Baaghi TV

Category: کراچی

  • راہ چلتی خواتین کو ہراساں کرنیوالا موٹر سائیکل سوار گرفتار

    راہ چلتی خواتین کو ہراساں کرنیوالا موٹر سائیکل سوار گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں خواتین کو ہراساں کرنے کے واقعات میں کمی نہ آ سکی

    کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤں میں خاتون کو ہراساں کرنے کا واقعہ سامنے آیا جس کے بعد پولیس نے کاروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر لیا ، واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک موٹر سائیکل سوار ملزم خواتین کو ہراساں کر رہا ہے، ویڈیو سے پولیس نے ملزم کی تلاش شروع کی اور ملزم کو حراست میں لے لیا

    پولیس حکام کے مطابق ملزم کو سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے گرفتار کیا گیا ہے، ملزم نجی سیکورٹی کمپنی میں نوکری کرتا ہے، ملزم کو آج عدالت پیش کیا جائے گا اور جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی ،ملزم خاص طور خواتین اسکول ٹیچرز کو آتے جاتے ہوئے ہراساں کرتا تھا

    شہر قائد کراچی میں گزشتہ چند مہینوں سے خواتین کو سرعام ہراساں کرنے کے واقعات بڑھ رہے ہیں،شہریوں کا کہنا ہے کہ ان حرکات سے خواتین کا گھر سے نکلنا مشکل ہو چکا ہے، اوباش نوجوان کو گرفتار کرکے سخت سزا دی جائے .کراچی میں ماہ جولائی میں گلستان جوہر کے علاقے میں موٹر سائیکل سوار نے ہی سڑک پر جانیوالی لڑکی کو ہراساں کیا تھا ، پولیس ابھی تک واقعہ میں ملوث ملزم گرفتار نہیں کر سکی،کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤں میں بھی ایک ایسا ہی واقعہ پیش آیا تھا،

    ‏سوشل میڈیا پرغلط خبریں پھیلانا اورانکو بلاتصدیق فارورڈ کرنا جرم ہے، آصف اقبال سائبر ونگ ایف آئی اے

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    بیوی، ساس اورسالی کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل کرنے کے الزام میں گرفتارملزم نے کی ضمانت کی درخواست دائر

    سپریم کورٹ کا سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر قابل اعتراض مواد کا نوٹس،ہمارے خاندانوں کو نہیں بخشا جاتا،جسٹس قاضی امین

    ‏ سوشل میڈیا پر وزیر اعظم کے خلاف غصے کا اظہار کرنے پر بزرگ شہری گرفتار

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

  • کراچی میں پولیس موبائل پر دستی بم حملہ،تین اہلکار زخمی

    کراچی میں پولیس موبائل پر دستی بم حملہ،تین اہلکار زخمی

    کراچی میں سچل تھانے کی پولیس موبائل پر دستی بم حملہ ہوا، جس میں تین پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق حملہ بلاول شاہ جوکھیو گوٹھ میں ہوا اہلکارعلاقے میں گشت کررہے تھے کہ حملہ آور اندھیرے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فرار ہوگئے نامعلوم حملہ آوروں نے پولیس موبائل پر دستی بم حملہ کیا،عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور موٹرسائیکل پر سوار تھے اور ماسک پہنے ہوئے تھے-

    حملے میں تھانے کے ہیڈ محرر اے ایس آئی خمیسو سمیت تین اہلکار زخمی ہوئے جس میں پولیس کانسٹیبل صمد اور غنی شامل ہیں،حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کو اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جبکہ دوسری جانب رینجرز اور باقی قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات کا آغاز کردیا گیا ہے۔

    سیالکوٹ : شہید اے ایس آئی کی نماز جنازہ پولیس لائنز میں ادا کر دی …

    دوسری جانب شہید اے ایس آئی شہزاد احمد چیمہ کی نماز جنازہ پولیس لائنز سیالکوٹ میں ادا کر دی گئی نماز جنازہ میں آرپی او گوجرانوالہ ڈاکٹر حیدر اشرف، کمشنر ، ڈپٹی کمشنر ، ڈی پی او، پولیس افسران ، وکلاء اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد میں شرکت.

    شہید کے جسد خاکی کو پورے اعزاز کے ساتھ ڈسکہ سے پولیس لائنز لایا گیاتمام راستہ شہریوں نے فرض کی خاطر جان قربان کرنے والے شیر جوان کا شایان شان استقبال کیا شہر کے تمام اہم چوراہوں اور شاہراہوں پر شہید کے قافلے پر بھرپور گل پاشی کی گئی جبکہ پولیس کے افسران و جوانوں نے شہید کو سلامی پیش کی-

    گوجرخان: تھانہ جاتلی کے علاقہ میں مبینہ پولیس مقابلہ، ایک ڈاکو ہلاک،دوسرا گرفتار

    آر پی او ڈاکٹر حیدر اشرف، کمشنر گوجرانوالہ، ڈپٹی کمشنر اور ڈی پی او سیالکوٹ نے شہید کے جسد خاکی پر پھولوں کی چادر چڑھائی پولیس کے چاق و چوبند دستے نے شہید کو سلامی پیش کی شہید کی بلندی درجات کیلیے دعا کی گئی.

    آر پی او گوجرانوالہ ڈاکٹر حیدر اشرف نے شہید اے ایس آئی کے بھائی اور بیٹے سے ملاقات کی،پولیس کے بہادر سپوت اے ایس آئی شہزاد احمد چیمہ کی قربانی رائیگاں نہیں جانے دی جائے گی. واقعہ میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کر کے کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا-

    اوچ شریف : جھانگڑہ انٹر چینج پر دو موٹر سائیکلوں کی آپس میں ٹکر، …

  • امریکی ڈالر  294.93 روپے کا ہوگیا

    امریکی ڈالر 294.93 روپے کا ہوگیا

    ملک بھر میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے دوسرے کاروباری روز کے دوران انٹربینک میں روپے کے مقابلے امریکی ڈالر کی قیمت 3 روپے 42 پیسے بڑھ گئی ہے.


    جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق انٹربینک میں روپے کے مقابلے ڈالر کی قیمت 291.51 روپے سے بڑھ کر 294.93 روپے ہوگئی ہے اور امریکی کرنسی کے علاوہ سعودی ریال کی قیمت 78 روپے، جبکہ ملائیشین رنگٹ کی قیمت 63 روپے اور یورو کی قیمت 322 روپے ریکارڈ کی گئی ہے۔

    دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے 30 جون 2023 تک قرضوں کی تفصیلات جاری کر دیں ہیں جبکہ جاری رپورٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے ذمہ قرضوں میں ایک سال میں 13 ہزار ارب سے زیادہ اضافہ ہوا ہے اور اندرونی و بیرونی قرضوں کا مجموعی حجم 60 ہزار 839 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔

    علاوہ ازیں اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق جون 2022 میں حکومت کے ذمہ مجموعی قرضوں کا حجم 47 ہزار 832 ارب تھا، جبکہ ان قرضوں کے ایک سال میں 13 ہزار ارب سے زیادہ اضافہ کے بعد مجموعی حجم 60 ہزار 839 ارب روپے تک پہنچ گیا اور مرکزی بینک نے بتایا کہ مقامی قرضے 7 ہزار 723 ارب اضافے سے 38 ہزار 808 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں کا حجم 5 ہزار 282 ارب اضافے سے 22 ہزار 30 ارب روپے تک پہنچ گئے ہیں۔

    اسٹیٹ بینک نے مزید کہا کہ اعداد وشمار کے مطابق شارٹ ٹرم قرضے 9 ہزار 335 ارب جبکہ طویل مدتی قرضے 21 ہزار 985 ارب روپے ہیں۔

  • جو شراب پی کر گھر میں ہنگامہ کرے،اسے قتل کردیا جائے؟عدالت

    جو شراب پی کر گھر میں ہنگامہ کرے،اسے قتل کردیا جائے؟عدالت

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری ،مبینہ شراب کے نشے میں گھر میں ہنگامہ آرائی کا معاملہ ،بھائی کے ہاتھوں سگے بھائی کے قتل کا کیس کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت بھائی کے ہاتھوں بھائی کے قتل کیس میں عدالت نے اہم آبزوریشن دی، وکیل ملزم نے کہا کہ گھر میں واقعہ ہوا، اہل خانہ کارروائی نہیں چاہتے، جسٹس سید حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مطلب جو شراب پی کر گھر میں ہنگامہ کرے، اسے قتل کردیا جائے؟ جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھائی نے بھائی کو مار دیا تو کیا کرائم نہیں، وکیل ملزم نے کہا کہ مقدمہ اہل خانہ نے نہیں پولیس نے درج کیا، جسٹس محمد علی مظہر نے استفسار کیا کہ اگر بھائی کے ہاتھوں بھائی قتل ہوا تو کیا مقدمہ درج نہیں ہوگا؟اگر قانون ہاتھ میں لینا ہے تو پھر عدالتوں کا کیا فائدہ؟

    وکیل ملزم نے کہا کہ سرنڈر کرنے کو تیار ہیں، حفاظتی ضمانت منظور کی جائے،جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جائیں اور ٹرائل کورٹ میں سرنڈر کریں، عدالت نے ملزم لارنس کو ضمانت دینے سے انکار کردیا

    عابدہ پروین چنڑ ایڈووکیٹ کے مطابق تھانہ کورنگی کی حدود میں 15 اگست دو ہزار بائیس کا واقعہ ہے، مقتول اسٹیفن شراب کے نشے میں گھر آیا اور ہنگامہ آرائی کی،گھر میں ہنگامے کے دوران مقتول اسٹیفن ہلاک ہوگیا،اہل خانہ نے کوئی مقدمہ درج نہیں کرایا تاہم پولیس ملزم لارنس کو گرفتار کرنا چاہتی ہے، گھر میں واقعہ ہوا، اہل خانہ کارروائی نہیں چاہتے،

    رات بھر زیادتی کے بعد برہنہ حالت میں نرس کو سڑک پر ملزمان پھینک گئے

    دو کمسن لڑکیوں کو برہنہ کر کے گھمانے والے کیس میں اہم پیشرفت

    ماموں کی بیٹی کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا گرفتار

    پانی پینے کے بہانے گھر میں گھس کر لڑکی سے گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    زبانی نکاح،پھر حق زوجیت ادا،پھر شادی سے انکار،خاتون پولیس اہلکار بھی ہوئی زیادتی کا شکار

  • لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ کی ادائیگی،رپورٹ طلب

    لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ کی ادائیگی،رپورٹ طلب

    سندھ ہائیکورٹ ،طویل عرصے سے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ کی ادائیگی سے متعلق درخواستوں کی سماعت ہوئی

    دوران سماعت 75 افراد کی جبری گمشدگیوں کا انکشاف سامنے آیا، لطیف الدین پاشا وکیل درخواست گزار نے کہا کہ 75 کے قریب افراد کو جبری طور پر لاپتہ ڈیکلیئر کیا جا چکا ہے،عدالت نے 12 جبری طور پر لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو 5 لاکھ روپے فی کس معاوضہ دینے کا حکم دیا تھا سندھ حکومت نے تاحال صرف 6 جبری لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ دیا ہے ،عدالت نے دیگر 6 لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو معاوضہ دینے سے متعلق رپورٹ طلب کرلی

    عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیگر جبری گمشدہ افراد کے اہلخانہ کو معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ جے آئی ٹیز کے سامنے رکھا جائے ،عدالت نے لاپتہ افراد کے اہلخانہ کو معاوضے کی ادائیگی سے متعلق پیش رفت رپورٹ طلب کرلی ،عدالت نے حکم دیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے اقدامات کیے جائیں ،لطیف الدین پاشا ایڈووکیٹ نے کہا کہ زیادہ تر لاپتہ افراد 2015 کے بعد سے نہیں مل رہے ہیں ،عدالت نے درخواستوں کی مزید سماعت 15 ستمبر تک ملتوی کردی

    تعلیمی ادارے میں ہوا شرمناک کام،68 طالبات کے اتروا دیئے گئے کپڑے

     چارکار سوار لڑکیوں نے کارخانے میں کام کرنیوالے لڑکے کو اغوا کر کے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    لاپتہ افراد کی عدم بازیابی، سندھ ہائیکورٹ نے اہم شخصیت کو طلب کر لیا

     لگتا ہے لاپتہ افراد کے معاملے پر پولیس والوں کو کوئی دلچسپی نہیں

    سندھ ہائیکورٹ کا تاریخی کارنامہ،62 لاپتہ افراد بازیاب کروا لئے،عدالت نے دیا بڑا حکم

  • وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری

    سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں گجرنالہ سمیت دیگر نالہ متاثرین کو معاوضے کی عدم ادائیگی پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کیخلاف توہین عدالت کی درخواست پر سماعت ہوئی،

    جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس سید حسن اظہر رضوی پر مشتمل بنچ نے درخواست پر سماعت کی ،درخواست گزارکی جانب سے موقف اختیار کیا گیا کہ سپریم کورٹ نے متاثرین گجرنالہ کو متبادل رہائش دینے کا حکم دیا ،سپریم کورٹ کا حکم براہ راست وزیراعلیٰ سندھ کو تھا وزیراعلیٰ سندھ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہیں کیا وزیراعلیٰ سندھ حکم عدولی پر توہین عدالت کے مرتکب ہوئے

    وکیل درخواستگزار نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ متاثرین کو صرف دو چیک ملے اس کے علاوہ کچھ نہیں ملا عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت کو ماہانہ رپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دیا تھا سندھ حکومت نے ابھی تک کوئی رپورٹ جمع نہیں کرائی ،جن لوگوں سے گھر خالی کرائے گئے انہیں مشکلات کا سامنا ہے

    سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ سندھ کو توہین عدالت کی درخواست پر نوٹس جاری کردیا،عدالت نے چیف سیکرٹری سندھ اور کمشنر کراچی کو کل سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں طلب کرلیا

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • ڈکیتی کی 50 سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزمان گرفتار

    ڈکیتی کی 50 سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزمان گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ) اور پولیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن سے ڈکیتی کی متعدد وارداتوں میں ملوث ڈکیت گروہ کے 2 ملزمان سلمان عرف کوگا اور احمد عرف عمی کوگرفتار کرلیا۔ ملزمان کے قبضے سے چھینے گئے موبائل فون اور موٹر سائیکل بھی برآمد کرلی گئی۔

    جولائی 2023 کو ملزمان نے زینب موبائل مارکیٹ اورنگی ٹاؤن میں ڈکیتی کی واردات کی تھی اور گن پوائنٹ پر ایک موٹرسائیکل چھینی تھی۔ واقعہ کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی جس میں ملزمان کو واردات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ابتدائی تفتیش کے دوران ملز مان نے اورنگی ٹاؤن، سائیٹ ٹاؤن اور گردونواح کے علاقوں میں ڈکیتی اور چھینا جھپٹی کی 50 سے زائد وارداتوں میں 170موبائل فونزاور1لاکھ روپے سے زائد نقدی لوٹنے کا اعتراف کیا ہے۔ملزمان کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    گرفتارملزمان کو مسروقہ سامان سمیتمزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ترجمان سندھ رینجرز کا کہنا ہے کہ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    مفتی عزیز الرحمان کا اعتراف جرم، کہا بہت شرمندہ ہوں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل، پولیس نے مانگا مفتی کا مزید”جسمانی” ریمانڈ

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل ،مفتی عزیز الرحمان کی عدالت پیشی، عدالت کا بڑا حکم

    مدرسہ ویڈیو سیکنڈل،مفتی عزیز الرحمان کے بیٹوں کی درخواست ضمانت پر ہوئی سماعت

  • بابائے اردو مولوی عبدالحق

    بابائے اردو مولوی عبدالحق

    بابائے اردو مولوی عبدالحق

    تاریخ وفات: 16 اگست 1961
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بابائے اردو ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ 20 ﺍﭘﺮﯾﻞ ، 1870 ﺀ ﮐﻮ ﺳﺮﺍﻭﺍﮞ (ﮨﺎﭘﻮﮌ ‏) ، ﻣﯿﺮﭨﮫ ﺿﻠﻊ ، ﺍﺗﺮﭘﺮﺩﯾﺶ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﮐﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﮨﺎﭘﻮﮌ ﮐﮯ ﮨﻨﺪﻭ ﮐﺎﺋﺴﺘﮫ ﺗﮭﮯ، ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﮩﺪِ ﻣﻐﻠﯿﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﺳﮯ ﺩﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﭙﺮﺩ ﻣﺤﮑﻤﮧ ﻣﺎﻝ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺭﮨﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﮩﯿﮟ ‏( ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﮐﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﻮ ‏) ﻭﮦ ﻣﺮﺍﻋﺎﺕ ﻭ ﻣﻌﺎﻓﯿﺎﮞ ﺣﺎﺻﻞ ﺭﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﻣﻐﻠﯿﮧ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﮔﺌﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺍﻥ ﻣﺮﺍﻋﺎﺕ ﻭ ﻣﻌﺎﻓﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺑﺤﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ۔

    ﺗﻌﻠﯿﻢ ﻭ ﻣﻼﺯﻣﺖ:
    ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﻧﮯ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮔﮭﺮ ﭘﺮ حاصل کی ﭘﮭﺮ ﻣﯿﺮﭨﮫ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﺭﮨﮯ1894 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﯽ ﮔﮍﮪ ﮐﺎﻟﺞ ﺳﮯ ﺑﯽ ﺍﮮ ﮐﯿﺎ۔ ﻋﻠﯽ ﮔﮍﮪ ﻣﯿﮟ ﺳﺮﺳﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺧﺎﻥ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﻣﯿﺴﺮ ﺭﮨﯽ۔ ﺟﻦ ﮐﯽ ﺁﺯﺍﺩ ﺧﯿﺎﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﺷﻦ ﺩﻣﺎﻏﯽ ﮐﺎ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺝ ﭘﺮ ﮔﮩﺮﺍ ﺍﺛﺮ ﭘﮍﺍ۔ 1895 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺣﯿﺪﺭﺁﺑﺎﺩ ﺩﮐﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺍﺳﮑﻮﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺻﺪﺭ ﻣﮩﺘﻤﻢ ﺗﻌﻠﯿﻤﺎﺕ ﮨﻮﮐﺮ ﺍﻭﺭﻧﮓ ﺁﺑﺎﺩ ﻣﻨﺘﻘﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ۔ ﻣﻼﺯﻣﺖ ﺗﺮﮎ ﮐﺮﮐﮯ ﻋﺜﻤﺎﻧﯿﮧ ﮐﺎﻟﺞ ﺍﻭﺭﻧﮓ ﺁﺑﺎﺩ ﮐﮯ ﭘﺮﻧﺴﭙﻞ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ 1930 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺍس ﻋﮩﺪﮮ ﺳﮯ ﺳﺒﮑﺪﻭﺵ ﮨﻮﺋﮯ۔

    ﺍﻧﺠﻤﻦ ﺗﺮﻗﯽ ﺍﺭﺩﻭ:
    ﺟﻨﻮﺭﯼ 1902 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺁﻝ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﻣﺤﻤﮉﻥ ﺍﯾﺠﻮﮐﯿﺸﻦ ﮐﺎﻧﻔﺮﻧﺲ ﻋﻠﯽ ﮔﮍﮪ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﯾﮏ ﻋﻠﻤﯽ ﺷﻌﺒﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﺎﻧﺎﻡ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﺗﺮﻗﯽ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺷﺒﻠﯽ ﻧﻌﻤﺎﻧﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﯿﮑﺮﭨﺮﯼ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ 1905 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻧﻮﺍﺏ ﺣﺒﯿﺐ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺧﺎﻥ ﺷﯿﺮﻭﺍﻧﯽ ﺍﻭﺭ 1909 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻋﺰﯾﺰ ﻣﺮﺯﺍ ﺍﺱ ﻋﮩﺪﮮ ﭘﺮ ﻓﺎﺋﺰ ﮨﻮﺋﮯﻋﺰﯾﺰ ﻣﺮﺯﺍ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ 1912 ﺀ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﺳﯿﮑﺮﭨﺮﯼ ﻣﻨﺘﺨﺐ ﮨﻮﺋﮯ ﺟﻨﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺟﻠﺪ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﺗﺮﻗﯽ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻓﻌﺎﻝ ﺗﺮﯾﻦ ﻋﻠﻤﯽ ﺍﺩﺍﺭﮦ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﺎ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺤﻖ ﺍﻭﺭﻧﮓ ﺁﺑﺎﺩ ‏( ﺩﮐﻦ ‏) ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺯﻡ ﺗﮭﮯ ﻭﮦ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎتھ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺣﯿﺪﺭ ﺁﺑﺎﺩ ﺩﮐﻦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﮐﮯ ﺯﯾﺮ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﻻﮐﮫ ﺳﮯ ﺯﺍﺋﺪ ﺟﺪﯾﺪﻋﻠﻤﯽ ، ﻓﻨﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺋﻨﺴﯽ ﺍﺻﻄﻼﺣﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﻧﯿﺰ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﮯ ﻧﺎﺩﺭ ﻧﺴﺨﮯ ﺗﻼﺵ ﮐﺮﮐﮯ ﭼﮭﺎﭘﮯ ﮔﺌﮯ۔

    ﺩﻭ ﺳﮧ ﻣﺎﮨﯽ ﺭﺳﺎﺋﻞ، ﺍﺭﺩﻭ ﺍﻭﺭ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯿﮯ ﮔﺌﮯ۔ ﺍﯾﮏ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻟﺸﺎﻥ ﮐﺘﺐ ﺧﺎﻧﮧ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎﮔﯿﺎ۔ ﺣﯿﺪﺭﺁﺑﺎﺩ ﺩﮐﻦ ﮐﯽ ﻋﺜﻤﺎﻧﯿﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﮨﯽ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺸﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺮﮨﻮﻥ ﻣﻨﺖ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺩﺍﺭ ﺍﻟﺘﺮﺟﻤﮧ ﺑﮭﯽ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﮩﺎﮞ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﻋﻠﻤﯽ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﻭ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻟﺴﺎﻧﯿﺎﺕ، ﻟﻐﺖ ﺍﻭﺭ ﺟﺪﯾﺪ ﻋﻠﻮﻡ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺳﻮ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺷﺎﺋﻊ ﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﮐﮯ ﺍﮨﺘﻤﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﮐﺮﺍﭼﯽ ، ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﺭﺩﻭ ﺁﺭﭨﺲ ﮐﺎﻟﺞ ، ﺍﺭﺩﻭ ﺳﺎﺋﻨﺲ ﮐﺎﻟﺞ ، ﺍﺭﺩﻭ ﮐﺎﻣﺮﺱ ﮐﺎﻟﺞ ﺍﻭﺭ ﺍﺭﺩﻭ ﻻ ﮐﺎﻟﺞ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﺩﺍﺭﮮ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﯿﮯ۔ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﺗﺮﻗﯽ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﮯ ﺳﯿﮑﺮﯾﭩﺮﯼ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﺠﺴّﻢ ﺗﺮﻗّﯽ ﺍﺭﺩﻭ ﺗﮭﮯ۔ ﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﻮﻧﺎ ﺟﺎﮔﻨﺎ، ﺍﭨﮭﻨﺎ ﺑﯿﭩﮭﻨﺎ، ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ، ﭘﮍﮬﻨﺎ ﻟﮑﮭﻨﺎ، ﺁﻧﺎ ﺟﺎﻧﺎ، ﺩﻭﺳﺘﯽ، ﺗﻌﻠﻘﺎﺕ، ﺭﻭﭘﯿﮧ ﭘﯿﺴﮧ ﻏﺮﺽ ﮐﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﻧﺠﻤﻦ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﮭﺎ۔

    ﺑﺎﺑﺎﺋﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﻋﺰﺍﺯ:
    1935 ﺀ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻣﻌﮧ ﻋﺜﻤﺎﻧﯿﮧ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﻃﺎﻟﺐ ﻋﻠﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﯾﻮﺳﻒ ﻧﮯ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺑﺎﺑﺎﺋﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﮐﺎ ﺧﻄﺎﺏ ﺩﯾﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﮧ ﺧﻄﺎﺏ ﺍﺗﻨﺎ ﻣﻘﺒﻮﻝ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﮐﺎ ﺟﺰﻭ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔ 23 ﻣﺎﺭﭺ ، 1959 ﺀ ﮐﻮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻧﮯ ﺻﺪﺍﺭﺗﯽ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﺑﺮﺍﺋﮯ ﺣﺴﻦ ﮐﺎﺭﮐﺮﺩﮔﯽ ﻋﻄﺎ ﮐﯿﺎ۔

    ﺗﺼﺎﻧﯿﻒ ﻭﺗﺎﻟﯿﻔﺎﺕ:
    ﻭﮦ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺟﻮ ﻣﻮﻟﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﻟﮑﮭﯿﮟ ﯾﺎ ﺟﻦ ﮐﻮ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﻭ ﺣﻮﺍﺷﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺷﺎﺋﻊ ﮐﯿﺎ :
    ﻧﮑﺎﺕ ﺍﻟﺸﻌﺮﺍ، ﺩﯾﻮﺍﻥ ِ ﺗﺎﺑﺎﻥ، ﮔﻠﺸﻦ ِ ﻋﺸﻖ،ﻗﻄﺐ ﻣﺸﺘﺮﯼ ﺩﯾﻮﺍﻥِ ﺍﺛﺮ، ﺗﺬﮐﺮﮦ ﺭﯾﺨﺘﮧ ﮔﻮﯾﺎﮞ، ﻣﺨﺰﻥ ﺷﻌﺮﺍ، ﺭﯾﺎﺽ ﺍﻟﻔﺼﺤﺎ، ﻋﻘﺪ ِ ﺛﺮﯾﺎ، ﮐﮩﺎﻧﯽ ﺭﺍﻧﯽ ﮐﯿﺘﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﻭﺩﮪ ﺑﮭﺎﻥ، ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮨﻨﺪﯼ، ﭼﻤﻨﺴﺘﺎﻥ ِ ﺷﻌﺮﺍ، ﺫﮐﺮ ِ ﻣﯿﺮ، ﻣﺨﺰﻥ ﻧﮑﺎﺕ. ﺍُﺭﺩﻭ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﻧﺸﻮﻭﻧﻤﺎ ﻣﯿﮟ ﺻﻮﻓﯿﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ، ﻗﻮﺍﻋﺪ ﺍُﺭﺩﻭ، ﻣﻌﺮﺍﺝ ﺍﻟﻌﺎﺷﻘﯿﻦ، ﺑﺎﻍ ﻭ ﺑﮩﺎﺭ، ﺳﺐ ﺭﺱ ﺍﺯ ﻣﻼّ ﻭﺟﮩﯽ، ﻗﺪﯾﻢ ﺍُﺭﺩﻭ، ﺳﺮﺳﯿّﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﺧﺎﮞ – ﺣﺎﻻﺕ ﻭ ﺍﻓﮑﺎﺭ، ﭼﻨﺪ ﮨﻢ ﻋﺼﺮ، ﻧﺼﺮﺗﯽ – ﺣﺎﻻﺕ ﺍﻭﺭ ﮐﻼﻡ ﭘﺮ ﺗﺒﺼﺮﮦ، ﻣﺮﺣﻮﻡ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﺎﻟﺞ، ﭘﺎﮐﭧ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺍُﺭﺩﻭ ﮈﮐﺸﻨﺮﯼ، ﺍﺳﭩﻮﮈﻧﺲ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﺍُﺭﺩﻭ ﮈﮐﺸﻨﺮﯼ، ﺍُﺭﺩﻭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰﯼ ﮈﮐﺸﻨﺮﯼ، ﺍﺳﭩﻨﮉﺭﮈ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﺍُﺭﺩﻭ ﮈﮐﺸﻨﺮﯼ، ﻟﻐﺖ ِﮐﺒﯿﺮ ﺟﻠﺪ ﺍﻭﻝ،ﺍﻧﺘﺨﺎﺏ ﮐﻼﻡِ ﻣﯿﺮ، ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﻟﻄﺎﻓﺖ، ﮔﻞ ﻋﺠﺎﺋﺐ، ﺍﻧﺘﺨﺎﺏِ ﺩﺍﻍ، ﺍُﺭﺩﻭ ﺻﺮﻑ ﻭ ﻧﺤﻮ، ﺧﻄﺒﺎﺕ ﮔﺎﺭﺳﺎﮞ ﺩ ﺗﺎﺳﯽ، ﺩﯼ ﭘﺎﭘﻮﻟﺮ ﺍﻧﮕﻠﺶ ﺍُﺭﺩﻭ ﮈﮐﺸﻨﺮﯼ، ﺍﻓﮑﺎﺭِ ﺣﺎﻟﯽ، ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻗﻮﻣﯽ ﻭ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ ﻣﺴﺌﻠﮧ، ﺳﺮ ﺁﻏﺎ ﺧﺎﮞ ﮐﯽ ﺍُﺭﺩﻭ ﻧﻮﺍﺯﯼ

    ﻭﻓﺎﺕ:
    ﺑﺎﺑﺎﺋﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﻮﻟﻮﯼ عبدالحق 16 ﺍﮔﺴﺖ 1961 ﺀ ﮐﻮﮐﺮﺍﭼﯽ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎ ﮔﺌﮯ۔ﻭﮦ ﻭﻓﺎﻗﯽ ﺍﺭﺩﻭ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﮐﺮﺍﭼﯽ ﮐﮯ ﻋﺒﺪﺍﻟﺤﻖ ﮐﯿﻤﭙﺲ ﮐﮯ ﺍﺣﺎﻃﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺳﻮﺩۂ ﺧﺎﮎ ﮨﯿﮟ۔

    ﺗﺮﻭﯾﺞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﻮ
    ﺑﮯ ﺷﮏ ﻭﮦ ﺑﺎﻏﺒﺎﻥ ﮨﮯ ﺍﺭﺩﻭ ﺯﺑﺎﻥ ﮐﺎ

  • کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ،5 ڈاکو ہلاک ،2 فرار

    کراچی میں مبینہ پولیس مقابلہ،5 ڈاکو ہلاک ،2 فرار

    کراچی میں مبینہ پولیس مقابلے میں 5 ڈاکو مارے گئے جبکہ 2 فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

    باغی ٹی وی : پولیس کے مطابق کراچی کے علاقے نارتھ کراچی سیکٹر 11 میں ڈاکو گھر میں لوٹ مار کے لیے داخل ہوئے تھے تاہم پولیس مقابلے میں 5 ڈاکو مارے گئے جبکہ 2 فرار ہو گئے مبینہ ڈاکو گھر کی گرل کاٹ کر اندر داخل ہوئے تھے اور اہلخانہ کو یرغمال بنا کر لوٹ مار کی،پولیس کے مطابق 15 پر ڈکیتی کی کال موصول ہوئی تو پولیس متاثرہ گھر پہنچی اور مقابلہ کیا۔ جس میں ڈاکو مارے گئے۔

    دوسری جانب دادو میں جعلی ایس ایس پی بننے والا نوجوان پکڑا گیا،نوجوان لڑکے جہانگیر نے سرکاری واکی ٹاکی سے مختلف پیغامات جاری کرکے پولیس کو دھوکہ دے دیا جھلو تھانہ کے ہیڈ محرر کے بیٹے نے نقلی ایس ایس پی بن کر ضلع پولیس کی دوڑیں لگوا دیں، ایس ایس پی عبدالخالق پیرزادو نے معاملے کا فوری نوٹس لے لیا-

    دادو: ہیڈ محرر سمیت نقلی ایس ایس پی گرفتار

    دونوں باپ بیٹے کے خلاف جھلو تھانہ کے ایس ایچ او رحمت اللہ میمن کی مدعیت میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے،بیٹے جہانگیر پر 419 پی پی سی کے تحت دفعات شامل جبکہ ہیڈ محرر سکندر گوپانگ پر 114 پی پی سی اور 155 C پولیس آرڈر کے تحت دفعات درج کی گئی ہیں۔

    ترجمان ضلع پولیس کے مطابق ہیڈ محرر سکندر گوپانگ اور اسکے بیٹے جہانگیر نے سرکاری واکی ٹاکی کا غلط استعمال کرکے ایس پی کا نام استعمال کیا، دونوں باپ بیٹے نے سرکاری واکی ٹاکی کے ذریعہ ایس ایس پی کا نام استعمال کرکے فیک پیغامات جاری کئے۔

    بیٹی نے بوڑھے ماں باپ کو قتل کرنے کے بعد لاشوں کے ٹکڑے کر ڈالے

  • بروقت الیکشن کرانا ترجیحات میں شامل. نامزد نگراں وزیراعلیٰ سندھ

    بروقت الیکشن کرانا ترجیحات میں شامل. نامزد نگراں وزیراعلیٰ سندھ

    نامزد نگران وزیراعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کا کہنا ہے کہ بروقت الیکشن کرانا اور امن و امان قائم رکھنا ترجیحات میں شامل ہیں جبکہ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کا کہنا ہے کہ امید ہے کہ بروقت الیکشن ہوں گے اور بیورو کریسی یا کوئی اور کام میں رکاوٹ ڈالے گا تو قانون کے مطابق نمٹیں گے۔

    علاوہ ازیں مقبول باقر کا کہنا تھا کہ کابینہ میں سینئر اور جونیئر ہر طرح کے لوگ ہوں گے، کوشش ہوگی کابینہ مختصر ہو اور پروفیشنل افراد پر مشتمل ہو جبکہ ان کا مزید کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں سے کوآرڈینیشن کے ذریعے الیکشن کے معاملات ٹھیک کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار
    دوسری جانب نامزد نگراں وزیر اعلیٰ سندھ جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کا کہنا ہے کہ ان کا نام نگراں وزیر اعظم کے طور پر بھی زیر غور لایا گیا تھا۔ انھوں نے مزید کہا کہ حلقہ بندیوں کا چیلنج ضرور ہے لیکن الیکشن اپنے وقت پر ہی ہوں گے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر نے کہا کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے یہ انہی کا کام ہے، نگراں حکومت کی ذمہ داری تو محض معاونت کرنا ہے تاکہ وہ قانون اور آئین کے تحت بروقت شفاف الیکشن کرواسکیں۔

    انھوں نے کہا کہ مجھے بھی قوی امید ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوں گے، قانون اور آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے مقرر کردہ حدود میں ہی ہوں گے۔ جبکہ اپنی نامزدگی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وقت فوقتاً اطلاعات مل رہی تھیں کہ میرے نام پر مشاورت کا عمل جاری ہے اور مجھے مشاورت سے ہی نامزد کیا گیا۔ یہ لوگ (وزیر اعلیٰ اور اپوزیشن لیڈر) آپس میں مطمئن ہوئے اسی لئے مجھے نگراں وزیراعلیٰ سندھ کیلئے نامزد کیا۔

    الیکشن اور حلقہ بندیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے مقبول باقر کا کہنا تھا کہ مشکلات بہت ہیں چیلنجز بھی ہیں، صوبے میں سندھی اور اردو بولنے والوں کے علاوہ دیگر زبانیں بولنے والے افراد بھی رہتے ہیں، خاص طور پر کراچی اور بڑے شہروں میں۔ حلقہ بندیوں کا چیلنج ضرور ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے مدد کی دعا ہے میں بخوبی اپنی ذمہ داری انجام دے سکوں۔ جبکہ درپیش چیلنجز پر بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ سندھ میں چیلنج ہیں پورے ملک میں ہی چیلنج ہیں۔ الیکشن کے علاوہ معاشی چیلنجز بھی ہیں۔ سندھ کے اندر لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بھی ہے پورے ملک میں ہے لیکن سندھ میں کہیں کہیں یا بعض مقامات پرتھوڑا زیادہ ہے، اعتماد کا بھی فقدان ہے، شکوک و شبہات ہیں ایک دوسرے کے بارے میں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ اگر کراچی کی بات کریں تو صرف شہر قائد میں ہی بہت مسائل ہیں اتنا بڑا میٹروپولیٹین شہر ہے۔ اس کے بعد اندرون سندھ میں بھی مسائل ہیں، سیلاب متاثرین کے مسائل ہیں۔ پانی بجلی گیس کا مسئلہ بھی پورے صوبے میں ہے لیکن کراچی میں زیادہ مسائل ہیں۔ نگراں وزیراعلیٰ کیلئے ان کے نام پر مشاورت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ کافی عرصہ سے بات چل رہی تھی مجھے انڈوس بھی کیا ، اتار چڑھاؤ آتا رہا، کچھ پیار محبت کی بات بھی ہوتی ہے ( دھرتی کا) قرض بھی اتارنا پڑتا ہے ملک و قوم کیلئے تو مجھے لگ رہا تھا کہ ذمے داری ملے گی اور لینی پڑے گی۔

    مقبول باقر سے جب یہ سوال کیا گیا کہ کیا وزیراعظم کیلئے بھی آپ کے نام پر کنسیڈر کیا گیا تھا تو اس کے جواب میں انھیں نے کہا کہ ”جی کچھ عرصے یہ بات ضرور ہوئی تھی۔ تاہم واضح رہے کہ گزشتہ پاکستان پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی موومنٹ کے درمیان اتفاق کے بعد جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ کا نگران وزیر اعلیٰ نامزد کیا گیا تھا جبکہ اس سے قبل وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور اپوزیشن لیڈر رعنا انصار کے درمیان تین روز تک نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کے ناموں کے لیے مشاورت کی گئی تھی۔ جسٹس (ر) مقبول کا نام حکومت سندھ کی جانب سے اپوزیشن کے سامنے رکھا گیا تھا اور گزشتہ روز اپوزیشن نے اس نام پر اتفاق کر لیا تھا۔