Baaghi TV

Category: کراچی

  • پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے ایک بچہ جاں بحق ،خاتون سمیت دو بچے زخمی

    پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے ایک بچہ جاں بحق ،خاتون سمیت دو بچے زخمی

    کراچی: مبینہ طور پر پولیس کی گاڑی کی ٹکر سے ایک بچہ جاں بحق جبکہ ایک خاتون سمیت دو بچے زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق سائٹ سپر ہائی وے تھانے کی حدود جمالی پل پر پولیس نمبر پلیٹ کی گاڑی میں سوار ڈرائیور کی ٹکر سے دس سالہ محسن ولد شاہ وزیر جاں بحق ہوگیا جبکہ ایک ہی خاندان کے تین افراد زخمی ہوگئے۔

    پولیس کے مطابق عائشہ دختر شاہ وزیر اپنے بچوں کے ہمراہ سڑک پر موجود تھیں کہ تیز رفتار گاڑی نے ٹکر ماردی جس کے نتیجے میں ایک بچہ جاں بحق اور خاتون اور دو بچے زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کردیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق متاثرہ افراد پولیس افسر کی گاڑی کے نیچے کچلے گئے، حادثے کا سبب بننے والی گاڑی ایس پی کے نام پر ہے جس کی تحقیقات کی جارہی ہیں ۔

    قبل ازیں راولپنڈی میں خونی بسنت اور دن بھر شدید ہوائی فائرنگ کے باعث نور خان ائیربیس پر فلائٹ آپریشن اور وی وی آئی پی مومنٹ بھی متاثررہی وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی طیارہ وقت پرلاہورکے لیے پرواز نہ کرسکا راولپنڈی انتظامیہ و پولیس حکام کی دوڑیں لگی رہیں ۔ وزیراعظم ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے لاہور روانہ ہوئے ۔

    نور خان بیس کے گرد و نواح میں ہوائی فائرنگ اسقدرشدید تھی کہ نامعلوم سمت سےچلائی گئی گولی بیس پرکھڑی وزیر اعظم کی سیکورٹی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی لگی۔

    واقعے کی تحقیقات کا آغاز کردیا گیاخونی بسنت و شدید ہوائی فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی پنجاب کے احکامات پر آر پی او راولپنڈی سید خرم علی نے دو ڈی ایس پیز اور ائیرپورٹ سمیت تین تھانوں کے ایس ایچ اوز معطل کردئیے ۔

    وزیر اعظم شہباز شریف کا لاہورروانہ ہونے والا طیارہ بھی وقت پر روانہ نہ ہوسکاشہبازشریف کی لاہور روانگی کےاسلام آباد اور راولپنڈی پولیس شام چار بجے کے قریب سیکورٹی انتظامات اوکے رکھنے کے لیے کہاگیا وزیر اعظم نے شام چھ بجے نور خان بیس سے خصوصی طیارے کے ذریعے لاہور روانہ ہونا تھا لیکن راولپنڈی میں بسنت اور ہوائی فائرنگ اسقدر شدید تھی کہ نور خان بیس سے فلائٹ آپریشن کی کلیئرنس نہ ملی ۔

    تقریبا ساڑھے تین گھنٹے کی تاخیر سے رات سوا نو بجے ہوائی فائرنگ و پتنگ بازی تھمی تو وزیراعظم ہیلی کاپٹر سے نور خان ائیربیس پہنچے جہاں راولپنڈی انتطامیہ اور پولیس کے اعلی حکام کو بھی طلب کیا گیا-

    آئی جی پنجاب اور آر پی او راولپنڈی سید خرم علی نے بھی بسنت و شدید ہوائی فائرنگ کا سخت نوٹس لیا اور دو ڈی ایس پیز جن میں ڈی ایس پی نیوٹاؤن اور ڈی ایس پی سٹی شامل ہیں سمیت تین تھانوں کے ایس ایچ اوز جن میں ایس ایچ او ائیرپورٹ راجہ مصدق، ایس ایچ او رتہ امرال اور ایس ایچ او صادق آباد کو معطل کردیا۔

    بسنت و ہوائی فائرنگ و چھتوں سے گرنے و ڈور پھرنے سے بچوں سمیت تین افراد جاں بحق اور پچاس سے زائد افراد زخمی ہوئے اور ایک چہرے پر ڈور پھرنے سے ایک معصوم بچی نور خان بیس کے قریب ایئرپورٹ روڈ پر بھی زخمی ہوئی ۔

  • مارکیٹیں رات ساڑھے 8، شادی ہال اور ریستوران 10 بجے بند

    مارکیٹیں رات ساڑھے 8، شادی ہال اور ریستوران 10 بجے بند

    کراچی:شہرقائد میں مارکیٹیں رات ساڑھے 8، شادی ہال اور ریستوران 10 بجے بند کرنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں‌،اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کمشنر کراچی نے ڈپٹی کمشنرز سے عمل درآمد رپورٹ بھی طلب کر لی

    کمشنر کراچی نے متعلقہ حکام کو شہر میں رات ساڑھے 8 بجے مارکیٹیں اور بازار جب کہ شادی ہال اور ریسٹورینٹ 10 بجے بند کرانے کی ہدایت کردی۔کراچی میں وفاقی حکومت کے توانائی بچت پلان پر عملدرآمد کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ اس حوالے سے کمشنر کراچی کی تمام ڈپٹی کمشنرز کو فیصلوں پرعمل درآمد کے لئے مراسلے بھی بھجوادیئے ہیں۔

    ڈپٹی کمشنرز کو بھجوائے گئے مراسلوں میں ہدایت کی گئی ہے کہ شہر کی تمام مارکیٹیں، شاپنگ مال اور بازار رات ساڑھے 8 بجے پر صورت بند کردیئے جائیں، اس کے علاوہ ہوٹل، ریسٹورینٹس اور شادی ہال کسی بھی صورت ساڑھے 10 بجے کے بعد کھلے نہیں ہونے چاہیئیں۔کمشنر کراچی نے تمام ڈی سیز سے ہدایات پر عمل درآمد کی تعمیلی رپورٹ بھی جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

    یہ تو ہرپاکستانی جانتا ہے کہ اس وقت پاکستان شدید مالی بحران سے گزر رہا ہے اور ہر سال اربوں ڈالر درآمدی ایندھن پر خرچ کئے جارہے ہیں، معاشی صورت حال کے پیش نظر موجودہ حکومت نے توانائی بچت پلان کا اعلان کیا تھا۔توانائی بچت پلان کے تحت ملک بھر میں مارکیٹیں ساڑھے 8 بجے، شادی ہالز اور ریستوران 10بجے بند کردیئے جائیں گے۔

    سرکاری اداروں میں بجلی کے استعمال میں 30 فیصد کمی لائی جائے گی اور تمام اداروں کو سولر انرجی پر منتقل کیا جائے گا۔ملک میں ای بائیکس متعارف کرائی جائیں گی جو بتدریج بائیو فیول پر چلنے والی موٹر سائیکلوں کی جگہ لیں گی۔ اس کے علاوہ توانائی کی بچت کرنے والے پنکھوں کے رواج کو فروغ دیا جائے گا۔

    توانائی بحران پرقابوپانے کےلیےوفاقی حکومت نے توانائی بچت پلان کاا علان رواں برس کے آغاز میں کیا تھا لیکن اس وقت کی پنجاب اور خیبر پختونخوا حکومتوں نے اس پر عمل کرنے سے انکار کردیا تھا۔اس کے علاوہ ملک کی تاجر و کاروباری برادری نے بھی اسے ناقابل عمل قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا تھا۔

  • سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    سرائیکی زبان کے معروف شاعر شاکر شجاع آبادی کا یومِ پیدائش

    شاکر شجاع آبادی کا تعلق شجاع آباد کے ایک چھوٹے سے گاوٗں راجہ رام سے ہے جو ملتان سے ستر70 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے ۔۔ شاکر شجاع آبادی 25 فروری 1968 کو پیدا ہوئے وہ عصرِ حاضر میں سرائیکی زبان کےمشہور اور ہر دل عزیز اور سرائیکی کے نمائندہ شاعر ہیں۔ جسے سرائیکی زبان کا شیکسپیئر اور انقلابی شاعر کہا جاتا ہے ان کا اصل نام محمد شفیع ہے اور تخلص شاکرؔ ہے، شجاع آباد کی نسبت سے شاکر شجاع آبادی مشہور ہے۔

    خواجہ غلام فرید کوشاعری میں اپنا روحانی استاد مانتے ہیں 1994ء تک بول سکتے تھے، اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں اور ان کا پوتا ان کی ترجمانی کرتا رہا۔

    گزشتہ کئی سالوں سے وہ سرائیکی کے مظلوم عوام کے دلوں کی آواز بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ وہ خود بولنے کی صلاحیت سے محروم ہیں لیکن انھوں نے سرائیکی عوام کی محرومیوں کو اجاگر کر کے ان کو جذبات کی عکاسی کے لیے زبان دی ہے ۔۔ 1986 سے باقاعدہ شاعری کر رہے ہیں ۔۔ نصابی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے وہ کتابیں نہیں پڑھ سکے ۔۔ ان کا شاعری سے متعلق تمام علم ریڈیو پروگراموں کا مرہون منت ہے ۔۔ غلام فرید اور وارث شاہ کو انھوں بہت سنا ۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ‘‘میرا مسئلہ صرف سرائیکی وسیب نہیں ہے بلکہ میں پوری دنیا کے مظلوم لوگوں کی بات کرتا ہوں چاہے کوئی کافر ہی کیوں نہ ہو ۔’’ 1994 تک بول سکتے تھے ۔۔ اس کے بعد فالج کا حملہ ہوا جس کے باعث درست طور پر بولنے سے قاصر ہیں ۔۔

    کہتے ہیں میں زیادہ سکول نہیں گیا ’’سب کچھ غور کرنے سے اور دنیا کے تجربات سے سیکھا ہے‘‘ ۔۔ایک انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ ‘‘پاکستان کے زوال کی اصل وجہ وڈیروں کا قابض ہونا اور لوگوں کا ان کے خلاف نہ اٹھنا ہے ۔۔ اگر لوگوں کو شعور دیا جائے کہ ان کی غلامی سے کیسے نکلنا ہے تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ‘‘۔۔ موجودہ سیاسی نظام سے وہ منتفر ہیں ۔۔ماضی کے لیڈران میں سے وہ ذوالفقار علی بھٹو کو پسند کرتے ہیں ۔۔ جنھوں نے عوام کو حقوق کا شعور دیا ۔۔

    وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے ایک بار انھیں دو لاکھ کا چیک دیا تھا جو انھوں نے اپنے علاقے کے ایک سکول کی عمارت پر لگا دیا ۔۔ لیکن سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے وہ سکول بند ہے ۔۔۔ وہ خود انتہائی غربت میں زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔ اکثر بیمار رہتے ہیں اور روزمرّہ اخراجات کو پورا کرنے کے لیےبھی معلوم نہیں کیا کیا پاپڑبیلنے پڑتے ہیں انھوں نے اپنی شاعری کی فکر اور فلسفہ کسی کتاب ، یونیورسٹی یا عظیم دانشوروں کے افکار و نظریات سے نہیں لیا ۔۔ بلکہ جو انھوں نے دیکھا ، سوچا ، سمجھا اور جو ان پر بیتا اسے قلم بند کرتے رہے ۔۔

    ایک مشاعرے میں جہاں مختلف یونیورسٹیوں کے طلباء اور پروفیسرز ان کی شاعری سننے کے لیے جمع تھے ۔۔۔ تو ان سے پوچھا گیا کہ وہ ان تعلیم یافتہ لوگوں کے درمیان کیا محسوس کر رہے ۔۔ تو انھوں نے کہا کہ میں بچپن میں پڑھ لکھ کر سائنس دان بننا چاہتا تھا ۔۔۔ لیکن غربت کی وجہ سے نہ پڑھ سکا ۔۔ جس کا افسوس ہوتا تھا ۔۔ لیکن اب خوشی ہوتی ہے کہ میں لوگوں کی آواز بنا ہوں ۔۔ اور بہت سے پڑھے لکھے لوگ مجھے سنتے ہیں اور میرے بارے میں لکھتے ہیں ۔۔۔

    ان کی شاعری زبان کی حدود و قیود کو پھلانگ کر مظلوم قوموں اور پسے ہوئے طبقات کی آواز بن چکی ہے ۔۔۔ پاکستان کے کونے کونے میں مزدور ، کسان ، جھونپڑیوں میں رہنے والے اور مذہبی فرسودگی سے تنگ آئے ہوئے لوگ آپ کو شاکر شجاع آبادی کے اشعار گنگناتے ہوئے ملیں گے ۔۔ اور ممکن ہے انھیں یہ بھی علم نہ ہو کہ ان اشعار کا خالق کون ہے ۔۔۔۔

    ان کی شاعری کا موضوع ، غربت ، پسماندگی ، غیر مساویانہ معاشی تقسیم ،بددیانتی اور مذہبی ٹھیکیداروں کی رجعت پسندی ہےبظاہر تو یوں لگتا ہے کہ ان کی شاعری ان کے ذاتی مسائل خطے کی صورتحال اور سرائیکی بیلٹ کی پسماندگی کا فطری ردِ عمل ہےلیکن اپنے طرزِ اظہار کے باعث انھوں نے اپنی شاعری کو عالمی صورتحال سے جوڑ دیا ہے ۔۔ اور جب تک یہ مسائل ہیں ۔۔ اس خطے کے لوگ شاکر شجاع آبادی کو نہیں بھول سکتے ۔۔ ان کی شاعری ان کے مسائل کی عکّاسی کرنے کے ساتھ ساتھ اُن میں تبدیلی کی تڑپ کو زندہ رکھے گی –

    ان کی شاعری کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں ۔۔ کلامِ شاکر ، خدا جانے ، شاکر دیاں غزلاں ، منافقاں توں خدا بچائے اور شاکر دے دوہڑے ان کے مجموعہ ہائے کلام ہیں-

    حکومت پاکستان کی طرف سے اعلیٰ کارکردگی کی وجہ سے 14 اگست 2006ء میں انہیں صدارتی اعزاز برائے حسن کارکردگی ملا۔

    ہر چند کہ شاکر شجاع آبادی صاحب کی تعلیمی قابلیت پرائمری ہے لیکن اﻥ کا ﮐﻼﻡ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯿﻮﮞﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﺎﯾﺎ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺑﮩﺎﻟﭙﻮﺭ،،ﺑﮩﺎﺀﺍلدﯾﻦﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻣﻠﺘﺎﻥ،،ﺍﯾﮕﺮﯼ ﮐﻠﭽﺮﻝ ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﻼﻣﮧ ﺍﻗﺒﺎﻝ ﺍﻭﭘﻦ، ﯾﻮﻧﯿﻮﺭﺳﭩﯽ ﺍﺳﻼﻡ ﺁﺑﺎﺩ –

    ﺟﻨﺎﺏ_ ﺷﺎﮐﺮ ﺷﺠﺎﻉ ﺁﺑﺎﺩﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺋﻨﺴﺪﺍﻥ ﺑﻨﻨﺎ ﭼﺎﮨﮩﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﻏﺮﺑﺖ ﻧﮯ ﺁﻥ ﮔﮭﯿﺮﺍ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﮐﭽﮫ ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﺧﻮﺍﺏ ﭘﻮﺭﺍﮨﻮﺍ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﻟﻮﮒ ﻣﯿﺮﮮ ﮐﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﯽ ﺍﯾﭻ ﮈﯼ ﮐﺮ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﺮﺍﺋﯿﮑﯽ ﮐﻼﻡ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﻨﮯ ﭘﮍﮬﮯ ﮨﻮﮞ ﮔﮯﺍﻥ ﮐﮯ ﺩﻭ ﮐﻼﻡ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺧﻄﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ –
    ____
    ﺳﺘﻢ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﺭﺕ ﺳﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﻭﮦ ﺑﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻻﭨﮭﯽ ﮨﮯ ﺍﺳﮯ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﺳﺘﻢ ﺟﺐ ﻟﻮﭨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺳﺘﻢ ﮔﺮ ﭘﺮ ﺟﮭﭙﭩﺘﮯﮨﯿﮟ
    ﺳﺘﻢ ﺟﯿﺴﮯ ﻋﻘﺎﺑﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﮭﻠﯽ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ___
    ﺟﮭﻮﻧﮑﺎ ﮨﻮﺍ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﺁﯾﺎ ﮔﺰﺭ ﮔﯿﺎ
    ﮐﺸﺘﯽ ﻣﯿﺮﯼ ﮈﺑﻮ ﮐﮯ ﺩﺭﯾﺎ ﺍﺗﺮ ﮔﯿﺎ
    ﻣﯿﺮﮮ ﭘﯿﺎﺭ ﭘﮧ ﺟﻮ ﺻﺪﻗﮧ ﻣﯿﺮﮮ ﯾﺎﺭ ﻧﮯ ﺩﯾﺎ
    ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺟﻮ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﮨﯽ ﺳﺮ ﮔﯿﺎ
    ﺑﭩﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﺏ ﻧﯿﺎﺯﯾﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﺰﺍﺭ ﭘﺮ
    ﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻓﺎﻗﻮﮞ ﺳﮯ ﻣﺮ
    ﮔﯿﺎ
    ﻣﺠﮭﮯ ﻗﺘﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺷﺎﮐﺮ ﻭﮦ ﺭﻭﯾﺎ ﺑﮯ ﭘﻨﺎﮦ
    ﮐﺘﻨﯽ ﮨﯽ ﺳﺎﺩﮔﯽ ﺳﮯ ﻗﺎﺗﻞ ﻣﮑﺮ ﮔﯿﺎ

    تصنیفات

    لہو دا عرق
    پیلے پتر
    بلدین ہنجو
    منافقاں تو خدا بچاوے
    روسیں تو ڈھاڑیں مار مار کے
    گلاب سارے تمہیں مبارک
    کلامِ شاکر
    خدا جانے
    شاکر دیاں غزلاں
    شاکر دے دوہڑے

    بشکریہ وکی پیڈیا

    ان کے کچھ منتخب اشعار پیش ہیں ۔۔۔۔۔ ان کی شاعری کا انتخاب بھی ایک کٹھن مرحلہ تھا ۔۔۔۔ کسی بھی موجود شعر کو چھوڑنا گراں محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ تو کرنا ہی تھا ۔۔ سو انتخاب حاضر ہے ۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔

    مرے رازق رعایت کر نمازاں رات دیاں کر دے
    کہ روٹی رات دی پوری کریندے شام تھیں ویندی
    انھاں دے بال ساری رات روندن بھک تو سوندے نئیں
    جنھاں دی کیندے بالاں کوں کھڈیندے شام تھی ویندی
    میں شاکر بھکھ دا ماریا ہاں مگر حاتم توں گھٹ کئی نئیں
    قلم خیرات ہے میری چلیندے شام تھی ویندی

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    کیہندے کتّے کھیر پیون کیہندے بچّے بھکھ مرن
    رزق دی تقسیم تے ہک وار ول کجھ غور کر
    غیر مسلم ہے اگر مظلوم کوں تاں چھوڑ دے
    اے جہنمی فیصلہ نہ کر اٹل کجھ غور کر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    اے پاکستان دے لوکو پلیتاں کوں مکا ڈیوو
    نتاں اے جے وی ناں رکھے اے ناں اوں کوں ولا ڈیوو
    جتھاں مفلس نمازی ہن او مسجد وی اے بیت اللہ
    جو ملاں دیاں دکاناں ہن مسیتاں کوں ڈھا ڈیوو
    اتے انصاف دا پرچم تلے انصاف وکدا پئے
    ایہوجی ہر عدالت کوں بمعہ املاک اڈا ڈیوو
    پڑھو رحمن دا کلمہ بنڑوں شیطان دے چیلے
    منافق توں تے بہتر ہے جے ناں کافر رکھا ڈیوو
    جے سچ آکھن بغاوت ہے بغات ناں اے شاکر دا
    چڑھا نیزے تے سر مینڈھا مینڈے خیمے جلا ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔

    میکوں مینڈا ڈکھ ، میکوں تینڈا ڈکھ ، میکوں ہر مظلوم انسان دا ڈکھ
    جتھاں غم دی بھا پئی بلدی ہے میکوں روہی چولستان دا ڈکھ
    جتھاں کوئی انصاف دا ناں کوئی نئیں میکوں سارے پاکستان دا ڈکھ
    جیہڑے مر گئے ہن او مر گئے ہن میکوں جیندے قبرستان دا ڈکھ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔۔۔

    غریب کوں کئیں غریب کیتے ، امیرزادو جواب ڈیوو
    ضرورتاں دا حساب گھنو ، عیاشیاں دا حساب ڈیوو
    سخاوتاں دے سنہرے پانڑیں ، دے نال جیہڑے مٹا ڈتے نیں
    او لفظ موئے بھی بول پوسن ، شرافتاں دی کتاب ڈیوو
    شراب دا رنگ لال کیوں اے ، کباب دے وچ اے ماس کیندا
    شباب کیندا ہے ، کئیں اُجاڑے حساب کر کے جناب ڈیوو
    زیادہ پھلدا اے کالا جیکوں ، خرید گھن دا اے اوہو کرسی
    الیکشناں دا ڈرامہ کر کے ، عوام کوں نہ عذاب ڈیوو
    قلم اے منکر نکیر شاکر ، جتھاں وی لکسو اے تاڑ گھن سی
    غلاف کعبے دا چھک کے بھانوں ، ناپاک منہ تے نقاب ڈیوو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    72 حور دے بدلے گزارہ ہک تے کر گھنسوں
    71 حور دے بدلے اساں کوں رج کے روٹی دے

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​۔۔۔۔۔

    نجومی نہ ڈراوے دے اساکوں بدنصیبی دے
    جڈاں ہتھاں تے چھالے تھئے لکیراں خود بدل ویسن

  • کراچی حملہ کیس،دہشتگردوں کے زیراستعمال گاڑی کے مالک کا بیان ریکارڈ

    کراچی حملہ کیس،دہشتگردوں کے زیراستعمال گاڑی کے مالک کا بیان ریکارڈ

    کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    دہشتگردوں کے زیر استعمال گاڑی آخری مرتبہ 2016 میں فروخت کی گئی، گاڑی بیچنے والے شوروم مالک کا بیان ریکارڈ کر لیا گیا،شوروم مالک نے سی ٹی ڈی کو بیان دیا کہ میں نے گاڑی آخری مرتبہ گاڑی کوئٹہ کے رہائشی کو بیچی تھی،گاڑی کی خرید و فروخت کی دستاویزات نہ ہونے کی وجہ سے تحقیقاتی حکام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے گاڑی خریدنے والے شخص سے رابطے اور تلاش کیلئے دیگر تحقیقاتی اداروں سے مدد لی جائے گی،

    دوسری جانب میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی پولیس حملہ کیس کی تحقیقات جاری ہیں، فارنزک کے دوران حملہ آوروں کے 5 فنگرپرنٹس حاصل کیے گئے حاصل کردہ فنگرپرنٹس کا نادرا سے ریکارڈ چیک کیا جا رہا ہے گاڑی سے حملہ آوروں کے جوتے ٹوپی اوربنیان ملی جبکہ رسی پلاسٹک والی چٹائی رضائی، موزے ،کلاشنکوف کا میگزین بھی ملا ہے پلاسٹک کی بوری اوررومال بھی گاڑی میں موجود تھا، مارے گئے تیسرے دہشت گرد کے فنگرپرنٹس نادرا کے ریکارڈ سے میچ نہیں ہوسکے

    میری حکومت ضرور آئے گی پھر میں ان کو نہیں چھوڑوں گا:عمران خان
    نائن الیون کےمتاثرین افغان بینک کےفنڈزضبط نہیں کرسکتے:امریکی عدالت کافیصلہ
    آئی ایم ایف پروگرام کے بعد مزید مشکلات آئیں گی: وزیر اعظم شہباز شریف

    خاتون پولیس اہلکار کے کپڑے بدلنے کی خفیہ ویڈیو بنانے پر 3 کیمرہ مینوں کے خلاف کاروائی

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    ایم بی اے کی طالبہ کو ہراساں کرنا ساتھی طالب علم کو مہنگا پڑ گیا

     قاری کی جانب سے بچوں کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے پر گھر والوں نے تشدد کیا

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی آئی جی آفس آمد 

    آئی جی سندھ نے شہداء کے ورثاء سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے شہداءکوداد شجاعت دی اور انکی محکمانہ خدمات کو خراج عقیدت پیش کیا۔انکا کہنا تھا کہ دہشت گردانہ حملے کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے ہوکر ملک اور سماج دشمن عناصر کو دندان شکن جواب دینا اور انھیں جہنم واصل کرنا اب پولیس کی جرأت اور بہادری کا سنہری باب بن چکا ہے۔انہوں نے شہداء کے ورثاء کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں مجھ سمیت پوری سندھ پولیس آپکے ساتھ ہے آپ خود کو ہر گز تنہا نہ سمجھیں آپکی داد رسی کرنا اور مسائل و مشکلات کو حل کرنا محکمہ پولیس سندھ کی ذمہ داری ہے

  • کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، چوری شدہ اسلحہ برآمد

    کراچی میں دہشت گردی کا بڑا منصوبہ ناکام، چوری شدہ اسلحہ برآمد

    کراچی:شہرقائد میں پولیس نے بروقت کارروائی کرکے دہشت گردی کا منصوبہ ناکام بنادیا۔پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گلشن حدید لنک روڈ کے قریب زمین سے دفنایا گیا اسلحہ بھاری مقدار میں برآمد ہوا ہے، جس میں 30 بور پستول، شارٹ گن موجود ہیں۔

    حکام نے انکشاف کیا ہے کہ برآمد ہتھیاروں میں کئی ہتھیار 31 جنوری کو چوری ہوئے تھے، کھدائی کے دوران نکالے گئے بورے نئے جبکہ اسلحہ پرانا تھا۔گزشتہ دنوں سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر حلیم عادل شیخ کے بھائی کی سیکیورٹی کمپنی سے ہھتیار چوری ہوئے تھے، جس کا مقدمہ 7 فروری کو شاہ لطیف ٹاؤن میں درج ہوا تھا۔

    پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شاہ لطیف اور اسٹیل ٹاؤن درج مقدمات میں اسلحہ کے کئی نمبرز ایک جیسے موجود ہیں، 6 بوریوں سے ملنے والا زیادہ تراسلحہ چوری شدہ ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ پولیس کو بورے سے میٹل ڈیٹکٹر اور وائرلیس سیٹ بھی ملا ہے۔

    ادھرذرائع کے مطابق کراچی: حکومت سندھ نے صوبے میں اسلحہ لے کر چلنے پر پابندی عائد کردی۔

    صوبائی حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق سندھ بھر میں اسلحہ لے کرچلنے اوراسلحے کی نمائش پر پابندی 3 ماہ کے لیے عائد کی گئی ہے۔ پابندی کا اطلاق فوری ہوگا۔

    نوٹیفکیشن کے مطابق تمام تھانوں کے ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں۔ پولیس رینجرز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اس حکم نامہ سے مستثنی ہونگے۔

  • خواتین کو شادی کا جھانسہ دیکر فراڈ کرنے والا نامی گرامی مجرم گرفتار

    خواتین کو شادی کا جھانسہ دیکر فراڈ کرنے والا نامی گرامی مجرم گرفتار

    کراچی :شہرقائد کے علاقے یوسف پلازہ کے قریب پولیس نے ملزم عاطف کو گرفتار کرلیا۔ ملزم خواتین کو شادی کا جھانسہ دیکر ان سے فراڈ کرتا تھا۔پولیس کے مطابق ملزم عاطف کو لیاقت آباد وومن پولیس نے یوسف پلازہ کے قریب فلیٹ پر چھاپہ مار کر گرفتار کیا۔ پولیس کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے متعدد لڑکیوں کی تصاویر برآمد ہوئی ہیں، جب کہ ملزم عاطف کے نکاح ناموں کی تصدیق کا عمل بھی جاری ہے۔

    ملزم کے خلاف متاثرہ لڑکی کی جانب سے ایف آئی آر درج کروائی گئی تھی۔ درج درخواست میں لڑکی کا کہنا تھا کہ ملزم اس کے گھر کے قریب واقعہ فلیٹ میں رہتا تھا، جہاں سے دونوں کی جان پہچان شروع ہوئی۔ بعد ازاں لڑکا ایک روز مجھے اچانک گاڑی میں بیٹھا کر لے گیا اور دو نامعلوم افراد اور مولوی کے ہمراہ مجھ سے نکاح کیا، جس پر میں راضی تھی۔

    ایف آئی آر کے متن کے مطابق مذکورہ لڑکی کی جانب سے جب رخصتی کا مطالبہ کیا گیا تو ملزم عاطف نے ٹال مٹول سے کام لینا شروع کردیا اور اکثر اوقات تشدد کا نشانہ بھی بناتا۔ بات لڑکی کے رشتے داروں تک پہنچی تو پتا چلا کہ ملزم نے علاقے کی دیگر خواتین کو بھی شادی کا جھانسہ دے کر نکاح کیا ہے۔ملزم کو جمعرات 23 فروری کو عدالت میں پیش کیا گیا، جس کے بعد ملزم کو دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر پولیس کے سپر کردیا گیا ہے۔

    موصول اطلاعات کے مطابق ملزم عاطف گھر پر اکیلا رہتا تھا۔ گھر والوں کو یہ کہہ کر غائب رکھتا تھا کہ وہ نائٹ ڈیوٹی کرتا ہے۔ دوران تفتیش ملزم کا کہنا تھا کہ وہ کوئی مستقل ملازمت نہیں کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ملزم کی عمر 32 سال ہے۔

  • ہم زمان ٹاﺅن کو جیل ڈکلیئرکروا سکتے ہیں،مرتضیٰ وہاب کی پی ٹی آئی کو آفر

    ہم زمان ٹاﺅن کو جیل ڈکلیئرکروا سکتے ہیں،مرتضیٰ وہاب کی پی ٹی آئی کو آفر

    پیپلز پارٹی کے رہنما سندھ حکومت کے ترجمان و مشیر قانون سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے تحریک انصاف کے رہنماؤں کو جیل میں سہولیات دینے کا اعلان کر دیا

    سوشل میڈیا پر ربنواز بلوچ کی جانب سے ٹویٹ کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مرتضیٰ وہاب نے بلال غفار سے پوچھا کہ آپ کب جیل جائیں گے ؟ بلال غفار نے جواب دیا کہ آپ فکر نہ کریں سب سے پہلے میں جیل جاﺅں گا ہم آپ کو سرپرائز دیں گے چلیں جیل چلیں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ میں ابھی پی ٹی آئی کا حصہ نہیں تو جیل کیسے چلوں اگر آپ چاہیں تو ہم زمان ٹاﺅن کو جیل ڈکلیئر کروا سکتے ہین قانونی طورپر ایسا ہو سکتا ہے باقی آپ خان صاحب سے پوچھ کر بتائیں پی ٹی آئی رہنما نے کہا کہ یہاں تو قانو ن ہے ہی نہیں مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ اگر آپ جیل جائیں تو ہم آپ کو سہولیات دیں گے امتیاز شیخ نے بھی حصہ ڈالتے ہوئے بلال غفار کو آفر کی کہ آپ جیل جائیں گے تو شکار پور کا اچار کا تحفہ میری طرف سے ہو گا

    https://twitter.com/RabNBaloch/status/1629034410023477248

    علاوہ ازیں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم مشکل صورتحال سے گزر رہی ہے اس وقت پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ عمران خان ہے تحریک انتشار کا صرف ایک مسئلہ ہے کہ عمران خان کو وزیرعظم ہونا چاہیے ملک میں بحرانی صورتحال پنجاب سے آئی تحریک انصاف سندھ کی قیادت نے گرفتاری نہیں دی سیاسی معاملات سیاسی انداز سے حل کرنے کی ضرورت ہے سیاسی مسائل حل کرنے کیلئے پارلیمان کا پلیٹ فارم موجود ہے، سب کا مقصد پاکستان کو بچانا اور معیشت کی مضبوطی ہونا چاہئے

    تحریک انصاف نے کارکنان کی گرفتاریوں کے لئے شیڈول جاری کیا ہے، پنڈی میں جمعہ، ملتان میں ہفتہ، گوجرانوالہ میں اتور اور سرگودھا میں پیر کو پی ٹی آئی کے کارکنان گرفتاریاں دیں گے، پنجاب کے شہر ساہیوال میں منگل کو گرفتاریاں ہوں گی، 22 فروری سے یکم مارچ تک روزانہ 200 کارکن رضاکارانہ گرفتاریاں دیں گے گرفتاریاں نہ ہونے پر کارکن اور ارکان اسمبلی مقررہ مقام پر دھرنا دیں گے

  • کراچی:گرین لائن بس کو حادثہ، خواتین سمیت 8 افراد زخمی

    کراچی:گرین لائن بس کو حادثہ، خواتین سمیت 8 افراد زخمی

    کراچی:گرین لائن بس کوحادثے میں خواتین سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے۔کراچی کے علاقے ناگن چورنگی کے قریب گرین لائن بس تیز رفتاری کے باعث فٹ پاتھ پر چڑھ گئی۔ بس فٹ پاتھ پر ٹکرانے سے بس کے اگلے حصے کو نقصان پہنچا۔

    حادثے میں خواتین سمیت 8 افراد معمولی زخمی ہوئے جنہیں اسپتال منتقل کردیا گیا۔ گرین لائن بس حادثے پر انتظامیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ٹریک کو کلیئر کرکے سروس بحال کردی گئی۔ حادثے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ بس کے اندر اور ٹریک پر نصب کیمروں سے مدد لی جائیگی۔

    ترجمان گرین لائن بس کے مطابق حادثے میں مسافر محفوظ رہے تاہم ڈرائیور کو شیشے سے ٹکرانے کی وجہ سے گہری چوٹیں آئی ہیں۔ جدید بسیں حفاظت کے اعلیٰ معیار سے لیس ہیں جس کی وجہ سے کوئی سنگین نقصان نہیں ہوا۔ بریک فیل ہونا خارج از امکان ہے۔

    کراچی گرين لائن بس سروس کے آدھے ادھورے منصوبے نے کسی حد تک ٹرانسپورٹ کےمسائل کم کردئیے تاہم اب ابھی بہت کام باقی ہے۔کراچی میں چند ماہ قبل گرین لائن بس سروس کے آغاز کے ساتھ ہی کراچی میں جدید ٹرانسپورٹ سسٹم کی بنیاد رکھ دی گئی۔ تاہم لیکن ٹاورکےبجائےنمائش تک نامکمل ٹریک اورفیڈر بسیں نہ چلنے کے باعث شہری اس انقلابی سہولت سے پوری طرح فائدہ نہیں اٹھا پارہے ہیں۔

    نجی کمپنيوں کے بائيک رائیڈرز نے اس مسئلے کا حل اپنی سروس دےکر نکال ليا ہے۔ گرين لائن اسٹيشنز کے باہر مسافروں کو ان کی اگلی منزل پر پہنچانے کيلئے بائیک رائیڈرز موجود ہوتے ہيں۔اس وقت گرين لائن کا استعمال کرنے والوں ميں موٹرسائيکل سواروں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے جو اپنی موٹرسائيکليں بس اسٹيشن کے باہر کھڑی کرکے اے سی بس ميں آرام دہ اور باکفايت طريقے سے منزل پر پہنچتے ہيں۔

    شہر کےپہلےميگا ٹرانسپورٹ پروجيکٹ پر اس وقت روزانہ 50 ہزارمسافر سفرکررہےہيں۔انتظاميہ رش کوديکھتے ہوئے محدود اسٹيشنز پر رکنے والی ايکسپريس سروس شروع کرنے کی بھی منصوبہ بندی کررہی ہے۔گرین لائن بس سروس کے مختلف اسٹيشنز پر برقی زينے کام نہيں کررہے ہيں جبکہ لفٹس کے فعال نہ ہونے کی وجہ سے بزرگ اور معذور مسافروں کو بھی پريشانی کا سامنا ہے۔

  • کراچی میں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ

    کراچی میں ڈکیتی کی وارداتوں میں اضافہ

    کراچی: کورنگی کے نجی اسپتال میں ڈاکوؤں نے عملے کو لوٹ لیا۔کراچی کے علاقے کورنگی میں واقع نجی اسپتال میں ڈاکو گھس گئے جنہوں نے عملے سے موبائل فون چھینے اور باآسانی فرار ہوگئے۔

    ویڈیو میں ڈاکوؤں کے چہرے واضح ہونے کے باوجود بھی کوئی ایک ملزم گرفتار نہ کیاجاسکا۔دوسری جانب سائٹ سپرہائی وے بروہی گوٹھ میں مبینہ پولیس مقابلے میں ایک ڈاکو ہلاک ہوگیا۔

    ادھر لیاری کھڈا مارکیٹ میں ڈکیتی مزاحمت پرفائرنگ سے دو افراد شدید زخمی ہوگئے جن میں ایک مبینہ ڈاکو شامل تھا جب کہ یاسین آباد میں شہریوں نے ڈاکو کو قابوکرلیا اور پھر تشددکے بعدپولیس کے حوالے کردیا۔

    کراچی میں اسٹریٹ کرمنلز نے روزگار کی تلاش میں دن بھر سڑکوں پر دھکے کھانے والے رکشہ ڈرائیور کو بھی نہ بخشا۔

    کراچی میں ابوالحسن اصفہانی روڈ پر اسٹریٹ کرمنلز نے رکشہ ڈرائیور سے اسلحہ کے زور پر 16 ہزار روپے اور موبائل فون چھین لیا۔رکشہ ڈرائیور نے واردات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ میں سواری چھوڑنے گلی میں آیا ، واپس جاتے ہوئے دو ملزمان نے پستول دکھا کر روکا۔

    ڈرائیور کے مطابق ملزمان نے میرے پاس رکھے 16ہزار اور موبائل چھین لیا۔

  • پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نے کراچی میں دہشتگردی کی کوشش ناکام بنا دی

    پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نے کراچی میں دہشتگردی کی کوشش ناکام بنا دی

    کراچی علاقے اورنگی ٹاؤن میں پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے نے بس اڈے پر چھاپہ مار کر دو اسمگلروں کو بھاری گرفتار کر کے مقدار میں اسلحہ برآمد کرلیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق اسلحے کی اسمگلنگ کرنے والے ملزمان بس کے ذریعے پشاور سے کراچی مٹھائی کے ڈبوں میں چھپا اسلحہ لائے جسے شہر میں دہشت گردی میں استعمال ہونا تھا-

    حساس ادارے اور پولیس نے خفیہ اطلاع پر اورنگی ٹاؤن بس اڈے پر ناکہ لگادیا ملزمان جیسے ہی بس سے اتر کر رکشے میں بیٹھنے لگے انھیں گرفتار کرکے اسلحے کی کھیپ پکڑ کر رکشہ ڈرائیور سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا-

    مٹھائی کے ڈبوں سے 30 نائن ایم ایم پستول، گولیاں اور بڑے ہتھیار برآمد ہوئے ہیں ملزمان نےبڑے ہتھیاروں کے پرزے الگ کئے ہوئے تھے۔

    ملزمان نے ہتھیار دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے تھے کچھ ہتھیار کراچی میں فروخت بھی کرنے تھے، گرفتار دہشت گردوں نے اپنے دیگر ساتھیوں کے بارے میں بھی انکشاف کیا ہے جن کی گرفتاری کے لیے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جارہے ہیں۔