Baaghi TV

Category: کراچی

  • لڑکی کو نیم مردہ حالت میں ساحل پر پھینکا گیا،پوسٹ ماٹم رپورٹ میں انکشاف

    لڑکی کو نیم مردہ حالت میں ساحل پر پھینکا گیا،پوسٹ ماٹم رپورٹ میں انکشاف

    شہر قائد کراچی سے 8 جنوری کو ساحل سے نوجوان لڑکی کی لاش ملنے کا واقعہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ، سنسنی خیز انکشافات سامنے آ گئے

    میڈیکو لیگل ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ لڑکی کو نیم مردہ حالت میں ساحل پر پھینکا گیا، لڑکی کی موت ساحل پر پڑے پڑے ہوئی ہے، موت سے قبل لڑکی کو ممکنہ طور پر نشہ آور اشیاء کھلائی گئیں،منہ کے معائنے میں نشہ آور اشیاء کھلانے کی نشاندہی ہوئی، لڑکی کے جسم کے مختلف حصوں پر چوٹوں کے نشانات پائے گئے ،رپورٹ کے مطابق ساحل سے ملنےوالی لڑکی کی آنکھوں،ناک ،ہونٹوں اور ایڑھیوں پر نیل پائے گئے،مقتولہ کی لاش پر مرنے کے بعد پیدا ہونیوالا فنگس بھی موجود نہ تھا، رائیگر موٹس نامی فنگس مرنے کے 12 گھنٹے بعد پیدا ہوجاتا ہے،ساحل سے برآمد لاش 12 گھنٹے بھی پرانی نہ تھی،لڑکی کی جیکٹ سامنے سے گیلی اور پیچھے سے سوکھی ہوئی تھی،جیکٹ اور جینز کے نچلے حصے سے سمندری ریت بھی نہیں ملی چوٹیں لگنے اور اور موت واقع ہونے کا درمیانی وقت محفوظ رکھا گیا ہے، لڑکی کے جسم کی کوئی بھی ہڈی نہیں ٹوٹی، پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی کڑیاں کھولنے کے لئے حتمی رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں،

    کراچی کے ساحل سی ویو سے سارہ ملک نامی لڑکی کی لاش ملنے کے معاملے پر سینئیر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس زاہدہ پروین نے بتایا تھا کہ ”15“ پر جمال نامی شخص نے ڈوبنے کی اطلاع دی تھی۔ ایس ایس پی زاہدہ پروین نے بتایا کہ پولیس نے لڑکی کا بیگ اور دیگر چیزیں تحویل میں لیں، بیگ سے ایک اسپتال کا کارڈ ملا۔ زاہدہ پروین کے مطابق اسپتال انتظامیہ نے بتایا کے سارہ ان کے پاس کام کرتی تھی۔ ایس ایس پی زاہدہ نے کہا کہ اتوار کے روز صبح سمندر کنارے لاش ملی، فیملی نے لاش کی شناخت کرلی ہے،

    پولیس کے مطابق خاتون سے مبینہ طور پر جنسی زیادتی ہوئی، جس کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔ مقتولہ محمود آباد اعظم بستی کی رہائشی اور جانوروں کی ڈاکٹر تھی۔ ابتدائی تفتیش میں پولیس کا کہناتھا کہ ڈاکٹر شان نے مقتولہ کو2 لاکھ روپے قرض دیے تھے جس کے بعد اسے بلیک میل کر کے جنسی تعلق پر مجبورکیا گیا۔ سارہ پہلے بھی خودکشی کی کوشش کرچکی تھی۔ سارہ کی شناخت ان کے بیگ سے ملنے والے شناختی کارڈ سے ممکن ہوئی۔اہل خانہ نے خودکشی کے امکان کو مسترد کیا ہے۔

    شک تھا سارہ کا کسی کے ساتھ کوئی افیئر ہے۔ ایاز امیر کے بیٹے کا بیوی کو قتل کرنے کے بعد بیان،

    ایاز میر کے بیٹے کی خوفناک درندگی :سارہ انعام ،کینیڈین شہری،دبئی آئی،گاڑی خریدی ،مگرپھرکیاہوا؟ہولناک انکشافات

    ایاز امیر کی بہو کا پوسٹمارٹم مکمل،سارہ کے قتل کی وجہ کا تعین نہ ہوسکا

    پہلے مارا، گھسیٹ کر واش روم لے گیا،ایاز امیر کے بیٹے نے سفاکیت کی انتہا کر دی

    سر پر ڈمبل مارا،آلہ قتل بھی خود برآمد کروایا،ایاز امیر کے بیٹے کیخلاف مقدمہ درج

     سارہ انعام کے والد انعام الرحمان نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کی ہے

    سارہ انعام قتل کیس،مرکزی ملزم شاہنواز امیر پر فرد جرم عائد

  • نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی یوم پیدائش

    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی یوم پیدائش

    ذرا یہ دورئ احساس حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا

    جمیل الدین عالی

    پیدائش:20 جنوری 1925ء
    دہلی، برطانوی راج
    (موجودہ بھارت)
    وفات:23 نومبر 2015ء
    کراچی
    شہریت:پاکستان
    قومیت:مملکت متحدہ (1926-47)
    پاکستان (1947-2015)
    مذہب:اسلام
    جماعت:متحدہ قومی موومنٹ
    پاکستان پیپلز پارٹی
    زوجہ:طیّبہ بانو
    والدین:نواب سر امیرالدین احمد خاں
    سیّدہ جمیلہ بیگم
    مادر علمی:دہلی یونیورسٹی
    جامعہ کراچی
    پیشہ:سول سرونٹ، شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب
    زبان:اردو
    پیشہ ورانہ زبان:انگریزی، اردو
    دور فعالیت:1951-2015

    جمیل الدین عالی (20 جنوری، 1925ء – 23 نومبر، 2015ء) اردو کے مشہور شاعر، سفرنامہ نگار، کالم نگار، ادیب اور کئی مشہور ملی نغموں کے خالق تھے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    نواب زادہ مرزا جمیل الدین عالی، ہزہائی نس نواب سر امیر الدین احمد خان فرخ مرزا آف لوہارو کے ساتویں صاحبزادے ہیں۔ 20 جنوری 1925ء کو دہلی میں پیدا ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام سیّدہ جمیلہ بیگم تھا۔ جو نواب سر امیر الدین کی چوتھی بیوی اور اور سیّد خواجہ میر درد کی پڑپوتی تھیں۔ بارہ سال کی عمر میں عالی اپنے والد کے سایۂ شفقت سے محروم ہو گئے۔ 1940ء میں اینگلوعربک اسکول دریا گنج دہلی سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1945ء میں اینگلو عربک کالج سے معاشیات، تاریخ اور فارسی میں بی اے کیا۔ 1951ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کیا اور پاکستان ٹیکسیشن سروس کے لیے نامزد ہوئے۔ 1971ء میں جامعہ کراچی سے ایف ای ایل 1976ء میں ایل ایل بی سیکنڈ ڈویژن میں پاس کر کے ملازمت کا آغاز کیا۔ 1948ء میں حکومت پاکستان وزارت تجارت میں بطور اسسٹنٹ رہے۔ 1951ء میں سی ایس ایس کے امتحان میں کامیابی کے بعد پاکستان ٹیکسیشن سروس ملی اور انکم ٹیکس افسر مقرر ہوئے۔ 1963ء میں وزارت تعلیم میں کاپی رائٹ رجسٹرار مقرر ہوئے۔ اس دوران میں اقوام متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو میں فیلو منتخب ہوئے۔ اس کے بعد دوبارہ وزارت تعلیم میں بھیج دیا گیا۔ لیکن فوراً گورنمنٹ نے عالی صاحب کو ڈیپوٹیشن پر نیشنل پریس ٹرسٹ بھیج دیا جہاں پر انہوں نے سیکرٹری کی حیثیت سے کام کیا۔ 1967ء میں نیشنل بینک آف پاکستان سے وابستہ ہوئے اور سینٹر ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ کے عہدے تک پہنچے وہاں سے ترقی پا کر پاکستان بینکنگ کونسل میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ ایڈوائزر مقرر ہوئے۔ جمیل الدین عالی کی متعدد تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔ ان کو بہت سے ایوارڈز سے بھی نوازا گیا۔ آپ کو 1989ء میں صدارتی تمغا برائے حسن کارکردگی بھی ملا۔
    وفات
    ۔۔۔۔۔
    ان کا انتقال 23 نومبر، 2015ء کو کراچی میں ہوا۔ ان کی تدفین کراچی میں آرمی کے بیزرٹا قبرستان میں ہوئی۔
    شاعری
    ۔۔۔۔۔
    عالی جس طرح کئی سطحوں پر زندگی گزارتے ہیں ویسے ہی ان کی تخلیقی اظہار کئی سطحوں پر ہوتا رہتا ہے۔ تام انہوں نے دوہا نگاری میں کچھ ایسا راگ چھیڑ دیا ہے یا اردو سائکی کے کسی ایسے تار کو چھو دیا ہے کہ دوہا ان سے اور وہ دوہے سکے منسوب ہو کر رہ گئے ہیں۔ انہوں نے دوہے کی جو بازیافت کی ہے اور اسے بطور صنف شعر کے اردو میں جو استحکام بخشا ہے وہ خاص ان کی دین ہو کر رہ گیا ہے۔ عالی اگر اور کچھ نہ بھی کرتے تو بھی یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا کیونکہ یہ ان کی مغفرت کے لیے کافی تھا۔ کیونکہ شعر گوئی میں کمال توفیق کی بات سہی، لیکن یہ کہیں زیادہ توفیق کی بات ہے کہ تاریخ کا کوئی موڑ، کوئی رخ، کوئی نئی جہت، کوئی نئی راہ، چھوتی یا بڑی کسی سے منسوب ہو جائے۔
    کتابیات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)لا حاصل:شاعری
    ۔ (2)بس اِک گوشۂ بساط:
    ۔ خاکے،مضامین اور تاثرات
    ۔ (3)آئس لینڈ:سفرنامہ
    ۔ (4)کارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (5)بارگاہِ وطن:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (6)دوہے:شاعری (دوہے)
    ۔ (7)حرف چند:انجمن ترقی اُردو کی
    ۔ کتابوں پر لکھے گئے مقدمے
    ۔ (8)انسان:شاعری (طویل نظمیہ)
    ۔ (9)وفا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (10)صدا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (11)دعا کر چلے:کالموں کا مجموعہ
    ۔ (12)اے مرے دشت سخن :اعری
    ۔ (13)تماشا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (14)دنیا مرے آگے:سفرنامہ
    ۔ (15)جیوے جیوے پاکستان:شاعری
    ۔ (قومی و ملی نغمے)
    ۔ (16)غزلیں، دوہے، گیت:شاعری
    اعزازات
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (1)ہلال امتیاز (2004)
    ۔ (2)تمغا حسن کارکردگی (1991)
    ۔ (3)آدم جی ادبی انعام (1960)
    ۔ (4)داؤد ادبی ایوارڈ (1963)
    ۔ (5)یونائٹڈ بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (6)حبیب بینک ادبی ایوارڈ (1965)
    ۔ (7)کینیڈین اردو اکیڈمی ایوارڈ (1988)
    ۔ (8)سنت کبیر ایوارڈ – اردو کانفرنس دہلی (1989)

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    حقیقتوں کو فسانہ بنا کے بھول گیا
    میں تیرے عشق کی ہر چوٹ کھا کے بھول گیا
    ذرا یہ دورئ احساس‌ حسن و عشق تو دیکھ
    کہ میں تجھے ترے نزدیک آ کے بھول گیا
    اب اس سے بڑھ کے بھی وارفتگئ دل کیا ہو
    کہ تجھ کو زیست کا حاصل بنا کے بھول گیا
    گمان جس پہ رہا منزلوں کا اک مدت
    وہ رہ گزار بھی منزل میں آ کے بھول گیا
    اب ایسی حیرت و وارفتگی کو کیا کہیے
    دعا کو ہاتھ اٹھائے اٹھا کے بھول گیا
    دل و جگر ہیں کہ گرمی سے پگھلے جاتے ہیں
    کوئی چراغ تمنا جلا کے بھول گیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بیان درد محبت جو بار بار نہ ہو
    کوئی نقاب ترے رخ کی پردہ دار نہ ہو
    سلام شوق کی جرأت سے دل لرزتا ہے
    کہیں مزاج گرامی پہ یہ بھی بار نہ ہو
    کرم پہ آئیں تو ہر ہر ادا میں عشق ہی عشق
    نہ ہو تو ان کا تغافل بھی آشکار نہ ہو
    یہی خیال رہا پتھروں کی بارش میں
    کہیں انہیں میں کوئی سنگ کوئے یار نہ ہو
    ابھی ہے آس کہ آخر کبھی تو آئے گا
    وہ ایک لمحہ کہ جب تیرا انتظار نہ ہو
    بہت فریب سمجھتا ہوں پھر بھی اے عالیؔ
    میں کیا کروں اگر ان پر بھی اعتبار نہ ہو

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
    شاید آغاز بے وفائی ہے
    تو نہ بدنام ہو اسی خاطر
    ساری دنیا سے آشنائی ہے
    کس قدر کش مکش کے بعد کھلا
    عشق ہی عشق سے رہائی ہے
    شام غم میں تو چاند ہوں اس کا
    میرے گھر کیا سمجھ کے آئی ہے
    زخم دل بے حجاب ہو کے ابھر
    کوئی تقریب رو نمائی ہے
    اٹھتا جاتا ہے حوصلوں کا بھرم
    اک سہارا شکستہ پائی ہے
    جان عالیؔ نہیں پڑی آساں
    موت رو رو کے مسکرائی ہے

  • معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ کا یوم پیدائش

    آغا نیاز مگسی

    سندھ سےتعلق رکھنےوالی معروف شخصیت،محققہ اورمصنفہ ڈاکٹرسیدہ نفیسہ شاہ 20 جنوری 1968 کوخیرپورسندھ میں پیدا ہوئیں ۔وہ سندھ کےسابق وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ کی بیٹی ہیں ۔انہوں نےابتدائی تعلیم کراچی سےحاصل کی اوراس کےبعد آکسفورڈ یونیورسٹی لندن سے”غیرت کےنام پرقتل”کےموضوع پرپی ایچ ڈی کی

    وہ اس وقت رکن قومی اسمبلی ہیں ۔اس سےقبل وہ دومرتبہ ایم این اے رہ چکی ہیں وہ اس سےقبل خیرپورکی ضلعی ناظمہ اور National Commission For Human Development(NCHD) کی چیئرپرسن بھی رہ چکی ہیں ۔

    نفیسہ شاہ کےوالد سیدقائم علی شاہ3 بارسندھ کے وزیراعلیٰ رہ چکےہیں ۔نفیسہ شاہ کا تعلق پاکستان پیپلزپارٹی سے ہے۔ وہ متعدد کتابوں کی مصنفہ ہیں جن میں Honour Unmasked, Gendar ViolenceاورLaw and Power in Pakistan ودیگر شامل ہیں ۔

  • کراچی میں بنگلےمیں کام کرنےوالےلڑکی لاپتا:والدین انتہائی پریشان

    کراچی میں بنگلےمیں کام کرنےوالےلڑکی لاپتا:والدین انتہائی پریشان

    کراچی: گزری کے بنگلے میں کام کرنے والے 15 سالہ لڑکی لاپتا ہوگئی، بنگلہ مالکان کا کہنا ہے کہ لڑکی رقم چرا کر بھاگ گئی، پولیس نے تاحال گمشدگی کی ایف آئی آر درج نہیں کی۔

    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا

    کراچی پولیس کے مطابق اس حوالے سے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی واقف کار ماسی حاجرہ بی بی نے بچی کو بنگلے میں ملازمت دلوائی تھی لیکن پندرہ روز قبل ان کی بیٹی لاپتا ہوگئی، حاجرہ بی بی سے معلومات حاصل کیں تو پہلے وہ ٹال مٹول کرتی رہی اور پھر بعد میں جب ہم اس بنگلے میں پہنچے جہاں ان کی بیٹی ملازمت کرتی تھی تو انھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دکھائی اور دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی گھر سے رقم چرا کر بھاگ گئی ہے۔

    ضلع خیبر میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 3 شہید

    اہل خانہ کے مطابق بنگلے کے چوکی دار اور آس پاس کے سیکیورٹی گارڈز سے معلومات حاصل کیں تو کوئی ٹھوس معلومات نہیں مل سکیں تاہم اسے جاتے ہوئے کچھ افراد نے دیکھنے کی تصدیق کی۔اہل خانہ نے بتایا کہ اس سلسلے میں انھوں ںے تھانہ گزری میں درخواست دی لیکن ایف آئی آر درج نہ ہوسکی۔ ورثا نے آئی جی سندھ غلام نبی میمن اور کراچی پولیس چیف جاوید عالم اوڈھو سے اپیل کی ہے کہ ان کی بیٹی کو ڈھونڈنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

    کمسن لڑکی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا پڑوسی گرفتار

  • چائنیز شہری کو لوٹنے والا گرفتار،لوٹا گیا سامان برآمد

    چائنیز شہری کو لوٹنے والا گرفتار،لوٹا گیا سامان برآمد

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کیخلاف پولیس کی کاروائیاں جاری ہیں

    چائنیز باشندے سے چیھنے گئے آٹھ لاکھ روپے، لیب ٹاپ، موبائل فون دیگر ضروری کاغذات برآمد کر لئے گئے،ڈی آئی جی ساؤتھ زون عرفان بلوچ کے خصوصی احکامات پر ایس ایس پی انوسٹی گیشن ڈسٹرکٹ کیماڑی شمائل ریاض ملک کی سربراہی میں تشکیل کردہ تفتیشی ٹیم نے کامیاب کاروائی کی، چائنیز باشندے سے چوری کی گئی رقم، لیب ٹاپ، موبائل فون اور دیگر کاغذات ملزم کی نشاندھی پر برآمد کر کے چائنیز باشندے کے حوالے کر دیئے گئے ،مورخہ 2023-01-11 کو چائنیز باشندے مسٹر Gaoxiongiie نے کراچی کے علاقے سی ویو سے ایک سفید کرولا کار بطور ٹیکسی بک کی چائنیز باشندہ مذکورہ کار میں تھانہ ماڑی پور کے علاقے ہاکس بے کے ساحل پر پہنچا اور سیر و تفریح کیلئے ساحل پر چلا گیا جبکہ ٹیکسی میں اپنا بیگ چھوڑ گیا بیگ میں چائنیز باشندے کے 1 لاکھ روپے نقد، ایک لیب ٹاپ، ایک موبائل فون، ایک پاسپورٹ، ویزا کارڈ اور چائنیز شناختی کارڈ موجود تھے جو کار کا نامعلوم ڈرائیور لے کر فرار ہوگیا تھا جبکہ ملزم نے چائنیز شہری کے کریڈٹ کارڈ کو استعمال کر کے 7 لاکھ روپے نکال لئے تھے واردات کا مقدمہ الزام نمبر 07/2023 بجرم دفعہ 379 ت پ نامعلوم ملزم کے خلاف تھانہ ماڑی پور میں درج کیا گیا

    تفتیشی ٹیم نے تکنیکی ذرائع کی مدد سے واردات میں ملوث ملزم قادر بخش ولد باسط کو گرفتار کیا تھا ملزم کو چائنیز شہری نے عدالت میں شناخت پریڈ کے دوران کامیابی سے شناخت کرلیا چائنیز شہری نے چوری کیا گیا تمام سامان اور نقد رقم کی برآمدگی اور حوالگی پر سندھ پولیس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے سندھ پولیس کی پیشہ ورانہ مہارت اور بھرپور تعاون کو سراہا.

    بیوی کمرے میں سوئی ،صحن میں سوئے شوہر پر گولیاں چل گئیں

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    سابق اہلیہ کی غیراخلاقی تصاویر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کرنے والے ملزم پر کب ہو گی فردجرم عائد؟

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    بارڈر کراس کرنے اور ملک مخالف نعرے لگانے والے غیر ملکی باشندوں کو گرفتار کرلیا

    دوسری جانب ایس آئی یو، سی آئی اے کا بینکوں اور اے ٹی ایمز کیش ڈکیتوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، اے ٹی ایمز کیش ڈکیتیوں میں ملوث تین ملزمان گرفتارکر لئے گئے،سی آئی اے نے مبینہ ٹاؤن اور گلستان جوہر سے تین اسٹریٹ کریملنز گرفتار کر لیے۔ گرفتار ملزمان کی شناخت کامران منگی ولد محمد افغان ، عبدالرزاق ولد محمد اسماعیل ، محمد اکرم عرف اکرام ولد محمد رمضان کے طور پر ہوئی،گرفتار ملزمان بینکوں اور اے ٹی ایمز سے کیش لیکر نکلنے والے لوگوں کو لوٹنے والے تھے۔ ابتدائی تفتیش میں ملزمان نے بینکوں،اے ٹی ایمز کیش کے علاوہ کئی دیگر اسٹریٹ کرائم کی وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔ملزم عبدالرزاق بینک کے اندر جاکر کیش لیکر نکلنے والے اشخاص کی نشاندھی کرتا ہے۔ملزمان نے رواں ماہ بھی سہراب گوٹھ اور گلشن اقبال میں وارداتوں کا انکشاف کیا ہے۔ملزمان عادی جرائم پیشہ ہیں اور متعدد بار گرفتار ہور جیل جاچکے ہیں۔ملزم کامران منگی ڈکیتی کے مقدمات میں دو مرتبہ عدالتوں سے سزا یافتہ ہے۔ملزمان عبدالرزاق اور محمد اکرم عرف اکرام نے صوبہ پنجاب میں وارداتوں اور گرفتاری کا انکشاف کیا ہے۔گرفتار ملزمان سے ناجائز اسلحہ 03 عدد پسٹلز برآمد۔ ناجائز اسلحہ کی برآمدگی پر ملزمان کے خلاف تھانہ ایس آئی یو میں سندھ اسلحہ ایکٹ کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے ہیں۔ ملزمان سے مزید تفتیش جاری ہے۔

  • فائرنگ کے تبادلے کے دوران انتہائی مطلوب 2 اسٹریٹ کرمنلز زخمی حالت میں گرفتار

    فائرنگ کے تبادلے کے دوران انتہائی مطلوب 2 اسٹریٹ کرمنلز زخمی حالت میں گرفتار

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شہر قائد کراچی میں جرائم پیشہ عناصر کے خلاف پولیس کی کاروائیاں جاری ہیں

    شاہ لطیف ٹاون پولیس کا اسٹریٹ کرمنلز سے مقابلہ ہوا ہے، فائرنگ کے تبادلے کے دوران انتہائی مطلوب 2 اسٹریٹ کرمنلز زخمی حالت میں گرفتار کر لئے گئے، زخمی حالت میں گرفتار اسٹریٹ کرمنلز نعمت اللہ اور محمد شہزاد سے چھینے ہوئے موبائیل فونز اور اسلحہ برآمد ہوا ۔اسٹریٹ کرمنلز کو ملیر بند گلستان سوسائیٹی کے قریب رکنے کا اشارہ دیا تو انہوں نے پولیس پر فائرنگ کی ۔ پولیس کی جوابی فائرنگ سے دونوں اسٹریٹ کرمنلز زخمی ہوئے ۔ ڈسٹرکٹ ملیر پولیس کے حکام کا کہنا ہے کہ گرفتار زخمی ملزم محمد شہزاد عرف جانان نے کورنگی میں دوکان کے سیکورٹی گارڈ سے اسلحہ چھینتے ہوئے اس کو گولی مار دی تھی جس کی سی سی ٹی وی ویڈیو بھی وائرل ہوگئی تھی۔ گرفتارزخمی ملزمان نے دوکان کے سیکورٹی گارڈ کو اسلحہ چھینتے ہوئے تھانہ عوامی کالونی کے علاقے زخمی کیا تھا جس کا مقدمہ 57/23 بجرم دفعہ 397/34 تھانہ عوامی کالونی ضلع کورنگی میں درج تھا جنہیں مدعی مقدمہ نے شناخت کرلیا ۔ گرفتار زخمی ملزم نعمت اللہ ولد سید مولا خان سے گارڈ سے چھینا ہوا 9mm بھی برآمد کیا گیا۔ گرفتار زخمی ملزم نعمت اللہ ولد سید مولا خان پہلے بھی مقدمات مقدمہ الزام نمبر 1236/21 بجرم دفعہ 353/324/186 /7ATA میں مفرور تھا۔:گرفتار زخمی ملزمان نے دوران تفتیش یہ بھی بتایا کہ وہ ملیر کے مختلف علاقوں میں ڈیلی کی بنیاد پر وارداتیں کرتے تھے ۔ گرفتار زخمی ملزمان پہلے بھی بہت سے مقدمات میں بند ہو چکے ہیں۔

    دوسری جانب فیروز آباد میں بھی پولیس نے کاروائی کی اور سٹریٹ کرمنلز گرفتار کر لئے ہیں ، گرفتار ملزمان میں فاروق ولد محمد جاوید،وقاص نعیم ولد نعیم ،احمد شاہ ولدمحمد دین شامل ہیں، ملزمان سے اسلحہ ایمونیشن اور موٹر سائیکل برآمد ہوئی ہے، ملزمان کا نام انتہاٸی مطلوب لسٹ میں شامل تھا، ملزمان کے خلاف مقدمہ 48/49/50/2023 بجرم دفعہ 23iA قائم کیا گیا ملزمان پہلے بھی بند ہوکر جیل جا چکے ہے ملزمان کا سابقہ ریکارڈ سامنے آیا ہے، پولیس حکام کے مطابق ملزم فاروق ولد محمد جاوید مقدمہ الزام نمبر 418/19 بجرم دفعہ 23iA ،مقدمہ الزام نمبر 72/2022 بجرم دفعہ 23iA مقدمہ الزام نمبر 314/2021 بجرم دفعہ 6/9B تھانہ برگیڈ درج ہے،

    بیوی کی سفاکی، شوہر کو ہتھوڑے کے وار سے قتل کروا کر سر اور ہاتھ بدن سے الگ کر لئے

    والد،والدہ،بہن، بھانجے،ساس کو قتل کرنیوالا سفاک ملزم گرفتار

    تبادلہ کروانا چاہتے ہو تو بیوی کو ایک رات کیلئے بھیج دو،افسر کا ملازم کو حکم

    معذور بچی کے ساتھ زبردستی گھناؤنا کام کرنیوالا ملزم گرفتار

    20 سالہ لڑکی کو اغوا کر کے کیا گیا مسلسل دو روز گھناؤنا کام

    بچوں سے زیادتی کے مجرموں کوسرعام سزائے موت ،علامہ ساجد میر نے ایسی بات کہہ دی کہ سب حیران

    پیار کرنا بن گیا جرم،جوڑے کے گلے میں جوتوں کا ہار ڈال کرلگوایا گیا چکر

    شادی کے بعد سسر کرتا رہا نئی نویلی دلہن کے ساتھ مسلسل گھناؤنا کام

  • حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا

    حدیقہ میمن کیس:اجتماعی زیادتی کا جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا

    کراچی انسداد دہشت گردی عدالت نے میمن گوٹھ میں اجتماعی زیادتی کا شکار حدیقہ میمن کیس میں جرم ثابت ہونے پر چار ملزمان کو عمر قید کی سزا سنادی،مزید پانچ سال جیل میں سزا دینے کا بھی حکم جاری، ملوث ملزمان کو کراچی سینٹرل جیل منتقل کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : حدیقہ میمن کے والد جاوید میمن نے عدالت کے فیصلے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو سزا دے کر معزز عدالت نے مزید بچیوں کی زندگی کو تباہ ہونے سے بچا لیا ہے ایڈووکیٹ محمد خان شیخ نے کہا کہ سماج میں برائیوں کو ختم کرنے میں یہ فیصلہ اہم کردار ادا کرے گا-

    قصور: اوباشوں نے لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    تفصیلات کے مطابق دو سال قبل 12 جنوری 2021 کو میمن گوٹھ میں 14 سالہ بچی طالبعلم حدیقہ جاوید میمن سے محلے کے چار ملزمان سبحان، آرض، عدیل مزمل نے اجتماعی زیادتی کر کے سوشل میڈیا پر نازیبا وڈیو بھی وائرل کی تھی جس کے خلاف تھانہ میمن گوٹھ میں مقدمہ درج کر کے ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا تھا-

    اس سلسلے میں پہلے ملیر کورٹ اور بعدازاں انسداد دہشت گردی عدالت میں 18 ماہ تک کیس چلا جس کا عدالت نمبر 4 کے معزز جج الطاف اعوان نے جرم ثابت ہونے پر چاروں ملزمان کو 25 سال عمر قید اور مزید 5 برس قید کی سزا سنائی اور فوری طور پر ملزمان کو سینٹرل جیل بھجوا دیا-

     سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا پڑوسی گرفتار

    کیس میں حدیقہ میمن کے وکیل محمد خان شیخ نے بتایا کہ میں نے کیس میں اس لیے محنت کی کے سماج میں سے برائیوں کو روکا جا سکے، لڑکی کے والد جاوید میمن کا کہنا ہے کہ اوباش لڑکوں نے میری بیٹی کی زندگی تباہ کردی ہے لیکن عدالت نے انصاف کرکے دیگر بچیوں کی زندگی کو محفوظ بنا دیا ہے۔

  • حکومت کا بندرگاہوں پر  پھنسے کنٹینرز کے جرمانے معاف کرنے کا فیصلہ

    حکومت کا بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کے جرمانے معاف کرنے کا فیصلہ

    وفاقی وزير برائے پورٹس اینڈ شپنگ فیصل سبزواری نے کہا ہے کہ کئی ہفتوں سے بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز کے جرمانے معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : انہوں نےکہا کہ مشکل وقت میں کاروباری طبقے کیلئے آسانیاں پیدا کرکےہی معیشت میں استحکام کی کوشش ہوسکتی ہے کاروباری برادری کے نمائندوں سے ملاقات کرکے مزید اقدامات پر بھی مشاورت کی جائے گی وزارت بحری امورنےبندرگاہوں کو ملنے والے جرمانے معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور نجی ٹرمینلز سے بھی جرمانے خاطر خواہ کم کرانے کی کوشش کی جائیگی۔

    لاہور ہائیکورٹ کا پنجاب حکومت کو اقلیتوں کے طلاق سرٹیفکیٹ سے متعلق رولز بنانے کا حکم


    ٹمبر مارکیٹ کے تاجروں نے اپنا حتجاج ختم کرتے ہوئے وفاقی وزیر کے رویہ اور اقدام کو مثبت قرار دیا قبل ازیں کراچی کے تاجروں نے کراچی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ کی تلاش میں ریلی نکالی اور وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ کی دفتر پی این ایس سی بلڈنگ کے باہر دھرنا دیا۔


    تاجروں کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر سے ایک ماہ سے ملاقات کی درخواست کررہے ہیں لیکن فیصل سبزواری مسائل سننے پر آمادہ نہیں جب کہ ایم کیو ایم رابطہ کمیٹی اور خالد مقبول صدیقی کے پاس بھی ہمارے لیے وقت نہیں کلیئرنس میں تاخیر اور ایل سیز نہ کھلنے سے بھاری ڈیمرجز عائد ہورہے ہیں، تاجروں نے پورٹ حکام اور وفاقی وزیر سے ڈیمرج اور پورٹ چارجز معطل کرنے کا مطالبہ کیا۔

    پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوگیا

    ریلی کے بعد ٹمبر ٹریڈرز نے نجی بینک کی برانچ میں ایل سیز کے حوالے سے اپنے کاغذات کی واپسی کے لئے دھرنا بھی دیا۔

    تاجر رہنما شرجیل گوپلانی نے بتایا کہ 9.7 ملین ڈالر مالیت کی درامدی لکڑی کراچی بندرگاہ پہنچ چکی ہے، مزید 17 ملین ڈالر کی لکڑی راستے میں ہے گورنر اسٹیٹ بینک کی یقین دہانی کے باوجود ایل سی کی دستاویزات منظور نہیں ہورہیں پورٹ پر پہنچنے والی کھیپ پر بھاری ڈیمرج عائد ہورہا ہے جو ڈالر کی شکل میں ملک سے باہر جائے گا اور بحران کا شکار تاجروں اور درآمد کنندگان ہوجھ بنے گا۔

    پی این ایس سی بلڈنگ ہر دھرنے کے بعد حکام نے مزاکرات کی کوشش کی اور وفاقی وزیر پورٹس اینڈ شپنگ کا پیغام پہنچایا کہ جمعہ کو تین رکنی وفد سے ملاقات ممکن ہے جس پر تاجروں نے جمعہ کی سہ پہر تک دھرنا جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

    ضلع خیبر میں پولیس چیک پوسٹ پر دہشت گردوں کا حملہ، 2 پولیس اہلکاروں سمیت 3 شہید

  • سندھ بلدیاتی انتخابات:نتائج میں غیرضروری تاخیر سے سارا عمل متاثر ہوا،فافن

    سندھ بلدیاتی انتخابات:نتائج میں غیرضروری تاخیر سے سارا عمل متاثر ہوا،فافن

    انتخابی امور پر نظر رکھنے والی غیرسرکاری تنظیم فری اینڈ فئیر الیکشن نیٹ ورک (فافن) کی جانب سےسندھ بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کے حوالے سے جاری کی گئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ٹرن آؤٹ کم ہونے کے باوجود انتخابی نتائج میں غیرضروری تاخیر سے سارا عمل متاثر ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: سندھ مقامی حکومتوں کے انتخابات کے دوسرا مرحلے کے حوالے سے فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک نے رپورٹ جاری کی، جس میں کہا گیا ہے کہ نتائج میں غیر ضروری تاخیر نے پرامن اور منظم انتخابی عمل کو گہنا دیاکراچی اورحیدرآباد ڈویژن میں ووٹ ڈالے جانے کی شرح میں خاصا فرق رہا البتہ انتخابی عمل پرامن اور نسبتاً منظم رہا،تاہم سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی نتائج میں تاخیر کی بنا پر لگائے جانے والے دھاندلی کے الزامات نے انتخابات کی شفافیت کو متاثر کیا ہے۔

    پیپلزپارٹی سےعملی اقدامات کےبعدہی مزیدبات چیت ہوسکتی ہے،حافظ نعیم

    فافن رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کے بائیکاٹ سے کراچی اور شہری حیدرآباد میں ووٹر ٹرن آؤٹ کم رہا، عام انتخابات کے سال میں انتخابی عمل پر شکوک و شبہات کے تنازعات سے اچھا تاثر پیدا نہیں ہوگا، شکوک و شبہات سے پاک انتخابات کے ذریعے ہی ملک میں سیاسی استحکام آسکتا ہے جبکہ متنازع الیکشنز سے جمہوریت مزید کمزور ہوگی، اور شہریوں کا جمہوری عمل پر اعتماد متزلزل رہے گا۔

    رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ موجودہ انتخابی قانون الیکشنز ایکٹ 2017 کے تحت خود کو حاصل اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کے کے جائز خدشات کو دور ہر ممکن حد تک دور کرنے کی کوشش کرے تاکہ ایسے انتخابات کا انعقاد یقینی بنایا جاسکے جن میں تمام شہری شامل ہوں اور کسی جماعت کے انتخابی بائیکاٹ کی نوبت پیش نہ آئے۔

    فافن رپورٹ کے مطابق سیاسی تنازعات اور انتخابات سے متعلق غیر یقینی صورتحال کے باوجود بدین، جامشورو، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار، ٹھٹھہ اور ملیر کے اضلاع میں ووٹروں کی ایک نمایاں تعداد نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا البتہ کراچی سینٹرل ، کراچی ایسٹ ، کراچی ویسٹ ، کراچی ساؤتھ، کورنگی، حیدرآباد اور کیماڑی کے اضلاع میں ووٹر ٹرن آؤٹ نسبتاً کم رہا۔

    تحریک انصاف کے مزید استعفے منظور ہونے کا امکان

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حیدرآباد ڈویژن میں ٹرن آؤٹ 40 فیصد سے زائد رہا جبکہ کراچی میں ملیر کے علاوہ 20 فیصد سے بھی کم رہا۔ واضح رہے کہ 2015 کے مقامی حکومتوں کے انتخابات میں کراچی اور حیدرآباد ڈویژن میں ٹرن آؤٹ بالترتیب 36 اور 58 فیصد تھا۔

    فافن کی رپورٹ کے مطابق انتخابات کے پہلے مرحلے کے مقابلے میں حالیہ مرحلے کے دوران ووٹنگ کا عمل زیادہ منظم رہا تاہم پولنگ اسٹیشن کے اندر اور ان کے اطراف میں انتخابی اشتہارات اور تشہیری مہم سے متعلق بے ضابطگیوں کے ساتھ ساتھ بیلٹ پیپر کے اجرا سے متعلق بے قاعدگیاں دوسرے مرحلے میں بھی برقرار رہیں۔ دوسرے مرحلے میں انتخابات کے دن کا ماحول بڑی حد تک پرامن رہا۔

    پولنگ کے دوران فافن کے مشاہدہ کاروں نے پولنگ اسٹیشنوں پر تلخ کلامی کے 14 واقعات رپورٹ کیے جبکہ پہلے مرحلے کے دوران تشدد کے 55 واقعات دیکھنے میں آئے تھے جن میں مسلح جھڑپیں بھی شامل تھیں۔

    دھاندلی کے الزامات کے باوجود کراچی ڈویژن کے عبوری نتائج دو دن کے اندر موصول ہو گئے تھے لیکن حیدرآباد ڈویژن کے مجموعی نتائج کا ابھی بھی انتظار ہے۔

    فافن کےمشاہدہ کاروں کے مطابق پریزائیڈنگ افسران کی جانب سے تیار کردہ پولنگ اسٹیشن کے نتیجے کے فارموں ( فارم 11 ) میں کئی طرح کی خامیاں بھی دیکھنے میں آئی ہیں فافن کو موصول ہونے والے کئی فارموں میں پولنگ سٹیشنوں کے نام، رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد ، مردوں اور عورتوں کے ووٹوں کی الگ الگ تعداد ، اور پریزائیڈنگ افسران کے دستخط سمیت اہم معلومات درج نہیں کی گئیں۔

    الیکشن کمیشن پنجاب اور کے پی اسمبلی کے عام انتخابات کرانے کے لیے تیار

    حالیہ انتخابی عمل کے مشاہدے کی روشنی میں فافن کی سفارش ہے کہ الیکشن کے دن انتخابی مہم چلانے سے متعلق ضابطہ اخلاق کے سخت نفاذ کو یقینی بنایا جائے جبکہ ووٹروں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے پولنگ بوتھوں کے لیے مناسب جگہ رکھی جائے۔

    فافن کی یہ رپورٹ 343 پولنگ اسٹیشنوں (کل تعداد کا چار فیصد) سے موصول ہونے والے مشاہدات پر مبنی ہے جن میں 225 مشترکہ، 61 مردانہ اور 57 زنانہ پولنگ اسٹیشن شامل ہیں فافن نے انتخابی عمل کے مشاہدے کے لیے کل 104 تربیت یافتہ شہری مشاہدہ کاروں کو تعینات کیا تھا جن میں 66 مرد اور 38 خواتین شامل تھیں۔

    رپورت کے مطابق مشاہدہ کاروں نے الیکشن کے دن 90 پولنگ سٹیشنوں پر پولنگ کے آغاز ، 953 پولنگ بوتھوں پر انتخابی عملے اور سامان کی دستیابی اور 74 پولنگ اسٹیشنوں پر گنتی کے عمل کا مشاہدہ کیا نیز 1,121 ووٹروں کی شناخت اور انہیں بیلٹ پیپر کے اجرا کے مراحل کا بھی مشاہدہ کیا گیا۔

    بہتر مستقبل کے لیے جماعت اسلامی بات چیت کا راستہ اختیار کرے،وقار مہدی

  • پیپلزپارٹی سےعملی اقدامات کےبعدہی مزیدبات چیت ہوسکتی ہے،حافظ نعیم

    پیپلزپارٹی سےعملی اقدامات کےبعدہی مزیدبات چیت ہوسکتی ہے،حافظ نعیم

    کراچی: بلدیاتی انتخابات میں جماعت اسلامی کے تحفظات دور کرنے کے لیے پی پی کا وفد سعید غنی کی قیادت میں ادارہ نور حق پہنچ گیا،جس میں نجمی عالم، امتیاز شیخ اور دیگر شامل تھے-

    تفصیلات کے مطابق وفد نے امیرجماعت اسلامی کراچی انجینئر حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی پی پی وفد نے جماعت اسلامی کو انتخابی نتائج پر تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی جماعت اسلامی نے بلدیاتی انتخابات میں اتحاد کو تحفظات دور کرنے سے مشروط کردیا۔

    عمران خان 35 سے لڑیں یا 70 حلقوں سے…رانا ثناء اللہ نے بڑا دعویٰ کر دیا

    دونوں جماعتوں کے درمیان کراچی میں بلدیات انتخابات اور میئرشپ کےلیےاتحاد قائم کرنے کے معاملات پر بات چیت ہوئی جماعت اسلامی نے پیپلز پارٹی کو انتخابات میں دھاندلی، نتائج میں تاخیر اور شفافیت نہ ہونے کے تحفظات سے آگاہ کیا جسے پیپلز پارٹی نے دور کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

    ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے میڈیا سے بات چیت کی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم نے کہا کہ پیپلز پارٹی نے ہمیں تحفظات دور کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے-

    حافظ نعیم نے کہا کہ ہمیں سب سے زیادہ تکلیف فارم 11 اور 12 کے اجراء پر ہوئی جس کے لیے بڑی تگ و دو کرنی پڑی اور اس کے بعد نتائج کی تبدیلی پرتکلیف ہوئی جس پر ہم نے احتجاج کیا، الیکشن کمیشن اور پی پی سے رابطہ کیا بعد ازاں کچھ یوسیز میں ہماری فتح سامنے آئی تاہم کچھ یوسیز میں ری کاؤنٹنگ کے نتیجے میں جوخرابیاں پیدا ہورہی اورنتائج تبدیل ہورہےہیں ہمیں ان پر تحفظات ہیں امید ہے کہ سعید غنی اور ان کی ٹیم ان مسائل کو حل کرے گی، ہم انتظار کریں گے چیزیں بہتر ہوگئیں تو آگے بھی بات چیت بھی ہوگی۔

    پی پی رہنما سعید غنی نے جماعت اسلامی کو کراچی میں انتخابی نشستیں جیتنے پر مبارک باد دی اور کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ کے کہنے پر ہم یہاں آئے ہیں تاکہ شکایات کو سناجاسکے، یہ بلدیاتی اداروں کے لیے اچھا موقع ہے کہ دو میچور جماعتیں اس شہر کے حالات کو ٹھیک کرنا چاہتی ہیں۔

    پی پی رہنما کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی کے تحفظات اور شکایت ہیں جن کا وہ اظہار کرچکے، انتخابات کا سارا سیٹ اپ الیکشن کمیشن کے ماتحت ہوتا ہے، حکومت کے اختیار میں بہت سے چیزیں براہ راست نہیں ہوتیں لیکن پھر بھی یقین دلاتے ہیں کہ جماعت اسلامی کے اعتراضات دور کرنے میں کہیں حکومت سندھ کا کوئی کردار ہوا تو اسے ضرور ادا کریں گے۔

    وزیراعظم شہباز شریف سے روس کے 9 رکنی وفد کی ملاقات

    سعید غنی نے کہا کہ جماعت اسلامی اپنی شکایات کو دور کرنے کے لیے جو قانونی کارروائی کرے گی اس میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گے، جن یوسیز پر الیکشن کمیشن نے ایکشن لیا ہے وہ جو فیصلہ کرے گا قبول کریں گے، 23 تاریخ کو جو بھی فیصلہ ہوگا وہ تسلیم کریں گے، تمام مسائل کو حل کریں گے اور آگے بھی ملیں گے-