔ اس ملاقات میں صوبائی وزیر نے وفاقی حکومت کی جانب سے روکے گئے فنڈز اور ان کے جاری کرنے کے حوالے سے تفصیلی بات چیت کی۔ناصر حسین شاہ نے اس موقع پر بتایا کہ وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کے لئے ہاؤسنگ سکیم اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لئے مالی امداد فراہم کرنے کے وعدے کیے تھے، مگر اب تک ان وعدوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ سیلاب کے بعد کی تعمیر نو اور متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لئے فنڈز کی ضرورت ہے، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا۔
یہ ملاقات بلاول بھٹو زرداری کے دفتر میں ہوئی، جہاں سید ناصر حسین شاہ نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو وفاقی حکومت کی طرف سے فنڈز کے اجرا میں تاخیر کے نقصانات اور اس کے ممکنہ اثرات کے بارے میں آگاہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر وفاقی حکومت جلد از جلد فنڈز جاری نہیں کرتی تو سیلاب متاثرین کی مدد اور ان کی بحالی کے عمل میں مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس ملاقات کے بعد پیپلز پارٹی کی جانب سے وفاقی حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کے لئے مالی امداد جاری کرے تاکہ تعمیر نو کا عمل تیز ہو سکے اور متاثرین کو درپیش مشکلات کا خاتمہ کیا جا سکے۔ -

حکومت نے ریلیف نہ دیا تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کریں گے،حافظ نعیم الرحمان
کراچی: جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے حکومت کو انتباہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر عوام کو ریلیف فراہم نہ کیا گیا تو ان کی جماعت سول نافرمانی کی تحریک بھی شروع کر سکتی ہے۔ انہوں نے یہ بات ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔حافظ نعیم الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ "مفادات کی سیاست کرنے والوں کو عوامی مسائل سے کوئی سروکار نہیں ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ معاہدے میں 17 دن باقی رہ گئے ہیں، اور اگر حکومت نے فوری اقدامات نہ کیے تو جماعت اسلامی ایک "پیہیہ جام” ہڑتال کا اعلان کرے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس ہڑتال کے بعد بجلی بلوں کا بائیکاٹ کیا جائے گا اور حکومت کو یہ دیکھنا پڑے گا کہ بجلی کٹنے والے کارکن کس طرح آتے ہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے اس موقع پر مزید کہا کہ "ہم عوام کے ساتھ مل کر مافیا کا مقابلہ کریں گے۔ بجلی کی قیمت میں اضافہ سے صنعتیں نہیں چل سکتیں اور ملک ترقی نہیں کر سکتا۔” انہوں نے ملکی معیشت کی موجودہ حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "ملکی معیشت تباہ ہو چکی ہے، امن و امان کی صورتحال انتہائی خراب ہے، اور اس وقت مزدور بے روزگار ہو رہے ہیں۔حافظ نعیم الرحمان نے یہ بھی کہا کہ "ان لوٹ مار کرنے والوں کو معلوم نہیں کہ روزانہ پٹرول اور بجلی کے بل کتنے آتے ہیں۔” ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی عوامی مسائل کے حل کے لیے اپنی آواز بلند کرتی رہے گی اور حکومت کو عوام کی مشکلات کا ادراک کرنا ہوگا۔ -

کارساز حادثہ،عبوری چالان عدالت جمع،اہم انکشافات
کارساز حادثہ کیس ، عدالت نے حتمی چالان 19 ستمبر کو طلب کرلیا،
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں کارساز حادثہ کیس کی سماعت ہوئی،تفتیشی افسر نے کیس کا عبوری چالان عدالت میں جمع کروادیا،عدالت نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ پولیس فائل کہاں ہے؟ اس پر تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ پولیس فائل اپڈیٹ کی جارہی ہے، وقت دیا جائے،عدالت نے استفسار کیا کہ کیس کا حتمی چالان کب تک جمع کروایا جائے گا؟ اس پر تفتیشی افسر کا کہنا تھا کہ حتمی میڈیکل رپورٹ اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی فارنزک رپورٹ نہیں ملی، این ای ڈی یونیورسٹی کے انجینئر کے معائنے کی رپورٹ بھی نہیں ملی، گاڑی کی رفتار کا تعین کرنے کےلیے این ای ڈی کے ماہرین سے مدد لی ہے،عدالت نے استفسار کیا کہ کارساز حادثہ کیس میں حتمی میڈیکل رپورٹ کس چیز کی باقی ہے؟ اس پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ حادثے میں زخمی دو افراد کی حتمی میڈیکل رپورٹ آنا باقی ہے،عدالت نے 19 ستمبر کی آئندہ سماعت پر مقدمے کا حتمی چالان طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔
کارساز حادثہ کیس،پولیس نے مقدمہ کا عبوری چالان عدالت میں جمع کرادیا،چالان کے مطابق ڈی آئی جی ٹریفک لائسنس اینڈ ٹریننگ کے مطابق برطانیہ کے شہریوں کے لئے پاکستان میں گاڑی چلانے کے لئے انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کا ہونا ضروری ہے، انٹرنیشنل ڈرائیونگ پرمٹ کے بغیر ڈرائیور ایسے لائسنس پر گاڑی چلانے کا مجاز نہیں، 20 اگست کو لیڈی ایم ایل او نے ملزمہ نتاشہ کے خون اور یورین کے نمونے حاصل کئے ،شاہ عبد الطیف بھٹائی کے عرس کی وجہ سے عام تعطیل کے باعث سیمپل اگلے روز جمع کروائے گئے، نتاشہ کے شوہر دانش کو گاڑی کاغذات ، ڈرائیونگ لائسنس اور میڈیکل دستاویزات پیش کرنے کا پابند کیا گیا مگر پیش نہیں کئے، دانش اقبال نے ملزمہ کی بلڈ ٹیسٹ کی رپورٹس اور برطانوی ڈرائیونگ لائسنس کی کاپی فراہم کیں، ملزمہ کے پاس پاکستانی ڈرائیونگ لائسنس موجود نہیں، ملزمہ کے بغیر ڈرائیونگ لائسنس گاڑی چلانے پر دفعہ 322 کا اطلاق کیا گیا ، ملزمہ کے حادثے میں زیر استعمال گاڑی کی ماہرین سے رائے حاصل کی جارہی ہے، این سی ڈی یونیورسٹی کے وائس چانسلر کو خط تحریری کیا ہے، این ای ڈی یونیورسٹی گاڑی کی اسپیڈ ، ایئر بیگ اور دیگر فنکشن کے حوالے سے معاونت کرے گی، حادثے میں ہونے والے املاک کے نقصان کے لئے ٹاؤن میونسپل کارپوریشن کو خط لکھا ہے، گاڑی کی ملکیت کے لئے گل احمد ونڈ پاور کمپنی لمیٹڈ کو نوٹس جاری کیا ہے، ملزمہ کے برطانوی ڈرائیونگ لائسنس کی تصدیق کے لئے برٹش ڈپٹی ہائی کمیشن کو خط تحریر کیا ہے، ملزمہ کے وکیل کی جانب سے پیش کئے گئے پاسپورٹ کی ٹریول ہسٹری کے لئے تحریر کیا ہے، گاڑی میں نصب ٹریکر کمپنی سے معلومات حاصل کرنے کے لئے خط تحریر کیا ہے،پولیس سرجن کی رپورٹ میں پتہ چلا کہ ملزمہ نتاشہ وقت وقوعہ آئس کے نشے میں دھت ہوکر گاڑی چلا رہی تھی، نشے کی حالت میں غفلت و لاپرواہی سے گاڑی چلاتے ہوئے 3 موٹر سائیکلیں اور ایک گاڑی کو روند ڈالا، حادثے کے نتیجے میں عمران عارف اور آمنہ عمران موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ عبدالسلام اور شین الیگزینڈر حادثے میں زخمی ہوئے،میڈیکل رپورٹ کی بنیاد پر ملزمہ نتاشہ کے خلاف امتناع منشیات ایکٹ کا علیحدہ مقدمہ درج کیا گیا ، ملزمہ کے خلاف روز وقوعہ نشے کی حالت میں گاڑی چلانے پر موٹر وہیکل آرڈیننس کی دفعہ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے، سی سی ٹی وی کی فرانزک کے لئے لاہور بھیجا ہوا ہے،چالان میں مدعی مقدمہ ، زخمی افراد سمیت مجموعی طور پر 15 گواہان شامل کیے گئے ہیں
شہر قائد کراچی کے علاقے کارساز پر چند روز قبل تیز رفتار گاڑی موٹر سائیکل سواروں کو روندتی ہوئی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی تھی، اس حادثے میں آمنہ اور اسکا باپ عمران جان کی بازی ہار گئے تھے، پولیس نے ملزمہ نتاشا کو گرفتار کر لیا تھا،واقعے کی کئی فوٹیجز سامنے آچکی ہیں ،جناح اسپتال کی جانب سے نتاشا اقبال کی ذہنی حالت کو درست قرار دیا گیا ہے،ملزمہ کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوا رکھا ہے.
کارساز حادثہ،ملزمہ نتاشا نشے میں تھی، میڈیکل رپورٹ میں تصدیق
نتاشا کے شوہر دانش اقبال نے گرفتاری کے ڈر سے حفاظتی ضمانت کروا لی
کارساز حادثہ،ملزمہ "پاگل” نہیں بالکل تندرست ہے، ڈاکٹرکی تصدیق
کارساز حادثہ،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،جیل بھجوا دیا گیا
کارساز حادثہ،پولیس کی سنگین غفلت، ملزمہ کو بچانے کی کوشش
کارساز حادثہ،ملزمہ کی ضمانت مسترد،جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
کارساز روڈ پر خونی ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والا بوڑھا باپ عمران عارف اپنی بیٹی آمنہ کو نجی کمپنی سے گھر لیکر جا رہا تھا، آمنہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی، آمنہ ایم بی اے کررہی تھی، متوفی عمران عارف سائیکل پر گلی محلے میں پاپڑ فروخت کرتا تھا،آمنہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ بہن نے ابو کو فون کیا کہ آفس سے چھٹی ہونے والی ہے لینے آجائیں عمران عارف اسکیم 33 سے بیٹی کو لینے اسکے آفس گئے، آفس سے بائیک پر بیٹی کو لیکر نکلا کہ لینڈ کروزر نے باپ بیٹی سمیت کئی موٹرسائیکل سواروں اور ایک گاڑی کو ہٹ کیا ، خاتون ڈرائیور نتاشہ کو پولیس نے گرفتارکرلیا اور اسکا جناح اسپتال میں طبی معائنہ کیا گیا،نتاشہ دانش معروف صنعتکار دانش اقبال کی اہلیہ ہیں
غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار
گنگارام ہسپتال میں 5 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش،لاہور میں احتجاج
پولیس کا ناروا سلوک،نوجوان نے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگالی
باپ کی بیٹی کو دریائے راوی میں پھینکنے کی کوشش،ڈولفن ٹیم نے بنائی ناکام
لاہور میں جرائم بڑھ گئے، پولیس خاموش تماشائی، سینئر صحافی خالد محمود خالد بھی لٹ گئے
فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض
فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات
-

شرجیل میمن کا بیمار صحافی اسحاق سرکی کی ہر ممکن مدد کا اعلان
سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی جانب سے بیمار صحافی اسحاق سرکی کی ہر ممکن مدد کا اعلان کر دیا گیا
شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کی جانب سے بیمار صحافی اسحاق سرکی کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی، صحافی اسحاق سرکی کی طبعیت کی ناسازی کا سن کر پریشانی ہوئی ہے،مشکل وقت میں، ہماری دعائیں اسحاق سرکی کے ساتھ ہیں، ہم ان کی جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہیں، دعا ہے کہ اسحاق سرکی جلد صحتیاب ہوکر اپنی صحافتی فرائض سرانجام دیں،
واضح رہے کہ صحافی اسحاق سرکی بیمار ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں، صحافی کی بیماری کی خبر سامنے آئی تو سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے مدد کا اعلان کیا جس کو صحافی برادری نے سراہا ہے اور کہا ہے کہ شرجیل میمن ماضی میں بھی صحافیوں کی مدد کرتے رہے ہیں،
-

انسانی سمگلنگ کیس، صارم برنی کی درخواست ضمانت مسترد
کراچی: جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی کی عدالت میں دستاویزات میں ردو بدل اور انسانی اسمگلنگ کا کیس ،ملزم صارم برنی کی درخواست ضمانت پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سنادیا
عدالت نے صارم برنی کی درخواست ضمانت مسترد کردی،صارم برنی کی اس سے قبل بھی درخواست ضمانت مسترد ہوچکی ہے،ملزم صارم برنی اس وقت عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہیں،سماعت کے دوران ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ ملزم کے خلاف مزید ثبوت جمع کرنے ہیں، ملزم کو ضمانت دی گئی تو وہ تفتیش پر اثر انداز ہو سکتا ہے، ملزم مسلسل جھوٹ کا سہارا لے رہا ہے، تفتیش کے دوران مزید انکشافات سامنے آئے ہیں۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ بچی کی والدہ کا بیان ہے کہ بیٹی لینے کے لیے صارم برنی سے رابطہ کیا، صارم برنی نے والدہ کو بچی دینے سے انکار کر دیا۔
جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، صارم برنی عدالتی ریمانڈ پرجیل منتقل
صارم برنی کی گرفتاری پر امریکا کا ردعمل
صارم برنی پر مقدمے کی تفصیلات
دوسری جانب انسانی سمگلنگ کیس میں گرفتار صارم برنی پر مقدمے کی تفصیلات سامنے آ گئیں، صارم برنی نے اپنی غلطی بھی تسلیم کرلی ہے.صارم برنی ویلفیئر ٹرسٹ کے سربراہ صارم برنی کیخلاف ایف آئی اے کے ہیومن ٹریفکنگ سیل میں پاکستان سے بچوں کی امریکا اسمگلنگ کے الزام میں پہلی ایف آئی آر 26/2024 درج کی گئی ہے، درج مقدمے میں حیا نامی نومولود بچی کو امریکا میں سمگل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے، مقدمے کے مطابق ملزم صارم برنی نے گزشتہ ایک برس میں کم از کم بیس نومولود بچوں کو امریکی والدین کو گود دینے کے نام پر امریکا میں اسمگل کیا،جو بچے سمگل کئے گئے ان میں سے 15 لڑکیاں اور پانچ لڑکے تھے، -

گورنر سندھ کا اہم قدم: ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک معاہدہ، سینئر افسران کو اختیارات
کراچی: گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے صوبے کی ترقی اور سیلاب متاثرین کی بحالی کے لیے ایک اہم قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے سندھ حکومت کے دو سینئر افسران کو ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک (ADB) سے معاہدہ پر دستخط کرنے کا اختیار دینے کی سمری پر دستخط کر دیے ہیں۔یہ معاہدہ ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک کے ساتھ کیا جائے گا، جس کے تحت صوبے کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں گھروں کی تعمیر کے لیے فنڈز فراہم کیے جائیں گے۔ اس معاہدہ کے تحت سندھ کو 440 ملین ڈالرز کی مالی امداد متوقع ہے، جس کا مقصد سیلاب سے بے گھر ہونے والے افراد کے لیے محفوظ اور پائیدار رہائشی سہولتیں فراہم کرنا ہے۔گورنر سندھ کی جانب سے منظور شدہ سمری کے مطابق، سندھ حکومت کے یہ سینئر افسران اب ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت (MOU) پر دستخط کرنے کے مجاز ہوں گے۔ اس اقدام کا مقصد معاہدہ کو جلد از جلد عملی شکل دینا ہے تاکہ سیلاب متاثرین کی بحالی کا کام تیزی سے شروع کیا جا سکے.
اس موقع پر گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ فنڈز صوبے میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی اور ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مالی امداد کے ذریعے سیلاب متاثرین کے گھروں کی تعمیر جلد مکمل ہوگی، اور متاثرہ افراد جلد ہی اپنے گھروں میں خوشحال زندگی گزار سکیں گے۔
یہ معاہدہ صوبے میں سیلاب متاثرین کی بحالی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ہے۔ سندھ حکومت اور ایشیئن ڈیویلپمنٹ بینک کے درمیان یہ اشتراک نہ صرف متاثرین کے گھروں کی تعمیر کو یقینی بنائے گا بلکہ مستقبل میں ایسے آفات سے نمٹنے کے لیے بھی ایک مؤثر حکمت عملی تیار کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔اس اقدام کو صوبے کے عوام اور سیاسی حلقوں کی جانب سے مثبت طور پر سراہا جا رہا ہے، کیونکہ یہ سندھ کے متاثرہ علاقوں میں ترقی اور خوشحالی کی راہ ہموار کرے گا۔ -

کارساز حادثہ،ملزمہ نتاشا کی درخواست ضمانت پر نوٹس جاری
کارساز حادثہ کیس ، مرکزی ملزمہ نتاشا کے شوہر ملزم دانش اقبال کی عبوری ضمانت منظور کرلی گئی
ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج شرقی نے کارساز حادثہ کیس میں ملزم دانش اقبال کی درخواست پر سماعت کی، ملزم عدالت میں پیش ہوا تو عدالت نے ملزم کو چہرے سے ماسک ہٹانے کی ہدایت کی، عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد ملزم دانش اقبال کی ایک لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض عبوری ضمانت منظور کرلی۔
دوسری جانب عدالت نے ملزمہ نتاشا دانش کی درخواست ضمانت پر بھی سماعت کی،عدالت نے ملزمہ نتاشا کی درخواست ضمانت پر سرکاری وکیل ،مدعی مقدمہ اور تفتیشی افسر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے فریقین سے 6 ستمبر تک جواب طلب کرلیا ،
عدالت کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نتاشا دانش کے وکیل عامر منصوب کا کہنا تھا کہ میڈیا پر کیس سے متعلق بہت سی باتیں چل رہی ہیں، نتاشا کا ذہنی توازن درست نہیں،وہ 18 اگست 2005ء کو پہلی بار ذہنی امراض کے وارڈ میں داخل ہوئی تھی،نتاشا کے اسپتال کا ریکارڈ عدالت میں پیش کررہے ہیں، وقوعہ کے روز بھی نتاشا کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی، نتاشا کی میڈیکل رپورٹ پر تحفظات ہیں، پولیس نے شراب نوشی ٹیسٹ کے لیے نتاشا کے خون اور پیشاب کے نمونے لیے تھے لیکن ٹیسٹ کی رپورٹ عجیب سی ہے، پیشاب کے نمونے میں میتھا فیٹا مائن ہے مگر اس کے آثار خون میں نہیں،نتاشا ذہنی مریضہ ہیں اور اس حوالے سے دوا بھی لیتی ہیں، ہوسکتا ہے کہ ان کے نمونوں میں ان دواؤں کا کوئی کیمکل ہو، میڈیکل رپورٹ کے خلاف عدالت سے رجوع کریں گے، نتاشا کے پاس 2031 تک کا برطانوی ڈرائیونگ لائسنس ہے، ہمارے اور برطانوی قوانین کے مطابق پاکستان آمد کے 6 ماہ بعد وہ لائسنس قابل قبول ہوگا،نتاشا کے پاسپورٹ کا ریکارڈ عدالت میں جمع کرارہے ہیں، نتاشا پاکستان 2 اگست 2024ء کو لندن سے کراچی آئی تھی اور بنا اجازت گاڑی لے کر نکلی تھی، یہ گاڑی دانش اقبال نہیں بلکہ کمپنی کی ملکیت ہے،
شہر قائد کراچی کے علاقے کارساز پر چند روز قبل تیز رفتار گاڑی موٹر سائیکل سواروں کو روندتی ہوئی دوسری گاڑی سے ٹکرا گئی تھی، اس حادثے میں آمنہ اور اسکا باپ عمران جان کی بازی ہار گئے تھے، پولیس نے ملزمہ نتاشا کو گرفتار کر لیا تھا،واقعے کی کئی فوٹیجز سامنے آچکی ہیں ،جناح اسپتال کی جانب سے نتاشا اقبال کی ذہنی حالت کو درست قرار دیا گیا ہے،ملزمہ کو عدالت نے جوڈیشل ریمانڈ پر بھجوا رکھا ہے.
کارساز حادثہ،ملزمہ نتاشا نشے میں تھی، میڈیکل رپورٹ میں تصدیق
نتاشا کے شوہر دانش اقبال نے گرفتاری کے ڈر سے حفاظتی ضمانت کروا لی
کارساز حادثہ،ملزمہ "پاگل” نہیں بالکل تندرست ہے، ڈاکٹرکی تصدیق
کارساز حادثہ،ملزمہ کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد،جیل بھجوا دیا گیا
کارساز حادثہ،پولیس کی سنگین غفلت، ملزمہ کو بچانے کی کوشش
کارساز حادثہ،ملزمہ کی ضمانت مسترد،جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے
کارساز روڈ پر خونی ٹریفک حادثے میں جاں بحق ہونے والا بوڑھا باپ عمران عارف اپنی بیٹی آمنہ کو نجی کمپنی سے گھر لیکر جا رہا تھا، آمنہ تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی، آمنہ ایم بی اے کررہی تھی، متوفی عمران عارف سائیکل پر گلی محلے میں پاپڑ فروخت کرتا تھا،آمنہ کے بھائی کا کہنا ہے کہ بہن نے ابو کو فون کیا کہ آفس سے چھٹی ہونے والی ہے لینے آجائیں عمران عارف اسکیم 33 سے بیٹی کو لینے اسکے آفس گئے، آفس سے بائیک پر بیٹی کو لیکر نکلا کہ لینڈ کروزر نے باپ بیٹی سمیت کئی موٹرسائیکل سواروں اور ایک گاڑی کو ہٹ کیا ، خاتون ڈرائیور نتاشہ کو پولیس نے گرفتارکرلیا اور اسکا جناح اسپتال میں طبی معائنہ کیا گیا،نتاشہ دانش معروف صنعتکار دانش اقبال کی اہلیہ ہیں
غلط معلومات پھیلا کر برطانوی فسادات کو ہوا دینے والا لاہوری صحافی گرفتار
گنگارام ہسپتال میں 5 سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش،لاہور میں احتجاج
پولیس کا ناروا سلوک،نوجوان نے پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگالی
باپ کی بیٹی کو دریائے راوی میں پھینکنے کی کوشش،ڈولفن ٹیم نے بنائی ناکام
لاہور میں جرائم بڑھ گئے، پولیس خاموش تماشائی، سینئر صحافی خالد محمود خالد بھی لٹ گئے
فیض حمید عبرت کا نشان،عمران کا نشہ بند، بشریٰ پر فیض کا فیض
فیض حمید کے بارے مبشر لقمان کے پروگرام کھرا سچ میں محسن بیگ کے چشم کشا انکشافات
-

سندھ اسمبلی میں غیر قانونی مہاجرین کے مسئلے پر شدید گرما گرمی
کراچی: سندھ اسمبلی کے اجلاس میں غیر قانونی مہاجرین کی موجودگی کے مسئلے پر سخت بحث چھڑ گئی، جس سے ایوان کا ماحول انتہائی تلخ ہوگیا۔ پیپلزپارٹی کی رکن ماروی راشدی کے بیان نے ایوان میں تناؤ پیدا کردیا، جس میں انہوں نے بہاریوں کو غیرقانونی مہاجرین قرار دیا، جس پر ایم کیو ایم کے ارکان نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیپلزپارٹی کی رکن ہیر سوہو نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف تحریک التوا پیش کی، جس پر بحث کے دوران کئی ارکان نے اپنے تحفظات اور خیالات کا اظہار کیا۔ ماروی راشدی نے بحث کے دوران کہا کہ افغان، بنگالی، برمی اور بہاریوں نے سندھ کو "عالمی یتیم خانہ” سمجھ رکھا ہے، جس سے سندھ کے وسائل پر غیر ضروری بوجھ پڑ رہا ہے۔ماروی راشدی کے اس بیان پر ایم کیو ایم کے ارکان نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بہاریوں کو غیرقانونی مہاجر کہنا نہ صرف ناانصافی ہے بلکہ یہ سندھ کی مہاجر برادری کے جذبات کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔ ایوان میں موجود ایم کیو ایم کے اراکین نے مطالبہ کیا کہ بہاریوں کو غیر قانونی مہاجرین کے زمرے میں نہ رکھا جائے اور ان کے ساتھ منصفانہ سلوک کیا جائے۔
تحریک التوا پر بحث مکمل ہونے کے بعد سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ صوبے میں موجود غیر قانونی تارکین وطن کو فوری طور پر ان کے وطن واپس بھیجا جائے۔ اس موقع پر وزیر داخلہ سندھ ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ سندھ غیر قانونی تارکین وطن کا بوجھ مزید برداشت نہیں کرسکتا۔ انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے اور جلد از جلد اقدامات کرے۔جماعت اسلامی کے رکن محمد فاروق نے بھی غیر قانونی تارکین وطن کو واپس بھیجنے کی حمایت کی، تاہم انہوں نے ساتھ ہی بنگلہ دیش میں مقیم بہاریوں کو باعزت طور پر وطن واپس لانے کا مطالبہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیش میں مقیم بہاری پاکستانی شہری ہیں اور انہیں باعزت طریقے سے وطن واپس لایا جائے تاکہ وہ اپنی زندگی کی نئی شروعات کرسکیں۔سندھ اسمبلی کی یہ کارروائی اس بات کی غمازی کرتی ہے کہ صوبے میں غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی کے مسئلے کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے اور اسے حل کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ ایوان میں ہونے والی گرما گرم بحث اور تلخ ماحول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ مسئلہ سندھ کی سیاست میں کتنی اہمیت رکھتا ہے اور اسے جلد از جلد حل کرنا صوبائی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہونا چاہیے۔
-

یوم دفاع پاکستان،پاک بحریہ میں دو نئے جنگی جہاز شامل ہوں گے
پاک بحریہ میں 2 نئے جنگی بحری جہازوں کی باقاعدہ شمولیت یوم دفاع پاکستان کے موقع پر ہو گی
ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پی این ایس بابر اور پی این ایس حنین کی بیک وقت پاک بحریہ کے فلیٹ میں شمولیت ہو گی،ترکی میں تیار کیا جانے والا پہلا ملجم/بابر کلاس جہاز پی این ایس بابر باضابطہ طور پر پاک بحریہ کا حصہ بنے گا،رومانیہ میں تیار کیا گیا تیسرا آف شور پٹرول ویسل پی این ایس حنین بھی پاک بحریہ میں شامل ہو گا،پی این ایس بابر کی تعمیر کا آغاز 4 جون 2024ء کو ہوا تھا،پی این ایس بابر 15 اگست 2021 کو لانچ کیا گیا جبکہ کمیشننگ 23 ستمبر 2023 کو ہوئی،ورٹیکل لانچنگ سسٹم سے لیس بابر کلاس کے 4 جہاز پاک بحریہ میں شامل کئے جا رہے ہیں،پاک ترک معاہدے کے تحت 2 جہاز استنبول اور 2 کراچی میں تیار کئے جا رہے ہیں،بابر کلاس کے 3 دیگر جہاز پی این ایس بدر، طارق اور خیبر اس وقت تیاری کے مختلف مراحل میں ہیں،بابر کلاس جہاز بیک وقت سطح آب، زیر آب اور فضا میں جنگ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے
2888 ٹن بابر کلاس جہاز پر فضائی خطرات سے نمٹنے کے لئے ورٹیکل لانچ سسٹم کے ذریعے ہدف کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے،پاک بحریہ کے لئے تیسرا یرموک کلاس او پی وی 2600 بھی رومانیہ کے گالاٹی شپ یارڈ میں تیار کیا گیا ہے،یرموک کلاس کے پہلے 2 جہازوں کے مقابلے میں آخری دو او پی ویز 2600 ٹن ڈسپلیسمنٹ کے حامل ہیں،یرموک کلاس جہازوں کو بے مثال خوبیوں کی بدولت پاکستان نیوی میں گائیڈڈ میزائل کورویٹس کا درجہ حاصل ہے،پی این ایس حنین سمیت یرموک کلاس کے تمام جہاز سطح اور فضا میں جنگ کے ساتھ سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن کے لئے بھی موزوں ہیں،98 میٹر طویل پی این ایس حنین کی رفتار 24 ناٹس کے لگ بھگ ہے،ورٹیکل لانچنگ سسٹم کی مدد سے پی این ایس حنین سطح سے فضا میں ہدف کو نشانہ بنانے والے میزائل داغ سکتا ہے،76 ایم ایم مین گن کے ساتھ پی این ایس حنین پر 20 ایم ایم کی دو سیکنڈر گنز بھی نصب ہیں،یرموک کلاس کے چاروں جہازوں کو اسلامی تاریخ کی اہم جنگوں سے منسوب کیا گیا ہے،پی این ایس یرموک اور تبوک کے بعد پی این ایس حنین بھی پاک بحریہ کی قوت و استعداد کار میں بہترین اضافہ ہو گا،یرموک کلاس کا چوتھا اور آخری جہاز پی این ایس یمامہ رواں برس فروری میں لانچنگ کے بعد تکمیل کے مراحل سے گزر رہا ہے،بابر کلاس جہاز پاک ترک دفاعی تعاون کا مظہر ہیں۔ اور دونوں ممالک میں دفاعی پارٹنرشپ کا ثبوت ہیں
پی این ایس یرموک کا عمان کا دورہ: پاک بحریہ کی جانب سے علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم بحری مشقیں
9 مئی کو ایک سال، زخم ابھی تازہ،عمران کا جوابی وار،معافی نہیں ملے گی؟
نومئی،ایک برس بیت گیا،ملزمان کی سزائیں نہ مل سکیں،یہ ہے نظام انصاف
نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان
9 مئی پاکستان کیخلاف بہت بڑی سازش جس کا ماسٹر مائنڈ بانی پی ٹی آئی،عظمیٰ بخاری
9 مئی کی آڑ میں چادرو چار دیواری کی عزت کو پامال کرنیوالے معافی مانگیں،یاسمین راشد
عوام نے نومئی کے بیانیے کو مستر د کر دیا ،مولانا فضل الرحمان