Baaghi TV

Category: کراچی

  • پولٹری ایسوسی ایشن نےمرغیوں کی فیڈ‌ کےبحران کاخدشہ ظاہر کر دیا

    پولٹری ایسوسی ایشن نےمرغیوں کی فیڈ‌ کےبحران کاخدشہ ظاہر کر دیا

    چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ساؤتھ ریجن نے مرغیوں کی فیڈ‌ کے بحران کا خدشہ ظاہر کر دیا-

    باغی ٹی وی:چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ساؤتھ ریجن غلام محمد پٹھان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے بندرگاہ پر سویا بین کے جہازوں کو کلیئرنس نہیں مل رہی جس کے باعث پولٹری کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    بلوچستان میں سیلاب سے تین لاکھ سے زائد گھروں کونقصان،لاکھوں ایکڑ پرکاشت فصلیں تباہ…

    چیئرمین پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن ساؤتھ ریجن غلام محمد پٹھان کا کہنا تھا کہ درآمدی سویابین کےجہاز 12 اکتوبرسے بندرگاہ پرکھڑے ہیں جن میں 100 ارب روپے مالیت کا سویا بین ہے تاہم حکومت کی جانب سے بندرگاہ پرسویابین کے جہازوں کو کلیئرنس نہیں مل رہی۔

    انہوں نے کہا کہ پولٹری انڈسٹری کے پاس صرف 7 دن کا فیڈ اسٹاک ہے، جہازوں کی کلیئرنس میں تاخیرسے پولٹری انڈسٹری میں بحران ہوگا جبکہ ایک کلو مرغی کا گوشت ایک ہفتے میں 150 روپے بڑھ چکا ہے۔

    قبل ازیں رواں مہینے کے شروع میں ایک پریس کانفرنس میں پولٹری مالکان کا کہنا تھا کہ سویابین اور کنولا پولٹری فیڈ میںاستعمال ہونے والے اہم اجزا ہیں،اس وقت پورٹ پر 6 لاکھ ٹن سے زائد سویابین موجود ہے، جو کلیئر نہیں کیا جارہا جبکہ پولٹری مالکان نے سویابین کی درآمد کے سلسلے میں درآمدکنندگان کو 44کروڑ ڈالر سے زائد کی ادائیگیاں بھی کردی ہیں۔

    عوامی رابطہ مہم کیلئے تحریک انصاف پنجاب کے مختلف شہروں میں ریلیاں نکالے گی

    ان کا کہنا تھا کہ وزارت غذائی تحفظ اور دیگر وزارتوں کے سویا بین کے درآمدکنندگان سے جو بھی معاملات ہیں، انہیں فوری طور پر طے کیا جائے اور بندرگاہ پر موجود سویابین کی کلیئرنس کے احکامات جار ی کئے جائیں تاکہ ملک بھر میں پولٹری صنعت کو فوری طور پر فیڈ کی فراہمی بحال کی جاسکے۔

    ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں پولٹری مالکان یومیہ 38 لاکھ مرغیاں اور ساڑھے تین کروڑ انڈے فراہم کررہے ہیں، اگر پولٹری کی صنعت کیلئے فوری طور پر فیڈ کی فراہمی کا معاملہ طے نہ کیا گیا تو ایک ماہ کے اندر ملک بھر میں مرغی اور انڈوں کی سپلائی بند ہونے کا خدشہ ہے۔

    انہوں نے بتایا تھا کہ پولٹری کی لگ بھگ50فیصد سے زائد صنعت اس وقت بند ہوچکی ہے اور اگر یہ صنعت مکمل طور پر بند ہوگئی تو مجموعی طور پر نہ صرف25لاکھ کے قریب افراد بے روزگار ہوجائیں گے بلکہ ملک میںغذائی عدم تحفظ کا خطرہ بھی بڑھ جائے گا۔

    معاشی و توانائی بحران کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا

  • بابائے قوم کا 146واں یوم پیدائش، مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    بابائے قوم کا 146واں یوم پیدائش، مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب

    بانی پاکستان قائدِ اعظم محمدعلی جناح کا 146واں یوم پیدائش آج انتہائی عقیدت، احترام اور ملی جوش و جذبے کے ساتھ منایا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں بابائے قوم کے مزار پر تعینات گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقریب منعقد ہوئی تقریب میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول کے کیڈٹس نے مزارِ قائد کی سکیورٹی کی ذمے داریاں سنبھالیں-

    تقریب کے مہمانِ خصوصی میجر جنرل عمر نسیم تھے جنھوں نے گارڈز کا معائنہ کیا، اعزازی گارڈز نے مہمان خصوصی میجر جنرل عمر نسیم کو جنرل سلام پیش کیا اورمہمانوں کی کتاب پرتاثرات بھی درج کیے تقریب میں پاک فضائیہ کےکیڈٹس گارڈز کے فرائض پاکستان آرمی کے کیڈٹس کےحوالے کیے گئے۔

    گورنرسندھ، وزیراعلیٰ اور کمشنر کراچی مزار قائد پر حاضری دیں گے جبکہ تینوں افواج کے نمائندے، ڈی جی رینجرز بھی مزار قائدپر حاضری دیں گے۔

    خیال رہے کہ قائد کے مزیر پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب سال میں 3 بار، 14 اگست، 6 ستمبر اور 25 دسمبر کو منعقد ہوتی ہےتقریب میں نیوی، ائیر فورس اور پی ایم اے کاکول کے کیڈٹس بالترتیب ذمے داریاں سنبھالتے ہیں۔

  • معاشی و توانائی بحران کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا

    معاشی و توانائی بحران کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا

    کراچی: بجلی گیس کے بحران، درآمدات پر قدغن، بلند پیداواری لاگت اور سرمائے کی قلت کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو ارسال کردہ ہنگامی مکتوب میں انڈسٹری کی نمائندہ انجمن نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ سپلائی چین میں تعطل، سرمائے اور توانائی کی قلت ، خام مال ، پلانٹ مشینری، پرزہ جات کی درآمدات میں مشکلات نے ٹیکسٹائل کی صنعت کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعت 50فیصد پیداواری گنجائش پر کام کررہی ہے آئندہ ماہ سے ٹیکسٹائل کی ماہانہ برآمدات ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہونے کا خدشہ ہے۔

    ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کو مطلع کیا کہ سیلاب سے کپاس کی فصل شدید متاثر ہوئی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ایک کروڑ40لاکھ کپاس کی گانٹھیں درکار ہیں صرف50لاکھ گانٹھیں دستیاب ہیں، زرمبادلہ کے بحران کی وجہ سے کپاس اور دیگر ان پٹس کی درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے اس غیریقینی صورتحال میں ایکسپورٹرز نئے برآمدی آرڈرز لینے میں تذبذب کا شکا ر ہیں، روپے کی قدر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 60فیصد تک کمی کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سرمائے کی شدید قلت کا سامنا ہے ، ری فنڈز کی بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری مالی مشکلات کا شکار ہے۔

    اپٹما کے مطابق ان عوامل کی وجہ سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہورہی ہے او ر انڈسٹری کی پروڈکشن، آپریشنز اور کیش فلو کو برقرار کھنا دشوار تر ہوگیا ہے۔ ایکسپورٹ انڈسٹری بہت زیادہ دباﺅ کا شکار ہے اور اسے قرضوں کی واپسی میں مشکلات کا سامنا ہے جس سے برآمدی یونٹس کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ہے یہ صورتحال ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ایکسپورٹ کی گنجائش کو کم کرنے کے ساتھ بینکوں کے لیے بھی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

    اپٹما کے مطابق سندھ کی صنعتوں کے مقابلے میں پنجاب کی صنعتوں کو مہنگی آر ایل این جی دی جارہی ہے جس کی وجہ سے پنجاب کی صنعتوں کے لیے مسابقت دشوار ہوگئی ہے جبکہ نئے آر ایل این جی کنکشنز بھی نہیں دیے جارہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی میں بھی تعطل کا سامنا ہے مینٹی نینس کے نا م پر مہینے میں پانچ سے چھ روز بجلی نہیں مل رہی جس سے بجلی پر چلنے والی صنعتوں کی پیداواری گنجائش 25فیصد تک کم ہوچکی ہے، سندھ کے مقابلے میں پنجاب کی ٹیکسٹائل ملوں کو مہنگی بجلی مل رہی ہے۔ اپٹما نے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں نئے یونٹس لگنے اور توسیعی منصوبوں کے رک جانے کو بھی صنعت اور پاکستان کی معیشت کے لیے ایک خطرہ قرار دیا۔

    خط میں کہا گیا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت نے گزشتہ 2سال کے دوران نئی فیکٹریاں لگانے کے لیے 5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جن میں سے متعدد فیکٹریاں تکمیل کے قریب ہیں اور مزید زیر تکمیل ہیں ان فیکٹریوں کے لیے درآمد کیے جانے والے پلانٹ مشینری پورٹ سے کلیئر نہیں ہورہے جبکہ اسپیئر پارٹس کی درآمد کے لیے لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھولے جارہے اور جو یونٹس نئے قائم ہوئے انہں بجلی اور گیس مہیا نہیں کی جارہی۔ بہت سی فیکٹریوں کے لیے مشینری پورٹ پر آچکی ہے جو کلیئر نہ ہونے سے یہ منصوبے تاخیر او ر التوا کا شکار ہورہے ہیں اور ان کی لاگت بڑھ رہی ہے۔

    اپٹما نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ٹیکسٹائل صنعت کے بینکوں سے لیے گئے یکم جولائی 2022سے 30جون 2023تک ادائیگیوں کو معطل کیا جائے۔ پورٹ پر جو پلانٹ مشینری پہنچ چکی ہے اسے فی الفور کلیئر کیا جائے نئے اور توسیع کے پراجیکٹس کے لیے آر سی ای ٹی میں توسیع دی جائے۔ جن منصوبوں کے لیے ایل سی کھل چکی ہیں اور بینکوں سے منظوری مل چکی ہے ان کے لیے طویل مدتی قرضوں کی سہولت مہیا کی جائے۔

    خط میں یہ بھی کہاگیاہے کہ ایکسپورٹ یونٹس کو مساوی بنیادوں پر رعایتی ٹیرف پر بجلی گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بناتے ہوئے توانائی کے مسئلے کے حل کے لیے انڈسٹری کے نمائندوں پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔

  • 24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    24 دسمبر مہاجر ثقافت کا دن

    برصغیر پاک و ہند کی تقسیم کے بعد کراچی حیدرآباد میں ہندوستان سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ مختلف علاقوں کی ثقافت بھی ساتھ لائے تھے ۔ان کا لباس ۔رہن سہن ۔رسم و رواج۔کھانے ۔زبان مقامی لوگوں سے مختلف تھی جس کا اظہار آج بھی ہوتا ہے

    بریانی بھی ان میں سے ایک ہے کہ یوں تو پورے پاکستان میں بنائی اور کھائی جاتی ہے لیکن کراچی حیدرآباد کے علاؤہ بریانی کے نام پر لوگ دھوکا ہی کھاتے ہیں۔

    بریانی پاکستان کی قومی ڈش نہیں لیکن یہ یقینی طور پر کراچی والوں کے لئے پسندیدہ ترین ہے، جو ہمیشہ مزیدار بریانی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ بریانی کی ایک مکمل پلیٹ میں خوشبو دار چاول، گوشت کے پیسز شامل ہوتے ہیں۔ جو بہت ہی مزید اراور لذیذ ہوتے ہیں۔

    بریانی پورے ملک میں یہ شادیوں اور مختلف پروگراموں کے لئے پیش کی جاتی ہے لیکن کھانے پینے کے حوالے سے مشہور تمام شہروں میں کراچی حیدرآباد میں سب بہترین بریانی بنائی جاتی ہے۔ایسا اس وجہ سے ہے کہ کراچی کے لوگ اس حیرت انگیز پکوان کو کھانا پکانا اچھی طرح جانتے ہیں۔بریانی بہترین غذائیت سے بھرپور کھانا ہے۔ یہ پیٹ میں نہیں جاتی بلکہ سیدھے سیدھے دل میں اتر جاتی ہے

    آپ نے خوشبودار، مزے دار اور ذائقہ دار بریانی، کراچی کی مشہور بریانی یا کراچی کی خاص بریانی جیسے بورڈز تو اکثر دکانوں پر دیکھے ہوں گے لیکن کراچی کی اصل بریانی ہر جگہ دستیاب نہیں کیوں کہ صرف نام رکھنے سے اصل بریانی نہیں بن جاتی۔

    پاکستان کے معاشی حب کراچی میں کئی طرح کی بریانی دستیاب ہے جن میں تہ دار بریانی، بیف بریانی، کراچی بریانی، وائٹ بریانی، زعفرانی بریانی، مصالحے دار بریانی، تکہ بریانی، سندھی بریانی اور مکس بریانی قابل ذکر ہیں۔

    کراچی میں بریانی کے مشہور علاقے:

    کراچی کا علاقہ صدر بریانی کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہے پورے شہر میں اس جیسی بریانی کہیں نہیں ملتی۔

    صدر کی مشہور بیف بریانی:صدرکی سب سے مشہور بریانی ، بیف بریانی ہے جس کا اپنا ایک منفرد ذائقہ ہے۔ اب مختلف جگہوں پر چکن یا مٹن بریانی بننے لگی ہے لیکن بیف بریانی ہی اصل بریانی ہوتی ہے۔ مصالحے دار گرم چاولوں کے ساتھ نرم اور چکنے گائے کے گوشت کی مزیدار بوٹیاں، جسے دیکھتے ہی منہ میں پانی آجاتا ہے۔

    صدر کی تہ دار بریانی:صدر کی چکن، مٹن اور بیف کی تہ دار بریانی بھی اپنی مثال آپ ہے۔ اس میں پہلے چاولوں کی ایک تہ لگائی جاتی ہے پھر اس پر ذائقے اور لذت سے بھر پور تیار کردہ مصالحے کی ایک اور تہ لگا دی جاتی ہے۔ اسی طرح باری باری چاولوں اور مصالحے کی تہیں لگا کراسے دم دے دیا جاتا ہے۔

    صدر کی مکس بریانی: یہ بھی تہ دار بریانی کی طرح ہوتی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس میں زردہ رنگ ملایا جاتا ہے اور چاولوں کے ساتھ مصالحے کی تہیں لگانے کے بعد انہیں مکس کر دیا جاتا ہے۔

    صدر کی وائٹ اور زعفرانی بریانی: صدر میں ایک اور منفرد اور مزیدار بریانی بھی دستیاب ہے جس میں رنگ کے بجائے زعفران کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ کہلاتی ہے وائٹ زعفرانی بریانی جس کا مزہ بھی سب سے الگ ہوتا ہے۔

    برنس روڈ کی کراچی بریانی: برنس روڈ، کراچی کی مشہور اور قدیم فوڈ اسٹریٹ پر ویسے تو بریانی کی بہت سی دکانیں ہیں لیکن سب سے مشہور یہاں کی کراچی بریانی ہے۔

    چٹ پٹی بریانی: یہ وہ بریانی ہے جو کراچی کی ہر دوسری گلی میں دستیاب ہے خاص طور پر گلشن اقبال میں اکثر دکانوں پر ملتی ہے لیکن اس کا ذائقہ بھی اپنی مثال آپ ہے۔ خاص طورپر گلشن کےعلاقے موتی محل کی ایک دکان پردستیاب چٹ پٹی بریانی کا اپنا ہی مزہ ہے۔

  • کرپٹو اسکینڈل؛میرے خلاف تحقیقات جاری ہیں کہ باہرسے پاکستان پیسے کیوں اور کیسے منگوائے؟وقارذکا

    کرپٹو اسکینڈل؛میرے خلاف تحقیقات جاری ہیں کہ باہرسے پاکستان پیسے کیوں اور کیسے منگوائے؟وقارذکا

    کراچی :مشہور ٹی وی میزبان اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ وقار ذکا نے کرپٹو کرنسی اسکینڈل اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہونے کے الزامات ک

    نازیبا ویڈیو سامنے آنے پر بھائیوں نے بھائی کو مار کر سر دھڑ سے کیا الگ

    و مسترد کردیا ہے۔وقار ذکاء نے میڈیا پر چلنے والی خبروں پر وضاحت دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی نے منی لانڈرنگ کرنی ہوگی تو وہ بینکنگ چینل سے پاکستان میں پیسے کیوں لائے گا؟۔

    وقار ذکا نے ٹوئٹر پر جاری اپنے ویڈیو پیغام میں کہا کہ کورٹ آرڈر میں کرپٹو کا کوئی ذکر نہیں، فنانشل مانیٹرنگ یونٹ نے یہ کیس بنایا ہے کہ وقار ذکا کے بینک میں باہر سے پیسے آئے ہیں۔ کیا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ پاکستانی بینک میں باہر سے پیسے نہیں لانے چاہئیں؟۔وقار ذکا کے مطابق ان کی تمام ٹرانزیکشن ایف بی آر کے پاس ظاہر کی گئی ہیں، ایف آئی اے سائبر کرائم یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ قانونی چینل کے ذریعے پاکستان لائی گئی رقم غلط تھی۔

     

    کراچی کی ایک عدالت نے جمعہ کو 173 ملین روپے کے کرپٹو کرنسی اسکینڈل میں ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔وقار ذکاء کے خلاف فنانشل مانیٹرنگ یونٹ (ایف ایم یو) کی رپورٹ پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے منی لانڈرنگ کی تحقیقات شروع کی تھی۔وقار ذکاء نے ٹوئٹر پر ایک صارف کے سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ انہیں عدالت میں پیشی کیلئے کوئی نوٹس یا فون کال موصول نہیں ہوئی۔

    بھارتی اسٹیٹ بینک سے چوروں نے سرنگ کھود کر کروڑوں روپے مالیت کا سونا چرا لیا

    واضح رہے کہ وقار ذکاء اس وقت کرپٹو کرنسی سے متعلق اپنی کمپنی کی رجسٹریشن کے سلسلے میں امریکا میں موجود ہیں۔وقار ذکا نے اپنے خلاف جعلی خبریں پوسٹ کرنے پر تمام ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور نجی میڈیا ادارے کے خلاف ہتک عزت کا مقدمہ دائر کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔

  • کراچی:بجلی پانی و گیس کی عدم فراہمی پر کراچی میں جگہ جگہ احتجاج

    کراچی:بجلی پانی و گیس کی عدم فراہمی پر کراچی میں جگہ جگہ احتجاج

    کراچی:حکمرانوں کی عدم دلچسپی کے باعث عوام زندگی کی بنیادی سہولیات کو ترس گئے، شہر کے مختلف علاقوں میں پانی ، بجلی اور گیس کی عدم فراہمی پر علاقہ مکین سراپا احتجاج بن گئے۔تفصیلات کے مطابق ماڑی روڈ دعا ہوٹل کے قریب علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد نے احتجاج کرتے ہوئے سڑک کے دونوں ٹریک پر دھرنا دے کر ٹریفک معطل کر دیا جس کے باعث ماڑی پور روڈ پر ٹریفک کی روانی معطل ہوگئے اور دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔

     

    ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق علاقہ مکین پانی ، بجلی اور گیس کی عدم فراہمی پر احتجاج کر رہے تھے جبکہ احتجاج کی اطلاع ملتے ہی ٹریفک اور علاقہ پولیس موقع پر پہنچ گئی اور جو دستیاب متبادل راستے تھے وہاں سے گاڑیوں کو نکالنے کا عمل شروع کر دیا تاہم احتجاج کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں شدید خلل واقع ہوا۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ گھروں میں نہ تو بجلی آرہی ہے اور نہ ہی گیس جبکہ رہی سہی کسر پانی کی عدم فراہمی نے بھی پوری کر دی ہے، گرمیوں کے ساتھ ساتھ اب سردیوں میں بھی بجلی کی بندش اور سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

     

     

    شہریوں کا کہنا تھا کہ گیس کی لوڈشیڈنگ پر شہری گیس سلنڈر خرید کر اس میں مہنگی ایل پی جی گیس خریدنے پر مجبور ہیں اور گیس سلنڈر کی خریداری میں بھی ناقص میٹریل کے گیس سلنڈرز کے پھٹنے کے بھی ممکنہ واقعات جنم لے رہے ہیں جس کے وجہ سے گھروں میں موجود مکینوں کی زندگی بھی داؤ پر لگی ہے۔

     

    ماڑی پور روڈ کے دونوں ٹریک پر ایک گھنٹے تک جاری رہنے والے احتجاج نے ٹریفک کا نظام درہم برہم کر دیا جس کی وجہ سے مال بردار سمیت دیگر گاڑیوں کی قطاریں لگ گئیں، پولیس نے مظاہرین کو مذاکرات کے بعد پرامن طور پر منتشر کر کے ٹریفک بحال کرا دیا۔

     

    لیاقت آباد کے علاقے غریب آباد کے قریب بھی سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ سے تنگ علاقہ مکینوں نے احتجاج کرتے ہوئے ٹریفک معطل کر دیا۔احتجاج کی وجہ سے لیاقت آباد اور غریب آباد سمیت ملحقہ علاقوں میں بدترین ٹریفک جام ہوگیا اور گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں۔لیاری کے علاقے میراں ناکہ چوک پر بھی علاقہ مکینوں نے سوئی گیس کی لوڈشیڈنگ کے خلاف احتجاج کیا جس کی اطلاع پر پولیس موقع پر پہنچ گئی اور مظاہرین کو بات چیت کے بعد منتشر کر کے ٹریفک بحال کرا دیا۔

     

    ماڑی پور روڈ پر احتجاجی مظاہرے کے حوالے سے ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ لیاری کے علاقوں میں بلوں کی عدم ادائیگی سے واجبات مجموعی طور پر 7 ارب 90 کروڑ تک پہنچ چکے ہیں، بجلی کی سپلائی بلوں کی بروقت ادائیگی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔

  • سندھ کے پچاس کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    سندھ کے پچاس کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ

    کراچی:سندھ کے پچاس کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ،اطلاعات کے مطابق چیف سیکریٹری کی منظوری کے بعد سندھ حکومت نے 50 کرپٹ افسران کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق چیف سیکریٹری سندھ سہیل راجپوت کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں 50 کرپٹ افسران کے خلاف تحقیقات کی منظوری دی گئی ہے۔

    کرکٹ بورڈ کا آئین منسوخ کیوں کیا گیا:کابینہ کی منظوری کے ساتھ ہی نیا آئین نافذ…

    اجلاس میں نیو سندھ سیکریٹریٹ منصوبے میں کرپشن اور سیسی کے مختلف منصوبوں میں کرپشن میں ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرانے کی منظوری دی گئی ہے۔

    سیٹھارجہ، سوبھو دیرو اور چونڈ کو میں 40 ہزار گندم کی بوریاں غائب ہونے پر سابق ڈپٹی ڈائریکٹر خوراک نصر اللہ چانڈیو ، سابق ڈی ایف سی خیرپور عرفان جوکھیو کے خلاف اوپن انکوائری جبکہ فوڈ انسپیکٹر مختیار ہیسبانی اور ارشاد کلہوڑو کے خلاف کرپشن انکوائری کی منظوری دی گئی۔

    پی سی بی نے پاک نیوزی لینڈ سیریز کیلئے کمنٹری پینل کا اعلان کردیا۔

    حیدرآباد میں غیر قانونی تعمیرات میں ملوث ایس بی سی اے کے سابق ریجنل ڈاریکٹر نوید عاصم کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کیا جائے گا۔ایس بی سی اے ریجنل ڈائریکٹر حیدرآباد عبدالحمید زرداری اور سابق ڈپٹی ڈاریکٹرز عمران حسین خان کے خلاف بھی کارروائی کا آغاز ہو گا۔

  • اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی 100سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم گرفتار

    اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی 100سے زائد وارداتوں میں ملوث ملزم گرفتار

    پاکستان رینجرز (سندھ) اورپو لیس نے انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے کراچی کے علا قے گولیمار سے اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی میں ملوث ملزم محمد کاشف کائی عرف علی کو گر فتار کر لیا۔ملزم کے قبضے سے ڈکیتی میں استعمال ہونے والا 30بور پسٹل بھی برآمد کر لیا گیا۔

    دوران تفتیش ملزم نے کراچی کے مختلف علاقوں گارڈن، ڈیفنس اور طارق روڈ میں اسٹریٹ کرائم اور ڈکیتی کی 100سے زائد وارداتوں میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ ملزم متعدد بار گرفتار ہو کر جیل بھی جا چکا ہے۔ملزم کے دیگر ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

    گرفتار ملزم کو بمعہ اسلحہ مزید قانونی کاروائی کے لیے پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ترجمان رینجرز کا کہنا ہے کہ عوام سے اپیل ہے کہ ایسے عناصر کے بارے میں اطلاع فوری طور پر قریبی رینجرز چیک پوسٹ، رینجرز ہیلپ لائن 1101 یا رینجرز مددگار واٹس ایپ نمبر 03479001111 پر کال یا ایس ایم ایس کے ذریعے دیں۔ آپ کا نام صیغہ راز میں رکھا جائے گا۔

    دوسری جانب ڈسٹرکٹ سٹی پولیس نے مختلف کاروائیاں کرتے ہوئے 05 ملزمان کو گرفتار کر لیا, ملزمان میں 2 منشیات فروش, 2 جواری اور 1 گٹکا ماوا فیکٹری چلانے والے شامل ہیں. ملزمان سے چرس, آئس گٹکا/ماوا, چھالیہ, سٹہ پرچیاں اور جوا کی رقم برآمد کی گئی. ملزمان کی شناخت سجاد علی, شہزاد عرف مچھر, محمد رضوان, شہباز اور قادر کے ناموں سے ہوئی ہے.: ملزمان کو علاقہ تھانہ کلری, کلاکوٹ اور نیپئر کی حدود سے گرفتار کیا گیا. ملزمان عادی/پیشہ ور ہیں اور اس سے قبل بھی متعدد مقدمات میں گرفتار ہوکر جیل جا چکے ہیں,ملزم قادر اس سے قبل بھی گٹکا/ماوا کے مقدمہ میں گرفتار ہوکر جیل جا چکا ہے.

    عمران خان چوری کے مرتکب پارٹی سربراہی سے مستعفی ہونا چاہیے،عطا تارڑ

    پی ڈی ایم اجلاس،عمران خان کے خلاف کارروائی سے متعلق غور

    حامد زمان کے خلاف فارن فنڈنگ کیس میں ایف آئی اے تحقیقات سے متعلق رپورٹ

    ،عمرا ن خان لوگوں کو چور اور ڈاکو کہہ کے بلاتے تھے، فیصلے نے ثابت کر دیا، عمران خان کے ذاتی مفادات تھے

    اکبر ایس بابر سچا اور عمران خان جھوٹا ثابت ہوگیا،چوھدری شجاعت

  • آئی کیپ نیشنل فنانس اولمپیاڈ 2022 کا فائنل ،دی پروفیشنلز اکیڈمی آف کامرس چیمپئن بن گئی

    آئی کیپ نیشنل فنانس اولمپیاڈ 2022 کا فائنل ،دی پروفیشنلز اکیڈمی آف کامرس چیمپئن بن گئی

    آئی کیپ نیشنل فنانس اولمپیاڈ2022 کا فائنل ،دی پروفیشنلز اکیڈمی آف کامرس چیمپئن بن گئی

    دی انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں نیشنل فنانس اولمپیاڈ 2022کے نام سے فنانس کا سالانہ بڑامقابلہ منعقد ہوا۔ اِن مقابلوں کا اہتمام یونی لیور پاکستان لمٹیڈ کے تعاون سے کیا گیاجس کا مقصد ملک میں دستیاب فنانس کے ٹیلنٹ کو منظر عام پر لاناتھا۔

    نیشنل فنانس اولمپیاڈ 2022کے ایونٹ کا آغاز ٹیموں کی رجسٹریشن سے ہوا جس میں 40ٹیموں نے مقابلے کے لیے رجسٹر کرایا۔ اِن ٹیموں کی نمائندگی 120 چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس اور پاکستان کے مشہور و معروف نجی و سرکاری اداروں سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد نے کی۔

    ایونٹ تین راؤنڈز پر مشتمل تھا یعنی کوالیفائنگ راؤنڈ، جس میں معروف پیشہ ور فرموں نے بطور ٹیکنکل پارٹنر آئی کیپ کی معاونت کی۔ دوسرا راؤنڈ ہارورڈ سمولیشن اور طرز عمل کے جائزے (Behavioural Assessment) پر مشتمل تھا جس میں کراچی اسکول آف بزنس لیڈرشپ (کے ایس بی ایل) نے بطور لرننگ پارٹنرزانسٹی ٹیوٹ کی موعانت کی۔فائنل راؤنڈ میں ٹاپ کی چھ ٹیموں نے حصہ لیا جن میں کے الیکٹرک، یونی لیورز، مڈِاس سیفٹی، شان فوڈز پرائیویٹ لمٹیڈ، لکی سیمنٹ لمٹیڈ اور دی پروفیشنلز اکیڈمی آف کامرس نے این ایف او ٹرافی جیتنے کے لیے مقابلہ کیا۔ گرینڈ فائنل بھی تین دلچسپ راؤنڈز یعنی بزر راؤنڈ، دی بورڈروم اور 100 سیکنڈز پر مشتمل تھا۔دی پروفیشنلز اکیڈمی ٓآف کامرس کو نیشنل فنانس اولمپیاڈ چیمپئن 2022 قرار دیا گیا جبکہ شان فوڈز پرائیوٹ لمیٹڈ اور لکی سیمنٹ لمیٹڈ نے بالترتیب دوسری اورتیسری پوزیشن حاصل کی۔

    آئی کیپ کی پروفیشنل اکاؤنٹنٹس اِن بزنس (پی اے آئی بی) کمیٹی کے چیئرمین،سمیع اللہ صدیقی، ایف سی اے اور آئی کیپ کونسل کے دیگر ارکان نے شرکاء کا خیر مقدم کیا اور اْنھیں مقابلے کے تصور اور مقاصد سے آگاہ کیا۔اس موقع پر سمیع اللہ صدیقی، ایف سی اے،نے کہا کہ نیشنل فنانس اولمپیاڈ ملک کے فلیگ شپ مقابلوں میں سے ایک ہے جو آئی کیپ نے یونی لیورپاکستان کے تعاون سے منعقد کیا تاکہ فنانس کے شعبے سے تعلق رکھنے والا ٹیلنٹ اْجاگر کیا جا سکے اورفنانس کے پیشہ ور افراد کو اْن کی ترقی میں منفرد انداز سے شامل کیا جا سکے اور اس کے لیے ایک صحتمند مقابلے میں اُنھیں ایک دوسرے کے سامنے لائیں، اپنی حقیقی صلاحیتوں کو دریافت کرنے میں اْن کی حوصلہ افزائی کریں، اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں اور مناسب انداز میں اپنی قابلیت کی خوشی منائیں۔انھوں نے مزید کہا کہ فنانس کا یہ مقابلہ آئی کیپ کے اہم ایونٹس میں سے ایک ایونٹ ہے کیوں کہ یہ پیشہ ور افراد کو اُن کے علم اور اسٹریٹجک سوچ کو آگے بڑھانے، ان کی حدود کو چیلنج کرنے اور زبردست پزیرائی کے ذریعے فنانس کا منفرد تجربہ فراہم کرتا ہے۔

    سکول سے گھر آنیوالی خاتون کے سامنے نوجوان نے کپڑے اتار دیئے، ویڈیو وائرل،مقدمہ درج

    تقریب کے بہانے بلا کر خاتون کے ساتھ ہوٹل میں اجتماعی زیادتی

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    شادی کا جھانسہ ، ویڈیو بناکر زیادتی اور پھر بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار

    تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے آئی کیپ کے صدر، اشفاق یوسف تولہ نے کہا کہ فنانشل سروسز کا شعبہ ہر قوم کی سماجی و اقتصادی ترقی میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد اسے معیشت کے انتہائی اہم اور با اثر شعبوں میں سے ایک شعبہ بناتے ہیں۔ چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس معیشت کی بنیاد ہیں اور اپنی مالی مہارت کو بروئے کا ر لاتے ہوئے قوم کو مختلف مالی اور اقتصادی معاملات میں درست سمت مہیا کرتے ہیں۔ آئی کیپ بھی اپنے مختلف کلیدی اقدامات کے ذریعے قوم کی تعمیر میں ایک لازمی کردار ادا کررہاہے اور نیشنل فنانس اولمپیاڈ جیسے مقابلے پاکستان میں فنانس سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد کی صلاحیتوں کے اظہار کا موقع فراہم کرتے ہیں۔

     

  • پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ نوٹنکی کرنے والوں کا ٹولہ ہے،شرجیل میمن

    پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ نوٹنکی کرنے والوں کا ٹولہ ہے،شرجیل میمن

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پیپلز پارٹی کے رہنما، سندھ کے صوبائی وزیر شرجیل میمن نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت نہیں بلکہ نوٹنکی کرنے والوں کا ٹولہ ہے،

    شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی سربراہ ملک پر عمرانی ڈاکٹرائن مسلط کرنا چاہتے ہیں ، خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال سنگین صورتحال اختیار کر گئی ہے،پی ٹی آئی استعفوں اور اسمبلیاں تحلیل کرنے کے کھیل میں مصروف ہے ،خیبرپختونخوا کا ڈپٹی اسپیکر اور پولیس تھانے محفوظ نہیں پی ٹی آئی ملک کو عدم استحکام اور بے یقینی کی صورتحال میں رکھنا چاہتی ہے، اسیمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان محض اعلان ہی رہا ،وزیر اعلیٰ پنجاب کے بعد وزیر اعلیٰ محمود خان نے بھی عمران خان کو شٹ اپ کال دے دی ،یہ لوگ قومی اسمبلی کے اسپیکر کے سامنے بھی پیش نہیں ہوئے،کے پی کے میں تو ان کو کسی نے نہیں روکا ، اسیمبلی کیوں نہیں تحلیل کی ،عمران خان اور ان کے حواری بلیک میلنگ ، دھونس ، دھمکی اور پولیٹیکل انجنئیرنگ کے ذریعے دوبارہ اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں ،

    شرجیل میمن کا مزید کہنا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نہیں چاہتے کہ پاکستان کی معیشت چلے، عمران خان کی پوری خواہش ہے کہ ملک میں سری لنکا جیسی صورتحال جنم لے،

    خواجہ سرا کے روٹھنے پر خود کو آگ لگانے والا پریمی ہسپتال منتقل

    آڈیو لیکس، عمران خان گھبرا گئے،زمان پارک میں جاسوسی آلات نصب ہونے کا ڈر، خصوصی سرچ آپریشن

    عمران خان کی جاسوسی، آلات برآمد،کس کا کارنامہ؟

    لاہور میں خواجہ سرا کو قتل کر دیا گیا

    پرویز الہٰی جیت گئے،عمران خان چاروں شانے چت ہوکر ڈھیر ہوگئے،ناصر حسین شاہ