Baaghi TV

Category: کراچی

  • سندھ اور بلوچستان کو ملانے والا پل ایک بارپھر ٹریفک کیلئے بند

    سندھ اور بلوچستان کو ملانے والا پل ایک بارپھر ٹریفک کیلئے بند

    کراچی:صوبہ سندھ اور بلوچستان کو قومی شاہراہ کے ذریعے ملانے والا پل ایک بار پھر ٹریفک کیلئے بند کردیا گیا ہے۔

    نیشنل ہائی وے اتھارٹی حکام کے مطابق ضلع لسیبلہ میں قومی شاہراہ پر واقع پل کو حب ندی سے گزرنے والے سیلابی ریلے نے شدید متاثر کیا ہے، پل کے 3 ستونوں کی حفاظتی دیواریں سیلابی ریلے میں بہہ گئی ہیں، جن کی مرمت اور حفاظتی اقدامات ہنگامی بنیادوں پر شروع کردیئے گئے ہیں۔

    حکام کے مطابق پل کو حفاظتی نقطۂ نظر سے عارضی طور پر ٹریفک کی آمد و رفت کیلئے بند کردیا ہے۔

    ادھرکراچی سمیت سندھ بھر میں 23 سے 26 اگست تک ایک اور طوفانی بارشوں کے اسپیل کی محکمہ موسمیات کی پیشگوئی کے پیش نظر چیف سیکریٹری سندھ کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں متوقع بارشوں کےحوالے سے انتظامات پر متعلقہ حکام نے تفصیلی بریفنگ دی جب کہ صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر میں محکمہ صحت اور بلدیاتی کے عملے کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    چیف سیکریٹری سندھ سہیل راجپوت نے اجلاس میں شریک افسران پر واضح کیا کہ بارش کے پانی کی نکاسی میں کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائیگی اور بارشوں کے دوران کمشنرز، ڈپٹی کمشنرز اپنے ہیڈ کوارٹر نہیں چھوڑیں گے۔

    اجلاس کو ڈی جی پی ڈی ایم اے نے بتایا کہ سندھ میں ہفتے کے روز سے مون سون کا زوردار اسپیل شروع ہوگا جس کے دوران صوبے کے بیشترعلاقوں میں 300 ملی میٹر تک بارش متوقع ہے۔

  • کراچی میں بارشوں کا ایک اور الرٹ جاری

    کراچی میں بارشوں کا ایک اور الرٹ جاری

    محکمہ موسمیات نے کراچی میں بارشوں کا ایک اور الرٹ جاری کر دیا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات نے 22 جولائی کی رات یا 23 جولائی کی صبح تک طاقتور ہواؤں کا سلسلہ سندھ میں داخل ہونےکا امکان ظاہر کیا ہے جو 26 جولائی تک اثرانداز رہےگا۔

    لاہورمیں بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا،گلی محلےاورسڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش…

    محکمہ موسمیات کے مطابق شہر میں 24 سے 26 جولائی کے دوران اکثر مقامات پرگرج چمک کے ساتھ بارش ہو سکتی ہے جبکہ کراچی سمیت سندھ کے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ بھی ہے۔

    محکمہ موسمیات کے مطابق 23 سے 26 جولائی کےدوران تھرپارکر اورعمرکوٹ میں اکثر مقامات پرگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جب کہ میرپورخاص، بدین، ٹھٹھہ اور دیگر علاقوں میں بھی تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔

    کے الیکٹرک نے بجلی 11 روپے 39 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری کر لی

    محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں بھی خضدار، لسبیلہ،حب اور کیرتھر رینج میں بارشوں سے حب ڈیم پر دباؤ پڑ سکتا ہے جبکہ دادو،جامشورو اور نشیبی علاقوں میں سیلابی ریلہ آنےکا بھی امکان ہے۔

    دوسری جانب محکمہہ موسمیات نے کراچی میں آج اور کل مطلع کبھی مکمل اور کبھی جزوی ابر آلود رہنے کا امکان ظاہر کیا ہے شہر میں ہلکی بارش اور بوندا باندی کا بھی امکان ہے، زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 32 سے 34 ڈگری سینٹی تک رہ سکتا ہے۔

    دوسری جانب لاہور میں 7 گھنٹے کی مسلسل بارش نے 20 سال کا ریکارڈ توڑ دیا گلی محلے اور سڑکیں ندی نالوں کا منظر پیش کرنے لگیں ایم ڈی واسا کے مطابق لاہور میں سب سے زیادہ بارش تاج پورہ میں 234 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی ہے-

    ائیرپورٹ ایریا میں 188 ملی میٹر بارش ہوچکی ہے۔مغل پورہ کے علاقے میں 171، چوک ناخدا میں 159، پانی والا تالاب کے علاقے میں 158 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔لکشمی چوک میں 141، گلشن راوی کے علاقہ میں 128، فرخ آباد میں 119 ملی میٹر بارش ہوئی۔

    بلدیاتی انتخابات ملتوی،جماعت اسلامی کی الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا…

  • کے الیکٹرک نے بجلی 11 روپے 39 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری کر لی

    کے الیکٹرک نے بجلی 11 روپے 39 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی تیاری کر لی

    کے الیکٹرک نے بجلی کی قیمت میں اضافے کی درخواست دے دی۔

    باغی ٹی وی : کے الیکٹرک کی جانب سے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) کو جس میں جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں کراچی والوں کیلئے بجلی 11 روپے 39 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست جمع کروادی گئی ہے، جس پر نیپرا کے الیکٹرک کی درخواست پر 28 جولائی کو سماعت کرے گا۔

    نیپرا کے مطابق کے الیکٹرک نے جون کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں فی یونٹ بجلی 11.39 روپے مہنگی کرنے کی درخواست کی ہے۔

    دوسری جانب سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) حکام نے بھی جون کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں 9 روپے 90 پیسے فی یونٹ اضافے کی سمری ارسال کردی ہے درخواست میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ 13 ارب یونٹ بجلی پیدا ہوئی، جس کی لاگت 213 ارب روپے تھی۔

    ملک میں فرنس آئل سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت فی یونٹ 36 روپے 20 پیسے، کوئلے سے 20 روپے 80 پیسے، مقامی گیس سے 8 روپے 92 پیسے، ایل این جی سے پیدا ہونے والی بجلی کی لاگت 28 روپے 38 پیسے آئی-

    درخواست کے مطابق ایران سے 19 روپے 57 پیسے فی یونٹ میں بجلی درآمد کی گئی۔42پیسے فی یونٹ بجلی لائن لاسز کی نذر ہو گئی۔

  • دعا زہرا کی بازیابی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    دعا زہرا کی بازیابی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ

    کراچی: سندھ ہائیکورٹ نے دعا زہرا کی بازیابی کی درخواست پر سماعت مکمل کرکے فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    باغی ٹی وی : سندھ پولیس نے دعا زہرا کے شوہر ظہیر احمد کو عدالت میں پیش کیا جہاں جسٹس اقبال کلہوڑو کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے درخواست پر سماعت کی۔

    دورانِ سماعت جسٹس اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیئے کہ لڑکی کو تو ہرصورت کراچی لانا ہے، جرم کراچی میں ہوا ہے توکیس کی سماعت بھی کراچی میں ہوگی، کیس اسی شہرمیں زیر التوا ہے،کراچی میں بھی شیلٹرہوم ہیں، کراچی میں بھی لڑکی کوکوئی خطرہ نہیں ہوگا،کراچی کے شیلٹر ہوم میں بھی حفاظتی انتظامات ہوں گے-

    عدالت نے ملزم ظہیر کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ چاہتے ہیں لڑکی کو کراچی منتقل نہ کیا جائے؟ اس پر ملزم کے وکیل نے کہا کہ لڑکی کوکراچی منتقل نہیں کیا جاسکتا، لڑکی اگرکسی سے نہ ملنا چاہے توبھی کوئی اس سے نہیں مل سکتا، عدالت بھی چاہے تو لڑکی سے ملنے کا نہیں کہہ سکتی۔

    وکیل کے دلائل پر عدالت نے کہا کہ لڑکی کم عمر ثابت ہوچکی ہے، اس کے بیان کی کوئی اہمیت نہیں، ہم لڑکی کی کسٹڈی والدین کے حوالے کرنے کا حکم نہیں دے رہے۔

    دورانِ سماعت سندھ اور وفاقی حکومت کے وکلا نے بھی دعا زہرا کو کراچی منتقل کرنے کی حمایت کردی جس پر عدالت نے لڑکی کی بازیابی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیاعدالت نے کہا کہ درخواست پر فیصلہ آج ہی سنایا جائے گا۔

    واضح رہےکہ دعا زہرا کی بازیابی کے لیے والد مہدی کاظمی نے درخواست دائر کی تھی جس پر عدالت نے ملزم ظہیر احمد کو نوٹس جاری کیا تھا-

  • بلدیاتی انتخابات ملتوی،جماعت اسلامی کی  الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی

    بلدیاتی انتخابات ملتوی،جماعت اسلامی کی الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دینے کی دھمکی

    جماعت اسلامی نے گزشتہ روز الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے کو ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے دھرنا دینے کی دھمکی دی ہے-

    باغی ٹی وی : امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہم سندھ کے بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہیں ہمارا مطالبہ ہے الیکشن وقت پر کرائے جائیں، ہم ان کی سازش کو ناکام کریں گے، الیکشن ملتوی کرنا جمہوریت کے خلاف سازش ہے۔

    حافظ نعیم الرحمان نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے 22 جولائی کو الیکشن کمیشن سندھ کے دفتر کے باہر دھرنا دیا جائے گا۔

    واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں جانے کا فیصلہ کیا ہے پی ٹی آئی کے رہنما علی زیدی نے حیدرآباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہیں الیکشن کمیشن پہلے ہی متنازع تھا اب اور ہوگیا، ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

    خیال رہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 24 جولائی کو پولنگ ہونا تھی لیکن گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی کردیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیاگیا کراچی میں بارشوں کی پیشگوئی کے باعث انتخابات ملتوی کرنےکی درخواست کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے فیصلہ متحدہ قومی موومنٹ، چیف سیکرٹری، جی ڈی اے اور صوبائی الیکشن کمشنرکی درخواست پرکیا ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ اب 28 اگست 2022 کو ہوگا۔

  • بلدیاتی انتخابات ملتوی،پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    بلدیاتی انتخابات ملتوی،پی ٹی آئی کا الیکشن کمیشن کا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کرنے کا فیصلہ

    پاکستان تحریک انصاف نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہوئے ہائیکورٹ میں جانے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : پی ٹی آئی کے رہنما علی زیدی نے حیدرآباد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن کی جانب سے سندھ میں بلدیاتی الیکشن ملتوی کرنے کی مذمت کرتے ہیں الیکشن کمیشن پہلے ہی متنازع تھا اب اور ہوگیا، ہم الیکشن کمیشن کے فیصلے کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کریں گے۔

    اس کے علاوہ سابق گورنر سندھ عمران اسمعیل نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات اور این اے 245 کا انتخاب ملتوی ہونا پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم کی شکست کی نشانی ہے ضمیروں کا سوداگر پنجاب میں منڈی سجا کر سندھ میں انتخابات سے بھاگ رہا ہے، ٹھپہ مافیا آج پھر راہ فرار اختیار کر چکا۔

    دوسری جانب خرم شیرزمان نے کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن شفاف انتخابات کے انعقاد میں ناکام رہا،الیکشن کمشنر استعفیٰ دیں، ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی نے قبل ازوقت دھاندلی کی۔

    خیال رہے کہ سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے دوسرے مرحلے میں 24 جولائی کو پولنگ ہونا تھی لیکن گزشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ ملتوی کردیا تھا۔

    ذرائع کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس میں سندھ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کا فیصلہ کیاگیا کراچی میں بارشوں کی پیشگوئی کے باعث انتخابات ملتوی کرنےکی درخواست کی گئی تھی۔ الیکشن کمیشن نے فیصلہ متحدہ قومی موومنٹ، چیف سیکرٹری، جی ڈی اے اور صوبائی الیکشن کمشنرکی درخواست پرکیا ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق سندھ میں بلدیاتی انتخابات کا دوسرا مرحلہ اب 28 اگست 2022 کو ہوگا۔

    دوسری جانب الیکشن کمیشن نے سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے ساتھ کراچی میں این اے 245 کا ضمنی الیکشن بھی ملتوی کردیا ہے الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 245 کاضمنی الیکشن ملتوی کردیا گیا ہے، این اے 245 کراچی میں ضمنی الیکشن 27 جولائی کو شیڈول تھا۔

    خیال رہےکہ این اے 245 کی نشست پی ٹی آئی کے ایم این اے عامر لیاقت کے انتقال پر خالی ہوئی تھی الیکشن کمیشن کے مطابق این اے 245 کراچی کا ضمنی انتخاب اب 21 اگست 2022 کو ہوگا۔

  • قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی سے روزنامہ 92 نیوز اور بلوچستان ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف مصنف سعید خاور کی ملاقات

    قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی سے روزنامہ 92 نیوز اور بلوچستان ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف مصنف سعید خاور کی ملاقات

    کراچی : قائم مقام گورنر سندھ آغا سراج درانی سے روزنامہ 92 نیوز اور بلوچستان ٹائمز کے ایڈیٹر اور معروف مصنف سعید خاور نے گورنر ہاﺅس میں ملاقات کی۔ اس موقع پر مصنف سعید خاور نے قائم مقام گورنرسندھ کو اپنی تھر پر تحقیقی کتاب "Thar-The Land of Thurst” بارے میں آگاہی دی۔ واضح رہے کہ انگریزی میں لکھی گئی سعید خاور کی کتاب کا اردو، سندھی اور سرائیکی زبان میں بھی ترجمہ کیا جا چکا ہے۔ قائم مقام گورنر سندھ نے تھر کی مکمل تاریخ لکھنے پر مصنف کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مصنف سعید خاور صحرائے تھر کی بھرپور معلومات پر مبنی کتاب تحریر کرنے پر خراج تحسین کے مستحق ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ تھر کے لوگ بہت محنتی اور جفاکش ہوتے ہیں، تھر کی اپنی ثقافت، رسم و رواج اور سماجی روایات ہیں اس ثقافت میں انتہائی خوبصورت و دلکش رنگ بھی ہیں، خاص طور پر صحرائے تھر کا مور دنیا میں اپنی مثال آپ ہے، بلاشبہ صحرائے تھر کے بغیر صوبہ کی تاریخ نامکمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ کتاب سے طلبہ اور دیگر لوگوں کو تھر کی تاریخ کا علم ہوگا اور عظیم دھرتی سندھ کی ترقی میں تھر کا اہم کردار ثابت ہوگا۔ تاریخی صحرا تھر ملکی و قوم کی ترقی کے لئے بیش بہا خزانہ ہے۔ صحرائے تھر اللہ تعالیٰ کی طرف سے انمول تحفہ ہے کیونکہ یہ صحرا نہیں بلکہ ایک تاریخ ہے۔ قائم مقام گورنرسندھ نے کہا کہ مصنف نے تھر سے متعلق اہم معلومات جمع کی ہیں ،تھر کی اس سے خوبصورت تاریخ نہیں لکھی جا سکتی، مصنف نے بڑی محنت سے اس کتاب کو تحریر کیا۔ مصنف سعید خاور نے کمال ہی کر دیا ہے، یہ کتاب اہل علم کے لئے تھر کی تاریخ کے حوالہ سے خزانہ اور ریفرینس بک ثابت ہو گی، انتہائی شاندار الفاظ کے چناﺅکے ساتھ تاریخی تحریر عوام میں یقینا شرف قبولیت پائے گی ۔

  • کراچی والو!سب باتیں کرتےہیں لیکن ہم کراچی کوسنوارکردکھائیں گے:مصطفیٰ کمال کا پیغام

    کراچی والو!سب باتیں کرتےہیں لیکن ہم کراچی کوسنوارکردکھائیں گے:مصطفیٰ کمال کا پیغام

    کراچی :کراچی والو!سب باتیں کرتے ہیں لیکن ہم کراچی کوسنوارکردکھائیں گے،اطلاعات کے مطابق پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ بڑے بڑے آکر بڑے دعوے کررہےہیں کہ وہ کراچی کوخوشحال بنائیں گے مگرصورت حال پہلے سے ابترہی ہوئی ، لیکن میں کراچی والوں سے کہہ رہا ہوں کہ ہم دعوے نہیں عملی کرکے دکھاتے ہیں،کراچی کو خوشحال اور سنوارکردکھائیں گے ،

    پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کیلئے الیکشن میں ڈاکو ٹھپے لگاتے ہیں، انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ کراچی کے مسائل صرف پی ایس پی ہی حل کرسکتی ہے۔

    سندھ کے سیکنڈ فیز میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی دھواں دھار تقاریر اور دعوؤں اور الزامات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

    کراچی میں بروز بدھ 20 جولائی کو پریس کانفرنس سے خطاب میں پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کسی نے کراچی کی بہتری پر توجہ نہیں دی ہے، مگر ہم کراچی کے مسائل آسانی سے حل کرسکتے ہیں، ہم کراچی کو دوبارہ بنا سکتے ہیں۔

    وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف پر تنقید کرتے ہوئے چیئرمین پی ایس پی کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی دو سیٹوں پر حکمرانی ہے، صوبے میں ن لیگ کا کوئی ووٹ بینک نہیں۔ ایم کیو ایم کے بغیر شہباز شریف وزیراعظم نہیں رہ سکتے اور انہوں نے 2 وزارتیں لے کر اپنے حصے کی رشوت لے لی ہے۔

     

    پی پی پر الزام عائد کرتے ہوئے سابق میئر کراچی نے کہا کہ سندھ پولیس صوبے کی نہیں پیپلزپارٹی کی پولیس ہے، اندرون سندھ سے پولیس اہلکار بلائے جانے کی اطلاعات ملی ہیں، پیپلز پارٹی الیکشن میں ریاستی مشینری استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ پی پی انتخابات میں ڈاکوؤں سے ٹھپے لگواتی ہے۔

     

    مصطفیٰ کمال کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی غنڈہ گردی کے باعث آج ہم جہنم میں ہیں،آج جوطاقت ایم کیوایم کی سات سیٹوں میں ہے وہ چالیس سال میں کسی کے پاس نہیں تھی، اس کے باوجود گٹرمیں گرنے والوں کے لواحقین کوکوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔

     

     

     یاد رہے کہ اس پریس کانفرنس سے پہلے سربراہ تنظیم (ایم کیو ایم) پاکستان بحالی کمیٹی ڈاکٹر فاروق ستار کی مصطفیٰ کمال سے ملاقات ہوئی ،جس کے بعد فاروق ستار نے کہا ہے کہ بہادرآباد والوں نے میری واپسی کو ویلکم نہیں کیا، سندھ کے شہریوں کو لاوارثی کا احساس ہے، ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا ہے۔

     

      انہوں نے یہ بات پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی دفتر میں سربراہ پی ایس پی سید مصطفیٰ کمال سمیت دیگر مرکزی رہنماؤں سے ملاقات اور بات چیت کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

    کراچی کے سابق میئر ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ یہ میرا پاکستان ہاؤس کا پہلا دورہ ہے، یہاں بڑے کھلے دل کے ساتھ آئے ہیں، سیاسی مخالفین کو پیغام دینا ہے کہ مسائل سے ہم گزر رہے ہیں، ہمارے درمیان مفاہمت کا آغاز ہو گیا ہے۔

    انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بہادر آباد والوں نے میری واپسی کو ویلکم نہیں کیا، 30 جون سے 17 جولائی تک انتظار کیا لیکن کوششیں کامیاب نہیں ہوئیں۔

     

    ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ ضمنی انتخاب نے موقع دیا کہ میں پاکستان ہاؤس سمیت جگہ جگہ جاؤں، ہمیں کسی کا راستہ نہیں روکنا ہے، اس شہر کی گلیوں کو اور لوگوں کو جانتے ہیں۔

     

    پی ایس پی کے سربراہ سید مصطفیٰ کمال نے اس موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ  ہمارے لیے فاروق بھائی کا الیکشن میں کھڑا ہونا خود حیران کن تھا، فاروق بھائی تو ایم کیو ایم میں جا رہے تھے، یہ سب کچھ سرپرائز ہے۔

    کراچی کے سابق ناظم سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ فاروق بھائی نے جو بات کی ہے وہ سینٹرل کیبنٹ میں رکھیں گے، جو بھی فیصلہ ہوگا وہ سب کے سامنے کریں گے، ہمارا نظریہ سب کے سامنے ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کسی کو ویلکم کرنے میں ہمیں کوئی مجبوری نہیں ہے، اچھی بات ہے ملتے جلتے رہنا چاہیے، چھ سال سے پی ایس پی کی جدوجہد میں ذات کی قربانی دی ہے۔ایک سوال کے جواب میں سید مصطفیٰ کمال نے کہا کہ آج ہماری پختونوں، سندھیوں اور پنجابیوں سب سے دوستی ہے، ماضی کی باتیں ماضی کے تناظر میں ہوئی ہوں گی۔

     

    واضح رہے کہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے- 245 پہ ہونے والے ضمنی انتخاب میں آزاد حیثیت سے حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ ان کا انتخابی نشان تالا ہے۔

    قومی اسمبلی کے حلقہ این اے – 245 کی نشست پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کے انتقال کر جانے کی وجہ سے خالی ہوئی ہے۔

  • دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے سے جاںبحق 26 افراد کی نماز جنازہ ادا،27افراد کی تلاش جاری

    دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے سے جاںبحق 26 افراد کی نماز جنازہ ادا،27افراد کی تلاش جاری

    دریائے سندھ میں کشتی ڈوبنے کے المناک سانحے میں جاں بحق 26 افراد کو سندھ میں مچھکے کے قریب آبائی گاؤں حسین بخش سولنگی میں سپرد خاک کر دیا گیا-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق نماز جنازہ میں قبیلے کے سربراہ سردار عباس خان سولنگی نے شرکت کی انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کم از کم 26 افراد کی نماز جنازہ آبائی قبرستان میں ادا کی گئی ہے، جن افراد کی نماز جنازہ ادا کی گئی ان میں 2 بچے اور ایک خاتون بھی شامل تھی۔

    سردار عباس خان سولنگی نے سندھ اور پنجاب کی حکومتوں سے معاوضے کا مطالبہ کیا، انہوں نے دونوں صوبائی حکومتوں کو علاقے میں پلوں کی تعمیر میں ناکامی کا ذمہ دار قراردیا جس کی وجہ سے لوگ پار کرنے کے لیے لکڑی کی خستہ حال کشتیوں کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔

    کشتی ڈوبنے کے واقعے کے ایک دن گزر جانے کے باوجود 27 افراد لاپتا ہیں رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق منگلا سے پاک فوج کے 18 غوطہ خوروں کی ایک ٹیم بھی امدادی کارروائی میں حصہ لینے کے لیے رحیم یار خان پہنچ گئی ہے۔

    واضح رہے کہ یہ حادثہ پیر کے روز پیش آیا تھا شادی کی تقریب میں شرکت کےبعد لوگ 2 کشتیوں میں سوار ہو کر اپنے گاؤں ماچکے واپس آرہے تھے کہ ایک کشتی اوور لوڈ ہو گئی تھی الٹنے والی کشتی میں 40 سے 45 مسافروں کی گنجائش تھی جب کہ حادثے کے وقت اس میں 95 مسافر سوار تھے-

    جس کے باعث ایک تختہ ٹوٹنے کے بعد کشتی الٹ گئی ڈوبنے والوں میں ایک ہی خاندان کے 8 افراد بھی شامل تھے جب کہ ڈوبنے والے تمام لوگوں کا تعلق سولنگی قبیلے سے تھا 45 افراد کو ابتدائی کوششوں میں بچا لیا گیا تھا، ریسکیو اہلکاروں نے 22 افراد کی لاشیں نکال لی ہیں جب کہ 27 افراد آخری خبریں آنے تک لاپتا تھے۔

    ریسکیو 1122 کے ترجمان کے مطابق علاقے میں حالیہ بارشوں کے باعث جائے حادثہ تک پہنچنے کا راستہ کافی خراب تھا اور گاڑیوں کو وہاں تک لے جانے کے لیے ٹریکٹر کا استعمال کرنا پڑا جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں تاخیر ہوئی۔

  • کسی کو بھی لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے،آغا سراج درانی

    کسی کو بھی لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے،آغا سراج درانی

    کراچی: سندھ کے قائم مقام گورنر آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ کسی کو بھی لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے۔

    باغی ٹی وی : کراچی میں حضرت عبداللہ شاہ غازی کے 1292 ویں عرس کی افتتاحی تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو میں قائم مقام اسپیکر سندھ آغا سراج درانی نے کہا کہ کسی کو لسانی تقسیم کی اجازت نہیں دیں گے۔ سندھ کا امن مقدم ہے اسے قائم رکھا جائے گا۔صوبے میں امن و امان قائم رکھنے کے لئے ادارے کام کررہے ہیں۔

    قائم مقام گورنر نے مزید کہا کہ بلدیاتی انتخابات کا پہلا مرحلہ پُر امن ہوا دوسرا بھی امن سے مکمل ہوگا۔ جو بھی غیرقانونی طورپر رہائش پذیر ہے اسے واپس اپنےملک بھیجا جائے گا۔ صوبے میں امن قائم رہے اورلوگ خوشحال زندگی گزاریں اس کے لئے دعا کرتے ہیں۔

    عبد اللہ شاہ غازی کراچی، سندھ، پاکستان کے نہایت معروف و برگزیدہ ولی اللہ مانے جاتے ہیں کراچی کے علاقے کلفٹن میں واقع عبد اللہ شاہ غازی کا مزار انتہائی تاریخی اہمیت کا حامل ہے بیسویں صدی کے اوائل تک یہ مزار، ایک ریتلے پہاڑی کے ٹیلے پر ایک چھوٹی سی کٹیا کی شکل میں واقع تھا۔ مزار کی تعمیر اور توسیع، مزار کے اس وقت کے متولی اور سیہون شریف سے تعلق رکھنے والے قلندری سلسلے کے صوفی بزرگ سید نادر علی شاہ نے کی۔

    مزار کی مشہور عمارت، اس کی سیڑھیاں، جامع مسجد، لنگر خانہ، قوالی ہال اور مہمان خانہ انہی کی زیر نگرانی تعمیر کیے گئے مزار کا سبز اور سفید دھاری دار گنبد کراچی کی شناخت بنا یہ مزار ہر فرقے ، نسل اور معاشرے کے تمام طبقات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی توجہ کا مرکز ہے۔ لنگر کا دو وقت مفت کھانا اور قوالی، مزار کی سرگرمیوں کا لازمی حصہ قرار پائیں۔ عرصہ دراز تک درگاہ کے انتظامات مرشد نادر علی شاہ کے زیر نگرانی چلتے رہے سنہ 1962 میں محکمہ اوقاف نے مزار کا انتظامی کنٹرول سنبھالا۔ سنہ 2011 میں، اس مزار کو ایک پاکستانی تعمیراتی کمپنی، بحریہ ٹاؤن کے حوالے کیا گیا، جس نے مزار کے بیرونی حصے کی از سر نو تعمیر کی اس پر کراچی کے رہائشیوں کی طرف سے ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔

    عبد اللہ شاہ غازی امام حسن رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے حسن مثنی کے پوتے امام محمد نفس الزکیہ کے فرزند ہیں۔ آپ کا سلسلہ نسب ابومحمد عبد اللہ الاشتر بن محمد نفس زکیہ بن عبد اللہ محض بن حسن مثنی بن امام حسن بن علی بن ابی طالب ہے۔ حضرت حسن مثنی کی شادی فاطمہ کبری بنت امام حسین ابن علی سے ہوئی اسی وجہ سے آپ حسنی حسینی سید ہیں۔

    گوگل پر جاری تفصیلات کے مطابق سنہ 720ء میں مدینہ میں ولادت ہوئی اور آپ سندھ میں تقریباً 760ء میں تشریف لائے اور اپنے ساتھ بہت زیادہ مقدار میں گھوڑے لائے تھے جو اپ نے کوفہ، عراق سے خریدے تھےابن خلدون کے بقول خلیفہ ابو جعفر منصور کے زمانے میں سندھ کا عامل عمر بن حفص تشیع کی جانب میلان رکھتا تھا۔

    محمد نفس ذکیہ کے فرزند عبد اللہ اشتر، جن کو عبد اللہ شاہ غازی کے نام سے جانا جاتا ہے، 400 افراد پر مشتمل زیدیوں کی ایک جماعت کے ساتھ اس کے پاس آئے تو اس نے انھیں خاصے احترام سے نوازا۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دوانیقی کو جب اس کی خبر پہنچی تو اس نے ہشام بن عمر ثعلبی کو ان کا تعاقب کرنے کے لیے سندھ روانہ کیا جہاں ہشام کے بھائی اور ان کے درمیان قتال ہوا جس کے نتیجے میں عبد اللہ شاہ غازی شہید ہوئے اور ان کے ساتھی اس علاقے میں بکھرگئے ذہبی اور ابو الفرج اصفہانی نے بھی اس کی طرف اشارہ کیا ہےطبری نے یہ واقعات 768ء (151 ہجری) میں نقل کیے ہیں-