Baaghi TV

Category: کراچی

  • مہنگائی بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کے واقعات میں اضافہ

    مہنگائی بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کے واقعات میں اضافہ

    مہنگائی بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کے واقعات میں اضافہ ہو گیا ہے

    دو بچوں کے باپ نے مہنگائی ، بے روزگاری سے تنگ آ کر خودکشی کر لی،شہر قائد کراچی کے علاقے ڈرگ روڈ کینٹ بازار کے قریب گراؤنڈ سے جھلسی ہوئی لاش دو بچوں کے باپ صابر کی نکلی. پولیس حکام کے مطابق لاش کے قریب سے مٹی کے تیل سے بھری تھیلی اور ماچس بھی ملی ،واقعہ خودکشی کا ہے جیب سے ملنے والی شناختی کارڈ پر متوفی کا نام صابر علی درج ہے ،صابر سادات کالونی کا رہائشی تھا،متوفی کی لاش اسپتال منتقل کردی گئی ،واقعے سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں،چند روز قبل گارڈن میں بھی بے روزگار شخص نے چوتھی منزل سے چھلانگ کر موت کو گلے لگایا تھا

    سربراہ پاکستان سنی تحریک محمد ثروت اعجاز قادری کا کہنا ہے کہ مہنگائی کو بام عروج پر پہنچا کر غریب کو خود کشی پر مجبور کیا جارہا ہے، مہنگائی پر کنٹرول اور غریبوں کو ریلیف نہیں دیاگیا تو مایوسیاں جنم لینگی ،مایوسیوں نے جنم لیا تو جمہوریت اور حکمرانوں کیلئے اچھا نہیں ہوگا،حکمران مہنگائی وبے روزگاری کے خاتمے کیلئے عوام کی امنگوں کے مطابق فیصلے کریں،حکمران غریبوں کا استحصال اور مہنگائی کو روکنے کیلئے کام نہیں کرینگے تو پھر عوام عدلیہ کے دروازے پر دستک دینگے،حکمران عملی طور پر عوامی مسائل حل اور غربت کو ختم کرنے کیلئے مثبت پالیسیاں بنائیں، حکمران عوام سے کئے گئے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کی بجائے دعوں سے کام چلا رہے ہیں

    اسلام آباد ہائیکورٹ کاسیکرٹری داخلہ و خارجہ کو ارشد شریف کے اہلخانہ سے رابطے کا حکم

     ارشد شریف کا لیپ ٹاپ ، تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے قریبی ساتھی کے پاس ہے

    ارشد شریف قتل کیس، رپورٹ میں ایسا کیا ہے جو سپریم کورٹ میں جمع نہیں کرائی جا رہی؟ سپریم کورٹ

  • الیکشن وقت پر، قوم مطمئن رہے اور تیاری کرے، چیئرمین سینیٹ

    الیکشن وقت پر، قوم مطمئن رہے اور تیاری کرے، چیئرمین سینیٹ

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی مزار قائد پہنچ گئے

    چیئرمین صادق سنجرانی کو مزار قائد پر چاک و چوبند دستوں نے سلامی دی ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مزار قائد پر حاضری دی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مزار قائد پر پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی ،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات قلمبند کئے

    میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ چیئرمین سینیٹ ہوں، مجھے پورے ملک کی بات کرنی ہے،جہاں ضرورت پڑتی ہے اپنا کردار ادا کرتا ہوں،پاکستان میں اس وقت نگران حکومتیں آچکی ہے، پاکستان کا جمہوری تسلسل آگے بڑھتا رہیگا۔ہ م نے 77 سال میں بہت ترقی ہے۔مشکل وقت ضرور آتا ہے، بلوچستان کے حقوق کی آواز سینیٹر بلند کررہے ہیں،احساس محرومی اسی طرح سے دور کرینگے، بلوچستان کے سارے مسائل 60 یا 90 روز میں ختم نہیں ہوسکتے،بلوچستان بڑا صوبہ، رقبے کے لحاظ سے 48 فیصد ہے،بلوچستان کی ترقی کیلئے وسائل کی ضرورت ہے ،بلوچستان کا احساس محرومی دور کرنا حکومت کا کام ہے، پاکستان دنیا کے بہت ممالک سے بہتر ہے، الیکشن ضرور ہونگے اور وقت پر ہونگے، انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے،الیکشن وقت پر ہونگے، قوم مطمئن رہے اور تیاری کرے،

    چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کا کہنا تھا کہ سینیٹ آف پاکستان ہاوس آف فیڈریشن ہے، نگران حکومت خوش اسلوبی کے ساتھ پورے ملک میں قیام لا چکے ہیں، نگران حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کریں گے ، چاروں صوبوں کا دفاع کریں ، پاکستان کا جمہوری تسلسل آگے بڑھ رہا ہے، 9 ستمبر کو صدر کی مدت ختم ہورہی ہے، ہمیں ہمیشہ بہتری کا سوچنا چاہیے، راجہ ریاض کا نہیں پتہ کہ کس کو بڑا کہا ہے، سب نے مل کر مردم شماری کی منظوری ہے۔الیکشن کروانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، بلوچستان عوامی پارٹی بلوچستان میں سب سے بڑی پارٹی ہے،دعا کرے کہ بلوچستان عوامی پارٹی اسی طرح سے ترقی کرتی رہے

     کسی سویلین کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں نہیں ہونا چاہیے

    کرپشن کا ماسٹر مائنڈ ہی فیض حمید ہے

    برج کھیل کب ایجاد ہوا، برج کھیلتے کیسے ہیں

    عمران خان سے اختلاف رکھنے والوں کی موت؟

    حضوراقدس پر کوڑا بھینکنے والی خاتون کا گھر مل گیا ،وادی طائف سے لائیو مناظر

    برج فیڈریشن آف ایشیا اینڈ مڈل ایسٹ چیمپئن شپ مہمان کھلاڑی حویلی ریسٹورنٹ پہنچ گئے

    کھیل سے امن کا پیغام دینے آئے ہیں.بھارتی ٹیم کے کپتان کی پریس کانفرنس

    وادی طائف کی مسجد جو حضور اقدس نے خود بنائی، مسجد کے ساتھ کن اصحاب کی قبریں ہیں ؟

    9 مئی کے بعد زمان پارک کی کیا حالت ہے؟؟

  • نگراں حکومت کیلئے اکاؤنٹ خسارے جیسا بڑا چیلنج

    نگراں حکومت کیلئے اکاؤنٹ خسارے جیسا بڑا چیلنج

    نگراں حکومت کے لئے ایک اور بڑا چیلنج کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سرپلس میں لانا بھی ہے کیونکہ چار ماہ مسلسل سرپلس رہنے کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں آگیا اور اسٹیٹ بینک رپورٹ کے مطابق مسلسل 4 ماہ مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہنے کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا ہے.

    جبکہ جون کے مقابلے جولائی میں تجارتی خسارہ 99 فیصد بڑھ کر 2 ارب 10 کروڑ ڈالر رہا، جبکہ جون میں تجارتی خسارہ 1 ارب 5 کروڑ ڈالر تھا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق جون کے مقابلے جولائی میں برآمدات 2 ارب 11 کروڑ ڈالر پر برقرار رہیں۔

    علاوہ ازیں جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ 80 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم یاد رہے کہ اتحادی حکومت میں گزشتہ مالی سال اخراجات 2 ہزار 860 ارب روپے بڑھ گئے تھے اور ایک سال میں سود کی ادائیگیوں میں 2 ہزار 649 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ دفاعی اخراجات 176 ارب روپے بڑھ گئے۔ وفاقی وزارت خزانہ نے فسکل آپریشن رپورت 2022-23 جاری کی جس کے مطابق اتحادی حکومت میں گزشتہ مالی سال اخراجات 2 ہزار860 ارب روپے بڑھ گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    علاوہ ازیں رپورٹ کے مطابق ایک سال میں سود کی ادائیگیوں میں 2 ہزار 649 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، اور گزشتہ مالی سال دفاعی اخراجات 174 ارب روپے بڑھے، جب کہ گزشتہ مالی سال بجٹ خسارے میں 1261 ارب 55 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ جبکہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مالی سال 2022-23 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 7.7 فیصد رہا، جب کہ مالی سال 2021-22 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7.9 فیصد تھا، گزشتہ مالی سال2022-23 کل آمدنی9633 ارب روپے رہی۔

  • چرچز کو جلانا،گھروں کو نذرآتش کرنا کسی صورت قبول نہیں،حافظ نعیم

    چرچز کو جلانا،گھروں کو نذرآتش کرنا کسی صورت قبول نہیں،حافظ نعیم

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سینٹ پیٹرک چرچ کا دورہ کیا ،اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ میں جو واقعہ رونما ہوا ہے سراج الحق نے پر زور مذمت کی ہے پاکستانی قوم مسیحی برادری کے ساتھ ہے چرچز کو جلانا اور گھروں کو نذر آتش کرنا کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا قرآن پاک ہمیں سب کی تحفظ کا درس دیتا ہے،لوگوں کی تحفظ حکومت کی ذمہ داری ہے قرآن پاک کی بے حرمتی دنیا بھر میں ہو رہی ہے،واقعات کا رد عمل سامنے بھی آتا ہے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے خلاف احتجاج میں مسیحی برادری نے شرکت کی تھی قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے والے کی نشاندہی کرنا حکومت اور پولیس کا کام تھا مسیحی برادری نے ہمیشہ ایسے واقعات کی مذمت کی ہے مسئلہ ایک ملک کا نہیں پوری انسانیت کا معاملہ ہے دنیا کو قانون سازی کرنی ہوگی کسی کی بھی مقدس کتاب ، مقدس انبیاء کرام کی شان میں کوئی بھی گستاخی کرتا ہے فوری طور پر اس کے خلاف کاروائی کرنی چاہیے چند دن بات چلتی ہے پھر ختم ہو جاتی ہے مسجدوں اور امام بارگاہوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اسلام اور پاکستان کو بد نام کیا جا رہا ہے پوری قوم کی تربیت کرنی ہوگی اور انکے خلاف ایک ہو کر لڑنا ہوگا

    ہمارے مذہب میں اجازت نہیں مقدس مقامات کی بے حرمتی کرنے کی،سعید غنی
    رہنما پیپلزپارٹی ،سابق صوبائی وزیر سعید غنی نے سینٹ پیٹرک چرچ کا دورہ کیا، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ جڑانوالہ واقعے نے پوری قوم کا سر شرم سے جھکا دیا،ہمارے مذہب میں اجازت نہیں مقدس مقامات کی بے حرمتی کرنے کی ،اگر کوئی شخص غیر قانونی کام کرتا ہے تو کاروائی کے لیے ادارے موجود ہیں غیر قانونی واقعے پر مقدس کتاب کی توہین کرنےکی کسی مذہب میں اجازت نہیں، یہ ملک اقلیتوں کا بھی اتنا ہی ہے جتنا ہمارا ہے جڑانوالہ واقعات میں ملوث عناصر کو گرفتار کر کے قانون کے مطابق سزا دی جائے ، ہمارا مذہب کسی بھی طرح ان واقعات کی اجازت نہیں دیتا ہم دنیا بھر میں اپنا کیس لڑ رہے تھے کہ قرآن پاک کی بےحرمتی ہوئی ہےاور چند عناصر نے ہمارے مقدمے کو بھی کمزور کردیا ہے

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نے جڑانوالہ واقعہ کا نوٹس لیا ہے

    توہین رسالت کی مجرمہ خاتون کو سزائے موت سنا دی گئی

    توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم و توہین مذہب کا مقدمہ،دفاعی شہادت پیش کرنے کے لئے مزید مہلت کی استدعا مسترد

    پابندی کے بعد مذہبی جماعت کیخلاف سپریم کورٹ میں کب ہو گا ریفرنس دائر؟

    ن لیگ نے گرفتار مذہبی جماعت کے سربراہ کو اہم پیغام بھجوا دیا

    کالعدم جماعت کے ساتھ مذاکرات کا پہلا دور کامیاب، کس نے کیا اہم کردار ادا،شیخ رشید نے بتا دیا

    پولیس افسر و اہلکاروں کو حبس بے جا میں رکھنے کے واقعے کا مقدمہ درج

    جڑانوالہ واقعہ انتہائی افسوسناک ہے

     مسیحی قائدین کے پاس معافی مانگنے آئے ہیں،

  • گڈاپ ٹاؤن سے کالعدم تنظیم  کے 2 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    گڈاپ ٹاؤن سے کالعدم تنظیم کے 2 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ)اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے گڈاپ ٹاؤن سے کالعدم تنظیم داعش کے 2 انتہائی مطلوب دہشتگرد فرمان اللہ عرف احتشام عرف علی عرف رحمت اللہ اور داؤد عرف امیر صاحب کو گرفتار کرلیا۔ملزمان کے قبضے سے دستی بم اور اسلحہ وایمو نیشن بھی برآمد کر لیا گیا۔

    ملزم فرمان اللہ عرف احتشام عرف علی عرف رحمت اللہ داعش کا انتہائی سرگرم رکن ہے جوکہ کے پی کے باجوڑ اور کراچی کے اندر دہشتگردی کی متعدد کاروائیوں میں مطلوب تھا۔ ملزم کا سرغنہ ساتھی سکندر 2020 میں کراچی سے گرفتار ہو اجبکہ ملزم اس وقت افغانستان فرار ہو گیا تھا۔ کچھ عرصہ قبل افغانستان سے کراچی آکر روپوش ہو گیا تھا۔ ملزم کے قریبی ساتھی باجوڑ میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف مقابلوں میں ہلاک ہو چکے ہیں۔ ملزم کے خلاف تھانہ پی آئی بی کالونی میں سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں۔

    ملزم داؤد عرف امیر صاحب کا تعلق تحریک طالبان باجوڑ سے ہے اور حال ہی میں تحریک طالبان چھوڑ کر داعش میں شمولیت اختیار کی۔ ملزم اپنے ساتھی فرمان اللہ عرف احتشام عرف علی عرف رحمت اللہ کے ساتھ ملکرگروپ کو دوبارہ منظم کر رہا تھا۔ ملزمان سے مزید وارداتوں اور دیگر جرائم میں ملوث ہونے کے انکشافات متوقع ہیں۔ ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    گرفتارملزمان کو دستی بم بمعہ اسلحہ و ایمونیشنمزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ترجمان سندھ رینجرز نے عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    باجوڑ میں جے یو آئی کے ورکر کنونشن میں دھماکا
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری
    قرآن پاک کی بے حرمتی روکنےکی کوشش کرنیوالی خاتون پر چوری کے الزامات
    حالیہ مون سون بارشوں کی تباہ کاریاں، این ڈی ایم اے کی رپورٹ جاری

  • رہنماء ایم کیو ایم پاکستان کنور نوید جمیل انتقال کرگئے

    رہنماء ایم کیو ایم پاکستان کنور نوید جمیل انتقال کرگئے

    متحدہ قومی موومنٹ کے ڈپٹی کنوینر کنورنوید جمیل طویل علالت کے بعد رضائےالٰہی سے انتقال کرگئے ہیں جبکہ کنور نوید جمیل کئی ماہ سے برین ہیمرج کا شکار تھے اور سابق رکن قومی اسمبلی کراچی کے نجی اسپتال میں زیر علاج اور کوما میں تھے. کنور نوید جمیل دو ہزار پانچ میں حیدرآباد ڈسٹرکٹ کے ناظم منتخب ہوئے تھے ۔ وہ انیس سو نوے اور دوہزار تیرہ میں رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ دو ہزار دو اور دوہزار اٹھارہ میں رکن سندھ اسمبلی بھی رہے ۔

    واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا ایم کیو ایم کے رہنما سابق ممبر قومی اسمبلی کنور نوید جمیل کے انتقال پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا جبکہ اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ کنور نوید جمیل کے انتقال کی خبر سن کر دلی دکھ اور افسوس ہوا جبکہ غم اور دکھ کی اس گھڑی میں سوگوار خاندان کے غم میں برابر کے شریک ہیں،

    راجہ پرویز اشرف نے مزید کہا کہ کنور نوید جمیل دھیمے مزاج کے زیرک سیاسی رہنما تھے، کنور نوید جمیل کی سیاسی اور سماجی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا جبکہ مرحوم کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء تادیر پر نہیں ہو سکے گا علاوہ ازیں اسپیکر قومی اسمبلی کی اللہ تعالیٰ سے مرحوم کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا۔

    دوسری جانب ایم کیوایم کےڈپٹی کنوینرکنورنوید کےانتقال پرکنوینرخالدمقبول صدیقی نےاظہارتعزیت کرتے ہوئےکہاکہ کنورنوید تحریک کا نادر اثاثہ اور سینئر رہنما تھے۔ خالدمقبول صدیقی نے کہا کہ ایم کیو ایم اور ملک کیلئے کنورنویدکی خدمات ناقابل فراموش ہیں،ایم کیوایم کاایک ایک کارکن مرحوم کے سوگواران کے غم میں شریک ہے۔

    گورنرسندھ کامران ٹیسوری نےکنورنویدجمیل کےانتقال پرافسوس کااظہارکرتے ہوئے مرحوم کے درجات کی بلندی اورلواحقین کیلئےصبر جمیل کی دعا کی۔ جبکہ کامران خان ٹیسوری نے کہا کہ کنورنویدجمیل انتہائی منجھے ہوئےسیاستدان تھے،اسمبلی میں عوامی مسائل کی نشاندہی میں وہ ہمیشہ پیش پیش رہتےتھے، بطورضلع ناظم حیدرآباد بھی انہوں نےنمایاں خدمات انجام دیں۔

  • نگران وزیر اعلیٰ سندھ  نے  حلف اٹھا لیا

    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا

    سندھ کے نامزد نگران وزیر اعلیٰ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے جبکہ گورنر کامران ٹیسوری نے ان سے حلف لیا ہے جبکہ اب وہ صوبائی کابینہ کا انتخاب کریں گے اور سندھ میں حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے جسٹس مقبول باقر کا نام تجویز کیا تھا اپوزیشن جماعت ایم کیو ایم نے دیگر جماعتوں سے مشاورت کے بعد ان کے نام پر اتفاق کیا تھا۔

    جبکہ خیال رہے کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقرکی پیدائش 1957 کو کراچی میں ہوئی تھی۔ انھوں نے کراچی یونیورسٹی سے ایل ایل بی کیا، 2002 میں انھیں سندھ ہائی کورٹ میں ایڈیشنل جج تعینات کیا گیا اور اگلے ہی سال مستقل جج بن گئے۔ جبکہ جسٹس مشیر عالم کے ریٹائرڈ ہونے کے بعد انھوں نے سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے طور پر ذمہ داریاں ادا کیں، وہ ان ججوں میں شامل تھے جنھوں نے جنرل پرویز مشرف کے عبوری آئینی حکم کے تحت حلف لینے سے انکار کیا اور جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے بعد آخری جج تھے جو بحال ہوئے۔

    2013 میں ان پر کراچی پر ایک قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا جس میں وہ زخمی ہوگئے تھے، اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم لشکر جہنگوی نے قبول کی تھی۔ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر 2015 میں سپریم کورٹ میں جج تعینات کیے گئے، جب قومی احتساب بیورو عمران خان کے دور حکومت میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کی مرکزی قیادت کے خلاف گہرا تنگ کر رہا تھا ان دنوں میں انہوں نے نیب کے اقدام کو غیر قانونی قرار دیا تھا، جس میں سعد رفیق کیس مقبویت رکھتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    18 رکنی نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا
    صدر مملکت نے نگران کابینہ سے حلف لے لیا
    بھارت میں ونڈر ویمن جیسی فلمیں بننا وقتی ضرورت ہے کاجول

    جسٹس فائز عیسیٰ قاضی پر جب ریفرنس دائر کیا گیا تو وہ آخری وقت تک ان کے ساتھ کھڑے رہے، انھوں نے فل بینچ فیصلے میں بھی اختلافی نوٹ لکھا تھا۔ نگران وزیر اعلیٰ سے قبل پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کی جانب سے ان کا نام احتساب بیورو کے سربراہ کے طور پر بھی دیا گیا تھا۔

  • ائرپورٹ پر گم ہونے والا چالیس لاکھ مالیت کا سونا پولیس نے خاتون مسافر کے حوالے کر دیا

    ائرپورٹ پر گم ہونے والا چالیس لاکھ مالیت کا سونا پولیس نے خاتون مسافر کے حوالے کر دیا

    کراچی: پولیس نے فرض شناسی کی مثال قائم کر دی،ائیرپورٹ پر گم ہونے والا چالیس لاکھ مالیت کا سونا پولیس نے ڈھونڈ کر خاتون مسافر کے حوالے کر دیا-

    باغی ٹی وی : ایس ایچ او کلیم موسیٰ کے مطابق خاتون سائرہ مصطفی کا سات اگست کو اسلام آباد سے کراچی پہنچی خاتون مسافر اپنا بیگ ائرپورٹ پارکنگ ایریا میں بھول گئی ،خاتون گھر پہنچیں اوراپنا سامان چیک کیا،تو ان کا ایک بیگ سامان میں موجود نہیں تھا جو وہ ائیر پور ٹ پارکنگ ایریا میں ٹرالی سے اٹھانا بھول گئی تھیں، مسافر خاتون کے ہینڈ بیگ میں سونا موجود تھا-

    پولیس حکام کے مطابق خاتون نے ائیرپورٹ تھانے میں رپورٹ درج کرائی اور بتایا کہ بیگ میں 40 لاکھ روپے مالیت کے زیورات، 40 ہزار روپے نقد، بینکوں کے مختلف کارڈز اور دستاویزات موجود تھیں۔ خاتون کا ہینڈ بیگ پارکنگ ایریا سے کار سوار کو ملا ،کار سوار وہ بیگ اپنے گھر لے گیا خاتون نے تلاش کے مایوس ہو کر پولیس کو اطلاع دی، اس سلسلے میں سول ایوی ایشن اتھارٹی اور ایئر لائن کے عملے سے بھی پوچھ گچھ کی گئی مگر کسی کو گمشدہ بیگ کے بارے میں علم نہیں تھا۔

    ملک بھر میں ای پاسپورٹ کا اجراء کر دیا گیا،فیس شیڈول بھی جاری

    پولیس نے سی سی ٹی وی کی مدد سے چوبیس گھنٹے میں بیگ ڈھونڈ نکالا ، ایکسائز ڈیپارٹمنٹ سے مذکورہ گاڑی کا ریکارڈ نکالا گیا تو وہ ایک ادارے کی ملکیت تھی جس پر پولیس نے کمپنی سے رابطہ کیا کمپنی کے سکیورٹی عملے نے مطلوبہ بیگ پولیس کے حوالے کیا جو کہ ان کے ڈرائیور نے لاوارث قرار دے کر کمپنی کے سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ میں جمع کرایا تھا خاتون اپنا سونا ملنے پر انتہائی خوش ہوئی پولیس کی کارکردگی کی تعریف کی-

    ایس ایس پی ملیر حسن سردار نیازی نے اچھا کام کرنے پر ایس ایچ او ائیرپورٹ کلیم موسی اور ان کی ٹیم کے لیے انعامات کا اعلان کیا ہے۔

    صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

  • صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    صدارتی ایوارڈ یافتہ شاعر، 30 سے زائد کتابوں کےمصنف،ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال

    صدارتی ایوارڈ یافتہ سہ زبان شاعر، 30 سے زائد کتابوں کے مصنف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تحریر و تعارف : آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سندھی ، اردو اور سرائیکی زبان کے ممتاز ادیب، شاعر ، مصنف ، میزبان و کمپیئر اور ایم بی بی ایس و پی ایچ ڈی ڈاکٹر ذوالفقار سیال صاحب 28 مئی 1957 میں لاڑکانہ کے محمد خان سیال صاحب کے گھر میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم لاڑکانہ میں حاصل کرنے کے بعد بی ایس سی، ایم اے سندھی ، سندھ یونیورسٹی جام شورو ، ایم بی بی ایس لیاقت میڈیکل کالج جام شورو، پی ایچ ڈی کراچی یونیورسٹی سے کی ان کو سندھی ادبی سنگت سندھ کے جنرل سیکرٹری و مرکزی فنانس سیکرٹری ، دوران ملازمت سندھ کے تمام میڈیکل کالجوں کے ہسپتالوں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ رہنے ، S A N A امریکہ کی جانب سے لائف اچیومنٹ ایوارڈ اور حکومت پاکستان کی جانب سے صدارتی ایوارڈ حاصل کرنے کا کا قابل فخر اور تاریخی اعزاز حاصل ہوا ہے۔

    ان کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ ان کی شاعری کو 50 سے زائد ملک کے نامور گلوکاروں اور گلوکارائوں نے گایا ہے جن میں شہنشاہ غزل مہدی حسن ، استاد گلزار علی خان ، محمد یوسف ، زرینہ بلوچ ، حمیرا چنا، وحید علی ، گل بہار بانو، مہناز ، خلیل حیدر، محمد علی شہکی، عالمگیر، برکت علی، رجب علی ، سجاد یوسف، شہناز علی، ٹرپل ایس سسٹرز، بینجمن سسٹرز، ثمینہ کنول، کنول ابڑو، شہلا گل ، فرح خانم، ریشما، غلام علی سندیلو،غلام شبیر سمو ، عاشق نظامانی، شاہدہ پروین، استاد فیروز گل، منظور سخیرانی، شمن علی میرالی، دیبا سحر، ماسٹر منظور، قمر سومرو، غلام قادر لنجار، و دیگر شامل ہیں ۔ ڈاکٹر صاحب آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی ، انجمن ترقی پسند مصنفین پاکستان ، انجمن ترقی اردو پاکستان اور پاکستانی زبانیں فورم اسلام آباد کے رکن بھی ہیں ۔ عالمی ادبی کانفرسز اور مشاعروں میں شرکت کے حوالے سے وہ امریکہ ، جرمنی، جاپان ، برطانیہ اور متحدہ عرب امارات میں منعقد ہونے والے مشاعروں اور ادبی کانفرنسوں میں شرکت کر چکے ہیں ۔

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال نے نظم اور نثر لکھنے کا آغاز 1972 سے کیا ان کی اب تک 30 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور 2 کتب طباعت کے آخری مراحل میں ہیں ۔ ان کی شائع ہونے والی کتب کی تفصیل اس طرح ہے۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے کتابیں ، 1 مکھڑین مالھا 1979 ایوارڈ یافتہ 2 . منھنجی دیس جا بار 1982 ایوارڈ یافتہ 3 گیت کھیڈونا (اردو شاعری کا منظوم ترجمہ ) 4. گلن جہڑا گیت۔ 1986, ایوارڈ یافتہ 5 لفظن جا راندیکا 1989. ایوارڈ یافتہ 6 اکھر اکھر سرہان 2002 . 7_ گل ایں مکھڑیوں ۔ 2006 . 8_ دعائون ۔ 2010 . 9_ پنھنجی بولی پیاری بولی 10 _ ننڈھڑا فرشتا پیاریوں پریوں ۔ 2019 , 11 چنڈ بہ منھنجو راندیکو 2020 . 12 _ منھجو گڈڑو منھجو گڈڑی ۔ 13 _ پنھنجی دنیا دھار ۔ 14 اماں مونکھی کھیڈن ڈے ۔

    شعری مجموعے : 1. رن سجو رت پھڑا 2 _ گاڑھا ہتھ پیلا چہرا 3 ۔ چہرا چنڈ گلابن جہڑا . 4 ۔ بارش کھاں پوء 5 . ماٹھو اجرا رستا میرا . 6. لفظ لفظ خوشبو . 7 . الانگڑا ٹانڈا . 8. سرد ہوا جمیل گوڑھا –

    تحقیق: 1. سندھی شاعری کا سفر 2. میر علی نواز ناز کی شاعری کا تنقیدی ابھیاس (پی ایچ ڈی تھیسز) کالمز اور مضامین پر مشتمل کتاب”آئینہ ایں عکس ” ڈاکٹر ذوالفقار کے متعلق لکھی گئی کتب: ڈاکٹر ذوالفقار سیال، سوچ ایں ویچار، ڈاکٹر ذوالفقار سیال سہ زبان شاعر، ڈاکٹر ذوالفقار سیال ، ادب ایں شخصیت ، وادھو _ کٹ _ ضرب –

    ڈاکٹر ذوالفقار سیال پچھلے 30 سال سے مختلف اخبارات میں کالم اور قطعات لکھتے رہے ہیں جن میں روزنامہ عبرت، ہلال پاکستان، خادم وطن، سندھ نیوز، عوامی آواز. و دیگر شامل ہیں ۔ وہ پی ٹی وی کے اسکرپٹ رائٹر بھی رہے ہیں جن میں پروگرامز ، روشن تارا، مہکار، سوال ھی آھی، میڈیکل فورم ، واء سواء، ادبی سنگت، مہران میگ شامل ہیں ۔ ڈاکٹر ذوالفقار سیال کے ریلیز شدہ آڈیو کیسٹس کی تعداد 12 ہے۔
    اسٹیج ڈرامے : سور کان سکون تائین، گر تو برا نہ مانے-

    ڈاکٹر صاحب میڈیکل آفیسر سے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور آر ایم او وغیر کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہنے کے بعد 2017 میں رٹائر ہوئے اولاد کے حوالے سے ماشاء اللہ وہ 5 بچوں کے باپ ہیں اور وہ اس وقت کراچی میں رہائش پذیر ہیں ۔

  • پیسے سپریم کورٹ میں،چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے،وزیراعلیٰ سندھ

    پیسے سپریم کورٹ میں،چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے،وزیراعلیٰ سندھ

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں وزیراعلیٰ سندھ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل بنچ نے درخواست پر سماعت کی ،دوران سماعت وکیل نالہ متاثرین نے عدالت میں کہا کہ متاثرین کو ابتک صرف دو چیک ادا ہوئے ہیں میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ مجموعی طور پر 6 ہزار 932 گھر ہٹائے گئے، گجرنالہ، اورنگی نالہ اور محمود آباد نالہ سے یہ گھر ہٹائے گئے،عدالت نے استفسار کیا کب تک بقیہ چیک ادا ہو جائیں گے، مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ آئندہ 6 مہینے میں ادا ہو جائیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے فیصل صدیقی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ بتائیں، آپ کی توہین عدالت درخواست کیا ہے؟ فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ 2سال میں چیک کی 4 اقساط ادا کی جانی تھیں اب تک صرف 2 چیک کی اقساط ادا کی گئیں عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کہا کہ سی ایم صاحب، چیف سیکرٹری صاحب آگے آ جایئے،

    مرتضیٰ وہاب نے عدالت میں کہا کہ محمود آباد کے چیکس کا 2 سالہ پیریڈ شروع ہو چکا ہے، کچھ لوگ تیسرا اور چوتھا چیک بھی لے چکے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے اس معاملے میں کوئی فوکل پرسن تعینات نہیں کیا باہر لوگوں کا احتجاج چل رہا ہے، میئر کراچی صاحب آپ میئر ہیں،سی ایم صاحب آپ نے حلفیہ بیان دیا تھا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عدالت میں کہا کہ سپریم کورٹ میں تیسری، چوتھی سماعت میں پیش ہو رہا ہوں، 2020 میں کراچی میں شدید برسات ہوئی،2007 کی برسات میں کئی ہلاکتیں ہوئیں،نگران وزیراعلیٰ آج حلف رہے ہیں آج تک وزیراعلیٰ ہوں، 2020 کی بارش کے بعد سپریم کورٹ نے نالے صاف کرنے کا حکم دیا نالوں کی صفائی، متاثرین بحالی کا معاملہ این ڈی ایم اے کا تھا، ایک نیشنل کوآرڈینشن کمیٹی تمام اداروں پر بنائی گئی،یہ ذمہ داری بنیادی طور پر این ڈی ایم اے کی تھی،احساس پروگرام، نیا پاکستان کے تحت 36 ارب روپے رکھے، 2021 میں وفاقی حکومت نے یوٹرن لے لیا،یہ وفاقی حکومت کا ہمیشہ کی طرح یوٹرن تھا،36ارب مختص کرکے وفاقی حکومت نے کہا کہ فری کچھ نہیں دیں گے،میں وکیل نہیں، غلطی کر جاؤں تو معافی چاہوں گا،نالوں سے متعلق این ای ڈی یونیورسٹی سے سروے کروایا گیا متاثرین کی تعداد ہیرا پیھری سے 6 ہزار 932 پر لاک کردی،وفاق سے جو فنڈز آنے تھے وہ نہیں دیئے گئے سکیم بنائی، جو 10 اب روپے کی تھی،رقم نہیں تھی پھرسپریم کورٹ سے رجوع کیا،نجی ہاؤسنگ سکیم کے پیسے سپریم کورٹ میں پڑے ہیں ہم چاہتے ہیں وہ رقم کراچی سکیمز پر لگائی جا سکے

    جسٹس محمد علی مظہر نے وزیراعلیٰ سندھ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آخری آرڈر میں تو آپ نے حلفیہ بیان لکھا ہوا ہے،مراد علی شاہ نے کہا کہ وفاقی حکومت متاثرین کی بحالی سے مکر گئی ،مگر کچھ فنڈز کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں،سارے فنڈز تو سندھ حکومت سے جنریٹ نہیں ہوتے،ایک جینئن ایشو سیلاب آیا 2022 میں،یو این سیکرٹری کا سندھ کے سیلاب پر بیان ریکارڈ پر موجود ہے،صرف ریلیف پر 66 بلین روپے خر چ ہوئے،یہ سیلاب ریلیف فنڈز وفاقی اورصوبائی تھا،وزیراعلیٰ سندھ تو کچھ نہیں ہوتا کابینہ ہوتی ہے، مصطفی امپکس کیس میں کابینہ ذمہ دارہوتی ہے، جسٹس محمد علی مظہر نے کہ یہ بات تو حلفیہ بیان دیتے وقت کہنی تھی آپ نے، یہ بتائیں، 2 چیک کب دیں گے؟مراد علی شاہ نے کہا کہ 3 آپشنز بنائے تھے، متاثرین بحالی کے، جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپشنز میں آپ نے ٹائم نکال دیا نہ ،مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ 7 دن چیک بنانے میں لگیں گے،7 دن کے اگلے 30 دن میں چیک متاثرین کو دے دیں گے،جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ ایسا نہ ہو لوگ کل ہی سے آنا شروع ہو جائیں، چیف سیکرٹری صاحب!یہ چلے جائیں گے اگلی حکومت آئے گی،یہ سب معاملات آپ نے دیکھنے ہیں ،

    وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس،عدالت کا واپس لینے سے انکار
    سپریم کورٹ نے گجر نالہ کیس میں وزیر اعلیٰ کے خلاف توہین عدالت کا نوٹس واپس لینے سے انکار کر دیا،دوران سماعت عدالت نے حکم دیا کہ ایک مہینے میں تمام متاثرین کو چیک دیے جائیں اورابتدائی رپورٹ 15 دن میں عدالت کے سامنے پیش کی جائے ،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت کے اکاؤنٹ میں 462 ارب روپے سے زائد رقم جمع ہے جو سندھ کے عوام کی ہے اگر سپریم کورٹ کے اکاؤنٹ میں جمع رقم سندھ حکومت واپس چاہتی ہے توعدالت میں درخواست دائر کرے ، عدالت نے کیس کی مزید سماعت ایک مہینے کیلئے ملتوی کر دی

    عدالت پیشی کے بعد وزیراعلٰی سندھ سید مراد علی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم سارا کام کرتے رہے لیکن رپورٹ جمع نہ کرا سکے ،سید مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت لوگوں کو بےگھر کرنے کے حق میں نہیں ہوتی، وفاق نے معاملہ اپنے ذمہ لیا پھر یو ٹرن لے لیا،اس وقت کی وفاقی حکومت نے 36 ارب دینے کا معاہدہ کیا بعد میں مکر گئے،ہم سارا کام کرتے رہے لیکن ماہانہ رپورٹ جمع نہیں کرا سکے، رپورٹ جمع نہ کرانے پر عدالت سے معذرت کی،عدالت نے کہا کہ 7 دن میں چیکس تیار کریں ، 30 دن میں متاثرین کو دیئے جائیں، وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ عدالت کو یقین دلایا ہے کہ ہماری حکومت مسائل حل کرنے کیلئے کوشاں ہے، سپریم کورٹ میں پڑا 462 ارب سندھ کا پیسہ ہے،حکومت نے نیک نیتی سے اس پر کام کیا ہے،عدالت نے ہدایت کی کہ کمشنر کراچی چیک کی ادئیگی میں شفافیت کو یقینی بنائیں،عدالت جب بھی بلائے گی پیش ہوں گا، بے گھر افراد کے چیک 15 روز میں تیار کر دیں گے، بے گھر افراد کے پلاٹ اور تعمیر کے پیسے دینے کو تیار ہیں،

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت