Baaghi TV

Category: کراچی

  • امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ

    امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ

    انٹر بینک میں پاکستانی روپیہ کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جبکہ کرنسی ڈیلرز کے مطابق انٹر بینک میں ڈالر کی قدر میں مسلسل دسویں روز اضافے کا رجحان برقرار ہے تاہم انٹر بینک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 3 ماہ کی کم ترین سطح پر آگئی ہے۔

    جبکہ کاروباری دن کے آغاز پر انٹربینک میں ڈالر مزید 3 روپے 60 پیسے مہنگا ہوگیا ہے اور قیمت میں اضافے کے بعد امریکی ڈالر292 روپے 10 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر 6 روپے مہنگا ہوکر 302 روپے کا ہوگیا ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    تاہم دوسری جانب نئے کاروباری ہفتے پر پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ کارجحان ریکارڈ نوٹ کیا گیا اور ہنڈریڈ انڈیکس 141 پوائنٹس بڑھکر 48565 پوائنٹس پر بند ہوا ہے۔ تاہم دوسری جانب ملک بھر میں سونے کی فی تولہ قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوگیا ہے جبکہ ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالہ، فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں 1100 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 222900 روپے ہوگئی۔

    علاوہ ازیں دس گرام سونے کی قیمت میں بھی 943 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد نئی قیمت 191101 روپے ہوگئی، ادھر بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت میں 11 ڈالر کی کمی دیکھی گئی ہے جس کے بعد نئی قیمت 1903 امریکی ڈالر ہو گئی ہے۔ علاوہ ازیں فی تولہ اور دس گرام چاندی کی قیمت استحکام کے بعد بالترتیب 2750 روپے اور 2357.68 روپے کی سطح پر برقرار ہے۔

  • سانحہ بلدیہ،اہم گواہوں کی فہرست مرتب کرنے کا حکم

    سانحہ بلدیہ،اہم گواہوں کی فہرست مرتب کرنے کا حکم

    سندھ ہائیکورٹ ،سانحہ بلدیہ فیکٹری کیس ،سزاؤں کے خلاف ملزمان کی اپیل اور چار ملزمان کی بریت کے خلاف سرکاری اپیلوں کی سماعت ہوئی،

    ملزمان رحمان بھولا اور زبیر کی سزائے موت کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی، ایم کیو ایم رہنماء رؤف صدیقی و دیگر عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے اہم گواہوں کی فہرست مرتب کرنے کا حکم دے دیا اور ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بلدیہ فیکٹری آتشزدگی بڑا سانحہ تھا، تمام عوامل کا جائزہ ضروری ہے،عدالت کو ملزمان پر عائد ہونے والی فردجرم کا متن پڑھ کر سنایا گیا

    سرکاری وکیل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ میں 400 گواہان کے بیانات قلم بند کیے گئے تھے ، وکیل ملزمان نے کہا کہ ٹرائل کے دوران چالیس سے زائد گواہوں کے بیانات پر جرح کی گئی،کیس میں چار چالان پیش کئے گئے، حسان صابر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ملزمان پر جے آئی ٹی کو مدنظر رکھتے ہوئے فردجرم عائد کی گئی، ٹرائل کے دوران 159 افراد کی جنہوں نے میتیں وصول کیں ان کے بیانات نہیں ریکارڈ کیے گئے،موقع پر موجود ریسیکو ٹیموں اور پولیس اہلکاروں کے بیانات پر بھی جرح نہیں کی گئی، وکیل ملزمان نے کہا کہ اپیل میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لینا ضروری ہے، عدالت نے 28 اگست کو مزید تفصیلات طلب کرلیں

    انسداد دہشت گردی عدالت نے ملزمان دو ملزمان رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنائی تھی دیگر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی تھی عدالت نے رؤف صدیقی سمیت 4 ملزمان کو عدم شواہد کی بناء پر بری کردیا تھا

    سانحہ بلدیہ، تفتیشی افسر کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد

    سانحہ بلدیہ،عدالت نے فیصلہ سنا دیا،رحمان بھولا ،زبیر چریا کو سزائے موت، ایم کیو ایم رہنما بری

    سانحہ بلدیہ فیکٹری ،مجرموں نے سندھ ہائی کورٹ میں سزا چیلنج کردی

    سانحہ بلدیہ،لگتا ہے بڑی مچھلیوں کو تحفظ دیا گیا ہے، عدالت

    واضح رہے کہ 22 ستمبر کو اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ سنایا تھا،رحمان عرف بھولا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہو گیا،انسداد دہشت گردی عدالت نے رحمان بھولا اور زبیر چریا کو سزائے موت سنا دی گئی اے ٹی سی کراچی نے ایم کیو ایم کے رہنما روَف صدیقی کو بری کردیا،سانحہ بلدیہ کیس میں 400گواہان کے بیانات ریکارڈ کیے گئے عدالت نے ادیب خانم ،علی حسن قادری ،عبد الستارکو بھی بری کردیا ،اس کے علاوہ باقی چار ملزمان کو سہولت کاری میں سزا سنائی گئی ہے،سزا پانے والے سہولت کاروں میں ارشد محمود ، فضل، شاہ رخ اورعلی احمد شامل ہیں

    اے ٹی سی کراچی نے سانحہ بلدیہ کیس کا فیصلہ 8سال بعد سنایا،آگ لگانے کی اہم وجہ فیکٹری مالکان سے مانگا گیا بھتہ تھا،رحمان عرف بھولا اورزبیر چریا پر فیکٹری کو آگ لگانے کا الزام ثابت ہوا،2014میں فیکٹری مالکان ارشد بھائیلہ،شاہد بھائیلہ اورعبدالعزیز دبئی چلے گئے

    کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاون میں 11 ستمبر 2012 کو خوفناک آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا تھا، جس میں 260 کے قریب ملازمین جل کر خاکستر ہوگئے تھے۔ بعد ازاں سانحہ بلدیہ کی جے آئی ٹی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فیکڑی میں آتشزدگی کا واقعہ پیش نہیں آیا بلکہ 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر بلدیہ فیکٹری کو آگ لگائی گئی۔ عبدالرحمان بھولا نے اپنے بیان میں اعتراف کیا تھا کہ اس نے حماد صدیقی کے کہنے پر ہی بلدیہ فیکٹری میں آگ لگائی تھی،

  • ڈرامہ نویس  اور ممتاز سماجی کارکن علی زاہد

    ڈرامہ نویس اور ممتاز سماجی کارکن علی زاہد

    جس میں محنت تو ہو پر بھوک مٹائے نہ کبھی
    ہم نے وہ رزق ہی بونے سے بغاوت کی ہے

    علی زاہد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اردو اور سندھی کے معروف ادیب، شاعر، صحافی ، کالم نگار ، ڈرامہ نویس اور ممتاز سماجی کارکن علی زاہد صاحب 15 اگست 1973 میں تحصیل خیر پور ناتھن شاہ ضلع دادو سندھ کے قصبہ خانپور میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصل نام زاہد علی اور عباسی قبیلے سے تعلق ہے لیکن وہ علی زاہد کے قلمی نام سے مشہور ہیں ۔ ان کی مادری زبان سندھی ہے لیکن اردو اور سندھی زبان میں لکھتے اور شاعری کرتے ہیں ۔ ان کی تعلیمی قابلیت بی اے اور ڈپلومہ ہولڈر ہیں ۔ انہوں نے نظم اور نثر میں لکھنے کا آغاز 1997 سے کیا جبکہ صحافتی کیریئر کا آغاز 1999 میں سندھی روزنامہ، شام اور ہلچل سے سب ایڈیٹر کی حیثیت سے کیا ۔

    روزنامہ سچ، روزنامہ، سندھو، روزنامہ تعمیر سندھ کے ادارتی صفحہ کے انچارج اور عبرت میگزین کے اسسٹنٹ ایڈیٹر رہے۔ انہوں نے کالم نگاری کا آغاز روزنامہ جاگو سے کیا جس کے بعد روزنامہ ہلچل، سندھو، عبرت، عبرت میگزین، سندھ ڈائجسٹ، تعمیر سندھ اور سوب Sobh میں مجموعی طور پر 2000 کے لگ بھگ کالم، آرٹیکلز اور اداریے لکھے ہیں وہ اس وقت سندھی زبان کے سب سے بڑے اخبار روزنامہ کاوش کے ایڈیٹوریل پیج کے انچارج کی حیثیت سے اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں اور کالم نگاری بھی کر رہے ہیں ۔ علی زاہد ڈرامہ نگار بھی ہیں سندھ اور پنجاب میں انہوں نے متعدد ڈرامے اسٹیج کئے ہیں جبکہ سندھی زبان کے سب سے بڑے ٹی وی چینل K T N کے ڈرامہ ” ھوء اکیلی” (وہ اکیلی) میں انہوں نے مرکزی کردار ادا کیا ہے ۔

    علی زاہد کے اب تک 3 شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں سندھی کی دو کتابیں ” ناچٹی” (رقاصہ) اور ” عدم کان اگتی” (عدم سے آگے) اور اردو شاعری کی کتاب” الفاظ کی خانہ بدوشی” شامل ہیں سندھی زبان کے نامور شاعر جمن دربدر کی سوانح حیات پر مبنی کتاب” وٹھی ہر ہر جنم وربو” بھی ان کی تصنیف ہے۔ علی زاہد ایک حساس ادیب، شاعر، صحافی اور کالم نگار ہیں جن کی تحریروں خواہ شاعری میں غم دنیا ، غم روزگار اور رومانویت شامل ہیں ۔ وہ ایک سیلانی طبیعت کے مالک ہیں شاید یہی وجہ ہے کہ انہوں نے جمن در بدر کی زندگی پر بھی قلم اٹھایا ہے اس لیے قاری کو ان کی شاعری میں بوریت ، اکتاہٹ اور مایوسی کا احساس نہیں ہوتا۔

    علی زاہد کی اردو اور سندھی شاعری سے انتخاب قارئین کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    جس میں محنت تو ہو پر بھوک مٹائے نہ کبھی
    ہم نے وہ رزق ہی بونے سے بغاوت کی ہے

    جب بھی گیا موہن جو دڑو کی گلیوں میں
    چہرے سب جانے پہچانے لگے ہیں

    جو بت شکن تھے وہ بت ساز بن چکے کب کے
    خدا کی خلق پہ انساں کا دور دورا ہے

    تا عمر بھیڑیوں سے لڑا ہے سکون سے
    درویش جھونپڑی میں پڑا یے سکون سے
    میں لو میں، پیاس میں، افلاس میں بھی ہوں زاہد
    میں تھر کی ریت میں ، برسات میں ملوں گا تمھیں

    جنہوں نے عمر بھر انصاف رکھا تاک نسیاں پر
    لگی ٹھوکر تواٹھتے ہی ، سزا کی بات کرتے ہیں

    وہی ہے التجا اب بھی ، وہی گریہ غریبوں کا
    وہی تیور ہیں صاحب کے ، انا کی بات کرتے ہیں

    کچھ تھا بیزار زہد سے زاہد
    کچھ بے ایمان کر گئے تم بھی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الائي ڪير آ مون ۾، الائي ڪير آهيان مان؟
    مٽيءَ تي ايئن پيو آهيان، مٽيءَ جو ڍير آهيان مان!

    بقا جي بات ناهي ڪا، فنا جو فلسفو آهيان،
    ٽِڪي پيو وقت آ مون ۾، جُڳن جو ڦير آهيان مان.

    اکين جي ساهمي تنهنجيءَ عجب هي تور ڪئي منهنجي!
    رَتِي منهنجو وزن نڪتو! مون سمجهو سير آهيان مان!

    اوهان جي ماڳ جا منظر مٺي ڌنڌلائبا هوندا،
    اگهو بس آرسي پنهنجي، گهڙيءَ جو مير آهيان مان.

    اهي سج، چنڊ، تارن جون سموريون روشنيون اڪري،
    وڌيو هو بيخوديءَ مان جو عدم ڏي، پير آهيان مان.

    پُڇو ٿا ڪير آ زاهد! ڪٿان آيو، ڪٿي ويندو!؟
    الائي ڇو نه ٿا سمجهو! الائي ڪير آهيان مان!
    ,………….

    رقص آ؟ ڇير آ؟ نه ٿو ڄاڻان،
    مون ۾ هي ڪير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    دل جي ڌڪ ڌڪ ۽ وقت جي ٽڪ ٽڪ،
    ضبط آ، ڦير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    بس خبر آ ته توسان عشق آهي،
    پاءُ آ، سير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    ڇو ٿيو آ ڪڏهن منُ ماڪوڙي؟
    ڇو ڪڏهن شير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    منهنجي بربادين پٺيان ڪنهنجو،
    هٿ آ، پير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    هي به ڪافي آ، هم قدم آهين،
    آخري سير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.

    دوست زاهد اکين جا اجرا سڀ،
    ڪنهنجي دل مير آ؟ نه ٿو ڄاڻان.
    ,…………

    جاڳ جا ڌڻي شاعر, رات پڻ سفر آھي
    شاعري آ پنڌ اوکو, ڏآت پڻ سفر آھي

    سج کي ڏسي ڪوئي هو رڳو سفر ناهي
    ٻاٽ ۾ ھوء جگنوء جي جهات پڻ سفر آھي

    زندگيء جي شطرنج جي مونجھ ڪير ڪيئن سمجهي,
    .جيت ماڳ آھي پر مات پڻ سفر آھي

    تو پرن سان جهاڳيون هن, منزلون پکيئڙا پر
    جا ٽلي ٿي ٽاريء تي, لات پڻ سفر آھي.

    اڄ جو علي زاهد, ڪالھ آنء آدم هئس,
    وقت ئي سفر ناهي, ذات پڻ سفر آھي.

  • کراچی: ڈھائی سال کا بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق

    کراچی: ڈھائی سال کا بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق

    کراچی کے ملیر میمن گوٹھ میں ڈھائی سال کا بچہ کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہو گیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق واقعہ گزشتہ روز مراد میمن گوٹھ کےجاموٹ محلےمیں پیش آیا، بچہ اپنے والد کے ساتھ عقیقے کے پروگرام پر آیا تھا، حادثےکا سبب بننےوالا مین ہول 15 سے 20 دن سے کھلا ہوا ہے، شکایت کے لیے کئی بار یونین کونسل بھی گئے، چیئرمین یونین کونسل کے عملے نے کہا کہ ان کے پاس مین ہول کا ڈھکن نہیں ہے۔

    جاں بحق ہونے والے بچے کے والد عبدا لر حمان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا ایک ہی بچہ تھا،کس کے پاس جائیں،کون سا دروازہ کھکھٹائیں؟،کوئی سننے والا نہیں،دوسری جانب ڈپٹی میئر کراچی سلمان عبداللہ مراد نے جاں بحق بچے کے والد سے ملاقات کرتے ہوئے گہرے دکھ و افسوس کا اظہار کیا۔

    ڈل کمپنی پر بڑا جرمانہ عائد

    واضح رہے کہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ کراچی میں مین ہول میں گرکر اور انتظامیہ کیغفلت کے سبب موت کا واقعہ پیش آیا ہو اس سے قبل بھی کراچی کے علاقے پرانا گولیمار میں ٹریفک حادثے میں 30 سالہ ماں اپنی 5 سالہ بیٹی سمیت جاں بحق ہوگئی تھی،فیضان اپنی 30 سالہ بیوی نگینہ اور پانچ سالہ بیٹی ارمش کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھر جارہا تھا کہ اچانک کتا پیچھے لگ گیا بدحواسی میں موٹر سائیکل بے قابو ہوکر سڑک پر موجود گڑھے میں گئی اور تینوں نیچے گر پڑے۔ بدقسمتی یہ رہی کہ عقب سے تیز رفتار کچرے کا ٹرک آرہا تھا جو انہیں کچلتا ہوا گزر گیا،علاقہ مکینوں کا کہنا تھا کہ علاقے میں کتوں کی بہتات کی وجہ سے رات کے وقت باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔

    سابق وزیر اعظم کی نگراں وزیراعظم کیلئے نیک خواہشات

    علاوہ ازیں اورنگی ٹاؤن سیکٹر چودہ میں مین ہول میں گرنے سے چار بچوں کی ماں اور ایک مرد جاں بحق ہوگئے تھےمرنے والی خاتون کی شناخت رضیہ بی بی کے نام سے ہوئی تھی جبکہ جاں بحق ہونے والا مرد پھلوں کا ٹھیلا لگاتا تھا جو رضیہ بی بی کو مین ہول میں گرتا دیکھ کر اسے بچانے کیلئے کودا تھا تاہم زہریلی گیس کے باعث دم توڑ گیا، رضیہ بی بی اپنے گھر واپس لوٹ رہی تھیں کہ گٹر میں گر گئیں اہلِ خانہ کا کہنا تھا کہ رضیہ بی بی روزے کی حالت میں آفس سے اپنے گھر واپس لوٹ رہی تھیں کہ گٹر میں گر گئیں۔

    ایرانی وزیر خارجہ بہت جلدسعودی عرب کا دورہ کریں گے

    اس سے سے قبل اکتوبر 2021 میں کھلے نالے میں گر کر جاں بحق محنت کش عابد علی کے ورثا نے حکومت سندھ اور ڈی ایم سی کے خلاف 1 کروڑ 44 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ کردیا تھا درخواست گزار کے وکیل عثمان فاروق ایڈوکیٹ نے موقف دیا تھا کہ محمد عارف گزشتہ سال جولائی میں آفس سے گھر آتے ہوئے نالے میں گر کر جاں بحق ہوئے۔ ایک قیمتی انسان حکومت سندھ، کے ایم سی اور ڈی ایم سی کی غفلت سے مارا گیاآج بھی شہر کے زیادہ تر مین ہولز بنا ڈھکن کے ہیں۔ ادارے اپنا کام نہیں کررہے جس کا خمیازہ شہری بھگت رہے ہیں۔

    جسٹس (ر) مقبول باقر نگراں وزیراعلیٰ سندھ نامزد

  • جسٹس (ر) مقبول باقر نگراں وزیراعلیٰ سندھ نامزد

    جسٹس (ر) مقبول باقر نگراں وزیراعلیٰ سندھ نامزد

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگران وزیر اعلیٰ سندھ تقرری پر مبارکباد دی ہے اور کامیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر ایک ماہر اور اچھی شہرت کے حامل قانون دان ہیں،جسٹس مقبول باقر نے ہمیشہ آئین و قانون کی بالادستی کو مدنظر رکھتے بطور قانون دان انصاف پر مبنی فیصلے کیے ہیں،امید ہے بطور نگران وزیر اعلیٰ وہ اپنے آئینی تقاضوں کو پورا کریں گے اور جمہوریت کے تسلسل کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے،جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کی سربراہی میں صوبہ سندھ میں صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد ہوگا،

    جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگراں وزیراعلیٰ سندھ نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیو ایم ) کے درمیان نگران وزیر اعلیٰ کے معاملے پر اتفاق ہوگیا ہے اور جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو نگراں وزیراعلیٰ سندھ نامزد کر دیا گیا ہے۔ جبکہ مقبول باقر سپریم کورٹ کے جج کی حیثیت سے ریٹائرہوئے تھے اور وہ سندھ کے آٹھویں نگراں وزیراعلیٰ ہوں گے۔

    ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری سے اہم معاملے پر مشاورت کی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی
    76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان

  • پچاس ہزار نوجوان گورنر ہاؤس میں آئی ٹی کورس کریں گے. کامران ٹیسوری

    پچاس ہزار نوجوان گورنر ہاؤس میں آئی ٹی کورس کریں گے. کامران ٹیسوری

    گورنر سندھ کامران ٹیسوری کا کہنا ہے کہ پچاس ہزار نوجوان گورنر ہاؤس میں آئی ٹی کورس کریں گے، تمام امیدواروں کو منتخب کرلیا ہے۔ جبکہ مزار قائد پر کلچر شو کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں گفتگو کرتے ہوئے گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ اگر یہاں عام لوگ کھڑے ہیں تو ہمارے گھر والے بھی یہاں کھڑے ہیں اور جولوگ ایک کروڑ نوکریوں کی باتیں کرتے تھے انکے بچے یہاں نظر نہیں آرہے ہیں۔

    جبکہ واضح رہے کہ گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ آؤ دیکھو پاکستان والو یہ پرچم کہاں تک جا رہا ہے، یہ اس پاکستان کی پہچان ہے جورنگ ، نسل، فرقہ اور سیاست سے بالاتر ہے، خالد بھائی نے کہا تھا ایم کیوایم کا جھنڈا نہیں ہوگا صرف پاکستان کا جھنڈا ہوگا، ہم نے یہاں پاکستانی پرچم بلند کر کے دکھا دیا ہے۔ علاوہ ازیں کامران ٹیسوری کا کہنا تھا کہ آج اسلام آباد گیا جہاں نگراں وزیراعظم کے حلف کی تقریب تھی، لیکن میں اپنا دل یہاں چھوڑ گیا تھا اور جسم اسلام آباد لے گیا تھا ، اسلام آباد میں طوفانی بارش تھی کہا گیا کہ اپنی ذمہ داری پر جائیں ، میں نے کہا یہ ذمہ داری اللہ نے لی ہے، جان جوکھوں میں ڈال کر آیا، میں اکیلا یہاں نہیں کھڑا یہ بھی کڑوی حقیقت ہے ، یہاں میرا 9 ماہ، 5 سال اور 12 سال کا بیٹا، بیٹی اور بیگم بھی موجود ہیں، مجھے کہا گیا آپکی جان کوخطرہ ہے آپ باکس میں کھڑے ہو کر تقریر کیجئے گا، میں نے کہا مجھے سب کی جان کی پرواہ ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف
    ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی
    76 واں یوم آزادی:14 صحافیوں کو سرکاری اعزازات سے نوازے جانے کاامکان
    گورنر سندھ کا کہنا تھا کہ کیا ساری زندگی ایسے رہو گے یااپنا حق چاہیے ، حق ایسے نہیں ملتا، ایسے دھوکا ہی ملےگا ، کبھی روٹی کپڑا مکان کے نام پر کبھی 50 لاکھ گھر کے نام پر، کیا آپ کو اپنا ذاتی گھر اور کاروبار چاہیے؟ ، آپ کیلئے گورنر ہاؤس کے دروازے کھلے ہیں، جس کو نوکری چاہئے آجاٸے، جس طرح رمضان میں افطار و کھانا ہوا اس طرح آٸی ٹی کی نوکریاں بھی ہونگی۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ گورنر ہاؤس کے دروازے کھولنا اور آئی ٹی ٹیسٹ کروانا یہ سب خالد مقبول کی ہدایت ہے، ٹیسٹ میں کامیاب نہ ہونیوالے ساڑھے چارلاکھ امیدوار مایوس نہ ہوں، ان کومیٹاورس آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور ویب تھری کورسز آن لائن کروائے جائیں گے۔

  • تین نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    تین نوجوان نہاتے ہوئے ڈوب گئے

    کراچی کے علاقے گڈاپ میں تین نوجوان تالاب میں نہاتے ہوئے ڈوب گئے ہیں جبکہ گڈاپ کے تین نوجوان تالاب میں نہانے کیلئے گئے تھے مگر پھر زندہ واپس نہ آسکے ہیں اور ڈوبنے کے بعد مقامی لوگوں نے تینوں افراد کی لاشیں تالاب سے نکال لیں تھیں جس کے بعد تینوں لاشوں کو عباسی شہید اسپتال منتقل کردیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ جاں بحق ہونیوالوں میں یوسف، وقاص اور اللہ بخش نامی نوجوان شامل ہیں ادھر نوجوانوں کے گھروں میں ان کی موت کی خبر پہنچنے کے بعد کہرام مچ گیا ہے اور ان کے اہل خانہ انتہائی رنجیدہ ہیں، تاہم خیال رہے کہ نوجوانوں کی لاشوں کے پوسٹمارٹم کے بعد ہی ان کی میتیں ان کے گھر پہنچائی جائیں گی.

    یاد رہے کہ گزشتہ دنوں بھی دریائےسندھ خورہ خیل کے مقام پر ایک ہی گھر کے 4 افراد ڈوب گئے تھے جن کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن کیا گیا تھا جبکہ اٹک میں دریائے سندھ خورہ خیل کے مقام پر ایک ہی خاندان کے4 افراد نہاتے ہوئے ڈوبے تھے، ڈوبنے والوں میں 3 سگی بہنیں اورایک بھائی شامل تھے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف

    جبکہ ریسکیوحکام نے بتایا تھا کہ ڈوبنے والوں میں 22 سالہ، 20 سالہ اور 18 سالہ دختر شہزادہ خان اور 15 سالہ عامر خان شامل تھے اور تینوں سگے بہن بھائی ہیں، جو دریا پر سیر و تفریح کے لیے گئے تھے۔ جبکہ ریسکیو حکام کا کہنا تھا کہ پانی گہرا ہونے کی وجہ سے آپریشن میں مشکلات ہورہی ہیں، تاہم کل صبح دوبارہ ریسکیو آپریشن شروع کیا جائے گا۔

  • ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی

    ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانے تباہ، املاک کو آگ لگا دی گئی

    سندھ کے شہر کندھ کوٹ میں پولیس نے ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانوں کو آگ لگا دی ہے، کچے کے علاقے میں پولیس نے مغویوں کی بازیابی کےلیے ڈاکوں کیخلاف آپریشن کیا ہے جبکہ درانی مہر کے کچے میں پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا اور پولیس نے دوران آپریشن ڈاکوؤں کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ کرنے کے بعد آگ لگا دی گئی ہے.

    ایس ایس پی امجد شيخ نے آپریشن بارے بتاتے ہوئے کہا ہے کہ مغویوں کی بازیابی تک آپریشن جاری رہے گا۔ اور ایسے عناصر کو جڑ سے ختم کیا جاوے گا، تاہم خیال رہے کہ سندھ کے علاقے شکار پور سے متصل کچے کے علاقے میں مغویوں کی بازیابی کے لیے پولیس آپریشن میں بکتر بند کے اندر پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد سندھ حکومت نے سال 2021 میں بھی فوج اور رینجرز کی مدد سے کچے کے علاقے میں آپریشن کیا تھا.

    جبکہ ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب نے تسلیم کیا تھا کہ پولیس کے پاس ڈاکوؤں سے مقابلے کے لیے معیاری ہتھیار نہیں، اس حوالے سے حکومت کو متعدد بار آگاہ بھی کیا جا چکا تاہم کوئی ایکشن نہیں لیا گیا۔ جبکہ کچے میں ڈاکوؤں کے پاس اینٹی ایئر کرافٹ گنز موجود ہیں، اور پولیس کا اشارہ اس طرف ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کسی بھی سیاسی جماعت پر پابندی نہیں لگنی چاہیے،چودھری شافع حسین
    سیما حیدر نے بھارتی ترنگا لہرا کر بھارت زندہ باد کا نعرہ لگا دیا
    گھبرانے کی ضرورت نہیں منزل قریب ہے، راجہ پرویز اشرف

    جبکہ بکتر بند کو نشانہ بنانے کے لیے یہی اینٹی ایئر کرافٹ گنز استعمال کی جاتی ہیں جو کثیر تعداد میں موجود ہیں اور اطلاعات کے مطابق صرف ضلع شکار پور میں ڈاکوؤں کے پاس نو ایسی گنز موجود تھیں جنکے جواب میں پولیس کے پاس اس معیار کا اسلحہ موجود نہیں۔

  • گلوکارہ نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 23 برس بیت گئے

    گلوکارہ نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 23 برس بیت گئے

    کراچی: عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ نازیہ حسن کو مداحوں سے بچھڑے 23 برس بیت گئے-

    باغی ٹی وی: نازیہ حسن کو برصغیر میں پاپ موسیقی کے بانیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ نازیہ حسن 3 اپریل 1965 میں کراچی پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم لندن میں حاصل کی۔ 1980 میں 15 سال کی عمر میں وہ اس وقت شہرت کی بلندیوں تک پہنچ گئیں جب انہوں نے بھارتی فلم قربانی کا گیت آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے گایا۔ اس گانے کی شہرت کے بعد نازیہ حسن نے گیتوں کے کئی البم اپنے بھائی زوہیب حسن کے جاری کیے جب انہوں نے بالی وڈ فلم قربانی میں "آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے” جیسا منفرد گیت پیش کیا تو گویا پوری دنیا میں ان کی بات بن گئی۔

    بابراعظم کو کھیلتا دیکھ کر انجوائے کرتا ہوں،ویرات کوہلی

    نازیہ حسن نے اپنے بھائی زوہیب حسن کے ساتھ مل کرپاکستانی موسیقی میں ایک نئی جہت متعارف کروائی، جہاں جہاں اردو پہنچ سکی وہاں وہاں نازیہ حسن کی گلوکاری نے اپنی چھاپ چھوڑی ہے اردو میں ان کے گیتوں اور نغموں میں ڈسکو دیوانے، بوم بوم، آنکھیں ملانے والے مشہور ہوئے جبکہ انگریزی زبان میں ڈریمردیوانے نے دھوم مچائی، دنیا بھرمیں ان کے ساڑھے چھ کروڑ ریکارڈزفروخت ہوئے۔

    ورسٹائل گلوکارہ نے پرائیڈ آف پرفارمنس، بیسٹ فی میل پلے بیک سنگر سمیت متعدد ایوارڈز اپنے نام کئے جلد شہرت کی بلندیاں چھونے والی نازیہ حسن بہت جلد دنیا سے رخصت بھی ہوگئیں، وہ لنگ کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہوئیں اور محض 35 برس کی عمر میں 13 اگست 2000 کو لندن کے ایک اسپتال میں انتقال کر گئیں۔

    سعودی عرب نے فلسطین کے لیےغیر مقیم سفیرنامزد کر دیا

  • حریم شاہ بھی نگران حکومت میں عہدے کی خواہشمند

    حریم شاہ بھی نگران حکومت میں عہدے کی خواہشمند

    کراچی: ٹک ٹاکر حریم شاہ نے بھی نگراں حکومت میں عہدے کی خواہش کا اظہار کر دیا-

    باغی ٹی وی : سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر پوسٹ میں حریم شاہ نے لکھا کہ اگر انہیں صرف 6 ماہ کے لیے نگراں وزیر خارجہ بنا دیا گیا تو وہ پاکستان کے غیر ملکی اثاثوں کو 8 ارب ڈالر سے 100 ارب ڈالر تک پہنچا دیں گی۔
    https://twitter.com/_Hareem_Shah/status/1690327331926142976?s=20

    حریم شاہ کی پوسٹ پر سوشل میڈیا صارفین مزاحیہ تبصرے کر رہے ہیں بعض صارفین نے پوچھا کہ وزیر خارجہ بننے کیلئے حریم شاہ کی کوالیفکیشن کیا ہے ، کیا وہ اس عہدے کی ذمہ داریوں سے آگاہ ہیں،ایک صارف نے لکھاکہ میڈم آپ اپنے اثاثوں کی طرف توجہ دے پاکستان کو ہمارے حال پہ ہی چھوڑ دے،ایک صارف نے لکھا کہ نہیں تم بھی صرف اپنے اثاثے بڑھاوگی ملک کی نہیں،ایک صارف نے لکھاکہ بس آپ کی کمی رہ گئی ہے امید ہے آپ کی بھی یہ خواہش پوری ہو جائے گی-

    سعودی عرب نے فلسطین کے لیےغیر مقیم سفیرنامزد کر دیا

    قبل ازیں حریم شاہ نے لوگوں کو تین لاکھ میں چار مرلے کے پلاٹ دینے کا اعلان کیا تھا،سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو میں بتایا تھا کہ کراچی کے بے گھر افراد کے اپنی چھت کے خواب کو تعبیر دینے کے لیے انہیں چار چار مرلے کے پلاٹ صرف تین لاکھ روپے میں دیئے جائیں گے۔

    ان کا کہنا تھا کہ آپ پراپرٹی بینک مارکیٹنگ کے متعلق گوگل سے بھی معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔ تاہم جو افراد پلاٹ لینے کے خواہش مند ہیں وہ فارم لینے کے لیے پراپرٹی بینک مارکیٹنگ کے آفس آ جائیں ہر ماہ قرعہ اندازی کے ذریعے 100بے گھر لوگوں کو پلاٹ دیئے جائیں گے۔ جو شخص پلاٹ جیتے گا وہ ایک لاکھ روپے ادا کرکے پلاٹ کا قبضہ حاصل کر سکے گا اور باقی رقم اقساط میں ادا کرنی ہو گی۔

    بابراعظم کو کھیلتا دیکھ کر انجوائے کرتا ہوں،ویرات کوہلی