Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ امن مارچ کارواں وقت سے پہلے کامیاب ہوچکا ہے. علامہ راشد محمود سومرو

    سندھ امن مارچ کارواں وقت سے پہلے کامیاب ہوچکا ہے. علامہ راشد محمود سومرو

    سندھ امن مارچ کارواں وقت سے پہلے کامیاب ہوچکا ہے ۔ اقتدار میں آکر عوام کی پندرہ سالہ بدترین محرومیوں کا ازالہ کریں گے ، اتحادیوں سے ملکر سندھ کی اگلی حکومت بنانے جارہے ہیں ان خیالات کا اظہار جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو ودیگر نے سندھ امن مارچ کارواں کے آٹھویں دن تھر اور بدین میں بڑے جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ تفصیلات کے مطابق جے یوآئی سندھ کا بارہ روزہ امن مارچ کارواں کے آٹھویں دن پہلے تھرپارکر کے مرکزی شہر مٹھی اور بعد ازاں مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا ماتلی بدین پہنچا ، دونوں اضلاع میں شہریوں کی جانب سے سندھ امن مارچ کارواں کا والہانہ استقبال کیا گیا،ضلع تھرپارکر کے علاقوں چھاچھرو مٹھی ضلع بدین کے علاقوں ماتلی،کھوسکی،نندو،شاہنوازچوک اور تلہار میں ہزاروں افراد استقبال کیلئے چوک چوراہوں پرنکل آئے ۔قافلے کی قیادت جے یوآئی سندھ کے سیکریٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، مولانا سائیں عبدالقیوم ہالیجوی اور محمد اسلم غوری کررہے تھے جبکہ قافلے میں مرکزی سالار عبدالرزاق عابدلاکھو، مولانا عبدالکریم عابد، مولانا عبداللہ مہر ، مولانا سعودافضل ہالیجوی،حاجی عبدالمالک ٹالپر، مولانا تاج محمد ناہیوں، مولانا سمیع الحق سواتی ، مولانا صالح اندھڑ، مولانا امین اللہ، آغا ایوب شاہ، مولانا غلام محمد سومرو ، نعیم اللہ لغاری ودیگر بھی شامل تھے۔جےیوآئی ضلع تھرپاکر کے امیر مولانا عزیز اللہ ساند،جنرل سیکریٹری عبدالعزیزنوہڑی امیر ضلع بدین مولانا محمد عیسیٰ سموں،جنرل سیکریٹری مولانا فتح محمد مہیری نے ہزاروں افراد کے قافلے کے ہمراہ سندھ امن مارچ کے قائدین کا استقبال کیا۔
    https://twitter.com/SoomroOfficial/status/1718714802212868524
    مٹھی اور ماتلی میں بڑے عوامی اجتماعات سے علامہ راشد محمود سومرو ودیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں شہروں اور قصبوں کا غصب کیا گیا بجٹ کھایا گیاہے حساب تو دینا ہوگا بدین میں ایک سال کیلئے پونے آٹھ ارب روپے سے زائد رقم محکمہ تعلیم کیلئے مختص کی گئی لیکن یہاں سینکڑوں اسکول چار دیواری،واش روم اور بجلی کی سہولت سے محروم ہیں، ساٹھ لاکھ بچے صوبہ بھر میں تعلیم سے محروم ہیں۔ بدین میں اسکول آج بھی وڈیروں کےاوطاق بنے ہوئے ہیں حکومتی سرپرستی میں منشیات کا استعمال تعلیمی اداروں تک پہنچ گیا،قوم کے نوجوانوں کو ذہنی مریض بناکر حکومت کرنا اب خواب رہے گا۔

    علامہ راشد محمود سومرو کا کہنا تھا کہ حیرت ہے کہ بلدیاتی اداروں کیلئے ایک سال میں پونے دو ارب روپے کے قریب رقم جاری کی گئی لیکن گلیاں اور آبادیاں آج بھی گندگی کا منظر پیش کررہی ہیں، پبلک ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ کو 28 کروڑ کے قریب دی گئی رقم کہاں صرف ہوئی عوام پوچھنا چاہتی ہے، محمکہ صحت بدین میں غریبوں کے لئے سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کیلئے اڑھائی ارب دیئے گئے۔ لیکن صحت مراکز حکومت کا منہ چڑا رہی ہیں جہاں ایکسرے سٹی اسکن مشینیں نہ ایم آر آئی کی سہولت موجود ہےبدین کی ڈسپنسریوں میں آج بھی پرچی سسٹم رائج ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ تھر کی سرکاری ہسپتال میں لیڈی ڈاکٹر نہ ہونے کی وجہ سے ڈیلیوری کیس کی نگرانی بھی مرد ڈاکٹر کررہے ہیں جو شرم کا مقام ہے۔ تھرکول میں خواتین کو ڈرائیور رکھ کر انکی ہتک عزت کی جارہی ہے۔ کارونجھر کو 350 روپے فی من چائنہ کلے مٹی کی رقم جتنے دام میں بیچا گیا۔
    بدین کے امن امان کے نام پر پولیس کو ایک ارب ساٹھ کروڑ مختص کئے گئے لیکن نہ امن ہے نہ امان حالت یہ ہیکہ بدین پولیس فورس کو دوسرے صوبوں جتنی تنخواہیں اور مراعات تک میسر نہیں۔

  • نگلیریا  جیسے موضی مرض کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت

    نگلیریا جیسے موضی مرض کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت

    کراچی میں نگلیریا نے ایک اور جان لے لی ہے اور نارتھ کراچی میں بائیس سالہ طالب علم محمد ارسل بیگ نگلیریا سے جاں بحق ہوگیا جبکہ محکمہ صحت کے مطابق محمد ارسل کو 27 اکتوبر کو نجی اسپتال میں لایا گیا تھا، پی سی آر ٹیسٹ میں نگلیریا پازیٹو آیا تھا تاہم واضح رہے کہ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے مطابق اہل خانہ کے اسرار پر علاقے سے پانی کے نمونوں کے حصول کے لیے ٹاؤن سرویلنس کوآرڈینیٹر کو مطلع کردیا گیا ہے۔

    جبکہ ماہرین نے نگلیریا سے بچاؤ کیلئے پانی میں کلورین کی مناسب مقدار لازمی شامل کرنے کی تجویز دی ہے، کراچی میں رواں سال نگلیریا سے اموات کی تعداد دس ہوگئی ہے اور محکمہ صحت نے عوام سے نگلیریا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مسلم لیگ ن نے پارٹی رہنماؤں کا اجلاس کل طلب کرلیا
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل
    معروف عالم دین مولانا طارق جمیل کے بیٹے عاصم جمیل کا نماز جنازہ ادا کردیا گیا

    یاد رہے کہ گزشتہ روز محکمہ صحت سندھ کی جانب سے عوام سے نگلیریا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی اپیل کی گئی اور محکمہ صحت کا کہنا تھا کہ نارتھ کراچی ضلع وسطی کا رہائشی 22 سالہ طالبعلم نگلیریا سے چل بسا۔ محمد ارسل کو 27 اکتوبر کو نجی اسپتال لایا گیا تھا۔ محمد ارسل کے پی سی آر ٹیسٹ میں نگلیریا پازیٹو آیا تھا۔ اہلخانہ کے اسرار پرعلاقے سے پانی کے نمونے لینے کیلئے اقدامات کیے۔

  • روپیہ کے مقابلے ڈالر  مزید مہنگا ہوگیا

    روپیہ کے مقابلے ڈالر مزید مہنگا ہوگیا

    آج کاروباری ہفتے کے پہلے روز ہی روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور انٹربینک میں ڈالر کی قیمت میں 37 پیسے اضافہ ہوگیا ہے جس کے بعد ڈالر کا لین دین 280 روپے 95 پیسے پر بند ہوا۔ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت فروخت ایک روپے بڑھ کر 282 روپے 50 پیسے ہوگئی ہے جبکہ جمعے کے روز انٹر بینک میں ڈالر 48 پیسے اضافے سے 280 روپے 57 پیسے پر بند ہوا تھا۔


    تاہم دوسری جانب پاکستان اسٹاک ایکس چینج میں مثبت رجحان رہا، کاروبار کے اختتام پر ہنڈریڈ انڈیکس 539 پوائنٹس اضافے سے 51 ہزار 480 پوائنٹس پر بند ہوا جبکہ ادھر سونے کی 10 گرام قیمت ایک ہزار 28 روپے کمی سے ایک لاکھ 81 ہزار 842 روپے ہوگئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سوئس خاتون کو پلاسٹک بیگ میں ڈال کرمبینہ دوست نے کیا قتل

    فی تولہ سونے کا بھاؤ 1200 روپے کم ہو کر 2 لاکھ 12 ہزار 100 روپے ہوگیا۔ ادھر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئندہ 2 ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا ہے اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعلامیےکے مطابق شرح سود 22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    خیال رہے کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق دوسری ششماہی میں مہنگائی میں کمی کا سلسلہ جاری رہےگا اور اسٹیٹ بینک کا کہنا ہےکہ خریف کی فصل کے ابتدائی تخمینے حوصلہ افزا ہیں یہ بھی یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کے مطابق تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور گیس کے نرخوں کے باعث کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو خطرات رہیں گے۔

  • اینکر مرید عباس قتل کیس میں اہم پیش رفت

    اینکر مرید عباس قتل کیس میں اہم پیش رفت

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج جنوبی،اینکر مرید عباس قتل کیس میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے

    عدالت نے کیس کے اہم گواہ عمر ریحان کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کرنے کی درخواست منظور کرلی ، درخواست میں کہا گیا کہ کیس کا گواہ متعدد بار گواہی دینے آچکا ہے کیس کا گواہ اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ گیا ہوا ہے ،سرکاری وکیل نے کہا کہ کیس کے گواہ کا بیان ویڈیو لنک کے ذریعے ریکارڈ کیا جائے تاکہ کیس کے ٹرائل میں تاخیر نا ہو،

    ملزم عاطف زمان کے وکیل نےدرخواست پر اعتراض کیا اور کہا کہ گواہ کو واپس بلوایا جائے عدالت کی اجازت کے بغیر کیسے باہر چلا گیا ہے ،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹیکنالوجی مین جدت آچکی ہے ویڈیو لنک کے ذریعے بھی بیان ریکارڈ ہوسکتا ہے ،پراسکیوشن گواہ کے بیان ریکارڈ کرنے کے انتظامات کرے ،پراسکیوشن گواہ کے بیان کے وقت پورے کمرے تک کیمرے کی رسائی یقینی بنائے تاکہ گواہ پر کوئی اثر انداز نا ہوسکے ،پراسکیوشن نے کہا کہ کیس میں ملزم عاطف زمان گرفتار اور عدالتی ریمانڈ پر جیل میں ہے ،جبکہ ملزم کا ایک بھائی تاحال مفرور ہے،پولیس حکام کے مطابق ملزم عاطف زمان پر مرید عباس کے قتل کا الزام ہے ،ملزم عاطف زمان کی فائرنگ سے جولائی 2019 میں مرید عباس ہلاک ہوا تھا،

    مرید عباس قتل کیس، ملزم کے والد نے قانونی کاروائی کیلئے وکیل سے رجوع کر لیا

    مرید عباس قتل کیس: عدالت کا 9 اگست تک تحقیقات مکمل کرنے کا حکم

    اینکر مرید عباس کے قاتل نے مانگی انکی اہلیہ سے معافی، کیا جواب ملا؟

  • قتل کا مقدمہ تین ماہ بعد درج

    قتل کا مقدمہ تین ماہ بعد درج

    لاہور میں ڈی آئی جی شارق جمال کے قتل کا مقدمہ تین ماہ بعد مقتول کی بیٹی حانیہ شارق کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے اور ایف آئی آر کے مطابق نامزد ملزمان میں سرکاری ملازمہ قرۃالعین کے علاوہ منصور الہٰی، سمیع اللہ نیازی، شعیب، عمران جاوید بٹ بھی نامزد ہیں اور اس کی ایف آئی آر کے مطابق مقدمے میں دو ذاتی ملازمین صغیر اور عدیل بھی نامزد ہیں۔

    تاہم درج مقدمے کے متن کے مطابق شارق جمال کی موت کو طبعی موت ظاہر کر کے ڈرامہ کیا گیا، موت کے وقت گھر کی تجوری کھلی ہوئی تھی۔ تجوری سے 8 کروڑ مالیت کے ڈالرز اور پانچ لاکھ کیش غائب تھا۔ شارق جمال نے متعدد منصوبوں میں انویسٹمنٹ کر رکھی تھی اور تجوری سے کاغذات بھی غائب تھے تاہم یاد رہے کہ جولائی میں لاہور کے علاقے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی میں ڈی آئی جی شارق جمال اپنے گھر پر پُراسرار طور پر مردہ پائے گئے تھے۔

    واضح رہے کہ شارق جمال کی موت کی اطلاع ملنے پر پولیس اور ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچیں تھیں، لاش کو پوسٹ مارٹم کے لے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ جائے وقوعہ سے ملنے والے برتن اور دیگر اشیا قبضے میں لے کر فرانزک کے لیے بھجوا دیے گئے تھے، ابتدائی پوسٹمارٹم رپورٹ میں ڈی آئی جی شارق جمال کی موت طبعی بتائی گئی تھی اور پولیس ذرائع کے مطابق شارق جمال کی موت کے بعد گرفتار خاتون نے پولیس کو اپنے ابتدائی بیان میں بتایا تھا کہ شارق جمال کی طبعیت ادویات کے اوور ڈوز ہونے کی وجہ سے رات 10 بجے خراب ہوئی۔

    واضح رہے کہ شارق جمال نے پہلے خاتون سے پانی پھر کولڈ ڈرنگ مانگی، ساڑھے 12 بجے کے قریب طبعیت زیادہ خراب ہونے پر خاتون انھیں نشینل اسپتال لیکر گئیں، جہاں ڈاکٹر نے شارق جمال کی موت کی تصدیق کی۔

  • ایم کیو ایم پاکستان کا  کراچی میں  سیاسی قوت کا مظاہرہ

    ایم کیو ایم پاکستان کا کراچی میں سیاسی قوت کا مظاہرہ

    کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان نے سیاسی قوت کا مظاہرہ کیا ہے اور اس میں بڑی تعداد میں کارکنان نے لیاقت آباد کے اسٹوڈنٹس گراؤنڈ میں منعقدہ جلسے میں شرکت کی جبکہ پارٹی کنوینئر خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ سندھ کی تقسیم نہیں چاہتے مگر سندھ کے شہری علاقوں کی خلیج باٹنے کی تمام قربانی ایم کیوایم دے چکی اور جلسے سے خطاب میں خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ متحدہ قومی موومنٹ صوبوں کو بھی ایک ایڈمنسٹریٹو یونٹ سمجھتی ہے۔ دھرتی ماں صرف پاکستان ہے، صوبے دھرتی ماں نہیں ہوسکتے۔

    جبکہ ان کا کہنا تھا کہ جس قوم نے آزادی دی پاکستان کو جینے کا جواز دیا ان کو کیا دیا گیا، ہمیں مزید دیوار سے لگایا گیا تو اب یہ دیوار اس قابل نہیں اور گر جائے گی جبکہ میں جمہوریت کے ساتھ اور جاگیر دارانہ نظام کیخلاف کھڑا ہوں، اب ایوان اور بیلٹ فیصلہ نہیں کریگا تو روڈ کی طاقت سے فیصلہ کرنے کو تیار ہیں۔

    خالد مقبول کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا سب سے زیادہ ریونیو دینے والا شہر ہے، پاکستان کو تینوں صوبے مل کر سولہ سو چالیس ارب دیتے ہیں، صرف کراچی ہی ایک ہزار چالیس ارب پاکستان کے خزانوں میں دیتا ہے تاہم یاد رہے کہ ایم کیو ایم پاکستان نے عام انتخابات کی تیاریاں تیز کر دیں۔ اس حوالے سے لیاقت آباد کے اسٹوڈنٹس گراؤنڈ میں جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ جلسہ گاہ میں دس ہزار سے زائد کرسیاں لگائی گئیں۔

  • مہنگائی کو ختم تو نہیں کیا گیا لیکن کم کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے،نگران وزیر خزانہ

    مہنگائی کو ختم تو نہیں کیا گیا لیکن کم کرنے کی کوشیش کی جارہی ہے،نگران وزیر خزانہ

    نگران وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا ہے کہ ہم نے مہنگائی کو ختم تو نہیں کیا اور نہ ہی قابو کیا لیکن اس میں کمی آرہی ہیں۔قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد سے روپیہ مستحکم ہوگیا ہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری میں تقریب سے خطاب کرتے نگران وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ میرا کام معیشت کو مشکل حالات سے نکالنا ہے ۔ اس کے لیے بہت محنت کر رہے ہے ۔ نگران حکومت نے 2 ماہ میں خاطر خواہ کوشش کی ، کہ مہنگائی پر قابو پایا جائے.
    انہوں نے کہا کہ جب ہم نےجب حکومت سنبھالی معیشت کو کیا مشکلات درپیش تھیں اسکا علم سب کو ہے ۔ لہذا ہم نے بہت جلد معیشت کو بحال کرنے کی کوشش کی جو آسان کام نہیں تھا ۔ ہم زیادہ وقت ضائع نہیں کرسکتے ، اس لیے کام پر توجہ دیتے ہیں ۔ ادویات کی صنعت کے بارے میں متعلقہ وزارت سے رابطہ کریں گے معاشی بحالی کی سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں ۔ ہم اس عمل کو تیز کرنا چاہتے ہیں، انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کی شرح نمو 2 سے 3 فیصد ہوگی ۔ ورلڈ بینک نے اس ضمن میں محتاط تخمینہ دیا ہے ۔ پہلی مرتبہ 14 ماہ میں لارج اسکیل اور پاور سیکٹر نے گروتھ کی ہے۔ سیمنٹ اور ٹریکٹرز کی پیداوار میں بہتری آئی ہے ۔ کھاد کی فروخت تیزی سے بحال ہوئی جب کہ کپاس کی پیداوار 80 فیصد بڑھی ہے ۔ کسانوں کے جولائی ستمبر کے دوران قرض میں 44 فیصد اضافہ ہوا۔
    تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ انٹربینک میں ڈالر 279 روپے پر مستحکم ہوچکا ہے۔ 8 فیصد روپے کی قدر بہتر ہوئی ہے۔ انٹربینک میں ڈالر 305 تک پہنچ چکا تھا ۔ روپے کی قدر کو بہتر بنانے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے بہت اچھا کردار ادا کیا ہے۔ سرحدوں پر کرنسی کے حوالے سے غلط کام ہورہا تھا ۔ ایکس چینج کمپنیوں کی اصلاحات نے بھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر شمشاد اختر نے کہا کہ بجلی کی چوری ایک بڑا مسئلہ ہے۔بجلی گیس کی قیمتوں کو انٹرنیشنل مارکیٹ کے مطابق بنایا ہے ۔ تیل کی قیمت میں کمی کے فوری اثرات عوام کو منتقل کیے۔ ایف بی آر نے پہلی سہ ماہی میں آئی ایم ایف کے ہدف سے زائد ٹیکس وصولی کی ہے ۔ اس ہدف پر رکنا نہیں حکومت چلانے کے لیے پیسا چاہیے۔ سرکاری اداروں کے لیے اصلاحات بھی لا رہے ہیں۔

  • لاپتہ افراد کیس میں سیکرٹری داخلہ سندھ طلب

    لاپتہ افراد کیس میں سیکرٹری داخلہ سندھ طلب

    سندھ ہائی کورٹ میں دو بچوں سمیت دیگر لاپتہ افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں پر سماعت ہوئی

    جسٹس امجد علی سہتو نے درخواست پر سماعت کی۔ عدالت نے محکمہ داخلہ سندھ کی رپورٹ پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے 2 نومبر کو سیکرٹری داخلہ سندھ کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا، عدالت نے وفاقی سیکرٹری داخلہ سے بھی جبری گمشدگی کی نشاندہی اور اہل خانہ کو معاوضہ دینے سے متعلق رپورٹ طلب کر لی،

    سماعت کے دوران درخواست گزار خاتون نے عدالت میں کہا کہ آٹھ برس سے شوہر لاپتہ ہیں کوئی نہیں سنتا ہماری کوئی سفارش بھی نہیں،خاتون کی استدعا پر جسٹس امجد علی سہتو نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کی سفارش سنتے بھی نہیں، عدالت تمام لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے کی کوشش کر رہی ہے

    سندھ ہائی کورٹ نے لاپتہ افراد کو ہر ممکن صورت بازیاب کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 2 نومبر تک ملتوی کر دی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • عمارت کو ایسے کیسے مسمار کرنے کا حکم دے دیں؟ عدالت

    عمارت کو ایسے کیسے مسمار کرنے کا حکم دے دیں؟ عدالت

    سندھ ہائیکورٹ, ضیاالحق کالونی میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف درخواست کی سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست گزار سے بلڈنگ اپروو پلان اور نقشہ طلب کرلیا.عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمارت کو ایسے کیسے مسمار کرنے کا حکم دے دیں،کیا عدالت سے پہلے ایس بی سی اے سے رجوع کیا تھا؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایس بی سی اے کو درخواست دی تھی مگر تعاون نہیں کیا، عدالت نے کہا کہ ایس بی سی اے نے بلڈنگ پلان تو اپروو کیا ہوگا وہ کہاں ہے؟ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ ایس بی سی اے نے بلڈنگ اپروو پلان بھی نہیں دیا، عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب ہمارے سامنے بلڈنگ اپروو پلان نہیں ہوگا کارروائی کا حکم کیسے دے سکتے ہیں؟

    عدالت میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ ضیاالحق کالونی میں بلڈر سید شمسی غیر قانونی تعمیرات کررہا ہے،گراونڈ پلس ٹو کی اجازت لے کر 3 منزلہ عمارت تعمیر کرچکا ہے، بلڈر نے پارکنگ ایریا کو بھی عمارت کی تعمیرات میں شامل کرلیا ہے،غیر قانونی تعمیرات مسمار کرنے کا حکم دیا جائے،

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    شوکت ترین ، تیمور جھگڑا ،محسن لغاری کی پاکستان کے خلاف سازش بے نقاب،آڈیو سامنے آ گئی

  • صحافی جان محمد مہر کے قتل میں ملوث تین نامزد ملزمان  گرفتار

    صحافی جان محمد مہر کے قتل میں ملوث تین نامزد ملزمان گرفتار

    سکھر پولیس نے کچے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے صحافی جان محمد مہر کے قتل میں ملوث تین نامزد ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ کچے میں جاری آپریشن میں اہم پیش رفت سامنے آگئی جس میں صحافی جان محمد مہرکے قتل میں ملوث گرفتار کیے گئے 3 نامزد ملزمان میں شیرمحمد شیخ، رمضان شیخ اور بشیر مہر شامل ہیں۔ جبکہ ایس ایس پی سکھر کے مطابق جاں محمد مہر کے قتل کا منصوبہ شیر محمد شیخ کے گھر میں بنایا گیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ واردات کے بعد بشیر مہر نے ملزمان کو پناہ دی، ملزمان کو کچے میں محفوظ مقام فراہم کیا گیا۔

    خیال رہے کہ دو ماہ قبل صوبہ سندھ کے شہر سکھر میں سینئر صحافی جان محمد مہر کو قتل کردیا گیا تھا اور جان محمد مہر آفس سے گھر جارہے تھے کہ قاسم پارک کے قریب مسلح ملزمان نے فائرنگ کرکے زخمی کردیا تھا جس کے بعد جان محمد کو تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کردیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے جبکہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے صحافی جان محمد مہر کی قاتلانہ حملے میں شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کیا اور واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی تھی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ کو صحافی جان محمد کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کی ہدایت کی ساتھ ہی ان کے بلند درجات اور ورثا کے صبر کے لیے دعا بھی کی تھی اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے صحافی جان محمد مہر کے بلندی درجات کے لئے فاتحہ خوانی اور جملہ لواحقین کے صبر جمیل کی دعا بھی کی تھی انصاف کا وعدہ کیا تھا.