Baaghi TV

Category: کراچی

  • پاکستان سول ایوی ایشن نےملازمین کوخوشخبری سنادی

    پاکستان سول ایوی ایشن نےملازمین کوخوشخبری سنادی

    کراچی: پاکستان سول ایوی ایشن نےملازمیں کوخوشخبری سنادی ہے اور یہ بھی اطلاعات ہیں کہ یہ خوشخبری ان ملازمین کےلیے ہے جوبہتر اور مستقل روزگار کے تلاش میں امید رکھتے تھے ،اس حوالے سے پاکستان سول ایوی ایشن آفیسرزکی تنظیم کی طرف سے ایک تقریب کاانعقاد بھی کیا گیا ہے ،

    ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں‌اہم شخصیات کو دعوت نامے بھی بھیجے جارہےہیں اور ان کو اس اہم تقریب میں شمولیت کی دعوت بھی دی جارہی ہے،ایک ایسا ہے دعوت نامہ پروفیسرقادرخان مندوخیل کے نام بھیجا گیاہے جوکہ ملازمین کی فلاح وبہبود کےلیے پہلے ہی کوشاں ہیں ،

    اس دعوت نامے میں‌کہا گیا ہے کہ 26 فروری بروز اتوار سول ایوی ایشن کلب سٹارگیٹ کے نزدیک ایک تقریب ہورہی ہے جس میں‌ مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعوکیا جاتا ہے ، یہ تقریب زیادہ طویل نہیں ہوگی بلکہ زیادہ سے زیادہ 2 گھنٹوں پر مشتمل ہوگی اور دوپہرایک بجے شروع ہوجائے گی ،

    اس دعوت نامے میں کہا گیا ہے کہ چونکہ اس تقریب میں غیرمستقل ، کنٹریکٹ ، ڈیلی ویجز اوردیگرغیرمستقل ملازمین کو مستقل کیے جانے کے حوالے سے اہم اعلان متوقع ہے اورآپ ملازمین کی بحالی ترقی اورخوشحالی کے لیے کوشاں ہیں آپ کی آمد ہمارےلیے باعث مسرت ہوگی

  • کراچی؛ مبینہ پولیس مقابلے میں 3 ڈاکوؤں ہلاک

    کراچی؛ مبینہ پولیس مقابلے میں 3 ڈاکوؤں ہلاک

    کراچی: کورنگی پولیس نے مبینہ مقابلے کے دوران 3 ڈاکوؤں کو ہلاک کر کے اسلحہ، موٹر سائیکل، چھینے گئے موبائل فونز اور دیگر سامان برآمد کرلیا۔ ایس ایس پی ڈسٹرکٹ کورنگی ساجد سدوزئی نے بتایا کہ کورنگی کے علاقے ڈھائی نمبر پیٹرول پمپ کے قریب علاقہ گشت پر مامور پولیس کو اطلاع ملی تھی کہ موٹر سائیکل سوار ڈاکو لوٹ مار کر رہے ہیں جس پر پولیس پارٹی موقع پر پہنچی تو ڈاکوؤں نے فائرنگ کرتے ہوئے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس نے تعاقب اور جوابی فائرنگ کے تبادلے میں 2 ڈاکو موقع پر ہی ہلاک ہوگئے جبکہ تیسرا شدید زخمی ڈاکو اسپتال لیجاتے ہوئے راستے میں ہی ہلاک ہوگیا۔انھوں نے بتایا کہ ڈاکوؤں کے قبضے سے 2 پستول، چھیننے ہوئے 9 موبائل فونز، پرس اور نقدی برآمد کرلی۔

    ایس ایچ او کورنگی عامر ملک نے بتایا کہ مقابلے میں مارے جانے والے ڈاکوؤں کو 4 شہریوں نے شناخت کرلیا لیا جس میں ایک مدعی زمان ٹاؤن بھٹائی آباد کا جبکہ 3 مدعی کورنگی ڈھائی نمبر کے ہیں جن سے ڈاکوؤں نے لوٹ مار کی تھی۔انھوں نے مزید بتایا کہ مقابلے میں مارے جانے والے تینوں ڈٓاکوؤں نے چند روز قبل کورنگی میں کیفے مالا کے باہر بھی شہریوں سے لوٹ مار کی تھی جس میں وہ 15 سے زائد موبائل فونز چھین کر فرار ہوئے تھے اور تھانے میں متاثرہ افراد کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔

    عامر ملک نے کہا کہ تینوں ڈاکو کورنگی، زمان ٹاؤن اور کورنگی صنعتی ایریا میں اسٹریٹ کرائمز کی درجنوں وارداتوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں جبکہ ہلاک ڈاکوؤں کی عمریں 24 سے 28 سال کے درمیان ہیں جن کی فوری طور پر شناخت نہیں ہو سکی اور پولیس بائیو میٹرک سسٹم کی مدد سے کوششیں کر رہی ہے۔پولیس نے ضابطے کی کارروائی کے بعد تینوں ڈاکوؤں کی لاشیں تلاش ورثا کے لیے سرد خانے میں رکھوا دی ہیں۔

  • نقیب اللہ قتل کیس میں ایک بار پھر اہم پیشرفت ،ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل سندھ ہائیکورٹ میں دائر

    نقیب اللہ قتل کیس میں ایک بار پھر اہم پیشرفت ،ملزمان کی بریت کے خلاف اپیل سندھ ہائیکورٹ میں دائر

    کراچی:ہائی پروفائل نقیب اللہ قتل کیس میں ایک بار پھر اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، نقیب اللہ قتل کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت دیگر کی بریت کے خلاف اپیل سندھ ہائیکورٹ میں دائر کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: تفصیلات کے مطابق اپیل کی درخواست نقیب اللہ کے بھائی شیر عالم نے جبران ناصر ایڈووکیٹ کے توسط سے دائر کی، جس میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے شواہد کو نظر انداز کرتے ہوئے ملزمان کو بری کیا۔

    نقیب اللہ قتل کیس کا عدالت نے سنایا فیصلہ

    درخواست میں استدعا کی گئی کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔

    واضح رہے کہ انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نقیب اللہ قتل کیس کا فیصلہ 23 جنوری 2023 کو سنایا تھا، جس میں عدالت نے عدم شواہد کی بنا پر راؤ انوار سمیت 18 ملزمان کو بری کردیا تھا۔

    عدالتی فیصلے میں کہا گیا تھا کہ پراسیکیوشن الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہی عدالت نے دیگر تمام ملزمان کو بھی بری کردیا راؤ انوار سمیت ڈی ایس پی قمر احمد، سب انسپکٹر انار خان، انسپکٹر امان اللہ مروت سمیت دیگر سترہ ملزمان نامزد تھے۔

    سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ میرے خلاف غلط کیس بنایا گیا تھا، آج عدالت نے انصاف کردیا۔

    کیس 5 سال تک چلتا رہا جس کا فیصلہ 14 جنوری 2023 کو محفوظ کیا گیا تھا۔

    واضح رہے کہ کراچی کے علاقے ملیر شاہ لطیف ٹاؤن میں 13 جنوری 2018 کو سابق ایس ایس پی ملیرراؤانوارنے نقیب اللّٰہ نامی نوجوان کو دیگر3 افراد کے ہمراہ مبینہ جعلی پولیس مقابلےمیں مارا تھا،تاہم اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پرشدید ردعمل سامنے آیا جس کی وجہ دہشتگرد قراردیے جانے والے نقیب اللہ کا سوشل میڈیا پروفائل تھا جس کے مطابق وہ ایک لبرل اور فن کا دلداہ نوجوان تھا، مختلف فنکاروں کے ساتھ تصویریں کھنچوانے والا نقیب اللہ ماڈل بننے کا خواہشمند تھا۔

    عدالت نےنقیب اللہ محسود قتل کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کردیا

    کیس میں اس وقت کے چیف جسٹس نے ازخود نوٹس لیا تھا جہاں راؤانوارنےخود کو سرنڈر کردیا تھا، بعد ازاں انہیں کراچی منتقل کردیا گیاتھا سندھ حکومت نے بھی آئی جی سندھ کو انکوائری کمیٹی بنانے کا حکم دیا تھا فیصلہ سنائے جانے سے قبل سابق ایس ایس پی ملیر راؤانوار، ڈی ایس پی قمر اور ملزمان عدالت پہنچے تھے۔

    اس معاملے پرچیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیر داخلہ سندھ کو انکوائری کا حکم دیا تھا۔

    معاملے پر تشکیل دی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ میں راؤ انوارکومعطل کرنے کی سفارش کے بعد انہیں ایس ایس پی کےعہدے سے ہٹاتے ہوئے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں نام شامل کردیا گیا تھا۔

    پی ٹی آئی کے مزید 70 ارکان کو ڈی نوٹیفائی کرنے سے متعلق الیکشن کمیشن کا نوٹیفکیشن معطل

    نوجوان کے ماورائے عدالت قتل کے خلاف بڑے پیمانے پراحتجاج کیا گیا ، انسداد دہشتگردی عدالت نے 25 جنوری 2019 کو راؤ انوار پر فردجرم عائد کرتے ہوئے نقیب اللہ محسود کیخلاف دہشت گردی، اسلحہ و بارود رکھنےکے الزام میں دائر5 مقدمات خارج کرتےہوئے الزامات کو گمراہ کن قراردیا تھا-

    اس موقع پر انسداد دہشتگردی عدالت میں سیکیورٹی سخت رہی جبکہ غیرمتعلقہ افراد اور میڈیا کےعدالتی احاطے میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی اس کیس میں سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار سمیت دیگرملزمان پر25 مارچ 2019 کو فردجرم عائد کی گئی تھی تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا تھا، مقدمے میں ملزمان کے خلاف 60 گواہان تھےعدالت نے مدعی مقدمہ اور ملزمان کے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد 14 جنوری کوفیصلہ محفوظ کیا تھا۔

    کامسیٹس یونیورسٹی میں طلبا سے غیر اخلاقی سوالات پوچھنے والا لیکچراربرطرف

  • سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی گمشدگی کا معاملہ، سندھ پولیس نےعدالت میں جواب جمع کرادیا

    سیکرٹری پنجاب اسمبلی کی گمشدگی کا معاملہ، سندھ پولیس نےعدالت میں جواب جمع کرادیا

    سندھ پولیس کی جانب سے سابق سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کی گمشدگی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں جواب جمع کرادیا گیا۔

    باغی ٹی وی: سندھ ہائی کورٹ میں سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی اور دیگرکی بازیابی کی درخواستوں پر سماعت ہوئی دوران سماعت آئی جی سندھ کی جانب سے رپورٹ سندھ ہائی کورٹ میں پیش کی گئی-

    سندھ پولیس کا کہنا ہےکہ محمد خان بھٹی اور ان کےساتھیوں کو گرفتار نہیں کیا گیا، محمد خان بھٹی سندھ کے کسی بھی تھانے میں زیر حراست نہیں ہیں وفاقی حکومت اور رینجرز پراسیکیوٹر نے جواب جمع کرانے کے لیے عدالت سے مہلت مانگ لی۔

    عدالت نے وفاقی حکومت سے دو ہفتوں میں جواب طلب کرلیا۔

    ایان میمن ایڈووکیٹ نے عدالت سے استدعا کی کہ سندھ پولیس کو محمد خان بھٹی کو تلاش کرنےکا پابند کیا جائے۔

    درخواست محمد خان بھٹی کے داماد عمر افتخار بھٹی ایڈووکیٹ نے دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہےکہ محمد خان بھٹی 6 فروری کو مٹیاری کےقریب سے غائب ہوئے، اندیشہ ہے کہ محمد خان بھٹی کو حکومت کے اداروں نےگرفتار کیا ہے، محمد خان بھٹی پر تشدد کا اندیشہ ہے، عدالت میں فوری پیش کرنےکا حکم دیا جائے۔

    واضح رہے کہ رواں ماہ کے شروع میں سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمد خان بھٹی کو کراچی سے حراست میں لیا گیا تھا،محمد خان بھٹی کو سندھ کے علاقہ مٹیاری سے اس وقت حراست میں لیا گیا جب وہ حفاظتی ضمانت کے لیے سندھ ہائیکورٹ جا رہے تھے، ایس ایس پی کی نگرانی میں محمد خان بھٹی کو سندھ پولیس نے حراست میں لیا۔

    اس ضمن میں سابق وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے کہا تھا کہ خدشہ ہے محمد خان بھٹی کو بھی لاپتہ نہ کردیا جائے، جیسے کہ ہمارے لیگل ایڈوائزر عامر سعید راں ابھی تک لاپتہ ہیں خبردار کرتے ہیں کہ ایسے واقعات صوبوں میں نفرت کا باعث بنیں گے، وزیر اعلیٰ سندھ اس لا قانونیت کا فوری نوٹس لیں۔

    سابق وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ یقین ہے مراد علی شاہ ایسے اقدام روکیں گے جس سے صوبوں میں بے چینی پھیلے، سندھ سے پنجاب کے رہنماؤں کو لاپتہ کرکے کیا کیا پیغام دیا جارہا ہے۔

  • یوم پیدائش اور  یوم وفات   مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات مریم جناح سابقہ رتی جناح۔

    یوم پیدائش اور یوم وفات

    مریم جناح سابقہ رتی جناح۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    20 فروری 1900

    20 فروری 1929 یوم وفات

    20 فروری بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی دوسری بیوی مریم جناح المعروف رتی جناح کی سالگرہ بھی اور برسی کا بھی دن ہے۔

    قائداعظم سے شادی کے وقت مذہب تبدیل کرکےاسلام قبول کیا تھا اور ان کا اسلامی نام مریم جناح رکھا گیا تھا۔

    مریم جناح سرڈنشا پٹیٹ کی اکلوتی بیٹی تھیں اور ان کا خاندان کپڑے کی صنعت میں بہت بڑا نام تھا۔ مریم جناح 20 فروری 1900ء میں بمبئی میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے پردادا سوات سے 1785ء میں بمبئی آئے تھے اور پھر وہیں بزنس کرنے لگے۔ اُنکے بیٹے ڈنشا مانک جی نے بمبئی میں برصغیر کی پہلی کاٹن مل کی بنیاد رکھی۔ 1900ء صدی کے اختتام تک مانک جی کا خاندان بمبئی کے امیر ترین خاندانوں میں جانا جانے لگا۔ ممبئی کے رئیس پارسیوں میں اہمیت کے حامل ڈن شا پٹیٹ کی اکلوتی خوبصورت اور خوب سیرت بچی جو بڑے ناز و نعم میں پل رہی تھی، اُس کا نام رتن بائی تھا۔ یہ بچی نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ بہت ذہین اور صاحب ذوق تھی۔ رتن، جنہیں گھر کے لوگ پیار سے "رتی” کہہ کر پکارتے تھے، شاعرانہ مزاج رکھتی تھی۔ رتن بائی کو انگریزی شعرو ادب سے گہرا شغف تھا۔ 14-13 سال کی عمر میں وہ ٹینی سن کیٹس اور شیلے جیسا شعراء کا کلام پڑھ چکی تھیں اور سمجھ چکی تھیں۔ رتی ایک خوش لباس خاتون تھیں، بمبئی میں امتیازی خصوصیت رکھتی تھیں۔ گورنروں، وائسراؤں اور اُمراء کی بیگمات اسکی ملبوسات اور زیورات کو بہت پسند کرتی تھیں بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ خواتین رشک کرتی تھیں تو غلط نہ ہو گا۔

    ڈن شا کے مالا بار ہل پر واقع شاندار بنگلے پر قوم پرست ہندوستانی لیڈروں کا آنا جانا لگا رہتا تھا۔ قائداعظم محمد علی جناح سر ڈنشا پیٹٹ کے دوستوں میں سے تھے۔ سر ڈنشا پیٹٹ محمد علی جناح صاحب کی ذہانت، نفاست اور قابلیت کی وجہ سے ان کو بہت پسند کرتے تھے۔ جناح صاحب (قائداعظم) اکثر ان کے گھر جاتے جہاں خوب بحثیں ہوتیں۔ سترہ سالہ رتن، لمبے قد کے صاف رنگت والے چھریرے جسم کے سوٹڈ بوٹڈ جناح کی پر مغز بحثوں کو غور سے سُنتی، آہستہ آہستہ وہ جناح صاحب کو پسند کرنے لگیں۔ جناح کو چھوئی موئی سی رتی پہلی ہی نظر میں بھا گئی تھی۔ ان کی شخصیت نے رتن عرف رتی کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کی دوستی قربت اور پھر قربت محبت میں بدل گئی۔ اور پھر ایک دن یہ پسندیدگی محبت میں بدل گئی۔ جب رتی نے جناح صاحب سے اپنے دل کی بات کہہ دی اور شادی کی خواہش کا اظہار کر دیا۔

    1917ء کی ایک شام جب قوم پرستی پر گفتگو کے دوران رتن کے والد ڈن شا نے یہ خیال ظاہر کیا کہ جب تک ہمارے ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم نہیں ہوتی تب تک فسادات ہوتے رہیں گے اس لئے بین المذاہب شادیاں ہونی چاہئیں۔ عمر کی چالیس منزل پار کر چکے جناح کو ڈن شا کے اس خیال نے حوصلہ دیا اور انہوں نے ان کی بیٹی کا ہاتھ مانگ لیا۔ بس پھر کیا تھا ۔۔۔ آتش پرست ڈن شا پیٹیٹ کا خون کھول اٹھا اور وہ رات ایک تلخ یاد میں بدل گئی۔ ڈنشا نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا کہ محمد علی جناح ان کی بیٹی سے عمر میں بہت بڑے ہیں، دوسرے یہ کہ دونوں کے مذہب الگ ہیں، رتی کا خاندان بمبئی کا مقبول ترین پارسی خاندان تھا۔ جناح صاحب نے رتی کو سمجھایا کہ ہماری شادی تمہاری 18 سال کی عمر سے پہلے نہیں ہو سکتی، ہمیں انتظار کرنا ہو گا۔ ڈن شا نے رتی کے جناح سے ملنے جلنے پر پابندی لگ لگا دی تو جناح نے عدالت کے دروازے پر دستک دی۔ عدالت نے رتن کے بالغ ہونے تک اس سے ملاقات پر پابندی لگا دی، لیکن اس فیصلہ میں یہ کہہ دیا کہ بالغ ہونے کے بعد رتی اپنی زندگی کا فیصلہ کرنے کی مختار ہو گی۔ جناح نے بھی تقریبا ایک سال تک صبر و سکون کے ساتھ انتظار کیا، اس دوران جناح اور رتی کے بیچ پل کا کام جناح کے دوست اور سکریٹری کانجی دوارکا داس کرتے رہے۔ اس عرصہ میں رتی نے اسلام کا گہرا مطالعہ کیا اور فیصلہ کیا کہ وہ مسلمان ہو کر قائداعظم محمد علی جناح صاحب سے شادی کریں گی۔

    20 فروری 1918ء کو پیٹیٹ خاندان میں رتن کی اٹھارہویں سالگرہ خوب دھوم دھام سے منانے کی تیاریاں چل رہی تھیں کہ اسی دن رتی خاموشی سے اپنے گھر کو چھوڑ کر جناح کے گھر چلی آئیں۔ ڈن شا اپنی بیٹی کی ضدی طبیعت سے تو واقف تھے لیکن انہیں اس سے اتنا بڑا قدم اٹھانے کی توقع نہ تھی۔ بیٹی کی بغاوت پر برہم ڈن شا نے مقامی اخبارات میں اپنی اکلوتی بیٹی کی موت کی خبر شائع کرا دی۔ اس کے بعد ڈن شا نے رتی کی موت تک کوئی رشتہ نہیں رکھا۔

    18 اپریل 1918ء کو رتی نے بمبئی کی جامع مسجد کے امام مولانا نذیر احمد کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ ان کا اسلامی نام مریم رکھا گیا، اگلے دن 19 اپریل 1918 کو وہ قائداعظم محمد علی جناح کے عقد میں آ گئیں۔ ان کا نکاح مولانا حسن نجفی نے پڑھایا تھا۔ بمبئی میں ہوئی نکاح کی اس چھوٹی سی تقریب میں صرف قریبی احباب مدعو تھے۔ رتی جو اب مریم جناح بن گئی تھی، کو قائداعظم ؒ کی جانب سے شادی کی جو انگوٹھی ملی تھی وہ راجہ صاحب محمود آباد نے قائداعظم ؒ کو تحفے میں دی تھی۔ 19 اپریل 1918ء کے روزنامہ ” اسٹیٹ مین ” میں رتی کے قبول اسلام کی خبر کے ساتھ جناح سے ان کے نکاح کی خبر شائع ہوئی۔

    شادی کے بعد جب مریم جناح نے گھریلو زندگی کا آغاز کیا تو وہاں بھی اپنی ذہانت اور قابلیت سے اپنے گھر کو انتہائی ذوق و شوق اور سلیقہ سے آراستہ کیا۔ مریم جناح نے گھر کی تزئین و آرائش سے فارغ ہو کر اپنے شوہر کے دفتر کی جانب بھی توجہ دینا شروع کی اور اسے بھی اعلیٰ ذوق کے مطابق ایک خوبصورت رنگ دے دیا۔ دونوں کی محبت ایک مثالی محبت تھی۔

    رتی جناح نفاست اور فہم کی مثال تھیں۔ آپ کو ڈرامے، ادب اور شاعری سے دلچسپی تھی۔ آپ کی کتابوں کا ایک خزانہ ہوا کرتا تھا۔ قائد اعظم نے آپ کے جانے کے بعد بھی آپکی کتابیں سنبھال کر رکھی ۔ رتی جناح کو ادب، شاعری، لٹریچر، روحانیت اور جادو جیسے مضامین سے بہت دلچسپی تھی۔ انہی مضامین کی کتابیں رتی نے اکٹھی کر رکھی تھیں۔ رتی جناح اور محمد علی جناح دونوں کو شیکسپیئر بہت پسند تھا۔ رتی جناح گھڑ سواری میں بھی ماہر تھیں۔ آپ کو دیکھو تو لگتا تھا جیسے کوئی حسین پری ہو۔

    آپ کو انگریزوں سے سخت نفرت تھی۔ یہاں تک کہ ایک بار کسی جرنلسٹ نے آپ سے پوچھا کہ اگر قائد اعظم کو اپنی گراں قدر خدمات کے نتیجے میں نائیٹ شپ دی جائے اور سر کا خطاب دے دیا جائے تو آپ لیڈی جناح۔۔نائیٹ کی بیوی بننا پسند کریں گی؟ رتی جناح کو انگریزوں سے اتنی نفرت تھی کہ آپ طیش میں آگئیں اور بولیں کہ اگر میرے خاوند نے نائٹ شپ قبول کر لی تو میں ان کو چھوڑ دوں گی۔انہیں انگریزوں سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔ وہ کم عمر تھیں مگر بہت پڑھی لکھی تھیں۔ جس طرح محمد علی جناح تقریر کرتے تھے تو انگریزوں کو ڈکشنری کھولنی پڑ جاتی تھی اسی طرح رتی جناح بھی کتابی کیڑا تھیں اور اپنے علم کی وسعت کے باعث انگریزوں کی برتری کو نہیں مانتی تھیں۔ وہ انگریزوں سے بالکل امپریس نہیں ہوتی تھیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح ایک کامیاب وکیل ہی نہیں کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈر بھی تھے اور ان کا زیادہ وقت وکالت کے علاوہ سیاسی سماجی مصروفیات میں گزرتا تھا۔ آہستہ آہستہ قائداعظم کی مصروفیات میں اضافہ ہونے لگا۔ بے حد نازک مزاج اور شعر و ادب کی دلدادہ لڑکی نے اسے شاید جناح کی بے التفاتی تصور کیا۔ شادی کے دس سال بعد تو مریم نے جناح سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا اور وہ تاج محل ہوٹل میں ایک سویٹ بک کر کے وہاں مستقل سکونت کے لئے منتقل ہو گئیں۔ تنہائی اور فکر ان کے جسم و جاں کا آزار بن گئے۔ انہیں آنتوں میں سوزش اور پھر ٹی بی ہو گئی۔ رتی کی ماں ان کا علاج یورپ میں کرانے کے لئے مریم جناح کو لے کر پیرس چلی گئیں۔

    1928ء میں قائداعظم کو مریم جناح کی بیماری کی اطلاع ملی تو وہ اپنی تمام مصروفیات کو چھوڑ کر پیرس پہنچ گئے اور انکی تیمار داری کرتے رہے۔ انکی محبت کا یہ عالم تھا کہ مریم جناح کیلئے جو پرہیزی کھانا بنتا وہ بھی وہی کھانا اپنی پیاری بیوی کے ساتھ کھاتے۔ کچھ عرصے بعد مریم جناح صحت یاب ہو کر بمبئی آ گئیں۔ مگر افسوس جنوری 1929ء میں پھر بیماری ہوئیں۔

    مریم جناح کا جناح کے نام آخری خط ایک یادگاراور امر بن گیا:

    ’’پیارے ! تم نے (میرے لئے) جوکچھ کیا، اس کا شکریہ۔ ممکن ہے کہ کبھی آپ کی غیر معمولی حِسّوں نے میرے رویّئے میں اشتعال انگیزی یا بے رحمی پائی ہو۔ آپ یقین رکھیں کہ میرے دل میں صرف شدید محبت اور انتہائی درد ہی موجود ہے ۔۔۔ پیارے ! ایسا درد جو مجھے تکلیف نہیں دیتا۔ دراصل جب کوئی حقیقت زندگی کے قریب ہو (اور جو بہرحال موت ہے) جیسے کہ میں پہنچ چکی، تو تب انسان (اپنی زندگی) کے خوش کن اور مہربان لمحے ہی یاد رکھتا ہے، بقیہ لمحات موہومیت کی چھپی، اَن چھپی دھند میں چھپ جاتے ہیں۔ کوشش کر کے مجھے ایسے پھول کی حیثیت سے یاد رکھنا جو تم نے شاخ سے توڑا، ویسا نہیں جو جوتے تلے کچل دیا جائے۔ ’’پیارے! (شاید) میں نے زیادہ تکالیف اس لئے اٹھائیں کہ میں نے پیار بھی ٹوٹ کر کیا۔ میرے غم و اندوہ کی پیمائش (اسی لئے) میرے پیار کی شدت کے حساب سے ہونی چاہیئے۔ ’’پیارے! میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔ مجھے تم سے پیار ہے ۔۔۔ اور اگر میں تم سے تھوڑا سا بھی کم پیار کرتی، تو شاید تمھارے ساتھ ہی رہتی …جب کوئی خوبصورت شگوفہ تخلیق کر لے، تو وہ اسے کبھی دلدل میں نہیں پھینکتا۔ انسان اپنے آئیڈیل کا معیار جتنا بلند کرے، وہ اتنا ہی زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ ’’میرے پیارے! میں نے اتنی شدت سے تم سے محبت کی ہے کہ کم ہی مردوں کو ایسا پیار ملا ہو گا۔ میری تم سے صرف یہی التجا ہے کہ (ہماری) محبت میں جس اَلم نے جنم لیا، وہ اسی کے ساتھ اختتام پذیر ہو جائے۔ ’’پیارے ! شب بخیر اور خدا حافظ۔” ۔۔

    اور 20 فروری 1929ء کو اپنی 29ویں سالگرہ کی روز مریم جناح وفات پا گئیں۔ ملک کے سب سے مہنگے وکیل اور آل انڈیا مسلم لیگ اور کانگریس کے سب سے اہم قائد کی نازک اندام بیوی نے جس وقت دم توڑا اس وقت جناح ان کے قریب نہیں تھے۔ انہیں اطلاع دی گئی۔ قائداعظم نے بڑے حوصلے اور ہمت سے اپنے دکھ کو چھپا کر انکی تدفین اپنے ہاتھ سے کی۔ قائداعظم اپنی اہلیہ کی وفات کے بعد 18 سال بمبئی میں رہتے ہوئے اپنا معمول بنا لیا تھا کہ ہر جمعرات بعض روایات کے مطابق ہر شام اپنی اہلیہ کی قبر پر حاضری دیتے۔

    فولادی اعصاب کے مالک قائد اعظم کو زندگی میں کبھی روتے ہوئے نہیں دیکھا گیا سوائے دو مقامات پر ۔۔۔ اور دونو مریم سے ہی جڑے ہیں۔ ایک تو مریم کو دفناتے وقت جونہی ان کو قبر میں اتارنے کے بعد جناح کر قبر پر مٹی ڈالنے کو کہا گیا، تو ضبط کا دامن چھوٹ گیا اور وہ آنسوؤں سے زار و قطار رونے لگے۔ دوسرے جب اگست 1947ء کو پاکستان آنے لگے تو آخری بار وہ اپنی اہلیہ کی قبر پر گئے کافی دیر بیٹھے رہے اور آنسو بہاتے رہے۔

    قائداعظم نے مریم جناح کے بعد کوئی شادی نہیں کی وہ ٹوٹ چکے تھے، مگر ایسے وقت میں انکی بہن محترمہ فاطمہ جناح نے اپنے بھائی کو سنبھالا۔ اگر مادر ملت، بھائی کا خیال اس طرح نہ رکھتیں تو شاید قائداعظم کیلئے سیاست میں اتنا بڑا کردار ادا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا۔ اس لیے اگر یہ کہیں کہ مادر ملت پاکستانی قوم کی محسنہ تھیں کہ انہوں نے اپنے بھائی کو سہارا دیا اور انہوں (قائداعظم) نے ہمیں پاکستان دیا تو غلط نہ ہو گا

    محمد علی جناح کی رتی سے ایک بیٹی دینا جناح تھی ۔ یہ 14 اگست 1919 کی شام تھی جب قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اہلیہ رتن بائی کے ساتھ تھیٹر گئے ہوئے تھے کہ ڈرامہ کے دوران رتن بائی نے قائد کو مطلع کیا کہ وہ درد زہ محسوس کررہی ہیں اور انھیں فوراً میٹرنٹی ہوم پہنچایا جائے۔ قائد نے ایسا ہی کیا اور اسی رات 15 اگست 1919 کو ان کے گھر ایک خوب صورت بچی نے جنم لیا جس کا نام دینا رکھا گیا۔دینا جناح ابھی ساڑھے نو برس کی ہوئی تھیں کہ ماں کے سائے سے محروم ہوگئیں۔

    رتن بائی اپنی بیٹی کو اڈیار (مدراس) میں تھیوسیوفیکل اسکول میں داخل کروانا چاہتی تھیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے مکمل معلومات بھی حاصل کرلی تھیں مگر قائداعظم کی مداخلت کے باعث ایسا ممکن نہ ہوسکا تھا۔

    دینا جناح نے ابتدائی تعلیم بمبئی کے ایک کانوینٹ اسکول میں حاصل کی۔ دینا اگرچہ بیشتر اپنی نانی کے پاس رہتی تھیں اس کے باوجود محمد علی جناح نے دینا کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے ایک گورنس کو ملازم رکھا تھا جس کا نام اسٹیلا تھا۔ وہ بمبئی کی رہنے والی کیتھولک تھی۔ محمد علی جناح کی پیشہ ورانہ اور سیاسی مصروفیات کی بنا پر ان کو دینا کے ساتھ رہنے کے بہت کم مواقع ملتے تھے۔ لیکن اس کے باوجود دینا اپنے والدین سے شدید محبت کرتی تھیں اور ان کی یہی کوشش ہوتی تھی کہ وہ اپنے والدین کے پاس ہی رہیں۔ وہ ہر سال گرمیوں میں اپنے والدین کے ساتھ چھٹیاں گزارنے کشمیر جاتی تھیں جبکہ دو مرتبہ وہ اپنے والدین کے ہمراہ لندن بھی گئیں۔

    قائد اعظم محمد علی جناح اپنی اکلوتی بیٹی سے بہت پیار کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی بہن فاطمہ جناح کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ دینا کی اسلامی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ دینا کو قرآن پڑھانے کا اہتمام بھی کیا گیا۔ محترمہ فاطمہ جناح بھی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف رہنے لگیں لہذا دینا جناح اپنے پارسی ننھیال کے زیادہ قریب ہوئیں۔ اس دوران میں دینا نے محمد علی جناح کی مرضی کے خلاف ایک پارسی نوجوان نیول واڈیاکے ساتھ شادی کر لی۔ قائد اعظم بہت دکھی ہوئے تھے اور انہوں نے اپنی بیٹی پر غصے کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے اس کے بعد اپنی اس بیٹی سے قطعہ تعلق کر لیا تھا اوراس سب کے باوجود انہوں نے اپنی وصیت میں اس کے لیے دو لاکھ روپے مقرر کیے تھے۔

    دینا واڈیا 15 اگست 1919 کو پیدا ہوئیں اور 2 نومبر 2017 کو آپ کا انتقال ہوا۔آپ بانیٔ پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح اور مریم جناح کی بیٹی اور واحد اولاد تھی۔ دینا کی والدہ کا تعلق ممبئی کے دو اعلیٰ خاندانوں پیٹت برونیٹس اور ٹاٹا خاندان سے تھا۔

    1938ء میں دینا نے مشہور صنعت کار نیولی واڈیا سے شادی کی، نیولی واڈیا ممتاز واڈیا خاندان سے تھا، البتہ، شادی زیادہ عرصہ نہیں چلی اور 1943ء میں طلاق ہو گئی۔دینا واڈیا 2 نومبر 2017ء کو 98 برس کی عمر میں نیویارک میں انتقال کرگئیں

  • لاہورمیں فیض فیسٹیول،کراچی میں لٹریچرفیسٹیول اختتام پزیر: ہزاروں افراد کی شرکت

    لاہورمیں فیض فیسٹیول،کراچی میں لٹریچرفیسٹیول اختتام پزیر: ہزاروں افراد کی شرکت

    لاہور::کراچی: ممتاز شاعر فیض احمد فیض کی یاد میں منعقدہ تین روزہ فیض فیسٹیول اپنی ادبی اور ثقافتی رعنائیوں کے ساتھ ختم ہوگیا۔ لاہور کے الحمرا آرٹس کونسل میں منعقد ہونے والے اس ادبی اور ثقافتی فیسٹول میں اندرون ملک سمیت بیرون ملک سے بھی اہم شخصیات شریک ہوئیں۔

    faiz3

     

    میلے کا اہتمام فیض فاؤنڈیشن ٹرسٹ نے لاہور آرٹس کونسل کے تعاون سے کیا تھا اور فیض میلے کے دوران الحمرا کی عمارت کو فیض احمد فیض کی تصویروں اور ان کے کلام پر مبنی بینروں سے سجایا گیا تھا۔تین روزہ فیسٹول کے دوران مختلف سیشنز میں ادب، سیاست، آرٹ، کلچر، تھیٹر اور ڈرامہ سمیت فنون لطیفہ کے مختلف شعبوں کے دو سو سے زائد ماہرین نے اظہار خیال کیا۔

    faiz2

    اس موقع پر الحمرا آرٹ گیلری میں ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا گیا جبکہ اس موقع پر کتابوں کے اسٹالز بھی لگائے گئے تھے۔شہریوں کو فیض کے نام خط لکھنے کے لیے ایک اسٹال سجایا گیا تھا جبکہ فیسٹول میں رقص،کتھک ڈانس،ڈھول پرفارمنس اورقوالی کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔

    faiz4

    فیسٹول کے آخری روز کشورناہید، افتخارعارف، اداکارہ سجل علی، سمیعہ ممتاز، ثانیہ سعید، منیزہ ہاشمی، بھارت سے آئے ہوئے نامور شاعر جاوید اختر، انورشعور اور خورشید رضوی سمیت دیگر شخصیات نے مختلف سیشن میں اظہار خیال کیا۔

    faiz5

    فیض احمد فیض کی شاعری،ان کی سوانح حیات، داستان گوئی،ملکی سیاسی،معاشی صورتحال،ادب اور ثقافت سمیت مختلف موضوعات پر گفتگو کی گئی جبکہ آخری روز مجموعی طور پر 25 سیشن ہوئے۔

     

    ادھرکراچی لٹریچر فیسٹول کا 14 واں ایڈیشن ادب سے شغف رکھنے والوں کی بڑی تعداد کی کے ساتھ اختتام پذیر ہوگیا۔ فیسٹیول میں مختلف سیشنز نے سامعین کو بحث ومباحثہ اور فکر انگیز گفتگو میں بھر پور انداز میں شرکت کا موقع دیا۔

    تیسرے روز کا آغاز دنیا بھر کے مقبول ترین کھیل کرکٹ پر بحث سے ہوا، پینلسٹ میں شامل لیجنڈری کرکٹر وسیم اکرم،علی خان، احمر نقوی اور حدیل عبید نے اپنی گفتگو سے سامعین کو بہت زیادہ محضوظ کیا، سیشن کے نظامت کے فرائض ندیم فاروق پراچہ نے ادا کئے، سیشن میں وسیم اکرم کی کتاب”سلطان“ اور علی خان کی کتاب  Cricket     in     Pakistan: Nation, Identity and Politics کی تقریب رونمائی بھی ہوئی۔

     

    جیسمین ہال میں  Faith and Intellect  کے عنوان سے نمایاں پینل بحث ومباحثہ میں فکری گفتگو کی گئی جس کے نظامت کے فرائض غازی صلاح الدین نے ادا کئے، پینلسٹ میں قیصر بنگالی، سید سلیم رضا اور سید شبر زیدی شامل تھے جنہوں نے اعتقاد اور علت کے درمیان ربط اور مذہبی اعمال میں عقل پر گہری گفتگو کی۔

    klf1

    Climate Justice and Embedded Injustices کے عنوان سے سیشن میں احمد شبر، زہا تونیو اور عافیہ سلام نے موسمیاتی تبدیلی کے کمزور طبقات پر اثرات پرروشنی ڈالی اور اس مسئلے سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں پر زور دیا۔

    فیسٹول کے تیسرے دن کا سب سے نمایاں سیشن  From Silver Screen to Mini Screen: Goldmine of OTT Media  کے عنوان سے تھا جس کے نظامت کے فرائض سیفنہ دانش الہیٰ نے ادا کئے، پینلسٹ میں فصیح باری خان اور صنم سعید شامل تھے۔پینلسٹس نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ کس طرح ڈیجیٹل اسٹریمنگ پلیٹ فارمز خاص طور پراو ٹی ٹی پلیٹ فارمز نے مزید تخلیقی آزادی اور وسیع تر سامعین تک رسائی فراہم کرکے مواد کے تخلیق کاروں کے لیے امکانات کو بڑھایا ہے۔

    پاکستان کے معروف دانشور جاوید جبار اور شمیم احمد  نے ”The Equitable Tax“ پر ہونے والی گفتگو میں شرکت کی، سیشن میں ٹیکس اصلاحات سے متعلق مسائل  اور اقتصادی مساوات اور انصاف کے حصول میں اس کے ممکنہ اثرات پر توجہ مرکوز کی گئی۔

    klf3

    ”دوسری ملاقات“ کے عنوان سے سیشن میں انور مقصود اور ان کی شریک حیات عمرانہ مقصود نے کے ایل ایف کے مین گارڈن یں احمد شاہ کے ساتھ گفتگو کی۔

    Saints, Sufis and Shrines: The Mystical Landscape of Sindh کے عنوان سے سیشن نے لوگوں کی کافی توجہ حاصل کی۔

    Pakistan’s Economy: Depth and Resilience   کے عنوان سے سیشن میں مفتاح اسماعیل، اکبر زیدی، محمد اورنگزیب اور اظفر احسان نے پاکستان کی معیشت کو درپیش چیلنجز اور مواقع پر بات چیت کی۔ سیشن میں زراعت، انڈسٹری اور خدمات کے شعبوں کی صلاحیت پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

    اختتامی تقریب کے دوران مین گارڈن میں نوری کی شاندار پرفارمنس نے سامعین کو اپنی گرفت میں جکڑ لیا۔علی حمزہ اور علی نور کے گانوں نے سامعین پر نشہ طاری کیا جو مدتوں تک یاد رکھا جائے گا۔

  • کراچی پولیس آفس حملےکی تحقیقات میں پیشرفت ،مشتبہ گرفتارافراد کی تعداد10 سے زائد

    کراچی پولیس آفس حملےکی تحقیقات میں پیشرفت ،مشتبہ گرفتارافراد کی تعداد10 سے زائد

    کراچی:پولیس آفس حملے کی تحقیقات کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر کے مختلف علاقوں میں چھاپے مار کر 10سے زائد مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا,تحقیقاتی ادارے کراچی، ملتان اور پشاور میں پولیس پر ہونے والے حملوں کی کڑیاں جوڑنے لگے، قانون نافذ کرنے والے ادارے واقعہ کی مختلف زاویوں سے تفتیش کر رہے ہیں۔

    تفتیشی ذرائع کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں نے پشاور پولیس لائن پر حملہ جمعہ کو کیا، کراچی پولیس پر حملے کیلئے بھی جمعہ کے روز کا انتخاب کیا گیا، دہشت گردوں کا ہدف صرف پولیس تھی۔

     

    ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی نے گلستان جوہر کے علاقے میں کارروائی اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کے ایک سہولت کار کو حراست میں لے لیادہشت گردوں کے سہولت کار سے تفتیش کی جاری ہے۔

    کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    قبل ازیں کراچی پولیس آفس پر حملے کے معاملے پرکاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ٹیم سہولت کاروں کی موجودگی کی اطلاع پر جامشورو پہنچ گئی، سہولت کاروں کے حوالے سے ٹیکنیکل بنیادوں سے ملنے والی معلومات پر جامشورو میں کارروائی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملے کے دوران مارے گئے مزید 2 دہشت گردوں کے خاندانوں کی تلاش شروع کردی گئی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دونوں دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، دونوں دہشت گردوں کا اسٹیٹس آئی ڈی پیز کا ہے-

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گرد زالے نور کا تعلق مداخیل تحصیل دتہ خیل، شمالی وزیرستان سے تھا، خودکش حملہ آور مجید نظامی کا تعلق بھی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل سے تھا، پولیس آفس حملے میں ہلاک تیسرے دہشت گرد کفایت اللہ کا تعلق لکی مروت سےتھا۔

    دریں اثنا آپریشن میں ہلاک دہشت گرد کفایت اللہ کے لکی مروت میں واقع گھر پر چھاپا مارا گیا تھا، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وانڈا امیر خان تھانہ صدر کی حدود میں چھاپا مارا اور کفایت اللہ سے متعلق تفتیش کی۔

     

    دہشتگرد کفایت اللہ کے اہلخانہ نے پولیس کو بتایا کہ کفایت اللہ کو گھر میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔کفایت اللہ گھر سے 5 ماہ قبل فرار ہوگیا تھا، ہمارا خیال تھا کہ کفایت اللہ افغانستان فرار ہوا ہے، حملےکے بعد پتہ چلا کہ کفایت اللہ پاکستان میں ہی تھا۔

     

    پولیس ذرائع کے مطابق کفایت اللہ کی عمر 22 سے23 سال تھی، دہشتگرد کفایت اللہ تربیت یافتہ اورافغانستان آتا جاتا رہا، کفایت اللہ افغانستان میں بھی لڑتا رہا، ہلاک دہشتگرد کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹیپوگل گروپ سے تھا، کفایت اللہ خیبرپختونخوا میں بھی پولیس پرحملوں میں ملوث تھا۔

     

    واضح رہے کہ جمعہ 17 فروری کو کراچی میں پولیس چیف آفس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوئے جبکہ جوابی فائرنگ حملے میں تین دہشت گرد ہلاک کیے گئےسیکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے جبکہ ایک خود کش جیکٹ پھٹنے سے ہلاک ہواڈی ایس پی ایس ایس یو سمیت 19 زخمی ہوئے، جن میں 7 رینجرز اہلکار اور ایک ایدھی کا رضاکار بھی شامل ہے۔

  • کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس:دہشت گردوں کا سہولت کار گرفتار

    کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس:دہشت گردوں کا سہولت کار گرفتار

    کراچی پولیس چیف آفس حملہ کیس میں سی ٹی ڈی نے دہشت گردوں کے ایک سہولت کار کو گرفتار کر لیا۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق سی ٹی ڈی نے گلستان جوہر کے علاقے میں کارروائی اور حملے میں ملوث دہشت گردوں کے ایک سہولت کار کو حراست میں لے لیادہشت گردوں کے سہولت کار سے تفتیش کی جاری ہے۔

    کے پی او حملہ:ملک کے مختلف علاقوں میں سی ٹی ڈی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا آپریشن جاری

    قبل ازیں کراچی پولیس آفس پر حملے کے معاملے پرکاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) کی ٹیم سہولت کاروں کی موجودگی کی اطلاع پر جامشورو پہنچ گئی، سہولت کاروں کے حوالے سے ٹیکنیکل بنیادوں سے ملنے والی معلومات پر جامشورو میں کارروائی کی گئی ہے۔

    دوسری جانب پولیس ذرائع کے مطابق کراچی پولیس آفس پر حملے کے دوران مارے گئے مزید 2 دہشت گردوں کے خاندانوں کی تلاش شروع کردی گئی شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے دونوں دہشت گردوں کی شناخت ہوگئی ہے، دونوں دہشت گردوں کا اسٹیٹس آئی ڈی پیز کا ہے-

    پولیس ذرائع کے مطابق دہشت گرد زالے نور کا تعلق مداخیل تحصیل دتہ خیل، شمالی وزیرستان سے تھا، خودکش حملہ آور مجید نظامی کا تعلق بھی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل سے تھا، پولیس آفس حملے میں ہلاک تیسرے دہشت گرد کفایت اللہ کا تعلق لکی مروت سےتھا۔

    دریں اثنا آپریشن میں ہلاک دہشت گرد کفایت اللہ کے لکی مروت میں واقع گھر پر چھاپا مارا گیا تھا، پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وانڈا امیر خان تھانہ صدر کی حدود میں چھاپا مارا اور کفایت اللہ سے متعلق تفتیش کی۔

    دہشتگرد کفایت اللہ کے اہلخانہ نے پولیس کو بتایا کہ کفایت اللہ کو گھر میں باندھ کر رکھا گیا تھا۔کفایت اللہ گھر سے 5 ماہ قبل فرار ہوگیا تھا، ہمارا خیال تھا کہ کفایت اللہ افغانستان فرار ہوا ہے، حملےکے بعد پتہ چلا کہ کفایت اللہ پاکستان میں ہی تھا۔

    پولیس ذرائع کے مطابق کفایت اللہ کی عمر 22 سے23 سال تھی، دہشتگرد کفایت اللہ تربیت یافتہ اورافغانستان آتا جاتا رہا، کفایت اللہ افغانستان میں بھی لڑتا رہا، ہلاک دہشتگرد کا تعلق کالعدم ٹی ٹی پی کے ٹیپوگل گروپ سے تھا، کفایت اللہ خیبرپختونخوا میں بھی پولیس پرحملوں میں ملوث تھا۔

    واضح رہے کہ جمعہ 17 فروری کو کراچی میں پولیس چیف آفس پر دہشت گردوں نے حملہ کیا تھا جس میں رینجرز اہلکار سمیت 4 افراد شہید ہوئے جبکہ جوابی فائرنگ حملے میں تین دہشت گرد ہلاک کیے گئےسیکیورٹی فورسز کی بھرپور جوابی کارروائی میں دو دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے جبکہ ایک خود کش جیکٹ پھٹنے سے ہلاک ہواڈی ایس پی ایس ایس یو سمیت 19 زخمی ہوئے، جن میں 7 رینجرز اہلکار اور ایک ایدھی کا رضاکار بھی شامل ہے۔

  • پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں پھر اضافہ کردیاگیا

    پاکستان میں گاڑیوں کی قیمتوں میں پھر اضافہ کردیاگیا

    کراچی: ہونڈا کمپنی کی جانب سے گاڑیوں کی قیمتوں میں تیسری بار اضافے کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ساڑھے 5 لاکھ روپے تک کیا گیا ہے۔ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ (ایچ اے سی ایل) نے کاروں کی قیمتوں میں 2 لاکھ 60 ہزار روپے سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے تک کا اضافہ کر دیا جبکہ پاک سوزوکی موٹر کمپنی لمیٹڈ (پی ایس ایم سی ایل) نے پلانٹ بند کرنے کی مدت میں مزید 2 دن کا اضافہ کردیا۔

    رپورٹ کے مطابق رواں برس ہونڈا اٹلس نے تیسری بار قیمتوں میں اضافہ کر دیا، جس کے بعد ہونڈا سوک 1.5 ایل ٹربو، اوریل 1.5 ایل اور سوک آر ایس 1.5 ایل ٹربو کی نئی قیمتیں بڑھا کر 77 لاکھ 79 ہزار روپے، 80 لاکھ 99 ہزار روپے اور 91 لاکھ 99 ہزار کر دی گئی ہیں جو کہ 4 لاکھ 80 ہزار سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے کا اضافہ ہے۔

    اسی طرح سٹی 1.3 ایم ٹی، 1.2 سی وی ٹی، 1.5 وی وی ٹی، 1.5 ایسپائر ایم ٹی اور ایسپائر سی وی ٹی کی قیمتوں میں 2 لاکھ 50 ہزار سے 3 لاکھ روپے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد ان کی نئی قیمتیں بالترتیب 45 لاکھ 79 ہزار، 47 لاکھ 29 ہزار، 50 لاکھ 19 ہزار، 52 لاکھ 29 ہزار اور 54 لاکھ 19 ہزار روپے ہو گئی ہیں۔

    ہونڈا بی آر۔وی 1.5 سی وی ٹی 5، ایچ آر-وی وی ٹی آئی اور ایچ آر- وی ٹی آئی ایس کی قیمتوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے جس کے بعد ان کی نئی قیمتیں 59 لاکھ 49 ہزار، 71 لاکھ 99 ہزار، 73 لاکھ 99 ہزار ہو گئی ہیں، ان گاڑیوں کی قیمتوں میں 3 لاکھ سے 4 لاکھ روپے تک کا اضافہ کیا گیا ہے، ہونڈا نے اس کی وجہ کرنسی کی قدر میں کمی، کاروبار میں غیر یقینی کی صورتحال اور سیلز ٹیکس میں اضافے کو قرار دیا ہے۔

    پاک سوزوکی نے پارٹس کی قلت کی وجہ سے اپنے پلانٹ کی بندش میں 20 سے 21 فروری تک اضافہ کر دیا ہے، تاہم موٹرسائیکل پلانٹ فعال رہے گا۔ رپورٹ کے مطابق موٹرسائیکل اسمبلرز نے بھی قیمتوں میں اضافے کا اعلان کر دیا جبکہ سریے کی قیمتیں بڑھنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    پاکستان میں موٹرسائیکل کے دوسرے بڑے پلانٹ یونائیٹڈ آٹو انڈسٹریز نے 70 سی سی سے 125 سی سی موٹرسائیکلوں کی قیمتوں میں 16 فروری سے 9 ہزار سے 11 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا ہے جس کی وجہ سیلز ٹیکس میں اضافہ، خام مال کی بڑھتی قیمتیں اور شرح تبادلہ میں غیر یقینی کی صورت حال کو قرار دیا ہے۔ روڈ پرنس نے بھی انہی وجوہات کی بنا پر موٹرسائیکل اور رکشہ کی قیمتوں میں 9 ہزار سے 30 ہزار روپے تک کا اضافہ کیا ہے۔

    مریلی اسٹیلز لمیٹڈ نے گیس نرخوں اور سیلز ٹیکس میں اضافے کی وجہ سے 10-9.5 ایم ایم سے 12 ایم ایم اور 16 ایم ایم سے اوپر کے سریے کی فی ٹن قیمت بڑھا کر 3 لاکھ 7 ہزار 500 اور 3 لاکھ 5 ہزار 500 روپے کر دی گئی ہے جو اس سے قبل 3 لاکھ 3 ہزار 500 روپے اور 3 لاکھ ایک ہزار 500 روپے تک دستیاب تھا، اس کی وجہ بتایا ہے۔

    فیضان اسٹیل کا تیار کردہ 12-10 ایم ایم کا سریہ 3 لاکھ 6 ہزار 500 روپے اور 25-16 ایم ایم کے سریے قیمت 3 لاکھ 4 ہزار 500 روپے کر دی ہے۔ گاڑیوں کی فراہمی کی غیر واضح صورتحال کے درمیان ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ نے فروری کے اوائل میں 2 ہفتوں سے بھی کم عرصے میں مختلف ماڈلز کی گاڑیوں کی قیمتوں میں 2 لاکھ 60 ہزار سے 5 لاکھ 50 ہزار وپے تک کا بڑا اضافہ کر دیا تھا۔

    رپورٹ کے مطابق اس سے 12 روز قبل بھی ہونڈا اٹلس کارز لمیٹڈ نے روپے کی قدر میں کمی، غیر واضح، غیر مستحکم معاشی حالات اور مہنگائی کو جواز بناتے ہوئے گاڑیوں کی قیمتوں میں 3 لاکھ سے 5 لاکھ 50 ہزار روپے تک کا اضافہ کیا تھا۔

  • کراچی:دہشت گردوں کی تعداد 5 تھی،3 گاڑی میں سوار ہو کر آئے:مقدمہ درج ہوگیا

    کراچی:دہشت گردوں کی تعداد 5 تھی،3 گاڑی میں سوار ہو کر آئے:مقدمہ درج ہوگیا

    کراچی:پولیس آفس پرحملہ کرنے والے دہشت گردوں کی تعداد پانچ تھی ، اس حوالے سے معلوم ہوا ہے کہ کراچی میں شارع فیصل پر واقع پولیس آفس پر دہشت گردوں کے حملے کا مقدمہ ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کرلیا گیا ہے۔

    حملے کا مقدمہ صدر انسپکٹر خالد حسین میمن کی مدعیت میں سی ٹی ڈی سول لائنز تھانے میں درج کیا گیا ہے۔ مقدمے میں 3 ہلاک سمیت کالعدم تحریک طالبان ( ٹی ٹی پی ) کے 5 دہشت گردوں کو نامزد کیا گیا ہے، مقدمے میں قتل، اقدام قتل، دہشت گردی کی دفعات سمیت سنگین نوعیت کی دفعات شامل ہیں۔درج ایف آئی آر کے متن کے مطابق کالعدم تنظیم نے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے، دہشت گردوں کو غیر ملکی قوتوں کی مدد بھی حاصل تھی، حملے میں کراچی پولیس آفس کو شدید نقصان پہنچا۔

    درج ایف آئی آر میں 2 سہولت کار بھی نامزد کیے گئے ہیں، جب کہ مقدمے کی تفتیش سی ٹی ڈی کے انسپکٹر عرفان احمد کریں گے۔ ایف آئی آر میں 2 دہشت گردوں کی نشاہدی کی گئی ہے، جو موٹر سائیکلوں پر سوار تھے اور جنہوں نے کے پی او کی نشاندہی کی۔ دہشت گردوں کی تعداد 5 تھی، جب کہ 3 گاڑی میں سوار ہو کر آئے تھے۔

    مقدمے کے مطابق شام 7 بج کر 15 منٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کیا ، 7 بج کر 20 منٹ پر قانون نافذ کرنے والے اہل کار موقع پر پہنچے، ڈی آئی جی جنوبی عرفان بلوچ کی سربراہی میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ترتیب دیا گیا۔ایک دہشت گرد نے تیسری منزل پر خود کو دھماکے سے اڑایا جب کہ ایک دہشت گرد چوتھی منزل پر سیکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مارا گیا اور تیسرا دہشت گرد چھت پر فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنا۔

    مقدمے کے مطابق دہشت گرد صدر پولیس لائن کے قریب بنے فیملی کوارٹر کی عقبی دیوار پر لگی تار کو کاٹ کر داخل ہوئے، تین دہشت گرد ایک گاڑی میں پولیس صدر لائن پہنچے تھے، حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے سوشل میڈیا کے ذریعے قبول کی۔مقدمے کے مطابق حملے میں رینجرز اور پولیس کے چار جوان شہید ہوئے جبکہ اٹھارہ افراد زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ 17 فروری کی شام شارع فیصل پر واقع کراچی پولیس چیف کے دفتر پر ہونے والے حملے میں 3 دہشت گرد ہلاک ہوئے تھے، جب کہ حملے میں 3 سیکیورٹی اہلکار اور پولیس کا خاکروب بھی شہید ہوا تھا۔