Baaghi TV

Category: کراچی

  • ملک میں  فی تولہ سونے کی قیمت میں اضافہ

    ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت میں اضافہ

    کراچی: عالمی مارکیٹ میں قیمت بڑھنے کے بعد مقامی مارکیٹ میں بھی فی تولہ سونا مہنگا ہو گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: عالمی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 4 ڈالر کے اضافے سے 2047 ڈالر پر آ گئی، جس کے بعد پاکستان میں فی تولہ سونے کی قیمت میں 400 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا قیمتوں میں اضافے کے نتیجے میں کراچی، حیدرآباد، ملتان، لاہور، راولپنڈی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ کی صرافہ مارکیٹوں میں فی تولہ سونے کی قیمت میں اضافے کے بعد فی تولہ سونا 2 لاکھ 17 ہزار 600 جبکہ فی دس گرام سونے کی قیمت 343 روپے کے اضافے کے بعد ایک لاکھ 86 ہزار 577 ہو گئی ہےدوسری جانب فی تولہ چاندی کی قیمت بغیر کسی تبدیلی کے 2670 روپے اور فی دس گرام چاندی کی قیمت بھی بغیر کسی تبدیلی کے 2289.09 روپے پر مستحکم رہی۔

    دوسری جانب ڈائریکٹوریٹ جنرل آف کسٹمز ویلیو ایشن کراچی نے چین، ترکیہ، کوریا، مشرق وسطیٰ، تھائی لینڈ، روس اور ایران سے 46 اقسام کے انجن آئل کی درآمد پر کسٹمز ویلیو میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ کردیا جس کے بعد پاکستان میں انجن آئل مہنگا ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے قیمتوں کا دوبارہ تعین اس طرح کیا گیا کہ انجن آئل کی درآمد پر انڈر انوائسنگ کے واقعات کو کافی حد تک کم کیا جاسکے، کسٹمز ویلیوز (سی اینڈ ایف) فی لیٹر اور فی کلو گرام کی بنیاد پر امریکی ڈالر میں طے کی گئی ہیں۔

    اس سلسلے میں ڈائریکٹوریٹ نے گزشتہ روز نیا ویلیو ایشن فیصلہ جاری کیا جس کے مطابق درآمدی انجن آئل کی کسٹم ویلیوز کا تعین ویلیو ایشن رولنگ کے تحت کیا گیا مشاہدہ کیا گیا کہ زیادہ تر برانڈز کی ہول سیل اور ریٹیل قیمتوں کا مارکیٹ سروے میں ذکر نہیں جب کہ قیمتوں کے تعین کا عمل طریقہ کار کی بے ضابطگیوں کا شکار ہوا۔

    ڈائریکٹوریٹ کے ذریعہ سبجیکٹ سامان کی کسٹم اقدار کا دوبارہ تعین کرنے کے لئے ایک اجلاس طلب کیا گیا جس میں متعلقہ اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی، مذکورہ اجلاس میں اشیاء کی ویلیو ایشن سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیااسٹیک ہولڈرز نے کہا کہ ویلیو ایشن رولنگ نمبر 1805/2023 میں طےشدہ کسٹمز ویلیوز زیادہ ہیں اور بین الاقوامی مارکیٹ کےمطابق ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے، انجن آئل بیس آئل سے بنائے جاتے ہیں، انجن آئل کے مختلف گریڈ پیدا کرنے کے لئے بنیادی تیل میں مختلف اجزاء شامل کیے جاتے ہیں۔ لہذا ان کی قیمتوں کا تعین کرنے میں بنیادی تیل اور اضافی اجزاء کی اقدار پر بھی غور کیا جاسکتا ہے۔

    اسٹیک ہولڈرز کا کہنا تھا کہ سبجیکٹ سامان کی قدروں کا تعین کرتے وقت اعلیٰ درجے کے برانڈز کی اقدار پر غور نہیں کیا جانا چاہئے اسٹیک ہولڈرز نے دعویٰ کیا کہ انجان آئلز کی مارکیٹ ویلیو ویلیو ایشن رولنگ نمبر 1140/2017 میں طے شدہ قدروں سے صرف 5 فیصد زیادہ ہے اور ویلیو ایشن رولنگ نمبر 1805/2023 میں قیمتیں کہیں زیادہ ہیں۔

    بعد ازاں ڈائریکٹریٹ کا کہنا تھا کہ درآمد کنندگان کے سیلز ٹیکس انوائسز کو مدنظر رکھتے ہوئے اشیاء کی کسٹم ویلیوز کا تعین کیا جس میں ویلیو ایشن کے طریقوں کو استعمال کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے-

  • جسٹس عقیل احمد عباسی نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا حلف اٹھا لیا

    جسٹس عقیل احمد عباسی نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا حلف اٹھا لیا

    کراچی: جسٹس عقیل احمد عباسی نے چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کا حلف اٹھا لیا-

    باغی ٹی وی: گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری اور وزیرِ اعلیٰ سندھ مقبول باقر نے حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی تقریب میں سندھ ہائیکورٹ کے ججز، ایڈووکیٹ جنرل، پراسیکیوٹر جنرل سمیت متعدد وکلاء شریک ہوئے،تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے کیا گیا، گورنرسندھ نےنئے چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ سے حلف لیا۔

    ہائیکورٹ آف سندھ کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق جسٹس عقیل احمد عباسی نے اپریل 1990 سے ضلعی عدالتوں میں دسمبر 1992 سے عدالتِ عالیہ سندھ میں 29 اپریل 2006ء سے عدالتِ عظمیٰ پاکستان میں قانونی پیشہ ورانہ تجربہ: 1998 میں قانونی پریکٹس ٹیکسیشن اور کارپوریٹ قانون اپنے والد پروفیسر مسعود احمد عباسی وکیل کے چیمبر میں شروع کی ۔

    مجھے بھی پیاس کے صحرا میں بھٹکایا گیا ہے

    بانیوں میں سے ایک ٹیکس سائیڈ پر، جن کی قانونی فرم 1969 میں میسرز عباسی اینڈ کمپنی وکلاء کے نام سے قائم ہوئی۔ 2000 میں انکم ٹیکس ادارے وفاقی بورڈ آف روینیو حکونتِ پاکستان کے بطورِ قانونی مشیر مقرر ہوئے ، ہائی کورٹ آف سندھ کے بطورِ جج مقرر ہونے تک ۔ کسٹم سینٹرل ایکسائز اور سیلز ٹیکس ادارے حکومتِ پاکستان IDBP حکومتِ پاکستان اور HBFC حکومتِ پاکستان کے پینل پر بطورِ وکیل مُقرر ہوئے –

    سندھ ہائیکورٹ نے نئے چیف جسٹس پاکستان لیگل ڈیسیژنز (PLD) اور پاکستان ٹیکس ڈیسیژنز (PTD) کے بطور اعزازی لاء رپورٹر رہے ہائی کورٹ آف سندھ کے بطورِ جج مقرر ہونے تک ۔ 1998/1999 اور 1999/2000 میں سندھ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کراچی کے بطور ممبر مینیجنگ کمیٹی نامزد ہوئے اس کے علاوہ 2001/2002 کے لئے سندھ ہائی کورٹ کے (غیر مخالفت ) اعزازی جوائنٹ سیکرٹری بار ایسوسی ایشن کراچی چنے گئے –

    پادری ہم جنس پرست جوڑوں کیلئے دعائے خیر کر سکتے ہیں،پوپ فرانسس

    دیوانی ،فوجداری اور سروس مقدمات کامیابی سے کرنے کے بعد وفاقی بورڈ آف ریوینیو حکومتِ پاکستان کی طرف سے معزز عدالتِ عظمیٰ ، عدالتِ عالیہ انکم ٹیکس ایپیلیٹ ٹریبیونل ،کسٹم ، ایکسائز اور سیلز ٹیکس ایپیلیٹ ٹریبیونل میں کیسوں کی بھاری مقدار میں کامیابی حاصل کی ، طریقہ محصول قانون پر کئی مضامین اور تحقیقی دستاویزات مہیا کی جو کہ قانونی روزنامچے میں شائع ہوئے اور بھی کئی قانونی معاملات پر سیمینار اور ورکشاپس میں شرکت کی بروز جمعہ 25 ستمبر 2009 کو بطور اضافی جج عدالتِ عالیہ سندھ کے مقرر ہوئے ، بعدِ ازاں بروزِ پیر 19 ستمبر 2011 کو اِس عدالت کے بطور جج حلف لیا۔

    میرے گھر پر حملہ خواجہ آصف نے کرایا،عثما ن ڈار کی والدہ کا الزام

  • پیپلز پارٹی میں لوگ شامل ہورہے ،آئندہ حکومت  پیپلز پارٹی بنائے گی،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی میں لوگ شامل ہورہے ،آئندہ حکومت پیپلز پارٹی بنائے گی،شازیہ مری

    پیپلز پارٹی کی رہنما،سابق وفاقی وزیر شازیہ مری نے کہا ہے کہ نواز شریف تو دنیا میں ہونے والے تمام کاموں کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں،نواز شریف صاحب اپنے کاموں کا کریڈٹ لیں،

    کراچی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شازیہ مری کا کہنا تھا کہ آئین پاکستان کی کتاب ہر شہری کے پاس ہونی چاہیے، پارلیمنٹ جمہوریت کا بنیادی ستون ہے،ہمیں اپنے حقوق کے بارے میں معلومات بھی ہونی چاہئیں ،کوشش کروں گی کہ جو بات آج یہاں ہو وہ ہر پارلیمنٹیرین تک پہنچا سکوں،ن لیگ نے کوشش کی کہ تھرکول منصوبے میں بینظیر بھٹو کانام نہ لیا جائے،جب نوازشریف کی حکومت آئی تو تھرکول منصوبے پر کوئی کام نہیں ہوا،پیپلز پارٹی میں لوگ شامل ہورہے ہیں اور آئندہ حکومت بھی پیپلز پارٹی بنائے گی،ہمارا مطالبہ لیول پلیئنگ فیلڈ ہے،لیول پلیئنگ فیلڈ میں پتہ چلے گا کہ کون سی جماعت کتنی مقبول ہے،آصف زرداری کے اقدامات کو مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں ،آصف زرداری نے تمام جماعتوں کیساتھ اچھے تعلقات رکھے،پیپلز پارٹی کے دور میں کوئی سیاسی قیدی نہیں تھا نہ کسی پر کوئی کیس بنایا،

    شازیہ مری کا مزید کہنا تھا کہ بلاول بھٹو الیکشن کمیشن سے مسلسل انتخابات کا مطالبہ کرتے رہے،ہمارا پہلا مطالبہ انتخابات کی تاریخ دینے کا تھا،سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کی تاریخ دے دی گئی،سپریم کورٹ نے واضح کہا ہے کہ شفاف اور آزادانہ انتخابات کا انعقاد ہو،پاکستان کے عوام سے درخواست ہے کہ ہماری حمایت کریں تاکہ جو انقلابی کام ہم نے سندھ میں کئے ہیں وہ پورے ملک میں ہوں

    دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما رہنما عاجز دھامرا نے کراچی میں شہلا رضا کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ہم تھر کی بجلی فیصل آباد بھیج رہے ہیں لیکن سندھ کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش ہو رہی ہے، نگراں حکومت کوئی کام نہیں کر رہی، آج کسانوں اور کاشتکاروں کو کھاد نہیں مل رہی، سندھ کی معیشت کو تباہی کے کنارے پر کھڑا کر دیا گیا ہے، پیپلز پارٹی واحد پارٹی ہے جس نے الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا، الیکشن مہم سے متعلق چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو متحرک کردار ادا کر رہے ہیں جبکہ آصف زرداری نے گورنر ہاؤس خیبر پختون خوا میں بزنس کمیونٹی سے ملاقات کی،بلاول بھٹو اور آصف زرداری ملک کو سیاسی بحران سے نکالنا چاہتے ہیں، پورے پاکستان کو سندھ بنانا چاہتے ہیں لیکن ہم پر اس بات کو لے کر تنقید کی جا رہی ہے، پلیجو صاحب پیپلز پارٹی پر تنقید کر رہے ہیں، پیپلز پارٹی سے ترقیاتی کاموں سے متعلق مقابلہ کرنا ہے تو کریں، موقع دیا جائے تو پیپلز پارٹی دوسرے صوبوں کو ثابت کرے گی کہ سندھ نے کتنی ترقی کی ہے، اسلام کوٹ ایئر پورٹ کو سندھ نے اپنے اخراجات سے بنایا ہے، اسلام کوٹ میں فری بجلی فراہم کی جاتی ہے، ہم تھر کی بجلی فیصل آباد بھیج رہے ہیں،وہ سیاسی پارٹیاں جنہوں نے اناڑی ڈرائیور بٹھایا ہوا ہے اپنی خیر منائیں، ہم پر ناکام حملے کرتے کرتے اپنی وکٹیں گراتے جا رہے ہیں، یہ ہر دور میں ہمارے خلاف اتحاد بنتے رہے ہیں، تمام پارٹیوں کے پاس اتحاد کرنے کے باوجود پولنگ ایجنٹ تک نہیں ہو گا، الیکشن کمیشن اپنے کام میں سست ہوتا ہے تو لوگ درخواستیں لے کر عدالت جاتے ہیں۔

    رہنماوں نے پارٹی قیادت سے ٹکٹ پر نظر ثانی کا مطالبہ کرتے ہوئے استعفیٰ کی دھمکی دے دی،

    زمان پارک کے باہر مختلف رہنماؤں اور کارکنوں کی جانب سے اجتجاج

    اگر ٹکٹ کا میرٹ میرا نہیں بنتا تو پھر کس کا بنتا ہے؟ عائلہ ملک پھٹ پڑی

    تحریک انصاف کے دو ٹکٹس ہولڈرز بھی کرپشن میں ملوث

    زمان پارک میں بجلی چوری؛ لیسکو نے انتظامیہ کو نوٹس جاری کردیا

     ثاقب نثار کے بیٹے نے بھی پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کی لوٹ سیل لگا دی ،آڈیو لیک

  • مچھر کالونی کراچی،سلنڈر دھماکہ،تین افراد کی موت،متعدد زخمی

    مچھر کالونی کراچی،سلنڈر دھماکہ،تین افراد کی موت،متعدد زخمی

    شہر قائد کراچی میں افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، سلنڈر دھماکے کے نتیجے میں تین افرا د کی موت ہو گئی ہے جبکہ عمارت زمین بوس ہو گئی ہے

    واقعہ کراچی کے علاقے مچھر کالونی، ماڑی پور میں پیش آیا،دھماکے کی اطلاع ملتے ہی ریسکیو ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں، پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی،ریسکیو‌حکام کے مطابق مچھر کالونی جعفر چوک کے قریب سلنڈر دھماکہ ہوا جس سے عمارت مسمار ہو گئی،دھماکے کے نتیجے میں تین افراد کی موت ہوئی جبکہ 14 افراد زخمی ہوئے ہیں، لاشوں اور زخمیوں‌کو ہسپتال منتقل کر دیا گیا،سول اسپتال انتظامیہ کے مطابق عمارت میں سلینڈر دھماکے کے 8 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا، سلینڈر دھماکے میں جاں بحق 2 افراد کی لاشوں کو بھی سول اسپتال منتقل کیا گیا

    چھیپا ترجمان کے مطابق ماڑی پور مچھر کالونی جعفر چوک کے قریب بلڈنگ گرنے سے 01 بچی سمیت 03 افراد جاں بحق و 02 خواتین اور 05 بچوں سمیت 14 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں،جاں بحق و شدید زخمی ہونے والوں کو چھیپا ایمبولینس کے ذریعے سول ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے۔
    جاں بحق و شدید زخمی ہونے والوں کی شناخت:
    01-شناخت تاحال نہ ہوسکی عمر23سال (جاں بحق)
    02-عبدالوہاب ولد حاجی اسرائیل عمر50سال (جاں بحق)
    03- الفت دختر عبدالحمید عمر04سال(جاں بحق بچی)
    04-نور حسین ولد نور محمد عمر28سال (زخمی)
    05-حمید ولد نور محمد عمر25سال (زخمی)
    06-شناخت تاحال نہ ہوسکی عمر28سال (زخمی)
    07-شہزادی دختر طاہر عمر03سال (زخمی بچی)
    08-سعید نور فضل حق عمر32سال (زخمی)
    09- نبی عالم ولد فضل حق عمر28سال (زخمی)
    10-عبدالامین ولد ابو بکر عمر27سال (زخمی)
    11-شناخت تاحال نہ ہوسکی عمر10سال (شدید زخمی بچہ)
    12-رضیہ زوجہ امین عمر23سال (شدید زخمی خاتون)
    13-راشد ولد اظہر عمر10سال (شدید زخمی بچہ)
    14-عمر فاروق ولد طارق عمر21سال (شدید زخمی)
    15-احمد ولد سعید نور عمر03سال (شدید زخمی بچہ)
    16-مبالسہ دختر محمد نور عمر03سال (شدید زخمی بچی)
    17-شناخت تاحال نہ ہوسکی عمر15سال (شدید زخمی لڑکی)

  • پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے،لاپتہ افراد کیس میں شہری کی دہائی

    سندھ ہائیکورٹ: طویل عرصے سے لاپتہ دس سے زائد افراد کی بازیابی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی

    جسٹس نعمت اللہ پھلپوٹو نے پولیس افسران سے استفسار کیا کہ لاپتہ شہری کے حوالہ سے کتنی جے آئی ٹیز ہوچکی ہیں ،پولیس حکام نے کہا کہ 16 جے آئی ٹیز اور پی ٹی ایف سیشن ہوچکے ہیں ،درخواست گزار نے کہا کہ 9 سال سے لاپتا ریاست اللہ کا تاحال پتہ نا چل سکا، پولیس نے پیش رفت رپورٹ جمع کرادی،تفتیشی افسر نے کہا کہ ریاست اللہ کا کیس جبری گمشدگی کی کیٹیگری میں شامل کردیا گیا ہے ،درخواست گزار نے کہا کہ 9 سال ہوگئےہیں ہمارے حالات بہت خراب ہیں ، نوکری ملازمت بھی مل رہی ہے خدارا کچھ تو کیجیے ،واجد حسین سات سال سے لاپتا ہے کچھ تو کریں ، کیوں اغواء کرکہ لے جاتے ہیں جب قانون موجود ہے تو ،عدالت نے ایس پی انوسٹی گیشن کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا،عدالت نے وفاقی وزارت داخلہ سے بھی رپورٹ طلب کرلی، درخواست گزار نے کہا کہ اگر پچاس سال بھی لگ جائیں ہم عدالت آتے رہیں گے ،جب تک ہم زندہ ہیں عدالت آتے رہینگے، عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 30 جنوری تک ملتوی کردی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

    اگلے مرحلے پر آئی جی کو بھی طلب کرسکتے ہیں

    واضح رہے کہ لاپتہ افراد کیس میں ایک گزشتہ سماعت کے دوران عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا کہ کیا آپ کو معلوم ہے جبری گمشدگی کیا ہوتی ہے؟ جبری گمشدگی سے مراد ریاست کے کچھ لوگ ہی لوگوں کو زبردستی غائب کرتے ہیں، جس کا پیارا غائب ہو جائے ریاست کہے ہم میں سے کسی نے اٹھایا ہے تو شرمندگی ہوتی ہے، ریاست تسلیم کرچکی کہ یہ جبری گمشدگی کا کیس ہے،انسان کی لاش مل جائے انسان کو تسلی ہوجاتی ہے،جبری گمشدگی جس کے ساتھ ہوتی ہے وہی جانتا ہے، بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، اگر آپ ان چیزوں کو کھولیں گے تو شرمندگی ہو گی

  • سیمنٹ کے ٹرک سے  3 کروڑ سے زائد کی منشیات برآمد

    سیمنٹ کے ٹرک سے 3 کروڑ سے زائد کی منشیات برآمد

    سندھ: جیکب آباد میں سیمنٹ کے ٹرک سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کرلی گئی۔

    باغی ٹی وی: اینٹی نارکوٹکس فورس کے ترجمان کے مطابق جیکب آباد میں اے این ایف نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا،دوران آپریشن ضلع خیر پور جانے والے ٹرک کو پکڑا گیا، سیمنٹ کے ٹرک سے بھاری مقدار میں منشیات برآمد کی گئی منشیات ٹرک کے خفیہ خانوں میں رکھی گئی تھی، 620 کلو گرام منشیات کی مالیت 3 کروڑ سے زائد ہے۔

    قبل ازیں ڈائریکٹر کراچی زون ضعیم اقبال شیخ کی ہدایت پر انسانی سمگلرز کی گرفتاری کے لئے کریک ڈاؤن کیا گیا ،ڈپٹی ڈائریکٹر اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی بہاول اوستو کے احکامات پر چھاپہ مار ٹیم نے کارروائی کرتے ہوئے انسانی سمگلر کو گرفتار کر لیاگرفتار ملزم انسانی سمگلنگ کے گھناونے جرم میں ملوث تھاملزم حمزہ سہیل کو کراچی کے علاقے بہادرآباد سے گرفتار کیا گیا-

    ملزم بغیر لائسنس کے عجوہ ٹریول کے نام سے ایجنسی چلا رہا تھا،ملزمان سادہ لوح شہریوں کو ملازمت کا جھانسہ دے کر بھاری رقوم وصول کر رہے تھےابتدائی تفتیش کے مطابق ملزم نے متعدد شہریوں سے بیرون ممالک بھجوانے کے نام پر پاسپورٹ وصول کئے چھاپے کے دوران ملزم کے قبضے سے 13 عدد پاسپورٹس، 12 چیک بکس، لیپ ٹاپس اور دیگر دستاویزات برآمد کر لئے گئے ملزم لائسنس کے حوالے سے بھی حکام کو مطمئن نہ کر سکا ملزم کے خلاف کاروائی خفیہ اطلاع پر عمل میں لائی گئی ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا گیا۔ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    علاوہ ازیں گزشتہ روز ترجمان ایف آئی اے ساہیوال پولیس نے ناجائز اسلحہ کی بڑی کھیپ پکڑ لی،ساہیوال پولیس نے ناکہ بندی کے دوران ناجائز اسلحہ کی بڑی کھیپ کی ترسیل ناکام بنا دی، ساہیوال پولیس نے ناکہ بندی کے دوران گاڑی کی تلاشی پر 114 پستول ، 18 رائفلز اور ہزاروں کی تعداد میں گولیاں برآمد کر لیں، ساہیوال پولیس نے اسلحہ قبضہ میں لیکر نوشہرہ کے رہائشی ملزم نعیم کو گرفتار کر لیا-

    دوسری جانب حوالہ ہنڈی اور غیر قانونی کرنسی ایکسچینج میں ملوث 2 ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا چھاپے کے دوران ملزمان سے بھاری رقوم برآمد کی گئی گرفتار ملزمان میں فلک نیاز اور اسد اللہ شامل ہیں،ملزمان کو دین پلازہ پشاور صدر سے گرفتار کیا گیا۔ ملزمان سے مجموعی طور پر 45 لاکھ پاکستانی روپے، 550 سعودی ریال ، 900 اماراتی درہم اور 1200 ملائشین رنگٹ برآمد ہوئے۔ ملزمان سے ہنڈی حوالہ سے متعلق ریکارڈ بھی برآمد کر لیا گیا۔ ملزمان برآمد ہونے والی کرنسی کے حوالے سے حکام کو مطمئن نہ کر سکے۔ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔ مزید تفتیش جاری ہے۔

  • ایم کیو ایم اور ن لیگ کا اتحاد نہیں ہوا،دونوں کے وفود کی ملاقات ہوئی تھی،خالد مقبول صدیقی

    ایم کیو ایم اور ن لیگ کا اتحاد نہیں ہوا،دونوں کے وفود کی ملاقات ہوئی تھی،خالد مقبول صدیقی

    کراچی: ایم کیو ایم کے کنوینیئر خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم اور ن لیگ کا اتحاد نہیں ہوا-

    باغی ٹی وی: نجی خبررساں ادارے کے ٔروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ایم کیو ایم کے کنوینئر خالدمقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ اللہ کرے انتخابات کی تاریخ پتھر پر لکیرہی ثابت ہو، کراچی کو سب سے زیادہ انتخابات کی ضرورت ہےانتخابات فوری، صاف اورشفاف ہونا چاہئیں، لیکن انتخابات صاف اور شفاف ہوتے نظر نہیں آرہے، پھر بھی عام انتخابات میں بھرپور حصہ لیں گے-

    خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیوایم اور ن لیگ کااتحاد نہیں ہوا، دونوں کے وفود کی ملاقات ہوئی تھی، ہمارے درمیان تعاون میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے، ہم جمہوریت کو بچانے کیلئے کوششیں کریں گے، ابھی تک سیٹ ایڈجسمنٹ پر کوئی بات نہیں ہوئی، کوئی دوسرے کے حق میں بیٹھ جائے تو ووٹر مایوس ہوتا ہے، ہم اپنے حصے سے زیادہ کی قربانی دے چکے ہیں، ایم کیوایم اصول ہار کر الیکشن نہیں جیتنا چاہتی نوازشریف کراچی آئیں گے، لیکن ابھی تاریخ نہیں دی گئی، ہر کسی کو کراچی میں آکر الیکشن لڑنے کا حق ہے، ہم مریم نوازکوکراچی میں خوش آمدید کہیں گے، کوئی آئےاورکراچی کوتبدیل کرے، ہم آج بھی سڑکوں پر اپنے ووٹرز گنوا رہے ہیں، کراچی میں 75 لاکھ افراد کو کم گنا گیا ہے، آنے والے وقت میں 75 لاکھ افراد کو بھی بازیاب کروالیں گے-

    بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں،گورنر اسٹیٹ بینک

    سراج الحق کا ن لیگ اور پیپلزپارٹی سے اتحاد نہ کرنے کا اعلان

    اگر ثقافت کو بچانا ہے تو… ایلون مسک کا اٹلی کی ماؤں کو …

  • بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں،گورنر اسٹیٹ بینک

    بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں،گورنر اسٹیٹ بینک

    کراچی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے ہدایت کی ہے کہ بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں-

    باغی ٹی وی: گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد کی زیرسربراہی مشاورتی کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں گورنر اسٹیٹ بینک نے زرعی شعبے میں نمو کی ضرورت پر زور دیا کہا کہ بینک کاشت کاروں کیلئےبروقت اورہمواررسائی یقینی بنائیں، 2023 میں زرعی قرضوں کی فراہمی کا ہدف 97.6 فیصد حاصل کیا، 2024 میں زرعی شعبہ مزید مستحکم ہونے کی امید ہے، 2024 میں زرعی قرضوں کی تقسیم کا ہدف2250 ارب ہے۔

    گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ اسٹیٹ بینک ہر بینک کےساتھ رابطہ رکھے گا، بینک زراعت اور دیہی قرضوں کی رسائی بڑھانے کے لیے مائیکرو فنانس اداروں کے ساتھ بھی اشتراک کریں، بینک کسانوں کو کرایہ پر زرعی مشینری اور آلات دینے والے اداروں کو قرضے دینے کی فیزیبلٹی کاجائزہ لیں،اور ماحولیاتی تبدیلی کےخطرات کو کم کرنےکے آلات اور بیمہ اسکیموں پرمتوجہ ہوں اور بین الاقوا می ڈونر ایجنسیو ں سے اشتراک کریں، تمام بینکس زرعی قرضوں کی پروسیسنگ کے لیے پنجاب کا لینڈ ریکارڈ مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم جون 2024 تک پوری طرح اپنالیں، دیگر صوبے بھی لینڈ ریکارڈ کی ڈیجیٹلائزیشن میں تیزی لائیں تاکہ قرضوں کی فوری پروسیسنگ کے لیے وہ بینکوں کے ساتھ مربوط ہو سکیں۔

    قبل ازیں گورنر اسٹیٹ بینک نے اسٹرٹیجک پلان برائے 2023 تا 2028 جاری کیا تھا گورنر جمیل احمد نے کراچی میں منعقدہ تقریب میں اسٹیٹ بینک کا اسٹرٹیجک پلان برائے 2023 تا 2028’’ایس بی پی وژن 2028‘‘ جاری کیا، ’’اسٹیٹ بینک وژن 2028‘‘ اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم کے بعد جاری کیا جانے والا پہلا منصوبہ ہے، اس میں مرکزی بینک کا نصب العین، مشن اور اگلے پانچ سال کے لیے متعین کلیدی اہداف بتائے گئے ہیں، اسٹریٹجک پلان اہم متعلقہ فریقوں کے ساتھ ایک مشاورتی اور جامع عمل کے ذریعے تیار کیا گیا ہے۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسٹیٹ بینک کے گورنر نے کہا تھا کہ ’’اسٹیٹ بینک وژن 2028 ‘‘ اسٹیٹ بینک کے اس عزم کا اظہار ہے کہ قیمتوں کا استحکام اورمالی استحکام حاصل کیا جائے گا اور ملک کی پائیدار اقتصادی ترقی میں حصہ لیا جائے گا، ’’ایس بی پی وژن 2028‘‘ میں چھ اہم اسٹریٹجک مقاصد کا احاطہ کیا گیا ہے۔

  • کراچی  دنیا کے تمام  آلودہ ترین شہروں  سے نمبر لے گیا

    کراچی دنیا کے تمام آلودہ ترین شہروں سے نمبر لے گیا

    کراچی صبح کے اوقات میں دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں پہلے نمبر پر ہے،شہر کی کھلی فضا میں شہریوں کا سانس لینا محال اور صحت کے لیے خطرہ بن گیا ہے جبکہ فضائی آلودگی کنٹرول کرنے کے اقدامات بھی نہ ہونے کے برابر ہیں۔کراچی میں دن کی سرگرمیاں شروع ہونے سے پہلے ہی صبح سویرے پارٹیکولیٹ میٹر کی تعداد 332 ریکارڈ ہوئی۔شہر میں جگہ جگہ سڑکوں اور گلیوں میں پڑی مٹی اور گندگی کے باعث بھی شہری پریشان ہیں۔دوسری جانب کراچی میں آج سے سردی کی شدت بھی بڑھنے کا امکان ہے اور سرد ہوائیں چلنے کے باعث کم سے کم درجہ حرارت 10 سے 11 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہنے کی توقع ہے۔علاوہ ازیں سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں شدید دھند کے باعث موٹر ویز بند کردی گئی ہیں۔

  • بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن ،شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن ،شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    بہشت سے میں آئی زمین پر لیکن
    شمار میرا نہیں آسمانی چیزوں میں

    فرزانہ نیناں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    معروف پاکستانی شاعرہ فرزانہ نیناں کراچی میں پیدا ہوئیں تعلیم بھی یہیں پر حاصل کی رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کے بعد وہ برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں۔جہاں پہلے انھوں نے شعبہ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویڑن سے بھی وابستگی ہوئی، ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں۔

    شاعری کا رجحان انھیں اپنے چچا سے ملا۔ ان کے چچا محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے۔ابتدا میں انھوں نے نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے شاعری کا آغاز کیا۔ فرزانہ نیناں اپنی اسی نثری خصوصیات کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے ہیں۔ نیناں نے اپنے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی کی بدولت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے۔

    ان کے ہم عصر شاعروں کا کہنا ہے کہ ان کا پہلا شعری مجموعہ ”درد کی نیلی رگیں“ جب سے منظرعام پر آیا ہے نے تخلیقی چشمے میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے۔ ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے منفرد ہوا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں پیش کیا۔ پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصویروں کی طرح اجاگر کیا گیا ہے۔ اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے۔ ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
    روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو میرے ہو نا

    میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
    کھنکھاتے ہوئے ہم راز مجھے سن لو نا

    میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
    اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

    میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
    اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا

    روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
    گنگناتی سی کوئی شام مجھے بھیجو نا

    چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائے گی
    تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا

    پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لوں نیناںؔ
    کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    آدھی رات کے سپنے شاید جھوٹے تھے
    یا پھر پہلی بار ستارے ٹوٹے تھے

    جس دن گھر سے بھاگ کے شہر میں پہنچی تھی
    بھاگ بھری کے بھاگ اسی دن پھوٹے تھے

    مذہب کی بنیاد پہ کیا تقسیم ہوئی
    ہم سایوں نے ہم سایے ہی لوٹے تھے

    شوخ نظر کی چٹکی نے نقصان کیا
    ہاتھوں سے چائے کے برتن چھوٹے تھے

    اوڑھ کے پھرتی تھی جو نیناںؔ ساری رات
    اس ریشم کی شال پہ یاد کے بوٹے تھے

    منتخب اشعار
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اس کو احساس کی خوشبو سے رہا کرنا تھا
    پھول کو شاخ سے کھلتے ہی جدا کرنا تھا

    پوچھ بارش سے وہ ہنستے ہوئے روئی کیوں ہے
    موسم اس نے تو نشہ بار ذرا کرنا تھا

    تلخ لمحے نہیں دیتے ہیں کبھی پیاسوں کو
    سانس کے ساتھ نہ زہراب روا کرنا تھا

    کس قدر غم ہے یہ شاموں کی خنک رنگینی
    مجھ کو لو سے کسی چہرے پہ روا کرنا تھا

    چاند پورا تھا اسے یوں بھی نہ تکتے شب بھر
    یوں بھی یادوں کا ہر اک زخم ہرا کرنا تھا

    دونوں سمتوں کو ہی مڑنا تھا مخالف جانب
    ساتھ اپنا ہمیں شعروں میں لکھا کرنا تھا

    کرب سے آئی ہے نیناں میں یہ نیلاہٹ بھی
    درد کی نیلی رگیں دل میں رکھا کرنا تھا

    روز دیکھا ہے شفق سے وہ پگھلتا سونا
    روز سوچا ہے کہ تم میرے ہو میرے ہو نا

    میں تو اک کانچ کے دریا میں بہی جاتی ہوں
    کھنکھاتے ہوئے ہم راز مجھے سن لو نا

    میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز
    اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

    میری خاموشی کو چپکے سے سجا دو آ کر
    اک غزل تم بھی مرے نام کبھی لکھو نا

    روح میں گیت اتر جاتے ہیں جیسے خوشبو
    گنگناتی سی کوئی شام مجھے بھیجو نا

    چاندنی اوس کے قطروں میں سمٹ جائے گی
    تیرگی صبح سویرے میں کہیں کھو دو نا

    پھر سے آنکھوں میں کوئی رنگ سجا لوں نیناںؔ
    کب سے خوابوں کو یہاں بھول گئی تھی بونا

    Copied