Baaghi TV

Category: کراچی

  • حکومت کا پیٹرولیم قیمتوں میں ردوبدل، ڈیزل 6 روپے مہنگا

    حکومت کا پیٹرولیم قیمتوں میں ردوبدل، ڈیزل 6 روپے مہنگا

    ملک بھر میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے۔

    وزارتِ خزانہ کے مطابق ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں 6 روپے اضافہ کر دیا گیا جبکہ پیٹرول کی موجودہ قیمت میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیزل کی نئی قیمت 6 روپے اضافے کے بعد 284 روپے 44 پیسے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے، جبکہ پیٹرول 265 روپے 45 پیسے فی لیٹر پر برقرار رہے گا۔وزارت خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے

    سکھر وکلاء کنونشن میں ہنگامہ آرائی، 5 افراد گرفتار

    غزہ سے آنے والا چارٹرڈ طیارہ، فلسطینیوں کی جنوبی افریقا آمد کی تحقیقات کا اعلان

    حج 2026 کیلئے سخت طبی شرائط، بیمار عازمین کو وطن واپس بھیجا جائے گا

  • جسٹس کے کے آغا کے حلف کے بعد سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی کمی

    جسٹس کے کے آغا کے حلف کے بعد سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی کمی

    جسٹس کے کے آغا کے وفاقی آئینی جج کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے بعد سندھ ہائیکورٹ میں ججز کی کمی مزید شدید ہوگئی ہے۔

    اس سے قبل جسٹس خادم حسین سومرو کا تبادلہ اسلام آباد ہائیکورٹ ہوچکا ہے، جس کے باعث عدالت پہلے ہی ججوں کی قلت کا سامنا کر رہی تھی۔حلف برداری کے بعد سندھ ہائیکورٹ میں موجودہ ججز کی مجموعی تعداد کم ہو کر 32 رہ گئی ہے، جن میں 20 مستقل جبکہ 12 ایڈیشنل ججز شامل ہیں۔ جسٹس کے کے آغا آئینی بینچز کے سربراہ کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم ان کے وفاقی آئینی عدالت میں جانے کے بعد یہ اہم عہدہ خالی ہوگیا ہے اور نئے سربراہ کا تقرر تاحال نہیں ہو سکا۔

    عدالتی حلقوں کے مطابق آئینی بینچ کے سربراہ کی عدم موجودگی میں اہم آئینی نوعیت کے کیسز کی سماعت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ آئینی بینچ کے سربراہ کی تقرری جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کرتا ہے، جبکہ مزید ججوں کی تعیناتی سے متعلق ہائیکورٹ انتظامیہ جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کی منتظر ہے

    شہرت کے لیے فیصلے کرنے والے ججز مستعفی ہو جائیں،خواجہ آصف

    اسحٰق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کا رابطہ، غزہ میں امن کی کوششوں پر گفتگو

    آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین نہیں، شازیہ مری

  • کراچی ای چالان، 589 سرکاری گاڑیوں سمیت 61 ہزار سے زائد چالان

    کراچی ای چالان، 589 سرکاری گاڑیوں سمیت 61 ہزار سے زائد چالان

    کراچی میں ای چالان سسٹم کے تحت جاری کردہ اعداد و شمار سامنے آگئے ہیں، جن کے مطابق اب تک 589 سرکاری گاڑیوں کے خلاف ای چالان جاری کیے جاچکے ہیں۔

    اعداد و شمار کے مطابق سندھ پولیس کی 118 موبائل اور دیگر سرکاری گاڑیوں کو بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر چالان کیا گیا۔ مجموعی طور پر شہر بھر میں 61 ہزار 850 سے زائد ای چالان جاری کیے گئے ہیں۔رپورٹ کے مطابق خلاف ورزی کرنے والی 964 ہیوی گاڑیوں کا ای چالان کیا گیا، جبکہ بغیر ہیلمٹ سفر کرنے والے موٹر سائیکل سواروں کو 11 ہزار سے زیادہ چالان موصول ہوئے۔ سیٹ بیلٹ نہ باندھنے پر 41 ہزار 431 افراد کے خلاف کارروائی کی گئی۔

    مزید اعداد و شمار کے مطابق سگنل توڑنے پر 2 ہزار 200 چالان جاری ہوئے، ڈرائیونگ کے دوران موبائل فون استعمال کرنے پر ایک ہزار 447 ڈرائیورز کو چالان کیا گیا، جبکہ سیاہ شیشوں کے استعمال پر بھی 795 ای چالان جاری کیے گئے ہیں

    پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈیٹا پرسائبر اٹیک کی کوشش ناکام

    جسٹس کامران ملاخیل قائم مقام چیف جسٹس بلوچستان ہائیکورٹ مقرر

    ملتان کو نیا پی ایس ایل کنٹریکٹ نہیں ملا، پی سی بی نے وجوہات بتا دیں

    آر ایس ایس کی امریکا میں خفیہ لابنگ، امریکی جریدے کا انکشاف

  • پاک بحریہ کے زیر انتظام پانچویں انٹرنیشنل ناٹیکل کمپیٹیشن کی اختتامی تقریب کاانعقاد

    پاک بحریہ کے زیر انتظام پانچویں انٹرنیشنل ناٹیکل کمپیٹیشن کی اختتامی تقریب کاانعقاد

    پاک بحریہ کے زیر انتظام پانچویں انٹرنیشنل ناٹیکل کمپیٹیشن کی اختتامی تقریب کاانعقادکیا گیا

    کمانڈر کراچی نے اختتامی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی،ان مقابلوں میں پاکستان، آذربائیجان، انڈونیشیا، ایران، اٹلی، سعودی عرب، عمان، سری لنکا، تُرکیہ اور متحدہ عرب امارات کی ٹیموں نے شرکت کی،ایونٹ میں کشتی رانی، تیراکی، سمندر میں جان بچانے اور سی مین شپ کے مقابلے شامل تھے، تُرکیہ کی ٹیم اس ایونٹ کی فاتح قرار پائی،

    مہمان خصوصی نے جیتنے والے کھلاڑیوں میں انعامات تقسیم کیے،ان مقابلوں کا مقصد پاکستان میں بحری کھیلوں کے فروغ کے ساتھ ساتھ دوست ممالک کے کھلاڑیوں کے مابین مقابلوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے،تقریب میں اعلٰی سول و عسکری افسران، سفارتکاروں اور کھلاڑیوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

  • پاکستان میں زیرِ سمندر تیل و گیس کے 23 نئے ذخائر کی تلاش کی منظوری

    پاکستان میں زیرِ سمندر تیل و گیس کے 23 نئے ذخائر کی تلاش کی منظوری

    ڈائریکٹوریٹ جنرل آف پیٹرولیم کنسیشنز نے زیرِ سمندر تیل و گیس کے 23 نئے ذخائر کی تلاش کی منظوری دے دی ہے۔

    ماڑی انرجیز نے پاکستان اسٹاک ایکس چینج کو بھیجے گئے خط میں بتایا ہے کہ کمپنی نے پاکستان ای اینڈ پی آف شور بِڈ راؤنڈ کے دوران 18 بلاکس بطور آپریٹر جبکہ 5 بلاکس شراکت داری کی بنیاد پر حاصل کیے ہیں۔خط میں کہا گیا ہے کہ زیرِ سمندر تیل و گیس کے ذخائر کی کھوج کے لیے مقامی اور غیر ملکی کمپنیوں کے ساتھ اشتراک کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ، آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی، اور ترکش پیٹرولیم اوورسیز کمپنی کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا۔

    مزید بتایا گیا ہے کہ پرائم گلوبل انرجیز، اورینٹ پیٹرولیم، فاطمہ پیٹرولیم اور یونائیٹڈ انرجی پاکستان بھی اس منصوبے میں شراکت دار ہیں۔
    ماڑی انرجیز کے مطابق حکومت سے پیٹرولیم ایکسپلوریشن لائسنسز، پروڈکشن شیئرنگ ایگریمنٹس اور جوائنٹ آپریٹنگ معاہدے مکمل ہو چکے ہیں۔
    زیرِ سمندر تیل و گیس کے ان نئے ذخائر کی تلاش کا عمل مکران اور انڈس بیسن کے 23 مختلف بلاکس میں شروع کیا جائے گا۔

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش

    پاکستان کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو طلب

    میں روز صرف دو سے چار گھنٹے سوتی ہوں،جاپانی وزیراعظم کا انکشاف

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش

    ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی سفارش کر دی گئی ہے۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے آئندہ پندرہ روز کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ تجویز کیا ہے۔تجویز کے مطابق فی لیٹر پیٹرول کی قیمت میں 1 روپے 96 پیسے، ہائی اسپیڈ ڈیزل میں 9 روپے 60 پیسے، مٹی کے تیل میں 8 روپے 82 پیسے اور لائٹ ڈیزل میں 7 روپے 15 پیسے اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل کا اعلان 15 نومبر کو کرے گی، جب کہ نئی قیمتوں کا اطلاق 16 نومبر سے ہوگا

    پاکستان کے لیے آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ کا اجلاس 8 دسمبر کو طلب

    میں روز صرف دو سے چار گھنٹے سوتی ہوں،جاپانی وزیراعظم کا انکشاف

    پاک افغان کشیدگی: ایرانی وزیرِ خارجہ کے روسی و قطری ہم منصبوں سے رابطے

  • بلاول ہاؤس کےقریب سیف سٹی کیمرے کا ڈسٹری بیوشن باکس چوری

    بلاول ہاؤس کےقریب سیف سٹی کیمرے کا ڈسٹری بیوشن باکس چوری

    کراچی میں بلاول ہاؤس کےقریب سیف سٹی کیمرے کا ڈسٹری بیوشن باکس چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔

    ذرائع کے مطابق ڈسٹری بیوشن باکس سیف سٹی کیمروں کو بہتر سروس فراہم کرنے میں مدد کرتا ہے جس کی چوری ہونے کی واردات 6 نومبر کو ہوئی تاہم اس حوالے سے تاحال کچھ پتا نہیں چل سکاہے۔نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن باکس کافی اونچا اور وزنی ہے اسے چوری کرنا آسان عمل نہیں، ڈسٹری بیوشن باکس کیسے غائب ہوا اس کی سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کررہے ہیں۔

    ڈی آئی جی ساؤتھ کے مطابق عینی شاہدین کا بتانا ہے کہ ایک گاڑی کی مدد سے ڈسٹری بیوشن باکس پرکام کیا جارہا تھا، سیف سٹی کیمروں اورا س سے منسلک سامان میں کوئی سکیورٹی یا الارم سسٹم بھی نہیں،علاوہ ازیں ڈی جی سیف سٹی پروجیکٹ آصف اعجاز شیخ کا کہنا ہے کہ ڈسٹری بیوشن باکس چوری کے بعد سیف سٹی کیمرے اتارلیےگئے ہیں، ڈسٹری بیوشن باکس میں لاکھوں روپے مالیت کا سامان ہوتا ہے،

  • کراچی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش سیکیورٹی الرٹ جعلی قرار

    کراچی کے حوالے سے سوشل میڈیا پر گردش سیکیورٹی الرٹ جعلی قرار

    محکمہ داخلہ سندھ نے کراچی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے سیکیورٹی الرٹ کو جعلی قرار دے دیا ہے۔

    محکمہ داخلہ کے اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کردہ نوٹی فکیشن جعلی اور گمراہ کن ہے، تمام سرکاری سیکیورٹی ایڈوائزریز صرف محکمہ داخلہ کے مجاز ذرائع سے جاری کی جاتی ہیں۔محکمہ داخلہ سندھ نے عوام اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ غیر تصدیق شدہ پیغامات شیئر نہ کریں اور کسی بھی اطلاع کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق لازمی کریں۔واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر محکمہ داخلہ سندھ کے نام سے ایک جعلی اطلاع زیرِ گردش ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کراچی کے لیے 12 نومبر سے 30 نومبر 2025 تک اعلیٰ سطح کا سیکیورٹی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یہ اقدام وفاقی و صوبائی خفیہ اداروں سے موصول اطلاعات کے بعد کیا گیا، تاہم محکمہ داخلہ نے اس خبر کی مکمل تردید کر دی ہے

    افغانستان کا فیصلہ پاکستان کے لیے بلیسنگ اِن ڈسگائز ہے،خواجہ آصف کا ردِ عمل

  • کراچی، فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد  گرفتار

    کراچی، فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    کراچی کے علاقے شیر شاہ میں خفیہ اطلاع پر رینجرز اور سی ٹی ڈی کی کارروائی، فتنہ الخوارج کا انتہائی مطلوب دہشتگرد محمد نور گرفتار کرلیا گیا۔

    ترجمان کے مطابق ملزم گرفتاری سے بچنے کیلئے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں روپوش رہا۔رپورٹ کے مطابق مطلوب دہشتگرد محمد نور عرف خم 2010ء میں قیوم محسود کے گروپ میں شامل ہوا، ملزم نے ٹارگٹ کلنگ، بم دھماکوں اور اغواء برائے تاوان کی وارداتوں کا اعتراف کرلیا۔ترجمان کا کہنا ہے کہ دہشتگرد کے بیشتر ساتھی کراچی آپریشن کے دوران مارے جاچکے یا گرفتار کرلیے گئے، گرفتار دہشتگرد سے بڑی تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد ہوا ہے۔رینجرز ترجمان کے مطابق دہشتگرد کے خلاف تھانہ منگھو پیر اور خواجہ اجمیر نگری میں مقدمات درج ہیں۔

  • حکومتِ سندھ نے کراچی کے لیے ہائی الرٹ جاری کردیا

    حکومتِ سندھ نے کراچی کے لیے ہائی الرٹ جاری کردیا

    حکومتِ سندھ کے ہوم ڈیپارٹمنٹ، سیکیورٹی ڈویژن نے کراچی شہر کے لیے 12 نومبر سے 30 نومبر 2025 تک اعلیٰ سطحی سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا ہے۔

    یہ اقدام وفاقی و صوبائی خفیہ اداروں سے موصول ہونے والی مصدقہ اطلاعات کے بعد کیا گیا ہے جن کے مطابق شہرِ قائد میں دہشت گردی یا تخریب کاری کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔نوٹیفکیشن نمبر HD/Sec/Alert-11/2025 کے مطابق، 12 نومبر کی رات 00:01 بجے سے 30 نومبر کی رات 23:59 بجے تک شہر میں سیکیورٹی سخت رہے گی، اور تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔حکومتی اعلامیے میں درج ہے کہ درج ذیل مقامات پر خصوصی نگرانی اور سخت چیکنگ کی جائے گی

    شاپنگ مالز و تجارتی مراکز
    ملینیم مال، ڈولمین مال کلفٹن، لکی ون مال، ایٹریئم مال، اور گلستانِ جوہر، نارتھ ناظم آباد، طارق روڈ و صدر کے بڑے شاپنگ سینٹرز۔

    عوامی اجتماعات کی جگہیں
    کلفٹن بیچ، سی ویو، ایمپریس مارکیٹ، فریئر ہال، قائدِ اعظم کا مزار، پورٹ گرینڈ اور قریبی تفریحی مقامات۔

    نقل و حمل کے مراکز
    جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ، کراچی کنٹونمنٹ ریلوے اسٹیشن، سٹی اسٹیشن سمیت کراچی ڈویژن کے تمام ریلوے اسٹیشن۔

    تعلیمی ادارے
    جامعہ کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی، ڈاؤ یونیورسٹی، اقراء یونیورسٹی، اور شہر کے تمام سرکاری و نجی اسکول، کالجز، اکیڈمیز۔

    اعلان میں کہا گیا ہے کہ تعلیمی ادارے چھٹیوں، ویک اینڈز اور آف ٹائمنگز کے دوران بھی ہائی الرٹ رہیں، اور شام 7 بجے کے بعد غیر مجاز داخلے کی اجازت نہ دیں۔مالز اور مارکیٹس میں واک تھرو گیٹس، میٹل ڈیٹیکٹرز، اور 100 فیصد چیکنگ کو یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔تمام داخلی راستوں پر اضافی مسلح گارڈز تعینات کیے جائیں، جبکہ سی سی ٹی وی فیڈ قریبی پولیس اسٹیشن سے منسلک ہو۔تعلیمی اداروں کے لیے صرف ایک گیٹ کھلا رکھنے، لیڈی سرچرز کی تعیناتی، گیٹ سے 100 میٹر کے اندر پارکنگ پر پابندی، اور مشکوک گاڑیوں یا افراد کی فوری اطلاع دینے کے احکامات دیے گئے ہیں۔

    عوام کے لیے ہدایات کی گئی ہیں کہ غیر ضروری طور پر ہجوم والی جگہوں پر جانے سے گریز کریں۔گاڑیوں کو غیر محفوظ مقامات پر کھڑا نہ کریں۔مشکوک بیگز یا اشیاء کی فوری اطلاع 15 یا رینجرز واٹس ایپ نمبر 1101 پر دیں،چیکنگ کے دوران سیکیورٹی اہلکاروں سے مکمل تعاون کریں۔