Baaghi TV

Category: کراچی

  • ذوالفقاربھٹو جونیئر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے سرگرم

    ذوالفقاربھٹو جونیئر سیلاب متاثرین کی مدد کیلئے سرگرم

    پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے پوتے اور مرتضیٰ بھٹو کے بیٹے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں-

    باغی ٹی وی : ذوالفقارعلی بھٹو جونئیر ان دنوں کراچی میں مقیم ہیں، وہ آرٹ اور سماجی سرگرمیوں کے ذریعے ماحولیاتی تحفظ سے متعلق شعور اجاگر کرنے میں سرگرم ہیں۔

    مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان


    ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اور ان کی بہن فاطمہ بھٹو نے اپنی دوست منال منشی کیساتھ مل کر عالمی سطح پر سیلاب متاثرین کے لیے عطیات جمع کرنے کا منصوبہ شروع کردیا ہے –


    فاطمہ اور ذوالفقار علی بھٹو جونیئر نے اپنی دوست کے ہمراہ مل کر ’انڈس ریلیف 2022‘ کے تحت فنڈریزنگ مہم شروع کی ہے۔

    دوسری جانب سوشل میڈیا پر جاری تصاویر میں ذوالفقار بھٹو جونیئر دادو، لاڑکانہ، سکھر اور سیہون سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں سیلاب متاثرین کی امدادی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے نظر آرہے ہیں ذوالفقار جونیئر، ایدھی فاونڈیشن کے ساتھ مل کر سندھ میں سیلاب متاثرین کیلئے چندہ اکھٹا کررہے ہیں۔

    لوگوں کو متحرک کرنے کیلئے ذوالفقار علی بھٹو جونیئر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر بھی کئی پیغامات اور وڈیوز شیئر کرچکے ہیں۔

    واضح رہے کہ ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب کے باعث مزید 36 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 162 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3 ہزار 554 افراد زخمی ہوئے۔

    نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 249افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 405، پنجاب میں 187افراد خیبر پختونخوا میں 257 ، آزاد کشمیر میں 41افراد ،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 لاکھ 30 ہزار483 مویشی ہلاک ہوئے، بلوچستان میں ایک ہزارکلومیٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں ، 18 پلوں کو بھی نقصان پہنچا سندھ میں 2 ہزار 328 کلو میٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں،60 پلوں کو نقصان پہنچا، پنجاب 130، خیبر پختونخوا 1 ہزار 589 کلومیٹر سڑکیں متاثر،84 پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پل متاثر ہوئے۔

  • لائنوں سے پانی مکمل طور پر ہٹنے تک  ٹرین سروس بحال نہیں ہوگی،ریلوے حکام

    لائنوں سے پانی مکمل طور پر ہٹنے تک ٹرین سروس بحال نہیں ہوگی،ریلوے حکام

    کراچی : ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ ریلوے لائن پر سے پانی مکمل طور پر ہٹنے تک ریل گاڑیاں نہیں چلائی جائیں گی۔

    باغی ٹی وی : پاکستان ریلوے کے مطابق جب تک ریلوے ٹریک سے پانی مکمل طور پر نہیں ہٹ جاتا، اس وقت تک ٹرین سروس بحال نہیں ہوگی، تاہم خیبر میل صرف ملتان اور پشاور کے درمیان چلتی رہے گی۔

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟

    ریلوے حکام نے واضح کیا کہ بدھ 31 اگست کو بھی کراچی سے اندرون ملک کوئی ٹرین نہیں چلے گی ۔

    دوسری جانب بلوچستان میں بارشوں اور سیلابی ریلوں نے صوبے میں ریل سروسز کو معطل کر دیا نصیر آباد میں ریلوے ٹریک بہہ جانے اور ہرک ریلوے پل ٹوٹ جانے سے صوبے سے اندرون ملک کیلئے ٹرین سروس 10 روز سے اور ایران کیلئے ایک ماہ سے معطل ہے ۔

    ریلوے حکام کے مطابق اگلے 15 روز تک صوبےکیلئے ٹرین سروس بحال ہونے کا امکان نہیں ہے 29 جولائی کو چاغی میں سیلابی ریلوں کے باعث بہہ جانے والی کوئٹہ تفتان سیکشن کی مرمت ایک ماہ گزرنے کے باوجود مکمل نہ ہوسکی جس کی وجہ سے ایران کیلئے ٹرین سروس بند ہے ۔

    پاکستان میں سیلاب نے ابھرتے ہوئے فوری اور طویل مدتی چیلنجز کو جنم دیا ہے،برطانوی…

    بلوچستان کے علاقےنصیر آباد میں سبی جیکب آباد ریلوےسیکشن پر سیلابی ریلوں کے بعد پڑنے والے شگاف کے باعث اندرون ملک کیلئے 10 روز سے ٹرین سروس بند تھی کہ 5 روز قبل ہرک پل بھی گرگیا،جس کی وجہ سے ٹرین سروس بدستور معطل ہے ۔

    گزشتہ روز ڈی ایس ریلویز کوئٹہ نثا ر احمد خان نے بتایا تھا کہ منگل کو چیف انجینیئر برج کی سربراہی میں لاہور سے ٹیم آرہی ہے جو این ایل سی کے ساتھ ہرک پل کاجائزہ لے گی جس کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ ہرک پل کی مرمت کا کام کب شروع ہوگا اس پل کی مکمل مرمت میں کم ازکم 3 ماہ کا وقت درکار ہوگا جبکہ نصیر آباد میں ریلوے ٹریک کی مرمت میں مزید 15 دن لگ سکتے ہیں۔

    مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان

  • مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان

    مشرقی بلوچستان میں پھرسےبارش کاسلسلہ شروع،کراچی سمیت سندھ کےساحلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کے بیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا-

    باغی ٹی وی: محکمہ موسمیات کے مطابق پنجاب، با لائی خیبرپختونخوا ، گلگت بلتستان، کشمیر میں چند مقا مات پر بارش متوقع ہے، اسلام آباد میں موسم گرم اور مرطوب رہے گا ،مری ، گلیات ، لاہور، گوجرانوالہ، سیالکوٹ اور نارووال میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی سمیت سندھ کے سا حلی علا قوں میں ہلکی بارش کا امکان ہے،کرم،چترال، دیر، سوات،بالاکوٹ، ایبٹ آباد، مانسہرہ میں چند مقامات پر بھی بارش کا امکان ہے-

    دوسری جانب مشرقی بلوچستان کے بعض علاقوں میں پھر سے بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے، چمن کے نواحی علاقے کلی اکبر میں 15 مکانات سیلابی ریلے میں تباہ ہوگئے اور ملبے کے ڈھیر بن گئے ہیں کافی متاثرین گھر چھوڑ کر نقل مکانی کرگئےپانی کےریلےنے گھروں کے اندر سے راستہ بنا لیا جبکہ کچھ متاثرین بوسیدہ گھروں کی اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر ومرمت میں مصروف ہیں۔

    متاثرین کا کہنا ہے کہ پانچ بار سیلابی ریلے آتے رہے مگر حکومت کی جانب سے بلڈوزر اب تک فراہم نہیں کیا گیا، سیلاب چھتر و کوٹ پلیانی میں 25 روز گزرنے کے بعد بھی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیاں شروع نہ ہو سکیں شدید گرمی و حبس میں سیلاب متاثرین کھلے آسمان تلے بے یارو مدد گار بیٹھیں ہیں۔

    جعفرآباد کا ضلعی ہیڈکوارٹر ڈیرہ اللہ، صحبت پور، سندھ اور ڈیرہ مراد جمالی کی نہروں سے آنے والی سیلابی ریلوں سے ایک ڈیم کی شکل اختیار کرگیا ہے، جعفرآباد میں متاثرین بارش سے پریشان ہیں ڈیرہ بگٹی کے سوئی نالہ میں گاڑی بہہ گئی، مقامی لوگوں نے سواریوں کو بچا لیا۔

    صحبت پور کے سیلاب متاثرین نے ربی کینال اور قومی شاہرہ پر پناہ لے لی ہے سیلابی ریلے سے متاثرین گندم ابال کر اپنے بچوں کو دینے لگے ڈیرہ مراد جمالی میں سیلابی ریلہ تباہی مچاتے ہوئے گوٹھ رسول بخش لہڑی میں داخل ہوگیا۔

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟

  • سیلاب سے تباہی،جاںبحق لوگوں کی تعداد 1 ہزار 162گئی،متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

    سیلاب سے تباہی،جاںبحق لوگوں کی تعداد 1 ہزار 162گئی،متاثرہ علاقوں میں وبائی امراض پھوٹ پڑے

    ملک بھرمیں بارشوں اور سیلاب کے باعث مزید 36 افراد جاں بحق ہوئے، جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد ایک ہزار 162 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ 3 ہزار 554 افراد زخمی ہوئے۔

    باغی ٹی وی : نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی رپورٹ کے مطابق بارشوں اور سیلاب کے باعث بلوچستان میں 249افراد جاں بحق ہوئے، سندھ میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 405، پنجاب میں 187افراد خیبر پختونخوا میں 257 ، آزاد کشمیر میں 41افراد ،گلگت بلتستان میں 22 افراد جان کی بازی ہار گئے۔

    کوہستان:5نوجوانوں کی بےبسی کےواقعےپروزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نےانکوائری کمیٹی بنادی

    رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 لاکھ 30 ہزار483 مویشی ہلاک ہوئے، بلوچستان میں ایک ہزارکلومیٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں ، 18 پلوں کو بھی نقصان پہنچا۔

    سندھ میں 2 ہزار 328 کلو میٹر شاہراہیں متاثر ہوئیں،60 پلوں کو نقصان پہنچا، پنجاب 130، خیبر پختونخوا 1 ہزار 589 کلومیٹر سڑکیں متاثر،84 پلوں کو نقصان پہنچا جبکہ گلگت بلتستان میں 16 کلومیٹر شاہراہ اور 65 پل متاثر ہوئے۔

    دوسری جانب ضلع دادو کی تحصیل خیرپورناتھن شاہ میں سیلابی پانی آنے کی وجہ سے لوگوں کی نقل مکانی تیزی سے جاری ہے، لوگوں کی ضرورت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرانسپورٹرز نے کرائے دو سے تین گنا مہنگے کردیئے سیلابی پانی گھروں میں داخل ہونے کے بعد لوگ مال و متاع سمیٹ کر نقل مکانی پر مجبور گئے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ لوگوں پرایک بڑی مشکل یہ آن پہنچی ہے کہ سامان کی منتقلی میں استعمال ہونے والی گاڑیوں نے کرایوں میں بے پناہ اضافہ کر کے من مانی شروع کر دی ہے۔

    دنیا میں سب سے زیادہ بارش کولمبیا:سب سے کم کہاں ہوتی ہے:تفصیلات آگئیں

    گھروں کو بند کر کے محفوظ مقام پر منتقلی کی کوششوں میں کچھ ایسے لوگ بھی نظر آتے ہیں جنہوں نے کبھی اس وقت کا سوچا بھی نہ تھا لوگوں کا کہنا ہے کہ ٹرانسپورٹرز کی لوٹ مار کو روکنے والا کوئی نہیں، حکومت اور انتظامیہ نے نہ خیمہ دیا نہ راشن، کم از کم برے وقت میں ہمیں ایسے تنہا تو نہ چھوڑتے-

    ادھر عمرکوٹ میں بارشوں کا سلسلہ تو تھم چکا ہے مگر متاثرین کی مشکلات کم نہ ہوئیں، ضلع کے بیشتر علاقوں سے تاحال برساتی پانی کی نکاسی نہیں ہو سکی ہے۔

    عمرکوٹ میں کئی دن گزرجانے کے باوجود سینکڑوں دیہاتوں میں اب تک برسات کا پانی کھڑا ہے ضلع کی چاروں تحصیلوں عمرکوٹ کنری سامارو اور پیتھورو کے کئی دیہات صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں، ہزاروں ایکڑ فصلیں تباہ ہوگی ہیں۔

    عمرکوٹ میں حالیہ برساتوں کے باعث ایک لاکھ سولہ ہزار سے زائد افراد بے گھر ہوئے ہیں جبکہ 05 لاکھ 57 ہزار سے زائد علاقہ مکین بے سروسامانی کے عالم میں ضلع کی مختلف راستوں پر امداد کے منتظر ہیں۔

    سیلاب کی تباہ کاریاں جاری،جاں بحق ہونے والوں کی تعداد1100 سے تجاوز

    متاثرہ علاقوں کے مکینوں کا مطالبہ ہے کہ حکومت فوری طور پر برساتی پانی کی نکاسی کے انتظامات کرے تاکہ ان کی گھروں کو واپسی ممکن ہو سکے-

    جبکہ راجن پور میں بھی سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح برقرار ہے کئی علاقوں میں سیلاب متاثرین سانپ کے ڈسنے کا شکار ہو ئے ہیں جبکہ سیلابی پانی جمع رہنے سے مچھروں کی بہتات اور وبائی امراض پھوٹ پڑے ہیں۔

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں تباہ ہونے والے مکانات کو رہنے کے قابل بنانے کیلئے متاثرین کچھ مقامات پراپنے ٹوٹے گھروں کو بنانے کی کوشش کررہے۔

    سیلاب زدہ علاقوں میں متاثرین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں مچھروں کی بہتات ہے، رات کو مچھر اور سانپ سونے نہیں دیتے ہیں، سانپوں کے ڈسنے سے کئی افراد متاثر ہوچکے ہیں۔

    ادھر ڈیرہ غازی خان میں سیلابی پانی میں واضح کمی ہوگئی ہے لیکن متاثرین اب بھی ریلیف کیمپس اور بعض مقامات پر کھلے آسمان تلے یا سڑک کنارے بیٹھے ہیں، قبائلی علاقوں کے زمینی راستے جزوی بحال ہوگئے۔

    سیلاب کی تباہ کاریاں :سوات ایکسپریس وے پلئی کے مقام پرجزوی طور پر ٹریفک کے لیے بند

  • بلاول بھٹوکی اپیل پردنیا نے ایک کھرب 30 ارب روپے پاکستان کودے دیئے:مزید امداد کی توقع

    بلاول بھٹوکی اپیل پردنیا نے ایک کھرب 30 ارب روپے پاکستان کودے دیئے:مزید امداد کی توقع

    اسلام آباد:بلاول بھٹوکی اپیل پردنیا نے ایک کھرب 30 ارب روپے پاکستان کودے دیئے:مزید امداد کی توقع ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل نے بہت کام کیا ہے ،پاکستان پیپلزپارٹی ذرائع کے مطابق دنیا نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ایک کھرب اور 30 ارب سے زائد کی رقم پاکستان کو دینے کا اعلان کیا ہے

    اسی پیش رفت کے بارے میں پی پی کے آفشیل ٹویٹراکاونٹ سے اس بات کی خوشی کااظہارکیا گیا ہے کہ بلاول بھٹو کی درخواست پر امریکہ نے پاکستان کے سیلاب متاثرین کے لیے ساڑھے چھ ارب روپے کی امداد دی

    پیپلز پارٹی نے دعویٰ کیا ہےکہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے ایک گھنٹےمیں اقوام متحدہ (یو این) کے رکن ممالک سے تقریباً ایک کھرب 30 ارب روپےجمع کرلیے۔

    پیپلز پارٹی کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ امریکا نے وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل کے بعد پاکستان کو ساڑھے 6 ارب روپے کی امداد دی، چین، ترکیہ، برطانیہ، آذربائیجان، سعودی عرب، قطر، کویت اور یو اے ای و دیگر ممالک نے فوری امداد کا اعلان کیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپیل پر اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی جانب سے نقد امداد کے علاوہ ٹینٹ، ادویات اورکھانے پینے کی اشیاء سمیت دیگر اہم سامان کی بھی امداد دی جارہی ہے۔

    اعلامیہ پیپلزپارٹی کے مطابق بلاول بھٹو کی اپیل پر ورلڈبینک اور اے ڈی بی نے مثبت ردعمل دیا ہے، ان کے علاوہ ڈبلیو ایچ او، یونیسیف، ہلال احمر اور ریڈکراس نے بھی مثبت ردعمل دیا ہے

  • سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم تنظیم کے 3 مبینہ دہشت گرد گرفتار

    سی ٹی ڈی کی کارروائی، کالعدم تنظیم کے 3 مبینہ دہشت گرد گرفتار

    لاڑکانہ : سی ٹی ڈی لاڑکانہ نے کارروائی کرتے ہوئے کالعدم تنظیم کے 3 مبینہ دہشت گرد گرفتار کرلئے، دوران تفتیش ملزمان نے کئی انکشافات کئے۔تفصیلات کے مطابق سی ٹی ڈی نے جیکب آباد روڈ پر کارروائی کی اور کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم کے 3 دہشتگرد گرفتار کرلئے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی نے بتایا کہ ملزمان سے بارودی مواد ،12 نان الیکٹریکل ڈیٹونیٹر،بال بیئرنگ بھی برآمد ہوئے۔گرفتار دہشت گردوں کا تعلق کالعدم تنظیم بی آرجی سے ہے، دوران تفتیش ملزمان نے کئی انکشافات کئے۔

    ترجمان کا کہنا تھا کہ ملزم عبدالحمید نے2011میں تفتان میں افغانی ٹرینرز سےتربیت لی ، افغانی ٹرینر پہلے سے ہی ٹریننگ کیمپ میں موجود تھے۔

    سی ٹی ڈی نے مزید بتایا کہ عبدالحمید نے تفتان سے جیکب آباد گولیاں اور بارودی مواد اسمگل کیا اور دسمبر2021میں نامعلوم افراد نے جیکب آباد میں ایمونیشن فراہم کیا۔ملزمان نے انکشاف کیا کہ جنوری2022میں دو دستی بم کوٹ نیم الفا کو فراہم کئے اور مارچ 2022میں ایک دستی بم ببوا کو دیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کا کہنا تھا کہ عثمان ببوا 25جون2022کو جیکب آباد دستی بم دھماکے میں ملوث ہے جبکہ گرفتار ملزم اسماعیل متعدد دہشتگردی حملوں اور بھتہ خوری میں ملوث ہے۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق گرفتار ملزم نے دھماکا خیز مواد کا استعمال ،آئی ای ڈی اور ایم سی آئی ای ڈیزبنانے کی تربیت تفتان سے حاصل کی ہے۔

  • اسٹاک مارکیٹ میں مندا،سونے کی فی تولہ قیمت پانچ ہزار 100 روپے کم

    اسٹاک مارکیٹ میں مندا،سونے کی فی تولہ قیمت پانچ ہزار 100 روپے کم

    آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستان کیلئے قرض پروگرام کی بحالی کے باوجود اسٹاک مارکیٹ میں مندی کا رجحان رہا۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کا منفی دن رہا اور 100 انڈیکس 309 پوائنٹس کم ہو کر 42195 پر بند ہوا ہے۔

    کاروباری دن میں 100 انڈیکس 952 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، انڈیکس کی آج بلند ترین سطح 43056 رہی، بازار میں آج 23 کروڑ شیئرز کے سودے 7 ارب روپے میں طے ہوئے۔مارکیٹ کیپٹلائزیشن 55 ارب روپے کم ہوکر 7014 ارب روپے ہوگیا ہے۔

    ملک میں سونے کی فی تولہ قیمت پانچ ہزار 100 روپے کم ہوئی ہے۔آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اس کمی کے بعد ملک میں ایک تولہ سونے کا بھاؤ ایک لاکھ 40 ہزار 500 روپے ہوگیا ہے۔

    اسی طرح 10 گرام سونے کا بھاؤ 4 ہزار 372 روپے کمی سے ایک لاکھ 20 ہزار 456 روپے ہے۔ایسوسی ایشن کے مطابق عالمی صرافہ میں سونے کا بھاؤ 5 ڈالر اضافے سے ایک ہزار 733 ڈالر فی اونس ہے۔

  • شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے

    شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے

    شکارپور:شکار پوروالےسندھ کے طاقتوروں کے ہاتھوں شکارہوگئے:  سندھ کے باسیوں کی حالت زار سے پردہ اٹھا کے عوام الناس کی خدمت کے جھوٹے دعووں اور وعدوں کو بے نقاب کردیا ہے ،

     

    شکارپوربائی پاس سے باغی ٹی وی کے نمائندے عبداللہ عبداللہ جو کہ اس وقت وہاں موجود ہیں اور علاقے میں سیلاب اور بارشوں سے ہونے والی تباہی کے آثارکا مشاہدہ کررہے ہیں اور ساتھ ہی شکار پور اور گردونواح کے باسیوں کی حالت زار پر بھی نوحہ کناں‌ ہیں‌

     

    عبداللہ عبداللہ نے شکارپوربائی پاس سے اس وقت ہونے والے احتجاجی مظاہرے کی کچھ ویڈیوز شیئر کی ہیں اور پھراس کے بعد وہاں کے لوگوں کے مسائل جان کرحالات کی عکاسی کی ہے ، ان کی طرف سے وائرل کی جانی والی ویڈیوز میں شکارپوربائی پاس کے گردوںواح کی آبادیاں اور گوٹھوں کے رہنے والے باسیوں کا کہنا ہے کہ ہماری آبادیوں میں سیلاب کاپانی ہے اورہمارے گھر منہدم ہورہےہیں ، ہم حکام کی منتیں کررہے ہیں کہ ہمارے گھروں سے پانی نکالا جائے ،

     

    ان لوگوں کا کہنا تھا کہ نہ تو وہ ہمارے گھروں سے پانی نکال رہے ہیں اور نہ نکالنے دے رہے ہیں ، آخریہ حکمران ایسا کیوں کررہے ہیں ، ہمیں بتایا جائے ہمارا کیا قصور ہے ،

    شکار پور کے ہونے والے شکار لوگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے عبداللہ عبدالہ کہتے ہیں کہ یہ لوگ بہت دکھی ہیں ، ان لوگوں کا کہنا ہے کہ ہمیں کھانے پینے کےلیے کچھ نہ دیں مگرہمارے گھروں سے پانی تو نکالیں یا نکالنے دیں ، یہ ہمارا سب کچھ ہے جو ایک ایک کرکے منہدم ہورہے ہیں ، عبداللہ عبداللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اس سے بڑھ کرپاکستان میں کسی طبقے کی بے بسی اور بدحالی اس سےپہلے نہیں دیکھی،

    ادھر سندھ میں سیلاب نے بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے، گوٹھ ڈوب گئے اور سیلابی ریلے اپنے ساتھ سڑکیں بھی بہا لے گئے، زمینی رابطہ منقطع ہونے سے متاثرین کی پریشانی میں مزید اضافہ ہو گیا۔

    شکارپور کا 800 گھروں پرمشتمل فقیر گوٹھ سیلاب نے اجاڑ ڈالا، گوٹھ ہر طرف سے دلدل اور کیچڑ سے بھرا ہوا ہے، سیلابی ریلہ تباہی مچاتے ہوئے اپنے ساتھ سڑکیں بھی بہا لے گیا جس کے باعث متاثرین کے لیے گاؤں سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں رہا۔

    پنجال شیخ میں مکانات ایک ایک کر کے منہدم ہونے لگے، کیونکہ موسلا دھار بارش نے چھوٹے سے جنوبی پاکستانی گاؤں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور اس کے اردگرد کے کھیتوں کے وسیع رقبے میں پانی بھر گیا۔

    اس ماہ تقریباً دو ہفتوں کی مسلسل بارشوں کے بعد، تباہ شدہ دیواروں، ملبے اور لوگوں کے سامان کے ڈھیروں کے علاوہ کچھ نہیں بچا تھا جو کہ بھورے سیلابی پانی اور مٹی کے تالابوں میں سے باہر نکل رہے تھے۔

    بدترین مون سون سیلاب سے متاثر ہونے والے لاکھوں لوگوں میں شامل ہیں، جس نے جون میں بارش شروع ہونے کے بعد سے تقریباً 10 لاکھ مکانات کو تباہ یا نقصان پہنچایا ہے اور 1,000 سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔“جب بارش شروع ہوئی تو ہر طرف تباہی پھیل گئی۔”بارشوں نے ایک ایک کرکے “سارا گاؤں ہی مٹا دیا گیا ہے۔”

     

    دوسری طرف اس وقت سندھ میں گڈوبیراج پراونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی سطح مزید بلند ہورہی ہے، لوگ پریشان ہیں اورانتظامیہ کو کچھ سوجھ بوجھ دکھائی نہیں دے رہی کہ اب کس طرح عوام الناس کی مدد کی جانی چاہیے

  • سندھ کے بعد پنجاب میں کتوں کے کاٹنےکےہزاروں واقعات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    سندھ کے بعد پنجاب میں کتوں کے کاٹنےکےہزاروں واقعات کی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔

    لاہور:کراچی :؛پنجاب اسمبلی میں جمع کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ صوبے میں رواں برس کتوں کے کاٹنے کے ساڑھے سات ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ ان واقعات میں 8 افراد انتقال کرگئے۔

     

     

     

    صوبےمیں کتوں کے کاٹنے کے سب سے زیادہ 1878 کیسز شیخوپورہ میں رپورٹ ہوئے۔راولپنڈی میں 1819 ، ساہیوال میں 1552 اور گوجرانوالہ میں 1159 کیسز رپورٹ ہوئے۔فیصل آباد میں 319 کیسز، ڈی جی خان میں آوارہ کتوں کے کاٹنے کے 227 کیسز رپورٹ ہوئے۔

     

    آرمی چیف سیلاب زدگان کے لیئے سوات پہنچ گئے

    حکومت سندھ نے شہریوں کوپاگل اور آوارہ کتوں کے رحم وکرم پر چھوڑدیا،محکمہ بلدیات سندھ کا پاگل اور آوارہ کتوں کی نس بندی کا ایک ارب روپے کا پروگرام ناکام ہوگیا، صرف کراچی میں 7ماہ کے دوران 18ہزار سے زائد لوگوں کو آوارہ کتوں نے کاٹ لیا، 2 مریض جان کی بازی ہار گئے۔ رپورٹ کے مطابق کراچی میں کتے کے کاٹنے کے واقعات میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوگیا ہے،

    محکمہ صحت سندھ کی جانب سے رواں سال جنوری سے اب تک سگ گزید گی کیسز کے متعلق رپورٹ جاری کردی گئی ہے، کراچی کے چار بڑے اسپتالوں کے چونکا دینے والے اعدادوشمارسامنے آئے ہیں، رواں سال جنوری سے ابتک آوارہ کتوں نے 18560 لوگوں کو کاٹا ہے، شہر میں کتے کے کاٹنے سے دو افرادجاں بحق ہو گئے، جبکہ سال 2021میں 25 ہزار افراد سگ گزیدگی کا شکار ہوئے، انڈس اسپتال میں کتے کے کاٹنے کے 6 ہزارکیسزرپورٹ ہوئے، اسی طرح جناح اسپتال میں سگ گزیدگی کے 5983کیسز رپورٹ درج ہوئے،شہر کے سب سے بڑے سول اسپتال کراچی میں کتوں کے کاٹنے سے 5628کیسز رپورٹ ہوئے،

    عباسی شہید اسپتال میں کتوں کے کاٹنے کے 949کیسز سامنے آئے۔کراچی میں بلیوں کی جانب سے بھی شہریوں کو کاٹنے کے باعث مریض اسپتال پہنچے، شہر کے اسپتالوں میں بلیوں کے کاٹنے سے 49کیسز رپورٹ ہوئے،بندروں اور گدھوں کے کاٹنے سے 8 کیسز سول اسپتال میں رپورٹ ہوئے، تمام مریضوں کو ریبیز کی ویکیسن لگا دی گئی۔

    دوسری جانب محکمہ بلدیات سندھ نے لاکھوں لوگوں کو پاگل اور آوارہ کتوں کے کاٹنے کے کیسز کے بعد سال 2020 میں ریبیز کنٹرول پروگرام شروع کیا، 96 کروڑ روپے کی لاگت کے منصوبے کے تحت ہزاروں کتوں کی نسبندی ہونی ہے، دو سال گزرنے کے باوجود محکمہ بلدیات سندھ کتوں کی نسبندی کرنے کے پروگرام پر پیش رفت کرنے میں ناکام ہوگیا ہے، جون 2022تک 13 کروڑ روپے خرچ کردیے ہیں، کروڑوں روپے خرچ کرنے کے باوجود نتائج سامنے نہیں آئے اور کتوں کی کاٹنے کے کیسز کم نہیں ہوسکے، کتوں کی نسبندی کے پروگرام پر صرف 14 فیصد کام ہوسکا ہے، رواں برس پروگرام کیلئے 10کروڑ روپے مختص کئے ہیں۔

  • "بس یار میں کرپٹ ہوں” وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صحافی اور ایم این اے کا جھگڑا ختم کرا دیا

    "بس یار میں کرپٹ ہوں” وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے صحافی اور ایم این اے کا جھگڑا ختم کرا دیا

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی نے شاہ سیلاب سے متاثرہ عالقے کے دورے پر ہیں کہ اس دوران ایک سوال پوچھنے پر مقامی صحافی اور ایم این اے کے دوران معمولی جھگڑا ہو گیا جس پر وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے معافی مانگ کر دونوں میں صلح کرا دی-

    باغی ٹی وی : سوشل میڈیا ویب سائٹ ٹوئٹر پر وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی اندرون سندھ دورے کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں صحافی کو سمجھاتے اور پیپلزپارٹی کے ایم این اے سکندر راہپوٹو کو ان کے گلے لگاتے دیکھا جاسکتا ہے۔

    شرجیل میمن نے سندھ میں سیلاب سے تباہی کی تفصیلات جاری کر دیں

    https://twitter.com/AsgharNarejoo/status/1564296374832726016?s=20&t=DFSYgaQKWCDcLJsUf0RJfQ
    ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ سےسوال پوچھنے پر پیپلزپارٹی کے ایم این اے سکندر راہپوٹو کو صحافی پر غصہ آگیا ایم این سکندر راہپوٹو نے غصہ کرتے ہوئے صحافی کو سمجھانے کی کوشش کی جس پر مراد علی شاہ نے کہا کہ ’مت کرو یار میں کرپٹ ہوں‘۔

    اس کے بعد مراد علی شاہ نے معافی مانگ کر دونوں میں صلح کرادی۔

    واضح رہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے بڑے پیمانے پر سندھ میں تباہی مچائی ہےسیلابی ریلے آبادیوں میں داخل ہونےسے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں فصلیں تباہ ہو گئی ہیں لوگ کھلے آسمان تلے رہنے پر مجبور ہیں وزیراطلاعات سندھ شرجیل میمن نے کہا تھا کہ رواں سال غیر معمولی بارشیں ہوئیں،30اضلاع متاثرہوئیں-

    دریائےسندھ میں چاچڑاں شریف کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ،وزیر خارجہ بلاول کی…

    جولائی میں 308 فیصد سے زائد اور رواں ماہ 784 فیصد سے زائد بارشیں ہوئیں،گڈو اور سکھر سے 550,000 کیوسک سے زیادہ سیلابی ریلا گزررہا ہے کچے کے تمام علاقے زیر آب آگئے ، ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے،بارشوں اورسیلاب سے 402 اموات ہوئیں اورایک ہزار 55افراد زخمی ہوئے سندھ میں بارشوں سے 860 ارب روپے کے نقصان کا ابتدائی تخمینہ لگایا گیا،سندھ میں بارشوں سے 15 لاکھ مکانات متاثر ہوئے، لاگت 450 ارب روپے ہے-

    وزیراطلاعات شرجیل میمن کےمطابق سندھ میں بارشوں سے ایک لاکھ 17ہزار 34مویشی ہلاک ہوئے ،سندھ میں بارشوں سے 3171726 ایکڑ اراضی پر کھڑی فصلیں تباہ ہوئی ہیں،سندھ میں بارشوں سے کپاس کی 1467579 ایکڑ اراضی پر کھڑی 100 فیصد فصل تباہ ہو چکی ہے-

    پاکستان میں سیلاب اتنا تباہ کن کیوں ہے؟